Categories
اداریہ

احتجاجی مظاہروں کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان بند

campus-talks

بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد ہفتہ 13 جون 2015 سے یونیورسٹی بند ہو چکی ہے۔ طلبہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کے کے ساتھ تدریسی سرگرمیوں کے سہ روزہ بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانی پر طلبہ ایک ماہ سے احتجاج کررہے ہیں تاہم اس احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب 12 جون کو ایم ایڈ کے امتحان کے دوران یونیورسٹی آف بلوچستان کے مرد اہلکاروں نے مبینہ طور پرایک طالبہ کی تلاشی لی۔ واقعہ کی خبر ملتے ہی مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے ایڈمنسٹریشن بلاک کے باہر احتجاج شروع کردیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکیورٹی اداروں کی سے مدد طلب کی۔
آن لائن جریدے دی بلوچستان پوائنٹ میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چار ج کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ کی۔طلبہ نے بعد ازاں سریاب روڈ پر احتجاج کیا اور ٹریفک کی آمدورفت معطل کر دی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے حالات خراب ہونے کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈالی ہے جبکہ یونیورسٹی وائس چانسلر کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے لاٹھی چارج طلبہ کی طرف سے ایڈمنسٹریشن بلاک میں داخل ہونے کی کوشش کے بعد کیا گیا ہے۔طلبہ کی جانب سے 12 جون کے واقعے کے ردعمل میں تین روز تک تدریسی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔ ہفتہ کے روز ہونے والے طلبہ تنظیموں کے مشترکہ اجلاس کے دوران وائس چانسلر ، کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولا امتحانات کی برخواستگی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وائس چانسلر نے طلبہ کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وی سی ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق احتجاج تب شروع ہوا جب ایک طالبہ کو نقل کرنے سے روکا گیا۔ انہوں نے طالبہ کی جامہ تلاشی کے الزام کو سختی سے مسترد کردیا۔ احتجاجی طلبہ کے مطابق معاملہ محض طالبہ کی جامہ تلاشی کا نہیں بلکہ یونیورسٹی میں جاری بدانتظامی اور بد معاملگی کا ہے اور جب تک اس پر قابو نہیں پایا جائے گا احتجاج جاری رہے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

فیسوں میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر رینجرز کا تشدد، متعدد زخمی

campus-talks

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے طلبہ نے رینجرز اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے باوجود فیسوں میں مجوزہ اضافے کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سرسید یونیورسٹی کے طلبہ گزشتہ کئی روز سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے فیصلے کے خلاف پرامن احتجاج کرہے ہیں۔ منگل 26 جون کویونیورسٹی کے باہر ہونے والے پرامن احتجاج کے دوران قریبی چوکی سے رینجرز اہلکاروں کی بھاری تعداد نے طلبہ کا گھیراو کرلیا اور شدید لاٹھی چار ج کیا۔ تشدد کے نتیجے میں کئی طلبہ زخمی ہونے کے باوجود طلبہ نے حتی الامکان اپنا احتجاج جاری رکھا۔ احتجاج میں شریک طالب علم وقاررئیس کے مطابق رینجرز اہلکار کی جانب سے طلبہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے آنے تک بے دریغ لاٹھی چارج کیا گیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کی گئی ہے تاہم طلبہ حلقوں نے اس صورت حال کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈالی ہے۔ سوشل میڈیا پر سرسید یونیورسٹی کے طلبہ کے صفحات پر جاری کی گئی معلومات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف پروگراموں کی داخلہ اور امتحانی فیس میں اضافہ کیا ہے جس کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا ہے اور اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک گراف میں سرسید یونیورسٹی کی فیس میں اضافے کا دیگر یونیورسٹیوں کے ساتھ موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ طلبہ کا دعوی ہے کہ رواں برس فیس 55000 سے بڑھا کر 85000 کر دی گئی ہے۔

تصویر 3 (Mobile)

طالب علموں نے کراچی میں رینجرز کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ایک طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت جامعہ کراچی رینجرز کی سب سے بڑی چھاؤنی بن چکی ہے۔ رینجرز شہر میں آئے روز اساتذہ، طلبہ اور مختلف طلبہ تنظیموں سے الجھتی رہتی ہے اوراب یہ سلسلہ سر سید یونیورسٹی تک جاپہنچا ہے”۔ سرسید یونیورسٹی کے طلبہ نےاعلی حکام سےایسے واقعات کا نوٹس لینےاور طلبہ کے خلاف رینجرز اہلکاروں کے تشدد کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

