Categories
نان فکشن

ہمارے ہاں علم، تحقیق اور تخلیق کی موت کیسے واقع ہوئی؟

کیا وجہ سے مغربی ممالک میں پے در پے، ایک سے بڑھ کر ایک تخلیقیت سے بھری ذہانتیں پیدا ہو رہی ہیں، اور ہمارے ہاں دین و مذہب سے لے کر سائنسز اور سوشل سائنسز، ہر سطح پر اوسط درجے کا ذہن دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح کی کوئی نئی سوچ، ایجاد، دریافت کچھ بھی ہمارے نام پر نہیں۔ جب کہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قدرت ہر خطے میں ذہانتیں برابر تقسیم کرتی ہے، ہمارے ہاں خداداد ذہانتوں کے باوجود تحقیق و تخلیق کے سوتے خشک کیوں ہوئے؟ ہمارے ہاں غلطی کہاں ہو رہی ہے؟

 

[blockquote style=”3″]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں

[/blockquote]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں۔ خالص تحقیقی مزاج کی آبیاری کسی بھی سطح پر کہیں بھی موجود نہیں۔ تحقیقی اور تخلیقی سوالات کی بیخ کنی کا
سلسلہ بچپن میں گھر سےشروع ہوتا ہے، اور سکول، مدرسہ، یونیورسٹی اور دینی جامعہ ہر جگہ تقریبًا ایک جیسی شدت سے آزاد سوالات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تحقیق کی اعلیٰ سطحی تعلیم کے طلبہ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی تحقیق میں کوئی نئی بات پیش نہ کر دینا، ورنہ دفاع کرنا دشوار ہو جائے گا اور ڈگری ملنے میں مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ راقم نے اسی وجہ سے اپنا ڈاکٹریٹ (اسلامیات) کا مقالہ انگریزی میں لکھا تھا کہ انگریزی جاننے والے معائنہ کار شاید اتنے تنگ نظر نہ ہوں۔

 

آپ نے کبھی غور کیا کہ کئی برسوں سے پاکستانی طلبہ، او لیول کے امتحانات میں عالمی سطح پر ٹاپ کر رہے ہیں، اس میں کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کروا چکے ہیں۔ لیکن پھر علم کی دنیا میں وہ نجانے کہاں گم ہو جاتے ہیں، علم کے کسی میدان میں کسی نئی تھیوری، ایجاد، دریافت، کسی نئے خیال کی پیش کش میں ان کا نام کہیں نظر نہیں آتا، بلکہ گزشتہ 60، 70 سالوں میں کوئی ایک بھی عالمی معیار کی تحقیق و تخلیق خالص پاکستانی ذہن سے نہیں پھوٹی، جو ایک دو نام موجود ہیں بھی، تو انہیں مذہبی شناخت کے خوف سے اپنانے سے انکار کر دیا گیا۔

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی نظام تعلیم رٹے پر مبنی تو ہے ہی، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ او لیول جیسے کانسپٹ بیس نظام ِتعلیم میں بھی پاکستانی تعلیمی اداروں نے ممکنہ حد تک رٹا متعارف کروادیا ہے، جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے پاکستانی طلبہ عالمی سطح پر کئی سالوں سے ٹاپ کر رہے ہیں، لیکن کسی اصلی تخلیق و تحقیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔

 

ہمارے ہاں سوشل سانسئز تو رہے ایک طرف، خالص سائنسی مضامین میں بھی عملی کام بھی عموماً تصوراتی انداز میں کرایا جاتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ پروجیکڑز پر دکھا دیا جاتا ہے۔ طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ہمارے طلبہ کے ٹاپ کرنے کی وجہ ان کی تخلیقی ذہانت نہیں، بلکہ پرچے اچھے انداز میں کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں لکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔

[/blockquote]

او لیول کے ایسے پاکستانی طلبہ جنھوں نے کچھ عرصہ بیرون ملک، امریکہ اور انگلینڈ وغیرہ میں پڑھا اور خاندانی وجوہات کی بنا پر باقی کی تعلیم پاکستان میں مکمل کرنے آ جاتے ہیں، ہمارے طریقہ تدریس پر حیرت اور کوفت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں اتنے طویل لیکچر کیوں دیئے جاتے ہیں، لکھنے کا کام بہت زیادہ دیا جاتا ہے، جب کہ یورپ وغیرہ میں اس سطح پر لیکچر عموما پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا، اور ہر لیکچر کے ساتھ کچھ عملی، بصری کام بھی ضرور کرایا جاتا ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ آپ کو اچھا سے اچھا، قابل پاکستانی ڈاکٹر، انجینیر، اکاونٹنٹ، فلسفے کا حافظ فلسفی، تایخ کا حافظ مورخ، تعلیمی تھیوریز کا حافظ ماہر تعلیم اور ماہرِ عمرانیات تو مل جائے گا، لیکن موجد نہیں ملے گا، آزاد مفکر نہیں ملے گا، کوئی ایک بھی ایسا نہیں مل پائے گا جس نے خالصتا کوئی نئی ایجاد کی ہو، کوئی بالکل نیا تجربہ کیا ہو، یا سائنس و بشریات میں کوئی نئی تھیوری یا نظریہ دیا ہو۔ زیادہ سے زیادہ کسی ایجاد کو موڈیفائی کر دیا ہوگا، یا کسی نظریے پر حاشیہ لکھ دیا ہوگا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی کو ہمارے ہاں تحقیق کی معراج قرار دیا جاتا ہے، اور اسی پر مقامی قسم کے آسکر بھی مل جاتے ہیں۔

 

دینی علوم میں تو تقلید کا رحجان واجباتِ دین میں شامل ہے ۔ راقم ایک دینی تحقیقی مجلے کی ایڈیٹنگ بھی کرتا ہے، جس قسم کے مضامین چھپنے آتے ہیں، مت پوچھئے، یعنی اس سطح پر بھی ‘نماز کے فوائد’ جیسا مضمون ایک سینیئر محقق کی طرف سے موصول ہو سکتا ہے!
جس معاشرے کے دینی علمی مزاج کا یہ عالم ہو کہ اگر کوئی اپنی تحقیق کے نتیجے میں کسی منفرد رائے کو پہنچ جائے، تو اسے ‘تفرد’ جیسا حقارت آمیز اور نفرت انگیز نام دے کر اس سے استفادہ کرنے سے اجتناب کرایا جاتا ہو، وہاں کتنے حوصلہ مند ہوں گے کہ جو پہلے تحقیق کا جوکھم برداشت کریں، اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہوانے والے کسی ‘تفرد’ پر ساری زندگی طعنے بھی سہتے رہیں۔ دماغ کے اس آزادنہ استعمال پر اداروں میں ملازمت کے دروازے تک بند کر دیے جاتے ہیں۔

 

[blockquote style=”3″]

ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے

[/blockquote]

حالت یہ ہے کہ اگر کسی ادارے میں اپنے طلبہ کو آزادیءِ فکر کی راہ دکھانے کی جرات کر ہی ڈالی جائے، جو اوّل تو انتظامیہ کی نگرانی کی وجہ سے عمومًا ممکن ہی نہیں ہوتی، تو بعد ازاں طلبہ کو یہ تلقین بھی کرنی پڑتی ہے کہ امتحانات میں کوئی اپنی آزادانہ رائے نہ لکھ دینا، وہی لکھنا جو نصاب کی کتاب میں لکھا ہوا ہے، ورنہ فیل تو کر ہی دیے جاؤ گے، غدار یا گمراہ بھی قرار پاؤ گے۔
سید سلیمان ندوی جیسے عالم، جنھوں نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں کچھ منفرد آراء اپنائی تھیں، عمر کے آخری دور میں جب تصوف کی راہ سے حضرت اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے، تو ایک اجمالی اعلان فرمایا کہ میں اپنے تمام تفردات سے برات کا اعلان کرتا ہون۔ ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا اگر وہ اپنے تمام تفردات سے برات اپنی مزید تحقیق کی روشنی میں کرتے اور اپنے رجوع کے دلائل بھی بتاتے، لیکن یہ اجمالی بیان، کیا علم و تحقیق کی شکست کا اعلان نہیں، جو شائد آخرت کی نجات کے لیے ضروری سمجھ کر کیا گیا؟ علم کے مسند نشین بڑوں کا جب ایسا رویہ ہو گا تو علم، تحقیق اور تخلیق نے کیا پنپنا ہے۔

 

حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے، ایسے شخص کو کوئی اس وجہ سے ملازمت نہیں دیتا ہے یہ دوسروں کو اپنے سے پیچھے چھوڑ جائے گا۔

 

ہمارے سینیئر رفیق کار، برن ہال کالج کے سابق پرنسپل، سلیم صاحب، ایک پر حکمت ذہن کے مالک ہیں، کہا کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے غلام پیدا کرتے ہیں، طلبہ کو ‘سن لو اور مان لو’ کے طرزِ تعلیم کے ذریعے، غلامی کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، نیز، محکمے کا سربراہ اپنے ملازمین سے تابع داری ہی نہیں، بلکہ غلامی کی توقع کرتا ہے۔ ہمارےایک فوجی پرنسپل تو میری مناسب سی داڑھی کا سائز تک اپنی پسند کے مطابق کرانا چاہتے تھے۔ اپنے طلبہ اور ماتحتوں میں غلامی کی خو پیدا کرنے یہ خواہش کیوں ہے، اس کی وجہ سلیم صاحب یہ بتاتے تھے کہ غلام قومیں جب آزاد ہوتی ہیں تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو ان کے سابقہ آقا ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ غلامی کی یہ وراثت ہم چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مقولہ سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ہے کہ ‘غلام، بد ترین آقا ہوتا ہے’۔

 

اس کاانکار نہیں کہ ذہانتیں یہاں بھی پیدا ہوتی ہیں لیکن بڑی بے دردی سے ان کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑی مشکل سے پیدا ہونے والے دیدہ ور، بڑی مشکل سے کہیں بچ پاتا ہے۔ علم و تحقیق اور تخلیق کے دشمن، دراصل، خدا کے دشمن ہیں۔ خدا ہر بار ہر بچے کو آزاد ذہن دے کر دنیا میں بھیجتا ہے، لیکن یہ خدا کی تخلیق کے دشمن، ہر بچے کی تخلیقیت کو جِلا پانے سے پہلے ہی دفن کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ یہ خدا سے مقابلہ پر کھڑے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ دین و مذھب، سائنس و سوشل سائنس کے فرعون ہیں جو کسی تخیلق کار موسیٰ کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کی گدّی، ان کی کرسی، ان کی روٹین اور ان کی تقلیدی تحقیق کی جامد سلطنت میں کوئی اضطراب پیدا ہونے نہ پائے۔ اس لیے حیرت نہیں ہونی چاہیے جب پاکستان مین آنے والے زلزلوں کو امریکی سائنسی تجربات کیا شاخسانہ قرار دینے والے افسانوں کو پذیرائی ملتی ہے۔
اور اگر ان کے ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کوئی آزاد فکر موسیٰ بچ نکلے تو یہ لوگ اس کے لیے حالات اتنے تنگ کر دیتے ہیں کہ اسے حضرت موسیٰؑ ہی کی طرح چھپ چھپا کے جلا وطن ہو جانا پڑتا ہے، ورنہ جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ پھر ہر پیدا ہوجانے والا موسیٰ، اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ جلا وطنی سے واپس اپنے وطن کو لوٹ سکے اور اپنے لوگوں کو ان تگنائیوں اور شکنجوں سے آزاد کرا سکے جن میں جہالت و تقلید کے فرعونوں نے انہں جکڑ رکھا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔

[/blockquote]

