Categories
نقطۂ نظر

ماضی کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا ہو گا

مترجم: ظاہر کریم

 

یہ وہ وقت نہیں کہ جب ماضی کی مایوسیوں اور غلطیوں کو مستقبل پر حاوی ہونے دیا جائے۔ آج آگے بڑھنے کے لیے موزوں لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اس سوال کا جواب کہ بلوچ کون ہیں؟ ان کے تاریخی پس منظر اور ورثے کے حوالے سے دینے کی بحث بے کار ہے۔ برطانوی راج سے آج تک اس خطے میں سب سے زیادہ قہر بلوچوں پر ہی ڈھائے گئے ہیں۔ نوآبادیاتی دور کے یہ مصائب ان پر برطانوی کالونی کے طور پر بھی روا رکھے گئے اور بعد ازاں پاکستان کے زیرتسلط آنے کے بعد بھی یہی نوآبادیاتی نظم برقرار رہا۔ کون اس کا ذمہ دارہے اور کسے قصوروار ٹھہرایا جائے یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔

 

قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں کوئی نظم و نسق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کوئی بنیادی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا، اور کم و بیش یہی صورت حال آج بھی ہے۔
انگریز دور سے ہی بلوچوں کو ترقی کے عمل سے محروم رکھا گیا ہے، ترقی سے محرومی کا یہ عمل صدیوں پر محیط ہے۔ نتیجتاً قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں کوئی نظم و نسق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کوئی بنیادی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا، اور کم و بیش یہی صورت حال آج بھی ہے۔ یونیورسٹیاں تو دور کی بات کوئی تعلیمی ادارہ موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ عوام کی شرح خواندگی (اس وقت) نہایت غیر تسلی بخش تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں فوج اور افسر شاہی میں بلوچوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اسی پس منظر میں بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا۔ ان حالات میں پاکستان میں شمولیت کے بعد پیش آنے والے مصائب اس وقت کی صورت حال کا فطری اور لازمی نتیجہ ہیں۔

 

گزشتہ 68سالوں میں بلوچوں کے لئے کچھ نہیں بدلا، کیونکہ وہ خود کو پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے ساتھ مربوط نہیں کر سکے۔ ایک بار پھر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس بارے میں بھی یہ بحث بے سود ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ وقت جو کچھ ہوا اس پہ رونے کا وقت نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ یہ وقت نہیں کہ ماضی کی کوتاہیوں کو مستقبل کا تعین کرنے کا موقع دیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غلطیوں کا اعتراف کرکے وہ حاصل کیا جائے جو اب تک حاصل نہیں کیا جا سکا۔

 

بلوچستان میں رہنے والے بلوچوں سے متعلق مستند اعدادوشمار دستیاب نہیں۔ بہرطور بلوچوں کی تعداد رقبے کے اعتبار سے کم ہے۔ مبینہ طور پر بلوچ ایک جانب افغان مہاجرین کی وجہ سے اور دوسری طرف پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد آباد کاروں کی آمد سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی کے ہاتھوں سیاسی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بلوچوں کو ، ابھی یا کبھی نہیں کی صورتحال کا سامنا ہے، اور اپنی بقاء کے لئے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہے۔

 

ایک جانب بلوچ افغان مہاجرین کی وجہ سے اور دوسری طرف پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد آباد کاروں کی آمد سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی کے ہاتھوں سیاسی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بلوچ اب عملیت پسند اور حقیقت پسند طرز فکر اور طرز عمل اختیار کریں۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں اس عملیت پسندی کی تعریف کئی طرح سے کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے شدید اختلاف رائے پیدا ہونے کا بھی امکان ہے، لیکن اس کے سوا کوئی اور معقول راستہ (چارہ) نہیں۔ یہاں عملیت پسند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں حقیقت اور تبدیلی کو مانتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ انہیں ملک کی موجودہ انتظامی اور وفاقی ڈھانچے میں رہتے ہوئے اپنی تعلیمی قابلیت اور سیاسی شعور میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ وہ اپنے سیاسی حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔

 

اس بحث میں ایک اور اہم پہلو موجودہ بلوچ جدوجہد کے اہداف کی نوعیت کا تعین ہے۔ موجودہ صورت حال میں ناقابل حصول اہداف کا تعاقب نہ صرف جدوجہد کرنے والے افراد بلکہ پوری قوم کے نقصان کا باعث ہو گا۔ اس لئے دانائی اسی میں ہے کہ ایسی ناقابل حصول منزل کا راستہ چھوڑ کر اور ان حقوق کے لئے جدوجہد کی جائے جن کا حصول عملاً ممکن ہے۔ بلوچ جدوجہد اگر اپنا نظریاتی قبلہ تبدیل کر لے تو اسلام آباد کے لیے بلوچوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔

 

علاوہ ازیں، گزشتہ ایک دہائی یا اس سے زائد عرصے کے دوران بلوچ نوجوانوں نے جن وجوہ کی بناء پر شدت پسند قوم پرستی اختیار کی وہ اپنی جگہ درست نہیں۔ ان وجوہ پر بحث کی جا سکتی ہے جن کی بناء پر بلوچ نوجوان یہ رویہ اپنانے پر مجبور ہوئے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ انتہا پسندانہ طرز عمل ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ بہت سے قیمتی انسان جو اس معاشرے کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے تھے اسی انتہا پسندی کے نتیجے میں مارے گئے۔

 

دانائی اسی میں ہے کہ ایسی ناقابل حصول منزل کا راستہ چھوڑ کر اور ان حقوق کے لئے جدوجہد کی جائے جن کا حصول عملاً ممکن ہے۔
ماضی کے غلطیوں سے سیکھ کرانہیں آئندہ دہرانے سے بچنے کا یہ ایک شاندار موقع ہے۔ یہ وقت کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے اور اس قوت کو پورے معاشرے کی خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کا ہے۔ بلوچ گزشتہ سات دہائیوں سے مصیبت زدہ ہیں اور ابھی تک پسماندہ ہیں۔ لیکن ان مصائب کے ہاتھوں وہ معاشی و سماجی اعتبار سے بہت باشعور ہو چکے ہیں اور اس شعور کو وہ اپنی طاقت بنا سکتے ہیں۔ وہ اس طاقت کے ذریعے ماضی میں روا رکھے جانے والے ظلم اور زیادتی سے آنے والے وقتوں میں خود کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

 

قدرت نے انہیں بے پناہ وسائل اور جغرافیائی طور پر اہم زمین سے نوازا ہے۔ بلوچستان کے جغرافیے کی سیاسی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بلوچستان مسخر و غیر مسخر معدنی وسائل کے خزانوں سے مالا مال ہے، جو اسے دنیا کے امیر ترین خطوں میں سے ایک بناتا ہے۔ اگر بلوچ اپنے حقوق کے حصول کے لئے صحیح راستہ اختیار کریں تو کوئی بھی انہیں قدرت کے ان عطیات سے محروم نہیں کر سکتا۔

 

بلوچوں کی جانب سے اپنی جدوجہد کے لیے صحیح سمت اختیار کرنے کے بعد دیگر تصفیہ طلب امور کا حل دشوار نہیں ہو گا۔ اس کے بعد عام بلوچ کے استحصال پر پلنے والی بلوچ اشرافیہ کے قبائلی ظلم و ستم اور معاشی بدعنوانی سے نجات زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔

 

حقیقت پسندی کے برعکس اگر مثالیت پسند بلوچ فکر اختیار کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ اس صورت میں بلوچوں کو ایک طرف جغرافیائی تبدیلی اور مذہبی انتہا پسندی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا تو دوسری طرف بلوچ اشرافیہ عام بلوچوں کے استحصال سے اپنی جیبیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

The Balochistan Conundrum

The horrific killing of at least 14 people – mostly comprising police personnel guarding a team of polio workers in Quetta – has marked another atrocity in the already troubled Balochistan province. While this isn’t the first or only terrorist attack on polio workers, it has caused considerable waves of fear and dread among the people of the city. These killings occurred just two weeks after the Pathankot Airbase attack by a Pakistan-based militant group, and have led to the usual conspiracy theories that India is once again angling to destabilise Pakistan. In fact, the case seems to be completely the opposite.

These killings occurred just two weeks after the Pathankot Airbase attack by a Pakistan-based militant group, and have led to the usual conspiracy theories that India is once again angling to destabilise Pakistan.

The TTP claimed responsibility for the attack soon after, with the aim of disrupting the polio mission. The brutal terrorist organization seems to be focusing on Balochistan to undertake its misguided ideological activities. Indeed, the attack seemed to have been orchestrated to convince the so-called political elites to disrupt and re-route the China Pakistan Economic Corridor (CPEC) due to the law and order situation.

The CPEC will provide the opportunity to develop western routes; to establish industrial zones, construct roads, install railway tracks, fiber optics and gas pipelines, all of which will help alleviate the grievances of the people of Balochistan. The people have long been plagued by poverty, illiteracy, lawlessness, military intervention, sectarianism, and the latest separatist insurgency.

So how can the federal government overcome the incompatible views and grievances of the people of Balochistan, who have suffered so greatly? The CPEC was a step in this direction; many in the province were happy in the early days of the project, when it was signed between Pakistan and China. However, today the hope and happiness of the local Pashtun and Baloch seem to be diminishing due to the antagonistic and biased attitude of the central government.

Furthermore, the inept Pashtun and Baloch nationalist leadership has failed to secure their basic rights from the state. Consequently, the resource-rich province of Balochisan has suffered economically, politically, and socially.
The conflict in Balochistan first began in 1948, in response to the activities of the Pakistan army, and from 1948 to 2005 the army has interfered numerous times in the province. The tension escalated considerably after the killing of Baloch leader Nawab Akbar Khan Bugti, which served to aggravate grievances even further.

The inept Pashtun and Baloch nationalist leadership has failed to secure their basic rights from the state. Consequently, the resource-rich province of Balochisan has suffered economically, politically, and socially.

Moreover, the ‘fifth war of independence’ (as the Baloch claim) turned into a full–fledged insurgency in which thousands of Baloch political activists and students lost their lives. The state policy of disappearances, killings for ransom, and dumping the mutilated bodies of abducted Baloch students and political activists have ghettoized the ‘Baloch nation’. Consequently, multifarious separatist organizations were formed as a result of these atrocities, including BLA, BLF, LeB, UBA and others.

In addition, one of the biggest challenges facing Balochistan is the influx of millions of Afghan refugees, who came in the 1980s and in the wake of the 9/11 attacks. The is also having an adverse impact as thousands of seminaries have been constructed near refugee settlements and the local people have been marginalized. These places are now known as some of the most effective hide-outs for Afghanistan and Pakistan-based militant and sectarian outfits.
To sum up, the gruesome killings of police in Quetta city recently has been yet another cause of fear and dread for ordinary people. The already ostracized province has been deprived of its rights as well as the CPEC project. These developments seem to spell even more violence and chaos for Balochistan in the days to come.

Categories
اداریہ

مسیحا کا قتل

[blockquote style=”3″]

مدیر کے نام خطوط قارئین کی جانب سے بھیجے گئے خطوط پر مشتمل سلسلہ ہے۔ یہ خطوط نیک نیتی کے جذبے کے تحت شائع کیے جاتے ہیں۔ ان میں فراہم کی گئی معلومات اور آراء مکتوب نگار کی ذاتی آراء اور ذمہ داری ہیں جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی قسم کی غلط بیانی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔

[/blockquote]

letters-to-the-editor-featured15دسمبر 2015ء آواران کی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کر گیا، ایک عظیم انسان تحصیل جھاؤ کو لاوارث چھوڑ گیا۔ ایک ایسا انسان جسے ابھی بہت کچھ کرنا تھا، ابھی اسے اپنی ذمہ داری بہت عرصے تک نبھانا تھی لیکن انسان دشمن قوتوں نے اس سے مزید زندہ رہنے کا حق چھین لیا۔ اس شام جب وہ خدمت کا قرض ادا کرکے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو درندوں نے اپنی درندگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی تھی۔ وہ گھات لگائے بیٹھے تھے۔ اچانک فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھتی ہے، زمین تڑپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور آسمان تھرا اٹھتا ہے۔ گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو کر اس کی روح کو جسم سے الگ کر دیتی ہیں۔ پورا جھاؤ خاموش ہو جاتا ہے۔ زمین خون سے نہلا جاتی ہے۔ آسمان سسکیاں لینے لگتا ہے۔ درندے اپنا کام کر چکے ہیں۔ وہ پورے جھاؤ کو للکارتے ہوئے اپنی پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ اپنی منزل پر پہنچ کر فتح کا جشن منانے کے لیے انسانیت کش نعرے لگاتے ہیں۔

 

لیکن اگلے ہی دن ان کا یہ جشن ان کی صفوں میں ماتم بن کر پھیل جاتا ہے جب سرزمینِ جھاؤ اس عظیم انسان کی عظمت کی گواہی دیتی ہے۔ آج تک آواران میں شاید ہی کسی کے جنازے میں انسانوں کا ایسا انبوہ شریک ہوا ہو۔ وہی عید گاہ جو عیدین کے موقع پر خالی صفوں کی شکایت کرتی ہے آج اس عید گاہ میں پیر رکھنے کا جگہ بھی نہیں تھی۔ شہید کا خون اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ انسانیت جیت گئی اور درندگی کوشکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ جنازے میں شریک مجھ سمیت ہر شخص کے آنکھوں سے بہتے آنسو اس بات کی گواہی دینے کے لیے کافی تھے کہ انسانیت کبھی بھی مات نہیں کھا سکتی، شکست تو ان کا مقدر ہے جو انسانیت دشمن ہیں، جو نفرتوں کے سوداگر ہیں اور جنازوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ جنازے میں شریک ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر لب پر درندوں کے لیے بدعائیں تھیں۔ انسانیت دشمن عناصر ہار چکے تھے گو وہ ابھی اپنی شکست تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں لیکن انہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جیت نہیں سکے۔

 

مجھے آواران کا زلزلہ 2013ء اب بھی یاد ہے جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ آواران کے متاثرہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت میں کوشاں رہے۔ چوبیس گھنٹوں میں 4گھنٹے آرام کیا کرتے تھے اور باقی 20گھنٹے ان انسانوں کی فلاح میں مصروف رہے جنہیں ان کی ریاست نے بیرونی طبی امداد سے محروم کر دی تھا
ایک ایسے معاشرے میں جہاں ڈاکٹر بڑے شہروں، بڑے ہسپتالوں او ر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں ڈاکٹر شفیع جان بلوچ نے آواران جیسے پسماندہ علاقے میں رہنے کا فیصلہ کیا مگر بلوچستان کے حالات ان کی جان لینے کا باعث بن گئے۔ میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا اور بہت ہی قریب پایا۔ ایک ایسا انسان جس نے انسانیت کی خدمت اپنے زندگی کا نصب العین بنا لیا، پھر اسی پر کاربند رہا اور جنون کی حدتک اس کا حق ادا کیا۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن جو قرض مجھ پر ان کی خدمات بیان کرنے کا ہے وہ تمام عمر ادا کرتا رہوں گا۔

 

ڈاکٹر شفیع بلوچ ایک خاص فکر، سوچ اور کردار کے مالک تھے۔ انہوں نے بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرکے ایک ایسے علاقے کا انتخاب کیا جہاں کوئی بھی ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں تھا۔ ڈاکٹر صاحب خود ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے لیکن انہوں نے اس مرض کو اپنے فرض کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے دیا۔ اپنی ان تھک محنت سے وہ جھاو میں برسوں سے خالی اس خلا کو پر کرنے میں کامیاب ہو گئے جو یہاں کے لاچار اور بیمار انسانوں کے لیے ایک مصیبت تھا۔ میں نے بہت سے ڈاکٹر دیکھے ہیں لیکن شاید ہی ڈاکٹر شفیع جیسا کوئی لعل کسی ماں نے جنا ہو گا۔ انہوں نے کبھی بھی مال و متاع کی تمنا نہیں کی۔ وہ جھاؤ کے عوام کی نہ صرف اپنے شعبے کی حد تک خدمت کرتے رہے بلکہ ایک سماجی رہنما بھی تھے۔ وہ انسانیت کا کام بلا غرض و لالچ انجام دیا کرتے تھے۔ میں کبھی کبھار ان سے کہتا تھا کہ کوئی کلینک کھول لیں کب تک لوگوں کا مفت علاج کرتے رہیں گے۔ ان کا جواب ہوتا تھا کہ مجھے انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے تسکین ملتی ہے۔

 

میں نے ایسے مریض بھی دیکھے جن کے پاس دوائیوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ اپنی جیب سے ان کے دوائیوں کا بندوبست کیا کرتے تھے۔ مجھے اس انسان میں کبھی فرشتوں کا روپ نظر آیا تو کبھی نور الِہی۔ اس نے کبھی بھی مال و دولت کو اپنی کمزوری نہیں بنایا یہی وجہ تھی کہ کئی بڑے ہسپتالوں سے ہونے والی پیشکشیں ٹھکرا دیں۔ ڈاکٹر صاحب نہ دولت کے انبار جوڑ سکےاور نہ اپنا کچا مکان پکا کر سکے۔ میں نے ڈاکٹر برادری کو بڑے بڑے عہدوں کی خواہش کرتے، اونچے اونچے مکان بناتے، VIPگاڑیاں خریدتے، دیہی زندگی کو مسترد کرکے شہروں میں بستے ہوئے دیکھا ہے لیکن ڈاکٹر شفیع کو میں نے سب سے الگ دیکھا، میں نے اسے ہر وقت انسانوں کے دل جیتتے دیکھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ لوگوں کو اس سے لگاؤ تھا اور اسے انسانیت سے۔ انسانیت دشمنوں کو ایسے انسان کہاں گوارا ہوتے ہیں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو شہید کر دیا۔ پورے جھاؤ کو یتیم خانے میں تبدیل کردیا۔ اس یتیم خانے میں بڑے، بوڑھے، بچے، مرد سب شامل تھے۔

 

ایک ایسے معاشرے میں جہاں ڈاکٹر بڑے شہروں، بڑے ہسپتالوں او ر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں ڈاکٹر شفیع جان بلوچ نے آواران جیسے پسماندہ علاقے میں رہنے کا فیصلہ کیا مگر بلوچستان کے حالات ان کی جان لینے کا باعث بن گئے۔
مجھے آواران کا زلزلہ 2013ء اب بھی یاد ہے جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ آواران کے متاثرہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت میں کوشاں رہے۔ چوبیس گھنٹوں میں 4 گھنٹے آرام کیا کرتے تھے اور باقی 20گھنٹے ان انسانوں کی فلاح میں مصروف رہے جنہیں ان کی ریاست نے بیرونی طبی امداد سے محروم کر دیا تھا۔ وہ لوگوں کے دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ انسانیت کے لیے بنے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے پاس ہمہ وقت میلہ لگا رہتا تھا۔ وہ اپنی اس زندگی سے خوش اور مطمئن تھے۔

 

گھر سے ہسپتال پہنچنے پہنچتے انہیں دو گھنٹے لگتے تھے۔ یہ دو گھنٹے بھی انسانی خدمت کی انجام دہی میں گزرتے تھے۔ راستے میں کوئی روک لیتا تو نہ نہیں کرتے تھے، اس کے گھر جاتے پورے محلے کے مریض جمع ہوتے سب کا علاج کرتے لیکن تھکاوٹ کو انہوں نے کبھی خود پرغالب نہیں آنے دیا۔میں کبھی تنگ آکر کہتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کے ساتھ سفر کرنا بڑا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ وہ اس بات کو مسکرا کر ہنسی میں اڑا دیتے۔ یہ مسکراہٹ میں نے آخری دیدار میں بھی ان کے چہرے سے عیاں دیکھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ایک پھول سا چہرہ مسکرا کر کہہ رہا ہو کہ میں امر ہو گیا۔

 

واقعی ڈاکٹر شفیع بلوچ امر ہوگئے۔ لیکن جاتے جاتے اپنے جانے کا دکھ اور اپنی یادیں ہم سب کے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے پیوست کر گئے۔ وہ ایک پھل دار اور سایہ داردرخت کے مانند تھے جو تپتے، دہکتے آواران کے لوگوں کو پھل اور سایہ دیتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے یک لخت کاٹ دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے خون نے زمین پر پڑتے ہی یہ اعلان ضرور کیا ہوگا کہ انسانیت کبھی ختم نہیں ہوتی، جب تک اس زمین پر انسان باقی ہیں ڈاکٹر شفیع بلوچ جیسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گےاور انسانیت کی فلاح کا مشن جاری رہے گا۔

 

ڈاکٹر صاحب جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوگئے لیکن روحانی طور پر اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہم جب بھی انسانیت کا پرچار کریں گے درندگی کو شکست ہوتی رہے گی اور ڈاکٹر صاحب کی روح کو سکون ملتا رہے گا۔

 

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا
یہ مٹی تم کو پیاری تھی
سمجھو مٹی میں سلا دیا
Categories
نان فکشن

بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: یوگینا وینا سیاسی حمکت عملی کی طالبہ ہیں اور مروجہ بیانیے سے انحراف کی قائل ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی اخبار دی نیشن کی ویب سائٹ پر 5 دسمبر کو شائع کیا گیا جسے اردو میں ترجمہ کر کے لالٹین پر پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے پر مشتمل صوبہ ہے جس کی سرحد مغرب میں افغانستان اور ایران سے ملتی ہے اور جنوب میں بحیرہ عرب سے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ پاکستان کے تقریباً پچاس فی صد کے برابر ہے جہاں پاکستان کی آبادی کا محض 3.6 فی صد حصہ مقیم ہے۔ بلوچستان تیل، گیس، تانبے اور سونے سمیت قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں پینے کے پانی اور بجلی جیسی سہولیات بھی میسر نہیں۔

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔
گریفٹی- سمتھ کے 17 اکتوبر، 1947 کوبھیجے گئے ایک تار میں پاک- قلات مذاکرات سے متعلق ایک یادداشت کے مطابق جناح قلات کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے دو دلی کا شکار تھے، اور اب پاکستان میں شامل ہونے والی دیگر ریاستوں کی طرح قلات کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔ اسی یادداشت میں قلات کی دو جاگیروں لسبیلہ اور خاران کے پاکستان سے الحاق کی صورت میں پیدا ہونے والی دلچسپ صورتحال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
اکتوبر 1947 تک قائداعظم محمد علی جناح قلات کو ایک “آزاد اور خودمختار ریاست” کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق اپنا ارادہ بدل چکے تھے اور اب دیگر ریاستوں کی طرح خان آف قلات کی جانب سے پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کے خواہاں تھے۔ خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔ لیکن وہ جاگیر کے طور پر ملے علاقوں پر اطمینان بخش معاہدہ ہو جانے تک الحاق یا اتصال کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی حکام لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں سے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کے معاملات طے کر سکتے ہیں۔

 

فروری 1948 تک حکومت پاکستان اور قلات کے درمیان بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی۔ قائداعظم نے خان آف قلات کو لکھا: “مرا مشورہ ہے کہ آپ بلاتاخیر پاکستان سے الحاق کر لیں۔۔۔۔۔میں وعدے کے مطابق آپ کے جواب کا انتظار کروں گا جو آپ نے کراچی میں میرے ساتھ قیام اور الحاق کے تمام پہلووں پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔” 15 فوری، 1948 کو جناح نے سبی دورے کے دوران شاہی دربار سے خطاب کیا، جس کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ دو سال تک جب تک کہ پاکستان کا آئین تیار نہیں ہو جاتا، بلوچستان کی حکومت وہ اپنی نامزد کردہ ایک مشاورتی کونسل کی مدد سے خود چلائیں گے۔ تاہم اس دورے کا اصل مقصد خان آف قلات کو پاکستان کے الحاق پر آمادہ کرنا تھا۔ خان آف قلات نے ناسازی طبع کے باعث جناح سےحتمی ملاقات سے معذوری ظاہر کی۔ جناح کے نام اپنے خط میں والی قلات نے لکھا کہ انہوں نے پاکستان سے تعلقات پر ریاستی دارالعوام اور دارالامراء کی رائے جاننے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے، اور اس ماہ کے اختتام تک وہ دونوں ایوانوں کی رائے سے جناح کو آگاہ کر دیں گے۔

 

اکیس فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
21 فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ 9 مارچ 1948 کو خان آف قلات کو جناح صاحب کا پیغام ملا کہ قلات کے ساتھ وہ ذاتی حیثیت میں مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ اس حوالے سے تمام معاملات حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔ حالانکہ اس وقت تک )جناح کے ساتھ ( باقاعدہ مذاکرات کا آغاز تک نہیں ہوا تھا بلکہ جناح نے سبی میں خان آف قلات سے )الحاق کی ( محض ایک غیر رسمی درخواست کی تھی۔

