Categories
نقطۂ نظر

سید احمد (شہید) کی تحریک جہاد: ایک مطالعہ

سید احمد (شہید) کی تحریک جہاد عملی طور پر 1826سے شروع ہوئی اور 1831 میں آپ کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔ تاہم غیر منظم طور پر یہ 1857 کے بعد بھی مسلح جہاد کی صورت میں چلتی رہی۔ اس تحریک نے اور بھی بہت سے تحاریکِ جہاد کو جنم دیا، جو اسی انجام کو پہنچی جو اس تحریک کو پیش آیا، مثلاً بنگا ل میں تیتو میر کی تحریک، تحریک ریشمی رومال اور صادق پور پٹنہ کا مرکزِ جہاد، جہادِ شاملی وغیرہ۔
گزشتہ صدی میں ابو الحسن ندوی، مولانا غلام رسول مہر وغیرہ کی تحقیقات اور تصنیفات نے اس تحریک کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ خصوصاً ابو الحسن ندوی کی سیرتِ سید احمد شہید پڑھ کر ایک عام قاری کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ اگر کوئی دین کی حقیقی خدمت کرنا چاہتا ہے تو یا تو خود کوئی تحریکِ جہاد اٹھا دے اگر اس قابل ہے یا پہلے سے موجود کسی جہادی تنظیم کا حصہ بن کر اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان دے کر سرخرو ہو جائے۔ یہ کتب طالبان جیسی تحریکوں کو مسلسل افرادی قوت مہیا کرنے کا مستقل ذریعہ ہیں۔
جمیعت علمائے ہند نے، ہندوستان کے نئے سیاسی منظر نامے کے معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے نظریے سے دستبردار ہو کر مشترکہ قومیت اور جمہوریت کے اندر سیکولر ازم کے ذریعے مذہبی آزادی کے خیالات کو اپنا لیا لیکن جمیعت علمائے اسلام ،سید احمدصاحب کے نظریے سے زیادہ قریب رہی
سید صاحب کی تحریک کا نظریاتی اور حکمتِ عملی کا جامع تجزیہ کرنے کی آج بھی ضرورت ہے، کیونک آج بھی یہ تحریک سیاسی دینی تحریکات کے لیے، خصوصًا برّصغیر میں، سب سے بڑے محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ سید صاحب کی تحریک شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز کے نظریات سے مولود ہوئی۔ برصغیر کے بعد پوری دنیا میں غلبہءاسلام اس کا مطمعِ نظر تھا ۔ پنجاب میں سکھوں کے ظلم وستم کا استیصال اس کا اولین ہدف تھا ۔ بالاکوٹ میں سید صاحب اور آپ کے قریبی احباب کی ہلاکت کے بعد بھی بہت عرصہ مسلح جدوجہد جاری رہی۔ تاہم،1857 کے بعد یہ تعلیمی جدوجہد میں تبدیل ہوئی اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند، سہارنپور، ندوۃ العلماء ، اہلِ حدیث کے مدارس وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوئی جو اپنے طلباء میں جہاد کی آبیاری کرتے رہے۔
کانگریس کے قیام کے بعد یہ تحریک سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ پہلے جمیعت علمائے ہند اور پھر جمیعت علمائے اسلام کی صورت میں اس تحریک کے لواحقین دو الگ راستوں کے راہی بنے۔ جمیعت علمائے ہند نے، ہندوستان کے نئے سیاسی منظر نامے کے معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے نظریے سے دستبردار ہو کر مشترکہ قومیت اور جمہوریت کے اندر سیکولر ازم کے ذریعے مذہبی آزادی کے خیالات کو اپنا لیا لیکن جمیعت علمائے اسلام ،سید احمدصاحب کے نظریے سے زیادہ قریب رہی۔ اس نے مسلم لیگ کے الگ وطن کی جدوجہد میں اسلامی سلطنت کا خواب پھر سے استوار ہوتے دیکھا تو اس میں شامل ہوگئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد، حکومتوں کے اسلام ‘نافذ’ کرنے سے گریز کی روش کی وجہ سے یہ تحریک آئینی جدجہد میں تبدیل ہو گئی۔ پھر یہ بتدریج جارحانہ ہوتی چلی گئی۔ تحریکِ نفاذِ نظامِ مصطفی سے یہ احتجاج میں تبدیل ہوئی اور تحریک نفاذِ شریعت اور طالبان کی صورت میں پھر سے مسلح ہوگئی۔ یوں دیکھئے تو سید صاحب کی تحریک تاریخ کا چکر کاٹ کر پھر اسی نقطہ پر کھڑی ہوگئی جہاں سے چلی تھی۔
سید صاحب کی تحریک کی بنیاد حکومتِ الہیہ کے قیام، نجی جہاد، امامت اور شاہ عبد العزیز کے دارالحرب کے فتوی پر تھی ۔ سید صاحب کے نزدیک، شاہ ولی اللہ کے تعلیمات کی روشنی میں، قیامِ خلافت یا اسلام کا سیاسی غلبہ واجباتِ دین میں سے ہے۔ ہندوستان میں غیر مسلموں کے بڑھتے اقتدار کے نتیجے میں شاہ عبد العزیز کے فتوی کی رُو سے ہندوستان دارالحرب بن چکا تھا۔ اسلامی سیاسی غلبہ کے لیے جہاد فرض تھا اور چونکہ کوئی مسلم حکمران اس کے لیے تیار نہ تھا تو چند لوگوں نے اس کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے نجی طور پر شروع کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے لیے دستیاب امام سید احمد شہید تھے۔
جہاد کی اجازت اور احکامات ہجرتِ مدینہ کے بعد نازل کیے گئے ہیں اس لیے جہاد و قتال سے متعلق تمام آیات کو ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد کے تناظر میں دیکھنا چاہیئے
راقم الحروف کے مطابق، سید صاحب کی تحریک کی یہ نظریاتی بنیادیں اسلام کی غلط تعبیرات سے پیدا ہوئیں، یہی تعبیرات ہمارے دور تک چلی آ رہی ہیں اور بےشمار تحاریکِ جہاد کو جنم دے چکی ہیں۔ راقم کے نزدیک، مسلمانوں کے لیے حالتِ اقتدار میں تو شریعت کے اجتماعی احکامات و قانون کا اختیار کرنا واجب ہے، لیکن ان کے نفاذ کےلیے حصولِ ریاست فرض یا واجب نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے صاحبِ مال کے لیے ادائیگیِ زکوۃ فرض ہے لیکن ادائیگیِ زکوۃ کے لیے کسبِ مال فرض یا واجب نہیں ۔ شریعت کے تمام احکامات کا یہی اصول ہے کہ و ہ افراد کے حالات کے تناظر میں لاگو ہوتے ہیں۔ اقتدار سے تہی مسلمانوں کو اقتدار کے حصول کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ ا ن پر ان کے حالات میں اسلام کے احکامات پر مقدور بھر عمل کرنا ضروری ہے۔تاہم، اگر وہ اقتدار میں ہوں تو اسلام کے اجتماعی احکامات پر عمل درآمدکا مطالبہ ان کے کیا جائے گا۔
نجی جہاد کا کوئی تصور اسلام میں نہیں، جہاد امامت اور ریاست کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاد کی اجازت اور احکامات ہجرتِ مدینہ کے بعد نازل کیے گئے ہیں اس لیے جہاد و قتال سے متعلق تمام آیات کو ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد کے تناظر میں دیکھنا چاہیئے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ حکومت کی کوتاہی سے اگر حدود کا نفاذ نجی شعبہ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تو جہاد کو کیوں کر نجی شعبہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک دارالحرب کے فتوی کا تعلق ہے تو کسی جگہ کا دارالحرب قرار پا جانے کے بعد پہلا تقاضا ہجرت ہوتاہے ، نہ کہ جہاد۔ لیکن ہمیں شاہ عبد العزیز یا سید احمد کی طرف سے ہندوستان کے مسلمانوں یا کم از کم پنجاب کے مسلمانوں، جو راجہ رنجیت سنگھ کے مظالم ک شکار تھے، سے اس کا مطالبہ نظر نہیں آتا۔ لاکھوں مسلمانوں میں سے زیادہ سے زیادہ پندرہ سو مسلمانوں نے سید صاحب کے ساتھ ہجرت کی تھی ،جو کہ انتہائی ناکافی تعداد ہے۔
اسلامی خلافت کا قیام دین کا کوئی ایسا واجب تقاضا نہیں کہ اس کی خاطر مہمیں چلائی جائیں اور قیمتی جانیں قربان کی جائیں
سید صاحب کے طریقہ کار میں نوٹ کیا گیا کہ آپ نے جہاد پہلے شروع کیا (اکوڑہ کا شب خون)، بیعتِ امامت بعد میں لی (جب دیکھا کہ مقامی مجاہدین جنگ کی بجائے مالِ غنیمت لے کر چلتے بنے اور اس کی شرعی تقسیم پر آمادہ نہ ہوئے)، اس کے بعد ریاست کے حصول کی کوشش کی اور اس کے بعد لوگوں پر شریعت کا نفاذ کرنے کی کوشش کی جو اس کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ ترتیب رسول ﷺ کی سنت کے بالکل برعکس ہے۔ آپؐ کو مدینہ کے لوگوں نے اپنا امام پہلے تسلیم کیا، پھر خود سے ریاست مہیا کردی، آپؐ نے ان کی مرضی سےان پر شریعت نافذ کی ، اور جہاد سب سے آخر میں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سید صاحب نے دشمن کے مقابلے میں عددی قوت کےفرق کو نظر انداز کیا۔آپ کے پاس قابلِ بھروسہ جنگجوؤں کی تعداد 1500 سے زیادہ نہ تھی، جو پوری طرح مسلح بھی نہ تھے اور بنیادی ضروریات کی تکمیل سے بھی تہی تھے ۔ جب کہ سکھوں کی صرف سرحدی فوج 8000 سے 10،000 تک تھی۔ جو پوری طرح مسلح اور اپنے وقت کی بہترین فوجی قوت تھی۔
اسلامی خلافت کا قیام دین کا کوئی ایسا واجب تقاضا نہیں کہ اس کی خاطر مہمیں چلائی جائیں اور قیمتی جانیں قربان کی جائیں ۔ مسلمانوں پر صرف یہ فرض ہے کہ وہ جب بھی پرامن طریقہ سے اقتدار میں آئیں، خواہ مطلق حیثیت سے یا مخلوط حکومت میں، تو مسلم معاشرے کے مسلم افراد کے لیے اسلام کے اجتماعی احکامات پر عملدرآمد کے لیے ضروری آسانیاں پیدا کردیں۔ اس سے زیادہ کو کوئی مطالبہ خدا نے ان سے نہیں کیا۔ ریاست کے حصول کا کوئی حکم قرآن میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ جہاں تک تعلق ہے رسولﷺ اور آپؐ کے صحابہ کے غلبے کا تو وہ ایک خدائی قانون کے تحت تھا کہ اللہ نے یہ طےفرما دیا تھا کہ حق کی نشانی کے طور پر انہیں غلبہ لازمًا ملنا تھا۔ مثلاً درج ذیل آیات ملاحظہ کیجئے:

58_21

ترجمہ: اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔
خدا کا یہی وعدہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ، بنی اسماعیل ؑ کے ساتھ بھی تھا۔:

24_55

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جس کو ان کے لیے پسندیدہ ٹھہرایا اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو درحقیقت وہی لوگ نافرمان ہیں۔

24_54

ترجمہ: کیا یہ (اہلِ کتاب) لوگوں (بنی اسماعیلؑ) سے اللہ کی اُس عنایت پر حسد کر رہے ہیں جو اُس نے اُن پر کی ہے؟ (یہی بات ہے تو سن لیں کہ) ہم نے تو اولاد ابراہیم (کی اِس شاخ) کو اپنی شریعت اور اپنی حکمت بخش دی اور اُنھیں ایک عظیم بادشاہی عطا فرما دی ہے.
ملاحظہ کیجئے ان آیات کا بیان خدائی وعدے اور خدائی فیصلہ کا اعلان ہے۔ اسے کسی شرعی حکم کے طور پر بیان نہیں کیا گیا کہ مسلمانو ں پر اب حصولِ ریاست اور حکومت فرض یا واجب قرار دے دیا گیا ہو۔رہا یہ سوال کہ پھر اس آیت کا کیا مصداق ہے:

9_33

تو اس آیت کا مصداق ‘و لو کرہ المشرکون’ سے خود طے ہو رہا ہے، یعنی یہ غلبہء دین، عرب اور اس کے نواحی علاقوں کے ادیان پر ہونا تھا تاکہ اتمامِ حجت کے بعدخدا اور اس کے رسول کی صداقت کا محسوس نشان مسلمانوں کے غلبے کی صورت میں قائم ہو جائے۔ لیکن کہیں بھی یہ حکم کی شکل میں موجود نہیں کہ ایسا کرنا مسلمانوں پر واجب ہے۔ مسلمانوں پر تو جس حال میں بھی ہوں، اقتدار میں یا اقتدار سے باہر، اللہ کے دین پر عمل کرنا واجب ہے۔ ہر دو حالتوں کے احکامات موجود ہیں۔ تاہم، غلبہء اسلام کاحکم چونکہ سرے سےموجود ہی نہیں، اس لیے مسلمانوں کے غلبے کو دینی حکم سمجھ کرمسلم افراد کا نجی طور پر یا مسلم حکومتوں کا حکومتی سطح پر اس کے لیے جتھے بندی کرنا اور پر امن غیر مسلم افراد اور ممالک پر جنگ مسلط کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم، ظلم و ستم کے استیصال اور دفاع کے فطری حق کے لیے لڑنا تو بدیہات میں سے ہے اور اسلام اس کی حمایت کرتا ہے لیکن لازمی نہیں کہ یہ لڑائی ہتھیار بند مزاحمت کی ہی صورت میں ہو۔ زمانے کے مروجہ سیاسی نظام کے تحت اپنا دفاع کرنا اور اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش ایک سیاسی معاملہ ہے اور اس کے لیے سیاسی جدوجہد کی جاسکتی ہے۔
مگر انہی غیر واجب باتوں کو واجب قرار دے کر سید احمد (شہید)نے جو تحریک برپا کی گئی تھی وہ آج بھی طالبان کی صورت میں زندہ ہے۔ یہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار دیتے ہیں تو اس دوسرے فریق (طالبان) کو غلط نہیں کہہ سکتے۔اگر دوسرا غلط ہے تو پہلے کی تغلیط کی ہمت بهی لامحالہ کرنی ہوگی۔ ہمیں اس دوغلے پن سے براءت کا اعلان کرنا ہوگا۔ سید صاحب کی اس پراثر تحریک کا درست تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مستقبل کے اولوالعزم مسلمان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

جمہوریت: ترقی کا راستہ

پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک مختلف گروہوں اور طبقوں کے درمیان طاقت، اقتداراور مفادات کی جنگ کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔ یہاں ابتدا سے ہی وہ بنیادی ذمہ داریاں بھلا دی گئی تھیں جو ریاست کو اپنے شہریوں کے لیے نبھانی تھیں اور جن کا وعدہ مملکت کے قیام کے وقت کیا گیا تھا۔ عوام کو اقتدار میںشراکت اور انتخاب کے حق سے محروم کر کے اس پرایسے گروہوں کی اجارہ داری قائم کر دی گئی جنہوں نے طاقت اور اختیار کواپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ حقیقی سیاسی طاقت جو عوام کی ملکیت ہونا چاہیے تھی،عسکری اداروں،مذہبی پیشواوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ فیصلہ سازی جو عوام کے اختیار سے عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے تھی انہی مقتدر گروہوں کی من منشاء کے مطابق کی گئی ہے ۔
شہریوں کو اقتدار سے دور رکھتے ہوئے مقتدر اشرافیہ اور عسکری حکومتوں نے ریاستی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کو بری طرح تباہ کیاہے۔ سرمائے اور وسائل کو چند خاندانوں کی ملکیت بنا دیا گیا ہے جس سے طبقاتی خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔
مفادات کے حصول کی اس کشمکش میں عوامی فلاح و بہبود کا ریاستی تصور ایک سکیورٹی سٹیٹ کے قیام سے دھندلا کر رہ گیا ہے۔ مستحکم اور موثر جمہوریت کی عدم موجودگی میں شفاف انتخابات، جوابدہی اور اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ شہری نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ اس محرومی کی اصل وجوہ جاننے، ذمہ داروں کا تعین کرنے اور انصاف حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔عوام کواقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث آج وطن عزیز تباہی کے دھانے پر کھڑا ہو اہے۔
شہریوں کو اقتدار سے دور رکھتے ہوئے مقتدر اشرافیہ اور عسکری حکومتوں نے ریاستی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کو بری طرح تباہ کیاہے۔ سرمائے اور وسائل کو چند خاندانوں کی ملکیت بنا دیا گیا ہے جس سے طبقاتی خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔اس سارے دورانیے میں اجتماعی طور پر ایسے رویے فروغ پائے جو کسی صورت جمہوریت اور ریاست کے حق میں نہیں تھے ۔ اقتدار پر قابض گروہوں نے جان بوجھ کر جمہوریت اور جمہوری رویوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیا اور اقتدار کو عوام کی جھولی میں ڈالنے کی بجائے عوام سے دوررکھا گیا ہے ۔ شہریوں کے بنیادی حقوق سے ہی ان کو محروم رکھا گیا ہے جس کے باعث شہری ریاست اور جمہوریت سے متنفر ہو چکے ہیں۔
مقتدر طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے جمہوریت کے لیے درکار بنیادی دھانچے کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ طلبہ تنظیموں، مزدور یونین اور مقامی حکومتوں کے نظام کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملاجس کے نتیجے میں سیاسی عمل پر بھی سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مذہبی پیشواوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی ۔ سیاسی عمل اور سیاستدانوں کو متنازعہ اور غیر مقبول بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سیاسی عمل پر عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی ہے بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سیاسی عمل سے بیگانگی اور لاتعلقی بھی بڑھی ہے۔
عقل ، علم اور شعور کی بنیاد پر بات کرنے کے رواج کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں اظہار رائے پر قدغنیں عائد کرنے سے جمہوری مکالمہ کی روایت ختم ہوئی ہے۔مقتدر طبقات کے مفادات کی خاطر شہریوں کا سیاسی، سماجی اور معاشی استحصال کیا گیا۔ ریاست کو ان معاملات میں شامل کیا گیا جو مہذب معاشروں میں شہریوں کے انفرادی معاملات ہوا کرتے ہیں۔ سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کو اپنے عزائم پورا کرنے کی غرض سے مفلوج کیا گیا۔پاکستان میں شہری آزادیوں، سہولتوں اور حقوق کی فراہمی کی ابتر صورت حال ماضی میں کیے گئے غیر جمہوری فیصلوں کی وجہ سے ہے۔
ماضی میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ آج بھی کیا جا سکتا ہے اور انہیں دہرانے کی بجائے ان سے سبق سیکھتے ہوئے ایک فلاحی ریاست کے قیام کا جمہوری راستہ اپنایا جا سکتا ہے۔ ریاست کو یہ یاد دہانی کرائی جا نی چاہیے کہ اس کا بنیادی فریضہ شہریوں کو حقوق، تحفظ ، سہولیات اور آزادیوں کی فراہمی ہے۔ریاست اور شہریوں کے مابین حقوق اور ذمہ داریوں کا دوطرفہ تعلق ریاست کے استحکام اور شہری فلاح پر مبنی ہونا چاہیے۔ ریاست کو اپنے شہریوں کو وہ بنیادی حقوق اور آزادیاں فراہم کرنی ہوں گی جو انسان ہونے کی حیثیت سےسبھی انسانوں کو بین الاقوامی اعلامیوں میں حاصل ہیں۔ ہمیں عقل ، علم اور شعور کی بنیاد پر ریاست کے لیے ایک جمہوری مستقبل کاتعین کرنا ہوگا۔ اقتدار کو اس کے اصل مالکوں(عوام) کی جھولی میں ڈالنا ہوگا، تما م فیصلے عوام کی امنگوں اور منشاء سے کرنے ہونگے۔ ہمیں برابری اور مساوات کی بات کرنی ہوگی، امن اور رواداری کی بات کرنی ہوگی۔
پاکستان میں شہری حقوق کی صورت حال کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج تمام شہریوں کی سہولیات تک یکساں رسائی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہے۔ تمام طبقوں ، فرقوں، مذاہب اور فکر کے لوگوں کے اس ملک کا مساوی درجے کا شہری قرار دیا جانا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ریاست اور شہریوں کے مابین حائل خلیج کو دور کرتے ہوئے مسائل سے نجات، ترقی ، امن اور خوشحالی کاباعث بن سکتا ہے۔ وطنِ عزیز کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے ریاست سے مذہب اور ثقافت کے نفاذ کا اختیار واپس لینا ہو گا ۔ریاست کی توجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ فلاح پر مبذول کر انے سے ہم ایک ایسی ریاست بنا سکتے ہیں جہاں تمام شہریوں کو برابری کا درجہ حاصل ہو، جہاں امن ہو خوشحالی ہو اور طبقاتی تفریق کم سے کم ہو۔
شفاف انتخابات، منتخب نمائندوں اور اداروں کی جوابدہی اور اختیارات کی تقسیم کا موثر نظام ہی پاکستان میں شہریت سے متعلق مسائل کا واحد حل ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اس ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔

پاکستان میں اقلیتی شہریوں سے دوسرے اور تیسرے درجے کا سلوک ختم کرنے کے لیے اقلیتوں کو ان کی اپنی لسانی،علاقائی، مذہبی، مسلکی اور صنفی شناخت برقرار رکھتے ہوئے قومی دھارے میں شامل کرنا ہو گا ۔ریاست کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر بھی دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری ہونے کے تصور کو ختم کرنا ہوگا۔ کسی مخصوص عقیدے ،قومیت یا مذہب کی بنیاد پر اقلیت یا اکثریت کا مروجہ تصور بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ریاست میں بسنے والے تمام افراد کو امتیازی سلوک سے بچانا ، کثرت رائے سے کیے جانے والے فیصلوں میں اقلیت کے حقِ رائے دہی اور تخصیص کا احترام بھی ضروری ہے۔قانون سازی میں انسانی مساوات اور تکثیریت کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں اور اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ تمام شہریوں کی معاشی مواقع تک یکساں رسائی یقینی بنانے کے لیے ریاست کو اپنی طاقت استعمال کرنا ہوگی تاکہ چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کو ختم کیا جا سکے۔ شفاف انتخابات، منتخب نمائندوں اور اداروں کی جوابدہی اور اختیارات کی تقسیم کا موثر نظام ہی پاکستان میں شہریت سے متعلق مسائل کا واحد حل ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اس ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔

Categories
نقطۂ نظر

جمہوری حکومت کا غیر جمہوری چہرہ

پاکستان میں آج کل جمہوریت نامی چڑیا کا چرچا زور و شور سے جا ری ہے ایک دو فسادیوں کے علاوہ تمام جمہوریت کی علمبردار پارٹیاں جمہوریت کو بچانے کے لئے میدان سجائے بیٹھی ہیں اور اس کی ثناء خوانی میں رطب اللسان ہیں۔ دن رات ٹی وی ، اخبارات ، چائے خانوں اور بٹھکونں میں ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ کچھ نادان، دیوانے فسادیوں سے اس معصوم اور نئی نویلی دلہن کو شدید خطرہ ہے سو اس جمہوریت کو بچانے کے لئے ملک کے سب دانشور، سول سوسائٹی اور تمام سیاسی پارٹیوں کو متحد ہو کر ان جمہور دشمن افراد کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگااور جمہوریت کو تاریخ کے اس عظیم خطرے سے بچانے کے لئے تمام سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر جمہوریت کے علَم تلے جمع ہو رہی ہیں، حتٰی کہ وہ روائتی سیاسی حریف بھی جو کل تک نظر اٹھا کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گورا نہیں کرتے تھے اور جنہیں سڑکوں پر گھسٹنے اور سرعام اُلٹا لٹکانے کی باتیں کی جاتی تھیں انہیں بھی صرف اس عظیم مقصد کی خاطر گھر بلا کر ہرن کے گوشت سے تواضع کی جا رہی ہے اور ان سے اس مقدس نظام کو بچانے کے لئے صلاح مشورے کئے جارہے ہیں۔ میں حیران ہو کہ یہ لوگ کونسی جمہوریت کی بات کر رہے ہیں ؟ کیا یہ پاکستان میں پائی جاتی ہے؟ کیا جمہوری نظام کے ثناخوان یہ بنیادی نقطہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان میں عوامی سطح پر جمہوریت کو ماپنے پرکھنے کے پیمانے اصولی اور نظریاتی نہیں بلکہ ان کی روزمرہ معیشت اور شہری سہولیات کی فراہمی پر مبنی ہیں۔
کیا جمہوری نظام کے ثناخوان یہ بنیادی نقطہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان میں عوامی سطح پر جمہوریت کو ماپنے پرکھنے کے پیمانے اصولی اور نظریاتی نہیں بلکہ ان کی روزمرہ معیشت اور شہری سہولیات کی فراہمی پر مبنی ہیں۔
ایک عام پاکستانی نے جوجمہوری حکومت اس ملک میں دیکھی ہے اس میں ملک کے دوسرے بڑے شہر میں پولیس رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر مخالف جماعت کے معصوم اور نہتے افراد پر گولیاں چلا کر 16 نعشیں گرا کر اورسینکڑوں افراد کو زخمی کر کے اس جمہوریت کا علم بلند کرتی ہے پھر اس جمہوریت میں یوں بھی ہوتا ہے کہ ملک کے کسی تھانے، عدالت میں ان مظلوموں کی آہ پکار نہیں سنی جاتی اور نہ کسی قسم کی ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے۔ حکومت وقت اتنے بڑے سانحے پر بھی خواب خرگوش میں رہتی ہے اور اس پر اپنی لاعلمی کا اظہار کرکے اپنے جرم سے بری الذمہ قرار پاتی ہے۔
جس رائج الوقت جمہوری حکومت کو ایک عام شہری دیکھتا ہے اس میں اظہارِ رائے کی آزادی کا گلا ایسے گھونٹا جاتا ہے کہ اگر حکومت وقت کے خلاف کوئی سیاسی پارٹی یا افراد کسی بھی طرح کا احتجاج کر نے کا ارادہ بھی کرلے تو اس جرم کی پاداش میں ہزاروں افراد کو امن کے لئے خطرہ قرار دےکر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور ملک بھر میں کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں لگا کر عوام کو محصور کر دیاجاتا ہے۔
اس نام نہاد جمہوری حکومت میں پولیس سیاسی مخالفین کو ڈرانے، دھمکانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے علاوہ حکمران خاندان کو تحفظ کے نام پروٹوکول دینے جیسے کاموں پر مامور ہوتی ہے۔ NAB,PIA,اور WAPDAسمیت پندرہ اہم قومی اداروں کے سربراہان تعینات نہ کر کے اور کئی کئی وزارتیں اپنے پاس رکھ کر مہنگائی سے بے حال اور غربت کی ماری قوم کا پیسہ” بچایا” جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ وزیراعظم فرضِ منصبی محض یہ ہے کہ وہ تمام اہم وزارتوں اور اعلٰی عہدوں پر اپنے خاندان اور برادری کے لوگوں کو فائز کرے ۔حکمران ملک کے روشن مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے کھربوں روپے کے اثاثے باہر رکھتے ہیں اور دوسرے ممالک کے لوگوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا کہتے ہیں۔ اپنے اربوں ڈالر باہر کے بینکوں میں محفوظ کرکے دنیا بھر میں کشکول لیے پھرتے ہیں۔ اور اس جمہوریت میں ایک جمہوری ملک کا دارالحکومت فوج کے زیرِ انتظام ہوتا ہے اور ہر چھوٹی بڑی بحرانی کیفیت میں ذمہ دار اداروں کی بجائے فوج کو بلایا جاتا ہےاور اس جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ہر دو ہفتے بعد سپہ سلاروں سے ملاقات بھی ضروری خیال کی جاتی ہے۔
اس منتخب حکومت کا حُسن تو دیکھیے کہ ملکی قانون پر اس قدر سختی سے “عمل “کیا جاتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے گھر پر مامور پولیس اہلکار گھر میں لگے درخت سے دو امرود توڑ کر کھا لیں یا پھر وزیر اعظم کے گھر کا پالتو مور کسی جنگلی بلے کا شکار بن جائے تو ان سنگین جرائم کی بناء پر کئی افسران اور پولیس اہلکار اپنی وردیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اس جمہوری حکومت کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لئے کوئی بھی ایم پی اے (بشرطیکہ اس کا تعلق حکومتی جماعت سے ہو) اپنے مسلح ساتھیوں سمیت دن دیہاڑے تھانے پر حملہ کر کے بے گناہ افراد کو چھڑا سکتا ہے۔ اگر کوئی وزیرقانون اپنے یا اپنے وزیر اعلٰی کے نام پر پیسے مانگے تو اس کو اس کا قانونی حق سمجھ کر درگزر کر دیا جاتا ہے۔ کھلے عام غیر جمہوری عناصر کو جمہوریت کا سبق پڑھانے کی غرض سے گلو بٹ، پومی بٹ اور بلو بٹ جیسے جمہوری رضاکار بھی جمہوریت کے فروغ کے لئے حکومت کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔
اس منتخب حکومت کا حُسن تو دیکھیے کہ ملکی قانون پر اس قدر سختی سے “عمل “کیا جاتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے گھر پر مامور پولیس اہلکار گھر میں لگے درخت سے دو امرود توڑ کر کھا لیں یا پھر وزیر اعظم کے گھر کا پالتو مور کسی جنگلی بلے کا شکار بن جائے تو ان سنگین جرائم کی بناء پر کئی افسران اور پولیس اہلکار اپنی وردیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ انتخابی مہم کے دوران قوم سے کئے وعدوں کو جوشِ خطابت کہہ کر فراموش کر نا کس قدر آسان ہے ۔جب سب نظامِ مملکت اتنے بہترین جمہوری انداز میں چل رہا ہے تو میں بلا کسی خوف وخطر اور شش و پنج کے یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ جناب عمران خان اور طاہر القادری جو اس جمہوریت اور نظام سے بغاوت کر رہے ہیں اور اسے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کر رہے ہیں فسادی اور کسی حد تک حق بجانب ہیں۔ اگر جمہوری حکومت اپنے جمہوری مناصب کار کی ادائیگی میں ناکام ہو گی تو پھر ایسے غیر جمہوری طریقوں سے حکومت کی تبدیلی کو عوامی حمایت حاصل ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ماضی میں ہم جمہوری حکومتوں کی عوامی تحریکوں اور فوجی بغاوتوں کے ہاتھوں برطرفی پر عوام کو ایسے غیر جمہوری اقدامات پر خاموش ہوتا دیکھ چکے ہیں کیوں کہ عوام کے لئے جمہوریت پارلیمان سے زیادہ روزمرہ زندگی گزارنے کی آسائشوں کی فراہمی کا نام ہے۔ انہیں حکومت کے آنے یا جانے سے زیادہ اپنے مسائل کے فوری حل کے طریقہ کار سے مطلب ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

مساوی نمائندگی ہی اصل جمہوریت ہے

اگر آپ تھر کے کسی قحط زدہ علاقے میں پیدا نہیں ہوئے اور ناگفتہ بہ حالات میں بھی کسی طرح میٹرک تک تعلیم حاصل کرچکے ہیں تو آپ جمہوریت کے فوائد سے تو واقف ہوں گے اور یہ بھی جانتے ہوں گےکہ آمریت میں کتنے جھول ہیں ،مگر جمہوریت اور اس کے ثمرات جو درسی کتابوں میں پڑھائے اور رٹائے جاتے ہیں دراصل اس کا تعلق اس جمہوریت سے ہے جو یورپی ممالک میں موجود ہے۔ہمارے ہاں کی نام نہاد جمہوریت ہو یا آمریت ، دونوں صورتوں میں سیاسی نظام میں شرکت اور نمائندگی کے ثمرات بااثر طبقے کے حصے میں ہی آتے ہیں جبلہ قربانیاں وہی محکوم اور مظلوم طبقہ دیتا ہے جو ووٹ ڈالے تو وعدوں کے خوش نما سکوں سے اس کی جھولی بھر دی جاتی ہے۔ آمریت کے خلاف تحریکوں میں جیلیں بھرے اور پولیس کی ماریں کھائے تو نعرےلگا کر، مٹھائیاں بانٹ کر اور خلق خدا کے مسند پر بٹھائے جانے کے خواب ہاروں میں پرو کر پھر کسی بھٹو زادے یا شریف ِوقت کے لئے پلکوں کے قالین بچھا کر نئے سرے سے حالات کے عبرت کدے میں اگلی آمریت تک مشقت کی چکی پیسنے پر معمور ہو جاتا ہے۔جمہویت کا پاکستانی ورژن ان تمام “آلائشوں” سے پاک ہے جو کسی طور عوامی نفع کا باعث بنیں۔پچھلے چھ سالوں سے اس مملکت پر حکومت کرتی جمہوریت سے بیزاری اچھنبے کی بات نہیں ،عوام ویسے ہی اب جمہوریت کی بد ہضمی میں مبتلا ہیں۔قصور جمہوری طرز حکومت کا نہیں،اس کو چلانے والوں کا ہے جس نے اکثریت کو خود سے اور جمہوری نظام سے مایوس کر دیا ہے۔ بھلا ووٹ ڈالنے والے ، تالیاں پیٹنے والے اور ہار پہنانے والے ہاتھ کب تک اپنے پیٹ کے نوالے دوسروں کے حلق میں ڈالتے رہیں گے،جب ہر کوئی ضروریات کی چنگیر لئے پھرے ایسے میں جمہوریت کا کھلونا کتنی دیر عوام کو خوش رکھے۔
بھلا ووٹ ڈالنے والے ، تالیاں پیٹنے والے اور ہار پہنانے والے ہاتھ کب تک اپنے پیٹ کے نوالے دوسروں کے حلق میں ڈالتے رہیں گے،جب ہر کوئی ضروریات کی چنگیر لئے پھرے
پاکستان میں قائم جمہوریت کے بنیادی خدوخال میں عوامی مسائل کا حل مفقود ہے۔گو کہ قانون سازی پر پچھلے دور میں کافی دھیان دیا گیا مگر آئینی تراش خراش کسی کے تن پر کپڑا یا پیٹ میں خوراک کے برابر نہیں ہو سکتی۔ اور پھر پاکستان میں جمہوریت کا مفاہیم سبھی کے لئے الگ ہیں۔پاکستان میں جمہوریت وہ ہوتی ہے جو مرکزی قیادت کو بھائے،یہاں من پسند نااہل افراد کو قومی اداروں کا چیرمین بنادیا جاتا ہے۔یہاں ملک کے سب سے بڑے شہر میں امن و امان مستقل رخصت پر رہتاہے مگر چند مخصوص خاندانوں کا اقتدار قائم رہتا ہے۔ سکیورٹی کے نام پر ہر چوک اور شاہراہ پر پولیس موجود رہتی ہے مگر سٹریٹ کرائم کسی طور نہیں گھٹتے ۔
صرف حکمرانوں اور حکومتی اداروں کا کیا رونا ، یہاں تو کوئی ایسا نہیں جس کا دامن داغدار نہ ہو۔ ٹریفک سگنل تیزرفتاری اور احتجاج دونوں میں توڑے جاتے ہیں، انتڑیوں سے کوکنگ آئل بنایا جاتا ہے، بجلی کھلے عام چوری کی جاتی ہے اور تو اور پچھلے دس سال میں ریسکیو 1122 کو 6 کروڑ 33 لاکھ کالز موصول ہوتی ہیں جن میں سے صرف 22 لاکھ ایمرجنسی سے متعلق ،باقی کالز فیک ہوتی ہیں۔یہاں ہر مذہبی اور قومی تہوار سائلنسر اور بندوق نکال کر منایا جاتا ہے۔ نسل، رنگ اور مسلک کے اختلاف کو ریاستی سطح پر تسلیم کرنے کی بجائے سیاسی عمل کو چند علاقوں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ کرکٹ میچ میں یا کسی آفت کے آنے پر ہم سب اکٹھے ہوجاتے ہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا باقی ممالک کے عوام ان حالات میں متحد نہیں ہوجاتے؟سب ہوجاتے ہیں، بات امن میں اتحاد کی ہے۔
اگر ریاست عملی جمہوری اور فلاحی بننے کی بجائے سلامتی کے خوف کی بنیاد پرہتھیار بند رہی تب تک لوگوں کے درمیان رشتہ قومیت کا نہیں بلکہ شک ، خوف اور جبر کا رہے گا۔
جمہوری نظام حکومت بھلے دنیا کا بہترین نظام حکومت ہے مگر جب تک ٹھکرائے ہوئے محروم طبقات کو سیاسی اور معاشی آزادی نصیب نہیں ہو گی ،اور تمام گروہوں کے وجود ، شناخت اور نمائندگی کے حق کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تب تک اس نظام کے حقیقی ثمرات عوام تک نہیں پہنچیں گے۔ اگر ریاست عملی جمہوری اور فلاحی بننے کی بجائے سلامتی کے خوف کی بنیاد پرہتھیار بند رہی تب تک لوگوں کے درمیان رشتہ قومیت کا نہیں بلکہ شک ، خوف اور جبر کا رہے گا۔ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گی تو ریاست کی غیر موجودگی کو غیر ریاستی عناصر پر کرتے رہیں گے ، سروں کی فصل یونہی کٹتی رہے گی اور عوام بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم رہیں گے۔