Categories
اداریہ

ہاسٹل 16پر جمعیت کا ناجائز قبضہ ختم، جمعیت ارکان نے احتجاجاً مسافر بس نذرِآتش کر دی

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل پرقائم اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کا قبضہ پولیس کاروائی کے دوران ختم کرا لیا گیا اور 17ارکانِ جمعیت کو گرفتار کر لیا گیا۔اس گرفتاری کے خلاف جمعیت ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے مسافر بس کو نذرِآتش کر دیا اور سڑک بلاک کر دی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہاسٹل نمبر 16 پنجاب یونیورسٹی کی طالبات کو الاٹ کرنے کے لئے طلبا سے خالی کرا لیا گیا تھا تاہم ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم جمعیت کے ارکان نے ہاسٹل خالی کرنے سے انکار کردیا اور جمعہ 29 نومبر کو لاء کالج میں اساتذہ کو یرغمال بنا کر طلبہ کو ڈرایا دھمکایا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی پریس کانفرنس اور ہاسٹل خالی کرانے کی کوششوں کے خلاف جمعیت کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کینال روڈ بلاک کر دی اور ایک مسافر بس کو نذرِ آتش کر دیا-
یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی درخواست کے نتیجے میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے جمعیت کا ہاسٹل 16 سے قبضہ ختم کرالیااور 13غیر قانونی طور پر مقیم جمعیت ارکان کو گرفتار بھی کر لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جمعیت ترجمان کے کمرے سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔پولیس پر کئے گئے پتھراو کے نتیجے میں مزید 4 ارکانِ جمعیت کو گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے جمعیت ارکان نے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور ٹریفک روک کر مظاہرہ شروع کر دیا۔ مظاہرے کے دوران مشتعل ارکانِ جمعیت نے ایک مسافر بس روک کر اس کے مسافروں کو نکال کر بس نذرِ آتش کر دی۔

پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا مشہود نے صحافیوں سے گحتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ تنظیمیں غیر قانونی ہیں، کسی کو تعلیمی ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ذمہ دار طلبہ کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔ ہاسٹل 16 کے سابق رہائشی انصر علی نے لالٹین سے گحتگو کرتے ہوئے کہا کہ16 نمبر ہاسٹل خالی کرنے والے تمام قانونی طلبہ کو نئے ہاسٹلز میں کمرے الاٹ کر دیے گئے ہیں صرف جمعیت کے ارکان ہاسٹل خالی کرنے میں مزاحمت کررہے تھے۔ جمعیت ترجمان سے رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل بھی پر تشدد مظاہرے کر چکی ہے جن کے دوران جمعیت ارکان نجی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچاتی آئی ہے۔


Categories
خصوصی

لاء کالج : جمعیت نے اساتذہ یرغمال بنا لئے، “اصل معاملہ ہاسٹلز اور کیمپس پر اجارہ داری کا ہے”طلبہ

سٹاف رپورٹر+پریس ریلیز
گزشتہ ہفتے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں عدم ادائیگیِ واجبات پر کینٹین کی بندش اور ہاسٹل 16 کی گرلز ہاسٹل میں تبدیلی پر احتجاج کرتے ہوئے اسلامی جمعیتِ طلبہ نے اساتذہ کو یرغمال بنا کر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یونیورسٹی املاک کو نقصان پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے واجبات ادا نہ کرنے والی کینٹین بند کرنے کا فیصلہ کیا جو اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کو اشیائے خوردو نوش مہیا کرتی رہی ہے۔ جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس دوران دیگر طلبہ کو ڈراتے دھمکاتے رہے اور اسلحے کی نمائش کی جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی آمد پر اساتذہ کو رہائی نصیب ہوئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے اپنے مطالبات کی حمایت میں کینال روڈ کو تین گھنٹے تک بند رکھا،جسے پولیس کی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا ہے۔

 سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کر ادیے ہیں اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ دار کارکنان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جمعیت کے کارکنان کی طرف سے 16 نمبر ہاسٹل کے کچھ کمروں پر غیر قانونی قبضہ جاری ہے، جس وجہ سے طالبات کو ہاسٹل الاٹ کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کی کثیر تعداد جمعیت کی ہٹ دھرمی کے باعث ہاسٹل الاٹمنٹ سے محروم ہے۔
جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعات کو غلط رنگ دیا ہے اور جمعیت کے ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی پریس ریلیز کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے سچ ظاہر ہو چکا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جمعیت کے مسلح ارکان نے فیکلٹی روم پر دھاوا بولا اور کیمروں کا رخ موڑ دیا تا کہ اصلیت کو چھپایا جا سکے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے اس اقدام کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ لاء کالج کے ایک طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹلز پر اجارہ داری کا ہے۔ جمعیت کے ارکان ہاسٹلز الاٹمنٹ، کینٹین کے ٹھییکوں کی نیلامی اور تعیناتی جیسے معاملات میں اپنی اجارہ داری چاہتی ہے اس لئے ایسے ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے۔ تاہم جمعیت ارکان کے مطابق جمعیت طلبہ کی نمائندگی کر رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ پر مقدمات قائم کر کے یونیورستی کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر رہی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل کار چوری، تشدد اور دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کو پناہ دینے جیسے سنگین جرائم میں مبینہ طور پر ملوث رہی ہے۔
Categories
اداریہ

لاء کالج : جمعیت نے اساتذہ یرغمال بنا لئے، "اصل معاملہ ہاسٹلز اور کیمپس پر اجارہ داری کا ہے"طلبہ

سٹاف رپورٹر+پریس ریلیز
گزشتہ ہفتے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں عدم ادائیگیِ واجبات پر کینٹین کی بندش اور ہاسٹل 16 کی گرلز ہاسٹل میں تبدیلی پر احتجاج کرتے ہوئے اسلامی جمعیتِ طلبہ نے اساتذہ کو یرغمال بنا کر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یونیورسٹی املاک کو نقصان پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے واجبات ادا نہ کرنے والی کینٹین بند کرنے کا فیصلہ کیا جو اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان کو اشیائے خوردو نوش مہیا کرتی رہی ہے۔ جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس دوران دیگر طلبہ کو ڈراتے دھمکاتے رہے اور اسلحے کی نمائش کی جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی آمد پر اساتذہ کو رہائی نصیب ہوئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے اپنے مطالبات کی حمایت میں کینال روڈ کو تین گھنٹے تک بند رکھا،جسے پولیس کی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا ہے۔

 سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک منظر، جمعیت کے ارکان دھاوا بولتے ہوئے۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کر ادیے ہیں اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ دار کارکنان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جمعیت کے کارکنان کی طرف سے 16 نمبر ہاسٹل کے کچھ کمروں پر غیر قانونی قبضہ جاری ہے، جس وجہ سے طالبات کو ہاسٹل الاٹ کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کی کثیر تعداد جمعیت کی ہٹ دھرمی کے باعث ہاسٹل الاٹمنٹ سے محروم ہے۔
جمعیت کے مسلح ارکان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے جمعہ کو لاءکالج پر دھاوا بول دیا اور دو اساتذہ نعیم اللہ اور عمران عالم کو فیکلٹی روم میں بند کر کے اپنی شناخت چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعات کو غلط رنگ دیا ہے اور جمعیت کے ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی پریس ریلیز کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے سچ ظاہر ہو چکا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جمعیت کے مسلح ارکان نے فیکلٹی روم پر دھاوا بولا اور کیمروں کا رخ موڑ دیا تا کہ اصلیت کو چھپایا جا سکے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے اس اقدام کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ لاء کالج کے ایک طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹلز پر اجارہ داری کا ہے۔ جمعیت کے ارکان ہاسٹلز الاٹمنٹ، کینٹین کے ٹھییکوں کی نیلامی اور تعیناتی جیسے معاملات میں اپنی اجارہ داری چاہتی ہے اس لئے ایسے ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے۔ تاہم جمعیت ارکان کے مطابق جمعیت طلبہ کی نمائندگی کر رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ پر مقدمات قائم کر کے یونیورستی کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر رہی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ اس سے قبل کار چوری، تشدد اور دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کو پناہ دینے جیسے سنگین جرائم میں مبینہ طور پر ملوث رہی ہے۔