دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12

تصنیف حیدر: اسے اس واقعے کا سخت افسوس تھا، وہ بے نظیر بھٹو کی اس اچانک موت اور بھیڑ میں ان پر ایک انجان سمت سے آنے والی گولی کو سخت برا محسوس کررہا تھا۔
دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11

تصنیف حیدر: اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔
دس برسوں کی دلی — قسط نمبر 9

تصنیف حیدر: سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔
دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 8

تصنیف حیدر: میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔
دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 7

مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے
دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 6

اصولوں کی اس منڈی میں جس بری طرح اس کی خواہش کو رگیدا اور بے عزت کیا گیا ہے، وہاں اگر اس نے چاند چھونے کا کوئی چور راستہ دریافت کربھی لیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔
دس برسوں کی دلی-قسط نمبر 5

شہروں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔یہاں ایک دہریے کا خدا سے گہرا رشتہ ہے، ایک غیر مذہبی کا مذہب سے اور ایک پاکدامن کا فریب کاری سے۔
دس برسوں کی دلی-قسط نمبر 4

میں نے سنا ہے محمد شاہ رنگیلے کو جب حضرت امیر خسرو اور محبوب الہٰی کے آستانوں کے درمیان دفنایا گیا تو ان دنوں جیسے دہلی پر ہجر کے لمبے لمبے کالے سائے دیواروں پر بال کھولے چیختے چلاتے، ماتم کرتے نظر آتے۔
