Categories
نقطۂ نظر

ایک نئی جدوجہد کا آغاز

گزشتہ دنوں ایک کشمیری فورم “عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر” پر مباحثے کے دوران اس وقت خوش گوار حیرت ہوئی جب میں نے گلگت بلتستان کے مسائل کی ذمہ داری پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے حکمرانوں پر عائد کرنے اور گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کا حصہ قرار دینے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس تنقید کے جواب میں ایک صاحب کہنے لگے کہ آپ بالکل حق بجانب ہیں اور ہم کشمیری عوام آپ کے مجرم ہیں اور ہم معذرت خواہ ہیں۔ میں بے یقینی کے عالم میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کہوں، کہ ایک اور صاحب میرے موقف کی تائید کرتے ہوئے بولے کہ واقعی گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ مظفرآباد کے حکمرانوں نے بہت زیادتی کی ہے جس کا ہم دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کو احساس ہے اور ہم اس کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مظفر آباد کے حکمران ہی متحدہ کشمیر کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہی لوگ سیاسی طاقت کی بنیاد پر گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر میں ضم کر کے گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن شکر ہے کہ کشمیر کے عوام میں بھی یہ سوچ موجود ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر سے جداگانہ حیثیر کا حامل علاقہ ہے۔

 

کشمیر کی ایک قابل ذکر آبادی گلگت بلتستان کے مسائل کا یہاں کے عوام کی اُمنگوں اور عالمی قوانین کی روشنی میں حل چاہتی ہے۔
وفاق پاکستان نے جس انداز میں بڑی بے رخی کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں ایسے رد و بدل کو تیار نہیں جس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے، یعنی حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے مستقبل کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک رکھتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو ان کی آئنی حیثیت سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ چودہ نومبر انیس سو سینتالیس سے لے کر آج تک گلگت بلتستان کے عوام اس آس پر جی رہے تھے کہ وہ دن دور نہیں جب گلگت بلتستان کے عوام بھی قانونی اور آئینی طور پر پاکستانی کہلائیں گے لیکن پاکستان کی جانب سے ہمیشہ گلگت بلتستان کو کشمیر کے مسئلے کا ایک حصہ قرار دے کر آئینی حقوق اور شناخت سے محروم رکھا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اقتصادی راہداری سے لے کر ریاستی حقوق اور دیگر تمام معاملات میں گلگت بلتستان کو بالکل نظرانداز کیے رکھا ہے اور مقامی آبادی کی امنگوں سے متصادم فیصلے کیے ہیں، یہاں تک کہ گلگت بلتستان کے موجودہ جعرافیے کو تبدیل کرنے جیسی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ عام طور پر گلگت بلتستان میں ہماری محرومیوں کا اصل ذمہ دار آزاد کشمیر کے حکمرانوں کو سمجھا جاتا ہے جنہوں نے ہمیں معاہدہ کراچی میں باندھ کر کبھی پلٹ کر پوچھا بھی نہیں اور جب کبھی وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دینے کی بات آئی تو مظفر آباد کے حکمرانوں کا جارحانہ رویہ ہم سب کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ رہا ہے۔

 

لیکن گلگت بلتستان کے معاملے پر اب کشمیر کے لوگوں کا نقطہ نظر بھی تبدیل ہوا ہے۔ کشمیر کی ایک قابل ذکر آبادی گلگت بلتستان کے مسائل کا یہاں کے عوام کی اُمنگوں اور عالمی قوانین کی روشنی میں حل چاہتی ہے۔ کشمیر کے لوگ اب عالمی سطح پر گلگت بلتستان، لداخ اور جموں و کشمیر کے حقوق کے لئے مشترکہ آواز بلند کرنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں متنازع ریاست کی تمام اکائیوں کے لیے قابل قبول مطالبات پر مبنی ایک اعلامیہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے مندرجات کچھ اس طرح سے ہیں:

 

1۔ مسئلہ کشمیر کے متاثرہ فریقوں (گلگت بلتستان، پاکستانی اور ہندوستانی زیر انتظام کشمیر) کے لوگوں کو قریب لانا اور ان کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا تاکہ غلط فہمیوں اور دوریوں کا خاتمہ کر کے باہمی محبت اور تعاون کی فضا کو فروغ دیا جا سکے۔

 

مسئلہ کشمیر کے متاثرہ و متنازعہ علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے لئے کوششیں کرنا اور انہیں حق حکمرانی دلانے کے لئے جدو جہد کرنا
2۔ مسئلہ کشمیر کے متاثرہ و متنازعہ علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے لئے کوششیں کرنا اور انہیں حق حکمرانی دلانے کے لئے جدو جہد کرنا تاکہ مسئلہ کشمیر کو متاثر کئے بغیر گلگت بلتستان کی قومی محرومیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

 

3۔ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر اورگلگت بلتستان کے لوگوں کے درمیان بہتر تعلقات عاملہ کا قیام تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک متاثرہ عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کاجائز مقام اور حق دلایا جا سکے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے عوامی سطح پر جدو جہد کی جا سکے۔

 

4۔ پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے بہتر معیار زندگی کے لئے متعلقہ حکومتوں کو سفارشات پیش کرنا اور ان شفارشات پر عملدرآمد کے لئے کوششیں کرنا نیز مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام فریقوں کو عوامی رائے اور مطالبات سے با خبر رکھنا تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلہ سازی میں عوامی رائے اور عوامی مفادات کا خیال رکھا جا سکے۔

 

5۔ سی پیک، دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر بڑے منصوبوں میں گلگت بلتستان کے حقوق کے تحفظ اور گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل حصہ دار بنانے کے لئے مشترکہ جد و جہد کرنا۔

 

6۔ تینوں منقسم خطوں میں پرامن عوامی اور جمہوری جدوجہد کرنے والے سیاسی قائدین اور کارکنوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت اور متعلقہ حکومتوں کی طرف سے ان پر بلاجواز اور سیاسی بنیاد پر قائم کئے جانے والے مقدمات کی حوصلہ شکنی کرنا تاکہ سیاسی قائدین اور کارکن اپنے حقوق کے لئے آزادانہ جمہوری جدوجہد کر سکیں اور جمہوری اقدار کو فروغٖ ملے۔

 

تینوں منقسم خطوں کے دریاوں، ڈیموں اور معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل پر متعلقہ خطے کا پہلا حق تسلیم کرانا، مکمل رائلٹی کے حصول کے لئے متعلقہ خطے کے عوام کی اخلاقی و سیاسی مدد کرنا۔
7۔ تینوں منقسم خطوں کے دریاوں، ڈیموں اور معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل پر متعلقہ خطے کا پہلا حق تسلیم کرانا، مکمل رائلٹی کے حصول کے لئے متعلقہ خطے کے عوام کی اخلاقی و سیاسی مدد کرنا۔

 

8۔ گلگت بلتستان سے متعلق معاہدہ کراچی کی منسوخی اور گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا۔

 

9۔ عالمی جمہوری اصولوں کے مطابق تینوں متنازع خطے پاکستان اور ہندوستان کے لئے متنازع ہیں یہاں کے عوام کے لئے حق حکمرانی اور حق ملکیت ہر گز متنازع نہیں لہذا اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق تینوں منقسم خطوں میں آزاد خود مختار عوامی اسمبلی کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ جد وجہد کرنا۔

 

10۔مسئلہ کشمیر کے تینوں منقسم خطوں سے ہندوستانی اور پاکستانی افواج کا انخلاء اور آزادانہ رائے شماری کے ذریعے تینوں خطوں کے عوام کو آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلانے کے لئے جدوجہد کرنا۔

 

11۔ گلگت بلتستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں اکتوبر، نومبر 1947 میں قائم شدہ خود مختار مقامی حکومتیں بحال کرنے کے لئے جدوجہد کرنا۔

 

12۔ سی پیک منصوبے کو گلگت بلتستان میں ایک آئین ساز اسمبلی کی منظوری سے مشروط کرنے کے لئے جدوجہد کرنا۔

 

اس مسودے کی روشنی میں “عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر” نے فیصلہ کیا ہے کہ سب سے پہلے 25 اپریل کو یوم یکجہتی گلگت بلتستان منایا جائے گا اور اس چارٹر کی روشنی میں حقوق گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرائی جائے گی تاکہ گلگت بلتستان کا مسئلہ عالمی سطح پر اُجاگر کیا جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور اقتصادی راہداری

اگرچہ بڑے پیمانے پر نہ سہی پر یہ خبر اب ذرائع ابلاغ میں گردش کرنا شروع ہو گئی ہے کہ چین نے اقتصادی راہداری پر کی جانے والی ممکنہ سرمایہ کاری کو گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دینے سے مشروط کر دیا ہے۔ اس ضمن میں عبوری صوبہ بنانے، گلگت بلتستان کی تقسیم سمیت کئی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ چین نے یہ شرط اپنی ممکنہ سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے عائد کی ہے چونکہ گلگت بلتستان کا علاقہ “کشمیر کا حصہ ہونے” کی وجہ سے متنازعہ علاقہ قرار دیا جاتا ہے جس کی ملکیت کے ہندوستان اور پاکستان دونوں دعویدار ہیں۔ چین اس علاقے میں بڑی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے حکومت پاکستان پر اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں وزیر اعظم پاکستان نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے جو اس معاملے کے حل کے لیے سفارشات اور تجاویز کو حتمی شکل دینے جا رہی ہے۔ سات دہائیوں سے پاکستان کی گماشتگی کرنے والے اور گلگت کے عوام کی ہر قسم کی پسماندگی اور غلامی کے ذمہ دار نام نہاد آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے بھی اپنی لولی لنگڑی قانون ساز اسمبلی میں اس فیصلے کے خلاف قرارداد پاس کی ہے جس کا واحد مقصد آنے والے انتخابات میں سودے بازی کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔

 

چین اس علاقے میں بڑی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے حکومت پاکستان پر اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے حکمران طبقے کے مفادات پاکستان کی وفاقی حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں، ان مفادات کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں خواہ اس عمل میں گلگتی عوام کے موقف، سیاسی مطالبات اور حقوق کو دبانا ہی کیوں نہ پڑے۔ اس طبقے کی جانب سے آزاد کشمیر کی نام نہاد پارلیمانی سیاست میں اپنا سیاسی ورثہ زندہ رکھنے کے لیے گلگت بلتستان کے معاملات کو کشمیر کے مسئلے کے ساتھ وابستہ کرنے کا سب سے زیادہ نقصان گلگت کے عوام کو ہوا ہے۔ ان حکمرانوں کو سات دہائیوں تک گلگت بلتستان کے عوام کی پسماندگی، مسائل اور بنیادی جمہوری حقوق سے محرومی کا تو کبھی خیال نہ آیا لیکن اقتصادی راہداری کا اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان کے مستقبل سے ان کی دلچسپی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر بے حد بڑھ گئی ہے۔

 

یہ درست ہے کہ بعض حلقے تاریخی طور پر گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہیں اور اسی وجہ سے اس علاقے کو متنازعہ قرار دے کر یہاں کے لوگوں کو ان کے سیاسی حقوق اور آئینی حیثیت سے محروم کیا گیا ہے، لیکن یہ بھی ایک تاریخی سچائی ہے کہ یہ علاقے کبھی بھی کشمیری حکومت کی مکمل عملداری میں نہیں رہے بلکہ ان خطوں کی اپنی مقامی حکومتیں ہوا کرتی تھیں جو زیادہ خودمختار طریقے سے اپنے اپنے علاقے کا نظام چلاتی رہی ہیں جن کا سری نگر کے حکمرانوں اور قواعد و ضوابط کے ساتھ تعلق بے حد محدود تھا۔ سری نگر کے ساتھ ایک ڈھیلے ڈھالے ریاستی بندوبست کا حصہ ہونے کے باوجود ان مقامی حکومتوں کی حیثیت زیادہ خودمختار اور مقتدر ہوتی تھی۔ بلکہ ہنزہ اور ناگر جیسی راجدھانیوں کے کشمیر کے ساتھ تعلقات اکثر کشیدہ رہتے تھے اوران راجواڑوں کی افواج کی کشمیری افواج کے ساتھ چھوٹی موٹی جنگیں بھی لڑنی پڑتی تھیں۔

 

1899 میں اس وقت کے وائسرائے ہند کے ملٹری سیکٹری کرنل الگیرنان ڈیورنڈ نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے “ایک سرحد کی تشکیل”(The Making of a frontier) ۔ یہ کتاب کرنل ڈیورنڈ کی ان 6 سالہ یادداشتوں پر مشتمل ہے جب وہ 1888 سے 1894 تک گلگت میں حکومت برطانیہ کے ایجنٹ کے طور پر تعینات رہا تاکہ اس خطے میں جاری بغاوتوں اور سرکشیوں کا خاتمہ کر کے برطانوی ہند کی اس شمالی سرحد کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اسی مقصد کے پیش نظر ڈیورنڈ 1891 میں ہنزہ اور ناگر پر حملہ کرنے والی مہاراجہ کی فوج کا سپہ سالار بھی رہا اور اسی جنگ کی کامیابی کے بعد مہاراجہ کا ان علاقوں پرقبضہ مکمل ہوا تھا۔ یہ کتاب اس خطے کی فطری خوبصورتی اور دلکشی کے من موہ لینے والے مناظر پیش کرنے کے ساتھ اس خطے کے کشمیر کے ساتھ تعلقات کی اصل حقیقت کو بھی آشکار کرتی ہے۔ لیکن اگر ہم ان ماضی کے تلخ حقائق کو پس پشت ڈال دیں اور تقسیم ہند کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آزادی کی سات دہائیوں کا ذکر کریں تو صورت حال کی تلخی اور بڑھ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا آج بھی اس کے ماضی جتنا ہی تلخ ہے۔

 

سری نگر کے ساتھ ایک ڈھیلے ڈھالے ریاستی بندوبست کا حصہ ہونے کے باوجود ان مقامی حکومتوں کی حیثیت زیادہ خودمختار اور مقتدر ہوتی تھی۔
پاکستانی حکمران جس حد تک اس چینی سرمایہ کاری کے خبط میں مبتلا ہو کر اسے پاکستان کے ہر مسئلے کے حل کا نسخہ کیمیا بنا کر پیش کر رہے ہیں اس سے اقتصادی راہداری پر ہونے والی ممکنہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافعوں کی ہوس صاف جھلکتی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کے 210 مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے 14321 محنت کشوں کی حفاطت کے لئے 32000 مسلح اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی فورس قائم کی جا رہی ہے جس کی معاونت کے لئے 500 چینی فوجی اہلکار بھی موجود ہوں گے۔ ہر ایک چینی اہلکار کی حفاظت کے لئے دو سپاہیوں کی تعیناتی اس سرمایہ کاری کے باعث شروع ہونے والی پراکسی لڑائیوں کا نقشہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

 

46 ارب ڈالر کی مبینہ سرمایہ کاری میں سے (اگر ہوتی ہے تو) صرف 7 سے 10 ارب ڈالر زر مبادلہ کی صورت میں پاکستان میں آئے گا باقی تمام رقم چین خود اپنی ان کمپنیوں کو معاوضوں کی مد میں ادا کرے گا جنہیں مختلف منصوبوں کے ٹھیکے دیے جائیں گے لیکن یہ تمام رقم پاکستان کے کھاتے میں بطور قرض ڈال دی جائے گی جو پاکستانی عوام کو سود سمیت واپس کرنا پڑے گی۔ یہ اقتصادی راہداری کی اصل حقیقت ہے جو پاکستان کے ہی ذرائع ابلاغ نے آشکار کی ہے۔

 

پاکستان کی تمام صوبائی اور قومی جماعتیں، صوبائی اور قومی حکومتیں اور حزب اختلاف، سبھی اس 7 سے10 ارب ڈالر کے ذریعے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ ان جماعتوں کے رہنماوں کے بیانات اقتصادی راہداری منصوبے پر مختلف تحفظات اور اختلافات کی صورت میں روزانہ اخبارات کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ اس کیفیت میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ یا عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے ہونے والی تمام تر گفتگو کو دو مختلف پیرائے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلا یہ کہ گلگت بلتستان تاریخی طور پر تنازعہ کشمیر کاحصہ رہا ہے اس لئے اب اس کی آئینی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں، یعنی اگر اسے پاکستان کا صوبہ بنایا جاتا ہے تو مسلۂ کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اور دوسرا یہ کہ بنیادی جمہوری حقوق سے محروم اس خطے کے عوام جن کے بارے میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ دہائیوں سے پاکستان کا حصہ بن جانا چاہتے ہیں کیا یہ ان کے ساتھ ظلم کی انتہا نہیں ہو گی کہ جب اقتصادی راہداری کے ذریعے اس خطے کی تقدیر بدلنے کا ایک موقع میسر آ رہا ہے تو ہم اس موقعے کو ضائع کر دیں۔

 

ہر ایک چینی اہلکار کی حفاظت کے لئے دو سپاہیوں کی تعیناتی اس سرمایہ کاری کے باعث شروع ہونے والی پراکسی لڑائیوں کا نقشہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
اگر پہلی صورت کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر یہ درست ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے ایک طویل عرصے تک اس خطے کے عوام کو مسلۂ کشمیر پر اپنے سفارتی موقف کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے، اور یوں ہر حوالے سے محرومیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلے رکھا۔ لیکن در حقیقت اس سفارتی موقف کے باوجود در پردہ پاکستان کا اس خطے پر گہرا، براہ راست اور مظبوط اختیار اور عملداری رہی ہے جبکہ “آزاد” کشمیر پر پاکستان کا اقتدار بالواسطہ یعنی مقامی طور پر منتخب شدہ پارلیمان کے ذریعے رہا ہے۔ اس لئے اقتصادی راہداری کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اگر اس خطے کی آئینی حیثیت میں کوئی بڑی تبدیلی لائی بھی جاتی ہے (جس کے زیادہ امکانات نہیں لگتے) تو اس سے محض سادہ لوح آزادی پسندوں (جو شعوری یا لاشعوری طور پر اسی نظام کے مختلف اداروں کے ذریعے حصول آزادی کی آس لگائے بیٹھے تھے) کے خیال میں کشمیر کی تقسیم مستقل ہو جائے گی(جو پہلے ہی ہو چکی ہے)۔ اور اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو بھی اس نظام کے قائم رہتے ہوئے مسلۂ کشمیر کبھی بھی حل نہیں ہو سکتا اور موجودہ صورت حال جوں کی توں قائم رہے گی یعنی دونوں صورتوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پاکستان کے زیر قبضہ علاقے پاکستان کی عملداری میں ہی رہیں گے خواہ ان کی ظاہری صورت کچھ بھی ہو۔ گلگت بلتستان آج پاکستان کا صوبہ نہیں ہے تو بھی مکمل طور پر پاکستان کے زیرتسلط ہے اور یہ کچھ آزادی پسندوں کی محض خوش فہمی ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے سے شائد کشمیر کی تقسیم مستقل نہیں ہو گی بلکہ اس قبضے کی عارضی حیثیت مستند رہے گی، اور اگر گلگت بلتستان کا علاقہ صوبہ بن گیا تو یہ حیثیت مستقل ہو جائے گی۔ ایسا صرف وہ سادہ لوح لوگ سوچ سکتے ہیں جوپاک بھارت مذاکرات یا اقوام متحدہ جیسے بے اثر ادارے کے ذریعے آزادی کے حصول کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم خاموشی سے پاکستان یا ہندوستان کا کشمیر پر قبضہ تسلیم کر لیں بلکہ اس تلخ حقیقت کا ادراک اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس سچائی کو پہچان سکیں کہ کشمیر کی آزادی کا حصول نہ تو ان استحصالی ریاستوں کے حکمرانوں کے باہمی مذاکرات یا جنگوں کے ذریعے ممکن ہے اورنہ ہی اقوام متحدہ یا کسی اور عالمی طاقت کے دباؤ پر ہونے والی کسی رائے شماری کے ذریعے۔ کشمیر کی آزادی اس نظام اور ریاستی جبر کے خلاف ایک انقلاب برپا کر کے ہی ممکن ہے۔