موجودہ صورتِ حال میں مثبت تبدیلی حکومتی اقدامات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ حکومت کا اس صورتِ حال میں بہتری لانے کا کبھی کوئی ارادہ رہا ہی نہیں۔ حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔ تعلیم سے یہ گریز، دراصل اس شعور کی راہ روکنے کی کوشش ہے جو کسی قسم کے استبداد اور استحصال کو قبول نہیں اور آسانی سے بے وقوف بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

 

جب تک یہ صورتِ حال برقرار ہے، ہمیں دوسروں کی اترن ہی پہننا ہوگی، تحقیق و تخلیق کی دولت اور اس کے ثمرات آزاد ذہن قوموں کو ملا کرتے ہیں، غلاموں کو نہیں۔

 

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے راہ و رسم شاہبازی
Categories
نقطۂ نظر

کر سوال مگر کیوں کر

سر جی مان ہی لیں کہ ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ ہم ہی ہیں جو نئی نسل میں تنقیدی شعور بیدار ہی نہیں ہونے دیتے۔ ہم نام نہاد استاد، ہم پروفیسر، ہمارے پیوند کاری شدہ سیاستدان و صحافی، جو سوال کرنے کی روح کو کچل دیتے ہیں۔ تنقیدی شعور کی پہلی سیڑھی سوال سے جنم لیتی ہے۔ ہمارے اساتذہ سے کمرۂِ جماعت میں کوئی سوال کرتا ہے تو ہماری اندر کی فقہ اسے کلاس مینیجمنٹ کا مسئلہ گردان کے سوال کو اور سوال کرنے کی جرات کو مسل دیتی ہیں۔ سوال کرنے والے کے متعلق عمومی طور پر ان کا پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ “مجھے لیکچر مکمل کر لینے دو، پھر پوچھنے لینا۔”

 

بدقسمتی کے اس سلسلے کی ایک قسط یہ بھی ہوتی ہے کہ ہمارے اساتذہ علمی چیلنج دینے والے طالب علموں کو اسائنمنٹس میں قابلِ گردن زدنی قرار دے دیتے ہیں۔ گو اپنے کمرہ جماعت کے خطبات میں وہ علامہ اقبال کے استاد پروفیسر نکلسن کی اس بات کی تکرار کرتے نہیں تھکتے کہ اقبال جیسے شاگرد استاد کو محقق سے محقق تر بنا دیتے ہیں۔
ہمارے یہ صاحبان شکر نہیں کرتے کہ کوئی انہیں اس قدر انہماک سے سن رہا ہے اور اس کی بابت سوچ بھی رہا ہے۔ لیکن نہیں، استاد فرماتے ہیں کہ کمرہ جماعت کے تاجدار فقط وہی ہیں۔ بہت سے تو سوال کرنے والے کو اپنی ہتک کا مرحلہِ اوّل جانتے ہیں۔ بدقسمتی کے اس سلسلے کی ایک قسط یہ بھی ہوتی ہے کہ ہمارے اساتذہ علمی چیلنج دینے والے طالب علموں کو اسائنمنٹس میں قابلِ گردن زدنی قرار دے دے دیتے ہیں۔ گو اپنے کمرہ جماعت کے خطبات میں وہ علامہ اقبال کے استاد پروفیسر نکلسن کی اس بات کی تکرار کرتے نہیں تھکتے کہ اقبال جیسے شاگرد استاد کو محقق سے محقق تر بنا دیتے ہیں۔ وہ اضافی سمسٹر پہ سمسٹر ڈال کے ایسے ناہنجاروں کے سوال کرنے والی زبان کی کھچڑی بنا دیتے ہیں۔

 

