Categories
خصوصی

اونچی آواز میں موسیقی سننے پر جمعیت کا بلوچ طلبہ پر تشدد، کمرہ نذرِ آتش

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں اونچی آواز میں موسیقی سننے پر اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین نے بلوچ طلبہ پر تشدد کیا ہے اور کمرہ نذر آتش کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 16 فروری کی شام ہاسٹل نمبر 4 کے کمرہ نمبر 110 میں مقیم بلوچ طالب علم جمیل احمد بگٹی کے موسیقی سننے پر اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین کی جانب سے منع کیا گیا جس کی وجہ سے تنازعہ شروع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ریاضیات کے طالب علم سہیل شاہ دستی کے مطابق شعبہ سیاسیات کے جمیل احمد بگٹی نے آواز دھیمی کرنے پر آمادگی ظاہر کی تاہم موسیقی بند کرنے سے انکار کیا۔

 

اس پر مشتعل ہو کر جمعیت کے رکن “صائم” کی جانب سے کمرہ نذر آتش کیا گیا جس میں قیمتی سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ بلوچ طلبہ نے آگ لگانے والے جمعیت کارکن کو پکڑ لیا۔ پولیس کو موقع پر بلا کر ملزم کو ان کے حوالے کرنے کی کارروائی جاری تھی کہ اسی دوران جمعیت اراکین کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ حملے میں کئی بلوچ طالب علم زخمی ہو گئے۔ سہیل شاہ دستی کے مطابق جمعیت اراکین پستول لہراتے ہوئے آئے اور بلوچ طلبہ پر تشدد کیا۔ دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان نے اسے بلوچ اور پشتون طلبہ کے مابین لسانی بنیادوں پر تصادم قرار دیا ہے اور اس واقعے سے متعلق لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان جمعیت کے مطابق دونوں طلبہ گروپس یونیورسٹی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے آپس کی لڑائی کا ملبہ اسلامی جمعیت طلبہ پر ڈال رہے ہیں۔ تاہم بلوچ طلبہ اس تردید کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ بلوچ طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی پر غلبہ قائم رکھنے کے لیے واقعے کو غلط رنگ دے رہی ہے۔ پشتون اینڈ بلوچ ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے مابین اس جھگڑے کے دوران 15 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق سو سے زائد جمعیت اراکین پستولوں اور لاٹھیوں سے مسلح پہنچے اور ان کے تشدد سے طلبہ زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والے طلبہ کو شیخ زائد ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔ زخمی طلبہ میں جاوید، مزمل، حبیب، عالمگیر، قائم، عمران، نقیب، ابرار، اظہار بلوچ، ظریف، ہمایوں، احسن، الیاس، صدام اور احمد شامل ہیں۔

 

سولہ فروری کو ہونے والے اس واقعے کے خلاف 17 فروری کو پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ کی جانب سے اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، بلوچ سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی اس واقعے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے جمعیت اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔ سہیل شاہ دستی نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جامعہ پنجاب میں داخلہ لیا ہے جمعیت پنجاب میں نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہاں پڑھنے کے لیے آئے ہیں لیکن اگر جمعیت اراکین اسی طرح ان پر ظلم اور تشدد کرتے رہے تو وہ کب تک برداشت کریں گے؟

 

بلوچ اور پشتون طلبہ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے مابین اس سے قبل بھی تین مرتبہ تصادم ہو چکا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ ایک سخت گیر اور بنیاد پرست مذہبی طلبہ جماعت ہے جو پنجاب یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم، تفریحی سرگرمیوں اور فنون لطیفہ کے پراگراموں پر اس سے پہلے بھی تشدد کا راستہ اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ برس کراچی یونیورسٹی میں بھی جمعیت کے اراکین نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا۔ بلوچ طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ اپنی من چاہی اخلاقیات نافذ کرنا چاہتی ہے تاہم بعض ذرائع اسے یونیورسٹی کی انتظامی سیاست سے جوڑ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ بلوچ اور پشتون طلبہ کے اتحاد سے خوف زدہ ہے اور اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی ہے، دوسری جانب جمعیت ذرائع اسے وائس چانسلر مجاہد کامران کی جانب سے ایک اور معیاد کی توسیع حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دے رہے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

جامعہ کراچی کی ڈائری

علی محمد جان
جامعہ کراچی کا شمار ملک کی عظیم درسگاہوں میں ہوتا ہے۔ ایک برطانوی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی دنیا کی صف اول کی 700 جامعات میں سے ایک ہے۔ ایشیاء کی 300 بڑی اور معیاری جامعات کی درجہ بندی میں جامعہء کراچی 246 ویں نمبر پر ہے۔ اس عظیم تعلیمی ادارے کی بنیاد قیام پاکستان کے چار سال بعد جون 1951 میں رکھی گئی۔ ابتدا میں صرف چار شعبوں میں درس و تدریس کا آغاز کیا گیا اور آج یہ ملک کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے۔ 1279 ایکڑ زمین پر محیط موجودہ کیمپس کا قیام 1959 میں عمل میں آیا تھا۔ جامعہ کراچی میں اس وقت مندرجہ ذیل چھے فیکلیٹیز تدریس کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں:

 

فیکلٹی آف سائنس
فیکلٹی آف سوشل سائنسز(جو پہلے فیکلٹی آف آرٹ کہلاتی ہے)
فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن سائنس
فیکلٹی آف انجنیرنگ
فیکلٹی آف فارمیسی
اس کے علاوہ قانون کی تدریس کا بھی اجراء کیا جاچکا ہے۔

 

ان چھے فیکلٹیز میں کل 52 شعبہ جات ہیں جن میں 31,000 سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں طلبہ جو ملازمت یا کسی اور وجہ سے باقاعدہ داخلہ نہیں لے سکتے وہ پرائیویٹ امتحانات دے کر ڈگری حاصل کرسکتے ہیں۔ جامعہ کراچی ہر سال ایسے ہزاروں پرائیویٹ طلبہ کو ڈگریاں عطا کرتی ہے۔ جامعہ کراچی کے ساتھ الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 145 ہے۔ ان میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان طلبہ کے لیے امتحانی پرچے ترتیب دینا، نتیجہ تیار کرنا اور ڈگریاں فراہم کرنا جامعہ کے شعبہ امتحانات کی ذمہ داری ہے۔

 

جامعہ کراچی میں سیکیورٹی صورتحال
جامعہ کراچی میں آمدورفت کے لیے پانچ داخلی دروازے ہیں۔ ان داخلی دروازوں پر سیکیورٹی اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے سیکورٹی عملہ موجود ہے جس کی تعداد 120 ہے جن میں 10 خواتین بھی شامل ہیں2۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی یہ تعداد جامعہ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ناکافی اور غیر تربیت یافتہ ہے۔

 

جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے کارکنان میں لڑائی جھگڑوں پر قابو پانے اور امن امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے پہلی بار 1989 میں500 رینجرز اہلکاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیاتھاجو 26 سال گزرنے کے باوجود امن و امان کی فضا کو بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ رینجرز کی تعیناتی کے باوجود طلبہ تنظیموں میں تصادم اور خونی واقعات کو روکا نہیں جا سکا۔

 

جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے کارکنان میں لڑائی جھگڑوں پر قابو پانے اور امن امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے پہلی بار 1989 میں500 رینجرز اہلکاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیاتھاجو 26 سال گزرنے کے باوجود امن و امان کی فضا کو بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
27 اکتوبر 2008 کو دو طلبہ تنظیموں میں ہونے والے تصادم میں تین طالب علم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان تنظیموں (اے پی ایم ایس او اور اسلامی جمیعت طلبہ) کے درمیان ہونے والے تصادم کے دوران لوہے کی سلاخوں، پتھروں اور ڈنڈوں کے علاوہ اسلحہ بھی استعمال کیا گیا۔ مندرجہ بالا سانحہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی فرد آسانی سے اسلحہ لے کر جامعہ کی حدود میں داخل ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل 2007 میں اسی نوعیت کے واقعے میں 12 طالب علم زخمی ہوگئے تھے۔

 

28 دسمبر 2010 میں اسی نوعیت کے ایک اور واقعے کے دوران ایک مذہبی طلبہ تنظیم (آئی ایس او) کے اسٹینڈ کے پاس عین اس وقت دھماکہ ہوا جب اس مسلک کے طالب علم باجماعت نماز ادا کر رہے تھے۔ اس دھماکے میں پانچ طالب علم شدید زخمی ہوگئے تھے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق اس دھماکے میں 200 گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
سال 2011 میں دو طلبہ تنظیموں میں تصادم کے نتیجے میں 11 طالب علم زخمی ہوگئے تھے۔ دونوں گروہوں کی جانب سے لوہے کے راڈ، پتھر اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی۔ تصادم کی وجہ مختلف شعبوں میں کی جانے والی وال چاکنگ تھی۔

 

ان واقعات کے باوجود جامعہ میں مذہبی و سیاسی طلبہ تنظیموں کو دیگر تعلیمی اداروں کی نسبت خاصی آزادی حاصل ہے۔ یہاں طلبہ تنظیمیں اپنے لیے ’’اسٹینڈ‘‘ بناتی ہیں جن کے گرد سیمنٹ سے بنی بینچ لگاکر ’’قبضہ‘‘ کی ہوئی جگہ کو جھنڈوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ اسٹینڈ تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے۔ کسی بھی تنظیمی اسٹینڈ کے آس پاس کسی دوسری تنظیم کا فرد پوسٹر نہیں لگا سکتا۔ ہر تنظیم ماہانہ بنیادوں پر کوئی نہ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے۔ جس کے لیے باقاعدہ پوسٹر اور بینر لگائے جاتے ہیں۔ یہ پوسٹرز یونیورسٹی کے ہر شعبے کی دیواروں پر لگائے جاتے ہیں۔ وائس چانسلر کا دفتر، کینٹین اور غسل خانے بھی ان پوسٹرز سے محفوظ نہیں۔ یہ نہ صرف عمارتی حسن کو گہنہا دیتے ہیں بلکہ اکثر تصادم کا باعث بھی بنتے ہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ میں آٹھ مذہبی و سیاسی طلبہ تنظیموں کے ’’اسٹینڈ‘‘ موجود ہیں۔

 

اخباری اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیموں کے علاوہ جامعہ کراچی میں دو کالعدم تنظیمیں (سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ) بھی سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف دیواروں پر چاکنگ کرتی ہیں بلکہ جامعہ کے حدود میں اسٹڈی سرکلز کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیموں کے علاوہ جامعہ کراچی میں دو کالعدم تنظیمیں (سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ) بھی سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف دیواروں پر چاکنگ کرتی ہیں بلکہ جامعہ کے حدود میں اسٹڈی سرکلز کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔ خبر میں یہ بتایا گیا ہے کہ جامعہ کی ایک معلمہ ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ دوسری کالعدم تنظیم کی حمایت میں شعبہ انگریزی اور کمیسٹری کے دو اساتذہ کھلم کھلا بات کرتے ہیں۔ خبر کے مطابق ان میں سے ایک استاد دوران تدریس کھلم کھلا تنظیم سے وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ ان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دونوں تنظیموں کے کارکنان کے مابین یونیورسٹی کی مرکزی مسجد پر غلبہ پانے کے معاملے پر تصادم بھی ہو چکا ہے۔

 

جامعہ کی حدود میں موجود ہاسٹل میں مقیم طالبات کے ساتھ نقدی اور قیمتی اشیاء چھیننے کے دو مختلف واقعات حال ہی میں رپورٹ کیے گئے ہیں۔ فروری کے مہینے میں رات آٹھ بجے شعبہ حیوانیات کی طالبہ سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی جبکہ دوسرے واقعے میں ایک نامعلوم مسلح شخص شعبہ انگریزی کی طالبہ سے موبائل فون چھین کر فرار ہوگیا۔
ان واقعات اور تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں جامعہ کے استاد، ماہر سماجیات و جرمیات ڈاکٹر فتح محمد برفت جو 1970کی دہائی میں جامعہ کراچی کے طالب علم بھی تھے کا کہنا ہے کہ ’’کیمپس کے اندر لڑائی جھگڑے کا کوئی واقعہ خال خال ہی رونما ہوتا تھا۔ خصوصاً یونین کے انتخابات کے دوران لڑائی ہوتی تھی مگر کسی طالب علم کے جسم پر خراش تک نہیں آتی تھی۔ یہ نظریاتی لڑائی تھی۔ انتخابات کے بعد دائیں بازو اور بائیں بازو کی دونوں تنظیموں (این ایس ایف اور جمیعت) کے کارکنان ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے۔” واضح رہے کہ 9 فروری 1984کو فوجی آمر ضیاالحق نے ملک بھر میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں ترقی پسند طلبہ تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مذہبی طلبہ تنظیموں کے کارندوں کو جامعہ کے اندر سرگرم ہونے کا موقع دیا گیا۔ صوبہ سندھ میں طلبہ یونین کو 1979 میں ہی غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

 

رینجرز کی کارکردگی موثر کیوں نہیں؟
ان واقعات کے پیش نظر یہ بات پوچھی جاسکتی ہے کہ جامعہ میں رینجرز کی کارکردگی کتنی موثر رہی ہے اور وہ امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اول تو سیکیورٹی اہلکاروں اور رینجرز کی موجودگی میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آنا چاہیئے اور اگر پیش آتا بھی ہے تو رینجرز کو فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورت حال کو قابو میں لانا چاہیئے۔ تنظیموں کے مابین ہونے والے تصادم میں رینجرز پہنچنے میں اتنی دیر لگاتی ہے کہ تب تک حالات قابو سے باہر ہو چکے ہوتے ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار گھنٹوں بعد جائے ورادات پر پہنچتے ہیں، وہاں آس پاس موجود کسی بھی طالب علم کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ مختلف واقعات کے دوران جامعہ کی حدود میں فائرنگ کرنے والے افراد میں سے کبھی کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ رینجرز اور سیکیورٹی کا عملہ ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود مسلح طلبہ کا یونیورسٹی میں داخل ہونا ایک تشویش ناک امر ہے۔

 

جب یہ سوالات جامعہ کراچی کے سیکیورٹی سپروائزر آصف کے سامنے رکھے گئے تو ان کا یہ کہنا تھا کہ رینجرز صرف سیکیورٹی عملے کی ’معاونت‘ کے لیے موجود ہے۔ سیکیورٹی عملے کے پاس تربیت اور جدید آلات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

 

رینجرز کے برتاؤ سے اکثر طلبہ ناخوش نظر آتےہیں۔ وہ طلبہ جن کی کسی سیاسی و مذہبی طلبہ تنظیم سے وابستگی نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ رینجرز کا رویہ تنظیموں سے وابستہ لڑکوں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے جبکہ عام طالب علم کے ساتھ مختلف ہوتا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک طالب علم نے بتایا کہ داخلی دروازوں پر ڈیوٹی پر مامور رینجرز اور سیکیورٹی اہلکار عام طلبا کی موٹر سائیکل رکوا کر وہیں پارک کراتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تقریباً ادھا گھنٹہ پیدل چل کر اپنے شعبے تک پہنچنا پڑتا ہے جبکہ طلبہ تنظیموں سے منسلک افراد کی سواریاں روک ٹوک کے بغیر یونیورسٹی حدود میں داخل ہو جاتی ہیں۔ جب یہ سوال سیکیورٹی سپروائزر سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تنظیموں کے اراکین رینجرز کے ساتھ تعلقات بڑھاتے ہیں اور سلام دعا رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے دوسرے طلبا کو یہ لگتا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جامعہ میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں بعض طلبہ تنظیموں کے اراکین کا اہم کردار ہے۔ جامعہ کے مرکزی دروازے اور تدریسی شعبہ جات کے درمیان 15 سے 20 کلو میٹر کا فاصلہ ہے جو اکثر طلبا پیدل طے کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک جامعہ کے اندر شٹل سروس موجود تھی جو طلبہ کو داخلی دروازوں سے متعلقہ شعبوں تک پہنچاتی تھی۔

 

جامعہ کراچی؛ چند سماجی مسائل
جامعہ کی حدود میں سگریٹ، چھالیہ اور گٹکے کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ تقریباً ہر کینٹین پر سگریٹ اور چھالیہ دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کو بھی سیکیورٹی کے سلسلے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ میں سے 60 فیصد سے زائد تعداد طالبات کی ہے۔ جامعہ کراچی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی خبریں بھی اخباروں کی زینت بن چکی ہیں۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد اخباری اطلاعات سے کہیں زیادہ ہے لیکن بہت سی طالبات ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتیں۔
گزشتہ برس 15 جنوری کی ایک خبر کے مطابق شعبہ سماجی بہبود (سوشل ورک) کے ایک استاد کے خلاف کچھ طالبات نے جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس سے قبل شعبہ اردو کے ایک پروفیسر کے خلاف بھی جنسی ہراسانی کی شکایت سامنے آئی تھی۔ اعترافِ جرم کے بعد سینڈیکیٹ کی میٹنگ میں پروفیسر صاحب کو عارضی طور پر معطل کیاگیا تھا جنہیں بعد ازاں بحال کر دیاگیا۔

 

Karachi-University-bus-Laaltain

ان دنوں جامعہ میں ’’وین مافیا‘‘ سرگرم عمل ہے جو طلبہ کو پک اینڈ ڈراپ کی ’’سہولت‘‘ فراہم کرتا ہے۔ ہر وین سے یونیورسٹی انتظامیہ ماہانہ 6,000 روپے وصول کرتی ہے۔ سیکیورٹی سپروائزر آصف کے مطابق یہ پیسے جامعہ کے اکاونٹ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ پیسے کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس سے انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ چندسال پہلے تک جامعہ کی درجنوں بسیں طلبہ کو آمدورفت کی سہولیات مہیا کرتی تھیں جو یکایک غائب ہوگئی ہیں اور ان کی جگہ پرائیویٹ وین سروس والوں نے لی ہے۔ جامعہ کے کئی ملازمین کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ ان میں مالی اور چپڑاسی بھی شامل ہیں۔ ایک تیر دو شکار کے مصداق یہ اپنی تنخواہیں بھی وصول کرتے ہیں اورساتھ ساتھ ڈیوٹی کے اوقات میں جامعہ کے اندر رکشہ بھی چلاتے ہیں۔ ان رکشوں کا کام چند سال پہلے تک شٹل سروس سے لیا جاتا تھا جو اب نظر نہیں آتی۔ رکشے والے ڈیپارٹمنٹ سے گیٹ تک 50 سے 100 روپے کرایہ لیتے ہیں۔ ان رکشوں سے متعلق سیکیورٹی خدشات پر سیکیورٹی انتظامیہ کا جواب سمجھ سے بالاتر ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ‘چند غریب لوگوں کی روزی کا انتظام ہورہا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔’

 

داخلی دروازوں پر ڈیوٹی پر مامور رینجرز اور سیکیورٹی اہلکار عام طلبا کی موٹر سائیکل رکوا کر وہیں پارک کراتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تقریباً ادھا گھنٹہ پیدل چل کر اپنے شعبے تک پہنچنا پڑتا ہے جبکہ طلبہ تنظیموں سے منسلک افراد کی سواریاں روک ٹوک کے بغیر یونیورسٹی حدود میں داخل ہو جاتی ہیں۔
گزشتہ دنوں جامعہ کے حدود میں ایک اور افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پوائنٹس ٹرمنل کے قریب کچھ لڑکے اور لڑکیاں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مذہبی طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ کے اراکین نے آکر لڑکوں کومارنا شروع کردیا جب لڑکیوں نے بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی زد میں آگئیں۔ اس کے بعد جمعیت اور آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے درمیان تصادم کے دوران تین طلبا زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد بھی سیاستدانوں کی جانب سے رسمی مذمت کی اطلاعات آئیں اور گورنر سندھ عشرت العباد نے شیخ الجامعہ کو واقعے کی انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

 

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ رینجرزاور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری کی موجودگی میں جامعہ کے اندر ایسے واقعات کیسے ہوتے ہیں اور ذمہ داران کے خلاف بروقت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟کچھ واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جامعہ کا عملہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان واقعات میں ملوث ہوتا ہے۔ اس کی واضح مثال رواں برس فروری میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت جامعہ کراچی کے قابل اور اچھے نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو ملنے والے لیپ ٹاپس میں سے درجنوں غائب ہونا ہے۔ گزشتہ برس اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں دو ہزار تیار شدہ ڈگریاں نامعلوم افراد رات کے اندھیرے میں چراکر فرار ہوگئے مگر ان کا سراغ نہیں مل سکا۔ جہاں تک امن و امان کی صورت حال کا تعلق ہے اس کی خرابی کی گواہی تسلسل کے ساتھ آنے والے ناخوشگوار واقعات دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے جامعہ کراچی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں:
بقول جون ایلیا
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
Categories
خصوصی

کیمپس راونڈ اپ مارچ 2014

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں طلبہ تنظیموں کے بیچ تصادم، متعدد طلبہ زخمی
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اسلامی جمعیت طلبہ اور پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن پی –ایس ۔ایف کے درمیان تصادم کے باعث متعدد طلبہ زخمی ہو گئے ہیں۔ تصادم کے دوران طلبہ تنظیموں کے ارکان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ تنازعے کی وجہ اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سےمبینہ طور پر لگائے گئے پوسٹرز تھے جو پی – ایس – ایف کے ارکان کے لئے اشتعال کا باعث بنے۔ صورت حال کشیدہ ہونے کے باعث یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں معطل کرنا پڑیں۔
جمعیت ذرائع کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ اشتعال انگیزی پر یقین نہیں رکھتی اور اپنی سرگرمیاں پرامن طریقے سے جاری رکھنا چاہتی ہے۔ جمعیت ارکان نے پی ایس ایف پر ہاتھا پائی کرنے اور اشتعال پھیلانے کا الزام لگایا۔ پی ایس ایف کے مطابق جمعیت کے لگائے گئے پوسٹرز میں پی ایس ایف کے خلاف اشتعال انگیز مواد موجود تھا۔ پی ایس ایف میں شامل طلبہ کے مطابق جمعیت اس سے قبل بھی زکریا یونیورسٹی میں دیگر تنظیموں کے خلاف اشتعال انگیز کاروائیاں کرتی رہی ہے۔
پیپلز پارٹی حکومت کے بعدسے زکریا یونیورسٹی میں پی ایس ایف کا غلبہ کم ہوا ہے، جس کی وجہ سے اسلامی جمعیت طلبہ کو ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ یونیورسٹی پر تسلط قائم کرنے کے لئے طلبہ تنظیموں کی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں جو بتدریج پر تشدد ہورہی ہیں۔
لالٹین نامہ نگار کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دونوں طلبہ تنظیموں کے درمیان زکریا یونیورسٹی پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے جاری سرگرمیوں کے باعث کشیدگی کافی عرصہ سے موجود ہے۔ دونوں تنظیمیں اس سے قبل مختلف اوقات میں اپنی موجودگی اور طاقت کے اظہار کے لئے کیمپس میں گشت اور نعرے بازی کرتی رہی ہیں۔ طلبہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کے بعدسے زکریا یونیورسٹی میں پی ایس ایف کا غلبہ کم ہوا ہے، جس کی وجہ سے اسلامی جمعیت طلبہ کو ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ یونیورسٹی پر تسلط قائم کرنے کے لئے طلبہ تنظیموں کی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں جو بتدریج پر تشدد ہورہی ہیں۔ طلبہ نے پرامن تعلیمی ماحول کے قیام کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ سے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔نامہ نگار کے مطابق اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی تاہم مقامی پولیس اہلکاروں کی مداخلت کے سے صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور تدریسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔

 

CEES میں ہنگامہ آرائی پر مقدمات کے خلاف جمعیت کا مظاہرہ اور روڈ بلاک
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے درمیان جاری تنازعہ جمعیت ارکان کے مظاہرے کے باعث مزید شدت اختیار کرچکا ہے۔ کالج آف ارتھ اینڈ اینوائرمینٹل سائنسز (CEES) میں سپورٹس گالا پر ہنگامہ کرنے پر جمعیت ارکان کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کے خلاف جمعیت ارکان نے26 مارچ کو کینال روڈ لاہور بلاک کر کے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج کیا۔ احتجاج کے باعث کئی گھنٹے تک ٹریفک جام رہا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کالج آف ارتھ اینڈ اینوائرمینٹل سائنسز (CEES) میں سپورٹس گالا پر ہنگامہ کرنے پر جمعیت ارکان کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کے خلاف جمعیت ارکان نے26 مارچ کو کینال روڈ لاہور بلاک کر کے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج کیا۔
جمعیت ارکان کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی ایماء پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے ارکان پر گارڈز نے تشدد کیا اور انتظامیہ کی جانب سے جمعیت ارکان پر ناجائز مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جمعیت ارکان نے طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنایا اور طلبہ کی تفریحی سرگرمیوں میں بلا اجازت مداخلت کی۔ انتظامیہ کی پریس ریلیز کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے طلبہ سے ان کے پرس اور موبائلز بھی چھینے۔
اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل بھی پر تشدد سرگرمیوں میں شریک رہی ہے اور انتظامیہ کو دباو میں لانے کے لئے احتجاج اور مظاہرے کرتی رہی ہے۔ لالٹین ذرائع کے مطابق جمعیت ارکان یونیورسٹی ہاسٹلز اور ڈیپارٹمنٹس میں قائم ناجائز دفاتر کے خاتمے اور اپنے غیر قانونی مقیم ارکان کی بے دخلی کے باعث موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف ہے ۔

 

وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی ؛ طلبہ تنظیموں میں جھڑپ کے باعث متعدد طلبہ زخمی
وفاقی اردو یونیورسٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مولوی عبدالحق کیمپس میں پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن پی ایس ایف اور انجمن طلبہ اسلام ,اے ٹی ائی کے درمیان مسلح جھڑپ کے باعث متعدد طلبہ زخمی ہو گئے اور یونیورسٹی کی تدریسی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں جاری تنازعے کو حل کرانے کی انتظامیہ کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس کے باعث دونوں تنظیمیں پر تشدد کاروائیوں پر اتر آئی ہیں۔
پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کے ترجمان جاوید بلوچ کے مطابق فائرنگ کا آغاز انجمن طلبہ اسلام کی طرف سے کیا گیا۔تاہم انجمن کے ارکان نے اس سے انکار کیا اور پی ایس ایف ارکان پر اشتعال پھیلانے اور ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا۔
لالٹین کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق معمولی رنجش پر شروع ہونے والا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب دونوں تنظیموں کے طلبہ کے درمیان 26 مارچ کو جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے دوران لاٹھیوں کے استعمال سے کئی طلبہ زخمی ہوئے جنہیں جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی مداخلت پر جھگڑا نمٹایا گیا مگر 27 مارچ کو دونوں تنظیموں کے ارکان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مداخلت کرنا پڑی۔
پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کے ترجمان جاوید بلوچ کے مطابق فائرنگ کا آغاز انجمن طلبہ اسلام کی طرف سے کیا گیا۔تاہم انجمن کے ارکان نے اس سے انکار کیا اور پی ایس ایف ارکان پر اشتعال پھیلانے اور ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق صورت حال پر جلد قابو پا لیا جائے گا اور کیمپس کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔

بنوں یونیورسٹی ؛ وائس چانسلر اور اساتذہ کے درمیان جاری تنازعے کے باعث تدریسی عمل تین ہفتوں سے معطل

تدریسی سرگرمیوں میں تعطل کے خلاف بنوں یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کیا اور وائس چانسلر سے صورت حال پر قابو پانے اور کلاسز شروع کرانے کا مطالبہ کیا۔

بنوں یونیورسٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، بنوں میں وائس چانسلر عبدالرحیم مروت اور یونیورسٹی اساتذہ کے درمیان جاری تنازعے کی وجہ سے تدریسی سرگرمیاں تین ہفتوں سے معطل ہیں۔ انتظامی معاملات میں مداخلت کرنے کی شکایت ہر احتجاج کرنے والے اساتذہ نے مطالبات تسلیم کئے جانے تک ہڑتال جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ مقامی تاجروں کی تنظیم بنوں چیمبر آف کامرس اور بنوں ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔تدریسی سرگرمیوں میں تعطل کے خلاف بنوں یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی احتجاج کیا اور وائس چانسلر سے صورت حال پر قابو پانے اور کلاسز شروع کرانے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے کلاسز شروع نہ ہونے پر خیبر پختونخواہ اسمبلی کے باہر مظاہرہ کرنے کی بھی دھمکی دی۔ مقامی جرگہ کی کوششوں کے باوجود طلبہ اور اساتذہ کا احتجاج جاری ہے۔

Categories
اداریہ

ہاسٹل 16پر جمعیت کا ناجائز قبضہ ختم، جمعیت ارکان نے احتجاجاً مسافر بس نذرِآتش کر دی

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل پرقائم اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کا قبضہ پولیس کاروائی کے دوران ختم کرا لیا گیا اور 17ارکانِ جمعیت کو گرفتار کر لیا گیا۔اس گرفتاری کے خلاف جمعیت ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے مسافر بس کو نذرِآتش کر دیا اور سڑک بلاک کر دی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہاسٹل نمبر 16 پنجاب یونیورسٹی کی طالبات کو الاٹ کرنے کے لئے طلبا سے خالی کرا لیا گیا تھا تاہم ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم جمعیت کے ارکان نے ہاسٹل خالی کرنے سے انکار کردیا اور جمعہ 29 نومبر کو لاء کالج میں اساتذہ کو یرغمال بنا کر طلبہ کو ڈرایا دھمکایا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی پریس کانفرنس اور ہاسٹل خالی کرانے کی کوششوں کے خلاف جمعیت کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کینال روڈ بلاک کر دی اور ایک مسافر بس کو نذرِ آتش کر دیا-
یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی درخواست کے نتیجے میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے جمعیت کا ہاسٹل 16 سے قبضہ ختم کرالیااور 13غیر قانونی طور پر مقیم جمعیت ارکان کو گرفتار بھی کر لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جمعیت ترجمان کے کمرے سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔پولیس پر کئے گئے پتھراو کے نتیجے میں مزید 4 ارکانِ جمعیت کو گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے جمعیت ارکان نے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور ٹریفک روک کر مظاہرہ شروع کر دیا۔ مظاہرے کے دوران مشتعل ارکانِ جمعیت نے ایک مسافر بس روک کر اس کے مسافروں کو نکال کر بس نذرِ آتش کر دی۔

پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا مشہود نے صحافیوں سے گحتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ تنظیمیں غیر قانونی ہیں، کسی کو تعلیمی ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ذمہ دار طلبہ کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔ ہاسٹل 16 کے سابق رہائشی انصر علی نے لالٹین سے گحتگو کرتے ہوئے کہا کہ16 نمبر ہاسٹل خالی کرنے والے تمام قانونی طلبہ کو نئے ہاسٹلز میں کمرے الاٹ کر دیے گئے ہیں صرف جمعیت کے ارکان ہاسٹل خالی کرنے میں مزاحمت کررہے تھے۔ جمعیت ترجمان سے رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل بھی پر تشدد مظاہرے کر چکی ہے جن کے دوران جمعیت ارکان نجی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچاتی آئی ہے۔


Categories
خصوصی

لاء کالج : جمعیت نے اساتذہ یرغمال بنا لئے، “اصل معاملہ ہاسٹلز اور کیمپس پر اجارہ داری کا ہے”طلبہ

سٹاف رپورٹر+پریس ریلیز
گزشتہ ہفتے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں عدم ادائیگیِ واجبات پر کینٹین کی بندش اور ہاسٹل 16 کی گرلز ہاسٹل میں تبدیلی پر احتجاج کرتے ہوئے اسلامی جمعیتِ طلبہ نے اساتذہ کو یرغمال بنا کر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یونیورسٹی املاک کو نقصان پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے واجبات ادا نہ کرنے والی کینٹین بند کرنے کا فیصلہ کیا جو اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کو اشیائے خوردو نوش مہیا کرتی رہی ہے۔ جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس دوران دیگر طلبہ کو ڈراتے دھمکاتے رہے اور اسلحے کی نمائش کی جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی آمد پر اساتذہ کو رہائی نصیب ہوئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے اپنے مطالبات کی حمایت میں کینال روڈ کو تین گھنٹے تک بند رکھا،جسے پولیس کی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا ہے۔

 سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کر ادیے ہیں اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ دار کارکنان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جمعیت کے کارکنان کی طرف سے 16 نمبر ہاسٹل کے کچھ کمروں پر غیر قانونی قبضہ جاری ہے، جس وجہ سے طالبات کو ہاسٹل الاٹ کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کی کثیر تعداد جمعیت کی ہٹ دھرمی کے باعث ہاسٹل الاٹمنٹ سے محروم ہے۔
جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعات کو غلط رنگ دیا ہے اور جمعیت کے ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی پریس ریلیز کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے سچ ظاہر ہو چکا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جمعیت کے مسلح ارکان نے فیکلٹی روم پر دھاوا بولا اور کیمروں کا رخ موڑ دیا تا کہ اصلیت کو چھپایا جا سکے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے اس اقدام کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ لاء کالج کے ایک طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹلز پر اجارہ داری کا ہے۔ جمعیت کے ارکان ہاسٹلز الاٹمنٹ، کینٹین کے ٹھییکوں کی نیلامی اور تعیناتی جیسے معاملات میں اپنی اجارہ داری چاہتی ہے اس لئے ایسے ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے۔ تاہم جمعیت ارکان کے مطابق جمعیت طلبہ کی نمائندگی کر رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ پر مقدمات قائم کر کے یونیورستی کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر رہی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل کار چوری، تشدد اور دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کو پناہ دینے جیسے سنگین جرائم میں مبینہ طور پر ملوث رہی ہے۔
Categories
اداریہ

لاء کالج : جمعیت نے اساتذہ یرغمال بنا لئے، "اصل معاملہ ہاسٹلز اور کیمپس پر اجارہ داری کا ہے"طلبہ

سٹاف رپورٹر+پریس ریلیز
گزشتہ ہفتے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں عدم ادائیگیِ واجبات پر کینٹین کی بندش اور ہاسٹل 16 کی گرلز ہاسٹل میں تبدیلی پر احتجاج کرتے ہوئے اسلامی جمعیتِ طلبہ نے اساتذہ کو یرغمال بنا کر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یونیورسٹی املاک کو نقصان پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے واجبات ادا نہ کرنے والی کینٹین بند کرنے کا فیصلہ کیا جو اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کو اشیائے خوردو نوش مہیا کرتی رہی ہے۔ جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس دوران دیگر طلبہ کو ڈراتے دھمکاتے رہے اور اسلحے کی نمائش کی جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی آمد پر اساتذہ کو رہائی نصیب ہوئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے اپنے مطالبات کی حمایت میں کینال روڈ کو تین گھنٹے تک بند رکھا،جسے پولیس کی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا ہے۔

 سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کر ادیے ہیں اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ دار کارکنان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جمعیت کے کارکنان کی طرف سے 16 نمبر ہاسٹل کے کچھ کمروں پر غیر قانونی قبضہ جاری ہے، جس وجہ سے طالبات کو ہاسٹل الاٹ کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کی کثیر تعداد جمعیت کی ہٹ دھرمی کے باعث ہاسٹل الاٹمنٹ سے محروم ہے۔
جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعات کو غلط رنگ دیا ہے اور جمعیت کے ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی پریس ریلیز کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے سچ ظاہر ہو چکا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جمعیت کے مسلح ارکان نے فیکلٹی روم پر دھاوا بولا اور کیمروں کا رخ موڑ دیا تا کہ اصلیت کو چھپایا جا سکے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے اس اقدام کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ لاء کالج کے ایک طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹلز پر اجارہ داری کا ہے۔ جمعیت کے ارکان ہاسٹلز الاٹمنٹ، کینٹین کے ٹھییکوں کی نیلامی اور تعیناتی جیسے معاملات میں اپنی اجارہ داری چاہتی ہے اس لئے ایسے ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے۔ تاہم جمعیت ارکان کے مطابق جمعیت طلبہ کی نمائندگی کر رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ پر مقدمات قائم کر کے یونیورستی کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر رہی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل کار چوری، تشدد اور دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کو پناہ دینے جیسے سنگین جرائم میں مبینہ طور پر ملوث رہی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی میں ریگنگ پر اسلامی جمعیت طلبہ کا دھاوا، طلبہ اور اساتذہ سے بد تمیزی

campus-talksاسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے گزشتہ ہفتے شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی پر دھاوا بولا اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ سے بد تمیزی کی۔ شعبہ کے سینئر طلبہ نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہنے اور تعارف حاصل کرنے کے لئے معمول کی ریگنگ کر رہے تھے جب اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان احسن رضا اور محسن لغاری نے ساتھیوں سمیت شعبہ کی حدود میں زبردستی داخل ہو کر سینئر طلبہ سے بدکلامی شروع کر دی۔ موقع پر موجود طلبہ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر جمعیت کے ارکان نے بعض طلبہ کو گریبان سے پکڑ کر ڈرایا دھمکایا اور نازیبا زبان استعمال کی۔ طلبہ کے مطابق شعبہ کے اساتذہ کی آمد اور ان کے روکنے پر جمعیت کے ارکان نے ان سے بھی بد تمیزی کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

شعبہ فلسفہ میں ایم فل کے طالب علم مطہر بخاری کا کہنا ہے کہ جونئیر طلبہ سے تعارف حاصل کرنے کی روایت کا مقصد صرف نئے آنے والوں کو ڈیپارٹمنٹ کے ماحول اور سینئرز سے متعارف کرانا ہے اور ایسا ڈیپارٹمنٹ انتظامیہ کی اجازت سے کیا جاتا ہے۔مطہر کے مطابق وقعے کے روز بھی سینئرز نئے آنے والوں سے ان کے نام، مشاغل اور سابقہ تعلیمی ریکارڈجیسی باتیں پوچھ رہے تھے جب جمعیت کے ارکان نے ڈیپارٹمنٹ میں گھس کر طلبہ کو ڈرایا دھمکایا اور بعد ازاں اساتذہ کے لئے بھی نامناسب زبان استعمال کی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے ریگنگ کو غیر اسلامی قرار دیا اور آئندہ بھی ایسی سرگرمیوں کو بزور طاقت روکنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہاسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی کے ماحول کو بے راہ روی سے بچانے کی کوشش جاری رکھے گی۔ اس واقعے کے دوران موقع پر موجود ایک اور طالب علم نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ فلسفہ کے ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کوشش دانستہ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا جمعیت تعلیمی سال کے شروع ہوتے ہی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے تاکہ نئے آنے والے طلبہ بھی جمعیت کی موجودگی سے باخبر ہو جائیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس سے پہلے 2011 میں بھی شعبہ فلسفہ کے طلبہ پر تشدد اور اساتذہ سے بدتمیزی کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ اور طلبہ نے دو روز تک احتجاجاً تدریسی سرگرمیاں معطل رکھی تھیں۔


Categories
اداریہ

غیر قانونی مقیم طلبہ کے خلاف کاروائی میں اسلامی جمعیت طلبہ رکاوٹ ہے” پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ”

(پریس ریلیز+سٹاف رپورٹر)campus-talks

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ پر مشتمل انسپکشن ٹیم کو بوائز ہاسٹل نمبر 15میں تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے غیر قانونی طور پر مقیم ارکان کے زیرِاستعمال ہاسٹل نمبر 15کے چھ کمرے ڈبل لاک کئے گئے تھے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان حافظ واجد، تنزیل الرحمن ،عدنان سعید، اسامہ اور عبدالکبیر نے چئیر مین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر کی سربراہی میں ہونے والی کاروائی کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بند کئے گئے کمروں کو دوبارہ کھول لیا ۔ موقع پر موجود طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے اساتذہ کے لئے نازیبا زبان استعمال کی اور احتجاج اور توڑ پھوڑ کی دھمکیاں دیں۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے واقعے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے لاہور پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت کے خلاف کاروائی کی صورت میں ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیاہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ جامعہ پنجاب حافظ عبدالمقیت اور ارکان شوریٰ بھی موجود تھے۔جمعیت کے ارکان کا کہنا تھا کہ جمعیت کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ملک میں انتشار کا باعث بنے گی۔

پنجاب یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق جمعیت کے ارکان دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں میں ہیں اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

ترجمان جامعہ پنجاب کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی کاروائی اسلامی جمعیت ِ طلبہ کی معاونت سے یونیورسٹی میں مقیم القاعدہ رکن کی گرفتاری کے بعد حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق جمعیت کے ارکان دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں میں ہیں اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ تین دہائیوں سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسلامی جمعیت ِطلبہ غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی ارکان غیر قانونی طور پر ہاسٹلز میں مقیم ہیں۔ ماضی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم ارکانِ جمعیت کو ہاسٹلز سے مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔


Categories
اداریہ

غیر قانونی مقیم طلبہ کے خلاف کاروائی میں اسلامی جمعیت طلبہ رکاوٹ ہے" پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ"

(پریس ریلیز+سٹاف رپورٹر)campus-talks

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ پر مشتمل انسپکشن ٹیم کو بوائز ہاسٹل نمبر 15میں تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے غیر قانونی طور پر مقیم ارکان کے زیرِاستعمال ہاسٹل نمبر 15کے چھ کمرے ڈبل لاک کئے گئے تھے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان حافظ واجد، تنزیل الرحمن ،عدنان سعید، اسامہ اور عبدالکبیر نے چئیر مین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر کی سربراہی میں ہونے والی کاروائی کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بند کئے گئے کمروں کو دوبارہ کھول لیا ۔ موقع پر موجود طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے اساتذہ کے لئے نازیبا زبان استعمال کی اور احتجاج اور توڑ پھوڑ کی دھمکیاں دیں۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے واقعے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے لاہور پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت کے خلاف کاروائی کی صورت میں ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیاہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ جامعہ پنجاب حافظ عبدالمقیت اور ارکان شوریٰ بھی موجود تھے۔جمعیت کے ارکان کا کہنا تھا کہ جمعیت کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ملک میں انتشار کا باعث بنے گی۔

پنجاب یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق جمعیت کے ارکان دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں میں ہیں اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

ترجمان جامعہ پنجاب کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی کاروائی اسلامی جمعیت ِ طلبہ کی معاونت سے یونیورسٹی میں مقیم القاعدہ رکن کی گرفتاری کے بعد حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق جمعیت کے ارکان دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں میں ہیں اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ تین دہائیوں سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسلامی جمعیت ِطلبہ غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی ارکان غیر قانونی طور پر ہاسٹلز میں مقیم ہیں۔ ماضی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم ارکانِ جمعیت کو ہاسٹلز سے مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