Categories
نان فکشن

اسلام میں شادی کی کم سے کم عمر

ہمارے یہاں عام مسلمان تو ایک طرف بڑے بڑے علماء تک اب یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اسلام نے شادی کے لئے کوئی عمر تو مقرر نہیں کی لیکن شادی کے لئے بلوغت شرط ہے حالانکہ شرعی طور یہ بات بالکل ثابت نہیں بلکہ علماء و فقہاء قدیم میں سے اس کا کوئی قائل نہیں رہا کہ شادی کے لئے بالغ ہونا بھی ضروری ہے۔ علماء و فقہاء کے نزدیک تو چھوٹی بچی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح اور رخصتی اس کے ولی کی مرضی سے جائز اور درست ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی قوانین کو انسانی حقوق کے جدید تصورات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

چنانچہ علامہ ابن عبدالبر کہتے ہیں: “علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ والد کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بچی سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھ یا سات برس کی عمر میں نکاح کیا اور یہ نکاح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد نے کیا تھا۔” (الاستذکار، ج16 ص49-50)

اس اجماع کو کثیر علماء نے ہمیشہ بیان کیا ہے اور کسی سے کبھی کسی دور میں اس کی مخالفت ثابت نہیں۔ چنانچہ اس اجماع کو امام احمد (المسائل: 129/3)، امام مروزی (اختلاف العلماء: ص125)، علامہ ابن المنذر (الاجماع: ص91)، امام بغوی (شرح السنۃ: 37/9)، امام نووی (شرح صحیح مسلم: 206/9) اور حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری: 27/12) جیسے جید اور مستند آئمہ محدثین نے بھی نقل کر رکھا ہے۔

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: “عورت كى اجازت كے بغير كوئى بھى عورت كى شادى نہيں كر سكتا، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديا ہے، اور اگر وہ اسے ناپسند كرے تو اسے نكاح پر مجبور نہيں كر سكتا، ليكن چھوٹى عمر كى كنوارى بچى كو، اس كى شادى اس كا والد كرے گا، اور اس (بچی) كو اجازت كا حق نہيں۔” (مجموع الفتاوىٰ، ج32 ص39)

برصغیر کے مشہور اسلامی دارالعلوم دیوبند سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا: “نابالغوں کا نکاح جو ولی کریں صحیح ہے، نابالغوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اولیاء کا سمجھنا اور اجازت دینا کافی ہے، عمر کی کچھ تحدید لازمی نہیں ہے۔” (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ج7 ص48، دارالاشاعت کراچی)

مزید مئودبانہ عرض یہ ہے کہ نکاح ہی نہیں بلکہ رخصتی اور ہمبستری کے لئے بھی بلوغت کی کوئی شرط ہرگز ثابت نہیں بلکہ خلافِ قرآن ہے۔ سورۃ نساء کی جو آیت نکاح کے لئے بلوغت کی شرط کے طور پر پیش کی جاتی ہے، اس میں ہرگز کسی شرط کا بیان نہیں بلکہ صرف عرف کی بات کی گئی ہے کہ عام طور پر جو شادی کی عمر سمجھی جاتی ہے، اس آیت میں کہیں یہ نہیں کہ اگر اس سے چھوٹی عمر میں شادی ہو جائے تو ہمبستری نہیں ہو سکتی یا وہ شادی مانی نہیں جائے گی بلکہ الٹا اس کے خلاف قرآن سے ثابت ہے۔ جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سورۃ نساء کی اس آیت (6) سے متقدمین مفسرین نے کہیں نکاح اور شادی کے لئے بلوغت کی شرط اخذ نہیں کی بلکہ اس کے برخلاف سورۃ طلاق کی آیت (4) سے نابالغ اور چھوٹی بچی کی عدت ثابت کی ہے۔

چنانچہ قرآن میں لکھا ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ

“اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔” (سورۃ الطلاق: 4)

1) مشہور تابعی قتادہ نے “لم یحضن (جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو)” کی تشریح میں کہا: “وہ باکرہ دوشیزائیں جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچیں۔” (تفسیر دُرِ منثور مترجم، ج6 ص614، ضیاء القرآن پبلشرز لاہور)

2) تیسری صدی ہجری کے مشہور اور قدیم ترین مفسر امام طبری (متوفی310ھ) نے اس سے مراد ایسی چھوٹی بچیاں ہی لیا ہے کہ جنہیں چھوٹی عمر کی وجہ سے ابھی تک حیض نہیں آیا اور ہمبستری کے بعد طلاق ہوئی ہو۔ “وكذلك عدد اللائي لم يحضن من الجواري لصغر إذا طلقهنّ أزواجهنّ بعد الدخول۔” (جامع البیان فی تفسیر القرآن / طبری)

3) تیسری صدی ہجری کے مشہور محدث امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری (المتوفی 256ھ) نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے: باب إِنْكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِّغَارَ (آدمی اپنی نابالغ بچی کا نکاح کر سکتا ہے۔) اس کے بعد سورۃ الطلاق کے اسی آیت کے لفظ کوٹ کرتے ہوئے کہا: ” لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ} فَجَعَلَ عِدَّتَهَا ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ”
یعنی اللہ تعالیٰ نے عورت کی بلوغت سے پہلے اس کی عدت تین ماہ مقرر کی۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، قبل حدیث 5132)

4) تیسری چوتھی صدی ہجری کے مشہور فقیہ امام طحاوی (متوفی321ھ) نے بھی اس سے مراد وہی چھوٹی بچیاں لی ہیں، جنہیں حیض نہیں آیا۔ “و کانت الصغیرۃ التی لم تحض ازا طلقت فدخلت فی العدۃ” (احکام القرآن للطحاوی ج2 ص402، طبع استنبول)

5) چوتھی پانچویں صدی ہجری کے امام ثعلبی (متوفی427ھ) نے بھی چھوٹی عمر والی ہی بیان کیا۔ “{ وَٱللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ } يعني بهنّ الصّغار.” (تفسير الكشف والبيان / ثعلبی)

6) پانچویں صدی ہجری کے امام ابو الحسن واحدی (متوفی468ھ) نے بھی چھوٹی بچیاں ہی مراد لی ہیں کہ جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔ “{ فعدتهنَّ ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن } يعني: الصِّغار” (الوجيز في تفسير الكتاب العزيز / واحدی)

7) پانچویں صدی ہجری کے ہی مشہور محدث و مفسر امام بغوی (متوفی 516ھ) نے بھی یہی لکھا کہ اس سے مراد وہ چھوٹی بچیاں ہیں جنہیں ابھی حیض آیا ہی نہیں تو ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ “يعني الصغار اللائي لم يحضن فعدتهن أيضاً ثلاثة أشهر” (تفسیر معالم التنزیل / بغوی)

8) پانچویں و چھٹی صدی ہجری کے ماہر لغت و کلام مفسر علامہ زمخشری (متوفی 538ھ) نے بھی یہی کہا ہے کہ جنہیں حیض نہیں آیا کیونکہ وہ عمر میں چھوٹی ہیں۔ ” وَٱلَّٰۤئى لَمْ يَحِضْنَ هن الصغائر” (الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل / زمخشری)

9) ساتویں صدی ہجری کے ممتاز مفسر امام قرطبی (متوفی671 ھ) نے بھی اپنی تفسیر میں یہی شرح کی کہ اس سے مراد چھوٹی بچیاں ہیں کہ ان کی عدت بھی تین ماہ ہو گی۔ “يعني الصغيرة ـ فعدّتهن ثلاثة أشهر” (تفسير الجامع لاحكام القرآن / قرطبی)

10) ساتویں صدی ہجری کے ہی امام الکلام ابو البرکات نسفی (متوفی710ھ) نے بھی اس کی تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ وہ چھوٹی بچیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ “هن الصغائر و تقديره واللائي لم يحضن فعدتهن ثلاثة أشهر۔” (تفسير مدارك التنزيل وحقائق التأويل / نسفی)

11) ساتویں آٹھویں صدی ہجری کے مفسر امام خازن (متوفی 725ھ) نے بھی یہی شرح بیان کی کہ اس سے مراد ایسی چھوٹی بچیاں ہیں کہ جنہیں حیض ابھی نہیں آیا۔ “يعني الصغائر اللاتي لم يحضن بعد فعدتهن أيضاً ثلاثة أشهر” (تفسير لباب التأويل في معاني التنزيل / خازن)

12) آٹھویں صدی ہجری کے مشہور نحوی و مفسر امام ابوحیان الاندلسی (متوفی 754ھ) نے بھی اس میں ان بچیوں کو شامل کیا ہے جنہیں کمسنی کی وجہ سے ابھی حیض آتا ہی نہیں۔ “والظاهر أن قوله: { واللائي لم يحضن } يشمل من لم يحض لصغر، ومن لا يكون لها حيض البتة۔” (تفسير البحر المحيط / ابو حیان)

13) آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف محدث امام المفسرین ابن کثیر (متوفی774ھ) نے بھی اس آیت کی تفسیر میں صاف لکھا ہے کہ اس سے وہ چھوٹی بچیاں مراد ہیں جو ابھی اس عمر کو پہنچی ہی نہیں کہ انہیں حیض آئے۔ “وكذا الصغار اللائي لم يبلغن سن الحيض” (تفسير القرآن العظيم / ابن کثیر)

دور قدیم ہی نہیں دورِ جدید میں بھی علماء نے اس آیت کی تفسیر میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں چھوٹی بچیوں کی مدت عدت بیان ہوئی ہے کہ جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔

14) ماضی قریب کے مشہور سلفی عالم و مفسر شیخ عبدالرحمٰن ناصر السعدی اسی آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: “یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا۔۔۔۔ ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔” (تفسیر السعدی اردو، دارالسلام لاہور)

15) بریلوی مکتبہ فکر کے حکیم الامت احمد یار خان نعیمی “جنہیں ابھی حیض نہ آیا” کی تشریح میں لکھتے ہیں: “(یعنی) بچپن کی وجہ سے، ان کی عدت بھی تین مہینے ہیں۔” (تفسیر نور العرفان)

16) دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی محمد شفیع (سابق مفتی اعظم پاکستان) نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا: “اور اس طرح جن عورتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے) حیض نہیں آیا (ان کی عدت بھی تین مہینے ہے)۔” (معارف القرآن)
نوٹ: عبارت میں بریکٹ والے الفاظ خود مفتی صاحب کے ہیں۔

17) برصغیر پاک و ہند کے مشہور عالم و مفسر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کی تشریح میں کم سنی کو بھی شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کر دینا جائز ہے بلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ جس بات کو قرآن نے جائز قرار دیا ہو اسے ممنوع قرار دینے کا کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا۔” (تفہیم القرآن، ج5 ص571)

18) ہمارے ہاں عام طور جدت پسند سمجھے جانے والے اور غیر روایتی عالم شمار کئے جانے والے علامہ امین احسن اصلاحی اسی آیت کی تشریح میں صغیرہ (چھوٹی بچی) کی عدت کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
“یہی صورت اس کو بھی پیش آ سکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے لیکن وہ مدخولہ ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر آئسہ غیرمدخولہ اور صغیرہ غیرمدخولہ کے لیے تو کسی عدت کی ضرورت نہیں ہے لیکن آئسہ یا صغیرہ، جس کو حیض نہ آیا ہو، اگر مدخولہ ہوں تو ان کے بارے میں چونکہ شبہ کا امکان ہے اس وجہ سے ان کے لیے عدت ہے۔” (تدبر قرآن، ج8 ص442)

سورۃ طلاق کی آیت (4) میں ‘لم یحضن’ کی تشریح میں آج کچھ لوگ معنوی تحریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لئے تفصیل سے ہر دور کے علماء و مفسرین سے اس کی تشریح پیش کر دی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر دور کے آئمہ مفسرین و علماء کا یہی مئوقف رہا ہے کہ اس سے مراد وہ نابالغ اور چھوٹی بچیاں ہیں جنہیں ابھی حیض نہیں آیا اور ان کی مدت عدت بھی قرآن نے تین مہینے مقرر کی ہے۔ اس آیت کی اس تشریح میں تابعین اور امام طبری سے لے کر موجودہ دور میں مولانا مودودی تک کوئی ایک مفسر میرے علم میں نہیں جس نے اس آیت میں نابالغ بچی کی عدت کا انکار کیا ہو۔

چنانچہ وزارت اوقاف و اسلامی امور، کویت کی زیر نگرانی سینکڑوں علماء و محققین کی محنت سے تیار ہونے والے اسلامی فقہ کے انسائیکلوپیڈیا میں کہا گیا:
“فرمان باری ” وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ” سے مراد نابالغ بچیاں ہیں، لہٰذا ان کی عدت تین ماہ ہو گی، اس پر فقہاء کا اتفاق ہے۔” (موسوعہ فقہیہ، ج27 ص60، مجمع الفقہ الاسلامی الہند)

اس تفصیل سے تو بالکل واضح ہے کہ نکاح ہی نہیں بلکہ رخصتی و ہمبستری کے لئے بھی بچی کی بلوغت ہرگز کوئی شرط نہیں کیونکہ یہ بات طے ہے کہ عدت صرف اسی پر ہو سکتی ہے جس کا نکاح ہونے کے بعد ہمبستری بھی کی جا چکی ہو۔ دیکھئے سورۃ الاحزاب (آیت: 49) کہ جس کی رُو سے جس کے ساتھ ہمبستری نہ ہوئی ہو اس پر تو سرے سے کوئی عدت ہی نہیں۔

