Categories
نان فکشن

نیلی فلموں کی تاریخ اور سیاسی معیشت

[blockquote style=”3″]

عامر رضا کی یہ تحریر اس سے قبل ایک روزن پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ یہ تحریر لالٹین اور ایک روزن کے مابین مواد کی باہمی تقسیم و شراکت کی مفاہمت کے تحت شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

انسانی تہذیب اور پورنوگرافی کا ساتھ اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ خود ہے۔ پتھر کے زمانے سے انسان اپنے جنسی عمل کو کسی نہ کسی طریقے سے ریکارڈ کرتا آیا ہے۔ غاروں کی دیواروں پر تصویر کشی کے ساتھ وجود میں آنے والی پرنو گرافی وقت کے ساتھ ساتھ اظہار کے نئے نئے طریقے اپناتی گئی۔

 

غاروں کی دیواروں پر جنسی عمل کا اظہار
غاروں کی دیواروں پر جنسی عمل کا اظہار
پورن فلمز انڈسٹری نے دیگر انڈسٹریز کی طرح جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کے اپنے وجود کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ فلم سازی کی اس صنف میں جدت بھی پیدا کی
پہلا نظریہ تو یہ ہے کہ پورن فلمز انڈسٹری نے دیگر انڈسٹریز کی طرح جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کے اپنے وجود کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ فلم سازی کی اس صنف میں جدت بھی پیدا کی، سائیکالوجی کے جدید نظریات کے سامنے رکھتے ہوئے نئے نئے یانراز بھی تراشے گئے۔ ریاست جو کہ پورن فلمز کو سختی سے کنٹرول کرتی تھی وقت پڑنے کے ساتھ ساتھ اس کی گرفت کمزور پڑتی گئی اور پھر رفتہ رفتہ ختم ہو گئی۔اور اب ریاست کی طرف سے ہتھیار ڈالنے والی کیفیت نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ اب اس انڈسٹری کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر کے معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں۔

 

موشن پکچرزکی ایجاد کے ساتھ ہی پورن فلمیں بھی وجود میں آ گئیں۔ اس وقت ان فلمز کو سٹیگ فلمز کہا جاتا تھا اے فری رائیڈ دنیا کی سب سے پرانی سٹیگ فلم ہے جو کہ انیس سو گیارہ میں بنائی گئی (فلم کی ریلیز کے حوالے سے کچھ فلم مورخین کا کہنا ہے کہ فلم انیس سو پندرہ میں بنائی گئی اور ریلیز کی گئی)۔

 

دنیا کی پہلی پورن فلم اے فری رائیڈ
دنیا کی پہلی پورن فلم اے فری رائیڈ
عملے کے نام بھی فرضی مگر ہیجان انگیز ہوتے تھے
عملے کے نام بھی فرضی مگر ہیجان انگیز ہوتے تھے
سٹیگ فلمز کو بنانا اور انہیں نمائش کے لیے پیش کرنا ایک مشکل کام تھا۔ ڈیوڈ ٹامس کی کتاب “ان بلیک وائٹ اینڈ بلیو۔۔ اروٹک سینما فرام وکٹورین ایج ٹو وی سی آر” میں اس سلسلے میں کچھ دلچسپ حقائق بیان کئے گئے جو مختلف سفرنامے اور دیگر تاریخ ریکاڑد سے اکٹھے کئے گئے ہیں کہ کس طرح پورن فلمز ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچتی اور ان کو دکھانے کے لیے ہال کرائے پر لیے جاتے اور پھر ایجنٹوں کے مدد سے انڈرگراونڈ نیٹ ورک کے ذریعے لوگوں کو فلم دیکھنے کے لیے گھیر کے لایا جاتا۔ ان فلمز کے ڈائریکٹر پروڈیوسر ہی ان کے تقسیم کار بھی تھے جو فلمز کو مختلف شہروں اور قصبات میں نمائش کے لیے پیش کرتے۔ ہم انہیں پورن ٹورنگ سینما کہہ سکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ان فلمز پر کریک ڈاون کرنا آسان تھا۔ اس لیے فلم کی نمائش کرتے ہوئے خاص احتیاط سے کام لیا جاتا تھا۔ مال کو صارف تک پہنچانے کے لیے بہت بڑے نیٹ ورک اور قابل اعتماد ایجنٹوں کی ضرورت ہوتی تھی جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں آئے بنا گاہک یا تماش بین کو گھیر کر لا سکتے۔

 

پورن فلموں کا حصول اتنا آسان نہ تھا، یہ مختلف ذرائع سے مہیا کی جاتی تھیں
پورن فلموں کا حصول اتنا آسان نہ تھا، یہ مختلف ذرائع سے مہیا کی جاتی تھیں
سکسٹین اور ایٹ ایم ایم کیمرہ کی ایجاد نے فلم کی عکسبندی میں آسانی پیدا کر دی۔ ان کی ارزانی اور آسان استعمال نے بہت سے شوقین حضرات کو بھی فلم سازی کے فن سے روشناس کروایا۔ ان کیمروں کی ایجاد کے بعد پورن فلم کی عکس بندی میں آسانی پیدا ہوئی، اور بہت سے amateur لوگ اس کاروبار میں قسمت آزمانی کرنے نکلے۔ کیمرے اور پروجیکٹر کے سائز میں کمی کی وجہ سے فلم کی ترسیل اور نمائش قدرے آسان ہو گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ان فلمز کو ٹریس کرنا اور انہیں ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔ یوں ریاست کی گرفت پورن فلمز پر ڈھیلی ہونا شروع ہو گئی۔

 

وی سی آر کی آمد کے بعد پورن فلمز کا سائز نہ صرف چھوٹا ہو گیا بلکہ ان کی ایک ملک سے دوسرے ملک ترسیل اور بھی آسان ہو گئی۔
وی سی آر کی آمد کے بعد پورن فلمز کا سائز نہ صرف چھوٹا ہو گیا بلکہ ان کی ایک ملک سے دوسرے ملک ترسیل اور بھی آسان ہو گئی۔ کسٹم حکام کی ملی بھگت اور زیر زمین نیٹ ورکس کی مدد سے ان فلمز کو ایک ملک سے دوسرے ملک سمگل کرنا بھی آسان ہو گیا۔

 

سویت یونین میں پورن فلمز کے بنانے پر سخت پابندی عائد تھی۔ گورباچوف کی پالیسی پریس ٹرایکا کے بعد سوویت سینما میں برہنہ مناظر کی فلم بندی کا آغاز ہوا۔ ایک فرانسیسی ڈائریکٹر نے سوویت یونین پہنچ کر پہلی سافٹ کور فلم سکیس اینڈ پریس ٹرایکا بنائی۔ فلم کا ٹائیٹل چند لڑکیوں سے شروع ہوتا ہے جو ہتھوڑے اور درانتی کو کاٹ رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے کپڑے بھی اتار رہی ہیں

 

سوویت یونین میں پورن فلمز کی نمائش، ترسیل حتیٰ کہ دیکھنا بھی قابل گرفت جرم تھا جس پر قید اور جرمانے کی سزا سنائی جاتی تھی۔ سوویت یونین میں وی سی آر این ٹی ایس فارمیٹ پر چلایا جاتا تھا جبکہ امریکہ اور یورپ میں وی سی آر پال فارمیٹ استعمال کیا جاتا تھا۔ فارمیٹ کے اس فرق کی وجہ سے امریکہ یا یورپ سے آنے والی فلمز سوویت وی سی آرز پر نہیں چلتی تھی۔ فارمیٹس کے اس فرق کو دور کرنے کے لیے خاص قسم کے اڈاپٹرز بنائے گئے تھے، جو یورپ سے سوویت یونین میں سمگل کیے جاتے تھے۔ یہ انہی اڈاپٹرز کا کرشمہ تھا کہ لوگ گھروں میں نہ صرف ان سمگل شدہ فلمز سے خود لطف اندوز ہوتے بلکہ گھر کے ڈرائنگ رومز یا پھر بیچلر اپارٹمنٹس میں محدود پیمانے پر نمائش بھی منعقد کر لیتے تھے۔ جس کا ٹکٹ ایک سے دو روبل ہوتا تھا۔

 

وی ایچ ایس کیمرہ اور ہینڈی کیم کی ایجاد نے اس انڈسٹری کو اور مہمیز دی۔ یہ ان کیمرون کا ہی کرشمہ ہے کہ پورن فلمز میں سٹوری سٹرکچر اور کریکٹرائزیشن کا خاتمہ ہو گیا
وی ایچ ایس کیمرہ اور ہینڈی کیم کی ایجاد نے اس انڈسٹری کو اور مہمیز دی۔ یہ ان کیمرون کا ہی کرشمہ ہے کہ پورن فلمز میں سٹوری سٹرکچر اور کریکٹرائزیشن کا خاتمہ ہو گیا اور اس کی جگہ گانزو پورن کا یانرا متعارف ہوا۔ پورنو گرافی کی عکس بندی اور ترسیل میں مزید جدت پیدا ہوئی۔

 

انٹر نیٹ کی ایجاد نے ڈیٹا کی ترسیل کو پر لگا دئیے۔ ریاستیں ٹرانس بارڈر ڈیٹا فلو کو کنٹرول کرنے میں نہ صرف ناکام ہوئیں بلکہ اہم ریاستی رازوں پر ان کا کنٹرول کمزور پڑ گیا۔ جس کی ایک بڑی مثال وکی لیکس ہے۔ پورن فلم انڈسٹری نے انٹر نیٹ سے بھرپور استفادہ کیا۔ انٹر نیٹ نے صارف اور فلم پروڈیوسر کے درمیان میں موجود نہ صرف مڈل مین کا کردار ختم کر دیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی گرفت اس مواد پر اور بھی ڈھیلی پڑ گئی۔

 

انٹر نیٹ سے صرف پورن انڈسٹری کی چاندی نہیں ہوئی بلکہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپیناں بھی اس پیسے کی اس گنگا میں خوب ہاتھ دھو رہی ہیں۔ کوئی صارف جتنی زیادہ آن لائن پورنوگرافی دیکھتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ جس کا فائدہ سروس پروائیڈر کو ہوتا ہے کیونکہ زیادہ ڈیٹا استعمال ہونے کا مطلب زیادہ آمدنی ہے۔

 

سمارٹ فونز کے آنے کے بعد پورن انڈسٹری پاکٹ انڈسٹری بن گئی۔ وہ فلمز جن کی نمائش قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپ کر کی جاتی تھی اور بازاروں اور چوکوں میں ایجنٹوں کے مدد سے صارف تلاش کیا جاتا تھا اب اس تک مال کی ترسیل صرف ایک بٹن دبانے سے ہو جاتی۔ یورپ میں ایک اندازے کے مطابق آنے والے چند سالوں میں موبائل پر پورنوگرافی دیکھنے کی مارکیٹ چھبیس بلین یورو سے زیادہ کی ہو جائے گی۔

 

سمارٹ فونز کے آنے کے بعد پورن انڈسٹری پاکٹ انڈسٹری بن گئی۔
پاکستان میں ایک پراپرٹی ٹائیکون چند اخبار نویسوں کی مدد سے پورن سائٹس کو بلاک کرنے کی کامیاب مہم چلا چکا ہے۔ یہ مہم فاکس نیوز کی اس خبر کے بعد چلائی گئی، جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان گوگل سرچ میں سیکس اور پورن سائٹس کو سرچ کرنے میں اول نمبر پر ہے۔ اس خبر کےبعد لاہور کے ایک انٹر نیٹ کیفے پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ بھی کیا گیا۔ پی ٹی اے کی طرف سے پورن سائٹس پر فلٹر لگا کر انہیں بلاک بھی کیا گیا لیکن پراکسی سائٹس کے ہوتے ہوئے فلٹر کوئی خاص معنی نہیں رکھتا۔ اس کے لیے موبائل فون پر انٹر نیٹ دینے والی کمپیناں پورن سائٹس کو بلاک نہیں کرتی۔ کیونکہ ڈیٹا کی کھپت اور ریونیو والا اصول ملکی قوانین اور قومی مفادات سے زیادہ نفع بخش ہے۔

 

ریاست کو پرنوگرافی کی ترسیل کو روکنے کے لیے نئے قوانین اور ذرائع کا استعمال کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر چائلڈ پرنوگرافی کی طرف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ قصور اور سوات میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن قوانین سے زیادہ ان حالات و واقعات کا تجزیہ کرنا زیادہ ضروری ہے جو کہ انسان کو پرنوگرافی دیکھنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

مسلم پاکستان میں کافر یوٹیوب

عمید ملک

youtube-rt

ستمبر ٢٠١٢ میں ایک متنازعہ فلم کو بنیاد بنا کر حکومت پاکستان نے یوٹیوب کو پاکستانی صارفین کے لئے بند کر دیا۔ آسان الفاظ میں ہیروئین، چرس گانجا، خطرناک ہتھیار، بارود، خودکش جیکٹ اور اسی طرح کی خطرناک اور تباہ کن اشیاء کی طرح یوٹیوب کو بھی اہلیانِ پاکستان کے لئے شجرِ ممنوعہ قرار دے دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مندرجہ بالا اشیاء کی طرح یوٹیوب بھی ہمارے سماج میں ویسے ہی عام ہے جیسے متذکرہ بالا منشیات اس ملک کے کونوں کھدروں میں اور خود کش جیکٹیں ہماری مساجد میں!
میں اکثر سوچتا ہوں آخر یوٹیوب بین کر کے حکومت نے کس سے بدلہ لیا؟ کیا ملاؤں کو اس متنازعہ فلم دیکھنے سے باز رکھنے کی لیے جو پہلے ہی سرکاری طور پر منائے گئے “یوم عشق رسول ” میں ٢٠ لوگوں کو اپنی عاشقی کی بھینٹ چڑھا کر یہ ثابت کر چکے تھے کہ وہ کفر پروف ہیں؟ یا حکومت بذات خود یوٹیوب سے کوئی بدلہ لینا چاہتی تھی جسے تمام عالم اسلام ، بشمول سعودی عرب مارکہ اصلی اسلام والوں نے بھی، اپنے انٹرنیٹ صارفین کے لئے کھول دیا تھا۔ یوٹیوب انتظامیہ اب بھی اس فلم کو ہٹانے سے ایسے ہی انکاری ہے جیسے امریکا ڈرون حملے بند نہ کرنے پر بضد! سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ بنی کہ یوٹیوب کو پاکستان میں بلاک کرنا پڑا۔
یوٹیوب کی بندش دراصل ہمارے معاملات کو کنٹرول کرنے کی اہلیت کے فقدان اور اس سفلے پن کی غماز ہے کہ جب بھی کسی مسئلے کا کوئی حل ہمارے پاس نہ ہو تو ہم اس پر پابندی لگانے کو ترجیح دیتے ہیں کہ شاید ایسے راوی چَین ہی چَین لکھنے لگے گا۔ یوں لگتا ہے کہ قومی اتفاق ہو چکا ہے کہ ہم نا اہل ہیں ، کسی مسئلے کا کوئی بہتر حل نہیں نکال سکتے اور واحد حل راہِ فرار ہے۔
اس مزاج کی بہترین مثال ماضی میں بسنت کے تہوار کے ساتھ سلوک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ بہار کی خوشی کا یہ تہوار، بسنت صدیوں پرامن طریقہ سے منایا جاتا رہا، مگر جوں جوں پاکستان “اسلامی” ہوتا گیا اورکلاشنکوف ‘مردانگی’ کی علامت سمجھی جانے لگی توں توں بسنت کا تہوار بھی خطرناک ہوتا گیا۔ مذہبی ٹھیکیداروں نے انتظامی خامیاں ٹھیک کرنے کی بجائے تہوار کی بندش کو زیادہ آسان اورقابل عمل خیال کیا۔ اگرچہ بسنت کے تہوار کے خلاف پروپیگنڈا مذہبی بنیادوں پر شروع کیا گیا تھا مگر پھر بھی لوگ اس کافر تہوار کو منانے سے باز نہ آئے۔ آخر اسے خونی تہوار قرار دیا گیا اور میڈیا کے شدید دباؤ پر بند کر دیا گیا۔ تاہم انتظامی معاملات اور “انسانی جانوں کے تحفظ” (پاکستان میں یہ الفاظ مذاق ہی لگتے ہیں) کے پیش نظر بند کیا گیا یہ تہوار تو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے،مگر یوٹیوب خالصتا ً مذہبی غیرت و حمیت کا معاملہ بن چکا ہے، یا اسے بنا دیا گیا ہے۔

یوٹیوب کی بندش کو بھی ضیاالحق سے ڈیڑھ دہائی بعد آپ انہی ضیائی قوانین کی فہرست میں شامل کر لیں جن کو ختم کرنے کی بات کرنے والے کا مقدر گولی ہوگی اور قاتل قومی ہیرو۔۔ نہ یوٹیوب مسلمان ہوگی اور نہ ہی کافر کو ہم اپنے گھر گھسنے دیں گے۔

پاکستان کی مختصر تاریخ پر نظر ڈال کر سمجھا جا سکتا ہے کہ جو بھی قوانین مذہب کی مقدس چادر اوڑھا کر بنائے گئے انھیں پھر ختم نہ کیا جا سکا۔ الٰہی قوانین حرف آخر ہوا کرتے ہیں اور آپ ایک قانون یا انتظامی حکم کو الٰہی قانون یا حکم بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے تو کون کافر انہیں تبدیل کرے؟! یہ وہ بلی ہے جس کے گلے میں کوئی گھنٹی نہیں باندھ سکتا۔
پس یوٹیوب کی بندش کو بھی ضیاالحق سے ڈیڑھ دہائی بعد آپ انہی ضیائی قوانین کی فہرست میں شامل کر لیں جن کو ختم کرنے کی بات کرنے والے کا مقدر گولی ہوگی اور قاتل قومی ہیرو۔۔ نہ یوٹیوب مسلمان ہوگی اور نہ ہی کافر کو ہم اپنے گھر گھسنے دیں گے۔ یہاں مذہبی ٹھیکیداروں کو اپنی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے تھا کہ کفر کے خلاف ایک اور فتح حاصل ہوگئی مگر جناب انٹرنیٹ کی دنیا حقیقی دنیا سے الگ ہے، یہاں ڈنڈے کے زور پر بات نہیں منوائی جا سکتی بلکہ اس کے قانون الگ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یوٹیوب اب بھی ویسے ہی ہر کمپیوٹر پر چلتی ہے ،پراکسی سائٹس اور سافٹ وئیرز زندہ باد!
پارن (Porn) دیکھنے میں بھی ہم ویسے ہی دنیا میں نام کما رہے ہیں مگر ساتھ ساتھ مذہبی ٹھیکیداری بھی جاری و ساری ہے۔ ان بندشوں سے سوائے معاشرے میں مزید منافقت اور عدم برداشت کے پھیلاؤکے، کچھ نہیں بدلا۔ مذہبی ٹھیکیداروں کی مذہبی جنونیت میں اضافی ہوا ہے اوران کے حوصلے مزید بڑھے ہیں۔
انٹرنیٹ ایک آزاد دنیا ہےجہاں لوگ اس ملک کے پرتعفن اور گھٹن زدہ ماحول سے فرار ہو کر اپنی مرضی کی تفریح کے لئے آتے ہیں۔ یہاں کافر مسلم کہنے سے کام نہیں چلتا، یہاں حلال فیس بک کے ڈھکوسلے نہیں چلتے، یہاں صارف کی مرضی چلتی ہے۔ آپ منبر پر اپنا مذہبی نعرہ لگا کر لوگوں کو اپنی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور تو کر سکتے ہیں مگر بند کمروں کا قانون مختلف ہوا کرتا ہے۔اسی لئے ہم نے دیکھا کہ یوٹیوب پر پابندی بے کار رہی اور لوگوں نے پھر بھی اسے استعمال کرنا نہ چھوڑا کیونکہ یوٹیوب مولوی کے ذہن کی طرح کوئی بند گلی نہیں بلکہ معلومات کی وسیع دنیا ہے۔ یہ تو ایسے لائبریری ہے جس کی نظیر تاریخ میں کہیں نہیں ملے گی اور علم کے اس خزانے کے دروازے اپنی عوام کے لئے بند کرنا اور انہیں دوغلی زندگی پر مجبور کرنا نہایت لغو امر ہے۔ اگر یوٹیوب پر پابندی یوں ہی برقرار رہی تو اور کچھ نہیں ہوگا بس یہ مولوی پابندی لگوانے لیے مزید سائٹس ڈھونڈے گا، اس عمل کا آغاز ہو بھی چکا ہے اور اب ٹورنٹ سائٹس بھی بند کی جارہی ہیں۔ جب تک اس منافقت اور جہالت کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا ہاں قوم پراکسی سائٹس کی غلام ضرور ہو جائے گی۔۔۔