Categories
اداریہ

“نقصان طلبہ کا ہے انتظامیہ کا نہیں”

campus-talks

بی بی آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کے ڈیڑھ سو طلبہ کے امتحانات 23 فروری سے التوا کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کالج کے تین بیچوں کے طلبہ کے امتحانات 23 فروری کو شروع ہونا تھے تاہم ڈینٹل کالج کے اساتذہ کی جانب سے امتحانی سوالات کی تشکیل میں تاخیر باعث تاحال ان امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ کنٹرولر امتحانات کے مطابق اساتذہ کی جانب سے امتحانی سوالات موصول نہ ہونے کے باعث امتحانات کے انعقاد میں تاخیر ہو رہی ہے،”جنوری سے ہم اساتذہ کو یاددہانی کرارہے ہیں لیکن رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود اساتذہ امتحانی سوالات جمع نہیں کرارہے ۔امتحانی سوالات کی عدم موجودگی میں امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ۔” کنٹرولر امتحانات شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی ڈاکٹر اکبر بھٹو کا کہنا تھا۔
“کالج کے معاملات چلانے میں کوئی سنجیدہ نہیں اسی لیے ایسی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سب کا نقصان تو بالآخر طلبہ کو ہی ہوگا۔انتظامیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا”۔
“یونیورسٹی اور کالج انتظامیہ کے درمیان انتظامی معاملات پر غیر ضروری تاخیر کے باعث داخلے،امتحانات اور نتائج اکثر تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔ ” ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی تاخیر محض انتظامی سست روی کا نتیجہ ہے،”کالج کے معاملات چلانے میں کوئی سنجیدہ نہیں اسی لیے ایسی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سب کا نقصان تو بالآخر طلبہ کو ہی ہوگا۔انتظامیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
Categories
نقطۂ نظر

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

letters-to-the-editor-full-featured1

مدیر محترم
میں نے2011 میں سیاست کا عملی آغاز سندھ ترقی پسند اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے ضلع نائب صدر کے عہدے کا حلف اٹھا کر کیا۔ دوران حلف میں نے اقرار کیا کہ میرا اٹھایا ہوا ہر قدم اور کیا ہوا ہر فیصلہ خالصتاً طلبہ مفادات کے تحفظ کے لیے ہوگا نہ کے کسی شخصی یا ذاتی مفاد کے تحفظ کے لیے گو یہ وعدہ سبھی لوگ کرتے ہیں مگر اس پر قائم بہت کم لوگ رہتے ہیں۔ 2012 میں مجھے ایک نئی قائم شدہ یونیورسٹی شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاہ میں داخلہ لینا پڑا۔ ویسے میں نے تو طلبہ سیاست میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں مگر نظریاتی سیاست کا آغاز میں نے بے نظیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ارشد سلیم آرائیں کے خلاف جدوجہد سے کیا جن کے خلاف حال ہی میں مالی بد عنوانیوں کی خبر روزنامہ ایکسپریس 10 جنوری 2015 کراچی کے شمارے میں شائع ہوئی۔
موجودہ سیکرٹری تعلیم سندھ اور اس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ کی ایماء پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ارشد سلیم آرائیں کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔
وائس چانسلر بینظیر یونیورسٹی کے خلاف طلبہ کو سڑکوں پر کیوں آنا پڑا؟آپ کے موقر جریدے کی توسط سے میں وہ حالات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ شہید بے نظیر یونیورسٹی کے پہلے وی سی کو سیاسی بھرتیاں نہ کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ۔ موجودہ سیکرٹری تعلیم سندھ اور اس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ کی ایماء پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ارشد سلیم آرائیں کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق ارشد سلیم جو پہلے کنٹرولر امتحانات تھے کی تمام ڈگریاں سیکنڈ ڈویژن میں پاس کردہ ہیں اور وہ ایچ ای سی کے مقرر کردہ معیار کے مطابق اہلیت نہیں رکھتے۔
ڈاکٹر ارشد سلیم ارائیں کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کی اہم وجہ یہ تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق وائس چانسلر کم از کم پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہونے کے ساتھ ساتھ تمام تر گزشتہ تعلیمی اسناد کا فرسٹ ڈویژن ہونا لازمی ہے لیکن موصوف کے معاملے میں ان شرائط سے دانستہ اغماض برتا گیا جبکہ اس سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ ذیلی عہدوں پر موجود تھے، لیکن قابل افراد کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کی غرض سے انہیں وائس چانسلر شپ سے نوازا گیا۔ روزنامہ ڈان میں اس کے خلاف ایچ ای سی کے اس وقت کے چیئرمین نے بیان دیا کہ جب تک اس وی سی کو ہٹایا نہیں جائے گا یونیورسٹی رجسٹر نہیں کی جائے گی۔ ستم ظریفی یہ کہ جو صاحب ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر بننے کے اہل نہیں انہیں سندھ یونیورسٹی حیدرآباد کا اضافی چارج بھی دے گیا۔ سنگین بے ضابطگیوں کے خلاف راقم نے 14 اساتذہ کے ساتھ مل کر اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ایک تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ احتجاج کچلنے کے لیے مجھ سمیت دیگرطلبہ کو کرائے کے غنڈوں کی مدد سے دھمکانے کی کوشش کی گئی، ہمیں مختلف قسم کے لالچ دیے گئے۔ دھونس اور دباو کا سلسلہ یہیں نہیں رکا، اساتذہ اور طلبہ کے احتجاج کے دوران پشت پناہی کا جھوٹا الزام لگا کر رجسٹرار کہیر خان کھوسو اور دیگر اساتذہ کو جبراً ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
اساتذہ کی برطرفی کے ردِّ عمل کے طور پر ہم نے مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا، مگر ہفتے کو چھٹی کے روز وائس چانسلر نے باقی اساتذہ سمیت چند طلباء جن میں میرا نام سرِ فہرست تھا کو یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی توثیق کے لئے میٹرک پاس سیاستدانوں پر مشتمل سینڈیکیٹ کا اجلاس بلایا گیا ۔ اجلاس کی پیشگی اطلاع ملنے پر ہم نے اس نام نہاد سنڈیکیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی غرض سے دھرنہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے آغاز سے قبل پولیس کی بھاری نفری منگوائی گئی اور احتجاجی طلبہ اور اساتذہ جن میں ایک قابل ذکر تعداد خواتین طالبات اور اساتذہ کی تھی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اجلاس کے آغاز سے قبل پولیس کی بھاری نفری منگوائی گئی اور احتجاجی طلبہ اور اساتذہ جن میں ایک قابل ذکر تعداد خواتین طالبات اور اساتذہ کی تھی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
نہتے طلبہ اور اساتذہ پر یونیورسٹی حدود میں ہتھیار لانے کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا۔ تین اساتذہ جن میں ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار دلیل جتوئی بھی شامل تھے کو گرفتار کر کے سینٹرل جیل نوابشاہ بھجوادیا گیا جو بعد ازاں عدالت سے بری ہوئےراقم اور دیگر تین ساتھیوں پر یونیورسٹی میں داخلے کی ناروا پابندی لگادی گئی اور اساتذہ کو جبری طور پر برطرف کردیا گیا۔ مگربقول مسرّت عزیز

حق کبھی رہتا نہیں زیرِ نقاب
کس سے رکتا ہے طلوعِ آفتاب

سابق نائب سپیکر سندھ اسمبلی وائس سید ظفر علی شاہ نے موجود وی سی کے غیر قانونی تقرر کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس مقدمے میں چانسلر کے خلاف حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے اور وہ اگلی پیشی پر سنادیا جائے گا۔ وائس چانسلر ارشد سلیم کی کرپشن کے قصّے بھی بے نقاب ہورہے ہیں مگر ہم شہید نذیر عباسی کی سیاسی فکر کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں تا کہ ہم ایک بہتر تعلیم یافتہ پاکستان کا خواب پورا کرسکیں۔

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

فقط
خیراندیش
مامون علوی

Categories
اداریہ

غازی میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کے الحاق میں تاخیر

“2010 میں غازی میڈیکل کالج کے آغاز سے اب تک کالج کے میڈیکل کونسل سے الحاق کا معاملہ حل نہیں ہو سکا جبکہ اگلے برس کالج کا پہلا بیچ پاس آوٹ ہونے والا ہے۔” نامکمل عمارت میں قائم کالج جو وقتی طور پر ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی سے منسلک ہے کے ایک طالب علم نذیر لغاری نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ نذیر کے مطابق میڈیکل کالج میں نہ تو اساتذہ ہیں اور نہ ہی سازوسامان موجود ہے،”17 اساتذہ کی جگہ محض دو اساتذہ موجود ہیں اور کالج میں تاحال لیبارٹری سامان کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے۔”
غازی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شمیم کے مطابق کالج کو بیک وقت کئی مسائل کاسامنا ہے جن کے حل میں تاخیر کے لئے صوبائی انتظامیہ اور وسائل کی کمی ذمہ دار ہیں،”کالج میں اساتذہ کی تعیناتی کی بجائے معاملہ التوا کا شکار ہے، صوبائی محکمہ صحت ہمارے مطالبات پر کاروائی نہیں کر رہا ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے الحاق نہ ہونے کی باعث بھی اساتذہ غازی خان میڈیکل کالج میں تدریس سے گریزاں ہیں۔ پرنسپل ڈاکٹر شمیم نے 2015 میں کالج کے پہلے بیچ کاپاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے الحاق کے بغیر پاس آوٹ ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے عمارت اور ہاسٹلز کی تعمیر کا کام تاحال شروع نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹی کی منظوری کے لئے درکار 20 پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جاسکا ہے۔
کالج کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ غازی میڈیکل کالج کاڈیرہ غازی خان یونیورسٹی سے الحاق صرف صوبائی اسمبلی کی قانون سازی سے ہی تبدیل ہو سکتا ہے۔کالج کو یونیورسٹی کا حصہ قرار دینے سے بہت سے انتظامی اور مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کالج کے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے الحاق اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے منظوری کی راہ میں محکمہ صحت اور میڈیکل کونسل کے مابین مقدمہ بازی اور انتظامی عدم دلچسپی کے باعث تاخیر ہے۔
ذرائع کے مطابق غازی یونیورسٹی تاحال وائس چانسلر اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی منظوری کے بغیر کام کررہی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے فرائض مقامی کمشنر کو تفویض کیے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے عمارت اور ہاسٹلز کی تعمیر کا کام تاحال شروع نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹی کی منظوری کے لئے درکار 20 پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جاسکا ہے۔