Categories
تراجم نان فکشن

فلسطین میں (مابعد) نوآبادیاتی متون کی تدریس

جلاوطنی، حاشیہ گزینی، موت، اور تاریخ کے پیچیدہ خیالیے (مابعد) نوآبادیاتی افسانوی ادب کے طول میں متواتر ابھرتے رہتے ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ غزہ میں فلسطینی طلبہ سے ان کا تعلق ذاتی سطح کا ہے۔

(ترجمہ: اسد فاطمی)

میں رواں تعلیمی سال میں دوسرے کچھ (مابعد) نوآبادیاتی متون کے ساتھ ساتھ دو فلسطینی ناول اور دو افسانے پڑھا رہا ہوں۔ ہم نوآبادیائے گئے کرداروں کے سیاسی شعور یا اس کے فقدان کا، اور انفرادی منصوبہ یا مسلح جدوجہد اور انقلابی کایاکلپ جیسے اجتماعی اعمال کی جانب فرار کے ذریعے ان کی اپنی نفسیاتی اور معاشرتی بیگانگی پر قابو پانے کی باہم متضاد کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ البتہ دیگر لکھاریوں کے ساتھ ساتھ غسان کنفانی (فلسطین)، انجابولو اندبیلے (جنوبی افریقا)، سمبن عثمان (سینیگال)، اور نورالدین فارح (صومالیہ) جیسے لکھاریوں کے منتخب تخلیقی کام (مابعد) نوآبادیاتی مزاحمتی ادب کی تعریف، اور اسے درپیش ردِ نوآبادیاتی قوم‌پسندی اور قومی شناخت کے ارتقاء کے مسئلہ کو لے کر ایک نازک سوال اٹھاتے ہیں۔

ان خاص لکھاریوں کا انتخاب غیر ارادی نہیں تھا، کیونکہ میں ایسے طلبہ کو پڑھا رہا ہوں جو کہ مہاجرین ہیں، اور جو کہ ناگزیر وجوہ کی بنا پر، ان لکھاریوں، خاص طور پر غسان کنفانی کے دکھائے گئے مستقبل‌بین منظر سے خود اپنی جدوجہد کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ “رجال فی الشمس” (Men in the Sun) میں غیر قانونی طور پر کویت نکل جانے کی کوشش میں تین فلسطینیوں کی موت، “ارض البرتقال الحزین” (The Land of Sad Oranges) اور “الصغیر یذھب الی المخیم” (The Little One Goes to the Camp) میں بچے کی زندہ رہنے کی حکمت عملی، “ما تبقَی لکم” (All That’s Left to You) میں حامد کی اسرائیلی سپاہی کے ساتھ کشمکش اور عثمان کے “سیاہ فام لڑکی” (Black Girl / Le Noire de…) میں دیوانا کی خودکشی سے لے کر “عائد الی حیفا” (Return to Haifa) کے اختتام میں سعید س۔ کی شعوری قلبِ ماہیئت تک – یہ سبھی مناظر بالآخر فارح کے افسانے “My Father, the Englishman and I” میں راوی کی ماں کے قصہ میں اپنے نقطۂ اوج کو پہنچ جاتے ہیں، جو کہ سماجی مروجات اور نوآبادیاتی استبداد دونوں کو للکارنے لگتی ہے۔ یہ لکھاری اجتماعی انقلابی کام کے ذریعے ذاتی اور تاریخی بیگانگی پر ایک سر اٹھاتی ہوئی فتح کی صراحت کرتے ہیں۔

ہم مرکزی کرداروں کی بیگانگی اور ان کے ذاتی طور پر واقعات کا حصہ بن جانے کے ذریعے اس امر پر ان کے نظر فریب اور موضوعی ردعمل اور / یا ان کی اپنے سماجی رتبہ کو آگے بڑھانے کی کوشش میں نمونہ جاتی بیانیہ‌ قرینہ (paradigmatic narrative pattern) کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان (مابعد) نوآبادیاتی متون میں کردار اور اعمال پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے سے مرکزی کرداروں کے حد سے زیادہ پرعزم ذاتی سفر کی پگڈنڈیاں آشکار ہونے لگتی ہیں اور ان مادی حالات اور تاریخی عوامل کے تنقیدی جائزہ کی صورت سامنے آتی ہے جو کرداریاتی ترجیحات کو وجودی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔

فلسطینی ادب کو پڑھنے کی ضرورت، خاص طور موجودہ وقت میں، ایک فلسطینی بیانیہ رقم کرنے کی اہمیت سے پھوٹی ہے۔ فلسطین کا بیشتر ادب وہی ہے جسے باربرا ہارلو اور اس سے قبل غسان کنفانی “مزاحمتی ادب” کہا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے، ایک نسلی تقسیم پر مبنی راج کے بعد، اور سرد جنگ کے بعد کی دنیا میں گرمئ بازار جو رنگ دکھاتی رہی ہے بس اسی سے اس قسم کے ادب سے ہماری شناسائی اور علم کا تعین ہوتا رہا ہے۔ مذکورہ بالا تمامتر افسانوی ادب ان عورتوں (اور آدمیوں) کی کہانیاں ہیں جو خود کو استحصال، جبر، استبداد، اور دار و رسن کی کسی مخصوص غیر انسانی شکل سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں ہیں؛ بلاشبہ وہ ان افکار، اقدار، اور احساسات سے منسلک ہیں جن کے تحت نوآبادیائی گئی عورت (اور آدمی) اپنے معاشرے کا اور اپنی وجودی، سیاسی، اور تاریخی صورتحال کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ کنفانی کے ناولوں اور افسانوں کی تفہیم، مثال کے طور پر، استبداد کا شکار فلسطینیوں کے ماضی اور ان کی موجودہ صورتحال ہر دو کے کہیں گہرے فہم کی متقاضی ہے: ایک ایسا فہم جو بالخصوص ان کی آزادی اور بالعموم انسانی آزادی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ ان دو ناولوں “عائد الی حیفا” (حیفا کو واپسی) اور “ما تبقَی لکم” (جو کچھ تمہارے لیے بچا ہے) کے قارئین کے لیے یہ مشکل نہیں ہو گا، کہ وہ ایک واضح متحرک حقیقت کی جانب بتدریج، شعوری، ارادی حرکت کا اندازہ لگا سکیں: ایک نئی حقیقت جو ہمیں وہ کچھ دکھاتی ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، جو ہمیں بیک وقت ادراک اور تجربہ کی ایک نئی ترتیب کی جانب لے جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، دونوں ناولوں پر فنی طور پر اثر انداز ہونے والے پہلو ایسے ہیں جو حقیقت سے فرار کی بجائے اس کا سامنا کرنے سے ابھرے ہیں۔

ان (مابعد) نوآبادیاتی افسانوی کاموں کے طول میں کئی پیچیدہ خیالیے اور سوال متواتر ابھرتے رہتے ہیں: جلاوطنی، حاشیہ گزینی، موت، اور تاریخ۔ ایسے سوالات دراصل خود لکھاریوں کے اپنے کردار کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، ایک پرعزم خودآگاہ لکھاری کی حیثیت سے وہ چند نوآبادیائے گئے مطیعوں کی ان کمزوریوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جن میں وہ اپنی شناخت اور زمین کے دوبارہ حاصل کرنے کی جنگ میں مادی تحفظ تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں (الرجال من الشّمس، سیاہ فام لڑکی)۔ دوسرے لفظوں میں، یہ متون ان مطیعوں کی داخلی اور خارجی حقیقتوں کے درمیان جدلیاتی رشتہ کے دشت کی سیاحی سے عبارت ہیں۔

بہ ایں ہمہ، مجھے اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ (مابعد) نوآبادیاتی ادب سراسر رد نوآبادیاتی ہیئتوں تک محدود نہیں ہے۔ فلسطین میں جس قدر ہم مذکورہ بالا لکھاریوں کو پڑھ اور پڑھا رہے ہیں، اتنا ہی ہم نسل پرست ٹرینی‌ڈاڈی-برطانوی لکھاری، وی۔ایس۔نائپال کی اپنی پسندیدگی کے ساتھ بھی الجھے رہتے ہیں، جس نے صاف صاف کہا ہے، خاص طور پہ اپنے ناول “دریا کا موڑ” (A Bend in the River) میں جو ہم اپنے طلبہ کو پڑھنے کا کہا کرتے ہیں، کہ “دنیا جیسی ہے ویسی ہی ہے؛ جو آدمی ناشدنی ہیں، انہوں نے خود ہی خود کو ناشدنی ہونے دیا ہے، یہاں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے!” نائپال پھر لکھتا ہے کہ “ایسا نہیں ہے کہ یہاں کوئی صحیح یا غلط نہیں ہوتا۔ بس یہاں کچھ صحیح نہیں ہوتا،” اور یہ کہ اسی لیے “(اپنے نوآبادیاتی آقا کے بغیر) افریقہ کا کوئی مستقبل نہیں!”

نائپال جیسے لکھاریوں کے مطابق، افریقی (اور دیگر نوآبادیاتی مطیع) ایسے قدر کے لائق انسان نہیں ہیں جیسے کہ گورے اہلِ مغرب؛ “وہ بس افریقی کے افریقی ہی ہیں،” کوئی تبدیلی کے کارندے نہیں: “[سیاہ فام افریقی] وہی کچھ بن پائے ہیں جو کہ ان کے باہر کی دنیا نے [انہیں] بنایا ہے؛ دنیا جیسی تیسی موجود ہے [انہیں] اسی میں زندہ رہنا ہے۔” اسی لیے مغرب کو اپنے “تہذیب‌آموزی کے مشن” کے حصہ کے طور پر مداخلت کرنا پڑ جاتی ہے۔ اور اب کی بار اس اساسی منطقی اصول کا پرچار ایک سیاہ فام/گندمی رنگت کا آدمی کر رہا ہے۔ اس سیاق و سباق میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے طلبہ ایڈورڈ سعید کی اس دلیل سے واقف ہیں کہ “ہر سلطنت۔۔۔ یہی بتاتی ہے کہ وہ دیگر سبھی سلطنتوں سے مختلف ہے، اور اس کا مشن غارت‌گری اور فرمانروائی نہیں بلکہ تعلیم اور نجات سے بہرہ مند کرنا ہے۔”

اس کا موازنہ انجابولو اندبیلے کے Fools میں کرداروں، ما تبقَی لکم میں غسان کنفانی کے بہن بھائیوں، اور سیاہ فام لڑکی میں سمبن عثمان کی آیا سے کریں، جوکہ سبھی وحشی آبادکاری نوآبادیاتی نظام اور نسلی تقسیم پر مبنی راج کی (بقول جوزف کانریڈ) صدائے “الخوف! الخوف!” (The Horror! The Horror!) کے جواب میں انقلابی حل کی جانب رجوع کرتے ہیں۔
اس تعلیمی سال میں فلسطینی طلبہ کو پڑھائے جانے والے ان کے پسندیدہ متن کے متعلق لکھنے کا کہنے اور پھر ان کی ترجیح پہ سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 


حیدر عید غزہ کی الاقصیٰ یونیورسٹی میں ادب کے ایسوسی‌ایٹ پروفیسر اور جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف پریٹوریا میں ایسوسی‌ایٹ محقق ہیں۔ ان کا یہ مضمون مئی ۲۰۲٣ء میں فلسطین میں انسانی حقوق پر خبر و نظر کے لیے وقف ویب سائٹ mondoweiss.net پر انگریزی زبان میں شائع ہوا۔

Categories
شاعری

ہماری نظمیں تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

ہم جانتے ہیں
تم ساری ترکیبیں جانتے ہو
تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے گر آتے ہیں
شہرت کی بخششیں
گمنامی کی ذلتیں
تمہارے دربار سے عطا ہوتی ہیں
مگر انہیں جو اپنا وجود
تمہاری شرائط کے قدموں میں ڈال دیں
تب معجزہ ہوتا ہے
اورتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنکر کو موتی
اور ردی کو صحیفہ
ثابت کردیتے ہو
مگر۔۔۔ تم نہیں جانتے
ہماری نظمیں
تمہاری شرائط کو ٹھوکر پہ رکھتی ہیں
یہ تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

Image: Naji al-Ali

Categories
نان فکشن

ادب میں مزاحمتی رویوں کا فقدان

ادب انسانی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے اور یہ معاشروں کو شعور کی آگاہی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی رہا ہے۔ یونانی تہذیب کے اثرات انسانی ترقی پر بے حد نمایاں ہیں اور ادبی دنیا کو جہتیں عطا کرنے میں بھی اس کا کردار بڑا واضح ہے۔ یونانیوں نے تقریباً ڈھائی ہزار برس قبل ہی المیہ نگاری کے فن میں ملکہ حاصل کر لیا تھا اور اس کی بڑی وجہ ہومری ادب بلکہ یوں کہنا چاہیےکہ ایک نابینا شاعر ہومر کی دو نظمیں ایلیڈ اور اوڈیسی ہیں۔ ایلیڈ جنگ کی ہولناکی اور مفتوحہ ریاست ٹرائے کی بربادی کامعروف قصہ ہے مگر متاثر کن امر یہ ہے کہ شکست خوردہ قوم کے مصائب کا تذکرہ اس آشوب انداز میں کیاگیا جو آنے والے دنوں میں شاعری اور ڈرامے کے فن کو المیہ نگاری کی روح عطاکرگیا۔

 

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں چار بڑے المیہ نگار ہو ئے ہیں ان میں سے تین لکھاری اسکائی لس،سوفوکلیز اور یوری پیڈیز یونانی ہیں جبکہ چوتھا شیکسپئر ہے۔ یونانی شہری ریاستوں میں جو جمہوری مزاج تھا، اس نے ادب میں مزاحمتی اور تنقیدی رویوں کے لئے گنجائش پیدا کی۔مثلاً یوری پیڈیز نے جب جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ عورتوں کے موضوع پر ڈرامہ لکھا تو ایتھنز کی شہری حکومت نے اس کے سکرپٹ پر اعتراضات اٹھا کر اسے کھیلنے پر پابندی لگا دی مگر وہ اس قدر دھن کا پکا تھا کہ ایتھنز کی حدود کے باہر جاکر اپنے فن کا اظہار کر آیا۔ ایتھنز سے محض ایک شخص ہی تماشائی کے طور پر شریک ہوا جو اس کا ذاتی دوست اور معروف فلسفی، سقراط تھا۔ اس کے بعد انقلاب فرانس ایسا واقعہ تھا جس نے معاشرتی دباؤ کے بوجھ تلے دبے انفرادی شخص کی ترجمانی کے لئے ادب کو مہمیز عطا کی اور رومانوی ادب کی جہت پروان چڑھی۔ انقلاب فرانس کے پس پردہ جہاں روسو اور دیدرو جیسے فلسفیوں کی تحریریں تھیں تو دوسری جانب عظیم مزاح نگار والٹئیر کی تنقید سے مزین تخلیقی کاوشیں تھیں جس نے فرانسیسی شعور کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ مندرجہ بالا حقائق کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ادب اور انسانی سماج کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اردو ادب اور پاکستانی معاشرے کا تعلق موجودہ حالات میں بہت کمزور دکھائی دیتا ہے جس کی متعدد وجوہ ہیں۔

 

انگریزوں کی ہندوستان آمد کے بعد جو سماجی تبدیلی آئی وہ یہ تھی کہ ایک متحرک دنیا کا ٹکراؤ ایک جامد معاشرے کے ساتھ ہوا۔ اردو زبان فارسی کے بوجھ تلے دبی تھی اور ادب بھی روایتی شاعری کی حدود میں مقید تھا۔ابتداءمیں نظیر اکبرآبادی اور اکبر الٰہ آبادی کے ہاں تنقید اور مزاحمت کی روایت ملتی ہے۔ علی گڑھ تحریک نے جب حالی اور شبلی جیسے لوگوں کے لئے ایک محاذ فراہم کیا تو جدید اسلوب کی جھلک نظر آئی کیونکہ اس تحریک نے ادب برائے زندگی کا نظریہ متعارف کروایا۔ ادبی دنیا میں اسے افادی نظریہ بھی کہا گیا۔ مگر ترقی پسند تحریک جس کی بنیاد 1936 ء میں پڑی، دراصل اردو کی پہلی خالص مزاحمتی تحریک تھی جس نے اردوادب کے آسمان کو ستاروں سے بھر دیا۔ منشی پریم چند، فیض احمد فیض، راجندر سنگھ بیدی، جوش، ساحر اور ایسے لاتعداد لکھاری اس تحریک سے وابستہ رہے۔

 

قیام پاکستان کے بعد یہ تحریک زیر عتاب رہی اور فیض صاحب راولپنڈی سازش کیس کےایک کردار ہونے کے الزام میں قید کر لئے گئے۔ تاہم بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے معروف مسلم لیگی رہنما میاں افتخارالدین نے امروز اور پاکستان ٹائمز جیسے اشاعتی پرچوں کا اجراء کیا اور چراغ حسن حسرت جیسے لوگ اس ادارے کو ابتدا سے ہی میسر آگئے۔ منٹو کی تحریریں متنازعہ رہیں مگر سماج پر تازیانے برسانے والا مزاج رکھتی تھیں اور میری ذاتی رائے میں جب تک معاشرے میں طوائف کا کردار زندہ رہے گا، منٹو کو مارنا شائد ممکن نہیں۔ شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ منٹو کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سوچتا مومن کی طرح ہے مگر لکھتا کافر کی طرح ہے۔ ایوبی آمریت کے خلاف بھی ادب نے بھرپور مزاحمت کی اور انسانی و معاشرتی مسائل موضوع بحث رہے۔ شوکت صدیقی نے خدا کی بستی جیسا ناول رقم کیا جو اپنے دور کے سماجی مسائل کا ترجمان تھا۔ بھٹو دور میں ایک لبرل معاشرے کی جھلک زیادہ واضح نظر آئی مگر حبیب جالب اور استاد دامن جیسی آوازیں گونجتی رہیں۔

 

پاکستان میں ضیاء دور کا آغاز ادب اور مزاحمتی روئیوں کے لئے مہلک ترین ثابت ہوا۔ حکمران طبقے کی پالیسیوں نے عقیدت کو مزاحمت اور منطق کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اس غیر جمہوری دور کے اثرات سیاسی سے زیادہ سماجی ثابت ہوئے اورعدم برداشت کے روئیوں نے ایسی جڑ پکڑی کہ اب تک ہم اس عفریت سے جان نہیں چھڑا پائے۔ اس کے بعد ہمارے ہاں ادب میں مزاحمتی رویوں کا فقدان ہونے لگا۔ آج بھی ہمارا سماج معاشی اور سماجی نا انصافیوں سے اٹا ہوا ہے مگر ادبی حلقوں نے اس کو فن کے تخلیقی اسلوب میں ڈھالنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر ادب کا راستہ سماج سے جدا ہوکر محض ذہنی عیاشی کی جانب نکل جائے تو یہ اپنے اظہار کے پست ترین درجے پر چلا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے اب پلیٹ فارمز بھی محدود ہیں۔ سماج کی درست سمت کے تعین کے لئے برداشت کا کلچر اپنانا ہوگا۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے یقینا خلا کو کسی حد تک پورا کیا ہے مگر ہمیں آج بھی تخلیقی صلاحیتوں کے ادبی اظہار کے لئے فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سماج اور ادب کا باہم رشتہ برقرار رہ سکے۔
Categories
شاعری

چُپ

چُپ
دروازہ مت کھولو
کہ باہر سوال آئے ہیں
جن کو پناہ دینا
جرم گردانا گیا ہے

 

آقاوں کی سہولت کو
ہم اپنے عقوبت خانے
خود میں لئے پھرتے ہیں
کہ ہم، وہ نسل ہیں
جو اپنی تصویروں کے باہر
کبھی مسکرا نہ سکیں گے

 

تم لب کشائی کی پاداش میں
انتظار میں تبدیل کر دیئے گئے
جو غم سے بھی زیادہ طویل ہے
اور انتظار بھی کیا
کہ بھلا کس کو خبر
گمشدہ چیزیں کہاں جاتی ہیں

Image: Tammam Azzam