Categories
نقطۂ نظر

بلوچ دانش وروں کے خلاف نئی فردِ جرم

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامہ “دی نیشن” نے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے حوالے سے 10 اکتوبر 2016 کو ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم بلوچ تنظیموں نے پروپیگنڈے کے لیے کراچی اور بالخصوص لیاری کو اپنا مرکز بنایا ہوا ہے۔ اہلکاروں کے مطابق کراچی کے بعض بلوچ اس حوالے سے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دی نیشن نے اہلکاروں کے نام ظاہر کیے ہیں، نہ ہی مذکورہ بلوچوں کے۔ اس لیے گمان غالب یہی ہے کہ یہ رپورٹ ان تمام بلوچوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو میڈیا سے منسلک ہیں اور مختلف مسائل پر اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں یا پبلشنگ وغیرہ کر رہے ہیں۔

 

اس قسم کی خبروں کی اشاعت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست بلوچوں کی آواز دبانا چاہتی ہے۔ یہ رپورٹ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ اس خبر کا کامریڈ واحد بلوچ کی جبری گمشدگی اور اس کے گرد ابھرنے والی تحریک کے پس منظر میں جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

 

بلوچ مسئلے کو اوائل سے ہی چند سرداروں کے ذاتی مفادات اور ان کے عالمی و علاقائی طاقتوں سے گٹھ جوڑ کا شاخسانہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کو دو چیلنجز کا سامنا رہا۔ ایک مذہبی شدت پسندی کا اور دوسرا بلوچ قوم پرستی کا۔ شدت پسند مذہبی تنظیموں کے حوالے سے عسکری اسٹبلشمنٹ دو واضح حصوں میں منقسم تھی، یہ تقسیم کنٹرولڈ میڈیا پر بھی منعکس ہوئی۔ یہ تقسیم اور انعکاس تاحال برقرار ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے حوالے سے عسکری اسٹیبلشمنٹ میں کوئی دو رائے نہیں پائی جاتیں اس لیے میڈیا کا غالب حصہ بھی اس موضوع پر عسکری اداروں کی سوچ سے متفق دکھائی دیتا ہے۔ بلوچ مسئلے کو اوائل سے ہی چند سرداروں کے ذاتی مفادات اور ان کے عالمی و علاقائی طاقتوں سے گٹھ جوڑ کا شاخسانہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ میڈیا پروپیگنڈے کے باعث پاکستانی عوام کی اکثریت اور بالخصوص عسکری اسٹیبلشمنٹ کی تشکیل میں مقداری و کیفیتی برتری رکھنے والے خطے، پنجاب نے وہی بیانیہ مرتب کر لیا جو مقتدرہ مرتب کروانا چاہ رہی تھی۔

 

اس صورت حال میں بلوچ دانش وروں اور اہلِ علم نے اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے لیے متبادل میڈیا کی تلاش شروع کر دی۔ روزنامہ بلوچستان ایکسپریس، روزنامہ آزادی، اور روزنامہ انتخاب سے امیدیں باندھی گئیں مگر چوں کہ ان اخبارات کو اشتہاراتی بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا اس لیے وہ کھل کر بلوچ بیانیے کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے سے قاصر رہے۔ یہاں سے ناامید ہوکر دیگر ذرائع پیدا کیے گئے۔

 

روزنامہ آساپ (مرکزی دفتر کوئٹہ)، روزنامہ استمان (مرکزی دفتر خضدار) اور روزنامہ توار (مرکزی دفتر کراچی) کا اجرا عمل میں لایا گیا۔ یہ تینوں ادارے سرکاری و ریاستی سرپرستی سے محروم تھے اور چوں کہ ان کا مطمعِ نظر کاروباری سے زیادہ مقصدی تھا اس لیے ان کو اشتہارات کے ضمن میں بلیک میل کرنا ممکن نہ تھا۔

 

روزنامہ استمان، مالی مسائل کا شکار ہوکر چند سالوں میں بند ہوگیا۔ توار اور آساپ مسلسل کام کرتے رہے۔
باقی ماندہ دونوں اداروں کو دھمکی آمیز پیغامات اور ان میں کام کرنے والے افراد پر دباو ڈال کر بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ روزنامہ آساپ تو متعدد دنوں تک فورسز کے محاصرے میں رہا۔ اس کوشش میں ناکامی کے بعد انتہائی قدم اٹھاکر روزنامہ آساپ کے ایڈیٹر ان چیف اور بلوچی زبان کے قدآور ادیب جان محمد دشتی پر کوئٹہ میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں گو ان کی جان بچ گئی مگر قاتل گولیوں نے ان کی ادارتی صلاحیت چھین لی نتیجتاً ان کی ادارت میں شائع ہونے والا روزنامہ آساپ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔

 

روزنامہ توار کا دفتر کراچی کے مصروف ترین علاقہ، آئی آئی چندرریگر روڈ کے عقب میں واقع تھا۔ پہلے دفتر کے دروازے پر موت کی دھمکی نقش کی گئی۔ جب کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو ایک دن چند اہلکار دفتر میں گھس آئے اور قتل کی دھمکیاں دے کر چلے گئے۔ خطرہ دیکھ کر دفتر لیاری کے علاقے چاکیواڑہ میں منتقل کیا گیا۔

 

روزنامہ توار کے ادارتی صفحے کے انچارج جاوید نصیر رند جو کراچی سے متصل شہر حب کے رہائشی تھے، کو ان کے گھر کے قریب سے گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا۔ چند ماہ بعد خضدار شہر کے مضافات سے ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔
روزنامہ توار کے ادارتی صفحے کے انچارج جاوید نصیر رند جو کراچی سے متصل شہر حب کے رہائشی تھے، کو ان کے گھر کے قریب سے گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا۔ چند مہینوں بعد خضدار شہر کے مضافات سے ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ اس کے بعد اخبار کے سب ایڈیٹر حاجی رزاق بلوچ کو لیاری سے اغوا کیا گیا۔ ان کی لاش بھی چند مہینوں بعد انتہائی بری حالت میں کراچی کے مضافات سے برآمد ہوئی۔ علاوہ ازیں خضدار، مچھ، مستونگ وغیرہ کے رپورٹرز بھی یکے بعد دیگرے قتل ہوتے گئے۔ ایک دن صبح سویرے لیاری میں واقع دفتر پر دھاوا بولا گیا۔ بند دفتر کے تالے توڑ کر سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ تمام کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسک نکال لی گئیں اور اخباری ریکارڈ نذرآتش کیا گیا۔

 

اس واقعہ کے بعد اخبار کے ایڈیٹر اور براہوی ادب کے معروف دانش ور خادم لہڑی منظر عام سے ہٹ گئے۔ نتیجتاً اخبار کو بھی بند ہونا پڑا۔۔

 

پاکستان کے مختلف پرنٹ و الیکٹرانک اداروں سے منسلک بلوچ صحافی بھی غیض و غضب کا نشانہ بنے۔ تربت میں روزنامہ ایکسپریس کے رپورٹر رزاق گل بلوچ ہدف بنا کر قتل کیے گئے۔ نیوز ایجنسی آن لائن کے کوئٹہ میں بیورو چیف ارشاد مستوئی کو ان کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ روزنامہ انتخاب گوادر کے رپورٹر لالا حمید بلوچ گوادر میں فائرنگ کا نشانہ بنے۔

 

بلوچستان میں اردو میڈیا کو نشانہ بنانے کے بعد بلوچی ادب پر گھیرا تنگ کرنے کا سلسلہ تیز ہوگیا۔ جان دشتی چوں کہ بلوچی ادب میں نمایاں مقام رکھتے تھے اس لیے ان پر ہونے والے حملے نے بلوچی ادب کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم ادب اس حملے کو سہار گیا لیکن اس کے بعد بلوچی ادب کی ایک اور اہم شخصیت پروفیسر صبا دشتیاری “نامعلوم” افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

 

جان دشتی چوں کہ بلوچی ادب میں نمایاں مقام رکھتے تھے اس لیے ان پر ہونے والے حملے نے بلوچی ادب کو ہلا کر رکھ دیا۔
دو اہم دانش وروں کے قتل نے زبان و ادب سے منسلک اداروں و افراد میں سراسیمگی کی لہر دوڑا دی۔ بلوچی زبان کے متعدد ادباء جیسے ڈاکٹر حنیف شریف، ڈاکٹر ناگمان، منظور بسمل، تاج بلوچ، قاضی داد محمد ریحان و دیگر نے جان کے خوف سے جلاوطنی اختیار کرلی۔ گوادر سے تعلق رکھنے والے شاعر رحمان عارف، پسنی کے پیراں سال شاعر نصیر کمالان پہلے لاپتہ پھر مسخ لاش بن کر بازیاب ہوئے۔

 

اس صورت حال نے بلوچی ادب پر منفی اثرات مرتب کیے۔ زبان و ادب پر موت کے پہرے لگا دیئے گئے۔ صورتحال بد سے بدتر تو ہوئی لیکن تخلیق کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح برقرار رہا۔ اس سلسلے کو توڑنے کے لیے مکران کے شہروں بالخصوص گوادر اور تربت میں بلوچی کتابوں کی خرید فروخت پر پابندی لگادی گئی۔ دکاندار گرفتار کرکے ایف سی کیمپ لے جائے گئے۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر آئندہ کتاب بیچنے سے منع کیا گیا۔

 

کراچی کے علاقے ملیر میں واقع حوالہ جاتی لائبریری، سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی کھڑکیاں توڑ کر لائبریری کے کمپیوٹرز توڑ دیے گئے۔ کامریڈ واحد بلوچ اسی لائبریری کے منتظمین میں سے ہیں۔ کامریڈ واحد بلوچ چوں کہ بلوچی کتابیں شائع کرنے اور ان کی تقسیم جیسے کام بھی کر رہے تھے اس لیے وہ اس پورے آپریشن کی راہ میں کانٹا بنے ہوئے تھے۔ کامریڈ کو یقیناً اس خطرے کا ادراک ہوچکا تھا لیکن اپنی فطری سادگی کے باعث وہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے سے قاصر رہے۔

 

22 جولائی کو وہ بھی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کی صاحبزادی اور ان کے چند دوستوں نے فوری طور پر اس اہم انسانی مسئلے کو اجاگر کرنا شروع کردیا۔ “میں اکیلا ہی چلا جانبِ منزل مگر , لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا” ، کے مصداق پاکستان بھر سے مختلف علم دوست افراد ان کے ساتھ جڑتے گئے اور رفتہ رفتہ یہ آواز توانا ہوتی گئی۔

 

جیسے جیسے آواز توانا ہوتی گئی ویسے ویسے بقول کامریڈ ریاض احمد خوف کے بادل چھٹنے لگے۔ جب دہشت زدہ کرنے والی پالیسی کارگر نہ رہی تو ذرائع ابلاغ کے ذریعے کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ لیاری جوکہ کامریڈ واحد بلوچ کا مسکن ہے، دراصل کالعدم تنظیموں کا مرکز ہے۔

 

کراچی کے علاقے ملیر میں واقع حوالہ جاتی لائبریری، سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی کھڑکیاں توڑ کر لائبریری کے کمپیوٹرز توڑ دیے گئے۔ کامریڈ واحد بلوچ اسی لائبریری کے منتظمین میں سے ہیں۔
کامریڈ واحد بلوچ آج سے نہیں بلکہ 80 کی دہائی سے کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ انہوں نے پہلی دفعہ بلوچی زبان کے نامور شاعر عبدالواحد آزات جمالدینی کے شعری مجموعے “مستیں توار” شائع کرکے اس کام کا آغاز کیا۔ عبدالواحد آزات جمالدینی کے نام سے ایک ادبی ادارہ قائم کرنے کے بعد وہ اسی کاز کو آگے بڑھاتے رہے۔ نوے کی دہائی میں انہوں نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے فنانس سیکریٹری غلام فاروق بلوچ کی اعانت و سرپرستی میں بلوچی رسالے ماہنامہ “بلوچی لبزانک” کا اجرا کیا۔ حوالہ جاتی لائبریری کے قیام اور دیکھ بھال میں پیش پیش رہے۔

 

