Categories
نقطۂ نظر

بڈھ بیر حملہ، ذمہ دار کون؟

فوجی چوکیوں سے گزرتے عام آدمی کوجامہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے مگر تربیت یافتہ مسلح دہشت گرد نگرانی پر کھڑے سپاہیوں کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونک کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔
چند روز قبل پشاور شہر سے ملحق بڈھ بیر میں واقع پاک فضائیہ کے بیس کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ آئی ایس پی آر کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں فوجیوں اور عام شہریوں سمیت تیس سے زائدافراد ہلاک ہوئے تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد کا پتہ نہیں چل سکا ۔جس طرح دوسرے عسکری مقامات جیسے مہران بیس،جی ایچ کیو ،آرمی پبلک سکول،پشاورائیرپورٹ وغیرہ پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مکمل تعداد سے آج تک عوام بے خبر ہیں۔ بڈھ بیر میں واقع پاک فضائیہ کے بیس کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں اور شائد آخری بھی نہ ہو اس سے قبل پشاور ائیر پورٹ،بے نظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کراچی ،مہران بیس کراچی،جی ایچ کیوراولپنڈی،آرمی پبلک سکول پشاور سمیت بیسیوں عسکری تنصیبات اور حساس اداروں پر حملے ہوچکے ہیں ،جس میں ابھی تک سینکڑوں افرادناکردہ گناہوں کی پاداش میں ابدی نیند سوگئے ہیں۔
بڈھ بیر حملے کے بعد پاکستان کا موقف
بڈھ بیر کے ائیر بیس پر حملے کے صرف چند گھنٹوں بعد آئی ایس پی آر کا بیان سامنے آیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افعانستا ن میں کی گئی جب کہ دہشت گردوں کو مقامی آبادی کی حمایت اورمدد حاصل تھی ۔شکر ہے اس بات کا تو پتہ چل ہی گیا کہ بڈھ بیر ائیر بیس پر حملہ کرنے والے “نامعلوم دہشت گرد”نہیں بلکہ معلوم دہشت گردہیں جنہوں نے “نامعلوم مقام “کی بجائے معلوم جگہ یعنی افعانستان سے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔لیکن چند بنیادی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ سیکیورٹی ادارے ،خفیہ ایجنسیزاور حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے محض بیرونی مداخلت کا شوشہ چھوڑ کر اصل مسائل پر سے عوام کی توجہ ہٹا رہی ہے
چند بنیادی سوالات
پہلا سوال یہ ہے کہ اگر اس حملے کی منصوبہ بندی افعانستان میں ہوئی تھی تو دہشت گرد افعانستان سے روانہ ہوکرپاک افعان سرحد عبور کرکے قبائلی علاقوں میں سے ہوتے ہوئے بڈھ بیر کس طرح پہنچے؟ وہ بھاری بھر کم اسلحہ جو اس حملے میں استعمال ہوا کس طرح یہاں تک پہنچایا گیا؟ کیا بڈھ بیر کے آس پاس کوئی فوجی یا پولیس چوکی موجود نہیں تھی ؟ اتنے ہتھیاروں اور بارودی مواد کے ساتھ دہشت گرد وں کا اس علاقے تک پہنچنا بہت کچھ سوچنے پر مجبورکرتا ہے ۔کیونکہ فوجی چوکیوں کے قریب سے گزرتے وقت جن اذیتوں سے عام آدمی گزرتاہے وہ کسی بھی عام شہری سے پوشیدہ نہیں۔ فوجی چوکیوں سے گزرتے عام آدمی کوجامہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے مگر تربیت یافتہ مسلح دہشت گرد نگرانی پر کھڑے سپاہیوں کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونک کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔
دوسرااور زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ افعانستان میں بڈھ بیر پر حملے کی منصوبہ بندی کے بعد وہ لوگ مقامی سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان میں اتنی بڑی کارروائی کرنے کو پہنچ گئے لیکن سول و فوجی انٹیلی جنس ادارے بے خبر رہے۔ ایسے حملے چند دن یا ایک ہفتے کی تیاری سے نہیں کیے جا سکتے ان کے لیے طویل منصوبہ بندی اور بھاری وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ دہشت گرد مہینوں افعانستان میں بیٹھ کر پشاور میں واقع بڈھ بیر کے ہوائی بیس پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور ان کے سہولت کار پاکستان میں انہیں معلومات فراہم کرتے رہے لیکن ہمارے ادارے بے خبر رہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان، یہاں کی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور عوام میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔ اب لوگ خوف کے عالم سے نکل کرآزادی سے بات کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے کی جرات کررہے ہیں جو کہ ایک مثبت تبدیلی کا مظہر ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ بڈھ بیرائیربیس پر حملے کے صرف چند گھنٹوں بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جرنیل عاصم سلیم باجوہ کا بیان سامنے آیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افعانستان میں ہوئی تھی جان کی آمان ہو تو کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ حملے کے بعد اس قدر جلد کس طرح سے یہ تعین کر لیا گیا کہ یہ حملہ افغانستان سے آنے والوں نے کیا ہے؟ حملے سے قبل تو اس کی ذراسی بوبھی کسی مقتدر ادارے کو محسوس نہ ہوئی لیکن حملے کے چند ساعت بعد کیا آسمانی طاقتوں یا فرشتوں نے بتایا کہ اس حملے کی منصوبہ افعانستان میں ہوئی تھی؟کہیں ایسا تو نہیں کہ سیکیورٹی ادارے ،خفیہ ایجنسیزاور حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے محض بیرونی مداخلت کا شوشہ چھوڑ کر اصل مسائل پر سے عوام کی توجہ ہٹا رہی ہے؟
افعانستان کا ردِ عمل
بڈھ بیر حملے کے فوراََ بعد جونہی پاکستان نے اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام افعانستان میں مقیم طالبان کو ٹھہرایا تو افعان حکومت نے فوراََ جوابی وارکرکے ان الزامات کی تردید کردی۔ ماضی کے تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر افعانستان میں کچھ ہوجائے تو افعان حکومت اپنی ناکامی کوچھپانے کے لئے اس کاالزام پاکستان پر عائد کرتی ہے۔ اسی طرھ پاکستان ہر خرابی ،ناکامی یا تباہی کی ذمہ داری یہود وہنود ،را ،موساد،سی آئی اے ،بھارت امریکہ یا پھر افعانستان پر ڈال کر اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالتا آیا ہے۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ افغانستان میں مقیم طالبان پاکستان میں جبکہ پاکستان میں موجود طالبان افغانستان میں حملے کررہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ یہی حملے ہیں۔
دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہورہی ہے
بنیادی اورسب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سرزمین ’’تزویراتی گہرائی ‘‘کے نام پر افعانستان کے خلاف اور افعانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوتی رہی ہے؟ پاکستان کے مقتدر اداروں کی کئی برسوں سے یہ پالیسی رہی کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر اچھے اور برے طالبان کی تفریق کرتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اچھے طالبان وہ تھے جو افعانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس برے طالبان وہ تھے جو پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں مصروف تھے۔ دوسرے اور آسان لفظوں میں پاکستان کے سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کے نظریے کے مطابق افعان طالبان اچھے جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان برے طالبان پر مشتمل تھی ۔
ماضی میں پاکستانی ادارے حقانی نیٹ ورک کی مدد بھی کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کے مقتدر اداروں اور کسی حدتک سویلین حکمرانوں کے ذہنوں میں واضح تبدیلی آچکی ہے اب کہیں اچھے یا برے طالبان یا “تزویراتی گہرائی” کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے ۔قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن زوروشور سے جاری ہے ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان ،یہاں کی حکومت،سیکیورٹی اداروں اور عوام میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔اب لوگ خوف کے عالم سے نکل کر آزادی سے بات کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے کی جرات کررہے ہیں جو کہ ایک مثبت تبدیلی کا مظہر ہے ۔
دوسری طرف افغان حکومت کی پالیسی واضح نہیں ۔2009ء کے دوران مالاکنڈ اور سوات میں فوجی آپریشن کے بعد طالبان قیادت یہاں سے بھاگ کر افغان صوبے کنڑ اور نورستان میں روپوش ہوگئی جو وہاں بیٹھ کر پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ دیر ،چترال اور باجوڑ میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر کئی خون ریز حملوں کی منصوبہ بندی کنڑ اور نورستان میں ہوئی ،اور حملہ آورتباہ کن حملوں کے بعد دوبارہ افعانستان چلے گئے ۔افغان حکومت اور افغان سیکیورٹی اداروں نے ان حملوں کو روکنے پاپھر پاکستان کے مطلوبہ دہشت گردوں کو حوالے کرنے کے لئے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔
وقت کی ضرورت
آج سب سے زیادہ ضرورت افعانستان اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردی پر مشترکہ موقف اور حکمت عملی اپنانے کی ہے۔ دونوں ممالک کواپنی اندرونی کمزوریوں پر نظر ڈالنا ہوگی اور سیکیورٹی اداروں میں تعاون بڑھانا ہو گا۔ جو تخریب کاری یا دہشت گردی دونوں ممالک میں ہورہی ہے اس کے تدارک کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرناہوگا۔ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں بڑھیں گی جس کا براہِ راست فائدہ طالبان دہشت گردوں کو ہوگا ۔ دونوں ممالک کی منتخب حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے مابین اعتماد بحال کرنے اورسرحد پار حملوں کی روک تھام کے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہو سکے گا۔
Categories
اداریہ

احتجاجی مظاہروں کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان بند

campus-talks

بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد ہفتہ 13 جون 2015 سے یونیورسٹی بند ہو چکی ہے۔ طلبہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کے کے ساتھ تدریسی سرگرمیوں کے سہ روزہ بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانی پر طلبہ ایک ماہ سے احتجاج کررہے ہیں تاہم اس احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب 12 جون کو ایم ایڈ کے امتحان کے دوران یونیورسٹی آف بلوچستان کے مرد اہلکاروں نے مبینہ طور پرایک طالبہ کی تلاشی لی۔ واقعہ کی خبر ملتے ہی مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے ایڈمنسٹریشن بلاک کے باہر احتجاج شروع کردیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکیورٹی اداروں کی سے مدد طلب کی۔
آن لائن جریدے دی بلوچستان پوائنٹ میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چار ج کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ کی۔طلبہ نے بعد ازاں سریاب روڈ پر احتجاج کیا اور ٹریفک کی آمدورفت معطل کر دی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے حالات خراب ہونے کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈالی ہے جبکہ یونیورسٹی وائس چانسلر کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے لاٹھی چارج طلبہ کی طرف سے ایڈمنسٹریشن بلاک میں داخل ہونے کی کوشش کے بعد کیا گیا ہے۔طلبہ کی جانب سے 12 جون کے واقعے کے ردعمل میں تین روز تک تدریسی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔ ہفتہ کے روز ہونے والے طلبہ تنظیموں کے مشترکہ اجلاس کے دوران وائس چانسلر ، کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولا امتحانات کی برخواستگی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وائس چانسلر نے طلبہ کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وی سی ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق احتجاج تب شروع ہوا جب ایک طالبہ کو نقل کرنے سے روکا گیا۔ انہوں نے طالبہ کی جامہ تلاشی کے الزام کو سختی سے مسترد کردیا۔ احتجاجی طلبہ کے مطابق معاملہ محض طالبہ کی جامہ تلاشی کا نہیں بلکہ یونیورسٹی میں جاری بدانتظامی اور بد معاملگی کا ہے اور جب تک اس پر قابو نہیں پایا جائے گا احتجاج جاری رہے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

خیبرپختونخواہ؛ سیکیورٹی انتظامات نہ کرنے والے سکولوں کے خلاف مقدمات کا اندراج

campus-talks

دہشت گردحملے کے تدارک کے لیے مناسب سیکیورٹی انتظامات نہ کرنے والے سینکڑوں سکولوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اتوار 29 مارچ 2015 کو ستر سکول مالکان اور پرنسپل حضرات کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، اس سے ایک ہفتہ قبل بھی 88 نجی و سرکاری سکولوں میں سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہ کرنے کی پاداش میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق یہ مقدمات علی زئی، خادی زئی، استارزئی، چکارکوٹ، بالا، نصرت خیل، پراچگان بندہ، محمد زئی، ملوک خان بندہ، گمبٹ، خوشحال گڑھ، گنڈیالی، غورہ زئی، جابر، توغ، ڈھوڈا، دھیری بندہ، شینوخیل، جدید بندہ، لاچی تحصیل، حافظ آباد، جنگ خیل، ملنگ آباد، شہید بندہ، جرما، خرماٹو، ریاتی بندہ، بازیدخیل، باقی زئی اور گھکمول کے علاقوں میں قائم سکولوں کے منتظمین کے خلاف قائم کیے گئے ہیں۔ ضلعی پولیس افسر شعیب کے مطابق ان سکولوں میں یاددہانی کے باوجود سیکیورٹی انتظامات نہیں کیے گئے تھے جس کے باعث کارروائی کی گئی ہے۔
کوہاٹ میں ایک نجی سکول چلانے والے اشرف رحیم کے مطابق وسائل کی کمی کے باعث وہ حکومتی مدد کے بغیر فوری طور پر سیکیورٹی کے خاطرخواہ انتظامات نہیں کر سکتے،”ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں اور نہ ہی والدین اضافی فیس دینے کو تیار ہیں ایسے میں ہمارے لیے حکومت کی ہدایات پر عمل کرنا ممکن نہیں۔پشاور حملے کے بعدتمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو دس فٹ بلند چاردیواری کی تعمیر، محافظوں کی تعیناتی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا حکم دیا گیا تھا تاہم بہت سے سکولوں میں تاحال یہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں۔
Categories
اداریہ