 

میرے خیال میں جمہوری حقوق کے حصول اور ترقی کی جس خواہش کی تکمیل کا خواب لئے وہ پاکستان کا صوبہ بننا چاہتے ہیں اِس نظام میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے عوام اپنی صدیوں کی محرومی اور پسماندگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے اگر اس غلط فہمی کا شکار ہیں (یا یہاں کی ابھرتے ہوئے حکمران طبقے نے اپنی حکمرانی کو جواز دینے کی غرض میں عوام کے اندر اس قسم کی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں) اور اس خطے کے عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے حق میں ہے تو کسی کے خیال میں ان کا یہ فیصلہ بھلے غلط بھی ہو یہ ان کا بنیادی جمہوری حق ہے اور ان کے اس فیصلے کی حمایت کی جانی چاہیے۔ لیکن اس ضمن میں چند وضاحتیں بھی ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ میرے خیال میں جمہوری حقوق کے حصول اور ترقی کی جس خواہش کی تکمیل کا خواب لئے وہ پاکستان کا صوبہ یا حصہ بننا چاہتے ہیں اِس نظام میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ بلوچستان گلگت بلتستان ہی کی طرح قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود اس استحصالی نظام کی وجہ سے پسماندہ، ریاستی جبر کا شکار اور اپنے حقوق سے محروم ہے اور وہاں کے عوام اس بندوبست سے نجات کے لیے مسلح جدوجہد پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے وسائل وہاں کے باسیوں کی ترقی کا باعث بننے کی بجائے ان کے لئے ایک عذاب بن گئے ہیں۔ اس لئے گلگت بلتستان کے عوام کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ وہ صرف پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی جدوجہد نہ کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے وسائل پر اپنا اختیار تسلیم کرانے کی جدوجہد بھی کریں۔ چونکہ اگر وسائل پر اختیار صرف حکمرانوں کا ہو گا تو وہ ان وسائل کو مقامی لوگوں کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی بجائے ریاست کی سلامتی اور اکثریتی صوبے کی بہبود پر خرچ کریں گے۔ ان وسائل کا اگر کچھ حصہ گلگت بلتستان کو ملا بھی تو وہ مقامی آبادی کی فلاح کی بجائے انتظامی بندوبست کی بدعنوانی کی بھینٹ چڑھنے کا اندیشہ ہے۔

 

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ گلگت پاکستان کا صوبہ یا حصہ بنتا ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی پسماندگی دور ہو گی یا نہیں؟ یہاں کے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے گا یا نہیں؟ یہاں جدید اور معیاری تعلیم تک سب کی رسائی ہو گی یا نہیں؟ معیاری اور مفت علاج سب کو میسر آسکے گا یا نہیں؟ قدرتی وسائل کی فروخت یہاں کے عوام کی ترقی کا باعث بنے گی یا محض خریدنے والی کمپنیوں کے منافعوں میں اضافہ ہو گا؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پہلے کسی استعماری ملک یا طاقت کی سرمایہ کاری کے ذریعے دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی خوشحالی آئی ہے؟ سرمایہ داری نظام میں سرمایہ کاری کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سے کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے اس لئے ہمارے حکمران چینی سرمایہ کاری کے بارے میں جتنی مرضی خوش فہمیاں پھیلانے کی کوشش کریں اس سے سرمایہ کاری اور سرمایہ دار کا کردار تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ سرمایہ کاری بھی اس خطے کے عوام کی ترقی کے لئے نہیں بلکہ منافع کمانے اور خطے پر اپنا تسلط مضبوط کرنے کی غرض سے کی جا رہی ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے صرف ایک مثال ہی کافی ہے کہ گوادر کی بندرگاہ سے ہونے والی آمدن کی تقسیم کے معاہدے کے مطابق کل آمدن کا صرف دس فیصد پاکستان کو ملے گا باقی نوے فیصد چین لے جائے گا۔ اس بنیاد پر دیکھا جائے تو حکمرانوں کا چینی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی اور خوشحالی آنے کا سارا شور شرابہ جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ یہ درست ہے کہ چین کی توسیع پسند معاشی حکمت عملی کی ضروریات کو پورا کرنے والی سڑکوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کے چند منصوبے تعمیر کئے جائیں گے جن سے متعلقہ علاقے کے عوام بھی لازمی مستفید ہوں گے لیکن عمومی طور پر ان منصوبوں کی تعمیر سے معاشرے میں پسماندگی اور جدیدیت کے درمیان خلیج مزید بڑھے گی۔ ایک ہائی وے کی تعمیر یا ریلوے لائن بچھائے جانے سے لوگوں کے لئے سفر کی بہتر سہولت تو میسر آئے گی لیکن سفر کرنے کے لئے درکار وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اگر اس سرمایہ کاری سے نئی صنعتیں نہیں لگائی جاتیں (جن کا لگایا جانا تاحال واضح نہیں) تو محض سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے ویسی ہی خوشحالی آئے گی جیسی موٹر وے کی تعمیر سے پنجاب کے کسانوں کے لئے آئی ہے جو اپنی گدھا گاڑی یا ٹریکٹر پر بیٹھ کر اس ترقی کا صرف دور سے نظارہ کر سکتا ہے لیکن اس سے کسی قسم کا استفادہ حاصل نہیں کر سکتا۔

 

اصل مسئلہ اور سوال یہ نہیں کہ گلگت پاکستان کا صوبہ یا حصہ بنتا ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی پسماندگی دور ہو گی یا نہیں؟
گلگت بلتستان کے تمام وسائل سب سے پہلے وہاں کے عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں اور ان سے استفادہ کرنا وہاں کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ یہ وسائل سب سے پہلے اس خطے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے استعمال ہونے چاہیئں اور ان وسائل کو نکالنے اور فروخت کرنے کے تمام سودوں اور معاہدوں کا مکمل اختیار وہاں کے لوگوں کی اجتماعی، عوامی اور جمہوری طور پر نمائندہ کمیٹیوں کے پاس ہونا چاہیئے۔ عوامی کمیٹیوں کا منتظم اور مختار ہونا ہی وہ واحد طریقہ ہے جو ہر قسم کی بدعنوانی اور لوٹ مار کی روک تھام کر سکتا ہے اور انہی عوامی کمیٹیوں کے ذریعے ہی یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ ان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت وہاں کے عوام کی اجتماعی ترقی کے منصوبوں پر خرچ ہو۔

 

گلگت بلتستان کے عوام کو اس منصوبے کے حقیقی فوائد پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ:

 

گلگت بلتستان کے وسائل کے حوالے سے فیصلہ سازی اور اختیار وہاں کی منتخب عوامی کمیٹیوں کو دیا جائے!
ایسے تمام معاہدے منسوخ کئے جائیں جو وہاں کے عوام کی اکثریت کی شمولیت کے بغیر کئے گئے ہیں!
گلگت بلتستان کے وسائل کی فروخت کا مکمل اختیار اور اس سے حاصل ہونے والی تمام آمدن کے تصرف کا بھی مکمل اختیار انہی عوامی کمیٹیوں کو دیا جائے!

Image: Sabir Nazar