Laaltain

ہوا موت سے ماورا ہے

نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں

کسی دن مِلیں گے

نصیر احمد ناصر: مِلیں گے کسی دن مِلیں گے
فراغت ہوئی تو
خدا سے بھی، تجھ سے بھی
دونوں جہانوں سے باہر مِلیں گے
کسی دن عروضی زمانوں سے باہر مِلیں گے

کھڑکیاں

نصیر احمد ناصر: کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں

وِیپ ہولز

نصیر احمد ناصر: ہمیں دیوار مت سمجھو
ہمیں بیکار مت سمجھو
کہ جب دیوار کے پیچھے کی مٹی بھیگ جائے گی
تو ہم بوجھل نمی کا دکھ بہائیں گے
ہماری آنکھ میں آنسو نہیں خوابوں کی کیچڑ ہے!!

مہمان پرندوں کو الوداع

نصیر احمد ناصر:اگلے برس
جب تم اڑانوں کے صحیفے لے کے آؤ گے
تو جھیلوں کے کنارے
ہم تمہارے منتطر ہوں گے

رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات

ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ

نصیر احمد ناصر: ﺑﺘﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻢ! ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻦ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺧﺪﺍ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﻣِﺮﺍ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟

تاریخ کا آخری جنم

نصیر احمد ناصر: تم جانتی ہو
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے

اندھیرے میں اُگی مشروم

نصیر احمد ناصر:
وہ عجب سا خواب تھا، اس خواب میں آنکھیں بہت تھیں
جو اندھیرے میں ڈراتی تھیں ہمہ دم
میرے ہونے، کچھ نہ ہونے
اور سونے کا تماشا دیکھتی تھیں

دُکھ

نصیر احمد ناصر: دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی، کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے

عدالت کو کیا معلوم!

نصیر احمد ناصر: عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

نصیر احمد ناصر: نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں

مفرور

نصیر احمد ناصر: اس سے پہلے کہ سمندر بھی اُن کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
اُن جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے