Categories
شاعری

ہوا موت سے ماورا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہوا موت سے ماورا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

(اپنے قاتل کے لیے ایک نظم)

 

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ۔۔۔۔۔۔

 

ہوا تو روانی ہے
عمروں کے کہنہ سمندر کی
لمبی کہانی ہے
آغاز جس کا نہ انجام جس کا

 

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا موت سے ماورا ہے
ہوا ماں کے ہاتھوں کی تھپکی
ہوا لوریوں کی صدا ہے
ہوا ننھے بچوں کے ہونٹوں سے نکلی دعا ہے

 

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!

Image: Daehyun Kim
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کسی دن مِلیں گے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کسی دن مِلیں گے

[/vc_column_text][vc_column_text]

کسی دن مِلیں گے
عروضی زمانوں سے باہر
شبِ استعارہ منائیں گے
تمثیل حُسنِ ازل کی
کسی صد مثالی جبیں میں، حسیں میں تلاشیں گے
لفظوں کے اثقال سے
معنویت کو آزاد کر دیں گے
ابہام آلودہ دنیا سے نکلیں گے
ویراں ستاروں پہ رقصِ بلاغت کریں گے
کوئی ایسا پیکر تراشیں گے
جو کائناتی تصور سے بھی ماورا ہو
کسی خواب آمیز مجہول دن کو علامت بنا کر
محبت کی نثری حلاوت چکھیں گے،
حقیقت لکھیں گے

 

ابھی تک تو بس ایک مِیٹر ہے، رُوں رُوں ہے
جس میں زمانوں کی رَو بہہ رہی ہے
یہی کہہ رہی ہے
فقط مَیں ہی مَیں ہوں کوئی تُو نہیں ہے
سنو شش جہاتو! کوئی ساتویں سُو نہیں ہے
نہ منزل نہ رستہ نہ کوئی سفر ہے
ہر اک سمت “لا” کا گزر ہے
ہر اک شے کا اپنا تناظر ہے، اپنی نظر ہے
کوئی کتنا اصلی ہے، نقلی ہے کس کو خبر ہے، مگر ہے
ہر اک شیڈ کی اپنی چَھب ہے، دِکھاوٹ ہے
جیسے دھنک ایک آبی شجر ہے
جڑیں جس کی بادل کے اندر ہیں
بادل سمندر کا بیٹا ہے
جس کا پہاڑوں پہ گھر ہے
زمینے! ترے کینوس پر
زمانوں کی پینٹنگ بناتے بناتے کبھی تھک گئے تو
ہم اُس گھر میں جائیں گے مہمان بن کر
یگوں تک رہیں گے
نہائیں گے رنگوں میں، غسلِ صباحت کریں گے

 

ابھی دورِ تخلیق جاری ہے پیہم
ابھی ایک سرمستی طاری ہے ہر دَم
ابھی مجھ کو فرصت نہیں ہے
ابھی نظم مجھ کو لکھے جا رہی ہے
فعولن فعولن فعولن فعولن
مِلیں گے کسی دن مِلیں گے
فراغت ہوئی تو
خدا سے بھی، تجھ سے بھی
دونوں جہانوں سے باہر مِلیں گے
کسی دن عروضی زمانوں سے باہر مِلیں گے !!

Image: Daehyun Kim
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کھڑکیاں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کھڑکیاں

[/vc_column_text][vc_column_text]

کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں
دلوں کی ہوں، دماغوں کی
مکانوں کی کہ آنکھوں کی
وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب،
روشنی اُس پار کی اِس پار لاتی ہیں

 

کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں
لبوں کے قفلِ ابجد کھولتی ہیں
کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بُنتی ہے
تو عمریں درد کی پاتال سے سرگوشیوں میں بولتی ہیں
کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں
زباں بندی کے دن، بے داد کی راتیں، ستم کے دور سہتی ہیں

 

کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں
ازل سے وقت کے جبری تسلسل میں
تھکن سے چرچراتے زنگ آلودہ زمانوں کی گواہی ہیں

 

کھڑکیاں عورت کا دل رکھتی ہیں
خوشبو، دھوپ، بارش، چاند کی کرنیں
ہوا کے ایک جھونکے سے
بدن کے موسموں پر کھول دیتی ہیں
اڑا کر کاغذی پیکر
انوکھی خواہشوں میں زندگی کو رول دیتی ہیں

 

کھڑکیوں کے سامنے جب تتلیاں پرواز کرتی ہیں
تو شیشوں سے لگی آنکھوں میں یادوں کی
دوپہریں بھیگ جاتی ہیں
سفید و سرخ پھولوں سے لدی بیلیں
انھیں جب ڈھانپ لیتی ہیں
تو شامیں خوبصورت اجنبی لوگوں کا رستہ دیکھتی ہیں
مٹھیوں میں جگنوؤں کا لمس بھرتی ہیں

 

کھڑکیاں اکثر کُھلی رہنے کی ضد کرتی ہیں
نیلا آسماں، بادل، پرندے دیکھ کر حیران ہوتی ہیں
ہمیشہ بند رکھنے سے
انھیں کمروں کی، دیواروں کی سانسیں ٹوٹنے کا خوف رہتا ہے
مکینوں کے چلے جانے پہ ڈرتی ہیں
انھیں بھی زندگی ویران لگتی ہے، اداسی کاٹنے کو دوڑتی ہے
کھڑکیاں انسان ہوتی ہیں!

Image: Sabine Jacobs
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وِیپ ہولز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وِیپ ہولز

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہمیں دیوار مت سمجھو
کہ جب دیوار کے پیچھے کی مٹی بھیگ جائے گی
تو ہم بوجھل نمی کا دکھ بہائیں گے

 

ابھی نم گیر ہے مٹی،
درختوں کی جڑوں کو چوستی ہے
پانیوں کا دکھ
ابھی دیوار کے پیچھے کی مٹی تک نہیں پہنچا
زمیں نے آسماں کا غم زدہ چہرہ نہیں دیکھا
ابھی دیوار کو رونا نہیں آیا

 

ہوا پتوں کا رستہ دیکھتی ہے
بے شجر سڑکوں پہ پولی تھین کے خالی لفافے سرسراتے ہیں
خود اپنے موسموں کا خون پی کر
لوگ جرثوموں کی صورت پَل رہے ہیں
تابکاری کے الاؤ جل رہے ہیں
بدنمائی کے دھوئیں سے
پھول کالے، تتلیوں کے پر سلیٹی ہو چکے ہیں
خواب کا چہرہ
دباؤ سے بگڑ کر ٹوٹ جائے گا
نمی کو راستہ دو
درد کے بادل برسنے دو
زمیں پر آسماں کا دکھ اترنے دو

 

ہمیں دیوار مت سمجھو
ہمیں بیکار مت سمجھو
کہ جب دیوار کے پیچھے کی مٹی بھیگ جائے گی
تو ہم بوجھل نمی کا دکھ بہائیں گے
ہماری آنکھ میں آنسو نہیں خوابوں کی کیچڑ ہے!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

مہمان پرندوں کو الوداع

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مہمان پرندوں کو الوداع

[/vc_column_text][vc_column_text]

الوداع اے میہمانو! اے پرندو الوداع!
اگلے برس تک الوداع!!
اگلے برس
جب تم اڑانوں کے صحیفے لے کے آؤ گے
تو جھیلوں کے کنارے
ہم تمہارے منتطر ہوں گے
تمہارے خوبصورت نرم نرمیلے پروں کا لمس پاتے ہی
زمیں پر پھر محبت لوٹ آئے گی
مگر اگلے برس تک
پانیوں میں
کائی کی موٹی تہوں کا بھی اضافہ ہو چکا ہو گا
ہوائیں دُھول سے،
کالی کثافت کے دُھوئیں سے،
گرد سے لبریز ہوں گی
کھیت، بیلے، گھاس کے میداں، گھنے جنگل
نئی سڑکوں کی آری سے
کئی ٹکڑوں کی صورت کٹ چکے ہوں گے
شکاری موسموں کی سازشیں بھی تیز ہوں گی
الوداع اے میہمانو، اے پرندو الوداع!
اگلے برس تک
ہم تمہارے لَوٹ آنے کی خوشی کا دکھ منائیں گے!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

رات زندگی سے قدیم ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

رات زندگی سے قدیم ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہ سچ کی وہی فصل ہے
جو مٹی کی نمو سے اٹھی
اور آسمان تک پھیل گئی
تب ہم بہت دُور تک چلے تھے
اور بہت دیر تک جاگتے رہے تھے
اور باتوں کے بے انت سلسلے
ہمارے درمیان بچھی مسافت سے طویل تھے
اور جب ہم نے پاؤں اٹھانا سیکھ لیا
تو ہمیں دھکیل دیا گیا
ابدیت کے بے آغاز راستوں کی طرف
اور تم نہیں جانتے تھے
کہ رات زندگی سے قدیم ہے
اور تمھاری ہری بھری شاداب فصلیں
میری روح کو غذا
اور بدن کو روشنی فراہم نہیں کر سکتیں
تم نے بارہا مجھے پکارا
اور میں خاموش رہا
کہ خاموشی میں عافیت تھی
سروں اور ہاتھوں کی فصلیں کاٹنے والے
قلم کی تراش
اور موقلم کی خراش سے نابلد ہوتے ہیں
مٹی راستہ بننے سے پہلے
رنگوں کا بلیدان مانگتی ہے
لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے
ریوڑ ہانکتے ہوئے
دانش اپنے آپ میں تنہا ہوتی ہے
تنہا اور بے امان ۔۔۔۔
مَیں ان کھیتوں میں بارہا بویا اور کاٹا گیا ہوں
مَیں دھرتی کا بیج ہوں
یا کائنات کا دل،
تمہاری آواز
مجھے نمو کے سفر پر اکساتی رہے گی
اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات
جس کے آخری سرے پر (اور رات کا آخری سرا ہوتا ہی کب ہے)
ایک کچی دیوار پر پوتا ہوا وقت ہے
اور کوسوں دُور
کئی راستوں کو رگیدتی ہوئی
ایک سڑک ہے
طویل اور بے نشان ۔۔۔۔
کیا ہم اپنے قدموں سے بنائے ہوئے راستوں
اور اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے
درختوں کو بھول سکتے ہیں؟

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1478082644346{background-color: #caedc7 !important;}”]

Light House

Tell me, O moisture lying awake in my eyes which slumber of which eon has surrounded you! God is weeping rains on some land of pain; Why a tear jewel has caught in her eyelashes somewhere?

Tell me, O breeze of shores! in which city she looks for me the one who told me in a sodden voyage that love is the island and grief, the sail!

Tell me, O the sacred name of redemption I’ll perform the rituals of departing Amidst the long row of stony pillars I will meet her; and holding her in my arms will commend all the odysseys of land to her just for a kiss!

Tell me, O the sign of light! the peak-less rocks buried under the water are these abstractions of bygone centuries lying on the brink of eternity, or figurines of image-less yelps of slaves rowing in a parable?

Tell me, O the magical bird flying over the farthest end of the time! Tell me where is she by remembering whom the masts of the ancient voices are anchored in my heart! Tell me, O the earthly star why the voyagers dream of you?

 [/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css=”.vc_custom_1478083531356{background-color: #f7ce88 !important;}”]

ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ
ﺑﺘﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻢ!
ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻦ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ
ﺧﺪﺍ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﻣِﺮﺍ
ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﺘﺎ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻮﺍ !
ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣِﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﮕﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﮨﮯ ﺩکھ ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﮨﮯ
ﺑﺘﺎ ﻣجھ ﮐﻮ ﺍﺳﻢِ ﺭﮨﺎﺋﯽ!
ﻣﯿﮟ ﺭﺳمِ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺳﻨﮕﯿﮟ ﺳﺘﻮﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﻮﮞ ﮔﺎ
ﺍُﺳﮯ ﺑﺎﺯﻭﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻮ ﮐﺮ
ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﮯ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ
ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﺍُﺳﮯ ﺳﻮﻧﭗ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ
ﺑﺘﺎ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ!
ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼُﮭﭙﯽ ﺳﺮﺑﺮﯾﺪﮦ ﭼﭩﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﯽ ﺷﺒﯿﮩﯿﮟ
ﺍﺑﺪ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺳﻮﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺑﻮﮌﮬﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﺮﯾﺪ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﭙﻮ ﭼﻼﺗﮯ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ
ﺑﮯ ﻋﮑﺲ ﭼﯿﺨﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﺴﯿﻢ ﮨﯿﮟ
ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﭘﮧ ﺍُﮌﺗﮯ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﭘﺮﻧﺪﮮ!
ﺑﺘﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ
ﺟﺴﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﻋﺘﯿﻘﯽ ﺻﺪﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﻮﻝ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺘﺎ ﺍﮮ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺳﺘﺎﺭﮮ
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺗِﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہیں؟

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
Image: Enkel Dika

Categories
شاعری

تاریخ کا آخری جنم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

تاریخ کا آخری جنم

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم مجھے کہاں رکھو گی؟
دل میں، آنکھوں میں
دھنک رنگ ہونٹوں کی نیم وا قوسوں میں
دودھیا پھولوں سے بھری گھاٹیوں میں
آدھی ادھوری نظموں میں
یا کسی بےنام کہانی کے لفظوں میں؟
مَیں تمھاری نیندوں کی گزرگاہوں میں جاگتا ہوا
صدیوں پرانا اَن دیکھا خواب ہوں
خواب ہمیشہ صدیوں پرانے ہی ہوتے ہیں
ہم گزرے زمانوں میں مِلتے ہیں
یا آنے والے وقتوں میں
حال، جس میں ہم زندہ ہیں
محض ایک قوسی پُل ہے
دو انتہاؤں کو ملاتا اور جدا کرتا ہوا
جسے پار کرتے ہوئے
ہم چلنا بھول جاتے ہیں
خواب لکھنے اور پوسٹ کرنے کا
کوئی سمے نہیں ہوتا
میں ہر عہد میں تمھاری راہ دیکھتا رہا ہوں
وقت کا ڈاکیا روز گزرتا ہے
کسی یگ، کسی جنم، کسی عمر، کسی صدی میں
تم جب بھی خود کو پوسٹ کرو گی
میں تمھیں وصول کر لوں گا
جنم دن کے تحفے کی طرح
لیکن تاریخ اور محبت کا کوئی جنم دن نہیں ہوتا
یہ تو خود دنوں کو جنم دیتی ہیں!

 

کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملاقات کی طلب
مہرباں لفطوں کو چھونے کی خواہش
کیا خواب میں دَم گھٹنے کی اذیت سے بہتر نہیں؟
رونا ہی برحق ہے
تو پھر آؤ
مِل کر ایک ہی بار رو لیں
سارے جنموں کا رونا
اپنے منزہ و مقدس آنسوؤں کی شبنم
میری پلکوں پر گرنے دو
مجھے اپنی آنکھوں سے رونے دو
کائنات بھی ایک آنسو ہے
خدا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
مجھے اجازت دو
میں تمھارا ہاتھ تھامے ہوئے
پل صراط سے گزرنا چاہتا ہوں
مرنے سے پہلے مر کر
خدا کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہوں
تم میرے اندر کا صحرا نہیں پاٹ سکتیں
میں تمھاری آنکھوں کا جنگل عبور نہیں کر سکتا
میرا سفر اتنا طویل مت کرو
کہ میں تمھارے پاس بھی رکنا بھول جاؤں
مجھے ٹھہرنے کا اذن دو!

 

ہم لاعلمی کی چادر اوڑھے
علم کے جوتے پہنے چل رہے ہیں
تم جانتی ہو
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے
اس گنجلتا میں
کون کہاں الجھا ہے
ہم کو پتا ہے
لیکن پاؤں کے جوتے تنگ ہو جاتے ہیں
ڈرائنگ روم میں بچھے فاصلے طے کرنے میں
عمریں کم پڑ جاتی ہیں
خود سے لپٹ کر بیٹھے
ہم اپنی اپنی اصل کو دور سے دیکھتے رہتے ہیں
محبت اور دانش میں
ایک ادھوری نظم کا فاصلہ حائل رہتا ہے!

 

گزرے وقتوں میں
فرمانِ شاہی سے
لوگ اپنا قبیلہ، حسب نسب بدل سکتے تھے
مجھے حکم دو
کہ میں اپنے جسم کا چوغہ بدل کر
تمھاری روح، تمھاری اصل میں شامل ہو جاؤں
مجھے ہجر میں پروانہء وصل دو
تا کہ جب کبھی میرا یہ متروک بدن
ناکردہ وفاوں کی پاداش میں قتل کیا جائے
تو میں تمھاری محبت کا فرمان دکھا کر
اپنی اصل کی امان پاؤں
اور تم خود پر رونے سے بچ سکو!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جنگیں اور نظمیں ختم نہیں ہوتیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جنگیں اور نظمیں ختم نہیں ہوتیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

صلاح الدین!
تمہیں جنگل کی تلاش تھی
تمہارا جنگل تمہارا شاوک تھا
یہیں کہیں ہو گا
تمہارے ہی شبدوں کے بھیتر
شتابدیوں، آتماؤں اور کالبدوں کی بھیڑ میں
نرتکیوں، ناریوں کی اوٹ میں
چولیوں، ہم جولیوں کی الوتا میں منہ بسورتا
کون و مکان کی بیضوی گولائیوں میں
کہیں پھسلتا ہوا
کسی پارک میں
خدا کا جھولا جھلاتا
ازل اور ابد کے سی سا کے دونوں طرف خود ہی بیٹھا ہوا
تخلیقی تنہائیوں میں
کھویا ہوا
رویا ہوا
یا تمہاری کسی محبوبہ کے دودھیا سینے پر سر رکھ کر
آدھا جاگا، آدھا سویا ہوا
یا تم سے کبھی نہ مل سکنے والی
کسی سانولی سلونی عورت کی
غیر مرئی کوکھ میں
بویا ہوا
روشنی کا بیج
جو ابھی اگ پڑے گا
دیکھتے ہی دیکھتے آسمان ستاروں سے ٹمٹمانے لگے گا
اور زمین لالٹینوں سے بھر جائے گی
چاروں طرف رات کا آرکسٹرا بج اٹھے گا
اندھیرے کی آواز پُراسرار اور رومان پرور ہو جائے گی
اور موسیقی تیز بارش کی طرح
ہر جماد و ذی روح کو جل تھل جل تھل کر دے گی

 

صلاح الدین!
تمہارا جنگل، تمہارا شاوک تھا
بانسری بجاتا ہوا
گوپیوں سے بھر جائے گا
لیکن صلاح الدین! تم کہاں ہو گے؟
میں تمھیں ڈھونڈنے کہاں جاؤں گا؟
تم اب جنگل نہیں رہے، درخت بھی نہیں رہے
کہ اپنی شاخیں
دریچوں جیسی لڑکیوں کےدلوں اور روحوں کی بالکونیوں تک پھیلا سکو
خلا بھی نہیں رہے کہ آسمان کو فِل کر سکو
آتما بھی نہیں رہے کہ پرماتما کو خط لکھ سکو
سمندر بھی نہیں کہ کسی ساحل سے ٹکرانے، سوری، ملنے آ سکو
بادل بھی نہیں کہ کسی استری کی پیاسی گھاٹیوں میں اتر سکو
سایہ بھی نہیں رہے کہ کسی جسم کا روپ دھار لو
یاد ہے ایک بار میں نے کہا تھا
“نظم کے درخت کا سایہ نہیں ہوتا”
اور تم پہلی بار
بس حیرت اور خاموشی سے مجھے دیکھتے رہ گئے تھے
کیونکہ اُس وقت تم
کسی گہری گھنی نظم کی نروات چھاؤں میں تھے
ورنہ تم تو
ہر اچھی بات اور اچھی نظم کا حساب فوراْ ہی برابر کر دیتے تھے

 

صلاح الدین!
تم انتم یدھ میں
اتنی آسانی سے پسپا کیوں ہو گئے؟
جانتا ہوں تم لڑنا نہیں چاہتے تھے
پھر ہر یدھ میں ہیرو کیوں بن جاتے تھے؟
مجھے دیکھو، میں بھی لڑنا نہیں چاہتا
لیکن مسلسل حالتِ جنگ میں ہوں
اور لگاتار پسپا ہو رہا ہوں
کیونکہ میں اپنے علاوہ کسی پر حاوی نہیں ہو سکتا
لیکن تم۔۔۔۔۔۔ ؟
سمجھ گیا
تمہاری کوئی محبوبہ تم سے ناراض تھی
اور تم اُس کے ہاتھ میں دل رکھے بغیر شہر پناہ سے نکل آئے تھے
تم تو جیسے برقی رتھ پر سوار تھے
کائنات کی حد پار کرتے ہوئے مڑ کر بھی نہ دیکھا
کہ رجزیہ اشعار پڑھنے والیاں کب کی خاموش ہو چکی تھیں
اتنا بھی نہ سوچا
کہ تمہاری محبوبائیں اور تمہاری نظمیں ایک دوسری ہی کی کایا کلپ ہیں
جنھیں جدا جدا کرنے کے لیے
نئی سیمیا، نئے کیموس کی ضرورت ہے
انہیں ایک ساتھ چھوڑ دینا
کہاں کی اذیت ناکی ہے!
اب وہیں رکو، جہاں تک پسپا ہو چکے ہو
اس سے آگے موت تمہارا پیچھا نہیں کرے گی
رکو جب تک کہ جنگ ختم نہ ہو جائے
لیکن یار، جنگیں اور نظمیں ختم کہاں ہوتی ہیں
یہ تو چلتی رہتی ہیں
جب تک کہ وقت ہتھیار نہ ڈال دے
تم بھی اب رکو اور انتظار کرو
جب تک کہ تمہاری ساری محبوبائیں
اپنا اپنا انتظار نہ تج دیں
اور میں، تمہارا جنگل ڈھونڈ کر
تمہارے پاس نہ آ جاؤں
پھر ہم مل کر
وہاں چلیں گے
جہاں کوئی یدھ ہے نہ شترتا
جیت ہے نہ شکست
پسپائی ہے نہ پیش قدمی
صرف ایک ملکوتی حسن ہے،
تمہارے اور میرے پسندیدہ خواب کی ابدیت ہے
آسمانی آبناؤں پر بنے ہوئے نیلگوں راستے ہیں
جن پر ہم باتیں کرتے، نظمیں سنتے سناتے
جوگرز پہنے بنا، ملگجی پاؤں اٹھائے بغیر, دائمی واک پر نکل جائیں گے!!

 

(صلاح الدین پرویز کی یاد میں)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اندھیرے میں اُگی مشروم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اندھیرے میں اُگی مشروم

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ عجب سا خواب تھا
اُس خواب میں آنکھیں بہت تھیں
سانپ جیسی، ٹکٹکی باندھے، مسلسل گھورتی
چاروں طرف سے
میری جانب دیکھتی، پھنکارتی
جھپکے بنا
یلغار کرتی آ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جانے کیا سونے سے پہلے کھا لیا تھا
کھاد آلودہ نباتاتی غذا
دم پخت، مرچیلے مسالے دار کھابے
پیکٹوں میں بند ماکولات، نوڈل
یا کوئی مخلوقِ آبی
یا کسی مردار کے قتلے چکھے تھے
کچھ سمجھ آتی نہیں تھی
اس قدر معلوم تھا بس
نیند سے ماقبل
السائے بدن کا بیج رفتہ کی زمینوں،
نم رسیدہ تیرگی مارے زمانوں کے ملیدے کی
تہوں میں بو دیا تھا
تاکہ صدیوں تک پڑا سویا رہوں
اپنی کسی تعبیر میں کھویا رہوں
اگنے سے پہلے تا ابد بویا رہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

وہ عجب سا خواب تھا، اس خواب میں آنکھیں بہت تھیں
جو اندھیرے میں ڈراتی تھیں ہمہ دم
میرے ہونے، کچھ نہ ہونے
اور سونے کا تماشا دیکھتی تھیں
تیرہ و مرطوب خاموشی کے خولِ بے بصر میں
میرے خوابوں، میرے آدرشوں کو پیہم توڑنے کا سوچتی تھیں
آخرش گھبرا کے آنکھیں کھول دیں میں نے
سیاہی سے بھرے مومی لفافے میں مقید
اک سفیدی سی مرے اندر سے باہر آ رہی تھی
میرا اسفنجی بدن رغبت سے دنیا کھا رہی تھی!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

دُکھ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دُکھ

[/vc_column_text][vc_column_text]

دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی، کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے
کبھی مخروطی، کبھی چوکور
کبھی اسپائرل
کبھی دائروں میں پھیلتا ہوا
اپنے ہی بےانت میں گم ہو جاتا ہے
کچھ لوگ سمجھتے ہیں
کہ محبت دکھ کو جنم دیتی ہے
لیکن محبت تو وہاں سے شروع ہوتی ہے
جہاں دکھ کی انتہا
پتا نہیں دکھ چھوٹا ہے یا محبت بڑی
میں تو اتنا جانتا ہوں
کتنا بےمایہ ہے وہ شخص
جس کے پاس ایک عورت کی محبت بھی نہ ہو
حالانکہ دکھ عورت ہے نہ محبت
دکھ تو ان دونوں کو
بیک سمَے ملاتا اور جدا کرتا ہے
جس طرح وقت ازل اور ابد کو
تو کیا دکھ ایک مثلث ہے
یا دو سطروں کے بیچ
بےراس دُوری کی ہمیشگی ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

Image: Banksy
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک تصویر زا نظم کا اسپیکٹروگرام

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظم کا اسپیکٹروگرام

[/vc_column_text][vc_column_text]

دیواریں دروازوں سے باہر نکل آئی ہیں
راستے تنگ ہیں
اور قدموں کے نشان زیادہ
نیم دراز دھوپ کی ڈھلوانوں پر
اپنے ہی سایوں کو پھلانگتے ہوئے
منہ کے بل گر پڑنا
عین سچائی ہے انوکھا پن نہیں
کسی دیرینہ خواب کو دیکھتے ہوئے
آنکھوں کو پتا ہی نہیں چلتا
کہ ان کے سمندروں سے کتنا پانی نکل چکا ہے
دریا عبور کرنا آسان ہے
لیکن کنارے پر پاؤں رکھنا بہت مشکل
بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
تاریخ کے راستے
کھیتوں، چراگاہوں، انگور کے باغوں
اور عورتوں کے نشیب و فراز میں غائب ہو جاتے ہیں
نئی فصلیں تیار ہونے تک
موسم ملتوی ہوتے ہیں
فلسفے چند لوگوں کے لیے ہیں
اور موت سب کے لیے
کوئی نظم نہ لکھ سکنا
شاعر کا المیہ نہیں ہوتا
زندگی مرگِ مسلسل سے دوچار ہو
تو موت ایک گھسا پٹا لفظ بن کر رہ جاتی ہے
متروک دنوں کی آبیاری سے
بے دلی کی مشقت کے سوا کچھ نہیں اُگتا
اس سے پہلے کہ ہم حالتِ تنہائی میں
کسی نادیدہ ستارے سے دیکھ لیے جائیں
آؤ، ان کہنہ عمارتوں کے صدر دروازوں سے گزریں
جن پہ استادہ غلام روحیں
گرد و غبار سے اٹے جسموں
اور بھربھری ہڈیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں
اور ہاتھ کے ایک اشارے سے
اپنے ہی قدموں میں گر پڑیں گی
بادلوں کے پنچھی
اور بارشوں کا دھواں
موسمیاتی سیارے کی دسترس سے اب زیادہ دُور نہیں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عدالت کو کیا معلوم!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عدالت کو کیا معلوم!

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہاں زندہ رہنے کی خواہش ایسی ہے
جیسی بے پر کی تتلی
اور موت کا پروانہ لینے کے لیے بھی
عدالت میں جانا پڑتا ہے
جو اپنے فیصلے کی بنیاد
گواہوں کے بیانات پر رکھتی ہے
عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

[/vc_column_text][vc_column_text]

نانا جی کے ساتھ
کھیتوں میں کام کرتے ہوئے
برساتی ندی کے پار بیلے میں
بکریاں چَراتے ہوئے،
مکو کی جھاڑیوں کو چھیڑتے ہوئے
اور کیکر کی چھاؤں میں بیٹھ کر
اچار کے ساتھ روٹی کی سرشاری میں
نشیبی نالے سے پانی پیتے ہوئے
میں نے دیکھا شاعری کو
انتہا پر، اپنے اصلی روپ میں
ابتدا کا تو معلوم نہیں
تب پتا تھا نہ اب
لیکن انتہا کو پہلے دیکھ لینا
عینک کے بغیر
حقیقت کی بےلباسی میں، سر تا پا برہنہ
زنگی اور موت کے باہم آمیز نشے سے کم نہ تھا
نانا جی کی باتوں سے
میں نے خاموشی سیکھی
اور خدا کی نظمائی ہوئی فطرت سے
آسمانی گیتوں کی بازگشت
جو زمین کی سب سے نچلی تہوں سے پھوٹ رہی تھی
ابھی کسی ارسطو، کسی نیرودا کو میں نہیں جانتا تھا
اور کسی شاعر کا
میرے اندر ظہور نہیں ہوا تھا
فقط نانا جی تھے
اور میں تھا
اور اونچے نیچے کھیت تھے
اور ہوا تھی
اور بادل تھے
اور اچانک امنڈ آنے والی بارش تھی
اور ان سب کے درمیان
خواہ مخواہ پھیلی ہوئی
ایک اَن مَنی سی تنہائی تھی
جو تب سےاب تک
اُسی ایک پوز میں ٹھہری ہوئی ہے
جس پوز میں اسے کائناتی فریم کے اندر چپکایا گیا تھا
بس ہمارے منظر نامے بدل گئے ہیں
نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں
اور شاعری کسی پلے لینڈ میں
کبھی نہ رکنے والاجھولا جھول رہی ہے !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

مفرور

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مفرور

[/vc_column_text][vc_column_text]

دیکھو، میرے دل میں راستے تلاش مت کرو
تمہیں کیا معلوم
کہ میں کتنی دُور سے چل کر آیا ہوں
اور ابھی کتنی دُور جانا ہے
زمین چاروں طرف سے رات کے خلا میں ڈوبی ہوئی ہے
اور وہ ایک اک ستارے میں مجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں
تمہاری پناہ گاہ کی روشنی
اُنہیں اِس طرف کھینچ لائے گی
اور مجھے کیمو فلاژ کرنے کی پاداش میں
وہ تمہاری آتما نذرِ آتش کر دیں گے
اور گوشت مالِ غنیمت کی طرح بانٹ لیں گے
میں ایک بار پھر قیدِ دوام میں ڈال دیا جاؤں گا
دیکھو، وقت کم ہے
آنکھیں صدیوں تک خوابوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں
جسم سرحدیں پار کرتے ہوئے
خاردار تاروں میں الجھ جاتے ہیں
اور ہاتھ تارِ عنکبوت کی طرح
کھڑکیوں کے شیشوں سے چِپکے رہ جاتے ہیں
سُنو ! ہوا کے کان سرگوشیوں سے بھرے ہوئے ہیں
اور وہ آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ
جنگلوں اور پہاڑوں کو فتح کرتے ہوئے
خشکی کے آخری سرے تک آ پہنچے ہیں
اس سے پہلے کہ سمندر بھی اُن کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
اُن جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے
مگر اب تیل تلاش کرنے والے اداروں کی رہائش گاہیں ہیں
وہاں پام کے گھنے درخت
طلوعِ آفتاب تک مجھے چھپائے رکھیں گے !!

Image: Carson Ellis
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]