Categories
نان فکشن

ہمارے ہاں علم، تحقیق اور تخلیق کی موت کیسے واقع ہوئی؟

کیا وجہ سے مغربی ممالک میں پے در پے، ایک سے بڑھ کر ایک تخلیقیت سے بھری ذہانتیں پیدا ہو رہی ہیں، اور ہمارے ہاں دین و مذہب سے لے کر سائنسز اور سوشل سائنسز، ہر سطح پر اوسط درجے کا ذہن دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح کی کوئی نئی سوچ، ایجاد، دریافت کچھ بھی ہمارے نام پر نہیں۔ جب کہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قدرت ہر خطے میں ذہانتیں برابر تقسیم کرتی ہے، ہمارے ہاں خداداد ذہانتوں کے باوجود تحقیق و تخلیق کے سوتے خشک کیوں ہوئے؟ ہمارے ہاں غلطی کہاں ہو رہی ہے؟

 

[blockquote style=”3″]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں

[/blockquote]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں۔ خالص تحقیقی مزاج کی آبیاری کسی بھی سطح پر کہیں بھی موجود نہیں۔ تحقیقی اور تخلیقی سوالات کی بیخ کنی کا
سلسلہ بچپن میں گھر سےشروع ہوتا ہے، اور سکول، مدرسہ، یونیورسٹی اور دینی جامعہ ہر جگہ تقریبًا ایک جیسی شدت سے آزاد سوالات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تحقیق کی اعلیٰ سطحی تعلیم کے طلبہ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی تحقیق میں کوئی نئی بات پیش نہ کر دینا، ورنہ دفاع کرنا دشوار ہو جائے گا اور ڈگری ملنے میں مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ راقم نے اسی وجہ سے اپنا ڈاکٹریٹ (اسلامیات) کا مقالہ انگریزی میں لکھا تھا کہ انگریزی جاننے والے معائنہ کار شاید اتنے تنگ نظر نہ ہوں۔

 

آپ نے کبھی غور کیا کہ کئی برسوں سے پاکستانی طلبہ، او لیول کے امتحانات میں عالمی سطح پر ٹاپ کر رہے ہیں، اس میں کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کروا چکے ہیں۔ لیکن پھر علم کی دنیا میں وہ نجانے کہاں گم ہو جاتے ہیں، علم کے کسی میدان میں کسی نئی تھیوری، ایجاد، دریافت، کسی نئے خیال کی پیش کش میں ان کا نام کہیں نظر نہیں آتا، بلکہ گزشتہ 60، 70 سالوں میں کوئی ایک بھی عالمی معیار کی تحقیق و تخلیق خالص پاکستانی ذہن سے نہیں پھوٹی، جو ایک دو نام موجود ہیں بھی، تو انہیں مذہبی شناخت کے خوف سے اپنانے سے انکار کر دیا گیا۔

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی نظام تعلیم رٹے پر مبنی تو ہے ہی، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ او لیول جیسے کانسپٹ بیس نظام ِتعلیم میں بھی پاکستانی تعلیمی اداروں نے ممکنہ حد تک رٹا متعارف کروادیا ہے، جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے پاکستانی طلبہ عالمی سطح پر کئی سالوں سے ٹاپ کر رہے ہیں، لیکن کسی اصلی تخلیق و تحقیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔

 

ہمارے ہاں سوشل سانسئز تو رہے ایک طرف، خالص سائنسی مضامین میں بھی عملی کام بھی عموماً تصوراتی انداز میں کرایا جاتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ پروجیکڑز پر دکھا دیا جاتا ہے۔ طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ہمارے طلبہ کے ٹاپ کرنے کی وجہ ان کی تخلیقی ذہانت نہیں، بلکہ پرچے اچھے انداز میں کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں لکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔

[/blockquote]

او لیول کے ایسے پاکستانی طلبہ جنھوں نے کچھ عرصہ بیرون ملک، امریکہ اور انگلینڈ وغیرہ میں پڑھا اور خاندانی وجوہات کی بنا پر باقی کی تعلیم پاکستان میں مکمل کرنے آ جاتے ہیں، ہمارے طریقہ تدریس پر حیرت اور کوفت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں اتنے طویل لیکچر کیوں دیئے جاتے ہیں، لکھنے کا کام بہت زیادہ دیا جاتا ہے، جب کہ یورپ وغیرہ میں اس سطح پر لیکچر عموما پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا، اور ہر لیکچر کے ساتھ کچھ عملی، بصری کام بھی ضرور کرایا جاتا ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ آپ کو اچھا سے اچھا، قابل پاکستانی ڈاکٹر، انجینیر، اکاونٹنٹ، فلسفے کا حافظ فلسفی، تایخ کا حافظ مورخ، تعلیمی تھیوریز کا حافظ ماہر تعلیم اور ماہرِ عمرانیات تو مل جائے گا، لیکن موجد نہیں ملے گا، آزاد مفکر نہیں ملے گا، کوئی ایک بھی ایسا نہیں مل پائے گا جس نے خالصتا کوئی نئی ایجاد کی ہو، کوئی بالکل نیا تجربہ کیا ہو، یا سائنس و بشریات میں کوئی نئی تھیوری یا نظریہ دیا ہو۔ زیادہ سے زیادہ کسی ایجاد کو موڈیفائی کر دیا ہوگا، یا کسی نظریے پر حاشیہ لکھ دیا ہوگا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی کو ہمارے ہاں تحقیق کی معراج قرار دیا جاتا ہے، اور اسی پر مقامی قسم کے آسکر بھی مل جاتے ہیں۔

 

دینی علوم میں تو تقلید کا رحجان واجباتِ دین میں شامل ہے ۔ راقم ایک دینی تحقیقی مجلے کی ایڈیٹنگ بھی کرتا ہے، جس قسم کے مضامین چھپنے آتے ہیں، مت پوچھئے، یعنی اس سطح پر بھی ‘نماز کے فوائد’ جیسا مضمون ایک سینیئر محقق کی طرف سے موصول ہو سکتا ہے!
جس معاشرے کے دینی علمی مزاج کا یہ عالم ہو کہ اگر کوئی اپنی تحقیق کے نتیجے میں کسی منفرد رائے کو پہنچ جائے، تو اسے ‘تفرد’ جیسا حقارت آمیز اور نفرت انگیز نام دے کر اس سے استفادہ کرنے سے اجتناب کرایا جاتا ہو، وہاں کتنے حوصلہ مند ہوں گے کہ جو پہلے تحقیق کا جوکھم برداشت کریں، اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہوانے والے کسی ‘تفرد’ پر ساری زندگی طعنے بھی سہتے رہیں۔ دماغ کے اس آزادنہ استعمال پر اداروں میں ملازمت کے دروازے تک بند کر دیے جاتے ہیں۔

 

[blockquote style=”3″]

ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے

[/blockquote]

حالت یہ ہے کہ اگر کسی ادارے میں اپنے طلبہ کو آزادیءِ فکر کی راہ دکھانے کی جرات کر ہی ڈالی جائے، جو اوّل تو انتظامیہ کی نگرانی کی وجہ سے عمومًا ممکن ہی نہیں ہوتی، تو بعد ازاں طلبہ کو یہ تلقین بھی کرنی پڑتی ہے کہ امتحانات میں کوئی اپنی آزادانہ رائے نہ لکھ دینا، وہی لکھنا جو نصاب کی کتاب میں لکھا ہوا ہے، ورنہ فیل تو کر ہی دیے جاؤ گے، غدار یا گمراہ بھی قرار پاؤ گے۔
سید سلیمان ندوی جیسے عالم، جنھوں نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں کچھ منفرد آراء اپنائی تھیں، عمر کے آخری دور میں جب تصوف کی راہ سے حضرت اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے، تو ایک اجمالی اعلان فرمایا کہ میں اپنے تمام تفردات سے برات کا اعلان کرتا ہون۔ ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا اگر وہ اپنے تمام تفردات سے برات اپنی مزید تحقیق کی روشنی میں کرتے اور اپنے رجوع کے دلائل بھی بتاتے، لیکن یہ اجمالی بیان، کیا علم و تحقیق کی شکست کا اعلان نہیں، جو شائد آخرت کی نجات کے لیے ضروری سمجھ کر کیا گیا؟ علم کے مسند نشین بڑوں کا جب ایسا رویہ ہو گا تو علم، تحقیق اور تخلیق نے کیا پنپنا ہے۔

 

حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے، ایسے شخص کو کوئی اس وجہ سے ملازمت نہیں دیتا ہے یہ دوسروں کو اپنے سے پیچھے چھوڑ جائے گا۔

 

ہمارے سینیئر رفیق کار، برن ہال کالج کے سابق پرنسپل، سلیم صاحب، ایک پر حکمت ذہن کے مالک ہیں، کہا کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے غلام پیدا کرتے ہیں، طلبہ کو ‘سن لو اور مان لو’ کے طرزِ تعلیم کے ذریعے، غلامی کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، نیز، محکمے کا سربراہ اپنے ملازمین سے تابع داری ہی نہیں، بلکہ غلامی کی توقع کرتا ہے۔ ہمارےایک فوجی پرنسپل تو میری مناسب سی داڑھی کا سائز تک اپنی پسند کے مطابق کرانا چاہتے تھے۔ اپنے طلبہ اور ماتحتوں میں غلامی کی خو پیدا کرنے یہ خواہش کیوں ہے، اس کی وجہ سلیم صاحب یہ بتاتے تھے کہ غلام قومیں جب آزاد ہوتی ہیں تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو ان کے سابقہ آقا ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ غلامی کی یہ وراثت ہم چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مقولہ سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ہے کہ ‘غلام، بد ترین آقا ہوتا ہے’۔

 

اس کاانکار نہیں کہ ذہانتیں یہاں بھی پیدا ہوتی ہیں لیکن بڑی بے دردی سے ان کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑی مشکل سے پیدا ہونے والے دیدہ ور، بڑی مشکل سے کہیں بچ پاتا ہے۔ علم و تحقیق اور تخلیق کے دشمن، دراصل، خدا کے دشمن ہیں۔ خدا ہر بار ہر بچے کو آزاد ذہن دے کر دنیا میں بھیجتا ہے، لیکن یہ خدا کی تخلیق کے دشمن، ہر بچے کی تخلیقیت کو جِلا پانے سے پہلے ہی دفن کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ یہ خدا سے مقابلہ پر کھڑے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ دین و مذھب، سائنس و سوشل سائنس کے فرعون ہیں جو کسی تخیلق کار موسیٰ کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کی گدّی، ان کی کرسی، ان کی روٹین اور ان کی تقلیدی تحقیق کی جامد سلطنت میں کوئی اضطراب پیدا ہونے نہ پائے۔ اس لیے حیرت نہیں ہونی چاہیے جب پاکستان مین آنے والے زلزلوں کو امریکی سائنسی تجربات کیا شاخسانہ قرار دینے والے افسانوں کو پذیرائی ملتی ہے۔
اور اگر ان کے ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کوئی آزاد فکر موسیٰ بچ نکلے تو یہ لوگ اس کے لیے حالات اتنے تنگ کر دیتے ہیں کہ اسے حضرت موسیٰؑ ہی کی طرح چھپ چھپا کے جلا وطن ہو جانا پڑتا ہے، ورنہ جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ پھر ہر پیدا ہوجانے والا موسیٰ، اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ جلا وطنی سے واپس اپنے وطن کو لوٹ سکے اور اپنے لوگوں کو ان تگنائیوں اور شکنجوں سے آزاد کرا سکے جن میں جہالت و تقلید کے فرعونوں نے انہں جکڑ رکھا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔

[/blockquote]

موجودہ صورتِ حال میں مثبت تبدیلی حکومتی اقدامات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ حکومت کا اس صورتِ حال میں بہتری لانے کا کبھی کوئی ارادہ رہا ہی نہیں۔ حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔ تعلیم سے یہ گریز، دراصل اس شعور کی راہ روکنے کی کوشش ہے جو کسی قسم کے استبداد اور استحصال کو قبول نہیں اور آسانی سے بے وقوف بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

 

جب تک یہ صورتِ حال برقرار ہے، ہمیں دوسروں کی اترن ہی پہننا ہوگی، تحقیق و تخلیق کی دولت اور اس کے ثمرات آزاد ذہن قوموں کو ملا کرتے ہیں، غلاموں کو نہیں۔

 

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے راہ و رسم شاہبازی
Categories
نقطۂ نظر

انسانی ترقی، ہزاریہ ترقیاتی اہداف اور ہم

‘آپ میں سے کتنے افراد ڈاکٹر محبوب الحق کو جانتے ہیں؟’ یہ جملہ میرا تکیہ کلام بن گیا ہے۔ میں اکثر یہ جملہ مدِ مقابل افراد کو شش و پنج میں ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہوں، کئی دفعہ صرف مرعوب کرنے کے لیے اور خصوصاً کسی کانفرنس میں اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے۔ عموماً مخاطبین کا جواب ہوتا ہے ‘نہیں’۔ ناظرین، سامعین، حاضرین، مندوبین بے قرار ہوجاتے ہیں! اور سمجھنے لگتے ہیں میں کوئی بہت بڑی ‘فلائٹ’ ہوں! دراصل مجھے ڈاکٹر محبوب الحق کا پتہ وکی پیڈیا سے چلا تھا۔ میں دنیا بھر کے موجدین کے بارے میں پڑھ رہا تھا، ٹیسلا اور اس کا آلٹر نیٹنگ کرنٹ، روس کا اسپوٹنک، میخائل ازیمو کاشنکوف کی اے-کے47، ڈارپا کا انٹرانیٹ، لاک ہیڈ مارٹن کا ایس-آر 71 بلیک برڈ، موٹرولا کا سکس سگما! پھر خیال آیا کیا پاکستانیوں نے بھی کچھ ایجاد کیا ہے؟ ممالک کے حساب سے موجدین کی فہرست نکالی تو وہاں محبوب الحق صاحب کا نام پایا۔

 

یہ کوئی 15 سال پرانی بات ہے جب، اقوامِ متحدہ نے سنہ 2000 میں ملینیم سمٹ منعقد کی تھی اسی سمٹ میں میں ملینیم ڈیکلریشن پیش اور منظور ہوا تھا۔ اس اعلامیے کا لبِ لباب ملینیم ڈویلپمنٹ گول یا ہزاریہ ترقیاتی اہداف تھے جن کا حصول 2015 تک ممکن بنانا تھا
خیر بات ہو رہی تھی ڈاکٹر محبوب الحق کی، میں بہت خوش ہوا یہ دیکھ کر کے واہ بھئی پاکستانیوں نے بھی کچھ ایجاد کیا ہے! میں نے مضمون پڑھنا شروع کر دیا اور یہ دیکھ ذرا پریشان ہوا کہ ہم نے نہ بم بنایا تھا، نہ ہی کوئی ہتھیار! یہ تو کوئی اشاریہ تھا۔ مطلب یہ کہ ہم نے صرف ایک آدھ فارمولا بنایا تھا! بس! خیر مزید پڑھنے پر پتہ چلا کے یہ اشاریہ انسانی ترقی کو ماپنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ انسانی ترقی؟ معاشی ترقی تو سنی تھی، صنعتی بھی، تجارتی بھی، مادی ترقی بھی، سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی ترقی سنی تھی! یہ انسانی ترقی بیچ میں کہاں سے آگئی؟ اور غور سے پڑھا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کو اقوامِ متحدہ نے یہ اشاریہ ایجاد کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، ڈاکٹر صاحب کو ان کے انتہائی نزدیکی دوست ڈاکٹر امرتا سین نے سمجھایا بھی تھا کہ یہ ناممکن کام ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب بھی دھن کے پکے تھے، ڈٹ گئے اورامرتا سین صاحب کے ساتھ مل کر انسانی ترقی کا اشاریہ بنا ڈالا، اور آج دنیا کے تمام ممالک اسی اشاریے کی مدد سے اپنی ترقی اور تعمیر کو جانچ رہے ہیں۔

 

ڈاکٹر محبوب الحق کا کام ہزاریہ ترقیاتی اہداف(Millennium Development Goals) کی تشکیل میں بے حد اہم ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اخبارات کے پکے قارئین، پاکستان کے وزیر خزانہ کے نام سے جانتے ہیں، کچھ افراد ان کو ایک کامیاب بیوروکریٹ اور کچھ افراد ایک بہترین ماہر معاشیات کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہ آپ ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے 1981 تا 1986 کا پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ مرتب کیا تھا۔ اسی پانچ سالہ منصوبے کو جنوبی کوریا نے ہم سے مانگا تھا اور وہ اس پر عمل پیرا ہوکر آج ایشین بلکہ گلوبل ٹائیگر بن گیا ہے، جس کاثبوت، سام سنگ، ایل-جی اور کی یا کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ‘پاکستان پر 22 خاندانوں کی اجارہ داری ہے’ بھی انہی کا قول ہے۔ آپ کو آپ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی باعث، اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ انتہائی اہم ترین کام سونپا گیا تھا، اور اسی اشاریے کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے ایکو سوک ECOSOC یعنی کونسل برائے معاشی و معاشرتی ترقی قائم کی تھی۔ اقوامِ متحدہ تمام دنیا میں اسی ای کو سوک کے زیرِ سایہ کام کرنے والی مخصوص ایجنسیز کے ذریعے انسانی ترقیاتی اشاریے کے تحت انسانی ترقی اور بہبود کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

 

فکر کی بات یہ ہے کہ کچھ اقوام نے تو مقررہ اہداف کے حصول میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلی ہے، لیکن کچھ اقوام جیسے پاکستان کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر سکیں۔
یہ کوئی 15 سال پرانی بات ہے جب، اقوامِ متحدہ نے سنہ 2000 میں ملینیم سمٹ منعقد کی تھی اسی سمٹ میں میں ملینیم ڈیکلریشن پیش اور منظور ہوا تھا۔ اس اعلامیے کا لبِ لباب ملینیم ڈویلپمنٹ گول یا ہزاریہ ترقیاتی اہداف تھے جن کا حصول 2015 تک ممکن بنانا تھا! 15 سال گزر گئے اور ہم میں سے بہت سوں کو اس بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ وہ کیا ہے نا کہ ہم لوگ Y2Kبگ کی وجہ سے بہت پریشان تھے، اور بھوک افلاس، اقربأ پروری، خواتین کا استحصال نہ تب ہمارے لیے کوئی بڑا مسئلہ تھا نہ اب ہے! خیر ان مقاصد کے حصول کے لیے تمام اقوامِ عالم یکجا ہوگئی تھیں اور ایسا منظر جدید تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

 

فکر کی بات یہ ہے کہ کچھ اقوام نے تو مقررہ اہداف کے حصول میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلی ہے، لیکن کچھ اقوام جیسے پاکستان کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر سکیں۔ ایم-ڈی-جیز نے تین موضوعات کو انتہائی اہم قرار دیا تھا؛ پہلا: انسانی وسائل، دوسر۱: انفراسٹرکچر اور تیسرا: انسانی حقوق۔ انسانوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے انسانی ترقی کے ان تینوں بنیادی شعبہ جات میں بہتری کے لیے مختلف اہداف مقرر کیے گئے تھے۔ ان اہداف میں غذائیت سے بھرپور غذا، صحت عامہ (جس میں نونہال و اطفال کی اموات میں کمی، ایچ-آئی-وی، ٹی-بی، ملیریا کا خاتمہ اور تولیدی صحت کی بہتری شامل ہیں)، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، پکی سڑکوں کا قیام، صاف پانی کی فراہمی، بجلی اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی دستیابی، کھیتوں کی زرخیزی میں اضافہ، آمد و رفت میں آسانی اور صاف آب و ہوا سے متعلق اہداف بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق اہداف میں، خواتین کے حقوق کی پاسداری، صنفی و جنسی تشدد میں کمی، سیاسی بالیدگی، سرکاری سہولیات تک بلا تفریق رسائی اور ذاتی ملکیت کی حفاظت شامل ہیں۔ فرد کی نشوونما اور ’ایک بھرپور زندگی کو جینے‘ کی آزادی کو یقینی بنانا بھی ان اہداف کا بنیادی مقصد تھا۔

 

یہ عالمی ترقیاتی مقاصد آرگنائزیشن فار اکنامک کو-آپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ نے متعین کیے تھے۔ اس وقت کے جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کوفی عنان کے اصرار پر ان اہداف کا دائرہ اثر صرف یورپ تک محدود رکھنے کی بجائے تمام اقوام عالم کو ان میں شامل کیا گیا۔

 

یہ آٹھ اہداف، مندرجہ ذیل ہیں:

 

1. شدید، غربت و افلاس کا خاتمہ
2. عالمی درجہ پر پرائمری تعلیم کو یقینی بنانا
3. صنفی برابری کو یقینی بنانا اور خواتین کو بااختیار بنانا
4. اطفال کی شرحِ اموات کو گھٹانا
5. حاملہ خواتین کی صحت کو بہتر بنانا
6. ایچ-آئی-وی، ایڈز، ٹی-بی، ملیریا اور دیگر جان لیوا بیماریوں کا مقابلہ کرنا
7. ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانا
8. ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی اشتراک عمل بڑھانا

 

یہ بات صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے امداد کافی حد تک بڑھی ہے لیکن اس میں سے آدھی امداد پچھلے قرضے اتارنے میں صرف ہوگئی اور باقی ماندہ قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے میں صرف ہوگئی جس سے انسانی ترقی پر کوئی واضح فرق نہ پڑا۔
ہزاریہ ترقیاتی اہداف صرف تعریف و تحسین کے ہی مستحق نہیں ٹھرے، ان پر تنقید بھی ہوئی ہے، یہاں تک کہ ان کو صرف زبانی جمع خرچ بھی کہا گیا ہے۔ تنقید کی اہم وجوہ میں، ان مقاصد کے انتخاب کے مبہم محرکات، اور ان مقاصدکے نتائج کو ماپنے کا طریقہ کار شامل ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے امداد کافی حد تک بڑھی ہے لیکن اس میں سے آدھی امداد پچھلے قرضے اتارنے میں صرف ہوگئی اور باقی ماندہ قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے میں صرف ہوگئی جس سے انسانی ترقی پر کوئی واضح فرق نہ پڑا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جتنا پیسا چندے کی صورت میں ملتا ہے اس سے کہیں زیادہ، ملٹی نیشنل کارپوریشنز کما کر واپس لے جاتی ہیں۔

 

لیکن تمام تر تنقید کے باوجود ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اقوامِ متحدہ نے واقعی ایک زبردست کام کیا ہے۔ وہ اقوام جو پہلے انسانی ترقی سے متعلق ابہام کا شکار تھیں، آج جان چکی ہیں کہ اصل مسائل کیا ہیں اور ان کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ حقیقت شناسی بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ مزید یہ کہ جی ڈی پی کا بھی عقدہ کھل گیا ہے، خزانہ بھرنے سے قوم خوشحال نہیں ہوجاتی ہے بلکہ انسانی ترقی کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن کا قیام ہی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ جس طرح اقوامِ متحدہ نے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس بنایا ہے اسی طرح مختلف اداروں نے مختلف اشاریے بنا کر انسانیت کا بھلا کیا ہے۔

 

Index-Laaltain

مختلف اداروں کی جانب سے قائم کیئے گئے اشاریے جو انسانی ترقی کو ماپنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اوسط درجات 1 تا 189 ہیں، یعنی کہ جتنے دنیا کہ ممالک ہیں، اتنے ہی درجات۔ کچھ اشاریے محدود ممالک کو ناپتے ہیں، اس کی دو وجوہ ہیں، یا تو ان ممالک کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں، یا پھر وہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ منسلک نہیں ہیں۔

 

ایک قدر جو ان تمام اشاریوں میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ سکنڈےنیوین ممالک انسانی ترقی کے ہر اشاریے کی صفِ اول میں موجود ہیں۔ وجہ؟ویسے تو اس سوال کا صحیح جواب کوئی ماہرِ معاشیات ہی دے سکتا ہے لیکن میرے خیال میں اس کے پیچھے 300 سال پر محیط جمہوریت اور جنگ و جدل سے اجتناب ہے۔ ناروے، فن لینڈ، سوئیڈن، سوئٹزرلینڈ ان ممالک نے جنگِ عظیم اول و دوم سے حتی المقدور فاصلہ برقرار رکھا تھا۔ نیز ان ممالک میں آزاد منڈیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ بہتر کاروبار، شفاف نظامِ حکومت اور مضبوط ترین نظامِ بہبود نے ان ممالک کو آج خوشحال ترین بنادیا ہے۔

 

مدت کے اختتام اور نئے سال کی شروعات پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں اس دنیا کو سب انسانوں کے رہنے کے لیے ایک پرامن اور پرآسائش جگہ بناناہے خواہ وہ کسی بھی علاقے، زبان، رنگت، نسل یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں۔
سکینڈے نیوین ممالک کی طرح انسانی ترقی کے میدان میں بہتر کارکردگی کے لیے انسانی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ اگرچہ ان اہداف کے حصول کی مدت گزر چکی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک بشمول پاکستان ان اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس مدت کے اختتام اور نئے سال کی شروعات پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں اس دنیا کو سب انسانوں کے رہنے کے لیے ایک پرامن اور پرآسائش جگہ بناناہے خواہ وہ کسی بھی علاقے، زبان، رنگت، نسل یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں۔

 

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گول اقوامِ متحدہ اب ایس-ڈی-جیز متعارف کرانے جارہی ہے۔ یہ نئے اہداف پچھلے اہداف سے سیکھے گئے اسباق پر مبنی ہیں اور ان کی تعداد17 ہے۔ میری تو بس ایک ہی تمنا ہے کہ ہمارے سیاستدان،سرکاری افسران اور سو ل سوسائٹی ان اہداف کے حصول کو اپنا اولین مقصد بنا لیں اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان اہداف کے حصول کے لیے ہم سب مل کر کوشش کریں گے تاکہ یہ دنیا آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور خوبصورت بنائی جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔ تنقید اچھی چیز ہوتی ہے، یہ ہمیں اپنی کمزوریاں دکھاتی ہے اور ان کا حل ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے، لیکن سوشل میڈٰیا پر اکثر ناقد شاید فنِ تنقید بھی نہیں جانتے ہیں۔ اچھا ناقد وہ ہے جو تنقید کرے اور پھر کوئی حل بیان کرے، پھبتی کسنے اور تنقید کرنے میں بڑا فرق ہے۔ نیز ہر چیز میں کیڑے نکال کر ہم خود کو تجزیہ کار یا دانشور ثابت نہیں کرسکتے ہیں۔ تنقید پسندوں کو خود پرتنقید بھی برداشت کرنی چاہیئے اور اگر پیش کیے گئے دلائل پر بہتر رد پیش کیا جائے تو اپنی رائے تبدیل کر لینی چاہیئے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کچھ لوگوں نے افواجِ پاکستان یا کم از کم آئی-ایس-پر-آر کے ساتھ رنج پال رکھا ہے۔

 

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ آئی-ایس-پر-آر کا کام جنگ لڑنا نہیں ہے، یہ ادارہ نوے کی دہائی میں پاسبان نامی پروگرام نشر کیا کرتا تھا، اس نے پاکستان کو کچھ بہترین ڈرامے دیئے، اب فلمیں بھی بنا رہا ہے اور یہ ملی نغمے بھی تواتر سے بناتا ہے۔ پبلک رلیشنز ڈیپارٹمنٹ جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے پروپگنڈا ڈیپارٹمنٹ کہلاتا تھا اور اردو میں دفترِ تریج و ابلاغ کہلائے گا، اس کا کام لوگوں تک معلومات پہنچانا، افواج اور عوام کا مورال بلند کرنا اور دشمن کا مورال گرانا بھی ہوتا ہے۔ رہ گئی بات لڑائی کی تو پچھلے ایک سال سے پاکستانی ہر محاذ پر دہشت گری سے نبرد آزما ہیں، افواج اور عوام دونوں شہید ہو رہے ہیں۔

 

پھر پوچھتے ہیں پہلے خود تو پڑھ لیں، اپنے بچوں کو تو پڑھا لیں پھر کسی اور کے بچوں کو پڑھائیے گا! تو پھر سنئیے، پچھلے دورِ حکومت میں آئین میں آرٹیکل 25 الف کی شق شامل کی گئی تھی۔ یہ شق ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ6 تا 12 سال کے ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست ایسا کر نہیں پا رہی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم کا بجٹ 2 فیصد کے لگ بھگ ہے وہ بھی پورا خرچ نہیں ہوتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے، ہر صوبے میں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اساتذہ مجود ہیں جو ہمارے ٹیکس ڈکارے جارہے ہیں۔ اگر آپ کو اتنا ہی درد ہے تو اپنے علاقے میں قائم سرکاری اسکول پر دھاوا بول دیں جی ہاں! دھاوا! اسکول کی اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بن جائیں، اساتذہ کو پابند کریں کہ غیر حاضر نہ ہوں، علاقے کے مستحق بچوں کو اسکول لایئں، عوام کو آرٹیکل 25اے کے بارے میں بتائیں۔ اور اگر یہ کام کرنے کی ہمت نہیں ہے تو چپ ہوجائیں۔ اگر آپ تعلیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتے اور اگر بچے یہ عہد کر رہے ہیں تو کم سے کم ان کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔

 

پھر سوال کرتے ہیں کون سی تعلیم دیں گے؟ کون سا نصاب پڑھائیں گے؟ کون سے بوڑد کا اطلاق ہوگا؟ ویڈیو غور سے دیکھیں بچے امن کا پرچار کر رہے ہیں۔ امن، انسانی حقوق، انسانیت اور خود شناسی سے قائم ہوتا ہے۔ البتہ یہ مضامین عموماً ہمارے اسکولوں بطور نصاب پڑھائے ہی نہیں جاتے ہیں، لیکن ان کو بڑے آرام سے ڈھونڈا، سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے، جیسے یہ بچے پر امن پیغامات بنا اور دکھا رہے تھے۔ اگر ہمیں موجودہ نصاب سے اختلاف ہے تو خود آگے بڑھنا چاہیئے اور اس میں موجود خامیوں کو اجاگر کر کے ان کا حل پیش کرنا چاہیئے۔

 

یہ نغمہ ‘مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے’ اور اس پہلے آنے والا نغمہ دونوں ایک بچے کی منظر کشی کرتے ہیں جو اپنے والدین اور پورے معاشرے سے ہم کلام ہے۔ پچھلے نغمے میں اس بچے نے اپنے دشمنوں کو آئینہ دکھایا تھا کہ تم نے پھول سے بچوں کو جان بوجھ کر کچلا ہے۔ اور نئے نغمے میں وہی بچہ ایک نئے عزم کا اظہار کر رہا ہے، لیکن یہ بچہ کم ظرف نہیں ہے! یہ ایک معصوم طالبعلم تھا اور اس کا بدلہ بھی بے ضرر اور معصومانہ ہے، یہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے۔ آخر تعلیم کے دشمنوں سے اس سے بہتر بدلہ کیا لیا جا سکتا ہے کہ اس کی آنے والی نسلوں کو تعلیم دی جائے۔ ہاں تعلیم دینے سے پہلے یہ فیصلہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم سب کے لیے ہو اور ایسی نہ ہو جو ہمارے تعلیمی اداروں میں ہی شدت پسند پیدا کر تی ہے۔

 

http://dai.ly/x3i3vfq

اچھا اگر ناقدین کی بات مان لیں اور یہ جملہ تبدیل کردیں تو، اس کی جگہ یہ بچہ کیا کہے؟
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے!
مجھے دشمن کے بچوں کو سولی چڑھانا ہے؟ یا پھر مجھے دشمن کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے؟
ہم اپنے بچوں کو کیسا بیانیہ دینا چاہتے ہیں؟

 

اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
بہت سے لوگ شاید بھولے بن گئے ہیں، میڈیا تو شاید ڈر، خوف یا پھر کسی اور مصلحت کے باعث دشمن کا نام نہیں لیتا ہے لیکن دشمن نے خود اس جرم کا اقبال کیا تھا اور اپنے آئندہ عزائم کا بھی عندیہ بھی دے دیا تھا۔ یہی عزم ملالہ یوسف زئی کا بھی ہے جس نے طالبان اور دہشت گردی کو تعلیم سے شکست دینے کی بات کی۔ اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
پچھلے سال جب اس سانحہ کے بعد پہلا نغمہ جاری کیا گیا تھا تو اس کے چند دن بعد ہی طالبان نے اس کا جوابی نغمہ جاری کردیا تھا، اس میں دشمن نے اقرار کیا تھا کے یہ حملہ اس نے کیا ہے اور اس کے بعد اس کا بھائی یہ عمل دہرائے گا (اس موقع پر ایک کم سن بچہ بندوق تھامے نظر آتا ہے)۔ یہ ان کا بیانیہ اور ان کا نظریہ تھا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اپنے بچوں کو امن کا پرچار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں نہ کے خون خرابے کی۔

 

ایک اعتراض بجا ہے، کہ صرف اس سانحہ پر ہی نغمات کا اجرا کیوں کیا گیا اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا اعادہ کیوں ہوا؟ تھر میں بھی تو بچے بھوک سے بلک بلک کر جاں بحق ہوگئے تھے، ہزاروں نوجوانان اور بچے امام بارگاہوں، مساجد اور گرجا گھروں میں ہونے والے خود کش حملوں میں جاں بحق ہوئے ہیں، ان کے لواحقین کی بھی دل جوئی ہونی چاہیئے تھی، ان کی بھی ڈھارس بندھانی چاہیئے تھی، ان کی شہادت کو بھی سلام پیش کرنا چاہیئے تھا۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہے کہ غیر ضروری پراپیگنڈے اور غیر ضروری تنقید کی بجائے آگے بڑھنے کا راستہ تعلیم اور سب بچوں کی تعلیم ہے۔ بچوں سے ان کی معصومیت نہ چھینیں، اس عزم پر لبیک کہیں اور اگر کوئی کمی بیشی ہے تو مدلل اعتراضات ضرور کیجیے اور اپنا نقطہ نظر غلط ہونے پر تبدیل کرنے کو بھی تیار رہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیم برائے فروخت

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس میں معیاری تعلیم وتحقیق کو فروغ نہ دیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹنے والوں نے کبھی اس بنیادی معاملے پر غورو فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی انحطاط روز افزوں ہے مگر ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ نام کی کوئی ترجیح شامل نہیں۔ اس امر کا اندازہ تعلیمی بجٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کل بجٹ کا 2 فیصد بنتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل پچیس اے کے مطابق ہر شہری کو تعلیم کی سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ کسی بھی حکومت نے اس آئینی ذمہ داری کو صحیح معنوں میں پورا نہیں کیا۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں تحقیق کا معیار عالمی سطع کے تحقیقی کام کے معیار سے بہت پست ہے جس کی وجہ مناسب سہولیات کا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے ہماری کوئی بھی یونیورسٹی عالمی رینکینگ کی پہلی یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔ اس میدان میں رہی سہی کسر پرائیویٹ یونیورسٹیز نے نکال دی جو طالب علموں سے لاکھوں روپے فیس وصول کرتی ہیں اور ڈگری اس کے ہاتھ میں تھما دیتی ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں اور یونیورسٹیوں کے نگران اداروں میں کرپشن کے قصے اور جعلی ڈگریوں کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔

 

یہ غیر توثیق شدہ ادارے صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا
اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت نے بہت سی یونیورسٹیوں کو اپنے ذیلی کیمپس بنانے کی اجازت دی تھی تاکہ دوردراز علاقوں کے طالب علم بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت مختلف سرکاری یونیورسٹیوں کے 17 کیمپس پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت چل رہے ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی اور گجرات یونیورسٹی کے مختلف شہروں میں کیمپسز قائم ہیں جن میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جن سے لاکھوں روپے فیس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمپس گذشتہ کئی سالوں سے مختلف پروگرامز میں ایم فل، ماسٹرز اور بی ایس آنرز کروا رہے ہیں۔

 

ایک جانب اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب جعلی اور غیر توثیق شدہ یونیورسٹیوں کی نشاندہی اور جوابدہی کا کوئی نظام فعال نہیں۔ یہ غیر توثیق شدہ ادارے صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا، ایف آئی اے سمیت کسی ادارے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ جب طلبہ داخلہ لے لیتے ہیں، فیسیں جمع کرا دیتے ہیں تو پھر اچانک ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو خیال آتا ہے کہ وہ ان اداروں کی اسناد کی توثیق نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ ادارے ایچ ای سی سے منظور شدہ نہیں۔ یہ امر اس دوران یونیورسٹی انتظامیہ اور ایچ ای سی حکام ایک مرتبہ بھی عام کرنے کی زحمت نہیں کرتے لیکن جب طلبہ اپنا وقت اور سرمایہ صرف کر چکے ہوتے ہوں تب ایسے مسائل اچانک سر اٹھانے لگتے ہیں۔

 

ابھی لاہور کیمپس کے غیر قانونی ہونے کی اطلاعات گردش میں تھیں کہ نیب نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو گرفتار کرلیا۔
ایسا ہی معاملہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ پیش آیا ہے۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس میں چار ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ایم فل کی فی کس فیس تقریبا پونے تین لاکھ روپے وصول کی گئی ہے۔ داخلے کے وقت طلبہ کو انتظامیہ، پنجاب حکومت یا ایچ ای سی کی جانب سے قطعاً آگاہ نہیں کیاگیا کہ یہ ادارہ غیر توثیق شدہ ہے۔ طلبہ پر اچانک اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب انہیں اخبار کے ذریعے پتہ چلا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کی ڈگری توثیق شدہ نہیں۔ لاہور کیمپس کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ نے اس کیمپس کی منظوری دی اور حکومت پنجاب کے اجازت نامے کے بعد کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ سینڈیکیٹ کی منظوری کے بعد اس وقت کے وائس چانسلر خواجہ علقمہ نے کیمپس کھولنے کے اجازت نامے پر دستخط کیے تھے اور طلبہ کو یونیورسٹی کی طرف سے رجسٹریشن کا رڈ بھی مل رہے تھے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور لاہور کیمپس انتظامیہ کی مشترکہ کمیٹی قائم تھی جو تعلیمی اور انتظامی امور سے متعلق اہم فیصلے کرنے کی مجاز تھی۔ ملتان کے مرکزی کیمپس کی ویب سائیٹ پر ذیلی کیمپسز میں آج بھی لاہور کیمپس کا نام موجودہے۔ مگر کچھ عرصے بعد یونیورسٹی کے یونیورسٹی کے اندرونی مسائل کی وجہ سے حقیقت کھلنے لگی اور بعض ذرائع ) جو مبینہ طور پر تعلیمی کاروبار سے وابستہ افراد کی ایماء پر( یہ خبریں دینے لگے کہ کیمپس غیر قانونی ہے، اس وقت تک طالب علموں کو یونیورسٹی انتظامیہ، حکومت اور ہائیر ایجوکیشن سمیت کسی بھی ادارے نے صحیح صورت حال سے آگاہ نہیں کیا۔ ابھی لاہور کیمپس کے غیر قانونی ہونے کی اطلاعات گردش میں تھیں کہ نیب نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو گرفتار کرلیا۔ قطع نظر اس کے کہ خواجہ علقمہ قصور وار تھے یا نہیں لیکن جس طرح ایک محقق اور ایک استاد کو گرفتار کیا گیا وہ بھی ہمارے معاشرے کے منہ پر نظام کا طمانچہ ہے۔ نیب اور پولیس والے انہیں مجرموں کی طرح گھسیٹ کر لے کے گئے جبکہ ان پر صرف یہ الزام ہے کہ انہوں نے لاہور میں بطور وائس چانسلر کیمپس کھولنے کی اجازت دی۔ یہ سراسر انتظامی معاملہ ہے اس میں کسی استاد کو جس کی ساری زندگی قوم کے نونہالان کی تعلیم وتربیت کرتے ہوئے گزری ہو اس طرح گصیٹ کر لے جانا بہت توہین آمیز ہے (واضع رہے جن پیسوں کی بات کی جارہی ہے وہ طلبہ کی فیسوں کے پیسے ہیں جو کیمپس انتطامیہ وصول کرتی رہی ہے وائس چانسلر کا ان پیسوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے)۔

 

تفصیلات کے مطابق لاہور کیمپس کی اجازت پنجاب حکومت نے ایک نجی کمپنی کو دی اس نے اس کیمپس کو اگلی پارٹی کو فروخت کردیا۔ اس کمپنی نے یہ کیمپس موجودہ چئیرمین لاہور کیمپس منیر بھٹی کو فروخت کردیا۔ منیر بھٹی اس کیمپس کو گذشتہ دو سالوں سے چلارہے تھے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھاری رقم رشوت کی مد میں بھی ادا کی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی کروڑوں روپے رشوت مانگی گئی تھی جب رشوت کی رقم کیمپس انتظامیہ نے دینے سے انکار کیا تو یہ مسئلہ کھڑ اکردیا گیا۔ مگر ان تمام قانونی موشگافیوں میں ہزاروں طلبہ کا کیا قصور ہے جن کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے، جنہوں نے اپناقیمتی وقت ضائع کیا اور بھاری فیسیں بھی ادا کیں۔ اگر کوئی قانونی مسئلہ تھا تو حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اشتہار کے ذریعہ اس کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ اگر میٹروبس، نندی پورپاور پراجیکٹ، قائداعظم سولر پراجیکٹ، اورنج ٹرین، موٹروے اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ذاتی تشہیر کے لیے اربوں کے اشتہار قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چل سکتے ہیں تو اس اہم مسئلہ پر اشتہار کیوں نہیں دیا گیا۔ اس کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومتی اداروں اس وقت کہاں سوئے ہوئے تھے جب یہ سب کچھ ہورہا تھا؟ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ کیا ان طلبہ کو ان کی ڈگریاں ملیں گی؟

 

اس سے پہلے کہ ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، باقی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا بائیکاٹ ہو، طلبہ وزیراعلی اور وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں حکومت کو اس اہم مسئلہ کو فورا حل کرنا ہوگا۔
کیا حکومت کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر اس طرح کیمپس بند کیا گیا تو تنگ آمند بجنگ آمند کے مصداق ہزاروں طلبہ مجبوراً سڑکوں پر ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، باقی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا بائیکاٹ ہو، طلبہ وزیراعلی اور وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں حکومت کو اس اہم مسئلہ کو فورا حل کرنا ہوگا۔ قانونی مسائل جیسے بھی حل ہوں مگر طلبہ کو ان کی متعلقہ ڈگری بروقت ملنی چاہئیے ان کا تعلیمی سال اور پیسہ بالکل ضائع نہیں ہونا چاہئیے۔ وزیراعظم کے صرف اخباری بیان کے ذریعے نوٹس لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ذاتی دلچسپی بہت ضروری ہے۔ غریب طالب علموں کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ حمزہ شہباز ، مریم نواز، آصف زرداری، عمران خان، چوہدری نثار، اسحاق ڈار اور دیگر رہنماوں کے بچوں کی طرح بیرون ملک تعلیم حاصل نہیں کرسکتے مگر ان سے اس ملک میں ڈگریاں لینے کا حق تو نہ چھینا جائے۔ حکمرانوں اور دو فیصد اشرافیہ کی ترجیحات میں عوام کے بنیادی مسائل تعلیم ،صحت، روٹی،کپڑا، مکان اور روزگارشامل نہیں ہیں کیونکہ ان کے بچے تو یورپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں ان مسائل سے فرق نہیں پڑتا۔ بجائے اس کہ انہیں تعلیم کی ایسی سہولیات دی جاتیں کہ وہ اپنا روزگار کماکر خود لیپ ٹاپ خریدنے کے قابل ہوجاتے حکمران اپنی ذاتی تشہیر کے لیے لیپ ٹاپ اور قرضے بانٹ کر نوجوانوں کی خودداری ختم کر رہے ہیں۔ سکولوں ،کالجوں کی کسمپرسی کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پنجاب کے دیہات میں ہزاروں سکول آج بھی ایسے ہیں جن میں چاردیواری، واش روم، پینے کا پانی، فرنیچر ، بجلی اور دیگر سہولیات نہیں ہیں۔ کالجوں اور سکولوں میں ہزاروں اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ معیار تعلیم انتہائی ناقص ہے جبکہ دوسری طرف پرائیویٹ سکول ہزاروں روپے فیس کی مد میں وصول کرتے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے۔ دوہرا نظام تعلیم ختم کرنے کے لیے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں گیا۔ اکیڈمی مافیا بھی قبضہ مافیا، سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی مافیا اور کرپٹ مافیا کی طرح ایک بڑا مافیا بن چکا ہے مگر حکومت نے تعلیم عام کرنے اور معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کا قانون موجودہے مگر اس پر بھی عملدرآمد سیاسی مصلحتوں کی بنا پر نہیں ہوتا۔ حکمرانوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تعلیمی نظام میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور تعلیم فروشوں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔
Categories
نقطۂ نظر

Right to Education: Where do we stand?

About five years ago it was a historic moment when Article 25-A was incorporated in the Constitution of Pakistan through 18th Amendment which affirms that “the State shall provide free and compulsory education to all children of the age of five to sixteen years in such manner as may be determined by law”. Article 25-A brought some hope to improve the grim situation of education in the country which hosts the second largest number of out of school children in the world after only Nigeria. However, today the state of education in Pakistan remains dismal. The 18th Amendment also devolved the subject of education from federal to provincial governments and now provinces have command to formulate their policies regarding education. Legislation for the right to education has been passed in Sindh, Balochistan, Punjab and Islamabad capital territory. The province of Khyber Pakhtunkhawa (KP), however, is still in process of drafting a bill.

About 17% children in Punjab have never been to school. This ratio is much higher in Sindh and KP where 37 percent and 25 percent children have never been to school respectively

After successful legislation at the federal level, there have not been very positive signs for the implementation of the Act at provincial level. The Punjab Free and Compulsory Education Act 2014 guarantees that the private schools will provide free education to 10 percent students. But how will private schools ensure this and what will be the mechanism or criteria of enrollment of those 10 percent students, especially in elite schools of urban areas? Though Punjab’s education indicators are better than other provinces but still there are myriad challenges of enrollment, retention and quality of education. ‘About 17% children in Punjab have never been to school. This ratio is much higher in Sindh and KP where 37 percent and 25 percent children have never been to school respectively,’ according to a UNESCO Report on Education in Pakistan.

Although in the previous budget almost all the provinces have increased their education budget but still Pakistan is lagging behind in the field of education both in terms of access and quality of education. The Annual Status of Education Report (ASER 2014) shows the decline in the learning levels of children by 5 percent in 2014. In the rural areas survey which was carried out across the country, only 46 percent children of class five can read story in Urdu, Sindhi or Pashto languages which was 50 percent in 2013. Similarly about 42 percent children of class 5 could read sentences in English and 40 percent children could do two digit division in Mathematics. In urban areas situation is comparatively better but not satisfactory. In assessment of the quality of learning in Urdu, English and Mathematics, the ratio was 60%, 56% and 53% respectively. The private schools have better performance in terms of learning levels as compared to government schools. On the other hand 21 percent children between the ages of 5 to 16 years are out of school, the same proportion as that of 2013. Another important aspect which was noticed in the report was the growing trend of paid private tuition, especially in private schools children of urban areas where 42 percent of surveyed students were taking tuition after school hours. The report highlights the positive trend in teachers and students attendance where government school teachers and students have almost equal ratio of attendance (about 90 %). The schools were lacking in a number of essential facilities and multi grade teaching is also a trend observed in the findings.

In a recent briefing session with parliamentarians which was organized by Pakistan Coalition of Education regarding the implementation of the Punjab Free & Compulsory Education Act 2014, the School Education Department’s Deputy Secretary Budget and Finance, Mr. Qaiser Rashid admitted that there are almost 6,000 schools in Punjab where multi grade teaching is being provided to students.

Education sector has never been the top priority of our successive regimes. As a result of this criminal negligence Pakistan will not be able to meet the Millennium Development Goals (MDG’s) on education by 2015.

The major issues confronting the implementation of free and universal education include insufficient budget allocation, rampant corruption, administrative expenditures, lack of transparency, outdated curriculum and last but not least the lack of political will to revamp the education sector. Education sector has never been the top priority of our successive regimes. As a result of this criminal negligence Pakistan will not be able to meet the Millennium Development Goals (MDG’s) on education by 2015. Pakistan is hardly spending 2 percent of GDP – Gross Domestic Product – on education sector which needs to be enhanced. The Global Partnership for Education organized its Replenishment Pledging Conference in Brussels, on June 26, 2014 as part of its second replenishment campaign. The government of Pakistan has pledged the amount of worth 9,495 million dollar for education sector and aims to gradually increase the budget allocations up to 4 percent of GDP by 2018.

The 18th Amendment has empowered the provincial governments for implementing the right to education in the country. The provincial oversight can improve the service delivery and ensure transparency and accountability. It is high time to impose education emergency in the country on war footing. It is the need of the hour to do some practical steps rather than sweeping dust under the carpet. The state of Pakistan must fulfill its promise to enroll every child into school so that we could stand on equal footing with the comity of nations.

Categories
اداریہ

Students’ ill-health causes 52% absenteeism: school health program awaiting proper implementation

LAHORE: Government should declare emergency in school health sector to get positive results from School Health Program (SHP). These views were expressed by health-education experts in a seminar titled “Evidence Generation and Advocacy for Institutionalisation of School Health Programme (SHP) in the Punjab,” organised by Nur Centre for Research and Policy (NCRP), on Thursday.

The NCRP conducted a survey in 38 schools of 8 districts to assess the impact of the government’ recent SHPs on students’ health, nutrition literacy and practices, and documented the prospects of implementation. Nur Foundation came together with the Health and Education Departments’ authorities and stakeholders in these districts with objective of school health and nutrition situation analysis in Punjab and barriers to institutionalisation of SHP.

According to findings, it is observed that 52% of girls and 42% of boys are absent from school due to ill-health.
Mostly selected schools have no proper facilities of clean drinking water, sanitary washrooms and no first aid arrangements. Parents and community members are generally unaware of the currently ongoing SHPs because they are not involved in any capacity. Finding shows; fever, headaches, earaches, toothaches, and stomach problems were common reasons for absenteeism, 20% girls and 22% boys had intestinal worm infection, low weight for age was found in 7% girls and 17% boys, inadequate drinking water arrangements in 31% and 41% boys’ schools, sanitary latrines absent from 27% girls’ and 22% boys’ school, no libraries in 50% girls’ and 41 % boys’ schools, awareness about ongoing SHP among principals and teachers is limited and they feel quite detached from the programme being implemented by the health sector.

The NCRP’s dissemination seminar acted as a forum to review and share the findings and challenges confronting Pakistan in improving the health and nutritional status of school going children.

The seminar was chaired by Advisor to Chief Minister Punjab on Health Khawaja Salman Rafiq, Parliamentary Secretary on Health Khawaja Imran Nazir, Member Standing committee for Health Punjab Mahwish Sultan, Parliamentary Secretary for Education Punjab, and MPAs Dr. Muraad Rass, Rana Munawar, Hussain Ghos Khan and DG Health Punjab, Dr. Zahid Pervaiz among others. The seminar had representation from key officials from the government as well as the private sector including NGOs/INGOs like UNICEF, UNCHR, WHO and corporate social representatives.

