Categories
اداریہ

جامعہ کراچی کے طلبہ کے لیے آواز کون اٹھائے گا

[blockquote style=”3″]

مدیر کے نام خطوط قارئین کی جانب سے بھیجے گئے خطوط پر مشتمل سلسلہ ہے۔ یہ خطوط نیک نیتی کے جذبے کے تحت شائع کیے جاتے ہیں۔ ان میں فراہم کی گئی معلومات اور آراء مکتوب نگار کی ذاتی آراء اور ذمہ داری ہیں جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی قسم کی غلط بیانی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔

[/blockquote]

letters-to-the-editor-featuredجامعہ کراچی کے مرکزی دروازے سے جسے بالعموم سلور جوبلی کے نام سے جانا جاتا ہے، اگر داخل ہوا جائے تو فرلانگ بھر کے بعد سیدھے ہاتھ پر کلیہ سماجی علوم (Faculty of Social Science) شروع ہوجاتا ہے۔ جامعہ کا سب سے پرانا اور مشہور شعبہ بین الاقوامی تعلقات جو جامعہ کے چہرے کی مانند ہے وہ بھی اس ہی کلیہ میں شامل ہے۔ ہاکی گراونڈ کے مد مقابل زمینی قطبے پر سرخ پتھروں سے لکھا 1985 اس شعبہ کی عمر متعین کرتا ہے۔ درحقیقت اس شعبہ کی تاریخ سنہری حروف سے سجی ہے، جس نے پچھلی چھ دہائیوں میں اس ملک کو لازوال علمی سرمایہ اور مایہ ناز طالب علم فراہم کیے ہیں، جنہوں نے متعدد شعبہ ہائے زندگی میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق امتحانات میں شرکت سے محروم کیے گئے طلبہ میں ایک نو مہینے کی حاملہ خاتون اور نفسیاتی مسائل کی بنا پر دو ماہ گھر سے نہ نکلنے والی ایک طالبہ بھی ہے۔
بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصے سے یہ شعبہ سماجی رابطوں کی مختلف سائٹس اور اخبارات کے بلاگز میں منفی خبروں کے حوالے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ اس شعبہ کا طالب علم ہونے اور کچھ عرصے اس کے ساتھ بطور مدرس وابستہ رہنے کے ناطے ان خبروں کو پڑھ کر افسوس تو ہوا ہی مگر ساتھ ساتھ ان خبروں پر طلبہ ردِ عمل دیکھ کر حیرانی بھی ہوئی۔ عجیب صورتحال تھی کہ دل ایک طرف ان خبروں کے بے بنیاد ہونے اور اپنے محسن اساتذہ کے صادق اور رحم دل ہونے کے علاوہ کچھ اور ماننے کو تیار نہیں تھا۔ دوسری طرف دماغ ان ہی اساتذہ کے سکھائے ہوئے اصولوں اور لاتعداد احتجاجی شاگردوں کے تاثرات کے تناظر میں ہر چیز کو سرے سے رد کرنے کو بھی تیار نہیں تھا۔ کچھ عرصے پہلے اس شعبہ کے حوالے سے سامنے والی خبریں بھی نظر سے گزریں جن میں شعبہ میں موجود ان حیوانوں کی نشاندہی کی گئی جو شفقت کی آڑ میں اپنی شہوانی بھوک مٹاتے ہیں۔ اس ضمن میں خواتین کو بااختیار بنانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں:

 

1۔ میں ذاتی حیثیت میں جنسی ہراسانی کے جرائم کم کرنے کے لیے عورت کو با اختیار بنانا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ وہ ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھا سکے اور ایسے واقعات میں قانونی چارہ جوئی کر سکے۔ ان حیوانوں کی نشاندہی کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ ان کا ظاہر بھی ان کے باطن کی طرح سیاہ ہوچکا ہے۔
2۔ ہمارے معاشرے میں عموماً متاثرہ فرد کی شنوائی کی بجائے مجرمان کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے کیوں کہ جنسی جرائم کی وجوہ عموماً متاثرہ خاتون یا فرد کے طرزعمل میں تلاش کی جاتی ہیں۔

 

