Categories
نقطۂ نظر

زرد صحافت اور سنسنی خیزی

جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے
منہ کالا کروا ہی لیا ناں! مزید معلومات کے لیئے دیئے گئے لنک پر کلک کیجیئے!
شرم و حیا کو تار تار کر ڈالا! مزید جاننے کے لیئے یہاں کلک کیجیئے!
قوم کی لٹیا ڈبو دی! دیکھیے ایک اور شرم ناک حرکت فلاں سیاستدان کی!
فلاں سیاسی پارٹی کی اصلیت سامنے آگئی، بقیہ صفحہ 8 کالم 9 پر پڑھیئے۔
قربِ قیامت کے آثار نمودار! مزید تفصیلات 9 بجے کے خبر نامے میں!
جانیئے! کہاں کھیلی، کیوں کھیلی، کس نے کھیلی، کس سے کھیلی، خون کی ہولی! خون کی ہولی!
پانی سے چلنے والی گاڑی ایجاد! نوبل پرائز ہمارا ہوا! فلاں صوبہ! فلاں دھرتی کا سپوت زندہ باد!
بھگوڑی بیوی، آشنا کے ساتھ فرار! پیچھے چھوڑ دی شوہر کی مردہ لاش!
آپ مانیں یا نہ مانیں منرجہ بالا سطریں حقیقی خبروں اور سرخیوں سے ماخوذ ہیں۔ اور ان کے بنانے والے ذرا بھی شرمندہ نہیں ہیں!

 

آپ کو مندرجہ بالا کوتاہیوں کے حق میں دیئے جانے والے انتہائی مقبول دلیل کی مثال دیتا ہوں، بقول کئی ’میڈیا پرسنز‘ کہ: ’آزاد میڈیا ایک شیر خوار، نونہال ہے، جس کے قیام کو صرف 12 سال ہی بیتے ہیں۔ اب اس طرح کا ناتجربہ کار ’میڈیا‘ غلطیاں نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔‘ اس بیانیے میں12 سال پرانے سے مراد، جیو نیوز سے شروع ہونے والا دور ہے۔ ایسے بیان دینے والے افراد صحافی نہیں، البتہ صنعتِ ابلاغ کے ملازمین ضرور ہوتے ہیں۔ یہ ایک صنعت کو جسے عاقل، بالغ افراد چلا رہے ہیں، انسانی بچے سے تشبیہہ دیتے ہیں جو عام منطقی مغالطوں کی ایک بھدی مثال ہے۔ میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا اور اس بناء پر ذرائع ابلاغ کو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی گنجائش نہیں دے سکتا۔

 

میرے خیال میں تو برِ صغیر میں صحافت کوئی 160 سالی پرانی حقیقت ہے۔ تحریک آزادی میں ہماری بے باک صحافتی روایت کا گراں قدر حصہ ہے۔ اس پیشے کی اہمیت کے پیش نظر بابائے قوم نے بھی ایک اخبار کی داغ بیل ڈالی تھی! یہ جو ہمارا سرکاری ٹی۔وی ہے، یہ بھی ابتداء میں ایک غیر سرکاری منصوبہ تھا لیکن بعد میں اسے قومیا لیا گیا تھا۔ اگر اشارہ دیگر نجی اداروں کی طرف تھا تو، شالیمار ٹیلی وژن نیٹ ورک بھی بہت پرانا ہے، پھر نجی ریڈیو چینلز کی بھی بھرمار رہی ہے۔ اور اگر رونا پیشہ ور صحافیوں کا ہے تو صحافت کی تعلیم کئی دہائیوں سے دی جا رہی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں کئی تعلیمی اداروں نے صحافت کی اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیا ہے۔ پریس کلب جاکر پتہ کرلیجے کتنے اخبارات روزانہ چھپتے ہیں، کسی بزرگ صحافی سے پوچھ لینا سنسر شپ کیا ہوتی ہے، اور یہ بھی کہ سچ بولنے پر کیسی کیسی سزائیں ملی تھیں۔ روح کانپ جائے گی! اگر دیسی اخبارات پر اعتبار نہیں، تو بی-بی-سی ورلڈ نیوز، رائٹر اور اے-ایف-پی کا پوچھ لینا، ان اداروں پر تو اعتبار ہے ناں! ان میں بھی مقامی صحافی حضرات نے ہی خدمات انجام دی تھیں اور دے رہے ہیں، اور عالمی معیار کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، لہٰذا یہ دلیل کے میڈیا تو ننھا منّا ہے غلط ثابت ہوتی ہے۔

 

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔
جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے۔ آج کے دور میں، زرد صحافت انتہائی معیوب لقب ہے اور یہ غیر معیاری سے لےکر، نا تجربہ کار اور غیر اخلاقی صحافت تک کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی سے مراد، ادارت کا وہ غیر معیاری طریقہِ کار اور ترجیحات ہیں جن کے ذریعے عام خبریں، حقائق اور معاملات کو عوام کے سامنے مبالغے کی حد تک بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً دو اہم شخصیات کی ملاقات کو حکومت کے دھڑن تختے تک پہنچا دینا۔

 

لوگوں کے جذبات سے کھیلنا، حقائق کو چھپانا یا بڑھا چڑھا کر بتانا، کسی واقعے کا صرف ایک رخ دکھانا یا بیان کرتے وقت معاملے کو سراسر بدل ڈالنا۔ مثلاً ایک جگہ، پولیس کے لیئے مختص نشستوں کو خالی دکھانا اور فوراً کہہ دینا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے غافل ہیں، حالانکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی مسئلے کو نمٹا رہے ہوں یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے کر جا چکے ہوں۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی بھی بات کی تصدیق نہ ہوسکی اور ادارے کو بدنام کردیا گیا۔ مزید نقصان اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی دوسرا چینل اس سے بھی زیادہ آدھی اور ادھوری ‘خبر’ پیش کرتا ہے اور سارا زور صرف سبقت لے جانے پر ہوتا ہے۔ سچائی سے کسی کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔ ایسی رپورٹنگ سے عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ہے، صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ جنسی جرائم یا بے بنیاد سکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ پڑھنے والا اسے لذت کے حصول کے لیے پڑھے۔ اس ضمن میں جسمانی نمائش، گلیمر یا جنسی کج رویوں کی تبلیغ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔

 

زرد صحافت کم و بیش، زر پرستی کی پیداوار ہے۔ ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔ جو چینل زیادہ دکھتا ہے، اس کا ایئر ٹائم اتنا ہی مہنگا بکتا ہے۔ یہ زیادہ دِکھنا ٹی-آر-پی یا ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ سسٹم کے ذریعے ماپا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ ناپنا ہوتا ہے کہ کون سا چینل کس وقت زیادہ دیکھا گیا، اور بس! یہ سسٹم یہ نہیں ناپ سکتا کہ اگلے نے بعد میں چینل، یا اس پر چلنے والے پرگرام کی تعریف کی یا اس کو گالیاں دیں۔

 

میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔
پاکستان میں ٹی آر پی کا نظام بھی ناقص اور بے حد محدود ہے۔ پاکستان بھر میں کم و بیش 600 سے 800 گھرانوں میں یہ سسٹم نصب تھا، سنا ہے کہ حال ہی میں یہ تعداد 1000 سے 2000 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی گنتی کے ان گھرانوں میں جو چینل زیادہ دیکھا جا رہا ہےفرض کر لیا جاتا ہے کہ وہی پورے پاکستان نے دیکھا! ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹی آر پی نظام کی تمام تر تنصیب شہری علاقوں میں ہے دیہی علاقہ جات کے رحجانات ماپنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔
اس نظام میں نمونے کا اس قدر مختصر ہونا ایک بہت بڑ ا مسئلہ ہے! سائنس و تحقیق بالخصوص عمرانیات میں کہا جاتا ہے کہ جتنا زیادہ وسیع اور متنوع نمونہ تحقیق کے لیے منتخب کیا جائے گاتحقیق کے نتائج اسی قدر معتبر ہوں گے۔ نمونے کے انتخاب کی شرح کی حد بھی مقرر ہے اور وہ حد ہے، 10 تا 20 فیصد۔ پاکستان بھر کے گھرانوں میں دیکھے جانے والے پروگراموں اور ٹی وی چینلوں کا اگر اندازہ لگانا ہے تو کلُ آبادی کا کم از کم 10 فیصد نمونہ منتخب کیا جانا چاہیئے۔ 22 کروڑ عوام کا دس فی صد دو کروڑ بیس لاکھ بنتا ہے، کہاں دو کروڑ بیس لاکھ اور کہاں محض دو ہزار۔۔۔۔ تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

