Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان کیسے مان لے حملہ “را” نے کیا تھا؟

کوئٹہ شہر میں سیکیورٹی کے نام پر ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، کم و بیش شہر کے تمام علاقوں میں کئی کئی چوکیاں لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے قائم ہیں۔ یہاں پر کھڑے اہلکار کسی کو بھی روک کر اس کی تلاشی لیتے ہیں، اس سے سوالات پوچھتے ہیں۔ اگر کسی سرپھرے اہلکار کی وطن پرستی جاگ جائے تو یہ اہلکار کسی بھی شخص کو حراست میں لے لیتے ہیں۔کوئٹہ واقعہ سے قبل ظاہر ہے بلال کاسی نے فورسز کے چیک پوائنٹس پر رک کر اپنی پہچان بتائی ہو گی۔ اپنے مقدمات کی فائلیں بھی دکھائی ہوں گی۔ قتل ہونے کے بعد بلال کاسی کی لاش کو شعبہ حادثات اور جائے وقوعہ کے درمیان آنے والی چیک پوسٹوں پر حفاظتی انتظامات کے پیش نظر “را” کا سراغ لگانے والے اہلکاروں نے روک کر چیکنگ کے بعد شعبہ حادثات تک پہنچانے کی اجازت دی ہو گی۔ بغیر کسی روکاوٹ کے ہپتال تک پہنچنے والے حملہ آور کے حملے میں مرنے والوں کی لاشیں بھی انہیں چیک پوسٹوں پر “را” کے خطرے کے پیش نظر روک کر چیک کی گئی ہوں گی اور پھر اپنے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی ہوں گی۔ ان “را” زدگان میں مکران سے تعلق رکھنے والے شہدا کے ہمراہ جانے والے لوگ فورسز کی احسان مندانہ تفتیش کا کچھ زیادہ ہی شکار ہوئے ہوں گے کیوں کہ سی پیک کا تعلق ہی مکران کے ساحل سے ہے۔ ان جنازوں میں شرکت کرنے والے سوختہ دل و سوختہ بخت بھی اسی طرح کے “حفاظتی ظلم” کا شکار ہوئے ہوں گے کیوں کہ “را” کسی کے بھی روپ میں کہیں پر موجود ہو سکتی ہے بشرطیکہ بلکہ لازمی شرط یہ کہ سیکیورٹی ادارے خود “را” کی موجودگی سے راضی ہوں۔

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریق کار یہی ہے کہ خاموش ہو جاؤ یا لاپتہ ہوجاؤ، خاموش ہو جاؤ یا خاندان کے کسی فرد کی لاش وصول کرو۔
حملے کے بعد فورسز نے چابکدستی سے چند لوگوں کو گرفتار کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، پھر پلک جھپکتے ہی ذرائع ابلاغ پر انہیں “مبینہ” دہشت گرد بھی قرر دے دیا گیا۔ اب ان کے لواحقین اس مرگ ناک امید میں مبتلا ہیں کہ جانے کب کس معلوم مقام سے ان لاپتاؤں کی لاشیں ملیں گی۔ کیوں کہ بلوچستان کی حالیہ تاریخ لاپتہ لوگوں کی بازیاب شدہ لاشوں کی داستان پر مشتمل ہے۔ اس داستان نے لواحقین کو اپنے پیاروں کی زندہ بازیابی کی امید سے زیادہ مسخ شدہ لاش کی شکل میں وصولی کے لیے ذہنی طور پر پہلے ہی تیار کر دیا ہے۔

 

بلوچستان میں ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ میں خود کئی ایسے افراد کی گمشدگی کا گواہ ہوں جنہیں سیکیورٹی ادروں نے غیر قانونی حراست میں لیا ہے۔ لیکن سی پیک چونکہ تعمیر کے مراحل میں ہے اس لیے لوگ جب لاپتہ ہوجائیں تو اس کا سرکاری مطلب یہ ہے کہ لاپتہ شخص” نامی شخص” کہیں پر تھا ہی نہیں۔ اور اگر کوئی مارا جائے تو پلک جھپکتے ہی اسے سی پیک کے خلاف “را” کے ہاتھوں میں کھیلنے والا دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر لاپتہ شخص کے زبان دراز رشتہ دار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کریں تو ان کی آواز کا گلا گھونٹنے کے لیے فورسز کے پاس کئی حربے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریق کار یہی ہے کہ خاموش ہو جاؤ یا لاپتہ ہوجاؤ، خاموش ہو جاؤ یا خاندان کے کسی فرد کی لاش وصول کرو۔ کیوں کہ لاپتہ شخص کا وجود ایک واہمہ تھا۔ جو سالوں سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا اور اچانک ایسے گیا کہ۔۔۔ اس کا صرف خیال ہیولہ ہی باقی رہ گیا۔

 

بلوچستان میں ایسی ہزاروں داستانیں موجود ہیں جنہیں سننے کے لئے حساس دل چاہیے۔ بات حساس ذہنوں کی ہوتی ہے تو بلوچستان کے وکلاء ظاہر ہے باقی تمام طبقات سے زیادہ حساس ہیں۔ حساس اداروں کی حساسیت سے بھی زیادہ حساس۔ اتنے حساس کہ انہیں موت ہی بے حس کرے تو کرے۔ لیکن یہ سوال کسی غریب الحس شخص کو جھنجوڑ نے کے لئے بھی کافی ہے کہ ایک بارود بردار شخص کوئٹہ کی ہر گلی کے شروع، درمیان اور آخر میں تعینات “را” پر نگاہ رکھنے والی عقابی نظروں سے بچ کر کیسے سول ہسپتال تک پہنچ گیا؟ ایک ایسی جگہ جہاں تک پہنچنے میں چیک پوسٹوں میں اپنی شناخت کراتے کراتے کئی ملازموں کی ڈیوٹیاں قضا ہو جاتی ہیں وہاں تک خود کش حملہ آور کیسے پہنچ گیا۔ میں بلوچستان سے دو سال قبل ہی نکل چکا ہوں لیکن میرا خیال اُدھر ہی ہے۔ روز معلوم کرتا ہوں، اور روز یہ سنتا ہوں کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور چوکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہیں۔ اس کے باوجود وہاں تک “را” کا پہنچ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے واقعات کی وجہ سے ہی بلوچستان میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ یہ حملہ ریاستی اداروں کی مرضی سے ہوا ہے۔

 

ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ایک پوری نسل بھلےموت کے منہ میں چلی جائے لیکن چین سے آنے والی یہ سڑک محفوظ رہنی چاہیئے۔
یہ سوال میں خود سے کرتا ہوں کہ ایک کتاب رکھنے والا نوجوان فورسز کی پہلی چیک پوسٹ پر ہی گرفتار ہو جاتا ہے لیکن ہزاروں میل دور سے ہدایات لینے والا ایک ایجنٹ کیسے اطمینان سے اتنی منصوبہ بندی کرسکتا ہے، اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے؟ بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے بلوچستان میں “را” اب کسی بیرونی خفیہ ایجنسی کا نام نہیں بلکہ سوال کرنے والے لوگوں کی پہچان بن چکا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی سے کئی ایسے “را ایجنٹ” اسلامی قلعہ کے محافظوں کے ہاتھوں قلی کیمپ منتقل ہو چکے ہیں، اور وہاں سے مسخ شدہ لاش کی شکل میں کسی گلی یا ویران علاقے سے دریافت کیے جا چکے ہیں۔

 

ہماری روایت ہے کسی گھر میں کوئی واقعہ ہوجائے تو سارا محلہ اس کی دلجوئی کے لیے اکٹھا ہو جاتا ہے اور اس گھر میں آنے والے مہمانوں کے کھانے پینے کا بندوبست ہمسایے کرتے ہیں۔ کسی مقتول کے گھر ایسی باتیں نہیں کی جاتیں جن سے لواحقین کی دل آزاری ہو۔ لیکن چونکہ راحیل ہوں کہ نواز، ہمارے لئے دونوں شریف یکساں ہیں اس لئے ہمارے معاشرے کے روشن دماغوں پر حملہ کرکے اسے سی پیک پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ پشتونوں کو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ہمری ریاست کے لیے اس راہداری کی اہمیت ہماری جانوں سے زیادہ ہے۔ ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ایک پوری نسل بھلےموت کے منہ میں چلی جائے لیکن چین سے آنے والی یہ سڑک محفوظ رہنی چاہیئے۔ چیف آف “شریف” صاحب اسے کسی سڑک یا کاروباری کمپنی پر حملہ قرار دے سکتے ہیں، ان کے ساتھ یہ گردان دہرانے کے لیے کئی کاکڑ ، مالک اور سرفراز بگٹی بھی ان کی تان میں تان ملا سکتے ہیں لیکن جن خاندانوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں انہیں اس کے بدلے کچھ بھی دیا جائے وہ اپنے بچھڑے ہوؤں کو ہی روئیں گے۔

 

بلوچستان در حقیقت ایک جنگ زدہ خطہ ہے جہاں کے لوگ پاکستان سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں، لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ پر بلوچستان کے لوگوں کو یوں دکھایا جاتا ہے گویا اگر وہ کسی دن کے شدت سے منتظر ہیں تو وہ 23مارچ اور 14اگست ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی بلوچستان کے زمینی حقائق سے واقف ہے تو اسے پاکستان کے جھنڈے اور تقریبات صرف وہاں نظر آئیں گے جہاں نقاب پوش مسلح اہلکار موجود ہوں۔ کوئی شخص ایک دن میں ایک چیک پوسٹ سے جتنی مرتبہ بھی گزرے، اسے یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں گیا، کہاں جا رہا ہے، واپس کب آئے گا۔ ان چیک پوسٹوں پر تضحیک کے لیے گالیاں اور دھمکانے کے لئے ہتھیار بھی موجود ہوتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف عام لوگ روزانہ سی پیک کے محافظوں کے ہاتھوں تلاشی کے عمل سے گزرتے ہیں مگر دوسری طرف مذہبی شدت پسندوں کی ایک پوری فوج جس علاقے میں چاہے اپنا کیمپ قائم کرسکتی ہے۔ پاکستان کی نظر میں “را” کے نشانے پر موجود پسنی اور گوادر کے ساحل جیسے “حساس” علاقے میں بھی ملا میران اپنے گروہ کے ساتھ بلوچوں کو قتل کرکے غزوہ ہند شروع کرنے کی بات کرتے ہیں۔

 

کوئی شخص ایک دن میں ایک چیک پوسٹ سے جتنی مرتبہ بھی گزرے، اسے یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں گیا، کہاں جا رہا ہے، واپس کب آئے گا۔
پسنی کے ساحل میں لشکر خراسان کے امیر اپنے کئی مجاہدوں کے ساتھ سمندر میں مستیاں کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس حساس علاقے میں یا حساس ادارے جا سکتے ہیں، یا انہیں حساس اداروں کے لشکر خراسان جیسے مردم کُش اور بے حس ہرکارے۔ یہ لوگ ایک جانب گوادر میں سی پیک کا دفاع کرنے اور بلوچوں کو قتل کرنے میں فورسز کے ہم کار ہیں اور دوسری جانب بقول شریف اور زہری صاحب ایسے لوگ ہی سی پیک پر حملہ بھی کر رہے ہیں۔ اس سفید جھوٹ اور عجلت میں دیے گئے بیان کو فرض کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن پاکستانی تجزیہ کاروں نے اسی بیان کی بنیاد پر فتویٰ بازی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کی۔ اس بات کو بلوچستان میں بسنے والوں کا ذہن کبھی تسلیم نہیں کرسکتا کہ مذہبی شدت پسندوں اور پاکستانی فوج کے نکتہ نگاہ میں کہیں کوئی فرق موجود ہے۔خواہ وہ سی پیک کا معاملہ ہو، بلوچستان کی تحریک کو ختم کرنے کا معاملہ یا پھر افغانستان پر پھر قبضے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی لاحاصل کوشش۔۔۔۔ طالبان اور ہمارے عسکری اداروں کی سوچ ایک ہی ہے۔ اگر سادہ لفظوں اور آسان لفظوں میں کوئٹہ واقعے کو بیان کیا جائے تو یہ بلوچستان کے بلوچ اور افغانوں کے دماغ پر پاکستان کا حملہ تھا۔

 

ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان میں پاکستان کے شریفوں کو صرف سی پیک ہی نظر آتی ہے۔ ان کا تکیہ کلام ہی سی پیک بنا ہوا ہے۔اس سڑک کی تعمیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی اور کاروبار کی توسیع کے لئے استعمال کرنے کے لالچ میں پاکستانی فوج بلوچ سرزمین کو بلوچوں کے لہو سے ہی سرخ کر رہی ہے۔ بلوچستا ن میں جہاں جہاں سے اس سی پیک کو گزرنا ہے ان علاقوں میں تو اب کوئی بلوچ بھولے سے بھی نہیں جا سکتا۔پنجاب کی ممکنہ خوشحالی کی قیمت لاکھوں بلوچ خاندانوں نے نکل مکانی، قتل عام اور اغواء کی صورت میں پہلے سے ہی ادا کرنا شروع کر دی ہے۔ آواران سے لے کر گوادر تک سی پیک کے راستے میں کئی ایسے خاموش دیہات موجود ہیں جہاں یا جھلسے مکانات کے کھنڈرات بچے ہیں یا صرف قبرستان۔ میرے خاندان کا شماربھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سی پیک کے “تقدس” کا خیال کرتے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑ دئیے۔ کئی ایسے خاندان جو اس مقدس سی پیک کی حفاظت کی شرائط پر پورا نہ اتر سکے زندہ لاپتہ ہوکر مسخ چہروں کے ساتھ واپس آئے۔ کولواہ ایسے کئی مجرموں کا گواہ ہے جنہوں نے اپنے گھروں سے نکلنے میں دیر کرنے کی جرم کی اور سزا کے طور پر نشانِ عبرت بنا دئیے گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظتی دہشتگردی کے لاکھوں چشم دید گواہ کیسے “شریف” صاحب کی اس بات کا یقین کرسکتے ہیں کہ کوئٹہ میں ہونے والا حملہ سی پیک پر حملہ تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ کوئٹہ کا حملہ در اصل اُس کتاب پر حملہ تھا جو جائے واقعہ پر کسی عاشق کے خون سے سرخ و سفید ہوکر ایک خاموش پیغام دے رہی تھی۔

 

۔ آواران سے لے کر گوادر تک سی پیک کے راستے میں کئی ایسے خاموش دیہات موجود ہیں جہاں یا جھلسے مکانات کے کھنڈرات بچے ہیں یا صرف قبرستان۔
پاکستان آرمی کی نظر میں ہر کتابی مشکوک ہوتا ہے اور اگر یہ کوئی بلوچ نوجوان ہوتو اس کا قتل عین وطن پرستی ہے۔ اندرونِ بلوچستان سیکیورٹی چوکیوں پر ایسے لوگوں کی تفتیش کچھ زیادہ ہی کی جاتی ہے جنہوں نے جیب میں قلم یا ہاتھوں میں کتاب اٹھارکھی ہو۔ میرے والد صاحب مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو پڑھایا کہ آپ ہمارے لئے کچھ اچھا کرسکیں لیکن آپ کی وجہ سے ہم بے گھر ہو رہے ہیں (میری تعلیم بھی میٹرک تک ہے)۔ ظاہر ہے کوئٹہ کے وہ وکیل جو کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں مجھ سے کئی گنا زیادہ علم رکھتے ہیں۔ یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں عِلم رکھتے ہیں جہاں پورا معاشرہ قاتلوں کا علمبردار ہے۔انہیں اس معاشرے میں جینے کا کوئی حق نہیں۔

 

کتابوں کے عاشق ہی معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو قریب لاتے ہیں اور اعتماد اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کتابوں کے عاشق اگر وکیل ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق معاشرے کے تمام طبقات سے ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی بلوچستان میں وکیل ہو تو یقینی طور پر “را” کو ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس کی جانب سے اغواء کیے گئے کسی مغوی کے مقدمے کو یہی وکیل نہ لڑیں اس لئے کہیں سے کوئی خودکش بمبار خاردار تاروں، ریاستی خفیہ ایجنسیوں، ہزاروں چوکیوں اور چیک پوسٹوں سے بچتا بچاتا ایک وکیل کو قتل کرتا ہے۔ اور پھر یہی شخص اس انتظار میں دام بچھاتا ہے کہ باقی وکیل اس کی لاش لینے آئیں گے تو سب کو خود سمیت ہلاک، شہیداور جاں بحق کردے۔ بلوچستان میں “را” کی ایک اور کوشش یہ بھی ہے کہ جب کہیں سے کوئی شخص لاپتہ کیا جائے تو اس کے خلاف کسی تھانے میں ایف آر درج نہ کی جائے، کیوں کہ یہ سہولت صرف ان کے لئے ہے جو کبھی وجود رکھتے تھے بقول سرکار، لاپتہ لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں۔ اگر کہیں کسی نے غلطی یا مجبوری کے تحت کوئی ایف آر درج کرائی ہو تو ہر روز کوئی نہ کوئی “را” والا اس خاندان کے سربراہ کو شفیقانہ انداز میں مرنے اور لاپتہ ہونے کے لئے تیار رہنے یا ایف آئی آر واپس لینے میں سے کسی ایک کے انتخاب کی تجویز دیتا ہے۔

 

بلوچستان میں “را” کی ایک اور کوشش یہ بھی ہے کہ جب کہیں سے کوئی شخص لاپتہ کیا جائے تو اس کے خلاف کسی تھانے میں ایف آر درج نہ کی جائے
“را” نے جو کرنا تھا اس نے کیا۔ ایک پورے معاشرے کو ماتم پر بٹھانے کے بعد شریف صاحب فرما رہے تھے کہ کومبنگ آپریشن کیا جائے۔ یعنی کہ یہ ماتمی تھوڑے کم ہیں، اس موقع کو غنیمت جان کر سی پیک مخالفین کو ختم کیا جائے۔ اس سی پیک کے مخالفین بھی عجیب ہیں، مرتے رہتے ہیں لیکن مخالفت نہیں چھوڑتے، ان چرواہوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اپنے وطن سے زیادہ کسی دوسرے ملک کی سڑک کو اہمیت کیوں کر دی جاسکتی ہے۔ انہیں نہ لڑاکا طیارے سمجھانے میں کامیا ب ہوئے ہیں، نہ مسخ شدہ لاشیں اور نہ ہی طارق جمیل کا نظریہ جنت۔۔۔۔ اب جب کومبنگ آپریشن ہوگا تو ظاہر ہے اس کا رخ سی پیک کے مخالفین کی جانب ہوگا کیوں کہ کوئٹہ کا حملہ سی پیک پر جو تھا۔ ایک مرتبہ پھر اعلان کیا جارہا ہے کہ “را” کو سبق سکھایا جائے گا۔ بقول شخصے پاکستان تو ہمیشہ سے “را” کو ہی سبق سکھاتا آرہا ہے خود کچھ نہیں سیکھتا۔ بہرحال بلوچستان اس اعلان کے بعد منتظر ہے پہلے سے جاری آپریشن میں آنے والی شدت کا، لاپتہ افراد کے لواحقین بھی منتظر ہیں کہ کب کسی جعلی مقابلے میں ان کا سالوں سے لاپتہ لخت جگر مارا جائے۔لیکن اس لختِ جگر کو اب کون یہ سمجھائے کہ “را” سے تمہارا تعلق کسی دفتر میں جوڑ دیا گیا ہے، اب تمہاری قتل سے کسی فوجی کے رینک میں اضافہ ہوگا، حب الوطنی میں وہ اپنے جونیئرز سے ایک نمبر آگے ہوگا۔ ظاہر ہے اتنے بلند و بالا مرتبے کے لئے کسی خاندان کے پیارے کا چھن جانا کوئی “گھاٹے” کا سودا نہیں۔

 

کوئٹہ پر حملہ کتاب پر حملہ ہے
کوئٹہ پر حملہ کتاب پر حملہ ہے
مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں کوئی طالب علم ایک کتاب لے کر کسی چوکی سے نہیں گزر سکتا، ہر شخص اپنے گھر جاتے ہوئے دسیوں بار یہ سوال روزانہ سنتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو؟ ان سب کے باوجود اس شہر میں ایک منصوبہ بند قتل کیسے کامیا بی سے سرانجام پا سکتا ہے؟جواب نہایت سادہ ہے، یہ ریاست کی جانب سے بلوچ اور افغان معاشرے کی دماغ پر حملہ ہے۔ یہ اِن معاشروں کے مستقبل پر ضربِ کاری کی کوشش ہے۔ بزرگ بلوچ کا یہ مقولہ بالکل سچ ثابت ہورہا ہے کہ “غلامی کے خلاف جتنی دیر سے اُٹھو گے، اتنی زیادہ نقصان اُٹھاؤ گے”۔
Categories
نقطۂ نظر

بے اعتمادی کی فضاء کیسے ختم کی جائے؟

کوئی گھر ہو کاروبار یا ریاست سبھی ادارے اعتماد کے سہارے ہی چلتے ہیں، وہاں بسنے والے اور کام کرنے والے ایک دوسرے پر اعتمادکے سہارے ہی اپنی زندگیاں آگے بڑھاتے ہیں، اپنے رشتوں کی دیواریں اعتماد اور بھروسے کے مضبوط بنیادوں پر اُسارتے ہیں۔ یہی حال دوستی کے پاکیزہ رشتے کا ہے جو اعتماد کی سیڑھیوں پر قدم رکھ کر پختگی کی جانب گامزن رہتا ہے۔ یہی وہ اعتماد ہے جو شک کی گنجائش ختم کر کے ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے پر مائل رکھتا ہے۔ اعتماد اور بھروسے کی فضاء میں سانس لینے والے لوگ ہوں، معاشرے ہوں یا ریاستیں، وہ اس رشتے کو نبھانے کے لیے خواہشات اور خودغرضی کو بالائے طاق رکھ کر خیرخواہی اور خیرسگالی کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن جب اسی رواداری کو پامال کیا جاتا ہے تو بے اعتمادی کی فضاء اس قدر زہرآلود ہو جاتی ہے کہ یہی دوست، یہی رفیق، یہی شہری اور یہی وفاقی اکائیاں ایک دوسرے کی جان لینے پر تل جاتے ہیں۔ شاید اعتماد نام ہی ایسی چیز کا ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس کے کھو دینے کے بعد ہوتا ہے۔ ایک فرد کا دوسرے فرد پر یا ایک شہری کا دوسرے شہری پر یا ایک صوبے کا دوسرے صوبے پر سے اعتماد ختم ہو جائے تو ہر معاملہ، ہر معاہدہ اور ہر منصوبہ شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ بے اعتمادی ایک ایسا دشمن ہے جس کا وار دونوں فریقوں کو زخم دیتا ہے، جس سے لگنے والی چوٹ گہری اور کاری ہوتی ہے، ان زخموں کے بھرنے میں وقت لگتا، بھر بھی جائیں تو نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں جو ماضی کی تلخ یاد بن کر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

 

اقتصادی راہداری کا آغاز ہی عدم اعتماد کی فضا میں ہو رہا ہے، جہاں پنجاب کے سوا تینوں صوبے اور گلگت بلتستان اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک وفاق کی ڈوری میں بندھے صوبوں کا بھی یہی حال ہے، ماضی کی بے اعتمادیوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ آگے کی راہ سمجھائی نہیں دے رہی۔ اقتصادی راہداری کا آغاز ہی عدم اعتماد کی فضا میں ہو رہا ہے، جہاں پنجاب کے سوا تینوں صوبے اور گلگت بلتستان اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کے لیے وفاقی اداروں سے وابستہ افراد اور وفاقی وزراء بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دورے کر رہے ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود چھوٹے صوبوں کے شہریوں اور قیادت کے خدشات اور تحفظات دور نہیں کیے جا سکے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے منعقد کی جانے والی کل جماعتی کانفرنس جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے،چھوٹے صوبوں میں پائے جانے والی بے اعتمادی کا واضح ثبوت ہے جو اس منصوبے سے متعلق ابہام پیدا کر رہی ہے۔ اس بداعتمادی کی ذمہ داری وفاق کے غیر واضح موقف اور ماضی کے اس غیر جمہوری رویے پر عائد ہوتی ہو جو اس سے قبل بھی قومی اہمیت کے منصوبوں کو متنازع بنا چکے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کی ناراضی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اب وفاق کی یقین دہانیوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں رہا۔ اب کی بار وہ اس خوش گمانی پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں کہ اس اقتصادی راہداری اور اس سے منسلک منصوبوں کے تعین کے دوران پسماندہ طبقات کی خوشحالی کا خیال رکھا جائے گا اور ماضی میں روا رکھے گئے رویے سے پیدا ہونے والے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وفاق سابقہ غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کرتا، لیکن اس مرتبہ پھر نہ تو پسماندہ طبقات کے احساس محرومی کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا گیا، بلکہ مقامی افراد کے احساس محرومی میں اضافے کے نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

 

اس بداعتمادی کی ذمہ داری وفاق کے غیر واضح موقف اور ماضی کے اس غیر جمہوری رویے پر عائد ہوتی ہو جو اس سے قبل بھی قومی اہمیت کے منصوبوں کو متنازع بنا چکے ہیں۔
گزشتہ روزبلوچستان اسمبلی میں اجلاس کے دوران یہ بات زیر غور آئی کہ وفاقی اداروں اور کارپوریشنوں میں مختص کوٹے پر علمدرآمد نہیں کیا جاتا اس معاملے پر پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں تعینات ملازمین کی فہرست دکھائی گئی جن کی اکثریت کا تعلق دیگر صوبوں سے تھا۔ صوبائی وزیر برائے سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریٹیو ڈیپارٹمنٹ نے ایوان کو بتایا کہ یہ وہ آسامیاں ہیں جن پر تعیناتیاں سابقہ ادوار میں کی گئی تھیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے وفاق کو لکھا جائے اور سابقہ غفلتوں کی تحقیقات کی جانی چاہیئں۔ اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ دوسری جانب نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن اسمبلی شمع اسحاق نے اس حوالے سے ایک تمثیل پیش کی؛ دو بھائی جن کے مرحوم باپ نے وراثت میں ان کے لیے ایک کمبل، ایک کجھور کا درخت اور گائے چھوڑی تھی۔ بڑے نے فیصلہ سنا دیا کہ کمبل دن کو چھوٹے بھائی کی تحویل میں رہے گا اور رات کو بڑے کی، کجھور کے درخت کا اوپری حصہ بڑے بھائی کا تو نچلا حصہ چھوٹے کا جبکہ گائے کا اگلا حصہ چھوٹے کا تو پچھلا حصہ بڑے بھائی کا ہو گا۔ کئی مہینے تک چھوٹا بھائی اس تقسیم پر عمل کرتا رہا بالآخر چھوٹے بھائی کو جب اس عیاری کی سمجھ آئی تو اس نے اپنا حق حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، پہلے اس نے گائے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو بڑا بھائی اسے دودھ میں شراکت دار بنانے پر آمادہ ہوا۔ اسی طرح کمبل کو دن کے وقت پانی میں بھگونے کی وجہ سے رات کو بڑا بھائی کمبل سے محروم رہا تب وہ اکٹھے کمبل استعمال کرنے پر راضی ہو گئے، چھوٹے بھائی نے کجھور کا تنا کاٹنے کی ٹھانی تو بڑے بھائی نے اسے کجھور کے فصل میں برابر کا حصہ دار قرار دے کر معاملہ طے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ چھوٹا صوبہ ہمیشہ راضی رہنے کا طرز عمل اپنائے رکھے ہم بھی چھوٹے بھائی کی طرح اپنا حصہ مانگنے پر مجبور ہیں۔ وفاق کو اس معاملے پر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

 

اس منصوبے میں شامل صنعتی علاقوں میں سے بلوچستان کو اس کا منصفانہ حصہ دیا جانا چاہیئے اور اس بات کا تعین کیا جانا چاہیئے کہ مستقبل میں کتنے بلوچ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے مسفید ہو سکیں گے۔
بلوچستان میں احساس محرومی موجود ہے۔ اسی محرومی کا نتیجہ کئی مسلح بغاوتوں کی شکل میں سامنے آیا ہے اب یہ احساس محرومی بے اعتمادی کی ایسی دبیر دھند کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے اس پار کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی دوست بانہیں پھیلائے چلا آ رہا ہے یا کوئی دشمن تلوار سونتے۔ بلوچوں کے پاس وفاق پر بھروسہ نہ کرنے کی بہت سی وجوہ ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات کو دوسرے صوبوں پر خرچ ہوتا ہوا دیکھ کر یہاں کا باسی احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے، اخبارات میں سرکاری اسامیوں کے اشتہارات میں بلوچستان کا نام نہ دیکھ کر نوجوانوں میں مایوسی پھیلتی ہے، شاہراہوں سے محروم بلوچستان کے علاقے دیگر صوبوں میں سڑکوں کی فراوانی سے اپنے آپ کو نظرانداز شدہ محسوس کرتے ہیں، تعلیمی اداروں تک رسائی نہ ہونا اور بلوچستان میں معیاری تعلیمی اداروں سے محرومی یہاں کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود کر دیتی ہے، یہاں کے لوگ اور معاشرہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔

 

جناب سعد رفیق نے اے پی سی میں سوئی کو نظرانداز کرتے ہوئے پہلے پنجاب کو گیس کی فراہمی کو ناانصافی قرار دیا اور کھلے دل سے اس غلطی کا اعتراف کیا۔ جب غلطیاں ہو جاتی ہیں تو انہیں تسلیم کرنا اور پھر ان کا تدارک ضروری ہوتا ہے۔ وفاق اور اقتصادی راہداری منصوبے پر بلوچستان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر فراہم کر کے انہیں وفاق کے زیرانتظام شعبوں میں ملازمتیں دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کے لیے بلوچستان کے نوجوانوں کو تیار کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں شامل صنعتی علاقوں میں سے بلوچستان کو اس کا منصفانہ حصہ دیا جانا چاہیئے اور اس بات کا تعین کیا جانا چاہیئے کہ مستقبل میں کتنے بلوچ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے مسفید ہو سکیں گے۔ ان مواقع کے حساب سے مقامی نوجوانوں کو باصلاحیت اور ہنرمند بنانا ضروری ہے۔ بلوچستان میں عائد تعلیمی ایمرجنسی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرکے یہاں تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ گوادر کی بندرگاہ پر کام کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں کو مختلف ہنر اور پیشہ ورانہ ڈگریاں دینے کے لیے ادارے قائم کرنا ہوں گے۔ یہاں کی محرومیاں دور کرنے کے لیے اگر فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تو اعتماد کی فضاء بحال ہو سکتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