ان سطور کو لکھنے کی وجہ جو اطلاع بنی ہے وہ کچھ اساتذہ کی طرف سے سالِ آخر کے طلبہ کو امتحانات میں نہ بیٹھنے دینا ہے۔ گو کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طالبِ علم کی حاضری کے حوالے سے مفصل پالیسیاں موجود ہیں اور طالبِ علم خود بھی ان پالیسیوں کے ہوتے ہوئے لااوبالی پن اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امتحانات میں شرکت سے محروم کیے گئے طلبہ میں ایک نو مہینے کی حاملہ خاتون اور نفسیاتی مسائل کی بنا پر دو ماہ گھر سے نہ نکلنے والی ایک طالبہ بھی ہے۔ اپنی باغی طبیعت کے پیش نظر اس سلسلے میں ذاتی ذرائع سے تھوڑی چھان بین بھی کی۔ ذاتی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات حیران کن بھی ہیں اور تشویش ناک بھی۔ ایک لمحے کے لیے یقین نہ آیا کے بے حسی کا یہ مظاہرہ کچھ ایسے اساتذہ کی جانب سے تھا جو اپنی نرم گوئی اور مذہبی رجحانات کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ متعدد ذرائع سے جب ایک ہی جیسی معلومات ملیں تو یقین ہو چلا کہ اس واقعے میں طلبہ کتنے ہی غلط کیوں نہ تھے، اساتذہ کی جانب سے صریح زیادتیاں کی گئیں۔ شروع میں صرف ان دو خواتین سے ہمدردی تھی مگر آہستہ آہستہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے طالبِ علموں سے ان کے کمزور ہونے کا انتقام لیا جارہا ہو۔

 

اچھنبے کی بات یہ ہے کہ چند اساتذہ نے غیرحاضری کی بناء پر متاثر ہونے والے طلبہ کے امتحانات لیے جب کہ باقی نے متاثرہ طلبہ کو امتحانات میں شریک ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ انتظامیہ سے کوئی یہ پوچھے کہ ایسی کون سی پالیسیاں ہیں جن سے کچھ اساتذہ تو واقف ہیں اور باقی نابلد ہیں۔ کیا متعلقہ ذمہ داران اس امر کی تشریح فرما سکتے ہیں کہ ان پالیسیوں کا اطلاق صرف ایک مخصوص جماعت کے طلبہ پر کیوں کیا جا رہا ہے؟ طلبہ کی حاضری لینے کا نظام بھی شفاف نہیں اور اس میں بعض طلبہ کو اساتذہ سے ذاتی روابط کی بناء پر فائدہ بھی پہنچایا جاتا ہے۔ کیا اس میں حقیقت نہیں کہ متعدد اساتذہ اپنی پیشاورانہ ذمہ داریاں بھی اپنے شاگردوں کو تفویض کرتے ہیں۔ اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ کمرہ جماعت میں بیٹھے ہوئے درجنوں طلبہ میں سے کون حقیقی ہے اور کون جعلی؟ جب طالبِ علم خود ہی حاضری لیں گے، تو کیا دوستی یاری، سیاسی وابستگیاں اور استاد کی پسند ناپسند حاضری شیٹ پر منتقل نہیں ہوگی؟ انتظامی امور ایک طرف، سوال یہ ہے کہ کیا آج کا استاد حاملہ عورت اور میڈیکل سرٹیفیکٹ لہراتی ایک مریضہ میں اور باقی طالبِ علموں میں تفریق نہیں کر سکتا؟ بے حسی کا یہ مظاہرہ کیا ایسی مریضہ کے لیے مزید نقصان دہ ثابت نہ ہوگا جو علاج اور ادویات کے زیرِ اثر ہے؟

 

اچھنبے کی بات یہ ہے کہ چند اساتذہ نے غیرحاضری کی بناء پر متاثر ہونے والے طلبہ کے امتحانات لیے جب کہ باقی نے متاثرہ طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
جامعہ کے اساتذہ جو بلوغتِ فکر کی معراج پر فائز ہونے چاہیئں کیا ہم ان سے اس بات کی بھی امید نہیں کر سکتے کہ یہ حضرات اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے عملی پختگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے؟ ذاتی پسند ناپسند، مذہبی رجحانات اور دائیں اور بائیں بازو کی سیاست ایک طرف، کیا اب جامعہ کے استاد کو حاملہ عورت کی ظاہری حالت باور کرانی پڑے گی تاکہ وہ حاضری سے استثنیٰ حاصل کر سکے۔ ایک مریضہ کی بیماری کو قہقہوں اور چائے کی پیالی کی سیاست کی نظر کردیا جائے۔

 

اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کا جبر یہیں تک محدود نہیں۔ اطلاع یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی موجودہ یا فارغ التحصیل طالب علم اگر اس کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہوا پایا گیا تو ان کی اسناد یا تو ضبط کرلی جائیں گی یا رد کردی جائیں گی۔ گویا یہ طلبہ جو تمام قانونی تقاضے پورے کر چکے ہیں، انتظامیہ کی ہر طرح سے منت سماجت کر چکے ہیں اب ان سے احتجاج کا جمہوری حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ آپ کے رسالے کی توسط سے میں ارباب اختیار کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں اور یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ ان طلبہ کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

 

شکریہ
فقط
ایک استاد
Categories
نقطۂ نظر

جامعہ کراچی کی ڈائری

علی محمد جان
جامعہ کراچی کا شمار ملک کی عظیم درسگاہوں میں ہوتا ہے۔ ایک برطانوی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی دنیا کی صف اول کی 700 جامعات میں سے ایک ہے۔ ایشیاء کی 300 بڑی اور معیاری جامعات کی درجہ بندی میں جامعہء کراچی 246 ویں نمبر پر ہے۔ اس عظیم تعلیمی ادارے کی بنیاد قیام پاکستان کے چار سال بعد جون 1951 میں رکھی گئی۔ ابتدا میں صرف چار شعبوں میں درس و تدریس کا آغاز کیا گیا اور آج یہ ملک کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے۔ 1279 ایکڑ زمین پر محیط موجودہ کیمپس کا قیام 1959 میں عمل میں آیا تھا۔ جامعہ کراچی میں اس وقت مندرجہ ذیل چھے فیکلیٹیز تدریس کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں:

 

فیکلٹی آف سائنس
فیکلٹی آف سوشل سائنسز(جو پہلے فیکلٹی آف آرٹ کہلاتی ہے)
فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن سائنس
فیکلٹی آف انجنیرنگ
فیکلٹی آف فارمیسی
اس کے علاوہ قانون کی تدریس کا بھی اجراء کیا جاچکا ہے۔

 

ان چھے فیکلٹیز میں کل 52 شعبہ جات ہیں جن میں 31,000 سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں طلبہ جو ملازمت یا کسی اور وجہ سے باقاعدہ داخلہ نہیں لے سکتے وہ پرائیویٹ امتحانات دے کر ڈگری حاصل کرسکتے ہیں۔ جامعہ کراچی ہر سال ایسے ہزاروں پرائیویٹ طلبہ کو ڈگریاں عطا کرتی ہے۔ جامعہ کراچی کے ساتھ الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 145 ہے۔ ان میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان طلبہ کے لیے امتحانی پرچے ترتیب دینا، نتیجہ تیار کرنا اور ڈگریاں فراہم کرنا جامعہ کے شعبہ امتحانات کی ذمہ داری ہے۔

 

جامعہ کراچی میں سیکیورٹی صورتحال
جامعہ کراچی میں آمدورفت کے لیے پانچ داخلی دروازے ہیں۔ ان داخلی دروازوں پر سیکیورٹی اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے سیکورٹی عملہ موجود ہے جس کی تعداد 120 ہے جن میں 10 خواتین بھی شامل ہیں2۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی یہ تعداد جامعہ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ناکافی اور غیر تربیت یافتہ ہے۔

 

جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے کارکنان میں لڑائی جھگڑوں پر قابو پانے اور امن امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے پہلی بار 1989 میں500 رینجرز اہلکاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیاتھاجو 26 سال گزرنے کے باوجود امن و امان کی فضا کو بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ رینجرز کی تعیناتی کے باوجود طلبہ تنظیموں میں تصادم اور خونی واقعات کو روکا نہیں جا سکا۔

 

جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے کارکنان میں لڑائی جھگڑوں پر قابو پانے اور امن امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے پہلی بار 1989 میں500 رینجرز اہلکاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیاتھاجو 26 سال گزرنے کے باوجود امن و امان کی فضا کو بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
27 اکتوبر 2008 کو دو طلبہ تنظیموں میں ہونے والے تصادم میں تین طالب علم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان تنظیموں (اے پی ایم ایس او اور اسلامی جمیعت طلبہ) کے درمیان ہونے والے تصادم کے دوران لوہے کی سلاخوں، پتھروں اور ڈنڈوں کے علاوہ اسلحہ بھی استعمال کیا گیا۔ مندرجہ بالا سانحہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی فرد آسانی سے اسلحہ لے کر جامعہ کی حدود میں داخل ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل 2007 میں اسی نوعیت کے واقعے میں 12 طالب علم زخمی ہوگئے تھے۔

 

28 دسمبر 2010 میں اسی نوعیت کے ایک اور واقعے کے دوران ایک مذہبی طلبہ تنظیم (آئی ایس او) کے اسٹینڈ کے پاس عین اس وقت دھماکہ ہوا جب اس مسلک کے طالب علم باجماعت نماز ادا کر رہے تھے۔ اس دھماکے میں پانچ طالب علم شدید زخمی ہوگئے تھے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق اس دھماکے میں 200 گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
سال 2011 میں دو طلبہ تنظیموں میں تصادم کے نتیجے میں 11 طالب علم زخمی ہوگئے تھے۔ دونوں گروہوں کی جانب سے لوہے کے راڈ، پتھر اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی۔ تصادم کی وجہ مختلف شعبوں میں کی جانے والی وال چاکنگ تھی۔

 

ان واقعات کے باوجود جامعہ میں مذہبی و سیاسی طلبہ تنظیموں کو دیگر تعلیمی اداروں کی نسبت خاصی آزادی حاصل ہے۔ یہاں طلبہ تنظیمیں اپنے لیے ’’اسٹینڈ‘‘ بناتی ہیں جن کے گرد سیمنٹ سے بنی بینچ لگاکر ’’قبضہ‘‘ کی ہوئی جگہ کو جھنڈوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ اسٹینڈ تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے۔ کسی بھی تنظیمی اسٹینڈ کے آس پاس کسی دوسری تنظیم کا فرد پوسٹر نہیں لگا سکتا۔ ہر تنظیم ماہانہ بنیادوں پر کوئی نہ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے۔ جس کے لیے باقاعدہ پوسٹر اور بینر لگائے جاتے ہیں۔ یہ پوسٹرز یونیورسٹی کے ہر شعبے کی دیواروں پر لگائے جاتے ہیں۔ وائس چانسلر کا دفتر، کینٹین اور غسل خانے بھی ان پوسٹرز سے محفوظ نہیں۔ یہ نہ صرف عمارتی حسن کو گہنہا دیتے ہیں بلکہ اکثر تصادم کا باعث بھی بنتے ہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ میں آٹھ مذہبی و سیاسی طلبہ تنظیموں کے ’’اسٹینڈ‘‘ موجود ہیں۔

 

اخباری اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیموں کے علاوہ جامعہ کراچی میں دو کالعدم تنظیمیں (سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ) بھی سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف دیواروں پر چاکنگ کرتی ہیں بلکہ جامعہ کے حدود میں اسٹڈی سرکلز کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیموں کے علاوہ جامعہ کراچی میں دو کالعدم تنظیمیں (سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ) بھی سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف دیواروں پر چاکنگ کرتی ہیں بلکہ جامعہ کے حدود میں اسٹڈی سرکلز کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔ خبر میں یہ بتایا گیا ہے کہ جامعہ کی ایک معلمہ ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ دوسری کالعدم تنظیم کی حمایت میں شعبہ انگریزی اور کمیسٹری کے دو اساتذہ کھلم کھلا بات کرتے ہیں۔ خبر کے مطابق ان میں سے ایک استاد دوران تدریس کھلم کھلا تنظیم سے وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ ان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دونوں تنظیموں کے کارکنان کے مابین یونیورسٹی کی مرکزی مسجد پر غلبہ پانے کے معاملے پر تصادم بھی ہو چکا ہے۔

 

جامعہ کی حدود میں موجود ہاسٹل میں مقیم طالبات کے ساتھ نقدی اور قیمتی اشیاء چھیننے کے دو مختلف واقعات حال ہی میں رپورٹ کیے گئے ہیں۔ فروری کے مہینے میں رات آٹھ بجے شعبہ حیوانیات کی طالبہ سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی جبکہ دوسرے واقعے میں ایک نامعلوم مسلح شخص شعبہ انگریزی کی طالبہ سے موبائل فون چھین کر فرار ہوگیا۔
ان واقعات اور تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں جامعہ کے استاد، ماہر سماجیات و جرمیات ڈاکٹر فتح محمد برفت جو 1970کی دہائی میں جامعہ کراچی کے طالب علم بھی تھے کا کہنا ہے کہ ’’کیمپس کے اندر لڑائی جھگڑے کا کوئی واقعہ خال خال ہی رونما ہوتا تھا۔ خصوصاً یونین کے انتخابات کے دوران لڑائی ہوتی تھی مگر کسی طالب علم کے جسم پر خراش تک نہیں آتی تھی۔ یہ نظریاتی لڑائی تھی۔ انتخابات کے بعد دائیں بازو اور بائیں بازو کی دونوں تنظیموں (این ایس ایف اور جمیعت) کے کارکنان ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے۔” واضح رہے کہ 9 فروری 1984کو فوجی آمر ضیاالحق نے ملک بھر میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں ترقی پسند طلبہ تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مذہبی طلبہ تنظیموں کے کارندوں کو جامعہ کے اندر سرگرم ہونے کا موقع دیا گیا۔ صوبہ سندھ میں طلبہ یونین کو 1979 میں ہی غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

 

رینجرز کی کارکردگی موثر کیوں نہیں؟
ان واقعات کے پیش نظر یہ بات پوچھی جاسکتی ہے کہ جامعہ میں رینجرز کی کارکردگی کتنی موثر رہی ہے اور وہ امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اول تو سیکیورٹی اہلکاروں اور رینجرز کی موجودگی میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آنا چاہیئے اور اگر پیش آتا بھی ہے تو رینجرز کو فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورت حال کو قابو میں لانا چاہیئے۔ تنظیموں کے مابین ہونے والے تصادم میں رینجرز پہنچنے میں اتنی دیر لگاتی ہے کہ تب تک حالات قابو سے باہر ہو چکے ہوتے ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار گھنٹوں بعد جائے ورادات پر پہنچتے ہیں، وہاں آس پاس موجود کسی بھی طالب علم کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ مختلف واقعات کے دوران جامعہ کی حدود میں فائرنگ کرنے والے افراد میں سے کبھی کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ رینجرز اور سیکیورٹی کا عملہ ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود مسلح طلبہ کا یونیورسٹی میں داخل ہونا ایک تشویش ناک امر ہے۔

 

جب یہ سوالات جامعہ کراچی کے سیکیورٹی سپروائزر آصف کے سامنے رکھے گئے تو ان کا یہ کہنا تھا کہ رینجرز صرف سیکیورٹی عملے کی ’معاونت‘ کے لیے موجود ہے۔ سیکیورٹی عملے کے پاس تربیت اور جدید آلات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

 

رینجرز کے برتاؤ سے اکثر طلبہ ناخوش نظر آتےہیں۔ وہ طلبہ جن کی کسی سیاسی و مذہبی طلبہ تنظیم سے وابستگی نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ رینجرز کا رویہ تنظیموں سے وابستہ لڑکوں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے جبکہ عام طالب علم کے ساتھ مختلف ہوتا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک طالب علم نے بتایا کہ داخلی دروازوں پر ڈیوٹی پر مامور رینجرز اور سیکیورٹی اہلکار عام طلبا کی موٹر سائیکل رکوا کر وہیں پارک کراتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تقریباً ادھا گھنٹہ پیدل چل کر اپنے شعبے تک پہنچنا پڑتا ہے جبکہ طلبہ تنظیموں سے منسلک افراد کی سواریاں روک ٹوک کے بغیر یونیورسٹی حدود میں داخل ہو جاتی ہیں۔ جب یہ سوال سیکیورٹی سپروائزر سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تنظیموں کے اراکین رینجرز کے ساتھ تعلقات بڑھاتے ہیں اور سلام دعا رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے دوسرے طلبا کو یہ لگتا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جامعہ میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں بعض طلبہ تنظیموں کے اراکین کا اہم کردار ہے۔ جامعہ کے مرکزی دروازے اور تدریسی شعبہ جات کے درمیان 15 سے 20 کلو میٹر کا فاصلہ ہے جو اکثر طلبا پیدل طے کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک جامعہ کے اندر شٹل سروس موجود تھی جو طلبہ کو داخلی دروازوں سے متعلقہ شعبوں تک پہنچاتی تھی۔

 