Categories
اداریہ

عدالتی جنگ کے باعث طلبہ مشکلات کا شکار

campus-talks

بہاوالدین زکریا یونویرسٹی کا آرکیٹیکچر اینڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پاکستانی جامعات کے ان بیشتر اداروں میں سے ایک ہے جہاں ڈگری کی متعلقہ اداروں سے توثیق کے بغیر اجراء کے باعث طلبہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تدریسی عملہ کی کمی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے توثیق نہ ہونے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس ڈیپارٹمنٹ میں داخلے اور تدریس کا آغاز کردیا گیا تھا۔ تدریسی عملہ کی کمی دور کرنے کے لیے بھرتی کیے جانے والے اساتذہ کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے باعث تاحال پاکستان انجینئرنگ کونسل سے توثیق نہیں کی جاسکی جس سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
یونیورسٹی رجسٹرار ملک منیر کے مطابق نئے اساتذہ کی تقرری پر عدالتی حکم امتناع کے باعث معاملہ التوا کا شکار ہے،”یونیورسٹی سلیکشن کمیٹی نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کی ہدایت کے مطابق مزید تین اساتذہ بھرتی کیے تھے جن کے خلاف عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیا گیا تھا۔ ” رجسٹرار نے حکم امتناع خارج کرانے کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل کے ذریعے انصاف کے حصول کی امید بھی ظاہر کی۔ تاہم طلبہ کے مطابق ایسا جلد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیدار نسیم احمد کے مطابق انتظامیہ روپیہ کمانے کے لیے جان بوجھ کر غیر توثیق یافتہ پروگرامز میں طلبہ کو داخلہ دیتی ہے”اگر انتظامیہ کوئی بھی ڈگری پروگرام شروع کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کی جانب سے توثیق حاصل کرے تو ایسا نہ ہو لیکن تعلیمی ادارے محض روپیہ کمانے کے لیے غیر توثیق یافتہ کورسز میں طلبہ کو داخلے دے دیتے ہیں جو بعد میں طلبہ کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔”
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے آرکیٹیکچر اینڈ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ نے توثیق کے بغیر ڈگریاں جاری کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے داخلی راستے اور بسوں کی آمدورفت بند کردی۔ 13 اپریل 2015 کو احتجاج کرنے والے طلبہ نے انتظامیہ اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے خلاف نعرے بازی کی اور ڈگری پروگرام کی توثیق کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق ڈگری پروگرام کی توثیق نہ ہونے کے باعث وہ اعلی تعلیم اور ملازمتوں کے حصول کے اہل نہیں،”جب تک پاکستان انجینئرنگ کونسل ہماری ڈگری کی توثیق نہیں کرے گی ہم نہ تو آگے پڑھنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں نہ کہیں ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔” مظاہرے میں شریک ایک طالب علم کا کہنا تھا۔
پاکستانی تعلیمی اداروں میں بغیر تصدیق کے ڈگری پروگراموں اور تعلیمی اداروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جہاں ہر برس سینکڑوں طلبہ داخلہ حاصل کرنے کے بعد احتجاج کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پارکنگ تنازعہ پر طلبہ کا احتجاج

campus-talks

نامہ نگار+پریس ریلیز
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے پارکنگ کے تنازعہ پر ہونے والے جھگڑے پر جمعرات 26 مارچ کو ڈی آئی جی چوک پر احتجاج کیا اور یونیورسٹی بسوں کی آمدورفت معطل کردی۔ طلبہ نے ڈی آئی جی چوک سے اولڈ کیمپس تک ریلی بھی نکالی اور دھرنا بھی دیا۔ چار گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران طلبہ نے نعرے بازی کی اور انتظامیہ سے تشدد میں ملوث سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے 18 مارچ کو یونیورسٹی سیکیورٹی گارڈز سے ہونے والے جھگڑے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے، خاتون سیکیورٹی گارڈوں کی تعیناتی اور فیسیں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
news image (Mobile)
لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ برس پشاور حملے کے اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ممکنہ دہشت گرد حملے سے بچاو کے لیے بعد غیر اندراج شدہ گاڑیوں کے لیے داخلی دروازے کے قریب پارکنگ قائم کی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس حدود میں صرف انتظامیہ کے پاس اندراج شدہ گاڑیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے کے فیصلے کے باوجودبعض طلبہ نے اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے اندراج کے بغیر انہیں یونیورسٹی حدود میں لے جانے کی کوشش کی جس پر انہیں روکا گیا، “طالب علموں نے اپنی موٹر سائیکلیں ڈیپارٹمنٹ تک لے جانے کی کوشش کی، سیکیورٹی اہلکاروں کے روکنے پر ہاتھا پائی اور احتجاج پر اتر آئے۔” ایک یونیورسٹی گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ گارڈ کے مطابق طلبہ کی جانب سے گالم گلوچ اور مارپیٹ کا آغاز کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ،”گارڈز نے یونیورسٹی انتظامیہ کی ایماء پر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔” اسلامیہ یونیورسٹی کے طالب علم فیاض کا کہنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے پارکنگ کی جگہ ڈیپارٹمنٹس سے بہت دور بنائی ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو کافی دشواری کا سامنا ہے، انہوں نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا عندیہ بھی دیا،”ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور ڈی سی آفس کے سامنے بھی دھرنا دیں گے۔” تاہم آج دھرنے کےطے شدہ مقام پر کسی قسم کا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا۔ مظاہرین نے دو طالب علموں محمد طیب جاوید اور جنید ججہ پر تشدد کا الزام بھی عائد کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات بے جا اور احتجاجی طلبہ کو یونیورسٹی کے اٹھارہ ہزار طلبہ کی حمایت حاصل نہیں، احتجاج میں شریک طلبہ یونیورسٹی سے خار کیے گئے طلبہ ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافہ نہیں کیا اور نئی پارکنگ صرف غیر اندراج شدہ گاڑیوں کے لیے ہے۔
Categories
اداریہ

طلبہ مظاہرے کے باعث فیسوں میں اضافے کا فیصلہ تبدیل

campus-talks

کراچی یونیورسٹی کی جانب سے امتحانی و تدریسی واجبات میں دوسو فیصد اضافے کا فیصلہ طلبہ مظاہرے کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے دوسو فی صد کی بجائے صرف پچاس فی صد اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 9 مارچ کو کراچی یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ نے تدریسی سرگرمیوں کا مقاطعہ (Boycott) کرتے ہوئے یونیورسٹی روڈ تک پیش قدمی کی اور دھرنا دیا جس سے آمدورفت معطل رہی۔ طلبہ نے اس موقع پر نعرے بازی کی اور فیسوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
کراچی یونیورسٹی کی جانب سے امتحانی و تدریسی واجبات میں دوسو فیصد اضافے کا فیصلہ طلبہ مظاہرے کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے
طلبہ مظاہرین کے دباو کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحانی واجبات میں محض پچاس فی صد اضافے کا نوٹیفیکشن جاری کیا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے، یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر محمد قیصر نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی واجبات میں کافی عرصہ سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے،”گزشتہ پانچ سال سے یونیورسٹی فیسوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اب یونیورسٹی انتظامیہ نےنئے داخلہ لینے والوں کی فیسوں میں معمولی اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔”
نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ کارکن محمد جلیل کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کی عدم موجودگی کے باعث ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں، “جب تک طلبہ یونین بحال نہیں ہوگی یونیورسٹیوں کی جانب سے ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت نہیں کی جاسکتی اور طلبہ کو ہر مرتبہ سڑکوں پر آ کر انصاف مانگنا پڑے گا۔ “
Categories
اداریہ

“نقصان طلبہ کا ہے انتظامیہ کا نہیں”

campus-talks

بی بی آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کے ڈیڑھ سو طلبہ کے امتحانات 23 فروری سے التوا کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کالج کے تین بیچوں کے طلبہ کے امتحانات 23 فروری کو شروع ہونا تھے تاہم ڈینٹل کالج کے اساتذہ کی جانب سے امتحانی سوالات کی تشکیل میں تاخیر باعث تاحال ان امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ کنٹرولر امتحانات کے مطابق اساتذہ کی جانب سے امتحانی سوالات موصول نہ ہونے کے باعث امتحانات کے انعقاد میں تاخیر ہو رہی ہے،”جنوری سے ہم اساتذہ کو یاددہانی کرارہے ہیں لیکن رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود اساتذہ امتحانی سوالات جمع نہیں کرارہے ۔امتحانی سوالات کی عدم موجودگی میں امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ۔” کنٹرولر امتحانات شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی ڈاکٹر اکبر بھٹو کا کہنا تھا۔
“کالج کے معاملات چلانے میں کوئی سنجیدہ نہیں اسی لیے ایسی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سب کا نقصان تو بالآخر طلبہ کو ہی ہوگا۔انتظامیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا”۔
“یونیورسٹی اور کالج انتظامیہ کے درمیان انتظامی معاملات پر غیر ضروری تاخیر کے باعث داخلے،امتحانات اور نتائج اکثر تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔ ” ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی تاخیر محض انتظامی سست روی کا نتیجہ ہے،”کالج کے معاملات چلانے میں کوئی سنجیدہ نہیں اسی لیے ایسی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سب کا نقصان تو بالآخر طلبہ کو ہی ہوگا۔انتظامیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
Categories
نقطۂ نظر

“طلبہ کو ہتھیار اٹھانے کا پیغام مت دیں”

campus-talks

“بچوں کو ایک کلاس میں تعلیم دینا کیسے ممکن ہو گا جب ایک ہاتھ میں بندوق ہوگی اور ایک ہاتھ میں کتاب۔” خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے پرائیویٹ سکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک خالد خان نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکولوں کا تحفظ کرنا ان کی ذمہ داری نہیں،”ہماری ذمہ داری بچوں کو کتابوں کی مدد سے تعلیم دینا ہے، کلاس میں ایک استاد کے ہاتھوں میں گن سے طالبعلموں پر بہت برا اثر پڑے گا، اگر پولیس کو پولیس نفری میں کمی کا سامنا ہے تو مزید اہلکاروں کو بھرتی کیا جانا چاہئے۔”
بچوں کو ایک کلاس میں تعلیم دینا کیسے ممکن ہو گا جب ایک ہاتھ میں بندوق ہوگی اور ایک ہاتھ میں کتاب۔
خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اساتذہ کو اسلحہ رکھنے اور اسے چلانے کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس فیصلے کے تناظر میں گزشتہ ہفتے مرد اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کا آغاز کیا گیا تھا، جبکہ آج(28 جنوری ) کو خواتین اساتذہ کو بھی اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ تربیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے دی جا رہی ہے۔پشاور پولیس ہیڈکوارٹرز کے ایک ٹرینر محمد لطیف نے بتایا ” یہ دو روزہ کورس ہے اور ہم ان خواتین اساتذہ کو گن سنبھالنے اور اسے چلانے کی تربیت دے رہے ہیں”۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے بتایا کہ صوبائی حکومت تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو پولیس گارڈز فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ان کا کہنا تھا ” صوبے میں پولیس کی نفری 35 ہزار اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اساتذہ کو اسلحہ لے کر آنے کی اجازت دے رہے ہیں”۔
اگر سکول میں استاد مسلح ہو کر آئیں گے تو اس سے طلبہ کے عدم تحفظ میں اضافہ ہو گا اور انہیں یہ پیغام ملے گا کہ ریاست ان کا تحفظ نہیں کر سکتی اس لیے اپنے بچاو کے لیے خود ہتھیار اٹھالینے چاہئیں۔”
صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ سولہ دسمبر 2014کو پشاورکے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے بعد تعلیمی اداروں کی حدود میں اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ماہرین تعلیم نے اسے تعلیمی اداروں کے پرامن ماحول کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔پشاور کے ایک نجی تعلیمی ادارے کے سربراہ نذیر خان کے مطابق اس سے عدم تحفظ اور عسکریت پسندی میں اضافے کا خطرہ ہے،”اب اگر سکول میں استاد مسلح ہو کر آئیں گے تو اس سے طلبہ کے عدم تحفظ میں اضافہ ہو گا اور انہیں یہ پیغام ملے گا کہ ریاست ان کا تحفظ نہیں کر سکتی اس لیے اپنے بچاو کے لیے خود ہتھیار اٹھالینے چاہئیں۔