Categories
نقطۂ نظر

“ٹرمپ کی جیت؛ عالمی جہادی تنظیموں کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

یہی خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

صفِ اول کی تمام جہادی تنظیموں نے ٹرمپ کی جیت میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ امریکی تاریخ کے وحشت ناک ترین واقعے کی ذمہ داری کسی بھی جہادی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی بلکہ اسے امریکہ کی اپنی ‘کارستانی’ قرار دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہونے پر خبرستان ٹائمز نے تمام اہم عالمی جہادی تنظیموں سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کی جانب سے اس سانحے میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے۔

 

دنیا کی تمام جہادی تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے، “وللہ ہم ایسا چاہتے تھے مگر قسمے ہم نے ایسا کیا نہیں۔” یہ بیان پر امن سیاسی کوششوں کے لیے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر جاری کیا گیا۔ کانفرنس کا انعقاد آئی ایس آئی ایس نے کیا اور صدارت القاعدہ نے کی جس میں طالبان، لشکر جھگنوی، بوکو حرم، النصرہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک پارٹی سمیت دیگر جہادی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔

 

دنیا کے کسی نامعلوم مقام پر اس کانفرنس کے دوران شرکاء نے ٹرمپ کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا تاہم اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حملے کے لیے درکار وسائل ان کے پاس موجود نہیں۔ “یہ امریکیوں کی اپنی کارستانی ہے۔” کانفرنس کے بعد جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں جلی حروف میں لکھا تھا “ہم بھی انسان ہیں اور ایک پورے ملک کے ساتھ ہم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔ اس بار کوئی سازش نہیں کی گئی یہ صحیح معنوں میں چو٭یاپا ہوا ہے۔”

 

بیان میں مزید کہا گیا، “ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں خدا امریکہ کے حال پر رحم کرے ؛)”

 

کانفرنس میں مستقبل میں امریکہ کو نظریات کی برآمد پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر داعش کی جانب سے “امریکہ کو پھر سے عظیم بنا دیں” کی عبارت والے لوٹے بھی تقسیم کیے گئے۔ بوکو حرام نے اس موقع پر اوبامہ کو اسلام قبول کرنے اور کینیا میں بوکوحرام کی شاخ کا امیر بننے کی دعوت بھی دی۔ کانفرنس کے دوران القاعدہ کی جانب سے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے نو گیارہ جیسے مزید سانحوں میں کمی کا امکان ہے۔ القاعدہ نے نو گیارہ کی طرز پر ٹرمپ ٹاورز پر حملوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم کا بھی آغاز کیا۔ اختتام پر اسامہ بن لادن اور ملا عمرکی یاد میں موم بتیاں بھی جلائی گئیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

مرد عورتوں کے بارے میں کیا باتیں کرتے ہیں

یہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی نہیں جو اپنی نجی محافل میں عورتوں کو پکڑنے، چھونے، بوس و کنار کرنے اور ان کے ساتھ من چاہا سلوک حتیٰ کہ ان پر جنسی حملے کرنے کی خواہشات اور واقعات بیان کرتا ہے، بدقسمتی سے مردانہ گفتگو میں عورتوں کا تذکرہ انہی معنوں میں اکثر جگہ ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حال ہی میں سامنے آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘اگر آپ سٹار ہیں تو عورتیں آپ کو سب کچھ کرنے دیتی ہیں۔ آپ (ان کے ساتھ) کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ یہ گفتگو محض اس لیے اہم نہیں کہ اس قسم کی گفتگو کرنے والا شخص امریکی صدر بن سکتا ہے۔ یہ گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ بہت سے مرد عورتوں کا جنسی استحصال اور ان پر جنسی حملے اپنا حق سمجھتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ایسے واقعات پر فخر بھی کرتے ہیں۔ بعض مرد تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عورت ایسی جنسی جارحیت کو پسند کرتی ہے۔

 

یہ گفتگو ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہمارا معاشرہ مردوں کی تربیت اس طرح کر رہا ہے کہ وہ جنسی استحصال کو اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ یہ گفتگو محض چند لوگ کرتے ہوں، مردانہ محفلوں میں ریپ اور جنسی حملوں پر مبنی گفتگو عام ہے۔ فحش لطیفے ہوں، فحش کہانیاں ہوں، پورن ہو یا عام بول چال ہر جگہ عورت کا ذکر اس کی جنسی قدروقیمت کے تناظر میں ہوتا ہے۔ اس سب گفتگو کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والے مرد یہ خیال نہیں کرتےکہ عورت جنسی معاملات میں انکار کرنے یا اپنی مرضی سے انتخاب کرنے کا حق بھی رکھتی ہے۔ مردانہ محفلوں کی جنسی گفتگو زیادہ تر اس ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے کہ کس طرح وہ کسی عورت کو جنسی طور پر فتح کر سکتے ہیں، یا انہوں نے کتنی عورتوں کو اب تک اپنی مردانگی سے زیر کیا ہے۔ اس قسم کی مردانہ گفتگو سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مرد عورت کو اپنی خواہشات کی تسکین کے ایک موقعے کے طور پر دیکھتے ہیں ایک انسان کے طور پر نہیں۔ کیلے آکسفورڈ نے حال ہی میں ٹرمپ کی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد خواتین سے جنسی ہراسانی اور جنسی حملوں کے واقعات بیان کرنے کو کہا۔ اس کے جواب میں کی جانے والی ٹویٹس نہایت ہولناک ہیں۔

 

یہ گفتگو ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہمارا معاشرہ مردوں کی تربیت اس طرح کر رہا ہے کہ وہ جنسی استحصال کو اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ جنسی عمل بالغ افراد کی باہمی رضامندی سے سرانجام پانے والا عمل ہے اسے فاعل اور مفعول کی حاکمیت اور محکومیت کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہی رویے جنسی جرائم کا ذمہ دار عورت کو قرار دیتے ہیں یا اس سے بھی خطرناک یہ کہ عورت جنسی استحصال سے محظوظ ہوتی ہے۔ مردوں کو جنس سے متعلق ملنے والی تعلیمات یا معلومات اکثر تھڑوں، ہوٹلوں یا پورن پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ تعلیم انہیں یہ سکھاتی ہے کہ عورت ایک جنسی وجود ہے اور وہ بطور مرد ہر عورت سے اپنی خواہشات کی تکمیل کا خصوصی استحقاق رکھتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ایسی گفتگو کرنے والا ہر مرد اپنے سنائے لطیفوں یا بڑھکوں جیسا عمل بھی کرتا ہے لیکن اس قسم کی گفتگو یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ مردوں کی ‘مردانہ تربیت’ میں انہیں جنسی جرائم سے متعلق آگاہی اور شعور نہیں دیا جاتا۔ مگر یہ مردانہ جارحیت خواتین کو نہ صرف خوفزدہ کرتی ہے بلکہ ان پر پابندیاں بھی لگانے کا باعث ہے۔ پردہ، محرم اور چاردیواری جیسے تصورات اسی مردانہ جارحیت کا نتیجہ ہیں۔

 

امریکی صدارت کا امیدوار اگر ایک عورت پر جنسی حملے اور عورتوں کے ساتھ نازیبا رویے کو اپنی طاقت اور کامیابی کے طور پر بیان کرتا رہا ہے تو سوچیے یہ رویے کس قدر عام ہیں۔
اس طرز گفتگو سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارے ہاں مردوں اور عورتوں کے مابین اس قدر وسیع خلیج حائل ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔ مرد عورتوں سے متعلق یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا چاہتی ہیں اور مردوں کی غیر ذمہ دارانہ اور غیر محتاط جنسی گفتگو سے کس قدر خوف محسوس کرتی ہیں۔ امریکی صدارت کا امیدوار اگر ایک عورت پر جنسی حملے اور عورتوں کے ساتھ نازیبا رویے کو اپنی طاقت اور کامیابی کے طور پر بیان کرتا رہا ہے تو سوچیے یہ رویے کس قدر عام ہیں۔ ہم مردوں کو یہی سکھاتے ہیں کہ مرد طاقت ور ہیں، اتنے طاقت ور کہ انہیں عورتوں کی آزادی، خود مختاری یا مرضی کا احترام کرنے کی ضرورت نہیں وہ اپنے عہدے، پیسے، خوبصورتی اور طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی عورت کو کہیں بھی اپنی جانب ملتفت کر سکتے ہیں۔ جب تک مردانگی کا عورتوں کی جانب یہ جارحانہ رویہ تبدیل نہیں ہوتا تب تک ہم مردوں سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ عورت کو ایک جنسی وجود کی بجائے ایک انسان سمجھیں۔ جب تک عورت کے خلاف جرم کو مرد اپنی کامیابی قرار دیتے رہیں گے اور “مرد تو پھر مرد ہے” جیسے باتیں کی جاتی رہیں گی ہم عورت کو تحفظ فراہم نہیں کر سکیں گے۔