 

اس ناقص نمونے کی بنیاد پر شروع کیے گئے ٹی وی پروگراموں کا معیار نہایت پست ہے۔ اس ضمن میں کئی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جن میں سے ایک، ’آزاد، خودمختار اور ذمہ دار‘ ذرائع ابلاغ اور صحافت کی ترویج و تبلیغ ہے۔ سند یافتہ صحافیوں کی بھرتی کے باوجود زیادہ تر افراد بنیادی صحافتی اخلاقیات سے ناواقف ہیں یا انہیں اہمیت ہی نہیں دیتے جس کی ایک بڑی وجہ میڈیا مالکان کا کاروباری پس منظر ہے۔ آپ کسی بھی نام نہاد میڈیا پرسن سے پوچھ لیں وہ آپ کو اس بارے میں ککھ نہیں بتا سکے گا! اس کی تان جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے پر آکر ٹوٹ جائے گی۔ پاکستان میں دھکم پیل کر کے میڈیا حکومتی اثر سے آزاد و خودمختار تو ہوگیا ہے، لیکن ذمہ دار بالکل نہیں۔
چند ادارے میڈیا کو حقیقی طور پرآزاد و ذمہ دار بنانے کے لیئے کوشاں ہیں، لیکن ان کی کاوشوں کو مزید تقویت پہنچانےکی ضرورت ہے۔ جو ادارے اس کاوش میں سرِ فہرست ہیں ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:

Individualland’s FIRM – Free Responsible & Independent Media
Mishal Pakistan’s Pakistan Media Credibility Lab
IoBM’s PCMF – Pakistan Citizens Media Forum

ان اداروں کی موجودگی خوش آئیند ہے، لیکن ان کا اثر و رسوخ بے حد محدود ہے۔ میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ صحافت ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہی کردار ادا کرے جو اس کو زیب دیتا ہے تو ہمیں صحافت کو اشتہارات کی غلامی سے آزاد کروانا ہوگا!
Categories
نقطۂ نظر