البتہ معدودے چند اساتذہ نا جانے کہاں سے بھٹکے ہوئے اس سوال کُش ماحول میں پہنچ آتے ہیں۔ اگر ایسی نایاب النّوع ہستیاں بعض اوقات سوال کی آزادی کا نعرہ بلند کرنا بھی چاہتی ہیں تو ان کے لیے بھی کریکولم کے زندان تیار ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں وفاقی وزارتِ تعلیم کے کریکولم ونگ کے خلافتی پِچھل پیرے، آبپارہ کی تیار کردہ ہمدرد کی گُھٹی پہ پلے، ملّا کے جمعے کے خطبے پر پرورش پائے، احمد قریشیوں، مبشر لقمانوں کے متعفن پانیوں کی دانش کے نہلائے نصاب یوں پکڑا دیا جاتا ہے گویا یہ نصابی کتب نہیں آسمانی صحیفے ہوں۔ یہ نصاب صرف جواب رٹنے کا تقاضا کرتا ہے۔ سوال بھی خود ہی فراہم کرتا ہے اور جوابوں کا دائرۂِ کار تو رکھتا ہی اپنی بغل میں ہے۔
ان نصابی صحیفوں کی حقانیت پہ، ان کی پاکیزگی پہ، آسمانوں سے اترے ہوئے ہونے پہ کوئی سوال نہیں ہو سکتا۔ اگر سوال کر ڈالا تو گویا انہیں بھی پچھلی قوموں جیسا نافرمان قرار دے دیا جائے گا کہ تحریف کر دی کلامِ کریکولم میں! ہمیں ہر لمحے یہی خدشہ لاحق رہتا ہے کہ ایسے سُچے موتیوں کے حلق میں بھی سقراط کے پیالے سے بچی زہر ابھی آئی کہ ابھی آئی۔ لیکن ان نئے زمانوں کے سقراط کُشوں نے عجب زہر پیالے بنا لیے ہیں جو جان جلدی نہیں نکالتے بلکہ سسکیوں کی فصل بوتے ہیں۔

 

اور ہمارا سیاستدان طبقہ جو کہ میری دانست میں تو عوامی استاد کے رتبے پر ہی فائز ہوتا ہے، کیوں کہ اس کا بھی بڑا اہم کردار ہوتا ہے سوال اٹھانے، سوال کرنےاور سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے کلچر کو عام کرنے میں۔ لیکن ہمارے یہاں جو سیاسی جماعتوں کی مجالسِ عاملہ، مجالسِ شورٰی اور کور کمیٹیوں کے اجلاس ہوتے ہیں ان کی فضا بھی کور کمانڈروں کی میٹنگ جیسی ہی ہوتی ہے۔ یعنی جو کچھ بولے گا، جو کچھ ارشاد کرے گا اس کا ادھیکار صرف پارٹی باس کا ہی ہوگا۔ اگر کسی نے سوال کرنے کی جسارت کی تو اگلی بار کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ سے ایسے محروم کر دیا جائے گا، جس طرح گاؤں میں چھوٹے بچے کے ہاتھ سے کوا روٹی کا ٹکڑا اُچک کے بھاگ کھڑا ہوتا تھا۔

 

ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں کی مجالسِ عاملہ، مجالسِ شورٰی، اور کور کمیٹیوں کے اجلاسوں کی فضا بھی کور کمانڈروں کی میٹنگ جیسی ہوتی ہے۔ یعنی جو کچھ بولے گا، جو کچھ ارشاد کرے گا اس کا ادھیکار صرف پارٹی باس کو ہی ہوگا
سو سیاستدانوں کا استاذالاستاذ یعنی پارٹی چیئرمین سوال کی بہار میں کِھلی کونپل کو ایک جنگلی بکری کی طرح چر جاتا ہے۔ یہیں سے، اسی سوال کُش رویہ سے سماجی تیز طراروں کو کامیابی کے ہنر کا نسخہ ہاتھ لگ جاتا ہے۔ انہیں اطلاقی تعلیم مل جاتی ہے کہ: چپ رہو، ہاں ہاں بولو اور ثواب و ثمرِ دو جہاں پاؤ! یہی رویہ معاشرے کے زیریں اکائیوں کی سیڑھیوں تک نفوذ کر جاتا ہے۔ اور سوال کرنے کا حوصلہ سیدھے لفظوں میں جیسے رضائے الٰہی سے انتقال کر جاتا ہے۔

 

صحافت کی درسی کتابوں اور صحافتی تاریخ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ کام ان لوگوں نے شروع کیا جنہیں کچھ کہنے کی تڑپ ہوتی تھی، جن کے اندر کچھ سوال مچل رہے ہوتے تھے اور وہ مزید سوال اٹھانا چاہتے تھے۔ وہ مشکلوں سے اخبار نکلواتے، اپنے پمفلٹ چھپواتے۔ ان میں خیال اور پیغام خطیبانہ اور ادیبانہ ڈھنگ میں ہوتا، یوں ہی لفظوں کی گھومن گھیریاں ڈال کے، بے جَڑ کی کہانیاں جوڑ کے کالم ٹوئیاں نہیں کرتے تھے۔ زبان میں سادگی، بے ساختگی اور خوبصورتی ہوتی جو ان کی ادبی وراثت اور مطالعہ کی دین ہوتی۔ وہ اپنے مقصد کی خاطر مشکلیں جھیلتے۔ وہ اپنے پہ اٹھنے والے سوالوں کو نئی تحریروں کےلیے مہمیز سمجھتے۔

 

لیکن اب کے ہمارے ملک کے میڈیائی ساون نے ہر نرگسیت کے مارے کو نیوز ریڈر اور اینکر بننے کا شوق ڈال دیا ہے۔ اب صحافت ان گروؤں اور میگزینوں کے پیج تِھری کے شوقین لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے (ماسوائے چند ایک کو چھوڑ کے) جن کی جانے بلا کہ یہ صحافت بیچاری کیا چیز تھی۔ نتیجہ ہے کہ معصوم صحافت ہے جو اب ان کے ذوق خود نمائی کی لونڈیِ محض بن گئی ہے۔

 

تو ہوا کیا؟ آپ ان کے شوبز ٹائپ نیوز پروگرام دیکھیے؛ کوئی حقیقی سوال نہیں ملے گا اور آگے بیٹھے جواب دینے والے بھی کمال کرتے ہیں۔ وہ بھی کوئی جواب نہیں دیں گے بلکہ آپ کو لگے گا کہ بس لفظوں کا بے لذت کاروبار ہورہا ہے۔ دو بانجھ لوگ محبت کے رومان کے ثواب کے تصور میں جھوٹے ملنگ بنے ہوتے ہیں۔ افسوس کہ یہ عشق افلاطونی کاروبار بھی نہیں ہوگا۔ بہتوں کو دیکھ کے ٹی ایس ایلیٹ کا لازوال نظمیہ کردار پرُفراک بہت یاد آتا ہے۔ اسی کی ایک اور نظم دِی ہالو مین میں شیشوں کی کرچیوں پہ دوڑتے چوہے یاد داشت میں پھرنے لگتے ہیں۔

 

سوال پہ پہرہ دماغ پہ پہرہ ہے۔ اور دماغ پہ پہرہ تخلیق پہ پہرہ ہے۔ سو پورے معاشرے کے لیے عمومی اور اشرافیہ کے لیے خصوصی طور پر سوال سے ڈرنے کی نفسیات پہ قابو پانا ضروری ہے بشرطیکہ اگر ہمیں کچھ تازہ ہوا چاہیئے اور ہم دانش پہ براجمان طوطوں کی فیملی پلاننگ کرنا چاہتے ہیں
سو جناب، صحافی جس نے بڑے سوال کھڑے کرکے عوامی سطح کی تعلیم کا مقدس فریضہ نبھانا تھا اب محض رنگ برنگے لباسوں کی گُڈی گُڈے کا کھیل کھیلنا اور سیلفیوں کی جاگیر کا اکیلا وارث بن جانا اپنا وظیفہ قرار دے چکا ہے۔ اب چونکہ قبلہ خود سوال کرنا بھول چکے ہیں تو حضرت سوشل میڈیا پہ اپنی ذات پہ اٹھنے والے سوالوں کا جواب دوسرے بندے کو بلاک کر کے دیتے ہیں۔ اگرچہ یہاں یہ کہنا بہت ضروری ہوگا کہ کچھ سوشل میڈیائی برقہ آئی ڈی والے بھی تو گالی کو سوال کا قائم مقام بنانے سے باز نہیں آتے۔ ایک طرح سے تو ایسے گوریلے سوال کی حرمت کو تارتار کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف دیکھیں تو قصور ان کا بھی اتنا زیادہ نہیں۔ جب آپ معاشرے میں طاقتور کے بیانیے اور یک طرفہ تقریر کی گھٹن پیدا کر دیں گے تو ذہنی و نفسیاتی کمزور لوگوں کا غصہ گالی کی صورت میں پھٹنے کا ناپسندیدہ لیکن جبری ردعمل ظہور پذیر ہو جائے گا۔

