رستہ سہل نہیں ہے

اپنے من کے اندر چھپ کر جب بھی تجھ سے ملنے نکلوں
باتیں کرتی ہوا سے مل کر شاخیں شور مچاتی ہیں
سڑکوں کی دو رویہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں
باتیں کرتی ہوا سے مل کر شاخیں شور مچاتی ہیں
سڑکوں کی دو رویہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں
دنوں کا دکھ

عجب دن آ پڑے ہیں
بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں
بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں
