Categories
نقطۂ نظر

بے اعتمادی کی فضاء کیسے ختم کی جائے؟

کوئی گھر ہو کاروبار یا ریاست سبھی ادارے اعتماد کے سہارے ہی چلتے ہیں، وہاں بسنے والے اور کام کرنے والے ایک دوسرے پر اعتمادکے سہارے ہی اپنی زندگیاں آگے بڑھاتے ہیں، اپنے رشتوں کی دیواریں اعتماد اور بھروسے کے مضبوط بنیادوں پر اُسارتے ہیں۔ یہی حال دوستی کے پاکیزہ رشتے کا ہے جو اعتماد کی سیڑھیوں پر قدم رکھ کر پختگی کی جانب گامزن رہتا ہے۔ یہی وہ اعتماد ہے جو شک کی گنجائش ختم کر کے ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے پر مائل رکھتا ہے۔ اعتماد اور بھروسے کی فضاء میں سانس لینے والے لوگ ہوں، معاشرے ہوں یا ریاستیں، وہ اس رشتے کو نبھانے کے لیے خواہشات اور خودغرضی کو بالائے طاق رکھ کر خیرخواہی اور خیرسگالی کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن جب اسی رواداری کو پامال کیا جاتا ہے تو بے اعتمادی کی فضاء اس قدر زہرآلود ہو جاتی ہے کہ یہی دوست، یہی رفیق، یہی شہری اور یہی وفاقی اکائیاں ایک دوسرے کی جان لینے پر تل جاتے ہیں۔ شاید اعتماد نام ہی ایسی چیز کا ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس کے کھو دینے کے بعد ہوتا ہے۔ ایک فرد کا دوسرے فرد پر یا ایک شہری کا دوسرے شہری پر یا ایک صوبے کا دوسرے صوبے پر سے اعتماد ختم ہو جائے تو ہر معاملہ، ہر معاہدہ اور ہر منصوبہ شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ بے اعتمادی ایک ایسا دشمن ہے جس کا وار دونوں فریقوں کو زخم دیتا ہے، جس سے لگنے والی چوٹ گہری اور کاری ہوتی ہے، ان زخموں کے بھرنے میں وقت لگتا، بھر بھی جائیں تو نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں جو ماضی کی تلخ یاد بن کر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

 

اقتصادی راہداری کا آغاز ہی عدم اعتماد کی فضا میں ہو رہا ہے، جہاں پنجاب کے سوا تینوں صوبے اور گلگت بلتستان اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک وفاق کی ڈوری میں بندھے صوبوں کا بھی یہی حال ہے، ماضی کی بے اعتمادیوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ آگے کی راہ سمجھائی نہیں دے رہی۔ اقتصادی راہداری کا آغاز ہی عدم اعتماد کی فضا میں ہو رہا ہے، جہاں پنجاب کے سوا تینوں صوبے اور گلگت بلتستان اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کے لیے وفاقی اداروں سے وابستہ افراد اور وفاقی وزراء بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دورے کر رہے ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود چھوٹے صوبوں کے شہریوں اور قیادت کے خدشات اور تحفظات دور نہیں کیے جا سکے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے منعقد کی جانے والی کل جماعتی کانفرنس جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے،چھوٹے صوبوں میں پائے جانے والی بے اعتمادی کا واضح ثبوت ہے جو اس منصوبے سے متعلق ابہام پیدا کر رہی ہے۔ اس بداعتمادی کی ذمہ داری وفاق کے غیر واضح موقف اور ماضی کے اس غیر جمہوری رویے پر عائد ہوتی ہو جو اس سے قبل بھی قومی اہمیت کے منصوبوں کو متنازع بنا چکے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کی ناراضی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اب وفاق کی یقین دہانیوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں رہا۔ اب کی بار وہ اس خوش گمانی پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں کہ اس اقتصادی راہداری اور اس سے منسلک منصوبوں کے تعین کے دوران پسماندہ طبقات کی خوشحالی کا خیال رکھا جائے گا اور ماضی میں روا رکھے گئے رویے سے پیدا ہونے والے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وفاق سابقہ غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کرتا، لیکن اس مرتبہ پھر نہ تو پسماندہ طبقات کے احساس محرومی کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا گیا، بلکہ مقامی افراد کے احساس محرومی میں اضافے کے نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

 

اس بداعتمادی کی ذمہ داری وفاق کے غیر واضح موقف اور ماضی کے اس غیر جمہوری رویے پر عائد ہوتی ہو جو اس سے قبل بھی قومی اہمیت کے منصوبوں کو متنازع بنا چکے ہیں۔
گزشتہ روزبلوچستان اسمبلی میں اجلاس کے دوران یہ بات زیر غور آئی کہ وفاقی اداروں اور کارپوریشنوں میں مختص کوٹے پر علمدرآمد نہیں کیا جاتا اس معاملے پر پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں تعینات ملازمین کی فہرست دکھائی گئی جن کی اکثریت کا تعلق دیگر صوبوں سے تھا۔ صوبائی وزیر برائے سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریٹیو ڈیپارٹمنٹ نے ایوان کو بتایا کہ یہ وہ آسامیاں ہیں جن پر تعیناتیاں سابقہ ادوار میں کی گئی تھیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے وفاق کو لکھا جائے اور سابقہ غفلتوں کی تحقیقات کی جانی چاہیئں۔ اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ دوسری جانب نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن اسمبلی شمع اسحاق نے اس حوالے سے ایک تمثیل پیش کی؛ دو بھائی جن کے مرحوم باپ نے وراثت میں ان کے لیے ایک کمبل، ایک کجھور کا درخت اور گائے چھوڑی تھی۔ بڑے نے فیصلہ سنا دیا کہ کمبل دن کو چھوٹے بھائی کی تحویل میں رہے گا اور رات کو بڑے کی، کجھور کے درخت کا اوپری حصہ بڑے بھائی کا تو نچلا حصہ چھوٹے کا جبکہ گائے کا اگلا حصہ چھوٹے کا تو پچھلا حصہ بڑے بھائی کا ہو گا۔ کئی مہینے تک چھوٹا بھائی اس تقسیم پر عمل کرتا رہا بالآخر چھوٹے بھائی کو جب اس عیاری کی سمجھ آئی تو اس نے اپنا حق حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، پہلے اس نے گائے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو بڑا بھائی اسے دودھ میں شراکت دار بنانے پر آمادہ ہوا۔ اسی طرح کمبل کو دن کے وقت پانی میں بھگونے کی وجہ سے رات کو بڑا بھائی کمبل سے محروم رہا تب وہ اکٹھے کمبل استعمال کرنے پر راضی ہو گئے، چھوٹے بھائی نے کجھور کا تنا کاٹنے کی ٹھانی تو بڑے بھائی نے اسے کجھور کے فصل میں برابر کا حصہ دار قرار دے کر معاملہ طے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ چھوٹا صوبہ ہمیشہ راضی رہنے کا طرز عمل اپنائے رکھے ہم بھی چھوٹے بھائی کی طرح اپنا حصہ مانگنے پر مجبور ہیں۔ وفاق کو اس معاملے پر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

 

اس منصوبے میں شامل صنعتی علاقوں میں سے بلوچستان کو اس کا منصفانہ حصہ دیا جانا چاہیئے اور اس بات کا تعین کیا جانا چاہیئے کہ مستقبل میں کتنے بلوچ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے مسفید ہو سکیں گے۔
بلوچستان میں احساس محرومی موجود ہے۔ اسی محرومی کا نتیجہ کئی مسلح بغاوتوں کی شکل میں سامنے آیا ہے اب یہ احساس محرومی بے اعتمادی کی ایسی دبیر دھند کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے اس پار کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی دوست بانہیں پھیلائے چلا آ رہا ہے یا کوئی دشمن تلوار سونتے۔ بلوچوں کے پاس وفاق پر بھروسہ نہ کرنے کی بہت سی وجوہ ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات کو دوسرے صوبوں پر خرچ ہوتا ہوا دیکھ کر یہاں کا باسی احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے، اخبارات میں سرکاری اسامیوں کے اشتہارات میں بلوچستان کا نام نہ دیکھ کر نوجوانوں میں مایوسی پھیلتی ہے، شاہراہوں سے محروم بلوچستان کے علاقے دیگر صوبوں میں سڑکوں کی فراوانی سے اپنے آپ کو نظرانداز شدہ محسوس کرتے ہیں، تعلیمی اداروں تک رسائی نہ ہونا اور بلوچستان میں معیاری تعلیمی اداروں سے محرومی یہاں کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود کر دیتی ہے، یہاں کے لوگ اور معاشرہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔

 

جناب سعد رفیق نے اے پی سی میں سوئی کو نظرانداز کرتے ہوئے پہلے پنجاب کو گیس کی فراہمی کو ناانصافی قرار دیا اور کھلے دل سے اس غلطی کا اعتراف کیا۔ جب غلطیاں ہو جاتی ہیں تو انہیں تسلیم کرنا اور پھر ان کا تدارک ضروری ہوتا ہے۔ وفاق اور اقتصادی راہداری منصوبے پر بلوچستان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر فراہم کر کے انہیں وفاق کے زیرانتظام شعبوں میں ملازمتیں دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کے لیے بلوچستان کے نوجوانوں کو تیار کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں شامل صنعتی علاقوں میں سے بلوچستان کو اس کا منصفانہ حصہ دیا جانا چاہیئے اور اس بات کا تعین کیا جانا چاہیئے کہ مستقبل میں کتنے بلوچ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے مسفید ہو سکیں گے۔ ان مواقع کے حساب سے مقامی نوجوانوں کو باصلاحیت اور ہنرمند بنانا ضروری ہے۔ بلوچستان میں عائد تعلیمی ایمرجنسی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرکے یہاں تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ گوادر کی بندرگاہ پر کام کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں کو مختلف ہنر اور پیشہ ورانہ ڈگریاں دینے کے لیے ادارے قائم کرنا ہوں گے۔ یہاں کی محرومیاں دور کرنے کے لیے اگر فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تو اعتماد کی فضاء بحال ہو سکتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

اقتصادی راہداری؛ بلوچستان کو دھوکہ مت دیجیے

پاک چین اقتصادی راہداری حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رویے کی وجہ سے نزاع کا شکار ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا 46 ارب ڈالر کی اس تقدیر ساز سرمایہ کاری کے فوائد سے محرومی کا الزام مسلم لیگ (ن) کو دیتے ہیں۔ دونوں مغربی صوبوں کے حقیقی مسائل اور زبوں حالی پر توجہ دینے کی بجائے مسلم لیگ (ن) نے مکر و فریب کے اسی سلسلے کو جاری رکھنے کی ٹھانی ہے جو دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی حکمران جماعت کا وطیرہ رہا ہے۔

 

مسلم لیگ (ن) کا دفاع کرنے والے یہ دلائل دیتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے فنڈنگ کا ذریعہ کچھ بھی ہو فائدہ تو بلوچستان کو ہی پہنچنا ہے۔ لیکن یہ دلائل اقتصادی راہداری منصوبے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے عدم واقفیت کی وجہ سے دیئے جا رہے ہیں۔
پچھلے بدھ کو وزیراعظم نواز شریف نے اقتصادی راہداری کے مغربی راستے کے افتتاح کے لیے ژوب کا دورہ کیا۔ جس میں عوامی نیشنل پارٹی، پختونخوا میپ، جمعیت علماء اسلام اور نیشنل پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے 2 منصوبوں کا افتتاح کیا؛ ایک تو شاہراہ N-50 ژوب تا مغل کوٹ کے 81 کلو میٹر حصے کا اور دوسرا شاہراہ N-70قلعہ کے سیف اللہ تا ویگم 128 کلومیٹر طویل حصے کا۔ ان دونوں منصوبوں کی لاگت بالترتیب 9 ارب اور 8 ارب روپے ہے۔

