زرد صحافت اور سنسنی خیزی

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔
انسانی فلاح و بہبود میں کیوں ٹانگ اڑائیں؟
آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ اور میں بوورژوازی بن گئے ہیں اور ہم نے غریب پرولتاریہ کو اپنی نظروں سے پرے بستیوں یہ گھیٹوز میں دھکیل دیا ہے۔
سوشل ورک یا سستی شہرت؟
ہم اس وقت تک خود کو سوشل ورکر نہیں کہہ سکتے جب تک ہم اس کام کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل نہ کرلیں یا پھر ایسے افراد پر مبنی ادارہ قائم نہ کرلیں جو اس کام میں تعلیم و تربیت یافتہ ہوں۔