نندی پور پاور پراجیکٹ اور کرپشن

چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اقتصادی راہداری سمیت 51معاہدوں پر دستخط ہوئے اور پاک چین تجارتی حجم 20ارب ڈالر تک لانے پراتفاق کیا گیا ہے۔ پاکستان کو بجلی کے بحران سے نکالنے کے لیے بھی معاہدے کیے گئے جن سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکے گا۔ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں اور بڑھتے ہوئے تعلقات کو پسند نہیں کرتے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ لیکن پاک چین تعلقات کودشمن ممالک سے زیادہ پاکستانی حکمرانوں اور چینی کمپنیوں کی کرپشن سے خطرہ ہے، اس ضمن میں دو مثالیں دی جاسکتی ہیں ، پہلی 69 ناکارہ ریلوے انجنوں کی اور دوسری مثال نندی پور پاورپراجیکٹ کی ہے۔
پاک چین تعلقات کودشمن ممالک سے زیادہ پاکستانی حکمرانوں اورچینی کمپنیوں کی کرپشن سے خطرہ ہے، اس ضمن میں دو مثالیں دی جاسکتی ہیں ، پہلی 69 ناکارہ ریلوے انجنوں کی اوردوسری مثال نندی پور پاورپراجیکٹ کی ہے
جنرل پرویزمشرف کے دور میں چینی کمپنی ڈانگ فینگ سے 2001ء میں 69 ریل انجن خریدے گئے لیکن کمپنی انجنوں کی ضروری دیکھ بھال اور نگرانی میں ناکام رہی۔ ڈانگ فینگ کمپنی کا ٹرانسپورٹیشن ونگ میں کمپنی کے ٹھیکوں کا ریکارڈ انتہائی خراب ہے۔ 69 ریل انجنوں کے ناکارہ ہونے کے باوجود پانچ جون 2008ء کو پیپلزپارٹی حکومت نے اسی چینی کمپنی کو مزید 75 انجنوں کا آرڈر دے دیا اور تقریباً 3 ارب روپے ادا بھی کر دیئے گئے اگر سودا طے پا جاتا تو پاکستان کو 22 ارب روپیہ ادا کرنا پڑتا، ان 75 انجنوں کی درآمد روکنے کے لیے 10 کروڑ روپیہ ڈوب گیا ۔ نواز شریف حکومت نے چینی کمپنی ڈانگ فینگ کو بلیک لسٹ کردیا، چینی کمپنی نے بلیک لسٹ کیے جانے کے حکومتی فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ کیس کی سماعت کے دوران چینی کمپنی کے وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈانگ فینگ کمپنی نے ملکی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بڑے منصوبوں جیسے غازی بروتھا ڈیم ، نندی پورپاور پراجیکٹ ، چیچو کی ملیاں پاور پراجیکٹ اور پاک چین ریل لنک فزیبلٹی میں شرکت کی ہے۔اب بھی پاکستان ریلو ے ریل انجنوں کی کرپشن میں پھنسی ہوئی ہے، ڈانگ فینگ کمپنی پر پابندی لگائی گئی تو ایک اور چینی کمپنی کو 58ریل انجنوں کی فراہمی کا حکم دےدیا گیا جس نے امریکی ساختہ انجن فراہم کیے ہیں جو پاکستانی ٹریک پر چلانے کے لیے موزوں نہیں۔ بدعنوانی اور ناقص مصنوعات فراہم کرنے کے الزامات کے بعدچینی کمپنی ڈانگ فینگ کو بلیک لسٹ کرنے کا معاملہ پاکستان اور چین کے درمیان متنازع ترین امور میں شامل ہے جس کی گونج وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین کے دوران بھی سنائی دی تھی۔
پیپلز پارٹی کے حکومت میں آنے کے بعد 2008ء میں نندی پور توانائی منصوبےکا ٹھیکہ بھی چین کی ڈانگ فینگ الیکٹرک کارپوریشن کو دےدیا گیا۔ یہ منصوبہ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں مکمل نہ ہو سکا۔نواز شریف حکومت نے جب اس منصوبے پر کام شروع کیا تو نندی پور پاور پروجیکٹ کی مشینری تین سال سے کراچی پورٹ ٹرسٹ پر پڑی ہوئی تھی۔ منصوبے کے مینجنگ ڈائریکٹرکے مطابق اتنا عرصہ پڑے رہنے کی وجہ سے مشینری زنگ آلود ہو چکی ہے۔ اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے مرمت کی جائےگی جس پر 50ملین ڈالر لاگت آنے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ جو 22 ارب روپے سے شروع ہوا تھا81 ارب روپے کی لاگت تک جا پہنچا ہے۔ حکمرانوں کی غفلت اور بدانتظامی، اور چینی کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے پاکستانی قوم کا اتنا بڑا نقصان ہوا۔ سینیٹ کی کمیٹی برائے پانی و بجلی کو بتایا گیا تھا کہ 425 میگا واٹ کا نندی پور توانائی منصوبہ30 جون تک مکمل ہو جائے گا۔
بدعنوانی اور ناقص مصنوعات فراہم کرنے کے الزامات کے بعدچینی کمپنی ڈانگ فینگ کو بلیک لسٹ کرنے کا معاملہ پاکستان اور چین کے درمیان متنازع ترین امور میں شامل ہے جس کی گونج وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین کے دوران بھی سنائی دی تھی
شہباز شریف کی نہ سمجھ میں آنے والی پھرتیوں کی وجہ سے نندی پور پاور پراجیکٹ کا افتتاح وزیراعظم نواز شریف نے 31 مئی کو کیا اور صرف پانچ روز فعال رہنے کے بعد تکنیکی مسائل کی بناءپر اسے بند کر دیا گیا۔ پچانوے میگاواٹ کی پہلی ٹربائن ڈیزل پر چلائی گئی تھی۔ اس پرانی اور متروک مشینری پر فی یونٹ تیس روپے کے قریب خرچ آرہا تھا لہٰذا یہ ٹربائن بند کردی گئی۔ اپنی نااہلی اور بدعنوانی چھپانے کےلیے فوری طورپر منصوبے کے ایک یونٹ کو کمشننگ کے بغیر چلا کر “پیداوار” کا افتتاح کردیا گیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعظم کی تشہیر کے لیے کروڑوں کے اشتہارات چلائے گئے۔ صرف پانچ روز بعد پراجیکٹ ڈائریکٹر کے اعلان کے ذریعے اس یونٹ کو بھی بند کردیا گیا کہ یہ پیداوار باقاعدہ نہیں محض “آزمائشی” تھی۔ گزشتہ ہفتے جیو نیوزچینل پر شاہزیب خانزادہ نے بھی نندی پور پاور پراجیکٹ پر حکومت کی نااہلی اور کرپشن کو بےنقاب کیا ہے۔ پروگرام میں حکومت کی صفائی دینے کےلیے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف بھی اس پروگرام میں آئے لیکن وہ بھی اینکر کے سوالوں کے جواب نہ دے سکے۔ ایک معاشی تجزیہ کار نے اسی ٹی وی پروگرام میں چیچو کی ملیاں پراجیکٹ، بہاول پور شمسی بجلی پروگرام اور نیلم جہلم پراجیکٹ میں نامناسب منصوبہ بندی اور بدانتظامی کی نشان دہی کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور میں “توانائی” کا لفظ 42 مرتبہ استعمال کیا گیا اور یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ توانائی کی قیمت میں کمی لائی جائے گی لیکن اس کے برعکس قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا
اس سال ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق سی پی آئی کے اسکور کارڈ پر پاکستان کے 100 میں سے 29 پوائنٹس جبکہ 175 ملکوں میں اس کادرجہ 126 ہے۔ جبکہ گزشتہ سال پاکستان کا 177 ملکوں میں 127واں نمبر جبکہ اس کے28 پوائنٹس تھے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ پاکستان سے کرپشن کی لعنت صرف ایک درجہ کم ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی ۔ یہ کہہ دینا کہ موجودہ نواز شریف حکومت میں کرپشن نہیں ہوئی ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ میں امید ظاہر کی تھی کہ اسلام آباد کرپشن کی لعنت ختم کرنے کے لئے زیادہ بھرپور طریقے سے کام کرے گا۔ دوسری طرف چین کی جانب سے ملک میں انسداد بدعنوانی کی مہم چلائے جانے کے باوجود اس کا سکور 40 سے گر کر 36 پر پوائنٹس پہنچ گیا ہے۔ گویا پاکستان اور چین میں کرپشن کے اسکور کارڈ پر صرف 7 پوائنٹس کا فرق رہ گیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے 69 ریل انجنوں کی کرپشن کی طرح نندی پور پاور پراجیکٹ بھی کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے۔
کرپشن کا کینسر ملک کے ہر شعبے میں موجود ہے اور جب تک اس کا سختی سے علاج نہیں ہوتا اقتصادی اور معاشی شعبے میں ترقی اور عام لوگوں کے حالات میں بہتری ناممکن ہے۔ کافی شور مچنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے 425 میگا واٹ کے نندی پور پاور پراجیکٹ کی پڑتال کا حکم دیا ہے جس کے بعد وزارت پانی وبجلی نے وزیراعظم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل کو نندی پور پاور پروجیکٹ کا آڈٹ کرنے کے لیے باضابطہ خط لکھا دیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پرتین زمروں میں پڑتال کی جائے گی جس میں بتایا جائے گا کہ اس منصوبے کی لاگت کیا تھی اور اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی جب کہ منصوبے کی لاگت میں اضافے کی وجوہ بھی بیان کی جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور میں “توانائی” کا لفظ 42 مرتبہ استعمال کیا گیا اور یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ توانائی کی قیمت میں کمی لائی جائے گی لیکن اس کے برعکس قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے معاشی ترقی کےدعووں کے برعکس 27 ماہ میں اس حکومت نے نہ تو کشکول توڑا اور نہ ہی لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی آئی ہے، خوشحالی اور ترقی کے نام نہاد دعوے کرنے والی اس حکومت نے اب تک صرف عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