 

پس سوال پہ پہرہ دماغ پہ پہرہ ہے۔ اور دماغ پہ پہرہ تخلیق پہ پہرہ ہے۔ سو پورے معاشرے کے لیے عمومی اور اشرافیہ کے لیے خصوصی طور پر سوال سے ڈرنے کی نفسیات پہ قابو پانا ضروری ہے بشرطیکہ اگر ہمیں کچھ تازہ ہوا چاہیئے اور اگر ہم دانش پہ براجمان طوطوں کی فیملی پلاننگ کرنا چاہتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

Our Obsolete Education System – A Personal Experience at the University of Karachi

Within our society, youngsters start to work very early without knowing how to define their career path. Education does not provide orientation to young aspiring professionals but emphasizes the idea that the primary goal is a degree with which they can apply for a decent job in order to earn money for the everyday spending. This obsolete system hasn’t changed since decades, still offering old syllabi to students in public schools and colleges. As far as the common man is concerned the quality of education seems to be the least important point. However, even the so called front runners in the education system do not challenge or try to change it over time – A fact that results in a poor educational framework which is only emphasizing recitation in order to pass the exams and get a degree.

Personally, I’m one of those youngsters described above who started to work very early in life and thus couldn’t complete their master studies. After the years passed by and I acquired a senior position in a local organization, I deliberated about whether I should enroll myself at the University of Karachi within the Public Administration Department for a Masters of HRM. My objective behind it was to gain greater knowledge about my working field, learn new tools and techniques of HRM and at last get a degree as well.

So finally my classes started in September 2013. Being the only one with more than 15 years of working experience in my class, I realized that the teachers didn’t provide anything useful for today’s market demand and only repeated what had been taught in the past years. They weren’t ready to change because of their lack of exposure to practical life while I was aware of the demands of the corporate world.

The utterly pathetic and obsolete educational system that only required the students to recite, pass and get the degree without the acquisition of new skills or corporate norms frustrated me the most. Therefore, I decided to leave the University of Karachi because my aim was not only to get a degree but to learn.

Old books and obsolete theories were the epitome of their teaching. Particularly the class participation was held at a bare minimum and instead teachers delivered their whole lectures without any break, not interacting or motivating the students to participate. The general perception of the students was similar: they just wanted to get the attendance in the classes in order to pass and achieve the next semester. Moreover, most of the teachers were members of the permanent faculty and thus didn’t even bother to give classes regularly. Instead of classes the students had time to wander around the campus, sit at a tea shop or drive the long way back home.

So while I was studying at the University of Karachi I didn’t get to know the experienced and qualified faculty people were talking about. Instead I was disappointed by the casual teaching style, the regular absence of the teachers, the lackluster administration of the department and the class rooms. But especially the utterly pathetic and obsolete educational system that only required the students to recite, pass and get the degree without the acquisition of new skills or corporate norms frustrated me the most. Therefore, I decided to leave the University of Karachi because my aim was not only to get a degree but to learn.

With all respect, teachers like Dr. Abuzar Wajidi, Dr. Shabib, Dr. Balouch and others are not fulfilling the modern educational standards which should prepare and enable young professionals for the real and cruel challenges of the corporate world. I’m aware of the fact that certain limitations exist when it comes to government institutions but nevertheless it should not prevent teachers and the mentioned individuals to impart quality education based on the demands of the current job market. I’m of the opinion that these educated people should finally realize the time they are living in and learn new teaching techniques and tools to train young professionals so they can become the leaders of tomorrow.


Categories
نقطۂ نظر

Manufacturing Zombies

manufacturing-zombies-2By Waseem Altaf

Writing textbooks for students who are in a formative stage of their lives is serious business. Errors and omissions on the part of the writers, due to ignorance or self-complacency, are pardonable and can be corrected. However, when textbooks are written with the express aim of misguiding pupils and indoctrinating adherence to the status quo – support for the regime in power, glorification of war, self-righteousness, hatred for other religious and ethnic groups – it becomes a criminal act where an entire generation is spoiled at the altar of vested interests of the powerful few. Furthermore, the ability to ask questions, which lies at the core of the learning process, is throttled by discouraging students from challenging dogmas and conventional views. This strain of malicious intent is particularly visible in social sciences in Pakistan where disinformation is deliberately disseminated.

The entire process of writing textbooks is closely monitored by the state, whereby government employees write books that are approved by the Ministry of Education and then published by the Textbook Boards. Hence there is no room for any deviation from the ‘official version’. During Zia’s 11 years of infamy, the name of Zulfiqar Ali Bhutto was omitted from the textbooks, while the same texts were all praise for Zia, extolling him as a pious man chosen by God to make Pakistan a fortress of Islam. Pakistani textbooks are also notably silent when it comes to the detrimental aspects of military rule, although there is ample criticism of the democratic system. There is virtually no content pertaining to civic virtue and education in democracy.

There is also far more material on the reasons and outcomes of wars with India than on the constitution, issues of governance, political economy, society and culture. There seems to be an implicit appreciation of violence and wars as a means to resolve international issues, and the significance of national security and the pivotal role of the armed forces is constantly highlighted.

India and the Congress are made synonymous with Hinduism, whereas there is no mention of the fact that there are more Muslims in India than in Pakistan and seven Presidents of the Indian National Congress were Muslims. Facts are also twisted about the Mutiny of 1857, which was an Indian war of independence rather than some sort of a ‘jihad’ undertaken by the Muslims alone.

The education system as a whole discourages critical thinking, since challenging what is written in the textbooks is not allowed. Instead, the main concern is for students to attain maximum marks. Hence the teachers and pupils are primarily focused on adopting strategies which ensure high grades. Rote memorization is one common tool. Our students get so used to it that even while appearing for the CSS exam you find them mugging. The situation is so grim even at university level that teachers who try to impart knowledge and invoke independent reasoning are disliked by most of the students, while those who tell them which questions to prepare for the exams (along with the answers) are the most revered ones. In South Punjab, university teachers considered going on strike when they were asked by the Vice Chancellor to conduct research. ‘Notes’ are the most prized item and the common denominator which binds all stakeholders in the system of education.

In the absence of cognitive development at the abstract level, dogmas and clichés are what we are left with to offer. When we fail to critically appreciate a phenomena due to lack of an adequate reasoning ability we replace it with high sounding words, slogans, and boastful pretentions, that are totally devoid of any substance. All this is couched in high emotionality, which further incapacitates us to think critically. Hence we transform into living beings with little thinking and high emotions.

And such individuals are the product our education system is bestowing upon this nation. Just look at some members of our academia, our men of letters, our politicians, our judges, our media persons, the generals and the mullahs, all weary of rational thinking, not only charged with emotions but also displaying arrogance and self-righteousness. Intolerance is the natural consequence which today is so pervasive in our society.

Schools are the nursery of the nation, and as long as we do not replace the contents of our textbooks by setting aside our vested interests, by being honest and truthful and portraying the facts and not concocted stories, we will not be able to produce useful members of civic society who are creative, innovative and productive, with a scientific approach towards their discipline and towards life. However if we fail, the alternative is too horrifying to contemplate in a society which is already breeding intolerance at an alarming rate.

(Waseem Altaf is a human rights activist.)

 

(Published in The Laaltain – Issue 7)