Categories
نقطۂ نظر

زرد صحافت اور سنسنی خیزی

جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے
منہ کالا کروا ہی لیا ناں! مزید معلومات کے لیئے دیئے گئے لنک پر کلک کیجیئے!
شرم و حیا کو تار تار کر ڈالا! مزید جاننے کے لیئے یہاں کلک کیجیئے!
قوم کی لٹیا ڈبو دی! دیکھیے ایک اور شرم ناک حرکت فلاں سیاستدان کی!
فلاں سیاسی پارٹی کی اصلیت سامنے آگئی، بقیہ صفحہ 8 کالم 9 پر پڑھیئے۔
قربِ قیامت کے آثار نمودار! مزید تفصیلات 9 بجے کے خبر نامے میں!
جانیئے! کہاں کھیلی، کیوں کھیلی، کس نے کھیلی، کس سے کھیلی، خون کی ہولی! خون کی ہولی!
پانی سے چلنے والی گاڑی ایجاد! نوبل پرائز ہمارا ہوا! فلاں صوبہ! فلاں دھرتی کا سپوت زندہ باد!
بھگوڑی بیوی، آشنا کے ساتھ فرار! پیچھے چھوڑ دی شوہر کی مردہ لاش!
آپ مانیں یا نہ مانیں منرجہ بالا سطریں حقیقی خبروں اور سرخیوں سے ماخوذ ہیں۔ اور ان کے بنانے والے ذرا بھی شرمندہ نہیں ہیں!

 

آپ کو مندرجہ بالا کوتاہیوں کے حق میں دیئے جانے والے انتہائی مقبول دلیل کی مثال دیتا ہوں، بقول کئی ’میڈیا پرسنز‘ کہ: ’آزاد میڈیا ایک شیر خوار، نونہال ہے، جس کے قیام کو صرف 12 سال ہی بیتے ہیں۔ اب اس طرح کا ناتجربہ کار ’میڈیا‘ غلطیاں نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔‘ اس بیانیے میں12 سال پرانے سے مراد، جیو نیوز سے شروع ہونے والا دور ہے۔ ایسے بیان دینے والے افراد صحافی نہیں، البتہ صنعتِ ابلاغ کے ملازمین ضرور ہوتے ہیں۔ یہ ایک صنعت کو جسے عاقل، بالغ افراد چلا رہے ہیں، انسانی بچے سے تشبیہہ دیتے ہیں جو عام منطقی مغالطوں کی ایک بھدی مثال ہے۔ میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا اور اس بناء پر ذرائع ابلاغ کو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی گنجائش نہیں دے سکتا۔

 

میرے خیال میں تو برِ صغیر میں صحافت کوئی 160 سالی پرانی حقیقت ہے۔ تحریک آزادی میں ہماری بے باک صحافتی روایت کا گراں قدر حصہ ہے۔ اس پیشے کی اہمیت کے پیش نظر بابائے قوم نے بھی ایک اخبار کی داغ بیل ڈالی تھی! یہ جو ہمارا سرکاری ٹی۔وی ہے، یہ بھی ابتداء میں ایک غیر سرکاری منصوبہ تھا لیکن بعد میں اسے قومیا لیا گیا تھا۔ اگر اشارہ دیگر نجی اداروں کی طرف تھا تو، شالیمار ٹیلی وژن نیٹ ورک بھی بہت پرانا ہے، پھر نجی ریڈیو چینلز کی بھی بھرمار رہی ہے۔ اور اگر رونا پیشہ ور صحافیوں کا ہے تو صحافت کی تعلیم کئی دہائیوں سے دی جا رہی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں کئی تعلیمی اداروں نے صحافت کی اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیا ہے۔ پریس کلب جاکر پتہ کرلیجے کتنے اخبارات روزانہ چھپتے ہیں، کسی بزرگ صحافی سے پوچھ لینا سنسر شپ کیا ہوتی ہے، اور یہ بھی کہ سچ بولنے پر کیسی کیسی سزائیں ملی تھیں۔ روح کانپ جائے گی! اگر دیسی اخبارات پر اعتبار نہیں، تو بی-بی-سی ورلڈ نیوز، رائٹر اور اے-ایف-پی کا پوچھ لینا، ان اداروں پر تو اعتبار ہے ناں! ان میں بھی مقامی صحافی حضرات نے ہی خدمات انجام دی تھیں اور دے رہے ہیں، اور عالمی معیار کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، لہٰذا یہ دلیل کے میڈیا تو ننھا منّا ہے غلط ثابت ہوتی ہے۔

 

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔
جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے۔ آج کے دور میں، زرد صحافت انتہائی معیوب لقب ہے اور یہ غیر معیاری سے لےکر، نا تجربہ کار اور غیر اخلاقی صحافت تک کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی سے مراد، ادارت کا وہ غیر معیاری طریقہِ کار اور ترجیحات ہیں جن کے ذریعے عام خبریں، حقائق اور معاملات کو عوام کے سامنے مبالغے کی حد تک بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً دو اہم شخصیات کی ملاقات کو حکومت کے دھڑن تختے تک پہنچا دینا۔

 

لوگوں کے جذبات سے کھیلنا، حقائق کو چھپانا یا بڑھا چڑھا کر بتانا، کسی واقعے کا صرف ایک رخ دکھانا یا بیان کرتے وقت معاملے کو سراسر بدل ڈالنا۔ مثلاً ایک جگہ، پولیس کے لیئے مختص نشستوں کو خالی دکھانا اور فوراً کہہ دینا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے غافل ہیں، حالانکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی مسئلے کو نمٹا رہے ہوں یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے کر جا چکے ہوں۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی بھی بات کی تصدیق نہ ہوسکی اور ادارے کو بدنام کردیا گیا۔ مزید نقصان اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی دوسرا چینل اس سے بھی زیادہ آدھی اور ادھوری ‘خبر’ پیش کرتا ہے اور سارا زور صرف سبقت لے جانے پر ہوتا ہے۔ سچائی سے کسی کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔ ایسی رپورٹنگ سے عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ہے، صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ جنسی جرائم یا بے بنیاد سکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ پڑھنے والا اسے لذت کے حصول کے لیے پڑھے۔ اس ضمن میں جسمانی نمائش، گلیمر یا جنسی کج رویوں کی تبلیغ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔

 

زرد صحافت کم و بیش، زر پرستی کی پیداوار ہے۔ ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔ جو چینل زیادہ دکھتا ہے، اس کا ایئر ٹائم اتنا ہی مہنگا بکتا ہے۔ یہ زیادہ دِکھنا ٹی-آر-پی یا ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ سسٹم کے ذریعے ماپا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ ناپنا ہوتا ہے کہ کون سا چینل کس وقت زیادہ دیکھا گیا، اور بس! یہ سسٹم یہ نہیں ناپ سکتا کہ اگلے نے بعد میں چینل، یا اس پر چلنے والے پرگرام کی تعریف کی یا اس کو گالیاں دیں۔

 

میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔
پاکستان میں ٹی آر پی کا نظام بھی ناقص اور بے حد محدود ہے۔ پاکستان بھر میں کم و بیش 600 سے 800 گھرانوں میں یہ سسٹم نصب تھا، سنا ہے کہ حال ہی میں یہ تعداد 1000 سے 2000 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی گنتی کے ان گھرانوں میں جو چینل زیادہ دیکھا جا رہا ہےفرض کر لیا جاتا ہے کہ وہی پورے پاکستان نے دیکھا! ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹی آر پی نظام کی تمام تر تنصیب شہری علاقوں میں ہے دیہی علاقہ جات کے رحجانات ماپنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔
اس نظام میں نمونے کا اس قدر مختصر ہونا ایک بہت بڑ ا مسئلہ ہے! سائنس و تحقیق بالخصوص عمرانیات میں کہا جاتا ہے کہ جتنا زیادہ وسیع اور متنوع نمونہ تحقیق کے لیے منتخب کیا جائے گاتحقیق کے نتائج اسی قدر معتبر ہوں گے۔ نمونے کے انتخاب کی شرح کی حد بھی مقرر ہے اور وہ حد ہے، 10 تا 20 فیصد۔ پاکستان بھر کے گھرانوں میں دیکھے جانے والے پروگراموں اور ٹی وی چینلوں کا اگر اندازہ لگانا ہے تو کلُ آبادی کا کم از کم 10 فیصد نمونہ منتخب کیا جانا چاہیئے۔ 22 کروڑ عوام کا دس فی صد دو کروڑ بیس لاکھ بنتا ہے، کہاں دو کروڑ بیس لاکھ اور کہاں محض دو ہزار۔۔۔۔ تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

 

اس ناقص نمونے کی بنیاد پر شروع کیے گئے ٹی وی پروگراموں کا معیار نہایت پست ہے۔ اس ضمن میں کئی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جن میں سے ایک، ’آزاد، خودمختار اور ذمہ دار‘ ذرائع ابلاغ اور صحافت کی ترویج و تبلیغ ہے۔ سند یافتہ صحافیوں کی بھرتی کے باوجود زیادہ تر افراد بنیادی صحافتی اخلاقیات سے ناواقف ہیں یا انہیں اہمیت ہی نہیں دیتے جس کی ایک بڑی وجہ میڈیا مالکان کا کاروباری پس منظر ہے۔ آپ کسی بھی نام نہاد میڈیا پرسن سے پوچھ لیں وہ آپ کو اس بارے میں ککھ نہیں بتا سکے گا! اس کی تان جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے پر آکر ٹوٹ جائے گی۔ پاکستان میں دھکم پیل کر کے میڈیا حکومتی اثر سے آزاد و خودمختار تو ہوگیا ہے، لیکن ذمہ دار بالکل نہیں۔
چند ادارے میڈیا کو حقیقی طور پرآزاد و ذمہ دار بنانے کے لیئے کوشاں ہیں، لیکن ان کی کاوشوں کو مزید تقویت پہنچانےکی ضرورت ہے۔ جو ادارے اس کاوش میں سرِ فہرست ہیں ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:

Individualland’s FIRM – Free Responsible & Independent Media
Mishal Pakistan’s Pakistan Media Credibility Lab
IoBM’s PCMF – Pakistan Citizens Media Forum

ان اداروں کی موجودگی خوش آئیند ہے، لیکن ان کا اثر و رسوخ بے حد محدود ہے۔ میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ صحافت ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہی کردار ادا کرے جو اس کو زیب دیتا ہے تو ہمیں صحافت کو اشتہارات کی غلامی سے آزاد کروانا ہوگا!
Categories
نقطۂ نظر

انسانی فلاح و بہبود میں کیوں ٹانگ اڑائیں؟

‘ہاں بھئی آپ میں سے کتنے لوگوں کے پاس ایک عدد موبائل فون ہے؟’
تقریباً سب نے ہاتھ اٹھا دیا۔
‘آپ میں سے کتنے لوگوں کے پاس ایک سے زیادہ موبائل فون ہے؟’
آدھے سے زیادہ سامعین نے ہاتھ اٹھا دیا۔
‘یہ دوسرا موبائل کس لیئے ہے؟’
‘وہ چھن جاتا ہے ناں اس لیے دو ہیں، ایک دے کر دوسرا والا بچالیتے ہیں!’ جواب آیا۔
اور جو بچ جاتا ہے وہ مہنگا والا امپورٹڈ، ۳جی-۴جی ۵-۱۰ میگا پکسل کیمرا والا موبائل ہوتا ہے، ہے ناں! بس یہی فرق ہے آپ میں اور ہم میں ہم لوگ اس غم، المیے، اس دوری، غربت، کدورت کو پاٹنے کے لیے کوشاں ہیں جو ایک شخص کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیتا ہے، وہ شخص جو کہنے کو آپ کے اور میری طرح پاکستانی ہے لیکن اس کے اور آپ کے درمیان طبقات و مراعات کا ایک لامتناہی فاصلہ ہے۔
اوہ، سیاق و سباق تو رہ ہی گئے۔ یہ گفتگو چند دن قبل میرے اور جامعہ کراچی کے چند سو طلبہ و طالبات کے درمیان ایک سیمینار کے دوران ہورہی تھی، میں اس سوال کا جواب دے رہا تھا جو تقریباً مجھ سے ہر دوسرا شخص کرتا ہے اور شاید یہ سوال ہر اس شخص سے کیا جاتا سے جس کے سر پر اپنے عوام کا بھلا کرنے کا بھوت سوار ہوتا ہے۔ لوگ ہم سے بار بار یہی پوچھتے ہیں یہ سب کرنے سے کیا حاصل ہوگا، کیا کوئی مالی یا مادی بھلا بھی ہوگا یا نہیں؟ اور میں اس سوال کے جواب میں مندرجہ بالا سوالات کر ڈالتا ہوں۔
پورے پاکستان میں صرف ۴۶ فیصد حصہ تعلیم یافتہ ہے، ۸۸ فیصد کے پاس بجلی کا کنکشن موجود ہے اور فقط ۱۰ فیصد کے پاس انٹرنیٹ موجود ہے۔ اور سنیئے ۵۴ فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اب بتائیں ہم کیسے خود کو مراعات یافتہ نہ کہیں۔ اور آپ اور میں کہیں نہ کہیں، وہ ضرور کہے گا جس کے پاس یہ آسائشیں نہیں ہیں۔
عوام ‘ہوتے’ سے ‘ہوتی’ ہوگئے، اوپر سے نوجوان، تھوڑے سے نادان، سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ یہ مراعات ہمیں اشرافیہ کی صف میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ جی ہاں، چلیں اشرافیہ نہ سہی امراء پر ہی اکتفا کرلیں۔ نہیں! تو کوئی بات نہیں لیکن ہم مراعت یافتہ طبقہ ضرور ہیں، یہ آرٹیکل جو آپ پڑھ رہے یا رہی ہیں، یہ پڑھنے کے لیے آپ کا خواندہ ہونا ضروری ہے، پہلی مراعت، آپ یہ آرٹیکل کمپیوٹر پر پڑھ رہے یا رہی ہیں، ایک اور مراعت، کمپیوٹر چلانے کے لیے، بجلی بھی موجود ہے اور انٹرنیٹ بھی۔ واہ، واہ!پورے پاکستان میں صرف ۴۶ فیصد حصہ تعلیم یافتہ ہے، ۸۸ فیصد کے پاس بجلی کا کنکشن موجود ہے اور فقط ۱۰ فیصد کے پاس انٹرنیٹ موجود ہے۔ اور سنیئے ۵۴ فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اب بتائیں ہم کیسے خود کو مراعات یافتہ نہ کہیں۔ اور آپ اور میں کہیں نہ کہیں، وہ ضرور کہے گا جس کے پاس یہ آسائشیں نہیں ہیں۔
