Categories
نقطۂ نظر

سرل کی خبر؛ انجام شرمناک بھی ہو سکتا ہے

youth-yell

سرل کی خبر پر تبصرہ کرنے والا کوئی رہ تو نہیں گیا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو درکار تفصیلات کے ساتھ مطلع کیجئے گا۔ محروم خواتین و حضرات سے دست بدستہ درخواست کی جائے گی کہ وہ بھی حصہ بقدر جثہ ڈال کر ثوابِ دارین سمیٹیں کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں حرج ہی کیا ہے:

 

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرمِ خاموشی
ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

 

‘پانی اچ مدھانی’ کی بجائے کیوں نہ دوٹوک بات کرلی جائے؟ ہم انیس سو سولہ نہیں، دوہزار سولہ میں رہ رہے ہیں۔ ‘فیڈ’ کس نے کیا؟ ‘سورس’ کون ہے؟ کھپنے کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن یہاں تو ایک خبر پرپوری ریاست ہل کر رہ گئی۔ ریاستی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والا شدید ردِ عمل قطعاً غیر ضروری تھا۔ خبر پر کیے گئے اعتراضات انتہائی سطحی اور بودے ثابت ہوئے۔ مصلحت کا تقاضایہ تھا کہ فوری جذباتی ردعمل سے گریز کیا جاتا ۔ دو ہزار سولہ میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ حضور والا ! معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اس قدر ہِل جُل کی ضرورت نہ تھی۔ نہ ہنگامی اجلاس درکار تھے اور نہ ہی افرا تفری میں جاری کئے گئے بیانات۔ چپ چپیتے بھی ‘مخبر’ کا کھرا ڈھانڈا جا سکتا تھا۔ جو احتیاط اب وزیرعلیٰ کے قریبی ذرائع کی جانب سے برتی گئی ہے اسی کا مظاہرہ کیا جاتا تو صورتِ حال خراب نہ ہوتی۔ اس خبر پر جب صحافی نے وزیر اعلی پنجاب کا موقف حاصل کرنے کے لئے ان کے قریبی ذرائع سےرابطہ کیا تو ‘ذریعے’ نے کال کی بجائے وٹس ایپ پر تحریری جواب ارسال کیا اور احتیاطاً ‘پریم پتر’ محفوظ کر لیا کہ بوقت ضرورت کام آوے۔ بہر حال صورتحال واضح کرنا انہتائی آسان ہے۔ لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ پردہ کیسا؟ لاج کیسی؟ شرم کیسی؟ کنفیوژن کیسی؟ میرے پاس تو جواب نہیں ماسوائے ایک طویل قصے کے۔۔ شاید کہ آپ کچھ سمجھ پائیں۔

 

کہتے ہیں بھلے وقتوں میں فوجی بھرتی کے لئے دیہات میں کیمپ لگا کرتے تھے جس کی روایت انگریز سرکار نے ڈالی تھی۔ ان کیمپوں کے ذریعے دیہات سے صحت مند نوجوانوں کا انتخاب کیا جاتا۔ کسی گاوں میں کیمپ لگا تو دو دیرینہ دوستوں کے مابین بھرتی ہونے کے معاملے پر سنجیدہ تبادلہ خیال ہوا۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس پنجابی مکالمے کا اردو ترجمہ پیس کیا جا رہا ہے۔

 

ایک نے کہا: ‘رفیق’ سنا ہے گاوں میں کیمپ لگا ہے، بھرتی نہ ہو جائیں؟
رفیق بولا: بھرتی تو ہو جائیں مگر سچ پوچھو تو شرم بہت آتی ہے یار۔۔
کیوں؟ اس میں شرم والی کون سی با ت ہے؟ (پہلا دوست )
رفیق: دیکھو یار! اگر تو ہم بھرتی ہوگئے تو ٹریننگ کرنا پڑے گی یا پھر واپس بھاگ آئیں گے۔
اور اگر واپس بھاگ آئے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر ٹریننگ کرنا پڑ گئی تو پھر دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:
یا تو ٹریننگ کے بعد بارڈر پر بھیج دیا جائے گا یا کسی یونٹ میں پوسٹ کر دیا جائے گا۔
اگر یونٹ میں تعینات کر دیا گیا تو ٹھیک، لیکن اگر بارڈر پر بھیجا گیا تو پھر وہاں بھی دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:
یا تو دشمن کے ساتھ امن رہے گا یا پھر کسی بھی وقت جنگ چھڑ جائے گی۔
اور اگر تو بارڈر پر امن رہا تو ٹھیک ہے، بات سمجھ میں آتی ہے۔ البتہ جنگ چھڑ گئی تو پھر دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:
یعنی یا تو ہم انہیں ماریں گے یا پھر وہ ہمیں ماردیں گے۔
اور اگر تو صرف ہم انہیں مارتے رہیں تو ٹھیک ہے، بات سمجھ میں آتی ہے اور فوج میں جانے کا جواز بھی درست ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر تو دشمن نے ہمیں مارا تو پھر دو تشویشناک صورتیں پیش آسکتی ہیں:
یعنی یا تو ہمارے اپنی فوجی ہماری لاشیں اٹھال لائیں گے یا پھر دشمن ہمارے لاشے لے جائے گا۔
اور اگر تو ہمارے جسد خاکی اپنے فوجی اٹھا لیں تو پھر تو سب ٹھیک ہے۔ لیکن اگر ہمارے جسم دشمن کے ہتھے چڑھ گئے تو پھرمزید دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:
یعنی یا تو دشمن ہمیں دفنا دے گا ورنہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری لاشیں جنگل میں پھینک دے۔
اگر تو دفنا دیا جائے یا یوں کہوں کہ جلا بھی دیں تو پھر بھی بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اگر تو جنگل میں لاشیں پھینک دی گئیں تو دو بھیانک قسم کی صورتیں پیش آسکتی ہیں:
ایک: ہماری لاشیں جنگلی درندے چیر پھاڑ دیں گے۔
دو: یا پرندے ہمارے لاشے نوچ ڈالیں گے۔۔
اور اگر ایسے میں جنگلی درندے ہمیں ہڑپ کر لیں تو ٹھیک ہے، بات سمجھ میں آتی ہے۔ البتہ اگر ہم نوچنے والے پرندوں کے سپرد ہوگئے تو پھر دو مزید تکلیف دہ صورتیں پیش آسکتی ہیں:
ایک: یا تو ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی، مٹی میں مٹی ہو جائیں گے
دو: یا پھر ہڈیاں چننے والے ہماری ہڈیاں اٹھا لے جائیں گے۔
اور اگر تو ہماری ہڈیاں مٹی میں گل گئیں تو بات قابل قبول ہے لیکن اگر ہمارے نوچے گئے اجسام کے باقی ماندہ استخوان، ہڈیاں چننے والے اٹھا لے گئے تو پھر انتہائی ناقابل برداشت دو مزید صورتیں پیش آسکتی ہیں:
پھر یہ ہڈیاں کارخانے لے جائی جائیں گی جہاں ان سے صابن بنے گا۔ صابن یا تو کپڑے دھونے والا بنے گا یا پھر نہانے والا۔
اور اگر تو ان ہڈیوں سے کپڑے دھونے والا صابن ہی بنے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر نہانے والا صابن بنا تو پھر دو مشکل صورتیں پیش آسکتی ہیں:
دوست نے انتہائی تشویش میں بے صبری سے پوچھا:
نہانے والا صابن بننے سے آخر کون سی تشویشناک صورتحال جنم لے سکتی ہے ؟
رفیق بولا: اگر تو ہماری ہڈیوں سے صرف نہانےوالا صابن ہی بنا تو اس صابن کا استعمال مرد کریں گے یا خواتین۔
اور اگر تو یہ صابن صرف مردوں کے استعمال میں ہی رہے تو ٹھیک۔۔ بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اگر یہی صابن خواتین نے استعمال کیا تو قسم خدا کی۔۔۔پھر مجھے بے انتہا شرم آئے گی اور یہ میرے لئے ناقابل برداشت صورتحال ہوگی۔

 

اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ یہ ناقابل برداشت صورتحال اصل میں درپیش کہاں ہے؟ اور اس کے ‘اُپائے’ کے لئے کہیں صابن بنانے والا کارخانہ بند کرنا لازم تو نہیں ٹھہر گیا؟ لیکن لگتا یہ ہے کہ بچی کچھی ہڈیاں دفنانے کےلیے دو اصحاب کی چُھٹی کرانے کا بندوبست کیا گیا ہے تاکہ اس شرمناک صورتحال سے بچا جا سکے۔ یہ قربانی ہو گئی تو ٹھیک وگرنہ دو صورتیں ہوں گی یا تو صورت حال مزید شرمناک نہیں ہو گی یا پھر مزید شرمناک ہو گی اور اگر مزید شرمناک ہو گی تو پھر کسی بڑے کی بھی چھٹی ہو سکتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

لفڑا۔۔۔الیکشن کمیشن کا

انتخابات ہو گئے، حکومتیں بھی بن گئیں، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود الیکشن کمیشن کا لفڑا جوں کا توں ہے۔ بلکہ اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جلسوں میں الیکشن کمیشن کی شفافیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور نئے آزادانہ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ بھی داغ دیا، اس سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین سر کردہ نظر آئے۔ یقینا جمہوریت کی بقا اور دوام کے لیے ایک بااختیار، آزاد، شفاف اور موثر الیکشن کمیشن بے حد ضروری ہے، اور اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے اب سبھی جماعتیں اس اہم نقطے پر متفق نظر آرہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟!
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟
طالب علم خان صاحب کی سیاسی بصیرت کا کوئی زیادہ مداح تو ہر گز نہیں، لیکن دن کو دن اور رات کو رات کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کی۔ یہ اور بات ہے کہ کئی سیزنل سیاستدان سوشل میڈیا پر مزاح سے لپٹی گفتگو پڑھ کر سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ خیربات ہورہی ہے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کی ۔تو اس بارے عرض ہے کہ اب پیپلز پارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے خان صاحب کے موقف کی تائید کر دی ہے، بھلے اسے سیاسی پلٹا سمجھیں یا بصیرت، لیکن بات اصولی ہے اور جمہوریت کے لیے بے پناہ اہمیت کی حامل بھی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینٹر اعتزاز احسن نے عمران خان کے مطالبات کی تائید کی اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا پرزور مطالبہ کیا۔ چوہدری پرویز الہی کے بقول غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر صاف شفاف الیکشن کا خواب ممکن نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھانے کے لیے جلدپارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی محترمہ ثمن جعفری نے پارٹی پوزیشن واضح انداز میں بیان کردی کہ متحدہ ہمیشہ سے ہی آزاد ، شفاف اور بااختیار الیکشن کمیشن کی حامی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے بھی بااختیار الیکشن کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے پر پہلے سے سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ درست، لیکن سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟؟
خان صاحب نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر بھی تنقید کی، جس کی تائید سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم چند روز پہلے ہی کر چکے ہیں، اس بارے ناچیز کو سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے خیالات جاننے کا موقع ملا، دلشاد صاحب نے پہلی بار برملا اظہار کیا کہ جی ہاں، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے کہ جناب سابق چیف جسٹس کو طلب کیا جائے اور اس اہم مدعے پر فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر قصہ ہی تمام کیا جائے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف میڈیا یا جلسے جلوسوں کو انٹرٹین کرنے کی حد تک ہی ہے تو پھر لفڑا کیا ہے۔
جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔
چلیے یہ بھی سنتے جائیے کہ موجودہ قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر مشاورت سے کرتے ہیں، لیکن اس تقرری میں عمران خان اور پارلیمنٹ میں موجود دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، تو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تمام بڑے رہنماؤں کی رضا مندی سے کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا؟ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور بالخصوص خان صاحب اتفاق رائے کرلیں؟ اگر نہیں تو پھر سوال وہی ہے۔ آخر لفڑا کیا ہے۔
مدعا جس قدر مشکل دکھائی دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ آسان بھی ہے۔ جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔ اس بل کے لیے تمام جماعتوں کو آن بورڈ لیں، سیر حاصل بحث کروائیں، آئینی ماہرین کی سفارشات شامل کریں اور دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد اسے آئین کا حصہ بنا ڈالیں (سبھی جماعتیں متفق ہیں تو پھر دو تہائی اکثریت سے منظوری یقینا بآسانی ہو جاوے گی)۔
اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن یہاں سوال لفڑے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مکھن سے بال نکالے گا کون؟! ہیں جی۔۔۔
قصہ مختصر، جمہوریت کے عدم تسلسل کے باعث جمہوریت کی اقدار کی پاسداری بھی تسلسل کے ساتھ نہ ہوسکی، یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی الیکشن کمیشن جیسے اہم مدعے پر شش و پنج میں مبتلا ہیں، راہ نما وہ ہوتا ہے جورہ نمائی کرے، اور ساتھ ساتھ مستقبل کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس اقدام اٹھائے۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، رہ نما آتے ہیں، ایوانوں میں دھمال ڈالتے ہیں اور اگلے آنے والوں کے لیے مسائل کو کئی گنا بڑھا کر جنگلوں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اس مدعے پر تو اب سبھی راضی ہیں۔ تو پھر اصل لفڑا کیا ہے؟؟
منیر نیازی نے کہا تھا؛
خیال جس کا تھا مجھے ، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
نوٹ: اتوار کے روز برپا کیے گئے جلوسوں کے بعد طالب علم مسلسل عالم استغراق میں ہے۔نہیں معلوم کہ اس روز جگہ جگہ بکھرے انقلاب کو قوم اب مزید کتنے دن سمیٹتی رہے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

رضا رومی کے لیے ایک خاموش تحریر

ajmal-jami

حضرت روم سے منسوب ہے ، ” اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں”۔ رضا احمد کا نام حضرت رومی کی نسبت سے ہی جانا جاتا ہے، ، میرا ان سے پہلا باقاعدہ تعارف ایک جرمن مصنف کی صوفی موسیقی پر لکھی گئی کتاب کے حوالے سے ہوا، جہاں مصنف خود موجود تھے اور اس نشست کا اہتما م رضا رومی کی جانب سے ہی کیا گیا تھا، جرمن مصنف ڈاکٹر جورگن وسیم اس دھرتی کے صوفیا اور ان سے منسوب موسیقی پر گہری دسترس رکھتے ہیں، لیکن اس محفل میں رضا رومی سے صوفیا اکرام او ر سلاسل طریقت پر ہوئی گفتگو ناچیز کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ثابت ہوئی، اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، عموما آرا میں ہم آہنگی ہی دیکھنے کو ملی لیکن اختلاف بھی مسکراہٹوں کا مرہون منت رہا۔

رضا رومی کی فکر اور سوچ کے پیچھے ان کے آباواجداد کاخاصا اثر ہے، بڑے بوڑھے کتابوں کے رسیا تھے، اہل خانہ کی کیا بات کیجیے کہ گھر کے درو دیوار بھی علم و حکمت سے سجے ہیں، والدین کی ذاتی لائبریری کئی تعلیمی اداروں کے کتب خانوں سے بڑی اور نادر کتب پر مشتمل ہے۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ رضا رومی کا منظر عام پر آنا دو چار دنوں کی بات نہیں۔ ہر گز نہیں۔ ایک پڑھے لکھے خاندان سے وابستگی ہے جوعلمی اور ادبی طور پر ایک مضبوط تاریخی پس سے جڑی ہے۔ اور یہی وابستگی رضا کو بتدریج پروان چڑھاتی رہی۔

رضا رومی کی فکر اور سوچ کے پیچھے ان کے آباواجداد کاخاصا اثر ہے، بڑے بوڑھے کتابوں کے رسیا تھے، اہل خانہ کی کیا بات کیجیے کہ گھر کے درو دیوار بھی علم و حکمت سے سجے ہیں، والدین کی ذاتی لائبریری کئی تعلیمی اداروں کے کتب خانوں سے بڑی اور نادر کتب پر مشتمل ہے۔

ان صاحب کی والدہ محترمہ بلقیس ریاض اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں، ناول، سفر نامے ، افسانے لکھنے کے علاوہ ممتاز اخبارات اور میگزینز میں کالم نگار رہ چکی ہیں۔ والد صاحب چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر تعینات رہے ہیں، ، ورثے میں کچھ اور ملا ہو یا نہیں، البتہ کتب خانے سے واسطہ بچپن سے ہی رہا ہے ، شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ رضا نے مقابلے کے امتحان میں انیس سو ترانوے چورانوے میں پاکستان بھر میں ٹاپ کیا تھا ، اور پھر دو ہزار دو تک سرکاری ملازم رہے، بعد ازاں ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے ساتھ پبلک پالیسی ایکسپرٹ کی حیثیت سے وابسطہ ہو گئے۔ لیکن زبان و بیان کے اظہار نے موصوف کو چین نہ لینے دیا، اور پھر صحافت میں آن کودے۔ دہلی دل سے۔ اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے موضوع پر کتب لکھ چکے ہیں۔

چلیے گھڑی بھر کو مان لیا کہ رضا رومی کے نظریات قابل سوال ہیں، یا رضا کو صوفیا اور اسلاف کی تعلیمات سے کوئی ربط نہیں، اور انہیں مسلمان ہونے کا ‘سرٹیفکیٹ’ بھی درکار ہے، تو؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے؟!

اور اس بے چارے پچیس سالہ مصطفی کو کس ناکردہ گناہ کی سزا ملی کہ اسے بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑا؟ ابھی تو اس نوجوان ڈرائیور کی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے۔ بیوہ کا سہاگ اجاڑنے والے کیا ہوئے؟ کون جانتا ہے کہ ماں باپ کی رحلت کے بعد مصطفی چار بہن بھائیوں کا اکلوتا کفیل تھا، کیا مصطفی بھی کالم نویس تھا؟ مصطفی شاید اقلیتوں کے حقوق کے لیے سراپا احتجاج رہا ہو گا، یقینا مصطفی موثر قانون سازی اور جمہوری اقدار کے حق میں اہل محلہ سے الجھتا ہو گا، یہ ڈرائیور خبطی تھا، مذہب کے نام پر خود کش حملوں کی مخالفت کرتا تھا، اور انتہا پسندی کو مذہبی تعلیمات سے بدل ڈالنے کے حق میں دلائل دیتا تھا۔ یقینا اسی لیے حملہ آوروں نے مصطفی کو بھی لگے ہاتھوں اڑا ڈالا۔ یہاں ایسے شخص کا یہی انجام ہوتا ہے۔

کہاں سرکار دو عالمﷺ اور ان کی تعلیمات اور کہاں آج ہم کھڑے ہیں، کہاں رحمت العالمین ﷺ کے عاشقین صوفیا ئے کرام اور ان کی صوفی شاعری اور کہاں ہمارے حرام حلال اور کافر مسلمان کی بحث کرتے مخصوص علما دین۔ اب ایسے حالات میں اختلاف رائے بھلا کیونکر برداشت ہو؟ لیکن رضا ! یاد رکھیے گا، اقبال نے کہا تھا؛
پیر رومی مرشد روشن ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر

حیرت ہے کہ رضا نے آخر ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ جس کے بعد ‘نامعلوم’ افراد کے پاس ان کی جان لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔ میں ذاتی طور پر رضا کی حالیہ تمام تحریریں اور ٹاک شوز کا جائزہ لے چکا ہو، یقین جانیں کوئی قابل اعتراض نقطہ ہاتھ نہیں آیا۔

اب چند روز پہلے کی بات ہے کہ ڈرٹی اولڈ مین خشونت سنگھ ننانوے برس کی عمر میں چل بسے۔ اس بابے نے ہمیشہ متنازعہ ایشوز پر دل کھول کر بھڑاس نکالی، جواباً پڑھنے والوں نے بھی انہیں ہمیشہ غیر اخلاقی القابات سے ہی یاد کیا، کئی فتوے صادر کئے گئے، گالیوں سے نوازا گیا، خبطی قرار دیا گیا، ایک جگہ خود کہنے لگے کہ ان کے کسی چاہنے والے نے انہیں ساٹھ کی دہائی میں امریکہ سے ایک پوسٹ کارڈ ارسال کیا ، جو تقریبا دو دہائیوں بعد انہیں موصول ہوا ، کھولنے سے پہلے ایکسائٹڈ ہوئے کہ اتنی دور سے مدت بعد کسی چاہنے والے کا پوسٹ کارڈ موصول ہوا ہے نہ جانے کیا لکھا ہو گا۔ پڑھا تو مزید ہنس دیئے،سر شام واک پر نکلے تو کارڈ ہاتھ میں رکھا، ٹہلتے رہے، اور مسکراتے رہے، کسی دوست نے پوچھا کہ سردار جی ایسا کیا ہے اس کارڈ میں جو آپ مسکراتے جار رہے ہیں، کہنے لگے کہ بھئی، ہنسی مارے افسوس کے نکلی ہے کہ کسی نے گالیوں سے شاندار تواضع کی اور ہماری بد قسمتی کہ ظالم کارڈ نے ہم تک پہنچنے میں اس قدر تاخیر کر دی۔ پھر کہا کہ شکر ہے چاہنے والے نے بندوق نہیں تان لی اور محض گالیوں کے تیر چلا کر رانجھا راضی کر لیا۔ ننانوے برس کے اس بابے پر شاید ہی کسی نے گولی چلائی ہو، یہی بابا اگر پاکستان میں ہوتا اور وہی کچھ لکھتا جو اس نے ہندوستان میں بیٹھ کر لکھا تو یقین جانئے سردار جی ننانوے برس تو دور کی بات ، شاید نو ماہ بھی زندہ نہ رہ پاتے۔

حیرت ہے کہ رضا نے آخر ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ جس کے بعد ‘نامعلوم’ افراد کے پاس ان کی جان لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔ میں ذاتی طور پر رضا کی حالیہ تمام تحریریں اور ٹاک شوز کا جائزہ لے چکا ہو، یقین جانیں کوئی قابل اعتراض نقطہ ہاتھ نہیں آیا، ابھی تک ان کی صرف خیریت ہی دریافت کر سکا ہوں، ملاقات ابھی باقی ہے۔ جس کا مقصد ان کی خیریت دریافت کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہو گا کہ بھیا، آف دی ریکارڈ ہی بتلا دو کہ آخر آپ جناب نے ایسا کونسا پاپ کیا تھا کہ آپ کی تواضع دلائل کی بجائے بندوق سے کرنے کی کوشش کی گئی۔ مجھے امید ہے رضا ایک اچھے دوست کی طرح اس راز سے پردہ ضرور اٹھائیں گے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس راز کو راز ہی رکھوں گا اور ایسے کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہونے کی حتی الوسع سعی تا دم مرگ جاری رکھوں گا جو رضا سے سر زد ہوا۔ البتہ رضا رومی کو مولانا روم کا کہا ضرور سناؤں گا۔
بر زمیں گر نیم گز راہے بود
آدمی بے وہم ایمن می رود

رہا معاملہ مصطفی کا تو مصطفی کے لیے یقینا مصطفیﷺ ہی کافی ہیں۔ کیونکہ دین اسلام کی تعلیمات تو یہی کہتی ہیں کہ جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔
حضرت روم نے کہا تھا “اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں”۔

Categories
نقطۂ نظر

“آپ کریں تو ڈانس، ہم کریں تو۔۔۔”

ajmal-jami
ہائے ہائے! قربان جائیے مولانا کی ادا کے،ان کے پاس ہر بار بجانے کو نئی ڈفلی اور نیا راگ ہوتا ہے؛ کبھی اپوزیشن کی بھیرویں تو کبھی اقتدار کا درباری، دکھانے کو اور بیچنے کو ان کے پاس ہر بازار کا سودا ہے۔عورت کی حکمرانی کے خلاف رہتے ہوئے بھی کشمیر کمیٹی کی چیئر پرسن شپ پانی ہو یا امریکہ مخالفت کے نعروں کے شور میں امریکہ کی مدد سے وزارت ِ عظمیٰ پانے کی خواہش کرنا ہو، سرکار دربار میں پذیرائی کا کون سا ہنر ہے جو مولانا کو نہیں آتا۔اوراب کی بار پختونخواہ کی حکومت پر اعتراض کرتے کرتے مغرب کے ایجنڈے کی بھی خبر دے گئے۔ قبلہ مولانا نے فرمایا،”اسلام آباد سے جینز پہنے ہوئے این جی اوز کی خواتین، نوجوان خواتین آپ کے صوبے میں آکر آپ کی فائلیں تیار کرتی ہیں۔” فقیر مسلسل عالم استغراق میں ہے، جب سے مولانا کے لبوں سے پھول کھِلے، سمجھ بوجھ جواب دے گئی، وارفتگی ہے کہ دیوانگی کی حد تک، بس اتنی سی سمجھ باقی ہے کہ جس سے مولانا کے بیان کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے؛ تو پھر آئیے کارِ خیر میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے جائیے:
نہیں معلوم کہ آپ جناب کو شکایت کس سے تھی اسلام آباد سےیااین جی اوز سے؟ خواتین سے ، نوجوان خواتین سے یا پھر این جی اوز کی نوجوان خواتین سے ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اعتراض خواتین کے خصوصاً این جی اوز کی خواتین کے جینز پہننے پر ہو۔

ویسے حضرت آپ کب تک ‘اسلام’ کے نام پر ایسے اوچھے بیانات اُچھال کر معاشرتی انتشار پیدا کرتے رہیں گے؟ میں نے آج تک آپ جناب کے منہ سے کسی جلسے میں اخلاقیات، سماجیات یا اسلام کی رو سے اقلیتی اور بالخصوص انسانی حقو ق کی بات نہیں سنی۔ حتٰی کہ ‘شانِ اسلام’ جیسی کانفرنسز میں بھی آپ جناب ہمیشہ ‘سیاسیات’ کے موضوع پر ہی بات کرتے پائے گئے ہیں، یعنی حد ہے۔

ویسے حضرت آپ کب تک ‘اسلام’ کے نام پر ایسے اوچھے بیانات اُچھال کر معاشرتی انتشار پیدا کرتے رہیں گے؟ میں نے آج تک آپ جناب کے منہ سے کسی جلسے میں اخلاقیات، سماجیات یا اسلام کی رو سے اقلیتی اور بالخصوص انسانی حقو ق کی بات نہیں سنی۔ حتٰی کہ ‘شانِ اسلام’ جیسی کانفرنسز میں بھی آپ جناب ہمیشہ ‘سیاسیات’ کے موضوع پر ہی بات کرتے پائے گئے ہیں، یعنی حد ہے۔
آپ جناب کی کرشماتی شخصیت کے تقریبا ًتمام پہلو اہل وطن پر ‘روزِ روشن ‘ کی طرح خوب عیاں ہیں، لیکن بادشاہ گری کے کھیل سے واقفیت کا یہ عالم ہے کہ آپ اور آپ کی سیاسی جماعت بھلے اپوزیشن میں ہوں یا حکومتی اتحاد کا دم چھلا ہوں، کمال یہ ہے کہ ہر حیثیت میں کچھ ایسے ‘چھو منتر ‘ پھونکتے ہیں کہ جس سے ہزاروں کنال اراضی، پرمٹ اور وزارتیں آپ کے ‘عقد’ میں ‘انتقال’ کر جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 2006 میں جب سید پرویز مشرف مسند اقتدار پر براجمان تھے تو مولانا اور ان کے رفقا چھ ہزار کنال زمین اپنے نام کروا بیٹھے نہیں معلوم کیسے اور کیونکر! مزید تفصیل کے لیے لنک دستیاب ہے:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=18207&Cat=13&dt=11/7/2008
اس سے پہلے 2004 میں سید پرویز مشرف ، مولانا اور ان کی جماعت کے اس وقت کے وزیر اعلی اکرم خان درانی کو بارہ سو کنال ‘فوجی ‘ اراضی بھی ‘ہدیہ’ کے طور پر پیش کر چکے تھے، اب ہماری ناقص عقل بھلا کیسے یہ گتھی سلجھا سکتی ہے کہ ‘ملٹری لینڈ’ مولانا کی خدمت اقدس میں تہتر کے آئین کے کس تناظر میں پیش کی گئی حالانکہ مولانا تو تب بھی ‘اپوزیشن’ میں ہی تھے، لیجیے !مذکورہ خبر لنک کی صورت میں پیش کیے دیتے ہیں ملاحظہ ہو:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=18118&Cat=13&dt=11/2/2008
اور ابھی موجودہ حکومت سے آٹھ ماہ کی دوری کے بعد تین وزارتیں پا گئے۔
اور رہی بات ‘جینز’ اور’جینز پہننے والیوں’ کی تو نہ جانے بعد مدت مولانا کو جینز پہننے والیوں سے اس قدر ‘خفگی’ کیوں ہوئی، حالانکہ این پیٹرسن (پاکستان میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں) بھی کسی زمانے میں جینز پہنا کرتی تھیں، بطور سفارتکار عموما ًپتلون پہنتی تھیں، جو بظاہر جینز سے زیادہ مختلف لباس نہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نا چیز نے این پیٹرسن کا تذکرہ کس کارن چھیڑ دیا؟تو جناب گذارش ہے کہ حضرت مولانا بڑے مان اور خلوص سے محترمہ این پیٹرسن اور دیگر تمام امریکی سفارتکاروں سے ملا کرتے تھے اور آج کل بھی ملتے ہیں یہی نہیں بلکہ یہ حضرت تو وزیر اعظم بننے کے لیے سر کے بل چلنے کوبھی تیار تھے اور یہی وجہ ہے کہ ‘جینز’ اور پتلون پہننے والی امریکی سفیر سے مولانا نے ‘وزیر اعظم’ بننے کی معصوم سی خواہش کا اظہار بھی کر دیا تھا وکی لیکس کے انکشافات اس رام کہانی سے کچھ یوں پردہ اٹھاتے ہیں:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=2507&Cat=13
نمونے کے طور پر یہ لنک بھی اوپن کرنے کی زحمت ضرور کیجیے گا:-
http://www.theguardian.com/world/us-embassy-cables-documents/148390?guni=Article%3Ain+body+link–

بی بی شہید کے دوسرے دور حکومت کے دوران حضرت مولانا فضل الرحمان ذاتی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ‘ڈیزل کوٹہ’ کے حصول میں بھی سب سے نمایاں رہے، ، یہ اور بات ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب آپ جناب نے ‘خاتون’ وزیر اعظم کی حکومت میں ‘وزارت’ کو ٹھکرا دیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کے ‘جینز’ پر حالیہ بیان سے یوں لگا جیسے مولانا مغربی لباس سے خاصے نالاں ہیں، لیکن دوسری جانب جے یو آئی کے ‘ترجمان’ جون اچکزئی، معاف کیجیے گا جان اچکزئی اکثر و بیشتر مکمل مغربی لباس زیب تن کیے ٹی وی سکرینوں پر جلوہ گر ہوتے ہیں تو مولاناکیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
مولانا کے تھیلے میں شعبدوں کو کوئی کمی نہیں ۔ابھی چند ہفتے پہلے کی ہی تو بات ہے کہ حضرت مولانا نے بابنگ ِ دہل فرمایا کہ “امریکا اگر کسی کتے کو بھی مارے گا تو اسے شہید کہوں گا”۔ حضرت کی اس انوکھی منطق پر ناچیز نے ‘مولانا کے نام ایک پریم پتر’ لکھا ، ، جسے پڑھنے کے بعد آپ جناب کے چاہنے والوں نے ‘فقیر’ کو خوب لتاڑا ۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس تحریر کو ‘پریم پتر’ کے ساتھ ملا کر پڑھا جاوےتاکہ حضرت کے’سنہرےاقوال’ سمجھنے میں آسانی رہے۔ لنک پیش خدمت ہے۔۔
https://laaltain.pk/مولانا کے نام ایک پریم پتر
مزید بھی سن لیجیے! بی بی شہید کے دوسرے دور حکومت کے دوران حضرت مولانا فضل الرحمان ذاتی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ‘ڈیزل کوٹہ’ کے حصول میں بھی سب سے نمایاں رہے، ، یہ اور بات ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب آپ جناب نے ‘خاتون’ وزیر اعظم کی حکومت میں ‘وزارت’ کو ٹھکرا دیا تھا، ڈیزل کوٹہ اور کشمیر کمیٹی کے معاملات کی کہانی خاصی طویل ہےلہذا یہ کہانی پھر سہی!
فی الحال تو ایک جملے نے جینا حرام کر رکھا ہےیعنی؛
“آپ کریں تو ڈانس ،ہم کریں تو۔۔۔”

Categories
نقطۂ نظر

میں بھی سوچوں، تُو بھی سوچ۔۔۔۔

مٹی کی خوشبو خون میں رچی ہوتی ہے، پھر چاہے آپ اِدھر کے ہو جائیں یا اُدھر کے، آنکھوں میں ایک خاص چمک، لہجے کی مٹھاس اور طبیعت کا اوتار آپ کو اپنی مٹی سے پیوستہ رکھتا ہے، دھرتی ماں کی محبت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے، یہ اور بات ہے کہ ماڈرن جنریشن کی فطرت ثانیہ مٹی سے وابستہ وارفتگی کے احساس کو اس طرح محسوس نہیں کر سکتی جیسے ہمارے بڑے بوڑھے کیا کرتے تھے۔۔ کسی جگہ پڑھا تھا۔۔
A man’s love for his native land lies deeper than any logical expression, among those pulses of the heart which vibrate to the sanctities of home, and to the thoughts which leap up from his father’s graves.

ہمارے آباو اجداد تحصیل رنبیر سنگھ پورہ، ضلع جموں سے تھے، وہ خالص اسی دھرتی کے باسی تھے، جنہوں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا۔ رنبیر سنگھ پورہ جموں کی وہ تحصیل ہے جس کی ہریالی مثالی ہے، شاید ہی کوئی ایسی جنس ہو جو اس خطے میں پیدا نہ ہوتی ہو۔۔ اُس دیس بارے جب بھی سوچتا ہوں، فلم ویر زارہ کا نغمہ “ایسا دیس ہے میرا” سماعتوں میں گونجنے لگتا ہے۔۔ بزرگ سنایا کرتے تھے کہ بہت پر امن اور خوشحال خطہ تھا، یہاں آر ایس پورہ میں سیالکوٹ کے قریب گاوں دلیہڑ واقع ہے، آج بھی یہ گاوں اسی نام سے جانا جاتا ہے، ہمارے بابے دلہیڑ کے تھے، بچپن سے دادا حضور سے جموں کے قصے کہانیاں سنتے آئے، ہوش سنبھالی تو ایک جملہ ذہن میں نقش ہو گیا، ‘میرا اے پوترا مینوں جموں لے کے جائے گا، ایہنوں جموں وکھانا اے۔’ تعلیم، کیریئر، فیملی افیئرز اور ذاتی زندگی، سبھی کچھ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا، بڑھتا رہا، چلتا رہا، لیکن دادا کی یہ ایک خواہش میرے ذہن میں من و عن نقش رہی، اس خواہش کی تکمیل کے لیے میرے جذبے کبھی ماند نہ پڑے، ، لیکن ہیچ آرزو مندی، جیسے ہی صحافت میں قدم رکھا، دادا حضور چل بسے۔۔

ٹی وی پر پہلی بار مجھے آن ائیر دیکھ کر فرط جذبات میں کہنے لگے، ‘ہون اے پترکار بن گیا اے، جموں دا ویزا لوا لوے گا’۔ بشیر احمد اپنے دوستوں میں واحد تھے جو پڑھے لکھے تھے، جموں شہر کی شاید ہی کوئی ایسی گلی ہو جو بشیر احمد کو منہ زبانی یاد نہ ہو۔۔ ربط ہے کہ اختیار میں نہیں، لفظ جیسے قلم سے سلِپ ہو رہے ہوں۔۔ میں اپنے دادا کی خواہش پوری نہ کر سکا، میں انہیں جموں نہ لے جاسکا۔۔ لیکن جموں کا ذکر، جموں کے کسی شخص سے رابطہ یا ملاقات میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے دادا کی ادھوری خواہش کو پانی کا ‘ترونکا’ لگا رہا ہوں، اوپر والے کے اپنے حساب کتاب ہیں، اس کی وہ جانے۔۔ پچھلے دنوں جناب طاہر سرور میر صاحب (موصوف کے آباو اجداد بھی جموں سے تھے اور ان کے دادا حضور کی قبر واقع گوجرانوالہ پر آج بھی ان کا نام کچھ یوں درج ہے۔۔”میرا اللہ رکھا جموں والے”) نے مجھے اچانک آدھی رات کو فون کیا، میر صاحب کا انداز تخاطب انتہائی منفرد اور شیریں ہے، لیکن اس روز میر صاحب نے حال احوال پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا، اور ایمرجنسی کا نٖفاذ کرتے ہوئے فورا فون ایک صاحب کو تھما دیا، یہ تھے جناب خالد حسین صاحب جن کا تعلق جموں سے ہے اور وہ چند دنوں کے لیے لاہور تشریف لائے تھے، خالد حسین صاحب میری دھرتی کے ایک نامور ادیب ہیں، آپ شارٹ سٹوری رائٹر ہیں، شاعر ہیں، اور اہم سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں، یہ وہ لکھاری ہیں جن کی تخلیق کا خمیر سماج کے آٹے سے گندھا ہوا ہے، آپ کو اردو، ہندی، انگریزی، پہاڑی، گوجری، ڈوگری ، کشمیری، اور پنجابی جیسی ‘رِچ’ زبانوں پر عبور حاصل ہے، پنجابی زبان میں لکھی ایک کہانی “ڈونگے پانیاں دا دکھ’ کا چرچا جموں کے کچھ دوستوں سے بھی سن رکھا ہے، پنجابی اور اردو زبان میں جناب کے قلم سے لکھی سینکڑوں کہانیاں مقامی، قومی اور بین الاقوامی جریدوں میں چھپ چکیں ہیں۔

آدھی ملاقات کے بعد فی الفور ان سےپوری ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا، اور پھر دو چار روز بعد لاہور پریس کلب کی ادبی سوسائٹی نے ان کے اعزاز میں ایک محفل برپا کی، جہاں ان کی زیارت نصیب ہوئی، اس روز فون پر آدھی ملاقات سے پہلے جناب میر صاحب کا فرمان تھا کہ جامی صاحب کیوں نہ آپ کا آدھا عمرہ کروا دیا جائے، اور جب ان سے ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ جیسے میرے دادا کی خواہش پھر سے جوان ہو گئی ہے اور وہ یہیں کہیں آس پاس شملہ پہاڑی پر چہل قدمی فرما رہے ہیں، جیسے ابھی ابھی وہ خالد صاحب کو پہچان لیں گے اور مجھے ایک خاص اعتماد کے ساتھ بتائیں گے کہ ‘اے ویکھ،، ایہہو جئے ہوندے نیں جموں دے لوک۔’

ناچیز اس محفل میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے کرتے فقط اتنا ہی کہہ سکا کہ آج شاید میرا ایک عمرہ ادا ہو گیا۔۔ خالد حسین صاحب سے ملاقات کے دوران، میرے تحت الشعور میں جموں کی گلیاں کوچے بازار اور آر ایس پورہ کی ہریالی یوں لہرا رہی تھی جیسے میرے سامنے کی بات ہو۔۔ اسی اثنا میں ایک صحافی شاعر گویا ہوئے اور دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔۔ فرمایا
اُدھر رہ گئی یا اِدھر رہے گئی،
وفا کی شکایت مگر رہ گئی،
یقین جانیں یہ جذبے دونوں جانب ابھی بھی جوان ہیں، مٹی کی محبت جوش سے بھر پور ہے، اپنے بابوں کی جنم بھومیاں دیکھنے کا شوق ابھی بھی زندہ ہے، ان رستوں کو چومنے کو جی چاہتا ہے جہاں بابوں کے قدموں نے چلنا سیکھا، اور احمد راہی کا ایک شعر جناب خالد حسین صاحب نے کچھ یوں سنایا کہ آنکھوں میں دھند اور نمی امڈ آئی،
ایس توں ودھ کے ہور کی دکھ ہوسی،
تیری اَکھ ایتھے میری اَکھ اُوتھے۔۔
ہم انسانوں سے بہتر تو وہ پنچھی ہیں، جو سرحدوں کی قید میں نہیں آتے، جب جی چاہ آر ایس پورہ کی فصلوں میں جا بیٹھے اور شام ڈھلتے ہی سیالکوٹ کے کسی پیڑ پر آن بسیرا کیا، خالد صاحب سے ملاقات کے دوران تاریخ کی وہ چند کتابیں جو ‘بٹوارے’ پر لکھی گئیں ‘ہوا میں اڑتے صفحات’ کی مانند آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں، دونوں اطراف کے بابے سیاستدانوں کی تصاویر اور بیانات بھی شارٹ فلم کی طرح ذہن میں آئے اور دی اینڈ کے ٹائٹل کے ساتھ ختم ہو گئے، لیکن مجھے میرے سوال کا جواب نہ مل پایا، میرا دادے کی خواہش میں کونساایسا ‘آتنک وادی عنصر’ تھا کہ وہ اپنی جنم بھومی نہ دیکھ سکا؟؟ سیاسی بصیرتوں کے حامل افراد تو مستقبل کے مسائل کا بھی حل سامنے رکھتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ کیا ہوا؟؟

Categories
نقطۂ نظر

اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری

ajmal-jami

فرمایا؛ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کے ذریعے،قیامِ امن کی راہ میں رخنہ ڈالتی ہے۔ پھر مذمتی قراردادوں، بیانوں کا تانتا بندھ گیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سرکردہ ‘راہ نماؤں’ نے دہشت گردی کے ایسے واقعات کی دل کھول کر مذمت کی۔ لیکن نہ جانے کیوں کسی بھی ‘راہ نما’ نے دہشت گردی کرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی مذمت دبے لفظوں کرنا بھی گوارا نہ کی۔ ایک نیم سیاسی اور مکمل مذہبی جماعت کے سرکردہ گویا ہوئے، کہنے لگے کہ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ ‘دوسری قوتوں’کا سنتے سنتے پروان چڑھے، ابھی اسی کے گناہ دھو رہے ہیں کہ تیسری بھی آن پڑی۔ نجانے اور کتنی ایسی قوتیں ہیں جن کی خبر ہونا ابھی باقی ہے۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ؛
کفن باندھے ہوئے یہ شہر سارا جا رہا ہے کیوں؟؟
سوئے مقتل ہر اک رستہ ہمارا جا رہا ہے کیوں؟؟
جو حقوق دین اسلام نے غیر مسلموں اور ان کی عبادت گاہوں کو دیے ہیں ان کا احاطہ اقوام عالم کا کوئی اور مذہب قطعاً نہیں کرتا، لیکن مذہب کے نام پر عبادت گاہوں اور مزاروں کا جو حال کیا جا رہا ہے وہ یقیناً درندگی کے علاوہ اور کسی زمرے میں نہیں آ سکتا۔ایک زمانہ تھاجب ہمارے ہاں عبادت گاہیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں،جبھی شہر بھر کا دھتکارا ہواشخص ان عبادتگاہوں میں پہنچ کر گھڑی بھر پناہ مانگتا تھا اور پناہ پاتا تھا، مگر اب ان سبھی عبادت گاہوںمیں بس خدا ہی کی پناہ ہے۔

ایک زمانہ تھاجب ہمارے ہاں عبادت گاہیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں،جبھی شہر بھر کا دھتکارا ہواشخص ان عبادتگاہوں میں پہنچ کر گھڑی بھر پناہ مانگتا تھا اور پناہ پاتا تھا، مگر اب ان سبھی عبادت گاہوںمیں بس خدا ہی کی پناہ ہے۔

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
ایک بارود کی جیکٹ اور نعرۂ تکبیر
راستہ جنت کا آسان ہوا پھرتا ہے
شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہ جس سے
صبح وہ صاحب ایماں ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلماں ہوا پھرتا ہے
عین اس وقت جب مسیحی برداری اتوار کی عبادات ایک سو تیس سالہ قدیم چرچ میں بجا لا رہی تھی، پشاور کو خون اور آگ کے دریا سے گزرنا پڑا۔۔ خودکش دھماکے میں اٹھہتر افراد جاں بحق ہوئے اور ایک سو تیس بستر پر زخموں سے چور پڑے ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ایک سو چوالیس دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، صرف پشاور ایسے اٹھاون دھماکوں کا شکار ہوا۔ ان وارداتوں میں خیبر پختواہ کے باسی تیرہ سو لاشوں کو کاندھا دے چکے ہیں۔ کل صوبائی حکومت پانچ گھنٹوں تک کہیں نظر نہ آئی، نظر آئے تو وہ چند ایک جو پچھلے پانچ سالوں میں بھی ہر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کو للکارتے رہے۔۔ غلام احمد بلور اور میاں افتحار حسین۔۔ ایک اپنا بھائی ملک پر وارنے پہ نازاں ہے اور دوسرا اپنی اکلوتی اولاد کو اس جنگ میں امن کی دیوی کی بَلی پر قربان کر چکا ہے۔ ان کی جماعت کی سیاسی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف سہی، لیکن ان کی قربانیاں اور ان کا موقف ہمیشہ سے ہی قابل فخر رہا ہے؛
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری،
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے۔۔
معلوم ہوا کہ جب زخمیوں کو صوبے کے سب سے بڑے اسپتال میں منتقل کیا جا رہا تھا تو وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، لیکن زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے مطلوبہ سٹاف میسر نہیں تھا، کہہ دیا گیا کہ عملہ اتوار کے روز چھٹی پر ہے، تنقید کی تو کہا گیا کہ صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جار ہی ہے، یہ تو مان لیجیے کہ لیڈی ریڈنگ جیسے اسپتال میں ہر روز اور ہر وقت عملے کی مناسب تعداد کا ہونا لاز م ہے اور اگرایسا نہیں تھا تو یقینا یہ متعلقہ انتظامیہ کی غفلت ہے۔ اگر یہ اعتراض بھی غلط ہے تو فرما دیجیے کہ آخر زخمیوں کے ورثا پھر کس بات پر سارا دن اسپتال کے سامنے سراپا احتجاج بنے رہے؟

رواں سال کے آغاز سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ایک سو چوالیس دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، صرف پشاور ایسے اٹھاون دھماکوں کا شکار ہوا۔ ان وارداتوں میں خیبر پختواہ کے باسی تیرہ سو لاشوں کو کاندھا دے چکے ہیں۔

ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ
کہا گیا کہ مذاکرات ہی واحد حل ہے۔ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں ان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اس بات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا، اور پھر طالبان رہنماؤں کی رہائی بھی عمل میں آنے لگ گئی، دوسری جانب سے پہلے میجر جنرل ، لیفٹینٹ کرنل اور سپاہی کی شہادت کا تحفہ بھیجا گیا، اور اب چرچ میں چونتیس خواتین اور سات بچوں سمیت اٹھہتر افراد کو خون میں نہلا دیا گیا۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ سیاسی اتفاق رائےایک طرف، یہاں تو مذہبی حلقے بھی اس ایک نکتے پر متفق نہیں کہ خود کش حملے “حرام” ہیں، ایسے میں خودکش حملہ آوروں کی مذمت جیسے “شرعی طور پر متنازعہ امر” پر بات بھلا کون کرتا؟ کہ میں نے آج تک مولانا فضل الرحمٰن اور سید منور حسن صاحب کے منہ سے اس فعل پر لفظ ‘حرام ‘ نہیں سنا۔
وزیر اعظم برطانیہ میں ہیں اور ان کی اگلی منزل امریکہ ہے، یقیناً پشاور دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کو امریکہ یاترا میں کافی ‘ٹف ٹائم’ بھی دیا جا سکتا ہے۔ بہتر ہوگا اگر وزیر اعظم واپسی پر ایک اور آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور حتمی لائحہ عمل کا کھل کر اعلان کریں۔ کیونکہ مذاکرات کے بہلاوے پر اب قوم لاشیں اٹھانے سے عاجز ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاسی حکمت عملی سے پہلے تمام مکاتب فکر کے علما ئے کرام دین، قتلِ عام کے لائسنس جاری کرنے والے فتویٰ فروشوں کے بارے میں قرآن و سنت کےکسی ایک حکم پر اتفاق کر لیں، کہ شاید اب ہمارے لیے اپنی بقا کی جنگ لڑنا ضروری ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم برطانیہ میں ہیں اور ان کی اگلی منزل امریکہ ہے، یقیناً پشاور دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کو امریکہ یاترا میں کافی ‘ٹف ٹائم’ بھی دیا جا سکتا ہے۔

ارضِ وطن کی بقا کے لیے جانوں کے نذرانے قومیں ہمیشہ سے ہی پیش کرتی آئی ہیں، لیکن دن دہاڑے عبادت گاہوں میں معبود کا نام لیتے ہوئے جانوں کا ضیاع صرف قاتلوں پر نہیں، سیاست چمکاتے حکمرانوں کے بھی سر جائے گا۔
آخر میں پشاور کے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے نام کہ جنہیں خود ‘مسیحا’ نہ ملا۔
نیلے فلک کی وسعت نے۔۔
پاک زمیں کی چیخ سنی!
پھر خون رنگ اور کرب و آہ
پھر وہی پرزوں میں انساں
پھر وہی حشر بپا دیکھا
مسجد، مندر، گرجا گھر!
رنگ نسل ، زباں، مذہب!
وحشی درندے کیا جانیں؟
وحشی کا کیا دیں ایماں؟
امن کا دشمن خود انساں!
(شکیل بازغ)