مشہور محدث و امام نووی لکھتے ہیں: “وأما وقت زفاف الصغيرة المزوجة والدخول بها : فإن اتفق الزوج والولي على شيء لا ضرر فيه على الصغيرة : عُمل به” (شرح مسلم للنووی: 206/9)

یعنی چھوٹی بچی کی شادی کے بعد جہاں تک رخصتی اور ہمبستری کے وقت کا تعلق ہے تو جب دولہا اور بچی کا ولی کسی چیز پر اتفاق کر لیں جس میں بچی کے لئے کچھ حرج نہیں تو اس پر عمل کیا جائے گا۔

مشہور اہل حدیث مفسر مولانا عبدالرحمٰن کیلانی اسی آیت کی تشریح میں نابالغ لڑکیوں کو شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “یا وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا ہو۔۔۔۔۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچیوں کی شادی بھی جائز ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی جائز ہے۔” (تیسیر القرآن، ج4 ص475)

جب یہ ثابت شدہ ہے کہ نکاح و ہمبستری کے لئے کسی عمر یا بلوغت کی کوئی شرط ہی نہیں بلکہ یہ تو محض لبرلز اور سیکولرز کے دباؤ کا نتیجہ کہ آج منبر و محراب سے بھی بلوغت بلوغت کی صدائیں آنا شراع ہو گئیں تو پوچھنا صرف یہ کہ کیا چھوٹی سے چھوٹی کسی بھی عمر کی حد اور شرط کسی دلیل سے ثابت کی جا سکتی ہے؟

Categories
نقطۂ نظر

کم عمری کی شادی؛ اسباب و اثرات

ایک ایسا معاشرہ جہاں آدھی آبادی پڑھی لِکھی نہ ہو، چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو، جہاں نوجوانوں میں سیاسی و سماجی شعور نہ ہو، جہاں عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کی بجائے جائیداد سمجھا جاتا ہو، وہاں کم عمری میں بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی شادیاں کر دینا کوئی عجب بات نہیں ہے۔ کم عمری میں بچوں کو شادی جیسے بندھن میں باندھنا جِسے نبھانے کے لیے ذہنی بالیدگی، فریقین کی ذہنی و جذباتی ہم آہنگی ضروری ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ کم عمری کی شادی محض دو افراد یا خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے شدید متاثر ہوتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نابالغ بچے جو اپنے لیے ووٹ نہیں ڈال سکتے، ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوا سکتے اور سگریٹ نہیں خرید سکتے ان کی شادی کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے معاشرے میں کم سنی کی شادی کا مسئلہ موجود ہے اور روزمرہ معمول کا حصہ ہے۔ اس کے اسباب سماجی بھی ہیں اور مذہبی بھی، المیہ یہ ہے کہ اس حوالے سے موجود قوانین کے نفاذ میں کوئی سنجیدہ نہیں۔
سماجی اسباب
پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیاں اچھی اور فرمانبردار بیویاں نہیں بن سکتیں اِس لیے اِبتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔

 

روایات، اقدار اور رسوم ایسے تصورات کا مجموعہ ہیں جو سماجی نظام چلانے کے لیے قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کئی ایسی فرسودہ روایات موجود ہیں جو بچوں کی کم عمری میں شادی کا باعث بنتی ہیں؛ مثلاً بیٹی کو ذمہ داری یا بوجھ سمجھنا، عزت کو عورت کی جنسی زندگی سے جوڑے جانا وغیرہ۔ شادی بیاہ کے معاملات ہمارے ہاں دوافراد کی جذباتی وابستگی کی بجائے سماجی، سیاسی اور معاشی محرکات کے تحت نپٹائے جاتے ہیں۔ تنازعات کے حل یا تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھی شادی بیاہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں جب عمائدین کِسی قتل کا فیصلہ کرتے ہیں تو مقتول کے ورثاء کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں قاتِل سے خون بہا میں اِتنی زمین اور اِتنی لڑکیاں چا ہیئے ہیں جِسے عام طور پر بانہہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس طرح کے فیصلوں کا شکار بننے والی زیادہ تر لڑکیاں کم عمر ہوتی ہیں اور انہیں فیصلے کے کچھ ہی دِن بعد مقتول کے لواحِقین بانہہ کے طور پر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ انہیں پھر مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کے وہ ذ ہنی اور نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ صوبہ سندھ اور پنجاب میں وٹہ سٹہ کا روایتی نظام بھی اِیسا ہی ہے۔ ونی، سوارا اور وٹے سٹےجیسی رسموں کا شکار بھی زیادہ تر کم عمر لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔ وٹہ سٹہ دو خاندانوں کے درمیان مبادلے (چیز کے بدلے چیز) جیسا ہی ایک معاہدہ ہے جِس میں ایک خاندان کی لرکی کے بدلے دوسرا خاندان بھی لڑکی دینے کا پابند ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیاں اچھی اور فرمانبردار بیویاں نہیں بن سکتیں اِس لیے اِبتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ عورت کو اس کی عمر اور شکل و صورت کی بنیاد پر اہمیت دینے کی وجہ سے بھی جلد شادی کی جاتی ہے کیوں کہ لڑکی جتنی کم عمر اور جتنی خوش شکل ہو گی اس کے لیے اتنے ہی زیادہ موزوں رشتے دستیاب ہوں گے۔
یہ سمجھے بغیر کے مذاہب نے مخصوص سماجی حالات میں کم عمری کی شادی کا جواز پیش کیا تھا جو آج قابل اطلاق نہیں، بہت سے افراد آج بھی کم عمری کی شادی کو مذہبی بنیادوں پر درست بلکہ لازمی سمجھتے ہیں۔