جامعہ کراچی؛ چند سماجی مسائل
جامعہ کی حدود میں سگریٹ، چھالیہ اور گٹکے کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ تقریباً ہر کینٹین پر سگریٹ اور چھالیہ دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کو بھی سیکیورٹی کے سلسلے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ میں سے 60 فیصد سے زائد تعداد طالبات کی ہے۔ جامعہ کراچی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی خبریں بھی اخباروں کی زینت بن چکی ہیں۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد اخباری اطلاعات سے کہیں زیادہ ہے لیکن بہت سی طالبات ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتیں۔
گزشتہ برس 15 جنوری کی ایک خبر کے مطابق شعبہ سماجی بہبود (سوشل ورک) کے ایک استاد کے خلاف کچھ طالبات نے جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس سے قبل شعبہ اردو کے ایک پروفیسر کے خلاف بھی جنسی ہراسانی کی شکایت سامنے آئی تھی۔ اعترافِ جرم کے بعد سینڈیکیٹ کی میٹنگ میں پروفیسر صاحب کو عارضی طور پر معطل کیاگیا تھا جنہیں بعد ازاں بحال کر دیاگیا۔

 

Karachi-University-bus-Laaltain

ان دنوں جامعہ میں ’’وین مافیا‘‘ سرگرم عمل ہے جو طلبہ کو پک اینڈ ڈراپ کی ’’سہولت‘‘ فراہم کرتا ہے۔ ہر وین سے یونیورسٹی انتظامیہ ماہانہ 6,000 روپے وصول کرتی ہے۔ سیکیورٹی سپروائزر آصف کے مطابق یہ پیسے جامعہ کے اکاونٹ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ پیسے کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس سے انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ چندسال پہلے تک جامعہ کی درجنوں بسیں طلبہ کو آمدورفت کی سہولیات مہیا کرتی تھیں جو یکایک غائب ہوگئی ہیں اور ان کی جگہ پرائیویٹ وین سروس والوں نے لی ہے۔ جامعہ کے کئی ملازمین کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ ان میں مالی اور چپڑاسی بھی شامل ہیں۔ ایک تیر دو شکار کے مصداق یہ اپنی تنخواہیں بھی وصول کرتے ہیں اورساتھ ساتھ ڈیوٹی کے اوقات میں جامعہ کے اندر رکشہ بھی چلاتے ہیں۔ ان رکشوں کا کام چند سال پہلے تک شٹل سروس سے لیا جاتا تھا جو اب نظر نہیں آتی۔ رکشے والے ڈیپارٹمنٹ سے گیٹ تک 50 سے 100 روپے کرایہ لیتے ہیں۔ ان رکشوں سے متعلق سیکیورٹی خدشات پر سیکیورٹی انتظامیہ کا جواب سمجھ سے بالاتر ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ‘چند غریب لوگوں کی روزی کا انتظام ہورہا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔’

 

داخلی دروازوں پر ڈیوٹی پر مامور رینجرز اور سیکیورٹی اہلکار عام طلبا کی موٹر سائیکل رکوا کر وہیں پارک کراتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تقریباً ادھا گھنٹہ پیدل چل کر اپنے شعبے تک پہنچنا پڑتا ہے جبکہ طلبہ تنظیموں سے منسلک افراد کی سواریاں روک ٹوک کے بغیر یونیورسٹی حدود میں داخل ہو جاتی ہیں۔
گزشتہ دنوں جامعہ کے حدود میں ایک اور افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پوائنٹس ٹرمنل کے قریب کچھ لڑکے اور لڑکیاں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مذہبی طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ کے اراکین نے آکر لڑکوں کومارنا شروع کردیا جب لڑکیوں نے بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی زد میں آگئیں۔ اس کے بعد جمعیت اور آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے درمیان تصادم کے دوران تین طلبا زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد بھی سیاستدانوں کی جانب سے رسمی مذمت کی اطلاعات آئیں اور گورنر سندھ عشرت العباد نے شیخ الجامعہ کو واقعے کی انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

 

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ رینجرزاور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری کی موجودگی میں جامعہ کے اندر ایسے واقعات کیسے ہوتے ہیں اور ذمہ داران کے خلاف بروقت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟کچھ واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جامعہ کا عملہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان واقعات میں ملوث ہوتا ہے۔ اس کی واضح مثال رواں برس فروری میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت جامعہ کراچی کے قابل اور اچھے نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو ملنے والے لیپ ٹاپس میں سے درجنوں غائب ہونا ہے۔ گزشتہ برس اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں دو ہزار تیار شدہ ڈگریاں نامعلوم افراد رات کے اندھیرے میں چراکر فرار ہوگئے مگر ان کا سراغ نہیں مل سکا۔ جہاں تک امن و امان کی صورت حال کا تعلق ہے اس کی خرابی کی گواہی تسلسل کے ساتھ آنے والے ناخوشگوار واقعات دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے جامعہ کراچی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں:
بقول جون ایلیا
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے