Categories
نقطۂ نظر

آن لائن پاک بھارت جوہری جنگ؛ کی بورڈ، لیپ ٹاپ اور ایل سی ڈی کی فروخت میں اضافہ

خبرستان ٹائمز پر یہ خبر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اسلام آباد/نیو دہلی: سوشل میڈیا پر پاک بھارت جوہری جھڑپیں جاری ہیں، ایک بڑے آن لائن جوہری تصادم کے پیش نظر آن لائن پاکستانی مجاہدین اور بھارتیہ سائبر سینا نے سازوسامان کی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔ خبرستان ٹائمز ذرائع کے مطابق دونوں جانب محب وطن مجاہد اور دیش بھگت صف آراء ہو چکے ہیں اور اپنے اپنے گم نام سوشل میڈیا اکاونٹ بنا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں جانب بڑے پیمانے پر نیچا دکھانے والی ٹویٹس، ہیش ٹیگز اور میمز کے ذخائر جمع کر لیے گئے ہیں۔

 

حفیظ سنٹر کے ایک کاروباری تجزیہ کار نے خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، “بیلسٹک کی بورڈز، جوہری ماؤس اور کم، درمیانے اور طویل فاصلے سے نظر آنے والی ایل سی ڈیز کی فروخت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ “

 

آن لائن جوہری جنگ کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ماؤس
آن لائن جوہری جنگ کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ماؤس
گزشتہ ایک ماہ کے دوران سائبر مجاہدین اور آن لائن دیش بھگتوں کی بھاری ٹریف کے باعث وکی پیڈیا ویب سائٹ کے متعدد بار کریش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ہندی اور اردو لغات المغلظات کے ہاتھوں ہاتھ بکنے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کمپیوٹر اور موبائل اسیسریز کی فروخت میں اس اضافے کو نیولبرل فوجی صنعتی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دائش بھگتی اور آن لائن حب الوطنی میں اضافہ نیولبرل جنگی صنعت کی افزائش کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایپل، سام سنگ، ڈیل، لینوو، ایسر، سونی اور دیگر کمپنیاں اس وقت سائبر اسلحہ فراہم کرنے کی اس دوڑ میں آگے ہیں۔

 

سائبر جہادی مشق کرتے ہوئے
سائبر جہادی مشق کرتے ہوئے
ولیم ڈی ہارٹنگ، ڈائریکٹر آرمز اینڈ سیکیورٹی پراجیکٹ ولیم ڈی ہارٹنگ نے اپنی کتاب سام سنگ اینڈ دلائی لامہ کی تقریب رونمائی سے قبل بات کرتے ہوئے کیا “سام سنگ-ایپل چپقلش کے ہتھیاروں کی جنوب ایشیائی جوہری دوڑ پر فیصلہ کن اثرات ہوں گے۔”

 

فیس بک پر پندرہ ارب پاکستانی فالورز کے حامل زید حامد کے مطابق پاکستان کہوٹہ میں نئی فورتھ جنریشن جوہری سِمیں تیار کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے جو پوکھران میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے تجربات کا جواب دینے کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔ ہالینڈ سے نئی فورتھ جنریشن جوہری سِم ٹیکنالوجی کے بلیوپرنٹس لے کر پاکستان لوٹنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خبرستان ٹائمز قارئین کو چاغی پر چھ سگنل ٹاور نصب کرنے کی نوید سنائی۔

 

سائبر مقابلوں کے لیے پاکستان میں تیار کیا گیا خصوصی اسلحہ
سائبر مقابلوں کے لیے پاکستان میں تیار کیا گیا خصوصی اسلحہ
عالمی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق پاک بھارت افوج نے فیس بک کے میدان کارزار میں گروپ کھود کر مورچے تعمیر کر لیے ہیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید ٹرولنگ اور ہیش ٹیگنگ کی جا رہی ہے۔ سرجری کے ماہرین کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں مصنوعی انگلیوں کی پیوند کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری کو حال ہی میں ہنی ڈانس اکیڈمی سے نکلتے دیکھا گیا ہے۔ ہنی ڈانس اکیڈمی لندن میں قائم بھنگڑا سکھانے کی مشہور ترین اکیڈمی ہے۔ خبرستان ٹائمز کے ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ نومبر سے اس اکیڈمی میں بھنگڑے کی باقاعدہ تعلیم حاسل کر رہے ہیں۔ بلاول کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکیڈمی میں بلاول بھٹو کو ذاتی گرو کی سہولت دستیاب ہے۔ یہی گرو اس سے قبل کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی بھنگڑا سکھاتے رہے ہیں، کلنٹن نے ہندوستان کے تین روزہ دورے سے قابل اسی گرو سے فون پر بھنگڑے اور سیاست کے تعلق پر مشاورت کی تھی۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی بات چیت کے دوران بلاول نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کی۔

 

پی پی پی چیئرپرسن کا کہنا تھا، “اگرچہ سیاست میں نے اپنے اپنے ماں باپ سے سیکھی ہے، اقتدار ہمارے گھر کی لونڈی ہے مگر میں سیاست میں جدت کا قائل ہوں۔ مجھے اپنی تمام سیاسی الجھنوں کا حل ہنی ڈانس اکیڈمی میں ملا ہے۔” بلاول کا خیال ہے کہ بھنگڑے کی مدد سے وہ بطور رہنما لوگوں میں اپنا امیج بہتر بنا سکیں گے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی کا یہی ایک راستہ باقی بچا ہے۔

 

بلاول بھٹو اس ضمن میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو اپنے اس فیصلے کی وجہ تسلیم کرتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا، “کیا آپ نے ہڑی پہ پر جسٹن ٹروڈو کے بھنگڑے کی ویڈیو دیکھی ہے؟ اس کے بھنگڑے نے سبھی ناراض ووٹرز کو راضی کر لیا اور جلسے کامیاب ہو گئے۔” انہوں نے مزید کہا، “نئی نسل چاہتی ہے کہ سیاستدان ان کے مسائل کو سمجھیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح ان کی شادیوں اور مہندیوں میں شریک ہوں۔ میں عوام کو اپنی شخصیت کا پرمزاح، نرم خو اور پنجابی رخ دکھانا چاہتا ہوں۔”

 

بلاول نے اس گفتگو کے دوران معاصر سیاسی رحجانات سے اپنی واقفیت کا مظاہرہ کیا،”لاکھوں کروڑوں لوگ عمران خان کے جلسے میں جاتے ہیں لیکن اسے ووٹ نہیں ڈالتے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ کھلے آسمان تلے بھنگڑا ڈال سکیں۔” بعض ناقدین نے بلاول بھٹو کی ‘بھنگڑا پاو، پاکستان بچاو’ مہم کو 2014 کے دھرنوں کی نقالی قرار دیا ہے۔ تاہم بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی بھنگڑا ریلیاں اس لیے مختلف ہوں گی کہ وہ خود بھنگڑا کوریوگراف کریں گے اور اس کی قیادت بھی کریں گے۔ “میں کسی تھرڈ امپائر کے اشاروں پر نہیں ناچوں گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھنگڑے کے ذریعے کم کاردیشان اور گینگنم سٹائل سے زیادہ ویوز اور راہول گاندھی سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔

 

بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بلاول کے بھنگڑا گرو بلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھنگڑا ایک مشکل فن ہے مگر نوجوان بلاول سیکھنے کی ٹھرک رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے لائحہ عمل پوری توجہ سے تیار کر رہے ہیں “مجھے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج مہیا کیے گئے تھے اور میں انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہی steps تشکیل دے رہا ہوں۔”

 

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ان کے والد آصف علی زرداری ان کے ان ‘نئے سیاسی داو پیچ’ سے متفق ہیں تو بلاول نے قدرے بے چینی سے جواب دیا “میرے والد کو میرا بھنگڑا کچھ بہت زیادہ پسند نہیں، جب کبھی میں انہیں اپنے ٹھمکے دکھاتا ہوں تو ان کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔” تاہم ان کے خیال میں اگر پارٹی پنجاب میں اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کی سینئر پارٹی قیادت بھی ان کے بھنگڑے میں شریک ہو گی تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ آج کل دلیر مہدی کے گیت سن رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