Categories
نقطۂ نظر

گیتا اپنے وطن بھارت واپس چلی گئی

پندرہ سال قبل غلطی سے سمجھوتا ایکسپریس کے ذریعے سرحد عبور کر کے لاہور، پاکستان آنے والی گیتا (فرضی نام) پیر 26 اکتوبر 2015ء کو اپنے وطن بھارت واپس چلی گئی۔ گیتا نے یہ تمام عرصہ کراچی کے ایدھی ہوم میں گزارا، جہاں محترم عبدالستار ایدھی اورمحترمہ بلقیس ایدھی نے اُسے بڑی محبت سے اپنے پاس رکھا۔ بولنے اور سننے سےمحرومی کے سبب بھارتی لڑکی کا اصل نام معلوم نہیں ہوسکا، اس لیے ایدھی صاحب نے اُس کا فرضی نام گیتا رکھا تھا۔ بھارت روانگی سے قبل گیتا نے اپنے مخصوص انداز میں پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ گیتا جب پاکستان کے شہر کراچی سے اپنےوطن بھارت پہنچی تو نئی دہلی ائیرپورٹ پر گیتا اور ایدھی فاؤنڈیشن کے نمائندوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ گیتا کی دیکھ بھال پر پاکستانی حکومت اور ایدھی کے شکر گزار ہیں، پاکستان نے گیتا کو پندرہ سال تک اپنی بیٹی کی طرح رکھا۔ ابتدائی خبروں کے مطابق گیتا نے اُن لوگو ں کو پہچاننے سے انکار کردیا ہے جو اُس کے والدین ہونے کے دعویدار ہیں جس کے بعد اب فیصلہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کیا جائے گا کہ یہ لوگ اُس کے خاندانی افراد ہیں یانہیں۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے میڈیا کو بتایا کہ گیتااپنے خاندان کے افراد کو نہیں پہچان سکی اور اب بھارتی حکومت ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گی انہوں نے بتایا کہ مختلف ریاستوں کے چار خاندان گیتا کو اپنی اولاد بتاتے ہیں۔ ہر پاکستانی دعا گو ہے کہ گیتا کوجلد از جلد اُس کے والدین مل جائیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے طویل عرصہ ایک بھارتی لڑکی گیتا کو پناہ دینے اور اسے بحفاظت بھارت پہنچانے پر ایدھی فاونڈیشن کے روح رواں محترم عبدالستار ایدھی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

 

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے طویل عرصہ ایک بھارتی لڑکی گیتا کو پناہ دینے اور اسے بحفاظت بھارت پہنچانے پر ایدھی فاونڈیشن کے روح رواں محترم عبدالستار ایدھی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔نئی دہلی میں ایدھی فاونڈیشن کے وفد کے ہمراہ گیتا سے ملاقات کے دوران انہوں نے ایدھی فاونڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک کروڑ بھارتی روپے ایدھی فاونڈیشن کےلیےعطیہ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبدالستار ایدھی جیسے انسان آج کل کے اس مادی دور میں امید کی کرن ہیں اُن کی بے لوث فلاحی سرگرمیوں پر بھارتی عوام انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ نریندر مودی نے گیتا کو بھارت بھجوانے کے لیے بھر پور تعاون کرنے پر پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا۔
بھارت نے گیتا کی پندرہ سال بعد وطن واپسی پر تحفے میں کراچی کے پندرہ سالہ رمضان کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جو دس سال کی عمر میں اپنی ماں کی تلاش میں غلطی سے بھارت چلا گیا تھا اور پاکستانی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے پانچ سال سے ایک بھارتی شیلٹر ہوم میں ہے۔

 

پاکستان میں ایدھی فاونڈیشن کےفیصل ایدھی نے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے ایدھی فاونڈیشن کو دیئے گئے ایک کروڑ روپے شکریہ کے ساتھ قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ایدھی فاونڈیشن حکومتوں سے پیسے نہیں لیتی، نریندرمودی، ایک کروڑ روپے ایدھی فاونڈیشن کو دینے کی بجائے اپنے ملک میں گونگے، بہرے افراد پر خرچ کریں تو خوشی ہو گی ۔ ایک بھارتی شہری عرفان شکور نے فیصل ایدھی کے اس بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایدھی صاحب کو چاہیئے تھا کہ یہ خطیر رقم لے کر انڈیا کے کسی رفاعی ادارے کو دے دیتے۔ بھارتی شہری عرفان شکور شاید یہ نہیں جانتے کہ ایدھی صاحب نے ہمیشہ سے ایک اصول بنایا ہوا ہے کہ سڑک پر کھڑے ہوکر بھیک مانگ لی جائے لیکن کسی بھی حکومت سے کچھ نہ لیا جائے، اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پیشکش کو قبول نہ کرکے انہوں نے وہی کیا ہے جو اُن کا اصول ہے۔ اگر ایک منٹ کے لیے عرفان شکور کے مشورے کو مان لیا جاے تو پھر بھارتی وزیر اعظم سے یا بھارتیہ سرکار سے ایک کروڑ روپیہ لینے والے ایدھی صاحب ہوں گے بھارتی رفاعی ادارے نہیں۔

 

بھارت نے اپنی بیٹی گیتا کی وطن واپسی پر پاکستان کا شکرگزار ہونے کے ساتھ تحفے میں پاکستان کو اس کا پندرہ سالہ بیٹا رمضان لوٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے رمضان کی بند فائل دوبارہ کھول دی ہے اور پاکستان بھیجنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔امید ہے کہ رمضان جلد ہی پاکستان میں ہوگا۔ بھارتی اخبار”ٹائمز آف انڈیا” کے مطابق “بھارت نے گیتا کی پندرہ سال بعد وطن واپسی پر تحفے میں کراچی کے پندرہ سالہ رمضان کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جو دس سال کی عمر میں اپنی ماں کی تلاش میں غلطی سے بھارت چلا گیا تھا اور پاکستانی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے پانچ سال سے ایک بھارتی شیلٹر ہوم میں ہے۔ گیتا کی پیشرفت کے بعد، پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کے جواب میں وزیر اعظم کے دفتر نے رمضان کے معاملے کی فائل پھر کھول دی ہے۔ وزیر اعظم آفس کے مشیر آشوتوش شکلا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، اُن کا کہنا تھا کہ ہم سب کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیئے”۔

 

ہم پاکستانی بھی بھارت سرکار کے شکر گزار ہیں کہ گیتا کے بھارت پہنچنے کے بعد ایک پاکستانی بچے رمضان کو پاکستان بھیجنے کی کاروائی شروع کردی گی ہے۔ اگر بھارت سرکار اس خیرسگالی کے جذبے کو تھوڑا سا اوروسیع کرلے اور رمضان کے ساتھ ساتھ اُن بے گناہ پاکستانیوں کو جو بھارتی جیلوں میں قید ہیں رہا کرکے واپس پاکستان روانہ کردے تو وہ پاکستانی خاندان بھی بھارت کے شکرگزار ہوں گے جن کے پیارے ایک عرصے سے بھارتی جیلوں میں ہیں۔ اسی طرح پاکستانی جیلوں میں قید بے قصور بھارتیوں کو بھی ان کے وطن لوٹانا ضروری ہے۔

 

ہم گیتا کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہوئے یہ امید کرتے ہیں کہ بولنے اور سننے سےمحروم ہونے کے باوجود بھارتی لڑکی گیتا بھارت میں پاکستان کی طرف سے امن کی سفیر ثابت ہوگی۔ پوری پاکستانی قوم محترم عبدالستار ایدھی اورمحترمہ بلقیس ایدھی اور اُن کے ادارے کی بے انتہا شکرگزارہے جو دن رات انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایدھی صاحب کو صحت اور تندرستی دے، کل رات ہی میں سوچ رہا تھا کہ کسی دن ایدھی صاحب کے ساتھ سڑک پر کھڑے ہوکر بھیک مانگوں۔ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ایک کروڑ روپے کی رقم کےلیے منع کرنے والے ایدھی صاحب کو عام لوگوں سے دس، بیس یا سو روپے لےکر کیا مزا آتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

بھولی بھالی گائے، فسادات اور ہندوانتہا پسند

بھارت میں بعض انتہا پسند ہندو جنہیں مسلمانوں سے اور خاص کر پاکستانی مسلمانوں سے خدا نام کا بیر ہے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔خاص کر جب سے نریندرمودی صاحب کی حکومت آئی ہے ان کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں شدت آگئی ہے اور اب یہ حال ہے کہ یہ انتہا پسند ہندو کسی اور مذہب کے پیروکاروں کو خواہ وہ مسلمان ہوں ، عیسائی ہو ں یا سکھ ہو ں برداشت نہیں کر پا رہے۔ ہندوستان میں رفتہ رفتہ مذہبی اقلیتوں پر تشدد اور ان کی مقدس کتابوں اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی معمول بنتی جارہی ہے۔ ان انتہا پسند ہندوتنظیموں کے لیے صرف غیر مذہب کے لوگ ہیں نہیں بلکہ ہم مذہب سیکولر اور روشن خیال افراد بھی ناقابل قبول ہیں۔ ان انتہاپسند تنظیموں میں سب سے زیادہ فعال بال ٹھاکرے کی تنظیم شیو سینا کا ہے جو کسی نہ کسی بہانے مذہبی اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہتی ہے، کبھی رام مندر کی تعمیر کا شوشا چھوڑا جاتا ہے ،کبھی دانشوروں کے منہ پر کالک مل دی جاتی ہے اور کبھی پاکستانی فنکاروں کے پروگراموں اور فلموں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے۔ شیوسینا کی سرگرمیوں پر بات کرنے سے پہلے شیوسینا کے بارے میں جاننا بھی بہت ضروری ہے ۔
بہت سے ہندووں نے بھی شیو سینا کی ان سرگرمیوں کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں کی جانب سے اس مذہب عدم برداشت کے خلاف احتجاجاً سرکاری اعزازات لوٹانے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ شیوسینا کی ان کارروائیوں سے ہندوستان بدنام ہورہاہےاور ہندوستان کی اپنی تہذیب خطرے میں پڑ گئی ہے۔

 

شیو سینا کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ اس کی بنیاد بال ٹھاکرے نامی ایک کارٹونسٹ نے رکھی۔ اس نے لسانی اور مذہبی بنیاد پرایسے ہندو نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کیا جو بے روزگار تھے اور 1966 میں شیوسینا قائم کی جسے مراٹھی ہندو راجہ شیوا جی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ شیواجی کو بعض مورخ مغل بادشاہوں کے خلاف جدوجہد کے علم بردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بال ٹھاکرے کے مطابق یہ تنظیم صرف مراٹھی ہندو نوجوانوں کو حقوق دلانے کے لیے قائم کی گئی یہی وجہ تھی کہ غیر مراٹھیوں کے خلاف اس تحریک نے کئی دفعہ تشدد کا رنگ اختیار کیا۔ شیوسینا میں بال ٹھاکرے کے علاوہ کوئی دوسرا رہنما نہیں تھا اور نہ ہی کبھی کسی نے جماعت کے اندر انتخاب کرانے کی بات کی کیونکہ اگر کبھی کسی نے ایسی بات کی بھی تواسے تنظیم سے نکال دیا گیا۔ شیو سینا کے مطابق ہندوستان کی تہذیب ہندو ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کو اسے ماننا پڑے گا۔ 1992 میں جب تاریخی بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے منہدم کیا گیا تو بال ٹھاکرے نے کہا کہ یہ عظیم کام شیو سینکوں نے انجام دیا جس پر مجھے فخر ہے وہ کئی دفعہ ہٹلر کو اپنا سیاسی پیشوا تسلیم کرچکا ہے۔

 

جیسے ہی نریندر مودی نے حلف اٹھایا فرقہ پرستی کی بنیادوں پر قائم ان تنظیموں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا جن میں میں سب سے آگے شیوسینا ہے جسے مودی سرکار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بعض مقامات پر خنزیر مار کر مسجدوں میں پھینکنےکے علاوہ شیو سینا کے جنونیوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے گائے کے تقدس کو استعمال کیا ہے۔ ہندوستان میں ایک زمانے سے لوگ گائے کا گوشت استعمال کرتے آئے ہیں اور صرف مسلمان ہی نہیں ہندوستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے پیروکار بھی گائے کا گوشت استعمال کرتے ہیں مگر گائے کے گوشت پر زیادہ تر فسادات مسلمانوں کے خلاف ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ بات ہوگئی کہ ” ہے ٹھاکر جی کا عجب فلسفہ جو سب کھائیں تو حلال ہے مسلمان کھائے تو حرام ہے۔” یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ شیوسینا نہ تو پورے ہندوستان اورنہ ہی تمام ہندووں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ بہت سے ہندووں نے بھی شیو سینا کی ان سرگرمیوں کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں کی جانب سے اس مذہب عدم برداشت کے خلاف احتجاجاً سرکاری اعزازات لوٹانے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ شیوسینا کی ان کارروائیوں سے ہندوستان بدنام ہورہاہےاور ہندوستان کی اپنی تہذیب خطرے میں پڑ گئی ہے۔
شیوسینا کی سرگرمیاں گو ابھی صرف غیرہندو بھارتیوں کے خلاف ہیں مگر بہت جلد ان کا دائرہ کار ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد تک پھیل سکتا ہے۔ شیوسینا کی یہ سرگرمیاں مذہب کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔

 

میں نے گائے کے گوشت کھانے یا گائے ذبح کرنے کے مسئلے پر بھارت میں تشدد کے واقعات جب پڑھے تو ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ اگر اسی طرح بھارت میں تشدد جاری رہا تو عین ممکن ہے لوگ خوف سے گائے ذبح کرنا ہی چھوڑ دیں اگر ایسا ہوا تو پھر بھارتی گائیں کہاں جائیں گی؟ جب اس غرض سے انٹرنیٹ پر اپنے سوال کو ڈھونڈا تو جواب میں کئی حیران کن چیزیں سامنے آئیں اور ذہن میں کئی سوالات مزید پیدا ہوئے کہ کیا واقعی یہ جنونی شیوسینا کے پیروکار گائے کو مقدس جانور مان کر تشدد کو فروغ دے رہے ہیں یا اس کے پیچھے کچھ اور سیاسی یا تجارتی مقاصد ہیں۔ اب ذرا دیکھیں کہ بھارت میں اگر یہ مطالبہ شیوسینا کی طرف سے آرہا ہے کہ گائے ذبح کرنے پر سرکاری طور پر پابندی لگائی جائے اور اس کے گوشت کے فروخت پر تو غیر اعلانیہ پابندی ہے ہی لیکن افسوس یہ کہ اس پابندی کا شکار زیادہ ترمسلمان ہی ہیں باقی خود ہندوؤں کو گائے کا گوشت برآمد کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ بھارت میں6 بڑی کمپنیاں ہیں جو گائے کا گوشت فراہم کرتی ہیں جن میں سے 4 ہندوؤں کی ملکیت ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ہندوؤں نے گوشت فراہم کرنے کے لیے اپنی کمپنی کا نام مسلمانوں جیسا رکھا ہے ۔ آخر انہیں ایسا کیوں کرنا پڑا جبکہ ہندو تو گائے کو مقدس خیال کرتے ہیں؟ ان اداروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
الکبیر ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالکان کا نام ہے مسٹر شتیش اور مسٹر آتل سبھروال ، ایڈریس ہے جولی میکر چیمبر ممبئی 40021
عربین ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالک کا نام ہے مسٹر سنیل کپور ، ایڈریس ہے رشین مینشن اورسیز ممبئی 400001
ایم.کے. آر .فروزن فوڈ ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالک کا نام ہے مسٹر مدن ابووٹ ، ایڈریس ہے ایم جی روڈ جن پتھ نیو دہلی 110001
پی .ایم .ایل انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ، مالک کا نام مسٹر اے ایس بندرا، ایڈریس ہے ایس سی او62۔63 سیکٹر 34۔اے چندریگڑ160022

 

اب جناب کوئی پوچھے شیوسینا سے کہ کیا تم میں سے کسی نے ان کمپنیوں کے مالکان کے منہ پر کالک ملی ان کے اوپر سیاہی پھینکی یا ان کو مارا پیٹا اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ شیوسینا کی سرگرمیاں گو ابھی صرف غیرہندو بھارتیوں کے خلاف ہیں مگر بہت جلد ان کا دائرہ کار ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد تک پھیل سکتا ہے۔ شیوسینا کی یہ سرگرمیاں مذہب کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ یہاں غورطلب امر یہ ہے کہ اس پر مودی سرکار کیوں چپ سادھے ہوئے تماشہ دیکھ رہی ہے؟ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی شیوسینا اور انتہا پسند ہندو ووٹ بنک کھونے سے ڈرتی ہے؟ ہندوستان میں اتنی شدت سے عدم برداشت کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر بھارتی حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو بھارت کو بھی پاکستان ہی کی طرح مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی سطح پر ہندوستان کو بدنامی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کی بجائے اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور تمام مذاہب کو ماننے والوں کو آزادی کے ساتھ رہنے دیا جائے۔ کسی کے منہ پر کالک ملنا، پاکستانی کھلاڑیوں، فنکاروں اور ادیبوں کے خلاف مظاہرے کرنا، نامور ہستیوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنانا خود بھارت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی بہت سے ہندوستانی اداکار ، شعراء ، تاجر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی آتے ہیں لیکن ہمارے عوام کبھی ان سے اس قدرنفرت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں ہندوستان کو بھی اپنی سابقہ روایات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان اور اپنے ملک کے عوام کے درمیان امن، رواداری اور برداشت کو فروغ دینا چاہیئے۔
Categories
نقطۂ نظر

میری مرضی

ووگ نامی جریدے نے بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم، تشدد کے واقعات اور امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے بامعنی اشتہارات بنانا شروع کیے ہیں۔ اس سلسلے کے اب تک دو اشتہارات نشر ہوچکے ہیں، پہلے کا عنوان لڑکے رلاتے نہیں ہیں تھااور دوسرے کا عنوان ہے مائی چوائس۔ پہلی ویڈیو میں مادھوری ڈکشٹ نے بڑے مامتا بھرے انداز میں قوم کی اصلاح کی تھی جب کہ دوسرے اشتہار میں دپیکا پڈوکون نے عورت کی آزادی اور خودمختاری پر لباس، جنسی اخلاقیات اور پدرسری روایات کے اثرات کے تناظر میں بات کی ہے۔ ووگ کی اس مہم کا مقصد خواتین کو با اختیار بنانا ہے۔
اشتہار میں دپیکا کے ذریعے معاشرے میں عورت کے اپنی جنسی شناخت پر قادر ہونے کی راہ میں موجود روکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی اور عورت کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ بھی مردوں کے مساوی جنسی آزادی کا حق رکھتی ہے۔
بھارت پچھلے کئی برسوں سے بہترین فلمیں اور اشتہارات بنا کر پورے خطے بلکہ تمام دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردینے والی تخلیقات ان کا طرہِ امتیاز رہی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال موقع موقع اشتہار تھا،لوگوں نے میچ کم اور یہ اشتہار زیادہ دیکھا تھا، اس اشتہاری مہم کا پہلا شکار پاکستان اور پھر پوری دنیا بنی۔ جس کسی کو اردو یا ہندی سمجھ آتی تھی اس نے اس اشتہاری مہم کا ویڈیو جواب دینے کی بھی کوشش کی لیکن دھماکہ اس دن ہوا جس روز بھارت سیمی فائنل ہار کر عالمی کپ سے باہر ہوگیا۔ اس دن اس اشتہاری مہم کو کرارا جواب ملا اور وہ تھا” پونکا پونکا” پاکستان اور بنگلہ دیش سے لوگوں نے بھارت فون کر کر کے بھارتی کرکٹ کونسل کو تنگ کیا اور اپنی بھڑاس نکالی۔اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک دفعہ جب کوئی چیز مشہور ہوجاتی ہے تو اس کا ردعمل بھی سامنے آنے لگتا ہے۔ عوام جواب دیتے ہیں اور خوب دیتے ہیں، پرانے زمانے میں عوام صرف خطوط لکھا کرتے تھے، مراسلے اور تار بھجتے تھے لیکن آج کے جدید دور میں ویڈیو بنا کر جواب دیتے ہیں۔
ووگ کے اشتہارات پر بھی لوگوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔پہلے انہوں نے” لڑکے روتے نہیں بلکہ لڑکے رلاتے نہیں “کا موضوع چنا اور ایک جاندار اشتہارتخلیق کیاجس میں مردوں کو ملنے والی اس غلط تربیت کی نشاندہی کی گئی جو مرد کو عورت پر تشدد کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ دوسرے اشتہار میں دپیکا کے ذریعے معاشرے میں عورت کے اپنی جنسی شناخت پر قادر ہونے کی راہ میں موجود روکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی اور عورت کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ بھی مردوں کے مساوی جنسی آزادی کا حق رکھتی ہے۔ اس اشتہار پر متوقع ردعمل کے پیش نظراسے صرف انٹرنیٹ پر نشر کیا گیا ٹی وی پر نہیں۔ یہ اشتہار عورت کو زندگی کے ہر مرحلے پر اپنی نجی زندگی کے معاملات پر بااختیار بنانے کی کوشش ہے ۔
جس کسی کی رسائی انٹرنیٹ تک اس کی جانب سے دپیکا کی کردار کشی اور ہجو گوئی کا سلسلہ شروع ہوگیا، ہر جانب سے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پر لعن طعن کی جانے لگی اوراس اشتہار کا اصل مقصد فوت ہوگیا جو عورتوں کو جنسی انتخاب اور جنسی ترجیحات کے تعین کی آزادی دینا تھا۔
اگرچہ اشتہار کا بیشتر حصہ عورت کی ذات ، شناخت اور انتخاب کی راہ میں موجود روکاوٹوں سے آزادی حاصل کرنے کے پیغام پر مبنی تھااور عورت کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ وہ کائنات کی طرح ہر سمت میں لا متناہی ہے، وہ ایک جنگل (معاشرے) کا محض جزو نہیں بلکہ ایک درخت(فرد) بھی ہے لیکن عوام کی سوئی صرف ایک جگہ آ کر اٹک گئی ہے؛ بقول دپیکا کہ ’میری مرضی شادی کروں یا نہ کروں، جنسی تعلقات شادی سے پہلے استوار کروں یا بعد میں یا شریکِ حیات کے علاوہ بھی کسی کے ساتھ تعلقات رکھوں،میری مرضی کہ میں ایک مرد سے محبت کروں، عورت سے یا دونوں سے، میں چاہوں تو عارضی محبت کروں یا ہمیشگی کی ہوس رکھوں۔”اس نکتے پر بہت سے لوگ معترض ہیں اور یہ جانے سمجھے بغیر کے ان باتوں کا مطلب کیا ہےمحض اعتراض کررہے ہیں۔ جس کسی کی رسائی انٹرنیٹ تک اس کی جانب سے دپیکا کی کردار کشی اور ہجو گوئی کا سلسلہ شروع ہوگیا، ہر جانب سے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پر لعن طعن کی جانے لگی اوراس اشتہار کا اصل مقصد فوت ہوگیا جو عورتوں کو جنسی انتخاب اور جنسی ترجیحات کے تعین کی آزادی دینا تھا۔ یہ اشتہار انتخاب کے حق کو عورت کی پہچان بنانے سے متعلق ہے جسے بہت سے لوگ غلطی سے جنسی “بے راہ روی”کی تبلیغ سمجھ بیٹھے ہیں۔
غالباً یہ اشتہار بنانے کی جو وجہ ووگ والوں کے پاس تھی وہ کچھ یوں تھی کہ مردوں کو ان کا ہی مکروہ چہرہ دکھا کر جتایا جائے کہ جو آزادی ایک مرد چاہتا ہے وہی ایک عورت کی بھی خواہش ہے۔ یہ اشتہار بھی مردوں اور پدرسری معاشروں کے منہ پر تھپڑ ہے۔کیوں کہ مرد یہ سب کچھ کرتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں ہوتی لیکن چونکہ ایک عورت نے یہ سب کہا ہے تو لوگوں کو آگ لگ گئی ہے۔ چوں کہ اس خطے میں عورتوں کا ایک “خاص “مرتبہ ہے اوریہ اشتہار سیتا، درگا اور ساوتری جیسے طاقتور مشرقی استعاروں کی نفی کرتا ہے اس لیے بہت سے لوگوں کے خیال میں اب عورت بھی اتنی ہی گندی اور گری ہوئی ٹھہری ہے جتنی کہ مرد۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ روایتی پدرسری معاشرتی تصورات ہی نہیں ہیں جو عورت کی آزادی اور خودمختاری کی راہ میں روکاوٹ ہیں؟
یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ بااختیاری کے اس منجن نے عالمی منشور برائے انسانی حقوق کی شق نمبر ۱۹ کا استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے کا بھرپور استعمال تو کرلیا ہے لیکن کیامشرقی معاشرہ ایک آزاد اور خود مختار عورت کو قبول کرنے کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔ اور کیا بااختیار ہونے کا مطلب محض جنسی آزادی ہے یا خاندان کے آغاز اوربقا کی کوئی صورت بھی اس تصور کے ساتھ وابستہ ہے؟
Categories
نقطۂ نظر

ہمسائے سے سیکھنے میں ہرج ہی کیا ہے؟

Nara-e-Mastana-ajmal-jami
[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر شہاب الدین قریش 2010 سے 2012 تک بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ رہے ہیں، آپ بھارتی انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری سے متعلق ایک کتاب An undocumented wonder کے مصنف بھی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کے بلاوے پر قریشی صاحب کی پاکستان آمد اور قیام کے دوران ان سے ہونے والی گفتگو کا احوال قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

بھارت کے سابق الیکشن کمیشنر ڈاکٹر شہاب الدین قریشی کے مطابق بھارت میں چوراسی کروڑ ووٹر حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں اور ان کے انتخابی عملے کی تعداد دس لاکھ ہے۔رقبہ، آبادی، مسائل اور وسائل کے تناظر میں بھارتی الیکشن کمشن کی کارکردگی پوری دنیا کے لیے ایک مثا ل ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ بھارتی ریاست کیرالہ میں ڈیم تعمیر ہو رہا تھا، اسی دوران ریاستی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا، ہزاروں مزدور ڈیم کی تعمیر میں مصروف تھے، انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے لیے الیکشن کمشن نے ڈیم سائٹ پر ہی پولنگ سٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تا کہ مزدور ووٹرز کو دقت سے بچایا جا سکے۔ جیسے ہی پولنگ تاریخ قریب پہنچی، معلوم ہوا کہ ڈیم تعمیر ہو چکا ہے اور مزدور وہاں سے جا چکے ہیں، مزید تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ڈیم سائٹ پرصرف ایک ہی مزدور باقی ہے ، الیکشن عملہ جس کی تعداد درجن بھر تھی، ڈیم پر پہنچا، پولنگ سٹیشن قائم کیا گیا، اکلوتے ووٹر نے ووٹ کاسٹ کیا، چونکہ اس مقام سے ووٹ ایک ہی تھا لہذا پولنگ عملہ چاہتا تو چھٹی کر سکتا تھا، لیکن پورا عملہ مقررہ وقت تک وہاں ڈیرے جمائے بیٹھا رہا مبادا کوئی اور شخص آکر دعوی نہ کر دے کہ یہاں کا اکلوتا ووٹر تو میں ہوں۔
بھارت میں ذات پات یا دھرم کے نام پر ووٹ نہیں مانگا جا سکتا، یہی نہیں بلکہ کسی بھی عبادت گاہ کو انتخابی مہم یا ووٹ کے حصول کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے۔
کسی بھی ملک میں جمہوریت اور جمہور تبھی مضبوط ہو سکتے ہیں جب وہاں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔ دہلی کے حالیہ انتخابات میں پورے بھارت پر راج کرنے والی مودی سرکار کی بھارتیہ جنتا پارٹی ، عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں تاریخ کی بدترین شکست سے دو چار ہوئی۔ اس شکست پر بی جے پی اور کانگریس سمیت کسی بھی پارٹی نے ‘دھاندلی’ کا رونا نہیں رویاجو کامیاب اور موثر بھارتی انتخابی نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قریشی صاحب نے مزید بتایا کہ بھارت میں ذات پات یا دھرم کے نام پر ووٹ نہیں مانگا جا سکتا، یہی نہیں بلکہ کسی بھی عبادت گاہ کو انتخابی مہم یا ووٹ کے حصول کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے۔ حساس انتخابی حلقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقامی صورت حال کی روشنی میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔
پاکستانی نظام کے برعکس بھارت میں انتخابی نتائج ووٹنگ سے تین یا چار روز بعد مرتب کیے جاتے ہیں۔ خاکسار کے استفسار پر کہ اس امر میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ ڈاکٹر قریشی نے دلچسپ وجوہ بیان کیں، کہنے لگے کہ نتائج کے اعلان میں تین سے چار روز کی تاخیر دوبارہ ووٹ ڈالنے (Re-polling) کے امکان کے تحت کی جاتی ہے۔ بھارتی انتخابی قوانین کے تحت کسی فریق کی جانب سے انتخابی عمل پر اعتراض اور الیکشن کمیشن کی طرف سے اس اعتراض کے جائز تصور کیے جانے کی صورت میں ،انتخابی نتائج کے اعلان سے قبل تین سے چار روز میں دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے،بعض حلقوں میں دوبارہ ووٹ ڈالے جانے کے بعد بھی ری پولنگ ہو چکی ہے۔ پاکستان میں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ٹریبونلز اور عدلیہ کا دروازہ کھٹکایا جاتا ہے لیکن بھارتی الیکشن کمیشن انتخابی عذرداریاں فی الفور نمٹا دیتا ہےجس کی انتہائی شکل ری پولنگ ہے۔ پاکستان میں 2013 کے انتخاب کے بعد سینکڑوں پٹیشنز دائر کی گئیں، ہمسایوں کے ہاں بااختیار الیکشن کمیشن کے زیرانتظام موثر انتخابی نظام کے باعث انتخابی گہما گہمی میں پٹیشن کا لفظ قدرے اجنبی ہے۔بھارتی آئین کی “چھتر چھایا” تلے بااختیار الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں انتخابات کے دوران عدلیہ کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان تقریبا دو سال تک بغیر ارکان کے کام کرتا رہا، اس عرصے کے دوران چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کرائے گئے ضمنی انتخابات کی قانونی حیثیت پر عدالتوں میں اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔
پاکستان میں الیکڑانک ووٹنگ مشین کا چرچا یہی کوئی سال دو سال سے سننے کو مل رہا ہےجبکہ بھارت میں یہ نظام1998 میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔ الیکڑانک ووٹنگ مشین کے ذریعے دھاندلی کا خاطر خواہ تدارک کیا جا سکتا ہے، بھارت میں دھاندلی کے امکان کو کم کرنے کے لیے ایک ووٹ ڈالے جانے کے بعد ووٹنگ مشین اگلے بارہ سیکنڈز کے لیے غیر فعال ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں پولنگ سٹیشن پر دھاوا بول کر عملہ یرغمال بنا نے اور سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے ایک گھنٹے میں ہزارو ں جعلی ووٹ کاسٹ کیے جاتے رہے ہیں۔ بعض حلقوں میں حکومتی ایم این اے یا ایم پی اے کے مقامی پولیس سے مل کر دھاندلی کےواقعات عام ہیں لیکن بھارت میں ریاستی پولیس کی جانبداری سے بچنے کے لیے بھارتی الیکشن کمیشن سنٹرل پولیس کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ فعال اور موثر انتخابی نظام کے باوجود بھارتی الیکشن کمیشن کو بعض مسائل کا بھی سامنا ہے جیسے تیسری جنس کے ووٹ دالنے کا معاملہ۔ہندوستانی الیکشن کمیشن نے بغیر کسی لیت و لعل کےتیسری جنس کے خانے کا اٖضافہ کر دیا جس سے بھارتی رائے دہندگان کی تعداد میں دس سے پندرہ لاکھ ووٹوں کا اضافہ ہوا۔
ایک عظیم جمہوریہ کا ہمسایہ ہونے کے باوجودپاکستان میں انتخابی شفافیت کا سفر تاحال شروع نہیں کیا جاسکا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان تقریبا دو سال تک بغیر ارکان کے کام کرتا رہا، اس عرصے کے دوران چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کرائے گئے ضمنی انتخابات کی قانونی حیثیت پر عدالتوں میں اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔ آئین کے آرٹیکل 218(3) میں الیکشن کمشن آف پاکستان کو ایسے ضروری اقدامات کا پابندبنایا گیا ہے جو اس بات کو یقنی بنائیں کہ ‘انتخاب ایمانداری’ حق اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہو اور یہ کہ بد عنوانیوں کا سدباب ہوسکے” لیکن اس بنیادی نقطے پر کس حد تک عمل درآمد ہوا؟ جواب کے لیے یہی کافی ہے کہ ہم آج بھی ‘چار’ حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اب تک دنیا بھر کے باون ممالک بھارتی الیکشن کمیشن کے تجربے سے مستفید ہو چکےہیں، بھارت ان ممالک کے انتخابی نظام کے عملے کو فری تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔
بھارت کے برعکس ہمارے ہاں حالیہ انتخاب میں کچھ پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج اور بیلٹ پیپرز کی تعداد بھی فراہم نہ کی گئی، نتائج فارم چودہ اور پندرہ کی بجائے سادے کاغذ پر دیے گئے جن پر پریذائڈنگ افسروں کے دستخط اور نشانِ انگوٹھا بھی موجود نہ تھے۔ الیکشن کمیشن نے تاحال فارم چودہ اپنی ویب سائٹ پر نہیں دیا، حالاں کہ ایسا کرنے سے انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے کیے جانے والے اعتراضات میں کمی واقع ہوتی۔ آخری لمحات میں پولنگ سٹیشنوں اور پولنگ کے عملے کی تبدیلیاں الیکشن کمشن کے نوے فیصد کامیابی کے دعوے سے متضاد نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ1951 سے2013کے انتخابات تک پاکستان میں انتخابی عمل میں کوئی قابل ذکر بہتری نہیں آئی۔اگرچہ وقتا فوقتا انتخابی اصلاحات ہوتی رہی ہیں تاہم انتخابی نتائج کے ضمن میں الیکشن کمشن آف پاکستان کے کردار پر ہمیشہ سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
ہمارے ہمسایوں کے ہاں الیکشن کمیشن کی فعالیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک دنیا بھر کے باون ممالک بھارتی الیکشن کمیشن کے تجربے سے مستفید ہو چکےہیں، بھارت ان ممالک کے انتخابی نظام کے عملے کو فری تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ ہمسائی کا منہ لال دیکھ کر ہم اپنا منہ تھپڑوں سے لال کرنے سے تو رہے لیکن ان سے کچھ سیکھ ضرور سکتے ہیں۔