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں بریلوی مسلک کی مسجد بند کردی گئی

campus-talks

“ہماری مسجد مرکزی مسجد سے زیادہ محفوظ ہے اس کے باوجود اسے سیکیورٹی خطرات کے باعث بند کردیا گیا ہے۔ ” انجمن طلبہ اسلام سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ اس طالب علم کا تعلق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ان سینکڑوں طلبہ سے ہے جو بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور یونیورسٹی کی مرکزی مسجد میں نماز ادا نہیں کرتے۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے 2008سے بریلوی مکتبہ فکر کے طلبہ کے زیراستعمال مسجد کو جمعہ 20مارچ 2015 کو بند کردیا تھا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے 2008سے بریلوی مکتبہ فکر کے طلبہ کے زیراستعمال مسجد کو جمعہ 20مارچ 2015 کو بند کردیا تھا۔
متعلقہ مسجد اس سے قبل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے داخلی دروازے کے قریب مکین افراد کے زیراستعمال تھی جو بعدازاں سن 2000 میں مقامی آبادی کی منتقلی کے بعد سے خالی تھی جسے بریلوی مکتبہ فکر کے طلبہ نے 2008 میں ازسرنو آباد کیا تھا۔ “مرکزی مسجد میں خطبہ صرف عربی میں دیا جاتا ہے اس لیے ہم اس دوسری مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں۔ ” بند ہونے والی مسجد میں نماز ادا کرنے والے ایک طالب محمد بلال کا کہنا تھا۔ بلال کے مطابق اب وہ بند مسجد کے باہر نماز ادا کرتے ہیں اور مسجد کُھلوانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں،” عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس کی سماعت 24 مارچ کو ہے، عدالت نے ہمیں مسجد میں تب تک نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔”
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق مسجد بند کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی خطرات کے باعث کیا ہے۔ “پشاور حملے کے بعد سیکیورٹی خطرات کے باعث مسجد کو بند کرنا پڑا۔” یونیورسٹی ترجمان کا کہنا تھا۔ ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کسی مسلک کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتتی،”یونیورسٹی کے لیے تمام مسالک کے طلبہ یکساں اہمیت کے حامل ہیں اور مرکزی مسجد میں ہر طالب علم کو نماز ادا کرنے کی آزادی ہے۔”
Categories
اداریہ

“سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے، اسلحہ نہیں رکھیں گے”

campus-talks

خیبرپختونخواہ کے ضلع بونیر میں اساتذہ تنظیم کے اجلاس کے دوران اساتذہ نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر سکولوں کی حدود میں اسلحہ رکھنے سے انکار کردیا ہے۔گورنمنٹ ہائی سکول سواری میں آل پاکستان پرائمری سکولز ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس کے دوران اساتذہ نے اساتذہ، طلبہ اور عملے کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی۔اجلاس کے دوران شریک اساتذہ نے سانحہ پشاور کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی سکیورٹی پالیسی کو رد کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔ اساتذہ کے مطابق ان کا بنیادی فریضہ تدریس ہے اور سکولوں کے تحفظ کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈالنے سے معیار تعلیم اور تدریسی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خیبرپختونخواہ کے ضلع بونیر میں اساتذہ تنظیم کے اجلاس کے دوران اساتذہ نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر سکولوں کی حدود میں اسلحہ رکھنے سے انکار کردیا ہے۔
پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدرملک خالد کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کی ذمہ داری ریاست اور حکومت کی ہے اور اگر اس میں کوتاہی کی جائے گی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ پر تمام ذمہ داری عائد کر کے خود اس اہم ذمہ داری سے جان چھڑا نہیں سکتی۔
بونیرکے ایک ہائی سکول میں ہونے والے اجلاس کے دوران آل پاکستان پرائمری سکولز ایسوسی ایشن کے صدر اکبر علی باچا،چیئرمین معراج علی شاہ اور سیکرٹری خالد سیماب موجود تھے۔ اساتذہ تنظیمیں اس سے قبل بھی اضافی ذمہ داریوں کی تفویض کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔ پشاور کے ایک سرکاری ہائی سکول میں پڑھانے والے غنی علی کے مطابق سیکیورٹی کی اضافی ذمہ داری سے اساتذہ کی کارکردگی متاثر ہونے اور عدم تحفظ میں اضافے کا اندیشہ ہے،”یہ ایک طرح کا نفسیاتی دباو ہے کہ ہماری حکومت جسے ہم نے منتخب کیا ہے ہماری حفاظت نہیں کر سکتی، اس فیصلے سے سکولوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔”
خیبر پختونخواہ حکومت نے سولہ دسمبر کو پشاور آرمی سکول پر تحریک طالبان پاکستان کے حملے کے بعد سکول اساتذہ کو تعلیمی اداروں کی حدود کے اندر لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کی ہدایت کی تھی، صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