سوشل ورک یا سستی شہرت؟

چند دن پہلے کی بات ہے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا، باتوں سے باتیں نکل رہی تھیں، نوکری، ملازمت، شادی، والدین کے حقوق ہر چیز پر باتیں ہو رہی تھیں، اچانک میرے دوست کو کچھ خیال آیا اور وہ بولا، ’آج مجھے اپنے سوشل ورکر ہونے کا یقین ہوگیا جب ایک نو سکھیا میرے احترام یا پھر دبدبہ سے تھر تھر کانپ رہا تھا، اور میں اس کو ایونٹ مینجمنٹ سمجھا رہا تھا۔‘ اپنے دوست کی بات سن کر میں نے اس کو ٹوکا، ’بھائی یہ تو کوئی دلیل نا ہوئی تمھارے سوشل ورکرہونے کی، تم گزشتہ3 سال سے مختلف این-جی-اوز سے منسلک ہو لیکن تم سوشل ورکر نہیں ہو!‘ میری اس بات پر اس نے برا منایا اور فوراً سوال داغ دیا کہ، ‘اگر میں سوشل ورکر نہیں ہوں تو، فلاں، فلاں اور فلاں بھی نہیں ہیں! حالانکہ جو کام وہ کرتے ہیں وہی کام میں بھی کرتا ہوں وہ اپنے آپ کو سوشل ورکر کہتے ہیں میں بھی کہوں گا! لیکن اگر تم کہتے ہو کہ میں سوشل ورکر نہیں ہوں تو پھر سوشل ورکر کون ہوتے ہیں؟’
اس کے اسی سوال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہاں سوشل ورکر کون ہوتا ہے؟ اور آخر کیوں آج ہمارے معاشرے میں اس طرح کے قول و فعل کے تضادات وجود میں آرہے ہیں۔ اپنے دوست کو تو میں نے مطمئن کردیا تھا لیکن میں خود بے چین ہو گیا تھا، میرے سامنے اچانک معاشرے کا بڑا عجیب مسئلہ آگیا تھا! اس لیے آج میں نے تہیہ کیا ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کروں۔ میرا مقصد لوگوں خاص کر نوجوانان کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ انہیں مطلع و متنبہ کرنا ہے کہ وہ خود فریبی اور خود نمائی سے پرہیز کریں اور سچ کی بنیاد پر انہی کاوشوں کو استوار کریں۔ سننے اور کہنے سے یہ مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے لیکن اسی طرح کی چھٹی چھوٹی بے ضرر سی غلطیاں ہی آگے چل کر ہمارے لیئے عذاب بن جاتی ہیں۔
اگر آپ اب تک میرے ساتھ ہیں تو مبارک ہو آپ کو کہ آپ نے اب تک تین سو اٹھاون الفاظ پڑھ لیے ہیں۔ اب میں اپنے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں یعنی کہ، سماجی کارکن کون ہوتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ اگر ہم سماجی کارکن نہیں تو کیا ہیں؟ اور ہمارے ان افعال کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
پہلے ذرا ماضی پر نظر ڈال لیتے ہیں، پرانے زمانے میں لوگ خود کو یا دوسروں کو فلانتھراپسٹ کہنا، یا کہلوانا پسند کرتے تھے، امپورٹڈ لفظ تھا، با رعب بھی لگتا تھا، لیکن میں اور آپ وہ نہیں ہیں، کیوں؟ فلانتھراپی کی حالیہ شکل انیسویں صدی میں صنعتی دور کے ساتھ ساتھ سامنے آئی تھی۔ امراٗ غرباٗ کی غربت دور کرنے کے لیئےادارے قائم کردیا کرتے تھے، جن کو چلانے کے لیئے بھاری بھاری چندے دیئے جاتے تھے۔ آج کے دور میں سب سے بڑے فلانتھراپسٹ بِل گیٹس صاحب اور وارن بفے صاحب ہیں جنہوں نے اپنی کمائیوں میں سے اربوں روپے غربت، افلاس اور انسانیت کے بھلے کے لیئے مختص کر دئیے ہیں۔
ایک چیز اور بھی ہوتی ہے جسے انگریزی میں آلٹروازم کہتے ہیں، اس کی شروعات چرچ سے ہوئی تھی اور آج بھی آپ دیکھیں تو دنیا بھر میں چرچ اور تقریباً تمام ادیان کے عبادت خانے رفاہی و فلاحی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن رکیے آپ اور میں آلٹروئسٹ بھی نہیں ہیں۔ وہ افراد جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیئے اپنے آپ کو فنا کردیں وہ فیس بک پر آ کر اپنے کارنامے گاتے اور گنواتے نہیں ہیں۔