 

پہلے پہل تو وزیر اعظم کے اس عمل کی بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی قیادت نے خوب ستائش کی اور اسے مغربی صوبوں کے حقیقی مسائل کا حل اور ناراضی دور کرنے کا قدم قرار دیا۔ لیکن یہ حمدوثناء اگلے ہی دن بالکل الٹ صورت اختیار کر گیا جب اس معاملے کو سوشل میڈیا نے اچھالا۔

 

مذکورہ منصوبوں کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ ان کی فنڈنگ ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB)کے ذریعے ہوگی نہ کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت۔ مئی 2015 میں حکومت پاکستان نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بلوچستان کی اہم سڑکوں اور شاہراہوں کی بحالی، مرمت اور بہتری کا کام کیا جائے گا۔ معاہدے کی تفصیلات کے مطابق ایشین ڈویلپمنٹ بینک 19.7ملین ڈالر ژوب تا مغل کوٹ اور قلعہ سیف اللہ تا ویگم شاہراہوں کے لیے دے گا۔ مختصراً وزیر اعظم صاحب نے عوام اور سیاسی قائدین کو دھوکہ دیا۔

 

مسلم لیگ (ن) کا دفاع کرنے والے یہ دلائل دیتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے فنڈنگ کا ذریعہ کچھ بھی ہو فائدہ تو بلوچستان کو ہی پہنچنا ہے۔ لیکن یہ دلائل اقتصادی راہداری منصوبے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے عدم واقفیت کی وجہ سے دیئے جا رہے ہیں۔ دراصل اس طرح کے دلائل مکمل طور پر غلط اور بے تکے ہیں۔ اقتصادی راہداری بنے یا نہ بنے، بلوچستان کو ایشین ڈولپمنٹ بینک (ADB) کے جاری کردی فنڈز ملنے ہی تھے، لیکن بلوچستان کی شاہراہوں پر ایشین ڈولپمنٹ بینک (ADB)کے فنڈز اقتصادی راہداری کے نام پر لگانا صریح دھوکہ دہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) بلوچستان کو اقتصادی راہداری کے ترقیاتی کاموں، فوائد اور سرمایہ کاری سے محروم رکھتے ہوئے پنجاب سے گزرنے والے راستے کو مرکزی راستہ بنانے پر کاربند ہے۔

 

مرکز نے اقتصادی راہداری کے معاملے پر تاحال وضاحت سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ منصوبے کے بہت سے پہلووں پر ابہام ہے کیونکہ ان پہلوؤں پر سرکاری طور پر تصدیق شدہ معلومات میسر نہیں ہیں۔ ان معلومات کو دانستہ طور پر چھپا کے رکھا گیا ہے تا کہ پنجاب کے مفاد میں تبدیلیاں کی جاسکیں۔
بظاہر بلوچستان کے تمام سیاسی قائدین اس بات سے بے خبر ہیں کہ وزیر اعظم یا ان کے رفقاء نے تقریب کے دوران ان کودھوکہ دیا ہے۔ اس بات کی توثیق کے لیے نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ کا بیان ہے کہ مغربی راستے پر کام کی ابتدا سے اقتصادی راہداری پر تنازع ختم ہونا چاہیئے۔ اس بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نواب صاحب کو یہ علم نہیں کہ اقتصادی راہداری منصوبہ صرف ایک راستہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی توانائی اور صنعتی منصوبوں کی تعمیر بھی اس سرمایہ کاری میں شاملہے۔ لیکن تاحال بلوچستان میں ایسے کسی منصوبے کے قیام کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کے افتتاح کیے ہوئے منصوبوں کا اقتصادی راہداری سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 

بلوچستان کی سیاسی قیادت کی اس لاعلمی کی دو وجوہ ہیں: اول یہ کہ مرکز نے اقتصادی راہداری کے معاملے پر تاحال وضاحت سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ منصوبے کے بہت سے پہلووں پر ابہام ہے کیونکہ ان پہلوؤں پر سرکاری طور پر تصدیق شدہ معلومات میسر نہیں ہیں۔ ان معلومات کو دانستہ طور پر چھپا کے رکھا گیا ہے تا کہ منصوبے میں پنجاب کے مفاد میں تبدیلیاں کی جاسکیں۔ دوسرا یہ کہ سرسری معلومات کے علاوہ بلوچ قیادت کی اکثریت کو اقتصادی راہداری کی سمجھ بوجھ نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی حضرات تیکنیکی تفصیلات جاننے کی رحمت فرماتے ہیں۔ نتیجتاً وفاقی حکومت اپنے سیاسی حلقے کے مفادات کے لیے چھوٹے صوبوں کو نظرانداز کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اقتصادی راہداری کے معاملے پر وفاقی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے خبیر پختونخوا میں محض سڑک کی تعمیر کی بجائے اقتصادی راہداری کی دیگر اقتصادی منصوبوں کے ساتھ تعمیر کی شرط رکھی ہے۔ انہوں نے وفاق کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی اقتصادی راہداری کو ترجیحی بنیاد پر مکمل نہ کیا گیا تو سخت اقدام اٹھائیں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بھی پرویز خٹک کی پیروی کرتے ہوئے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرنا چاہیئے۔

 

نواب ثناء اللہ زہری کچھ دن پہلے ہی نواز شریف کی مہربانی سے وزیر اعلیٰ بلوچستان مقرر ہوئے ہیں اور ان کے لیے وفاقی حکومت اور اپنی جماعت کے سربراہ کو للکارنا ممکن نہیں لیکن ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں میں کمی کے لیے انہیں یہ سخت قدم اٹھانا پڑے گا اور بلوچستان کے مفادات کو جماعت کے مفادات پر ترجیح دینی ہو گی۔

 

اقتصادی راہداری کے دور رس، دیر پا اور کامیاب نتائج کے لیے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کو اس منصوبے پر پھیلا ابہام ختم کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو ان کا جائز حصہ دینا ہو گا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے 10جنوری کو اقتصادی راہداری کے معاملے پر اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے۔ یہ APCنہ صرف بلوچستان کے جائز حصے کا مطالبہ کرنے کے لیے ہے بلکہ اس کانفرنس کے دوران اقتصادی راہداری کی تعمیر سے بلوچستان میں رونما ہونے والی آبادیاتی تبدیلی کے خدشات پر بھی شعور اجاگر کیا جائے گا۔ بلوچستان حکومت کی کمان سنبھالنے والے وزیر اعلیٰ کو اس سیاسی طاقت کے ساتھ مل کر صوبے کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیئے۔

 

اقتصادی راہداری کے حوالے سے موجودہ مکر و فریب یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے پنجاب پسند رویے میں مثبت تبدیلیوں کی خواہاں نہیں ہے۔ حکمران جماعت نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی ناراضی ختم کرنے اور ابہام دور کرنے کی بجائے و اقتصادی راہداری کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیہے کہ بلوچ اور پشتون عوام کو مزید وعدوں پر ٹرخایا نہیں جا سکتا۔ اقتصادی راہداری کے دور رس، دیر پا اور کامیاب نتائج کے لیے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کو اس منصوبے پر پھیلا ابہام ختم کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو ان کا جائز حصہ دینا ہو گا۔