Categories
نقطۂ نظر

جشن شندور اور خاکی برادری

سطح سمندر سے بارہ ہزار تین سوپچیس فٹ بلندی پر واقع دنیا کے بلند ترین پولوگراؤنڈ شندور میں سالانہ تین روزہ جشنِ شندور بخیروعافیت احتتام پزیر ہوا۔ گلگت بلتستان کی پولو ٹیموں نے بھی شرکت کرکے اس جشن کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جشنِ شندور دراصل چترال اور گلگت بلتستان کی مشترکہ ثقافتی اقدار کا امین ہے لیکن وقتاً فوقتاً مفاد پرست طبقات کی ذاتی انا اور سیاست دانوں کی غیر ضرورتی مداخلت کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے یہ جشن متنازعہ ہو چکا ہے۔ رواں سال بھی خیبر پختونخوا حکومت اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان جشنِ شندور سے متعلق گفت وشنید ہوئی لیکن افسوس ناک امریہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے درمیان جشنِ شندور سے متعلق کوئی حوصلہ افزاء پیش رفت نہ ہوئی اور یوں مذاکرات میں حکومت گلگت بلتستان کی نمائندگی کرنے والے پارلیمانی سیکرٹری فداخان فدا نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کر دیا کہ گلگت بلتستان علیحدہ سے شندور میں تین روزہ جشن منعقد کرے گا۔ خاکسار نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ سیاست دان جشن شندور کو متنازعہ بنا کر نہ صرف علاقے کو ترقی سے روک رہے ہیں بلکہ غیر ضروری بیانات سے علاقے میں امن وامان کا مسئلہ بھی پیداکر رہے ہیں لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔

 

رواں سال بھی خیبر پختونخوا حکومت اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان جشنِ شندور سے متعلق گفت وشنید ہوئی لیکن افسوس ناک امریہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے درمیان جشنِ شندور سے متعلق کوئی حوصلہ افزاء پیش رفت نہ ہوئی
اس ساری صورتحال میں چترال کی سیاسی قیادت کے لئے جشنِ شندورکے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی پیش رفت ممکن نہ رہی، جس کی وجہ سے ‘خاکی برادری’ میدان میں کود پڑی۔ پھر کیا تھا گلگت بلتستان بھی بلاچوں و چرا مطالبات کو پس پشت ڈال کر شندور کی جانب روانہ ہو گیا، چترالیوں کی ہٹ دھرمی کے غبارے سے بھی ہوا نکل گئی اور وہ بھی بغیر کسی حیلے بہانے کے شندور پہنچ گئے۔ اس سال کی خاص بات یہ تھی کہ جشن شندور کے لئے فنڈز تو وزارت سیاحت کی جانب سے مختص کیے گئے لیکن وزارت جشن کے انتظامات کرنے سے قاصر رہی۔ یوں خاکی براردی نے جمہوری حکومت کے جاری کردہ فنڈز لے کر انتظامات اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔

 

سیکیورٹی کے لیے جہاں چترال سکاؤٹ کے چاق و چوبند دستے کھڑے نظر آئے وہیں ان کے پہلو بہ پہلو ناردن لائیٹ انفنٹری (این ایل آئی) کے خوبرو نوجوان بھی کھڑے تھے۔ خیبرپختونخوا پولیس کے ساتھ گلگت بلتستان پولیس بھی نہ صرف شندور میں موجود تھی بلکہ سیکیورٹی کے فرائض بھی خوش اسلوبی سے نبھا رہی تھی۔ شندور میلے پر اس عسکری شب خون پر نہ کسی صحافی کو اعتراض کی جرات ہوئی اور نہ ہی اس کے پیچھے کسی کو ‘را’ کی سازش محسوس ہوئی۔

 

منتخب نمائندوں نے عوامی دباو میں آ کر سڑکوں کی بحالی کے لئے جاری شدہ فنڈ ایک عسکری ادارہ فرنٹئیر ورک آرگنائزیشن کے حوالے کر دیے۔ مگر بدقسمتی سے عسکری اداروں کی کارکردگی بھی سول اداروں کی سی رہی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ عوام اور سول سوسائٹی کی نااتفاقی کی وجہ سے مختلف اسکیموں کے لئے مختص شدہ رقم عسکری قیادت کی جیبوں میں چلی گئی ہو۔ گزشتہ برس جب چترال میں تباہ کن سیلاب آیا تھا توچترال کے عوام نے یک زبان ہو کر اعلان کیا کہ انفراسٹریکچر کی بحالی کی ذمہ داری پاک فوج کو سونپی جائے۔ یوں منتخب نمائندوں نے عوامی دباو میں آ کر سڑکوں کی بحالی کے لئے جاری شدہ فنڈ ایک عسکری ادارہ فرنٹئیر ورک آرگنائزیشن کے حوالے کر دیے۔ مگر بدقسمتی سے عسکری اداروں کی کارکردگی بھی سول اداروں کی سی رہی۔ ایف ڈبلیو او نے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کیا گل کھلائے اس کا احوال جاننے کے لئے متاثرہ علاقوں کے عوام سے رابطہ کیاجائے تو اصل حالات کا پتہ چلتاہے اس سے زیادہ لکھنا خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بدقسمتی سے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے ان سے سیکھنے کی بجائے بعض طبقات اس سلسلے میں بھی ایم پی اے مستوج سردارحسین صاحب کو موردالزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

چترال اور گلگت بلتستان میں بھی ملک بھر کی طرح سول ادارے بتدریج اپنی ذمہ داریاں عسکری اداروں کے سپرد کرتے جا رہے ہیں۔ رواں برس چترال میں منعقد ہونے والا سب سے بڑا جشنِ شندور بھی براہ راست فوج کی زیر نگرانی منعقد ہوا۔ ٹورنامنٹ سے قبل اور ٹورنامنٹ کے دوران وقوع پزیر ہونے والی چند اہم واقعات پر غور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جشن شندور شروع ہونے سے صرف چار روز قبل جنرل آفیسر کمانڈنگ ملاکنڈ ڈویژن نے لاسپور کے ایک گاؤں شاہی داس کے مقام پر ایک سو پچاس کلوواٹ کے بجلی گھر کا افتتاح کیا حالانکہ اس بجلی گھر کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے فنڈنگ کی تھی اور محکمہ پیڈو نے سرحد رورل سپورٹ پروگرام نامی ایک این جی او کے ذریعے یہ بجلی گھر تعمیر کیا تھا۔ ایک سو پچاس کلوواٹ کے اس بجلی گھر سے لاسپور کے صرف دوگاؤں شاہی داس اور گشٹ مستفید ہو رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کے جاری کردہ فنڈ سے تعمیر ہونے والی اس معمولی بجلی گھر کا افتتاح ایک فوجی افسر کے ذریعے کیوں کروایا گیا؟ قیاس کیاجاتا ہے کہ جشن شندور کے موقع پر ایک فوجی آفیسر کے ذریعے اس بجلی گھر کا افتتاح کرا کے لاسپور کے عوام کوجشن شندور سے متعلق تنبیہہ کی گئی ہو کہ خبردار! اس سال مقتدر اداروں کے زیر انتظام یہ جشن منعقد ہو رہا ہے لہٰذا خاموشی سے بلاتامل اس میں شرکت کی جائے کسی قسم کے پریشانی کی صورت میں انجام بھیانک ہو گا۔
روایت رہی ہے کہ ہر سال جشن شندور کے موقع پر چترال سے لےکر شندور تک سڑکوں کی مرمت کی جاتی ہے اس سال بھی سڑکوں کی مرمت ہوئی لیکن مستوج سے آگے جہاں لاسپور کا علاقہ شروع ہوتا ہے سے لے کر شندور تک سڑک کی نہ صرف بہتر انداز سے مرمت کی گئی بلکہ گڑھوں میں مٹی بھر کر سڑک کو مکمل طورپر ہموار کیا گیا اس کے برعکس مستوج سے نیچے اسی سڑک پر کوئی خاطر خواہ کام نہ ہوا۔ یہ رحجانات پاکستان میں جاری سول عسکری سرد مہری اور سول انتظامیہ کی بے عملی کے عکاس ہیں۔

 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کے جاری کردہ فنڈ سے تعمیر ہونے والی اس معمولی بجلی گھر کا افتتاح ایک فوجی افسر کے ذریعے کیوں کروایا گیا؟
پچھلے سال مئی کے مہینے میں ایک تنظیم کی جانب سے پشاور میں جشن شندور سے متعلق سیمنار منعقد ہوا تھا جس میں گلگت بلتستان کے وزراء اور مشیران سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کی نمائندگی وزیر اعلیٰ کے ایک مشیر نے کی جبکہ ایم پی اے مستوج جناب سردارحسین صاحب نے بھی اس سیمنار میں شرکت کی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں طوفان برپا ہوا کسی کو اس سیمنار کے پس پردہ را کا ہاتھ نظر آیا تو بعض طبقات نے یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ ایم پی اے مستوج نے شندور کی زمین کو گلگت بلتستان کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔ یہ طوفان اتنا بڑھ گیا کہ لاسپور کے عوام نے ایم پی اے کو باقاعدہ دھمکی دی۔ چونکہ ان دنوں صوبے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہو رہے تھے اور اسی مناسبت سے لاسپور میں جشن شندور سے متعلق اس سیمنار کو موضوع بنا کر سیاسی مقاصد بھی حاصل کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس سال ایم پی اے مستوج سردار حسین نے جشن شندور سے متعلق نہ تو کسی اجلاس میں شرکت کی اور نہ ہی جشن شندور کے انتظامات میں پیش پیش نظر آئے۔ منتخب نمائندے کی حیثیت سے ٹورنامنٹ سے متعلق اگر صوبائی حکومت سردارحسین کی مدد لیتی تو شائد خاکی برادری کو اس جشن میں کودنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

 

چترال میں انتظامی امور میں عسکری شمولیت کا بھی وہی نتیجہ نکلا جو ملک کے دیگر حصوں میں نکلا ہے۔ ایک مرتبہ جب جشن کے انتظامات عسکری قیادت کے پاس چلے گئے تو جشن سے متعلقہ تمام فیصلے بھی فوج نے اپنے “ذمے” لے لیے۔ جشن میں کسی سیاسی نمائندے کو بلانے کی بجائے آرمی چیف کو بلایاگیا۔ جب حالات ہاتھ سے نکلتے محسوس ہوئے تو ٹورنامنٹ کے پہلے روز وزیر اعلیٰ جناب پرویز خٹک صاحب نے شندور آکر جشن کا افتتاح کیا۔

 

ایک مرتبہ جب جشن کے انتظامات عسکری قیادت کے پاس چلے گئے تو جشن سے متعلقہ تمام فیصلے بھی فوج نے اپنے “ذمے” لے لیے۔
چترال کے عوام کے مفادات کے تناظر میں بات کی جائے تو یہ جشنِ شندور ہی ہے جس کی توسط سے چترال میں بہت سارے ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ لواری ٹنل جیسے بڑے منصوبے سے متعلق عوامی آواز بھی جشن شندور کی مناسبت سے ہی ایوان اقتدار تک پہنچی اور اسی جشن شندور کے موقع پر سابق صدر جرنیل پرویز مشرف نے چترال آکر لواری سرنگ پر کام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اگر اس سال بھی عوام اور بالخصوص سول سوسائٹی ہوش کے ناخن لیتے اور صوبائی حکومت، منتخب عوامی نمائندگان کو دباؤمیں لانے کی بجائے ان کے سامنے یہ موقف رکھتے کہ جشن میں وزیر اعظم پاکستان کو مدعو کیا جائے اور اگر وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب اس جشن میں تشریف لاتے تو شائد شمالی علاقہ جات بالخصوص چترال میں بہت سارے ترقیاتی کام شروع ہو جاتے۔ اگر کسی وفاقی وزیر کو بھی بلایا جاتا تو علاقے کے مفاد میں مفید ثابت ہوتا آرمی چیف کی بجائے اگر وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک اور چیرمین پاکستان تحریک انصاف جناب عمران خان آتے تب بھی علاقے کے عوام کو اس کے بہت سے فوائد ملتے۔

 

چترال کے لوگ چترال میں آ کر پرامن رہ کر موسیقی کی تھاپ پر رقص کرنے والوں کو اپنا دیوتا مانتے ہیں یہی کچھ سابق صدر پاکستان جرنیل پرویز مشرف سے متعلق ہمارا رویہ رہا ہے اور موجودہ آرمی چیف جرنیل راحیل شریف کی جشن شندور میں شرکت کے بعد بھی ہمارا طرزِعمل نہیں بدلا۔ اب اگر چترالی عوام کے جذبات جھاگ کی طرح بیٹھ چکے ہیں تو انہیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہئے کہ کہیں وہ عسکری اداروں کو شامل کر کے جشن شندور پر کچھ پانے کی بجائے بہت کچھ کھو تو نہیں بیٹھے۔

Image: Dawn.com

Categories
نان فکشن

جیفری ڈگلس لینگلینڈز۔۔۔پاکستان کا مسٹر چپس

ذکی نقویdg langlands

چترال کے دور دراز علاقے میں پبلک اسکولنگ کی بنا ڈالنے والے بزرگ استاد اور چترال کے پہلے انٹرمیڈئیٹ کالج کے بانی پرنسپل میجر جیفری ڈگلس لینگلینڈز حال ہی میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔اور پاکستان کے قیام سے کہیں پہلے کے وقت سے جاری اپنی خدمات سے سبکدوشی کے بعد ۹۵ برس کی عمر میں برطانیہ لوٹ گئے ہیں۔ وہ ۱۹۸۹ء سے جی ڈی لینگلینڈز کالج چترال کے پرنسپل تھے۔ میجر ڈگلس لینگلینڈز اگرچہ بنیادی طور پر ایک فوجی تھے لیکن انہوں نے پاکستان میں جو تعلیمی خدمات سرانجام دی ہیں، ان کی وجہ سے وہ پاکستان کے ایک ناقابل فراموش محسن ہیں۔ ۱۹۵۴ء سے اب تک کی ہر نوجوان نسل ان کی ممنون ہے کہ انہوں نے وطنِ عزیز کے مختلف تعلیمی اداروں میں جس بے لوث جذبے اور لگن سے تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں، اس کی مثال ہماری تدریسی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

میجر جیفری ڈگلس لینگلینڈز اکتوبر ۱۹۱۸ء میں برطانیہ کے مشہور صنعتی قصبے برسٹل کے ایک ازحد غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اہلِ محلہ کی مدد اور علاقہ کے مہربان اساتذہ کے تعاون سے میٹرک تک کی تعلیم بھی کافی تنگدستی کے عالم میں حاصل کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے اچھے لوگوں کی مہربانیوں کی وجہ سے انہیں یہ خیال آیا کہ وہ بھی ان نیکیوں کے عوض معاشرے کی خدمت کریں اور نادار مفلس طبقے کی تعلیم کی صورت میں خدمت کر جائیں۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے ۱۹۳۶ء میں کوُمبی ہال اسکول لندن میں اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز پانچ پونڈ ماہانہ تنخواہ سے کیا۔ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر انہوں نے ونسٹن چرچل کا اعلان جنگ سنتے ہی فوج میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اولین طور پر بطور سپاہی بھرتی ہوئے، پھر کمانڈوز میں شمولیت اختیار کی اور دوسری جنگِ عظیم کی مشہور لڑائی ‘Battle of Diepp’ میں حصہ لیا۔ 1944ء میں انہیں رائل انڈین آرمی میں کمیشن ملا اور دوسری جنگِ عظیم کے اختتام تک 18 گڑھوال رائفلز میں خدمات سرانجام دیں۔ تقسیم کے وقت انہوں نے پاکستان آرمی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور پاک فوج کی 15 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ پاک فوج میں خدمات کے دوران انہوں نے زیادہ تر عرصہ آئی ایس ایس بی کوہاٹ میں گروپ ٹاسک آفیسر کے طور پر گزارا۔ اور مشرقی پاکستان میں ایک کیڈٹ کالج (جس کا نام انہیں یاد نہیں، اغلب امکان ہے کہ فوجدار کیڈٹ کالج) کی بنیاد بھی رکھی۔ اس کام میں کیڈٹ کالج حسن ابدال کے بانی کرنل ہیوف کیچ پول بھی ان کے ساتھ تھے جو کہ بعد میں بھی ان کے ساتھ رہے۔

میجر لینگلینڈز نے جن طلبہ کو پڑھایا، ان میں سے چند نام انہیں بخوبی یاد ہیں۔ ان کے نامور شاگردوں میں سابق صدر پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری، بانئ تحریک انصاف عمران خان، میر ظفر اللہ خان جمالی (سابق وزیر اعظم)، بیرسٹر اعزاز احسن اور سید فخر امام شامل ہیں۔

1954ء میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خاں کے اصرار پر وہ برطانیہ واپس جانے کی بجائے ایچی سن کالج لاہور میں تدریسی خدمات کے طور پر مامور ہو گئے۔ جہاں انہوں نے 1979ء تک بطور ہاؤس ماسٹر ٹیچر کے، خدمات سرانجام دیں۔ اس عرصہ میں میجر لینگلینڈز نے جن طلبہ کو پڑھایا، ان میں سے چند نام انہیں بخوبی یاد ہیں۔ ان کے نامور شاگردوں میں سابق صدر پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری، بانئ تحریک انصاف عمران خان، میر ظفر اللہ خان جمالی (سابق وزیر اعظم)، بیرسٹر اعزاز احسن اور سید فخر امام شامل ہیں۔

میجر لینگلینڈز جب ایچی سن کالج سے ریٹائرڈ ہوئے تو یہ شمالی وزیرستان کے پہلے کیڈٹ کالج، کیڈٹ کالج رزمک کے قیام کے اولین دن تھے اور اس وقت کوئی ماہر تعلیم، فوجی افسر یا استاد اس علاقے میں کیڈٹ کالج رزمک کے پرنسپل کے طور پر زیادہ عرصہ ٹھہرنے کو تیار نہ تھا۔ میجر لینگلینڈز نے اس نازک موقع پر کیڈٹ کالج رزمک کے پرنسپل کے طور پر ادارے کی باگ ڈور سنبھالی اور اگلے دس سالوں میں اس ادارے کو ملک کا ایک اعلیٰ پایے کا کیڈٹ ساز اسکول بنایا۔ 1987ء میں مقامی پٹھان لیڈروں نے انہیں اغوا بھی کیا لیکن چند روز بعد رہا کر دیا گیا۔

1989ء میں ڈپٹی کمشنر چترال نے میجر لینگلینڈز نے استدعا کی کہ وہ چترال میں ایک پبلک اسکول کے قیام میں ضلعی حکومت کی مدد کریں اور ادارے کے سربراہ کے طور پر ادارے کو پروان چڑھائیں۔ سئیو راج پبلک اسکول کے نام سے قائم ہونے والا یہ ادارہ چترال کے علاقے کا پہلا معیاری پبلک اسکول تھا۔ میجر لینگلینڈز نے اس ادارے کے لیے جو خدمات دیں، ان کے اعتراف میں اس ادارے کا نام جی۔ڈی۔ لینگلینڈز پبلک اسکول رکھ دیا گیا۔ گزشتہ ایک عشرے میں صوبہ سرحد کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے پاکستان میں مقیم کئی انگریزوں کو حکومت برطانیہ نے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا لیکن میجر لینگ لینڈز نے اپنے اسکول کے بچوں کو چھوڑ کر برطانیہ جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور استاد انہیں جو محبت اور احترام پاکستان میں ملا ہے، وہ مغرب میں کبھی نہیں مل سکتا۔

گزشتہ ایک عشرے میں صوبہ سرحد کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے پاکستان میں مقیم کئی انگریزوں کو حکومت برطانیہ نے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا لیکن میجر لینگ لینڈز نے اپنے اسکول کے بچوں کو چھوڑ کر برطانیہ جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور استاد انہیں جو محبت اور احترام پاکستان میں ملا ہے، وہ مغرب میں کبھی نہیں مل سکتا۔

چند سال قبل، کبر سنی کے پیش نظر انہوں نے پرنسپل کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا اور اس امر کا اظہار کیا کہ وہ یہ عہدہ کسی انگریز ہی کو دیں گے کیونکہ پاکستانیوں میں نصف صدی گزارنے کے بعد بھی وہ اس بات کے قائل ہیں کہ جس درجہ کی پیشہ ورانہ ڈسپلن کی انہیں ضرورت ہے، وہ انہیں کسی انگریز ہی میں مل سکتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کئی انگریزوں اور اہل یورپ سے بات کی لیکن کوئی پاکستان آنے کو تیار نہ ہوا۔ بالآخر مارچ 2013ء میںنامور انگریز صحافی مادام کیری شفیلڈ نے ان سے پرنسپل کے عہدے کا چارج لے لیا۔

میجر ڈگلس لینگلینڈز ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔ راقم نے ان سے ان کے تجرد کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ بطورِ ہاؤس ماسٹر وہ اس لیے شادی کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے کہ پھر وہ اپنے طلبہ کو وقت نہ دے پاتے، ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں میں اگر کوئی انگریز یا اینگلو پاکستانی خاتون ان سے شادی پر رضامند ہوئیں بھی تو ان کاپہلا مطالبہ یہ تھا کہ شادی کے بعد وہ برطانیہ چلے جائیں۔ میجر لینگلینڈز جڑواں پیدا ہوئے تھے اور ان کے بھائی الیکسانڈر جان لینگلینڈز جو کہ برطانوی فضائیہ سے ریٹائرڈ ہیں، برطانیہ کے ایک اولڈ ہوم میں مقیم ہیں۔ میجر ایک دو دفعہ اپنے بھائی سے ملنے کے لیے برطانیہ گئے تھے جس کے اخراجات ان کے لیے ایک سابق شاگرد نے ادا کیے تھے۔ میجر لینگلینڈز انتہائی سادہ طرزِ زندگی رکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی تنخواہ اس قدر کم کیوں ہے جبکہ ان کے کچھ لیکچرر صاحبان ان سے زیادہ تنخواہ پا رہے ہیں۔ میجر لینگلینڈز کا جواب ان کی پیشہ ورانہ دیانت داری کا مظہر ہے؛ انہوں نے کہا “کیونکہ میں گریجوایٹ نہیں ہوں” وہ کومبی ہائی اسکول لندن میں تدریس کے ساتھ ساتھ گریجوایشن کے طالب علم ہی تھے کہ دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی اور ان کی گریجوایشن مکمل نہ ہو سکی۔ میجر لینگلینڈز کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ ہے، کبرسنی کے باعث ان کی یادداشت کچھ کمزور پڑ گئی ہے لیکن پھر بھی چند سال قبل تک وہ ریاضی بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ پر اہلِ چترال بہت اداس تھے اور مُصر بھی تھے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چترال میں رہیں۔ اپنے طلباء اور ادارے کے ساتھ اس
وابستگی اور کلاسیکی تدریسی روایات کی حامل شخصیت کی وجہ سے انہیں پاکستان کا “مسٹر چپس” بھی کہا جاتا ہے۔

چترال جو کہ اب تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی سہولیات سے مالامال ہو چکا ہے، میجر ڈگلس لینگلینڈز کا شکر گزار ہے کہ ان کے طلباء ہر سال ایف سی یو لاہور، غلام اسحٰق خاں انسٹیٹیوٹ اور کئی دوسری بڑی یونیورسٹیوں میں اسکالر شپ حاصل کر چکے ہیں اور یہ پس ماندہ علاقہ اب تعلیم کے میدان میں 1980ء کی دہائی کی نسبت بہت آگے نکل چکا ہے۔

جی۔ڈی لینگلینڈز کالج چترال میں اس وقت 1000 کے لگ بھگ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ چترال جو کہ اب تعلیم
اور اعلیٰ تعلیمی سہولیات سے مالامال ہو چکا ہے، میجر ڈگلس لینگلینڈز کا شکر گزار ہے کہ ان کے طلباء ہر سال ایف سی یو لاہور، غلام اسحٰق خاں انسٹیٹیوٹ اور کئی دوسری بڑی یونیورسٹیوں میں اسکالر شپ حاصل کر چکے ہیں اور یہ پس ماندہ علاقہ اب تعلیم کے میدان میں 1980ء کی دہائی کی نسبت بہت آگے نکل چکا ہے۔
میجر لینگلینڈز کو ان کی خدمات کے صلے میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے نشانِ امتیاز، گورنر پنجاب کی طرف سے ٹیچر ایمریٹس، اور ملکہ برطانیہ کی طرف سے ممبر آف برٹش ایمپائر (ایم بی ای) اور آرڈر آف سینٹ مائیکل اینڈ جارج کےاعزازات مل چکے ہیں۔