بنوں یونیورسٹی ؛ وائس چانسلر اور اساتذہ کے درمیان جاری تنازعے کے باعث تدریسی عمل تین ہفتوں سے معطل
بنوں یونیورسٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، بنوں میں وائس چانسلر عبدالرحیم مروت اور یونیورسٹی اساتذہ کے درمیان جاری تنازعے کی وجہ سے تدریسی سرگرمیاں تین ہفتوں سے معطل ہیں۔ انتظامی معاملات میں مداخلت کرنے کی شکایت ہر احتجاج کرنے والے اساتذہ نے مطالبات تسلیم کئے جانے تک ہڑتال جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ مقامی تاجروں کی تنظیم بنوں چیمبر آف کامرس اور بنوں ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔تدریسی سرگرمیوں میں تعطل کے خلاف بنوں یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی احتجاج کیا اور وائس چانسلر سے صورت حال پر قابو پانے اور کلاسز شروع کرانے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے کلاسز شروع نہ ہونے پر خیبر پختونخواہ اسمبلی کے باہر مظاہرہ کرنے کی بھی دھمکی دی۔ مقامی جرگہ کی کوششوں کے باوجود طلبہ اور اساتذہ کا احتجاج جاری ہے۔
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا مشہود نے صحافیوں سے گحتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ تنظیمیں غیر قانونی ہیں، کسی کو تعلیمی ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ذمہ دار طلبہ کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔ ہاسٹل 16 کے سابق رہائشی انصر علی نے لالٹین سے گحتگو کرتے ہوئے کہا کہ16 نمبر ہاسٹل خالی کرنے والے تمام قانونی طلبہ کو نئے ہاسٹلز میں کمرے الاٹ کر دیے گئے ہیں صرف جمعیت کے ارکان ہاسٹل خالی کرنے میں مزاحمت کررہے تھے۔ جمعیت ترجمان سے رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل بھی پر تشدد مظاہرے کر چکی ہے جن کے دوران جمعیت ارکان نجی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچاتی آئی ہے۔


اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے گزشتہ ہفتے شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی پر دھاوا بولا اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ سے بد تمیزی کی۔ شعبہ کے سینئر طلبہ نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہنے اور تعارف حاصل کرنے کے لئے معمول کی ریگنگ کر رہے تھے جب اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان احسن رضا اور محسن لغاری نے ساتھیوں سمیت شعبہ کی حدود میں زبردستی داخل ہو کر سینئر طلبہ سے بدکلامی شروع کر دی۔ موقع پر موجود طلبہ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر جمعیت کے ارکان نے بعض طلبہ کو گریبان سے پکڑ کر ڈرایا دھمکایا اور نازیبا زبان استعمال کی۔ طلبہ کے مطابق شعبہ کے اساتذہ کی آمد اور ان کے روکنے پر جمعیت کے ارکان نے ان سے بھی بد تمیزی کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
شعبہ فلسفہ میں ایم فل کے طالب علم مطہر بخاری کا کہنا ہے کہ جونئیر طلبہ سے تعارف حاصل کرنے کی روایت کا مقصد صرف نئے آنے والوں کو ڈیپارٹمنٹ کے ماحول اور سینئرز سے متعارف کرانا ہے اور ایسا ڈیپارٹمنٹ انتظامیہ کی اجازت سے کیا جاتا ہے۔مطہر کے مطابق وقعے کے روز بھی سینئرز نئے آنے والوں سے ان کے نام، مشاغل اور سابقہ تعلیمی ریکارڈجیسی باتیں پوچھ رہے تھے جب جمعیت کے ارکان نے ڈیپارٹمنٹ میں گھس کر طلبہ کو ڈرایا دھمکایا اور بعد ازاں اساتذہ کے لئے بھی نامناسب زبان استعمال کی۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے ریگنگ کو غیر اسلامی قرار دیا اور آئندہ بھی ایسی سرگرمیوں کو بزور طاقت روکنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہاسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی کے ماحول کو بے راہ روی سے بچانے کی کوشش جاری رکھے گی۔ اس واقعے کے دوران موقع پر موجود ایک اور طالب علم نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ فلسفہ کے ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کوشش دانستہ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا جمعیت تعلیمی سال کے شروع ہوتے ہی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے تاکہ نئے آنے والے طلبہ بھی جمعیت کی موجودگی سے باخبر ہو جائیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس سے پہلے 2011 میں بھی شعبہ فلسفہ کے طلبہ پر تشدد اور اساتذہ سے بدتمیزی کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ اور طلبہ نے دو روز تک احتجاجاً تدریسی سرگرمیاں معطل رکھی تھیں۔
(پریس ریلیز+سٹاف رپورٹر)
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ پر مشتمل انسپکشن ٹیم کو بوائز ہاسٹل نمبر 15میں تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے غیر قانونی طور پر مقیم ارکان کے زیرِاستعمال ہاسٹل نمبر 15کے چھ کمرے ڈبل لاک کئے گئے تھے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان حافظ واجد، تنزیل الرحمن ،عدنان سعید، اسامہ اور عبدالکبیر نے چئیر مین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر کی سربراہی میں ہونے والی کاروائی کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بند کئے گئے کمروں کو دوبارہ کھول لیا ۔ موقع پر موجود طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے اساتذہ کے لئے نازیبا زبان استعمال کی اور احتجاج اور توڑ پھوڑ کی دھمکیاں دیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے واقعے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے لاہور پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت کے خلاف کاروائی کی صورت میں ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیاہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ جامعہ پنجاب حافظ عبدالمقیت اور ارکان شوریٰ بھی موجود تھے۔جمعیت کے ارکان کا کہنا تھا کہ جمعیت کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ملک میں انتشار کا باعث بنے گی۔
ترجمان جامعہ پنجاب کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی کاروائی اسلامی جمعیت ِ طلبہ کی معاونت سے یونیورسٹی میں مقیم القاعدہ رکن کی گرفتاری کے بعد حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق جمعیت کے ارکان دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں میں ہیں اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ تین دہائیوں سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسلامی جمعیت ِطلبہ غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی ارکان غیر قانونی طور پر ہاسٹلز میں مقیم ہیں۔ ماضی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم ارکانِ جمعیت کو ہاسٹلز سے مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔
(پریس ریلیز+سٹاف رپورٹر)
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ پر مشتمل انسپکشن ٹیم کو بوائز ہاسٹل نمبر 15میں تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف تلاشی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے غیر قانونی طور پر مقیم ارکان کے زیرِاستعمال ہاسٹل نمبر 15کے چھ کمرے ڈبل لاک کئے گئے تھے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان حافظ واجد، تنزیل الرحمن ،عدنان سعید، اسامہ اور عبدالکبیر نے چئیر مین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر کی سربراہی میں ہونے والی کاروائی کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بند کئے گئے کمروں کو دوبارہ کھول لیا ۔ موقع پر موجود طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے اساتذہ کے لئے نازیبا زبان استعمال کی اور احتجاج اور توڑ پھوڑ کی دھمکیاں دیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے واقعے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے لاہور پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت کے خلاف کاروائی کی صورت میں ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیاہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ جامعہ پنجاب حافظ عبدالمقیت اور ارکان شوریٰ بھی موجود تھے۔جمعیت کے ارکان کا کہنا تھا کہ جمعیت کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ملک میں انتشار کا باعث بنے گی۔
ترجمان جامعہ پنجاب کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی کاروائی اسلامی جمعیت ِ طلبہ کی معاونت سے یونیورسٹی میں مقیم القاعدہ رکن کی گرفتاری کے بعد حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق جمعیت کے ارکان دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں میں ہیں اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ تین دہائیوں سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسلامی جمعیت ِطلبہ غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی ارکان غیر قانونی طور پر ہاسٹلز میں مقیم ہیں۔ ماضی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم ارکانِ جمعیت کو ہاسٹلز سے مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