 

پاکستان میں امریکی سفیر کے 23 مارچ 1948کو بھیجے گئے ایک مراسلے سے پتہ چلتا ہے کہ 18 مارچ کو،”ریاست قلات کو اجارے پر ملی خاران، لسبیلہ اور مکران کی ریاستوں نے” پاکستان سے الحاق کر لیا ہے۔ خان آف قلات نے اس الحاق کی مخالفت کی اور اسے قلات اور پاکستان کے درمیان معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاران اور لسبیلہ کی ریاستیں انہیں اجارے پر دی گئی ہیں جبکہ مکران قلات کا ایک ضلع ہے۔ تقسیم سے پہلے جولائی 1947 میں خاران اور لسبیلہ کے خارجہ امور قلات کے سپرد کر دیئے تھے۔

 

26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی (باقاعدہ) چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔ ساحلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے داخل ہونےکے بعد قلات نے 27 مارچ کو ہتھیار ڈال دیئے جبکہ کراچی میں یہ اعلان کیا گیا کہ خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جناح نے بھی بندوقوں کے سائے میں اس الحاق کو تسلیم کر لیا۔ یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے کسی بھی صورت میں بلوچستان کی آزادی کے خاتمے کی کوئی بھی تجویز قبول کرنے کا امکان رد کر دیا تھا۔ بلوچستان کی پارلیمان کی جانب سےالحاق مسترد کیے جانے کے باعث بندوق کی نوک پر خان آف قلات سے لیے گئے دستخط بھی قابل اطلاق نہیں تھے۔ ہندوستان کی آزادی سے قبل بلوچستان کے معاملات خان آف قلات کے سپرد کرتے ہوئے برطانیہ نے الحاق کا اختیار )قلات کی ریاست( کو نہیں دیا تھا۔ خود مختار بلچ ریاست برطانوی راج کے خاتمے کے بعد صرف 227 روز قائم رہی۔ اس دوران بلوچستان کا جھنڈا پاکستان میں بلوچ سفارت خانے پر لہراتا رہا۔

 

چھبیس مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔
یہ کہنا کہ بلوچوں کی زمین پر غیر قانونی اور زبردستی کیے گئے قبضے کے بعد سے پاکستانی حکومتوں اور عسکری قیادت نے بلوچوں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا زیادتی ہے۔ بلوچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے باعث یہاں علیحدگی پسند تحریکیں چلتی رہی ہیں، جن میں سے سب سے بڑی 2006 میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں سردار اکبر بگٹی اور اس کے 26 قبائلی حواریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی۔ 2006 میں کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بلاجواز گرفتاریوں، حبس بے جامیں رکھنے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، حراست کے دوران پولیس، خفیہ اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بے جااور بلاتفریق تشدد کا سامنا کرنے والوں کے اعدادوشمار پیش کیے۔ ان اعدادوشمار کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے سابق رہنمائے حزب اختلاف کچکول علی بلوچ کے مطابق جبری گمشدگان یا عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھے گئے افراد کی تعداد 4000 ہے۔ لاپتہ افراد میں ایک ہزار کے قریب طالب علم اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ حال ہی میں ان کا اپنا بیٹا چودہ ماہ غیرقانونی حراست میں رکھے جانے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ بلوچ نینشنلسٹ پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل بھی ان افراد میں شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔ درحقیقت وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک لانگ مارچ نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہیں 2008 میں رہا کیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پنجاب میں “استحکامِ بلوچستان-مسائل اور امکانات” نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پرکہا ہے کہ اگر بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کا اختیارتسلیم نہ کیا گیا تو ہم ایک اور مسلح مزاحمت دیکھیں گے جس پر کوئی بھی قابو نہیں پا سکے گا۔

 

پاکستانی عوام کے سامنے کبھی بھی بلوچستان کی اصل کہانی پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی کبھی اس پر بات کی گئی ہے۔ ہماری درسی کتب اور ذرائع ابلاغ حقیقت سے دور ایک جھوٹے بیانیے کے ابلاغ میں مشغول ہیں۔ یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسخ شدہ حقائق سے واقفیت حاصل کریں اور لوگوں تک پہنچائیں۔