کامریڈ واحد بلوچ کی پہچان ایک کتاب دوست کی رہی ہے ان کو بھارتی خفیہ ادارے “را” یا دیگر سے جوڑنا سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ مقصد صرف نوجوان ہاتھوں سے قلم چھیننا ہے۔

 

دی نیشن جیسے اہم اخبارات کا خفیہ اداروں کے پروپیگنڈے کا ساتھ دینا صحافت اور علم پر حملے میں شریک ہونے کی علامت ہے۔ یہ ان کے صحافیانہ معیار پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ کیا وہ زبان و ادب پر پابندی کو درست تسلیم کرتے ہیں؟ زبان و ادب کی ترقی و ترویج کا عمل ان کے نزدیک دہشت گردی ہے؟ اگر ہاں تو یہ پاکستانی صحافت کا جنازہ ہے، جسے دھوم سے نکلنا چاہیے۔
Categories
نقطۂ نظر

جبری گمشدگان اور پاکستان

30اگست دنیا بھر میں ’جبری گمشدگان کا عالمی دن‘کے طور پر منایا جاتا ہے ۔2011سے اس دن کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک مناتے ہیں تا کہ جبری گمشدگی کے واقعات کو کم کرنےاور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے موثراقدامات کیے جا سکیں ۔

 

بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ جبری گمشدگی کی وارادات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقداامات کرے ۔لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہاہے
اعداد و شماربتاتے ہیں کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی اردو پر شائع ہونے والے نصر اللہ بلوچ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 20,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ان کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی دو تنظیمیں ہیں،ایک Voice for Bloch missing persons اور دوسری بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ۔دونوں تنظیموں کا الزام ہے کہ جبری گمشدگیوں میں حکومتی ادارے ملوث ہیں۔ دوسری طرف حکومتِ پاکستان جبری گمشدگیوں کے خلاف قانون اور پالیسی بنانے میں بھی تساہلی سے کام لیتی رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ جبری گمشدگی کی وارادات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقداامات کرے۔ لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہا ہے جس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے مقررہ اصول و ضوابط سے انحراف کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اعلامیہ کی رو سے بھی یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔کیوں کہ منظم طور پر کی جانے والی جبری گمشدگی انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی 2013 میں جبری گمشدگی کو پاکستانی آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان سب کے باوجود جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے میں حکومتی مشینری اور سیاسی قائدین کا رویہ نا قابل اعتبار نظر آتا ہے۔

 

پاکستان ہی میں تیار شدہ ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اصول و ضوابط کی پاسداری میں بہت پیچھے ہے۔2011 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے جبری گمشدگان کی بازیابی کے لیےایک کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن کو مو صول ہونے والی جبری گمشدگی کی شکایات میں ہر مہینے اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔مثلاً اس سال جنوری سے جولائی تک کمیشن کو ہر مہینے اوسطاً 72 شکایات موصول ہوئی ہیں ۔جن میں جنوری میں 56 ،ٍٍفروری میں 66،مارچ میں 44،اپریل میں 99،مئی میں 91، جون میں 60، اور جولائی میں 94، شکایات موصول ہوئی ہیں۔مجموعی طور پر اس سال اب تک 510 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ کمیشن کا قیام مارچ 2011 میں ہوا اور 31جولائی 2016 تک کمیشن کو3552 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ کمیشن کی کارروائی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید بھی نہیں نظر آتی ۔کمیشن کے ایک آفیسر نے ایک فریادی سے پوچھا کہ آپ نے استخارہ کرایا؟ فریادی نے کہا کہ ہاں استخارہ کرایا۔ وہ زندہ ہیں۔پھر آفیسر جواب دیتے ہیں دعا کریں۔ میں بھی دعا ہی کر سلتا ہوں۔ جس کمیشن کا اعلیٰ عہدے دار تک مایوسی کااظہار کرے، تسلی دے اور دعا کی تلقین کرے اس کمیشن سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ایسے کمیشن سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید رکھنا لاحاصل ہے ۔سینکڑوں بیویاں اپنے شوہروں کی گمشدگی کی وجہ سے معلق ہیں۔ نہ تو وہ طلاق یافتہ ہیں نہ ہی مکمل طور سے ایک بیوی ہیں۔ان کے بچوں کی پرورش اور کفالت کا مسئلہ الگ درپیش ہے ۔برسوں سے کتنی مائیں اپنے بیٹوں کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ ان سب کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی در پیش ہے کہ ایسے خانوادے کو سماج میں بھی ذلت و رسوائی کا بھی سامنا ہے۔ ایک تو ان کا عزیز یا سرپرست لاپتہ ہو گیا دوسرے سماجی طعنے بھی انہیں برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ متعد د لاپتہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ جب کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ملک میں عدالتیں موجود ہیں تو پھر سماج کے کسی شخص کو کیوں کر یہ حق حاصل ہو کہ وہ گمشدہ شخص کے بارے میں بدگمانی سے کام لے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو دہشت گرد قرار دے۔

 

متعد د لاپتہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ جب کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ملک میں عدالتیں موجود ہیں تو پھر سماج کے کسی شخص کو کیوں کر یہ حق حاصل ہو کہ وہ گمشدہ شخص کے بارے میں بدگمانی سے کام لے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو دہشت گرد قرار دے۔
درجنوں لاپتہ افرادکے اہل خانہ اور رشتے دار برسوں سے کمیشن کے چکرّ کاٹ رہے ہیں۔ لیکن تا حال انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عدالتین، کمیشن اور منتخب نمائندے۔۔۔ کوئی بھی لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرا سکا۔ جبری گمشدگی کی ایک خبر پچھلے دنوں کافی سرخیوں میں رہی ۔ایک پاکستانی خاتون صحافی زینت شہزادی اور ایک ہندوستانی نوجوان حامد انصاری بہت دنوں سے گم تھے ۔حامد انصاری ایک انجینیر تھا جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے بنے ایک دوست سے ملنے کے لیے غیر قانونی طور پر پاکستان کی سرحد میں داخل ہو گیا۔ 2012 میں ہی اسے گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن متعلقہ افسران ایک عرصے سے انجنیئر انصاری کے سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ معاملہ جب پشاور ہائی کورٹ میں پہنچا تو انکشاف ہوا کہ اسے ملٹری نے حراست میں لے رکھا تھا اور اب اسے ملٹری کورٹ کے ذریعے ہی سزا سنائی گئی ہے۔ اور زینت شہزادی جو ایک غریب گھرانے کی پر جوش خاتون تھی۔ 2013 ہی سے انصاری کے کیس کو کمیشن اور دیگرمتعدد پلیٹ فارم پر اٹھاتی رہی تھی۔ لیکن 2015 میں زینت شہزادی بھی لا پتہ ہو گئی۔ اس کا کیس بھی کمیشن کے پاس زیر التو اہے۔ لاہور میں زینت کے سلسلے میں سال بھر، متعدد سماعتیں ہوئی ہیں لیکن ہر بار قانون کے رکھوالے یہی بہانہ دہراتے ہیں کہ زینت کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔

 

ایسی کئی کہانیاں پاکستان کے مختلف علاقوں سے سننے کو مل رہی ہیں اگر پاکستان واقعی مہذب ممالک کی فہرست میں شامل ہو نا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت جبری گمشدگان کے لیے موثر لائحہ عمل تیار کرے۔ ساتھ ہی لا پتہ افراد کی بازیابی اور ان کے متعلقین کو درپیش نقصانات کی تلافی و تدارک کا بھی نظم کرے۔
Categories
خصوصی

خط اُس باپ کے نام جو “لاپتہ“ ہو گیا

[blockquote style=”3″]

ہانی، کامریڈ واحد بلوچ کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ واحد بلوچ کو 26 جولائی کو کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔ ہانی نے اپنے والد کے نام ایک تصوراتی خط لکھا ہے۔ یہ خط کراچی کی نوجوان صحافی وینگس کے توسط سے خصوصی طور پر ‘حال حوال‘ کو بھجوایا گیا ہے۔ لالٹین قارئین کے لیے یہ خط ‘حال احوال’ ویب سائٹ کے منتظمین کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے، بلاشبہ ہم سب اس درد کے مشترکہ شراکت دار ہیں۔

[/blockquote]

بابا جان، یاد ہے اتوار کو آپ ہمیشہ مجھ سے وعدہ کرتے کہ مجھے لے کر ریگل چوک پہ کتابیں خریدنے جائیں گے۔
میں سویرے جاگی کہ آج اتوار ہے اور ہم ریگل چوک جائیں گے۔میں انتظار کرتی رہی اس صبح کہ آپ ہمیشہ کی طرح پہلے بیدار ہوں۔ میں نے گھر میں کسی کو جاگتے ہوئے نہیں دیکھا کیوں کہ اتوار چھٹی کا دن ہوتا ہے۔

 

اگلے اتوار جب میں آپ کو جگانے کے لیے گئی تو میں نے آپ کو اپنے کمرے میں نہیں پایا۔

 

بابا جان، یاد ہے اتوار کو آپ ہمیشہ مجھ سے وعدہ کرتے کہ مجھے لے کر ریگل چوک پہ کتابیں خریدنے جائیں گے۔
پیارے بابا جان! یہ ختم نہ ہونے والے اتوار میں نے یہ فرض کرکے گزارے کہ آپ حراستی اداروں کے پاس ہیں۔ لیکن میں ابھی تک یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ آپ جا چکے ہیں۔ میں آپ کو ہمیشہ یاد کرتی ہوں۔ آپ کچھ ایک میں سے صرف ایک ہی بہت کچھ ہو، بابا۔ میں آپ کو بری طرح سے یاد کر رہی ہوں کہ جیسے آپ نہیں ہیں۔ اگر آپ نہیں رہے تو یہ میرے لیے دنیا کی تاریخ کا خاتمہ ہے۔ باباجان میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اب میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہوں۔ میں آپ کے بغیر جی نہیں سکتی۔

 

باباجان آپ نہیں جانتے، آپ فرشتہ ہیں ــ آپ کے بغیر ایک ساعت بھی کس قدر سخت ہے۔ ہمیں آپ کی کس قدر ضرورت ہے۔ ہمارا نگہبان اور ہمارا پشت پناہ آج لا پتہ کردیا گیا ہے۔ ہماری پشت پناہی اب کون کرے گا۔ ہماری حفا ظت کون کرے گا۔ جب آپ کے مہربان اور پر شفقت بھرے ہاتھ میرے کند ھوں پر تھے تو میں بھر پور توانائی محسوس کرتی تھی میری طاقت اب کہاں ہے؟ میری طا قت و قوت کو لا پتہ کردیا گیا ہے۔

 

بابا جان مجھے معاف کردیں۔ آپ نے ہما رے لیے سب کچھ کیا؛ بطور بہتر ین استاد، بہتر ین نگران، بہترین دوست ومددگار اور بہت کچھ۔ میں سوچتی ہوں میں بہترین بیٹی نہیں ہوں لیکن آ پ مثالی باپ ہیں۔ لیکن اب جب آ پ کو کچھ ضرورت ہے تو میں ناامید ہوں. میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کر پارہی ہوں۔

 

بابا جان، جب میں چھوٹی تھی اور دمہ کے مرض کا شکار ہوگئی تھی تو آ پ نے میرے علاج کے لیے بے پناہ اخراجات کیے۔ اب میں صحت مند ہوں لیکن اس قابل نہیں کہ آپ کو صحیح سلامت بازیاب کرا سکوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ انتہائی غیر انسانی اذیت کا سامنا کر رہے ہوں۔ در حقیقت میں نہیں جا نتی کہ آپ کہا ں ہیں۔ جب میں روتی تھی اور آپ موجود ہوتے تھے تو میری آنکھوں سے آنسو پو نچھ لیتے تھے۔ اب میں رو رہی ہوں بابا جان، آپ کہا ں ہیں؟؟

 

جب آپ کے مہربان اور پر شفقت بھرے ہاتھ میرے کند ھوں پر تھے تو میں بھر پور توانائی محسوس کرتی تھی میری طاقت اب کہاں ہے؟
بابا جان آپ جا نتے ہیں، اب میں ہر وقت صرف رونے کی آواز سن رہی ہوں۔ امی جان کیسے رورہی ہیں آپ کے لیے۔ اور آپ کی ما ہکان نے بھی اسکول چھوڑ دیا ہے۔ بابا جان ان خاموش رستوں میں جب آنکھیں بند کرتی ہوں تو صرف آپ سے بات کرتی ہوں۔ مجھے لگتا تھا محض دنیا میں آپ واحدانسان ہیں جو مجھے کبھی دکھ نہیں دیں گے۔ اور میں نے کچھ پایا تو وہ آپ کی محبت کی بدولت ہے۔

 

جب میں کچھ نہ ہونے کے برابر تھی تو آپ نے مجھے قبول کیا تھا۔ آپ اس بھری دنیا میں بہترین باپ ہیں۔ مگر میں آپ کی بے کار بیٹی ہوں۔ بابا جان میں جانتی ہوں کہ آپ بڑے دل کے مالک ہیں اور آپ فوراً ان لوگوں کو بھی معاف کر دیتے تھے جو لوگ پیٹھ پیچھے آپ کی برائیاں کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے بارے میں بری گفتگو کرتے تھے لیکن باباجان آج میں آپ سے معذرت کرتی ہوں کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے بھی معا ف کردیں گے۔ میں آپ کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ حالاں کہ یہ نہایت درد بھرا اور تکلیف دہ وقت ہے، میں آپ کی سلامتی کے ساتھ باز یابی کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ اگر مجھے خو ش قسمت موقع مل جائے، جب آپ واپس آ جا ئیں تو پھر کبھی بھی آپ کو دو بارہ جانے نہیں دو ں گی۔ میں آپ کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ میں آپ کے بنا تنہا ہوں۔ میں اب بھی آپ کی مدد کا انتظار کر رہی ہوں۔

 

ہانی بلوچ کی والد کے ہمراہ یادگار تصویر
ہانی بلوچ کی والد کے ہمراہ یادگار تصویر
بابا جان آپ بہتر جانتے ہیں کہ میرے پاس مشورہ کرنے کا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں، سوائے اس کے کہ آپ سے بات کروں۔ اور اب کوئی نہیں جو مجھے مشورہ دے۔ یہ سچ ہے باباکہ یہاں ہر کوئی آپ کو یاد کر تا ہے اور یادکرنا آسان ہے، اور یہ آسان کام وہ ہر دن کررہتے ہیں۔ مگر میں مجھے تو آپ ایک درد کے ساتھ یاد آتے ہو اور یہ وہ درد ہے جو کبھی جاتا ہی نہیں۔کوئی بھی یاد کرنے سے نہیں تھکتا، ہاں انتظار کرنے سے سب تھک جاتے ہیں۔ اور مجھے ابھی تک یہ یقین ہی نہیں آ رہا کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔ کیوں کہ آپ نے مجھے ہر چیز سکھا ئی سوائے اس کے کہ آپ کے بغیر زندہ کیسے رہا جائے۔

 

باباجان آج میں آپ سے معذرت کرتی ہوں کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے بھی معا ف کردیں گے۔
بابا، جب مجھے ہلکی سی خراش بھی آتی یا معمولی سا سردرد ہوتا تھا تو آپ فکر سے ساری رات میرے لیے جاگتے تھے۔ خوشی کے لحمات بھی ساتھ آئے مگر اب بہت مشکل ہے آپ کو تلاش کرنا! جب میں کسی چیز سے ڈرتی تھی تو مجھے کسی اور کو پکارنے کی کبھی بھی ضرورت نہیں پیش نہیں آئی کیوں کہ آپ میرے ساتھ ہوتے تھے مگر اب آپ کیسے ہیں نہ جانے کسں تکلیف میں اور میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کی ناکارہ بیٹی ہوں۔مجھے معاف کر دیں۔

 

آپ نے ہمیشہ مجھے اپنی بہادر بیٹی کہا، مگر میں بالکل بھی بہادر نہیں ہوں۔ آپ مجھے ہمیشہ بہادر شہزادی کہتے تھے، آج میں وہ سب کچھ ہوں جو آپ نے مجھے بنایا۔۔۔۔۔۔۔ مگر اتنی بہادر نہیں کہ آپ کے بنا رہ سکوں، بابا جان مجھے معاف کردیں میں آپ کی بہادر شہزادی نہیں بن سکی!!