المیہ در المیہ دیکےکو یہ آسائشیں نہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی ہیں مگر ہر کسی کی دسترس میں نہیں ہیں۔آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ اور میں بوورژوازی بن گئے ہیں اور ہم نے غریب پرولتاریہ کو اپنی نظروں سے پرے بستیوں یہ گھیٹوز میں دھکیل دیا ہے۔ بقول روسو کے ایک ملکہ کو جب بتایا گیا کہ رعایا کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہےتو اس نے کہا تھا کے ان سے کہہ دو، ’کیک کھالیں‘ اور پھر انقلاب آیا، خونی، امرأ ماردیئے گئے بلا تفریق! آج ہم بھی معصوم(در حقیقت منحوس) ملکہ کی طرح دو موبائل رکھتے ہیں کہ ایک چور کو دے دیں گے لیکن یہ نہیں جاننا چاہتے کہ چور چوری کیوں کر رہا ہے؟ سچائی یہ ہے کہ ’بھوک تہذیب کے آداب بھلادیتی ہے‘ آپ کا اور میرا مہنگا موبائل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہاں ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ مال و دولت ہے، اس کے پاس تو ایک وقت کے کھانے اور بچے کی دوائی کے لیے بھی پیسے نہیں تو وہ انتقام لیتا ہے۔ اپنے نزدیک وہ انصاف کررہا ہوتا ہے اور آپ کے نزدیک جرم۔ لہٰذا اگر آپ اس چوری چکاری اور غنڈہ گردی سے بچنا چاہتے ہیں، تو اٹھیں اور اپنے، ہنر اور قابلیتوں کو ان افراد کے ساتھ بانٹیں جو غریب ہیں، ضرورتمند ہیں، اور ایسا ان کو ایک وقت کا کھانا کھلانے سے ممکن نہیں ہوگا۔ بھیک نہیں دیں کارِ خیر کریں۔ لیکن بھئی کیوں کریں؟ ٹیکس دیتے تو ہیں حکومت کو۔ تو میرے عزیزو، یہ تو یہ ہے پرانا عمرانی معاہدہ، کچھ دو کچھ لو، لیکن دورِ حاضر میں ہمیں صرف شہری بن کر نہیں ذمہ دار شہری بن کر جینا ہوگا۔ ایسا کرنا شاید طبیعت پر گراں گزرے لیکن جب آدھی قوم غریب ہو تو حل تو نکالنا پڑے گا ناں۔
فکر نہ کریں! عہد کریں! قوم کی شرحِ خواندگی کو بڑھائیں گے، خواتین اور بچوں کو احترام و با عزت مقام دلائیں گے، جہاں رشوت خوری اقرباپروری دیکھیں گے آواز اٹھائیں گے، شکاگو کے مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کا حق مانگا اور منوایا تھا۔ آئیں ہم تعلیم یافتہ نوجوانان بطور ذمہ دار شہری آٹھ گھنٹے روزانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی، فلاح و بہبود اور انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے وقف کردیں، روزانہ آواز اٹھائیں، اقدام اٹھائیں، رائے عامہ ہموار کریں، سماجی ابلاغ پر شور مچائیں۔ ہماری یہ چھوٹی چھوٹی کاوشیں ہی معاشرے میں عدل و انصاف، برابری، مساوات اور حقوق کی یکساں اور ہر طبقے تک رسائی کو ممکن بنا سکتی ہیں۔ دوسرا موبائل نہیں کسی بھی، بلکہ کئی ایک نوجوان تنظیمات کی رکنیت حاصل کرلیں، عوام کا بھلا کریں، غربت وافلاس کوختم کریں، اپنے آپ ہی امن قائم ہوجائے گا۔انشأاللہ!
Categories
نقطۂ نظر

سوشل ورک یا سستی شہرت؟

چند دن پہلے کی بات ہے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا، باتوں سے باتیں نکل رہی تھیں، نوکری، ملازمت، شادی، والدین کے حقوق ہر چیز پر باتیں ہو رہی تھیں، اچانک میرے دوست کو کچھ خیال آیا اور وہ بولا، ’آج مجھے اپنے سوشل ورکر ہونے کا یقین ہوگیا جب ایک نو سکھیا میرے احترام یا پھر دبدبہ سے تھر تھر کانپ رہا تھا، اور میں اس کو ایونٹ مینجمنٹ سمجھا رہا تھا۔‘ اپنے دوست کی بات سن کر میں نے اس کو ٹوکا، ’بھائی یہ تو کوئی دلیل نا ہوئی تمھارے سوشل ورکرہونے کی، تم گزشتہ3 سال سے مختلف این-جی-اوز سے منسلک ہو لیکن تم سوشل ورکر نہیں ہو!‘ میری اس بات پر اس نے برا منایا اور فوراً سوال داغ دیا کہ، ‘اگر میں سوشل ورکر نہیں ہوں تو، فلاں، فلاں اور فلاں بھی نہیں ہیں! حالانکہ جو کام وہ کرتے ہیں وہی کام میں بھی کرتا ہوں وہ اپنے آپ کو سوشل ورکر کہتے ہیں میں بھی کہوں گا! لیکن اگر تم کہتے ہو کہ میں سوشل ورکر نہیں ہوں تو پھر سوشل ورکر کون ہوتے ہیں؟’
اس کے اسی سوال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہاں سوشل ورکر کون ہوتا ہے؟ اور آخر کیوں آج ہمارے معاشرے میں اس طرح کے قول و فعل کے تضادات وجود میں آرہے ہیں۔ اپنے دوست کو تو میں نے مطمئن کردیا تھا لیکن میں خود بے چین ہو گیا تھا، میرے سامنے اچانک معاشرے کا بڑا عجیب مسئلہ آگیا تھا! اس لیے آج میں نے تہیہ کیا ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کروں۔ میرا مقصد لوگوں خاص کر نوجوانان کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ انہیں مطلع و متنبہ کرنا ہے کہ وہ خود فریبی اور خود نمائی سے پرہیز کریں اور سچ کی بنیاد پر انہی کاوشوں کو استوار کریں۔ سننے اور کہنے سے یہ مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے لیکن اسی طرح کی چھٹی چھوٹی بے ضرر سی غلطیاں ہی آگے چل کر ہمارے لیئے عذاب بن جاتی ہیں۔
اگر آپ اب تک میرے ساتھ ہیں تو مبارک ہو آپ کو کہ آپ نے اب تک تین سو اٹھاون الفاظ پڑھ لیے ہیں۔ اب میں اپنے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں یعنی کہ، سماجی کارکن کون ہوتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ اگر ہم سماجی کارکن نہیں تو کیا ہیں؟ اور ہمارے ان افعال کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
پہلے ذرا ماضی پر نظر ڈال لیتے ہیں، پرانے زمانے میں لوگ خود کو یا دوسروں کو فلانتھراپسٹ کہنا، یا کہلوانا پسند کرتے تھے، امپورٹڈ لفظ تھا، با رعب بھی لگتا تھا، لیکن میں اور آپ وہ نہیں ہیں، کیوں؟ فلانتھراپی کی حالیہ شکل انیسویں صدی میں صنعتی دور کے ساتھ ساتھ سامنے آئی تھی۔ امراٗ غرباٗ کی غربت دور کرنے کے لیئےادارے قائم کردیا کرتے تھے، جن کو چلانے کے لیئے بھاری بھاری چندے دیئے جاتے تھے۔ آج کے دور میں سب سے بڑے فلانتھراپسٹ بِل گیٹس صاحب اور وارن بفے صاحب ہیں جنہوں نے اپنی کمائیوں میں سے اربوں روپے غربت، افلاس اور انسانیت کے بھلے کے لیئے مختص کر دئیے ہیں۔
ایک چیز اور بھی ہوتی ہے جسے انگریزی میں آلٹروازم کہتے ہیں، اس کی شروعات چرچ سے ہوئی تھی اور آج بھی آپ دیکھیں تو دنیا بھر میں چرچ اور تقریباً تمام ادیان کے عبادت خانے رفاہی و فلاحی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن رکیے آپ اور میں آلٹروئسٹ بھی نہیں ہیں۔ وہ افراد جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیئے اپنے آپ کو فنا کردیں وہ فیس بک پر آ کر اپنے کارنامے گاتے اور گنواتے نہیں ہیں۔
سوشل ورک یا سماجی کارروائی، جی ہاں کاروائی سننے میں عجیب لگ رہا ہے ناں۔ کا اصل مقصد انسانی بہبود و ترقی کی تعلیم، ترویج، تحقیق اور تبلیغ کا کام ہے۔ یہ ایک باقاعدہ سائنس ہے، جس کو باقاعدہ طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ سوشل ورکر معاشرے میں طبقاتی تعصب کے خاتمے، انسانی حقوق کی پاسداری اور دیگر معاملات پر کام کرتے ہیں۔ جن میں مشاورت یا کونسلنگ سے لے کر، پالیسی سازی اور رائے سازی یا ایڈووکیسی شامل ہے۔ سوشل ورک کے زیادہ تر طالبِ علم مختلف این-جی-اوز میں یا پھر کارپوریٹ اداروں کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی ڈپارٹمنٹس میں ملازمت اختیار کر لیتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے، کچھ افراد اپنے ذاتی ادارے اور تحاریک بھی قائم کرلیتے ہیں، مثلاً عبدل ستار ایدھی، ڈاکٹر ادیب رضوی۔ یہ افراد جذبہِ انسانیت سے سرشار ہوتے ہیں، اب بتائیں ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ؟
اب اور بڑا سوال اٹھتا ہے! ہم کیا ہیں؟ سچ یہ ہے ہم اس وقت تک خود کو سوشل ورکر نہیں کہہ سکتے جب تک ہم اس کام کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل نہ کرلیں یا پھر ایسے افراد پر مبنی ادارہ قائم نہ کرلیں جو اس کام میں تعلیم و تربیت یافتہ ہوں۔ ہم رضا کار ضرور ہیں اور اس بات پر ہمیں اور ہمارے جاننے والوں کو فخر بھی کرنا چاہیئے مگر ہمیں خود فریبی سے بچنا چاہیئے۔ مطلب یہ کہ ایک یتیم خانے میں ایک وقت مکڈونلڈز سے لا کر کھانا کھلانے اور پھر اس کارنامے کی تصاویر فیس بک پر آویزاں کرنے سے ہم سوشل ورکر نہیں بن جاتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بہت سارے وزیروں، مشیروں، سماجی کارکنان، ماہرینِ عمرانیات وغیرہ، وغیرہ کو جانتے ہیں، آئے دن آپ کا آنا جانا ان کی محافل میں ہوتا رہتا ہے تو آپ سوشل ورکر بن گئے؟! جی نہیں ایسا کر کے آپ سوشلائٹ یا پھر ایک مشہور ہستی بن گئے ہیں، مشہور ہونے کا انسانی ترقی و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر آپ معاشرے میں ہونے والے مظالم و مصائب ہر آواز اٹھاتے ہیں، لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں تو پھر آپ سول سوسائٹی کے ممبر کہلائیں گے۔
یاد رکھئیے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں جو آگے چل کر بڑے بڑے فرق پیدا کریں گی۔ ذرا سوچیئے، آج سے بیس سال بعد ہماری آنے والی نسلوں پر کیا گزرے گی جب وہ یہ دیکھیں گے کہ ہر دوسرا پاکستانی تو سماجی کارکن یعنی کہ عمرانی معاہدے کا سچا و پکا پاسدار تھا، لیکن ہم آج بھی ترقی پذیر ہیں؟ آخر کیوں تو کہیں نہ کہیں سے یہ جواب ضرور آئے گا ہاں ہمارے آبا و اجداد سب کہ سب سوشل ورکر تھے بس ذرا سوشل ورک کی تشریح غلط کر بیٹھے تھے۔ ان کے نزدیک انسانی بہبود و ترقی نہیں بلکہ ذاتی نمود و نمائش ہی سوشل ورک تھی۔
اگر آپ قوم، ملک، سلطنت اور انسانیت کے لیے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو جائیے پہلے سوشل ورک سیکھیے، سمجھیے اور پھر دل و جان سے اس میں جت جائیں، قسم سے مزہ آجائے گا۔ اور شہرت بھی مل ہی جائے گی، وہ بھی اصلی، سچی اور دیرپا۔
آخری بات! سماجی کام کی چھ بنیادی اقدار ہیں ان پر ضرور عمل کیجیئے گا۔
اور ہوسکے تو اپنے ہر عمل کو ہزاریہ ترقیاتی مقاصد کی روشنی میں عملی جامہ پہنائیے گا۔
۱۔ مصائب میں گھرے لوگوں کی امداد و داد رسی کرنا۔
۲۔ سماجی رواداری کو یقینی بنانا اور معاشرے میں سماجی ناانصافیوں کے خلاف جد و جہد کرنا۔
۳۔ ہر شخص کا احترام کرنا اور اس کو پروقار سمجھنا۔
۴۔ آپسی تعلقات کو باقاعدہ قدر بخشنا۔
۵۔ خود کو ایماندار اور قابلِ اعتماد ثابت کرنا۔
۶۔ اپنے دائرہِ اختیار میں رہتے ہوئے ہی کام کرنا اور اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانے میں کوشاں رہنا۔