سوشل ورک یا سماجی کارروائی، جی ہاں کاروائی سننے میں عجیب لگ رہا ہے ناں۔ کا اصل مقصد انسانی بہبود و ترقی کی تعلیم، ترویج، تحقیق اور تبلیغ کا کام ہے۔ یہ ایک باقاعدہ سائنس ہے، جس کو باقاعدہ طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ سوشل ورکر معاشرے میں طبقاتی تعصب کے خاتمے، انسانی حقوق کی پاسداری اور دیگر معاملات پر کام کرتے ہیں۔ جن میں مشاورت یا کونسلنگ سے لے کر، پالیسی سازی اور رائے سازی یا ایڈووکیسی شامل ہے۔ سوشل ورک کے زیادہ تر طالبِ علم مختلف این-جی-اوز میں یا پھر کارپوریٹ اداروں کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی ڈپارٹمنٹس میں ملازمت اختیار کر لیتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے، کچھ افراد اپنے ذاتی ادارے اور تحاریک بھی قائم کرلیتے ہیں، مثلاً عبدل ستار ایدھی، ڈاکٹر ادیب رضوی۔ یہ افراد جذبہِ انسانیت سے سرشار ہوتے ہیں، اب بتائیں ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ؟
اب اور بڑا سوال اٹھتا ہے! ہم کیا ہیں؟ سچ یہ ہے ہم اس وقت تک خود کو سوشل ورکر نہیں کہہ سکتے جب تک ہم اس کام کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل نہ کرلیں یا پھر ایسے افراد پر مبنی ادارہ قائم نہ کرلیں جو اس کام میں تعلیم و تربیت یافتہ ہوں۔ ہم رضا کار ضرور ہیں اور اس بات پر ہمیں اور ہمارے جاننے والوں کو فخر بھی کرنا چاہیئے مگر ہمیں خود فریبی سے بچنا چاہیئے۔ مطلب یہ کہ ایک یتیم خانے میں ایک وقت مکڈونلڈز سے لا کر کھانا کھلانے اور پھر اس کارنامے کی تصاویر فیس بک پر آویزاں کرنے سے ہم سوشل ورکر نہیں بن جاتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بہت سارے وزیروں، مشیروں، سماجی کارکنان، ماہرینِ عمرانیات وغیرہ، وغیرہ کو جانتے ہیں، آئے دن آپ کا آنا جانا ان کی محافل میں ہوتا رہتا ہے تو آپ سوشل ورکر بن گئے؟! جی نہیں ایسا کر کے آپ سوشلائٹ یا پھر ایک مشہور ہستی بن گئے ہیں، مشہور ہونے کا انسانی ترقی و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر آپ معاشرے میں ہونے والے مظالم و مصائب ہر آواز اٹھاتے ہیں، لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں تو پھر آپ سول سوسائٹی کے ممبر کہلائیں گے۔
یاد رکھئیے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں جو آگے چل کر بڑے بڑے فرق پیدا کریں گی۔ ذرا سوچیئے، آج سے بیس سال بعد ہماری آنے والی نسلوں پر کیا گزرے گی جب وہ یہ دیکھیں گے کہ ہر دوسرا پاکستانی تو سماجی کارکن یعنی کہ عمرانی معاہدے کا سچا و پکا پاسدار تھا، لیکن ہم آج بھی ترقی پذیر ہیں؟ آخر کیوں تو کہیں نہ کہیں سے یہ جواب ضرور آئے گا ہاں ہمارے آبا و اجداد سب کہ سب سوشل ورکر تھے بس ذرا سوشل ورک کی تشریح غلط کر بیٹھے تھے۔ ان کے نزدیک انسانی بہبود و ترقی نہیں بلکہ ذاتی نمود و نمائش ہی سوشل ورک تھی۔
اگر آپ قوم، ملک، سلطنت اور انسانیت کے لیے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو جائیے پہلے سوشل ورک سیکھیے، سمجھیے اور پھر دل و جان سے اس میں جت جائیں، قسم سے مزہ آجائے گا۔ اور شہرت بھی مل ہی جائے گی، وہ بھی اصلی، سچی اور دیرپا۔
آخری بات! سماجی کام کی چھ بنیادی اقدار ہیں ان پر ضرور عمل کیجیئے گا۔
اور ہوسکے تو اپنے ہر عمل کو ہزاریہ ترقیاتی مقاصد کی روشنی میں عملی جامہ پہنائیے گا۔
۱۔ مصائب میں گھرے لوگوں کی امداد و داد رسی کرنا۔
۲۔ سماجی رواداری کو یقینی بنانا اور معاشرے میں سماجی ناانصافیوں کے خلاف جد و جہد کرنا۔
۳۔ ہر شخص کا احترام کرنا اور اس کو پروقار سمجھنا۔
۴۔ آپسی تعلقات کو باقاعدہ قدر بخشنا۔
۵۔ خود کو ایماندار اور قابلِ اعتماد ثابت کرنا۔
۶۔ اپنے دائرہِ اختیار میں رہتے ہوئے ہی کام کرنا اور اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانے میں کوشاں رہنا۔
Categories
اداریہ

عالمی یومِ شادمانی

کیا آپ جانتے ہیں کہ 20 مارچ کو عالمی یومِ شادمانی منایا جاتا ہے؟! یہ دن اقوامِ متحدہ کی ایما پر منانا شروع کیا گیا ہے اس دن کے اغراض و مقاصد عوام و خواص اور تمام انسانیت کی صحتمندی، خوشی اور ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے!
بنیادی طور پر خوشی مثبت، پرسکون، سرشاری کی ذہنی کیفیات کا نام ہے۔ اور اس کی سائنسی(حیاتیاتی)،نفسیاتی ، مذہبی اور فلسفیانہ توجیہات موجود ہیں۔ خوشی، شادمانی یا سرشاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے انسانی حقوق کے عالمی منشور میں دفعہ نمبر تین کے تحت اس احساس یا کیفیت کی بطور حقِ انسانی تائید و توثیق کی ہے، عالمی منشور برائے انسانی حقوق کے مطابق “ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق ہے” یہاں خوشی، اطمینان یا سکون کی ظاہری یا قابلِ شمار خواص (یعنی جن کو گنا یا تولا جا سکے) مذکور ہیں۔ سائنسی طور پر دیکھا تو سارا کھیل ایک کیمیائی مادے کا ہے جس کو ڈوپامائن کہتے ہیں، یہ کیمیائی مادہ انتہائی مسرت کے موقع پر انسانی خون میں خارج ہوتا ہے اور انسان کو وہ خاص احساس یا تسکین دلاتا ہے جس کا وہ متقاضی ہوتا ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عبادات کے موقع یا پھر مذہبی اعتبار سے انتہائی معتبر جگہوں کی زیارت سے اس احساس کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نظریہ سے دیکھا جائے تو خوشی کا تعلق مقصدِ حیات سے جا ملتا ہے، یونانی فلسفیوں نے یہ سوالات اٹھائے تھے کہ، آخر ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے؟ ہم کیوں خوش ہوں یا خوشیاں منائیں؟ اسی بات کا جواب نفسیات بڑی خوبصورتی کے ساتھ دیتی ہے کہ خوشی دو طرح کی ہوتی ہے ایک مادی یا جسمانی، اس کو انگریزی میں پلیژر کہتے ہیں اور دوسری کو ہیپینس یا جوائے یا فلو کہتے ہیں۔ پلیژر اچھا کھانا کھانے، جنسِ مخالف سے باتیں کرنے یا میل جول سے بھی حاصل ہوجاتا ہے، لیکن حقیقی خوشی یا جوائے، ذہن و وقوف کی نشونما، سوچنے، غور کرنے، علم و دانش کے حصول اور انسانیت کی فلاح و بہبود سے حاصل ہوتا ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ھے کہ اس دن کو منانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟! ہر کسی کو پتہ ہے خوشی کیا ہوتی ہے تو پھر کیوں خاص طور پر اس دن باقاعدہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے؟! ان سوالات کے جوابات انتہائی تلخ ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ لوگ آج بھول گئے ہیں کہ خوشی، اطمینان، سکون کیا ہوتا ہے۔
مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عبادات کے موقع یا پھر مذہبی اعتبار سے انتہائی معتبر جگہوں کی زیارت سے اس احساس کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نظریہ سے دیکھا جائے تو خوشی کا تعلق مقصدِ حیات سے جا ملتا ہے
آج لوگ دکھاوے، نمود و نمائش کو ہی خوشی کے ذرائع سمجھنے لگے ہیں، لوگ لباس سے لیکر کھانے ہر چیز میں برانڈ ڈھونڈ رہے ہیں اور اس افراتفری میں خود کو خودی کو، خوشی کو کھو رہے ہیں۔ آج لوگ مقصدِ حیات و عزمِ جزم کو نہیں، فیس بک لائک کو اپنی منزلِ مقصود سمجھ بیٹھے ہیں۔ لوگ خوشی گورے رنگ، دبلے جسم، امارت، شہرت میں ڈھونڈنے لگے ہیں اور ان کو پا لینے کے بعد بھی افسردہ و کھوکھلا پن محسوس کر رہے ہیں۔ اگر آپ سچی خوشی کے متلاشی ہیں تو وہ آپ کو عبادت میں، حصولِ علم میں، فکری نشستوں میں، ادبی محافل میں، انسانیت کی خدمت میں کسی مشغلہ میں مثلاً مطالعہ، مکالمہ، کھانا پکانے میں، باغ بانی کرنے میں، عکاسی، عکس نگاری، مصوری میں، غور و فکر کرنے میں، کالم یا بلاگ لکھنے میں ملے گی۔ دکھاوا وقتی طور پر ستائش تو دلا سکتا ہے، سکون نہیں۔ ایک اور بات ہم میں سے کچھ لوگ جب ان میں سے کسی ذریعہ کو نہ پاسکیں تو منشیات کی جانب رجوع کرلیتے ہیں جو زبردستی ڈوپامائن کا اخراج کرواکر ہمیں بلاوجہ یا جعلی خوشی کا احساس دلادیتے ہیں لیکن دراصل وہ ہمیں ذہنی، جسمانی، معاشی، معاشرتی و روحانی طور پر تباہ کردیتے ہیں۔
تو چلیں آج عہد کرتے ہیں کہ ہم خوش رہیں گے اور دوسروں میں بھی خوشیاں بانٹیں گے۔ ہم ایسا ہر ملنے والے کی طرف مسکرا کر دیکھ کر بھی کر سکتے ہیں، کسی طالبِ علم کو پڑہنے میں مدد دے کر بھی کر سکتے ہیں یا پھر اس دن سے متعلق معلومات عام کر کے بھی کرسکتے ہیں۔ خوش و خرم رہیئے اور خوب ترقی کیجیے۔
Categories
نقطۂ نظر

The Gloomy Future of Political Parties in Pakistan

I once got a chance to attend a seminar in Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto Institute of Science and Technology (SZABIST) organized by a youth based organization, the topic being “Is our Future Positive or Not”. The proceedings went something like this; young participants at the event were bombarding the guest politician for the failures of government, the host of the show was constantly covering him up, the bureaucrat was giving rational answers, while the representative of the university was optimistic in his talk. I also somehow got the chance to speak but was silenced in mid-way. Perhaps my question was taking too much of time and was also deemed uncomfortable by the officials. As I suspected, I got a totally awry and senseless answer from the politician. Today I think I should re-express my thoughts and I leave it up to the reader either to falsify me or take my thoughts justified.

In my question, I came up with the notion that to me the future of Pakistani youth is bright, and so is the future of Pakistani universities, bureaucracy and media. But the future of political parties of Pakistan seems dark and gloomy. This opinion was based on what I heard from representatives of four mainstream political parties present at the occasion.

Our political parties lack such institutionalization of training and capacity building for their workers. The leadership in political parties is mostly based on plutocracy while the existing mechanisms for generating membership are hopeless.

Well’ that’s not just all. As far as I understand, our political parties have the acute dearth of leadership and its succession as well as poor capacity development setup. Any organized group of individuals who believe in continuous development, have to set goals on short, mid and long terms basis. I wonder why our political parties fail to do so!

We do witness an encouraging number of young people engaging in community development. They generate credible experience through attending training workshops and other group activities. Universities have their own developmental programs and various training programs by Higher Education Commission. Similarly our bureaucracy has the National Institution of Management (Formerly NIPA – National Institute of Public Administration) and Civil Service Academy in Lahore.

But on the other hand our political parties lack such institutionalization of training and capacity building for their workers. The leadership in political parties is mostly based on plutocracy while the existing mechanisms for generating membership are hopeless. It has been observed that according to standard practice, anyone could walk in a party office and become a member just by filling out a membership form. There is no system in place for measuring the credibility and capability of a potential member. A certain political party has indeed made it a joke that one could join the party just by replying to an SMS. Should there be no criteria for becoming the member of a political party?

Coming back to the training and development part, some political parties do provide various kinds of opportunities to their members for mass mobilizing and public speaking. This kind of training surely makes their workers firebrands but do they know what good governance is? Do they understand the nuances of political issues and that of leadership? The only competitive training that political parties receive is from few NGOs. But such foreign funded organizations are surely not self-sustaining. They are doing a good job but when the aid ends the capacity building would also come to a halt.

A candidate for some political office should deem it like this: he/she is asking for a job while the whole constituency is the interviewer.

The youth, at least the one I am referring to and the likes of those attending the seminar I mentioned above, seem well aware of their rights. They have a sound know-how of developmental framework, most probably gained through trainings from various NGOs and academic initiatives. I would like to ask how many party workers of the ruling party know about the Millennium Development Goals, a primary cause for which our country is getting aid for development but which are actually spent on party campaigns. I am sure only a handful of them would be aware of it. So far the key training and practical education that our politicians receive is after they become parliamentarians, again thanks to a handful of training institutions and NGOs. Isn’t it unfortunate that only after becoming an MPA or MNA, our politicians get to learn about governance and related issues?

So, what’s the solution? To start with, the old ways of politics must be gotten rid of. Instead of increasing their personal influence, the politicians should focus more on real time development. The activists and members of political parties should go through extensive trainings. There are already many programs initiated by various non-governmental organizations. These programs should be benefitted from to the maximum level. More innovative programs for internal capacity building should be initiated by the political parties themselves which should focus on issues of political philosophy, community development, project management, strategic management and human development. This way, when questioned regarding capability, the political parties should be able to answer with evidence.

Our politicians must realize that Pakistani youth is now empowered and aware. A candidate for some political office should deem it like this: he/she is asking for a job while the whole constituency is the interviewer. Apart from popular support, they better have credible education and experience on their Curriculum Vitae and if they fail to do so, then our parties are doomed. And neither the rhetoric of big names nor the promise of new-come hereditary leadership will be able to save them.