 

معاشی اسباب:
کسی بھی خاندان کی روزمرہ زندگی مناسب طریقے سے چلانے کے لیے مضبوط معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لڑکیوں کی شادیاں اِس وجہ سے بھی کم عمری میں کردی جاتی ہیں کہ چونکہ لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال چلی جائے گی سو کم از کم گھر میں ایک فرد تو کم ہو جائے گا۔ اِس طرح اس کی تعلیم، خوراک، کپڑے جیسی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں جو روپیہ لگنا ہو تا ہے وہ بھی بچ جائے گا۔ کچھ غریب گھرانے اِس وجہ سے کم عمری میں لڑکیوں کی شادیاں معاشی لحاظ سے اپنے سے بہتر گھرانے میں کرتے ہیں کہ وہ وہاں جا کے اچھی معاشی زندگی گزا ر پائیں گی۔ ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ خواتین سے متعلق مشہور مفروضوں کی وجہ سے اکثر لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان کے لیے کسی پیشے سے وابستگی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کے لیے واحد کامیابی جلدازجلد شادی اور سسرال میں نیک نامی ہی سمجھی جاتی ہے۔

 

مذہبی اسباب:
دنیا کے بیشتر مذاہب کم سنی کی شادی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کے مذاہب نے مخصوص سماجی حالات میں کم عمری کی شادی کا جواز پیش کیا تھا جو آج قابل اطلاق نہیں، بہت سے افراد آج بھی کم عمری کی شادی کو مذہبی بنیادوں پر درست بلکہ لازمی سمجھتے ہیں۔ اسلام میں بھی حضرت عاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی سے متعلق پائے جانے والای روایات کی بناء پر علماء کم سنی کی شادی کو حلال سمجھتے ہیں۔

 

اثرات:
کم عمر میں بیاہی جانے والی اکثر لڑکیاں اپنا بچپن پوری طرح سے نہیں گزار پاتیں جو بہت سی نفسیاتی اور جذباتی الجھنوں کا باعث بنتا ہے۔ شادی کے بعد فوراً ماں بننے کا دباو بھی کم عمر لڑکیوں میں زچگی کے دوران زیادہ اموات کی وجہ ہے۔ کم عمر لڑکیوں کے حمل کے دوران مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسی لڑکی کے لیے جسے جسمانی نشوونما مکمل ہونے سے پہلے ماں بننے پر مجبور کیا جاتا ہے کے لیے حمل کا جسمانی اور نفسیاتی دباو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔

 

تدارک:
اِس سماجی مسئلےکا حل تعلیم سے ممکن ہے۔ معاشرے میں عورت سے متعلق پائے جانے والے عام تصورات تبدیل کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔ کیونکہ بیشتر لوگ اپنی بیٹیوں کو گھر سے دور تعلیم کے سلسلے میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادی کے تدارک کے لیے شادی کے لیے کم سے کم حد سے متعلق قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ خصوصاً نکاح خواں حضرات کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ لڑکے اور لڑکی کے شناختی کارڈ یا پیدائش کی معلومات کی تصدیق کیے بغیر نکاح نہ پڑھائیں۔ مذہبی تشریحات میں اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو کم عمری میں شادی کو مذہبی فرضہ سمجھنے کے مغالطے سے نکالا جا سکے۔