While addressing seminar, Advisor to Chief Minister Punjab on Health Khawaja Salman Rafiq said that government launched SHP in 33 districts to address the health, hygiene and nutrition issues faced by children at government schools. President, Nur Foundation Shahima Rehman said, “We are all Pakistan and are heading towards a health crisis that needs to be addressed now. These children are our future and their health should be a priority. Health impacts education and without education, our country cannot get out of this vicious cycle of poverty and increase its global competitiveness as well as promote human and economic development.”

The study on SHP was undertaken with the aim to generate evidence to advocate the institutionalisation of the School Health Programme (SHP) in the Education System in Punjab, for enhancing education outcomes and promoting economic development in Punjab.

CEO of Nur Foundation Dr. Haroon, stated, “Together we must sit down and discuss on how to carry things forward beyond research for implementation.” The study on SHP was undertaken with the aim to generate evidence to advocate the institutionalisation of the School Health Programme (SHP) in the Education System in Punjab, for enhancing education outcomes and promoting economic development in Punjab.

Talking about the programme Saba Sheikh said, “The burden needs to be shared between Education and Health. How do we have an impact? We need to have sound advocacy strategy in mind to convince policy makers and to have a practical impact. We need to act as watchdog when the programme is being implemented. You all are stakeholders and we need your support to advocate the institutionalization of the School Health Programme (SHP).”

Categories
نقطۂ نظر

Global Education Crisis

As a newly appointed Global Youth Ambassador for A World at School, I want to call attention to the condition of more than 57 million children around the world who are currently being denied their fundamental right to education.

As firm believers in the education as the answer to the greatest challenges we face as a society, we ask for your help in urging leaders to raise budgets, build schools, train teachers and improve learning for all children.

I have joined in this call to action along with 500 other young advocates for global education. Together we make up the Global Youth Ambassadors group launched on April 1 by the United Nations Secretary-General Bank Ki Moon and the United Nations Special Envoy for Global Education Gordon Brown.

Shazia and Kainat are two of my fellow Ambassadors. Along with Malala Yousafzai, they were shot by the Taliban while going to school. Their story, and that of other so many youth advocates I have joined forces with, inspires me to stand up for the millions of children that are kept out of school because of poverty, early marriage, child labour and different forms of discrimination.

As firm believers in the education as the answer to the greatest challenges we face as a society, we ask for your help in urging leaders to raise budgets, build schools, train teachers and improve learning for all children.

It has been projected that we could lift over 170 million people out of poverty simply by teaching every child in low-income countries basic reading skills.
So why are we not making this a reality?!

Unless we revert current trends, we will not even achieve universal primary education before 2086.
So Join A World at School in our campaign to get every child into school learning. Support our calls to action and get all the latest news on global education online (www.aworldatschool.org) on twitter (@aworldatschool) and on Facebook (www.facebook.com/AWorldAtSchool).

Categories
نقطۂ نظر

Universities of Terrorism

Faisal Usman
UET, Lahore

14punjab2_600

Pakistan’s literacy rate is officially 57% which is still one of the lowest in the world while the out of school population in Pakistan amounts to the second largest. The state has miserably failed in its constitutional duty to provide free and quality education to all children aged 5-16. The situation is further aggravated by the fact that a large number of people monetarily cannot afford to send children to schools. Almost one fourth of country’s population is living below the poverty line and is forced to strive hard in order to earn enough to scrape by. In these conditions quite often a child going to school is a potential loss of an earning hand for a large impoverished family. A good education seems like a luxury which not everyone can afford.

A report by Social Policy and Development Center (SPDC) revealed that only 6% of madrassa students cite religious reasons for attending madrassas, while 89% cited economic reasons.

Among such unfortunate families, many children are either sent to jobs as underage workers or sent to madrassas where the parents are free from having to feed them. In addition to this, an added incentive is perceived in dedicating one or more children to studying and serving Islam in madrassas. The religious factor plays a key role in deciding for children’s enrollment in the madrassas. Evidence also indicates that households diversify by sending one child to school and another to a madrassa. Madrassas originated as trust institutions with the purpose of training religious functionaries, Islamic scholars and imparting free Quranic teachings to poor children while providing social services such as free food, clothing and boarding to their students. These factors increase madrassas’ appeal in areas where educational alternatives are lacking or expensive. A report by Social Policy and Development Center (SPDC) revealed that only 6% of madrassa students cite religious reasons for attending madrassas, while 89% cited economic reasons.
Madrassas are found across the breadth of this country. While their exact numbers remain contested, according to conservative estimates there are approximately 20,000 madrassas in Pakistan (USCIRF 2011). At the time of independence, there were 137 madrassas in Pakistan with their number increasing each year. However the largest increase in their number was witnessed in General Zia’s era during which they flourished owing to state’s patronage and sponsorship. Zia’s education policy of 1979 envisaged 5,000 mosque schools and established a National Committee for ‘Deeni Madaris’ to transform madrassas “into an integral part of our educational system”. The madrassas struck gold at the time of Aghan jihad when ISI funneled billions of Saudi and US dollars into the madrassas and madrassas became the breeding ground of jihadis. The madrassas grew into much more than religious school where not only military training was imparted but the students were also invigorated through fiery speeches by the teachers to prepare them for jihad. According to one estimate, Saudi Arabia reportedly spent more than one billion dollars per year to fund madrassas responsible for recruiting, mobilizing public opinion, training jihadis and supporting other vehicles of religious militancy in Pakistan. The students of madrassas, particularly those situated along the border with Afghanistan also grew with an influx of recruits from Central Asia, North Africa, Burma, Bangladesh, Chechnya and Afghan refugees. Zia allowed foreign madrassa students free entry and movement within the country, simultaneously encouraging them to join the Jihad in Afghanistan.
The state has no control over or involvement in madrassa curriculum. Although ‘Dars-e-Nizami’ is the semi-official syllabus of most of the madrassas, each madrassa has its own curriculum according to its particular sectarian interpretation of Islam. The curriculum contains hate content which glorifies violence and portrays violent Jihad as the true destiny through which the dream of global Islam would be realized. As a result of unlimited funding and no accountability, the madrassas have evolved from religious schools to sanctuaries and meeting places for terrorists and militants preaching terrorism. The madrassas are constantly spewing out young people with an archaic and exclusive mindset trained on sectarian content, intending to enforce the socio-economic system of 1400 years ago while exhibiting extreme intolerance and bigotry for other sects and religious minorities. While the majority of madrassas do not impart military training or such education, at least 10-15% of madrassas are affiliated with violent extremist groups. These madrassas teach a brand of violent political jihad, extol suicide bombing and impart hate and sadism in the students.

While the majority of madrassas do not impart military training or such education, at least 10-15% of madrassas are affiliated with violent extremist groups. These madrassas teach a brand of violent political jihad, extol suicide bombing and impart hate and sadism in the students.

There have been conclusive links between these madrassas and terrorist organizations. Lashkar-e-Taiba (LeT), Sipah-e-Sahaba Pakistan (SSP) and its later offshoot, the Lashkar-e-Jhangvi (LJ) grew out of such jihadi madrassas and established their headquarters in Punjab. Both the SSP and the LJ have been responsible for providing recruits, finances and weapons to the Tehrik-e-Taliban Pakistan (TTP) contributing to and assisting in its rise while also serving as al-Qaeda’s principal allies in the region. The countrywide network of mosques and madrassas remains major center of jihadi recruitment to date, providing recruits for internal sectarian conflicts, the regional jihad in Afghanistan, against India, and the global jihad against the West.
The jihadi hydra monster which is spreading extremism, violence and bigotry can be controlled by regulating its breeding grounds. These extremist groups create individuals who do not respect other’s basic human rights, instead extol an ideology according to which anyone not submissive enough will have to be obliterated. All the unregistered madrassas should be eradicated and those registered should teach only the state approved curriculum with properly trained teachers selected by the state. Gen. Musharraf tried to introduce an element of nominal control as an overture to American pressure which by and large failed. The admission of foreign students should be especially regulated and security cameras be installed in order to monitor the situation especially in the tribal areas. As long as these seminaries continue breeding new trainees, the problem of terrorism cannot be effectively solved.
_______
Sources: ICG Asia Report 2009, SPDC.

 

Categories
اداریہ

Education: The Most Important Battle of All

Rab Nawaz

There are only a handful of issues in Pakistan around which most socio-political stakeholders can form a consensus, and education is often referred to as one such issue; political elites, bureaucrats, civil society and ordinary folk alike tend to agree that education is the vanguard of a new Pakistan. And as such, the governments of Punjab and Khyber Pakhtoonkhwa (KPK) are rightly paying special attention to end what is being called an education emergency in our country. In recent days we have seen a concerted effort to increase enrolment, decrease dropout rates and build key infrastructure. Measures are also being taken to improve teaching quality through training and the establishment of scholarship funds. But alongside these commendable steps is another worrying trend, where the influence of extremism within our educational institutions is growing with little resistance from the concerned authorities.

The seemingly disparate but interconnected events that have gained public attention in the past few weeks all point to the state of education in Pakistan. An al-Qaida operative has been arrested from the Punjab University campus; administrations at the National University of Science and Technology (NUST) and other institutions are enforcing more conservative dress codes on students; the Punjab government has initiated legal action against a private school in Lahore for teaching the subject of Comparative Religions to its young students; the Khyber Pakhtoonkhwa (KPK) government has decided to reincorporate ‘jihadi’ teachings in the school curriculum. The direction or the cumulative outcome of these events is not hard to discern.
There is however a historical context here, with the domains of education and mass media having been in the firm control of right-wing elements ever since the Zia days. Over decades this has cultivated a mindset predisposed to ideological indoctrination, religious intolerance and xenophobia. And today we seem to have reached a point where our educational institutions are helping foster an environment where the likes of the Taliban and their ilk can find safe haven.

The above mentioned incidents are but a continuation of the government’s desperate attempts to avoid the unavoidable: a challenge to militancy on all fronts. The Punjab and KPK Chief Ministers have already demonstrated their unwillingness to act against the Taliban, although the fresh wave of attacks the country has recently been subjected to should make our policy-makers reassess their earlier calls for negotiations with the militants.

Depending on its capability or will, our state may have varying policy perspectives, but it remains imperative that we as a society learn from our experience with militancy and the heavy price we have had to pay for it. Whatever happens in the future with peace deals and armed operations, it is all too clear that the real effort against the militants has to be waged with equal vigour on other fronts, education being the foremost of them. If this battle of hearts and minds is to be won, our government must nourish our young minds with independent thought, critical faculty and civic values at par with the modern world.

(Editorial Issue 12)

Categories
اداریہ

جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی بنیادی سہولیات سے محروم

احمد ریاض

campus-talks

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہونے کے باوجود پانی کی دستیابی کے مناسب انتظام سے محروم ہے۔ یونیورسٹی کے ملتان کیمپس میں پینے اور صفائی کے لئے پانی کی فراہمی کے لئے صرف دو ٹینکیاں تعمیر کی گئی ہیں اور بجلی کے جاتے ہی پانی کی فراہمی معطل ہو جاتی ہے۔ زکریا یانیورسٹی کے اکثر ڈیپارٹمنٹس کے غسل خانے اور پانی کے کولر بجلی کی بندش اور پانی ذخیرہ کرنے کے ناکافی انتظامات کے باعث دن کے بیشتر حصے میں استعمال کے قابل نہیں ہوتے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ موسم کی شدت، پانی کی عدم دستیابی اور بجلی کی بندش کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ پینے کا پانی نہ ملنے پر اکثر طلبہ منرل واٹر یا مہنگے مشروبات خریدنے پر مجبور ہیں۔ طلبہ نے یونیورسٹی فیس کے ساتھ وصول کئے جانے والے فنڈز کے درست استعمال پر بھی زور دیا ۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں پانی کی فراہمی کا مناسب انتظام موجود ہےاس وقت کیمپس کو پانی فراہم کرنے کے لئے پانی کی 2ٹینکیاں موجود ہیں، بجلی کی بندش اور گرمیوں میں پانی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کبھی کبھار پانی کی دستیابی متاثر ہوتی ہے جسے دور کرنے کے لئے مزید ٹینکیاں تعمیر کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کے اکثر تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ گزشتہ حکومت کی طرف سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈزمیں کٹوتی کے باعث اکثر یونیورسٹیز میں ترقیاتی اور تحقیقی منصوبے ختم کر دئیے گئے تھے، جس سے یونیورسٹیز میں دی جانے والی سہولیات پر برااثر پڑاہے۔


Categories
نقطۂ نظر

Manufacturing Zombies

manufacturing-zombies-2By Waseem Altaf

Writing textbooks for students who are in a formative stage of their lives is serious business. Errors and omissions on the part of the writers, due to ignorance or self-complacency, are pardonable and can be corrected. However, when textbooks are written with the express aim of misguiding pupils and indoctrinating adherence to the status quo – support for the regime in power, glorification of war, self-righteousness, hatred for other religious and ethnic groups – it becomes a criminal act where an entire generation is spoiled at the altar of vested interests of the powerful few. Furthermore, the ability to ask questions, which lies at the core of the learning process, is throttled by discouraging students from challenging dogmas and conventional views. This strain of malicious intent is particularly visible in social sciences in Pakistan where disinformation is deliberately disseminated.

The entire process of writing textbooks is closely monitored by the state, whereby government employees write books that are approved by the Ministry of Education and then published by the Textbook Boards. Hence there is no room for any deviation from the ‘official version’. During Zia’s 11 years of infamy, the name of Zulfiqar Ali Bhutto was omitted from the textbooks, while the same texts were all praise for Zia, extolling him as a pious man chosen by God to make Pakistan a fortress of Islam. Pakistani textbooks are also notably silent when it comes to the detrimental aspects of military rule, although there is ample criticism of the democratic system. There is virtually no content pertaining to civic virtue and education in democracy.

There is also far more material on the reasons and outcomes of wars with India than on the constitution, issues of governance, political economy, society and culture. There seems to be an implicit appreciation of violence and wars as a means to resolve international issues, and the significance of national security and the pivotal role of the armed forces is constantly highlighted.

India and the Congress are made synonymous with Hinduism, whereas there is no mention of the fact that there are more Muslims in India than in Pakistan and seven Presidents of the Indian National Congress were Muslims. Facts are also twisted about the Mutiny of 1857, which was an Indian war of independence rather than some sort of a ‘jihad’ undertaken by the Muslims alone.

The education system as a whole discourages critical thinking, since challenging what is written in the textbooks is not allowed. Instead, the main concern is for students to attain maximum marks. Hence the teachers and pupils are primarily focused on adopting strategies which ensure high grades. Rote memorization is one common tool. Our students get so used to it that even while appearing for the CSS exam you find them mugging. The situation is so grim even at university level that teachers who try to impart knowledge and invoke independent reasoning are disliked by most of the students, while those who tell them which questions to prepare for the exams (along with the answers) are the most revered ones. In South Punjab, university teachers considered going on strike when they were asked by the Vice Chancellor to conduct research. ‘Notes’ are the most prized item and the common denominator which binds all stakeholders in the system of education.

In the absence of cognitive development at the abstract level, dogmas and clichés are what we are left with to offer. When we fail to critically appreciate a phenomena due to lack of an adequate reasoning ability we replace it with high sounding words, slogans, and boastful pretentions, that are totally devoid of any substance. All this is couched in high emotionality, which further incapacitates us to think critically. Hence we transform into living beings with little thinking and high emotions.

And such individuals are the product our education system is bestowing upon this nation. Just look at some members of our academia, our men of letters, our politicians, our judges, our media persons, the generals and the mullahs, all weary of rational thinking, not only charged with emotions but also displaying arrogance and self-righteousness. Intolerance is the natural consequence which today is so pervasive in our society.

Schools are the nursery of the nation, and as long as we do not replace the contents of our textbooks by setting aside our vested interests, by being honest and truthful and portraying the facts and not concocted stories, we will not be able to produce useful members of civic society who are creative, innovative and productive, with a scientific approach towards their discipline and towards life. However if we fail, the alternative is too horrifying to contemplate in a society which is already breeding intolerance at an alarming rate.

(Waseem Altaf is a human rights activist.)

 

(Published in The Laaltain – Issue 7)

Categories
خصوصی

Quality Education Compromised

campus-talks
Quaid e Azam University (QAU) is recognized by HEC as the number 1 university in Pakistan. But it has some major problems which are undermining the quality of education. University’s resources are under tremendous stress due to the huge number of students enrolling each semester. The University has recently introduced a BS programme but it does not have enough resources to accommodate all students. We lack classrooms, lecturers, hostel accommodation (especially for BS students). Transport is another big problem. There are only few buses available and sometimes there isn’t even enough space to stand in the bus. University authorities blame government for not providing enough funding to the university. This is partly true. Unlike other private universities, QAU cannot increase the fee structure steeply. In order to boost its revenue, the admin has increased the number of students on open merit and on self-finance scheme. To enhance the quality of education the university should firstly reduce the number of students. Additional funds from the government could improve the situation, but only if managed properly.

(A student from Quaid-e-Azam University Islamabad)

(Published in The Laaltain – Issue 7)