Categories
شاعری

اصل و نسب

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اصل و نسب

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

وقتِ ازل میں ایک چینخ تھی
جس نے پیدا کیا خون
جس نے بنائی آنکھ
جس نے پیدا کیا خوف
جس نے بنائے پَر
جس نے بنائی ہڈی
جس نے بنایا سنگِ گرانِیت
جس نے اگایا بنفشہ
جس نے بنایا گیتار
جس نے تخلیق کیا پسینہ
جس نے جَنا آدم
جس نے جَنی مریم
جس نے جنا عیسٰی
جس نے بنائی نِیستی
جس نے کبھی نہیں جنا تھا
ہر گز نہیں، کبھی بھی نہیں، بالکل بھی نہیں
جس نے جنا کوا
واسطۂِ خون رونے دھونے کے لیئے
کیڑوں مکوڑوں کے لئے، روٹی کے چُورے کے لئے
ہر ایسی ویسی چیز کے لئے
بے بال و پَر گھونسلےکی آلائیشوں میں کپکپاتے رہنے کے لئے

Image: Hans Kanters
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

ٹیڈ ہیُوز: ایک تعارف

ٹیڈ ہیُوز (Ted Hughes) بیسویں صدی کی برطانوی شاعری میں ایک انتہائی قد آور شخصیت تھے۔ آپ 17 اگست 1930 کو مغربی یارک شائر کے قریب آپ ایک چھوٹے سے گاؤں مِیتھِیلموریڈ میں پیدا ہوئے۔ ٹیڈ ہیوز کا بچپن خاموش طبع اور دیہاتی پس منظر میں گزرا۔ ان کی زندگی کے پہلے سات برس مغربی یارک شائر کے بنجر اور تیز ہواؤں کے شکار علاقے میں بِیتے۔ ان کی عمر بھر کی شاعری پہ اس علاقے کے جغرافیائی خد و خال کا بڑا اہم اثر رہا۔ ٹیڈ ہیوز نے ایک دفعہ یہ کہا بھی کہ وہ “اس علاقے کے اس تاثر سے کبھی بھی باہر نہیں نکل پائے, جیسے یہ سارے کا سارا منطقہ جنگِ عظیم اوّل کے سوگ میں گُم گشتہ ہو۔”

 

ٹیڈ ہیوز نے ایک دفعہ یہ کہا بھی کہ وہ “اس علاقے کے اس تاثر سے کبھی بھی باہر نہیں نکل پائے, جیسے یہ سارے کا سارا منطقہ جنگِ عظیم اوّل کے سوگ میں گُم گشتہ ہو۔
سات برس کی عمر میں جب ٹیڈ ہیوز کا خاندان میکسبَرو کے مقام پر منتقل ہوا تو آپ نے شاعری کا آغاز کیا۔ اپنے علاقے کے واحد گرامر اسکول کے استاد کی شاگردی میں آپ میں شاعرانہ پختگی پیدا ہونے لگی۔ استاد کے زیرِسایہ آپ کی شاعری میں احساسات اور جذبے سے بھرپور آہنگ کے اس سلسلہِ ارتقاء کی شروعات ہوئی جس کی خاطر آج وہ پوری دنیا میں جانے مانے جاتے ہیں۔

 

ہائی اسکول کی تعلیم کے بعد ٹیڈ ہیوز نے دو برس کے لئے رائل ایئر فورس میں بطور وائرلیس میکینک کام کیا۔ دو سال بعد آپ نے تعلیمی وظیفہ ملنے پر کیمبرج یونیورسٹی کے پیمبروک کالج میں داخلہ لے لیا۔ پہلے پہل تو انگریزی ادب پڑھنے کا ارادہ تھا لیکن وہاں کے نصاب کی کم دامنی اور محدودیت کو دیکھ کر یہ ارادہ ترک کر دیا۔ البتہ انہیں آرکیالوجی اور اینتھروپالوجی اپنے مزاج اور ذہنی میلان کے زیادہ قریب محسوس ہوئے۔ آپ نے اساطیر کا تفصیلًا مطالعہ کیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران انہوں نے اپنی کچھ نظمیں بھی شائع کرائیں۔

 

ٹیڈ ہیُوز کی نگارشات میں بہت تنوُّع اور وسعت ہے۔ بڑوں کے لئے شاعری کے علاوہ آپ نے بچوں کے لئے بھی کہانیاں لکھیں۔ آپ نے دوسرے لکھنے والوں کی تصانیف کی ادارت بھی کی۔
کچھ برس بعد 1956 میں ٹیڈ ہیوز نے اپنے کچھ اور ساتھی مدیروں کے ساتھ ادبی مجلے سینٹ بوٹالفز ریویو کی بنیاد رکھی۔ اس ادبی مجلے کی افتتاحی تقریب میں آپ کی ملاقات سِلویا پلاتھ سے ہوئی۔ اسی سال کچھ مہینے بعد دونوں کی شادی ہوگئی۔ یہ سِلویا پلاتھ ہی تھیں جن کی حوصلہ افزائی سے ٹیڈ ہیوز نے پوئٹری سینٹر کی اوّلین اشاعتوں کے مقابلے میں اپنی شاعری کا پہلا مُسوّدہ بارش میں شِکرا (Hawk in the Rain) پیش کیا۔ منصفوں، جن میں ماریانا مُور، ڈبلیو ایچ آڈن اور سٹیفن سپنڈر شامل تھے، نے ٹیڈ ہیوز کے مسودے کو پہلے انعام سے نوازا۔ اس مسودے کی امریکہ اور برطانیہ میں پہلی اشاعت بہت زیادہ تنقیدی تحسین و توصیف کے ماحول میں 1957 میں ہوئی۔ اپنی دوسری کتاب “لُوپر کال” (Lupercal) کی اشاعت، جو سنہ 1960 میں ہوئی، کے ساتھ ہی آپ کا شمار دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے سب سے ممتاز انگریزی شاعر کے طور پر ابھر کر سامنے آگیا۔ اس کے بعد ٹیڈ ہیُوز کی کئی تصنیفات سامنے آئیں اور آپ کئی معتبر ادبی اعزازات و انعامات کے حقدار قرار پائے۔ سنہ 1983 میں آپ کو برطانیہ کا پوئیٹ لارئیٹ (Poet Laureate) قرار دے دیا گیا۔ آپ کی ایک سے زیادہ شادیاں اور ان کے بدقسمت انجام آپ کی شخصیت کے باب کا ایک سیاہ حاشیہ ہیں۔

 

ٹیڈ ہیُوز کی نگارشات میں بہت تنوُّع اور وسعت ہے۔ بڑوں کے لئے شاعری کے علاوہ آپ نے بچوں کے لئے بھی کہانیاں لکھیں۔ آپ نے دوسرے لکھنے والوں کی تصانیف کی ادارت بھی کی۔

 

ٹیڈ ہیُوز کی شاعری ایک اسطوری ڈھانچے اور قالب کے اندر رہتی ہے۔ آپ نے اپنے جذبے اور احساس سے بھرپور شاعرانہ مواد کو تغزلانہ انگ اور ڈرامائی خود کلامی کے انداز میں برتا ہے۔ ان کی شاعری میں چرند و پرند جا بہ جا موجود ملتے ہیں۔ کبھی تو یہ الوہی روپ دھارے ہوتے ہیں تو کبھی استعارے، کبھی نظم کے متکلم اور کبھی کسی اور تمثالی حیثیت میں نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں شاید کوّا ایک ایسا پرندہ ہے جو سب سے زیادہ موجود نظر آتا ہے۔ یہ کوّا خدا، پرندے اور عام انسان کے ایک خاص ملغوبہ کردار کے طور پر صورت پذیر ہوتا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ کوّے کا وجود ٹیڈ ہیُوز کے لئے خیر اور شر کے تصور کو واضح کرنے کے لئے اشد ضروری ہو۔ ٹیڈ ہیوز 28 اکتوبر 1998 کو سرطان کے ہاتھوں موت کی آغوش میں چلے گئے۔
Categories
شاعری

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

اپنی راکھ، چنگاریوں اور جلی ہوئی لکڑیوں کو ہِلاتے جُلاتے

 

ایک غازہ مَلی ہوئی آنکھ، ایک بار آدھی پگھلی، بعدازاں جم گئی ہوئی
سوچتے بچارتے
ان خیالات کے متعلق، جو چکنا چور ہو جاتے ہیں
توجہ کی نظر کے پہلی ہی بار مٓس کرنے سے

 

کھڑکی پہ پڑنے والی روشنی، کتنی مربع شکل اور عین پہلے ہی جیسی
بالکل ہمیشہ جیسی، پوری طرح توانا، اور اس کھڑکی کا قالب
خلا میں باندھی ایک مچان جوکہ آنکھوں کے اوپر جھکنے کے واسطے ہے

 

جسم کے آسرے کے واسطے، اپنے پرانے کام کرنے کی شکل میں ڈھلے
سُرمئی ہوا میں چھوٹی چھوٹی مسافتیں کرتے
سُن شُدہ اس دھندلائے سے حادثے سے
اس مہلک، حقیقی گھاؤ کی کیفیت کے اندر سے گذر آنے کے
نِسیان کی لاچاری کے زیرِ اثر

 

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

 

بڑھاپا آہستگی سے ملبوس ہو جاتا ہے
موت رات کی بھاری خوراکِ دوا پر
بستر کے ایک کونے پہ بیٹھتی ہے

 

اپنا ریزہ ریزہ چُن کے اکٹھا کرتی ہے
اور اپنی قمیص میں ٹانک لیتی ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

الٰہیات

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

الٰہیات

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

نہیں، یہ سانپ تو بالکل ہی نہیں تھا”
جس نے حوا کو سیب خوری کے لئے بہکایا تھا
یہ تو سراسر حقائق کی توڑموڑ ہے۔

 

اصلًا آدم نے سیب کھایا
اور حوا نے آدم خوری کی
پھر سانپ حوا کو ہڑپ کر گیا
یہی تو ہے وہ منحوس اندھیر نگر کی آنت۔

 

اب بھی سانپ
جنت میں پیٹ بھرے مستِئ خواب میں ہے
اور خدا کی طعن و تشنیع کا منتظر ہے۔”

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
انگریزی سے ترجمہ: رابعہ وحید
ایک خوشگوار چھوٹی سی شام
کتے کے بھونکنے اور
بالٹی کے کھڑکنے کی آواز سے بھری ہوئی ہے
اور تم یہ سب سن رہی ہو

 

ایک مکڑی کا جالا
شبنم کے قطروں کے
چھوئے جانے کے خوف سے تن گیاہے
اُٹھا کے لے جانے والی بالٹی میں
لبالب بھرا ہُوا پانی
شام کے پہلے ستارے کا جھلملاتا عکس دکھا رہا ہے
ٹیلوں کے گرد اپنی سانس کے
گرم ہالے بناتی ہوئی گائیں
اپنے گھر جا رہی ہیں

 

جن کے بڑے بڑے وجود
خون کا بہتا ہُوا
گہرا دریا لگ رہے ہیں
جو سنبھال رہی ہیں
کہ اُن کا دودھ چھلک نہ جائے

 

“چااااند_____چاند، چاند”
تم چلّانے لگی_____
چاند ایک مصوّرکی طرح خود کو دیکھتے ہوئے
____چونکتے ہوئے پیچھے ہٹا
اپنے وجود کے فن پارے کی
داد وصول کرنے کے لیے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]