Categories
نقطۂ نظر

دن آجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی

دماغ سے تو ہم بہت کچھ سوچتے ہیں لیکن دل کی بات تب ہوتی ہے جب اس کوسوچتے ہوئے سینے میں گدگدی ہو یا پھر درد اٹھے۔ آج میں کچھ ایسی باتیں کرنا چاہتا ہوں جن کو سوچ کر دل میں درد جاگ جاتا ہے۔ سانس لینا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو کسی سنگدل دلربا کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ یہ میرے ملک کے بارے میں ہیں۔یہ پاکستان کے بار ے میں ہیں جو انہتر سال سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔اور آزادی کے انہتر سال بعد اس کی حالت یہ ہے کہ ہر پاکستانی ایک لاکھ سے زائد کا مقروض ہے۔ پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا دوسرا بدترین پاسپورٹ ہے۔ اور اچھی خبر یہ ہے کہ پہلے نمبر پر افغانستان کا پاسپورٹ ہے۔ کم از کم ہم اس سے تو بہتر ہیں۔(یہ فقرہ میں نےخوش خیالوں کے لئے لکھی ہے تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ میری ہربات منفی ہوتی ہے)۔ ریلوے جو کہ تقسیم کے وقت بہترین تھا اس وقت سالانہ 26 ارب کا ٹیکا خرانے کو لگا رہا ہے۔ دوسری طرف پی آئی اے 36 ارب کا نقصان کررہی ہے۔ چلتے چلتے خیال آیا کہ اس سال ایتھوپیا کی ائیرلائن نے 170 ارب روپے کمائے ہیں۔

 

اس ملک کا مقصد تھا کہ یہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی اور کھانے کو اچھی خوراک ملتی۔ تعلیم ملتی اور بیمار پڑنے پر صحت کی سہولت ملتی۔ ۔ سرچھپانے کو کوئی ڈھنگ کی چھت ملتی۔تن پر اوڑھنے کو ئی اچھا کپڑا ملتا۔
یہ عظیم ملک چودہ اگست انیس سو سنتالیس (اگرچہ درست تاریخ پندرہ اگست ہے) کو وجود میں آیا۔ اس ریاست کا مقصد جان ومال کی حفاظت کرنا تھا، اس ملک کا مقصد دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا تھا۔ اس کا مقصد برائیوں سے بچنا اور اچھائیوں کو اپنانا تھا۔ اس کا مقصد لوگوں کو ایسی زندگی دینا تھا کہ وہ تاریکی کے نہیں بلکہ روشنی کے استعارے بنتے۔ وہ دہشت کے نہیں بلکہ امن کے سہارے بنتے۔ اس ملک کا مقصد تھا کہ یہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی اور کھانے کو اچھی خوراک ملتی۔ تعلیم ملتی اور بیمار پڑنے پر صحت کی سہولت ملتی۔ ۔ سرچھپانے کو کوئی ڈھنگ کی چھت ملتی۔تن پر اوڑھنے کو ئی اچھا کپڑا ملتا۔

 

لیکن اگست کا مہینہ ہے، یوم آزادی ہے اور میں اپنی سات ماہ کی بیٹی کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ اس ملک میں آنے والی میری نسل کی چوتھی پیڑھی ہے۔ میرے دادا، دادی اس ملک میں کسمپرسی کی زندگی گزار کر گئے۔ پھر میرے ماں باپ نے تمام عمر مشقت میں گذاری اور ان کی زندگی کا ایک بھی سال ایسا نہیں تھا کہ وہ پرسکون اور خوش رہے ہوں۔ پھر میں پیدا ہوا اور پھر جوان بھی ہوگیا۔ لیکن وراثت میں ملی تنگدستی نہ جاسکی۔ اور اب میری سات ماہ کی ایک بیٹی ہے۔ میری نسل پہلے گوروں کی غلام تھی اور اب یہاں کے کالوں کی غلام ہے۔میری نسل اور میرے ملک کی دیگر نوے فیصد آبادی کی مثال اس کمہار کے گدھوں کی سی ہے جس کو چوروں نے ایک جنگل میں لوٹ لیا۔اس کے گدھے ایک جانب کھڑے رہے۔ ان میں سے ایک بولا کہ ہمیں چور لے جائیں گے۔ تو دوسرے نے کہا کہ کیا فرق پڑتا ہے۔ کمہار ہو یا چور ہم نے تو دونوں کا بوجھ ہی ڈھونا ہے۔

 

بس ہم بھی وہی گدھے ہیں۔ ایک مالک کی غلامی سے نکلے تو دوسرے کی غلامی میں جاپھنسے۔ آزاد ی کے نام پر ہمیں جھانسا دیا گیا۔ ہمارے نسلوں کو ہجرت کے درمیان مروایا گیا۔ ہمارے آباؤاجداد کٹی پھٹی لاشوں کی شکل میں اس ملک کی سرحدو ں میں داخل ہوئے۔ جبکہ ہمارے آقا جہازوں پر چڑھ کر اور باعزت طریقے سے اس ملک میں ہجرت کرکے آئے۔ہمارےآباؤاجداد کی بہنوں، بیویوں او بیٹیوں کی عزتیں لٹیں۔ ہمارے آقاؤں کی خواتین کو گرم ہوا کا جھونکا تک نہ چھو سکا۔ہمارے اجداد کو جس ملک میں عزت، روٹی، چھت اور کپڑا دینے کا وعدہ کیا گیا وہاں ان کی قبریں تک نہ بن سکیں اور ان کی لاشیں گدھوں کے پیٹ کا رزق ہوئیں یا پھر گل سڑ کر تعفن دیتی رہیں۔

 

ہمارے اجداد اس ملک کے حکمرانوں کے غلام تھے۔ ان کے حرص اور ظلم کی چکی میں پستی رہے۔ہر جشن آزادی کو یہ خواب دیکھتی رہے کہ حالات اچھے ہوجائیں گے۔
ہمارے اجداد قربانیاں دے کر آئے اور کیمپوں میں روتے، سسکتے اور بلکتے رہے۔ ہمارے آقاؤں کی اکثریت گھروں، کوٹھیوں، جائیدادوں کی الاٹمنٹ کراتی رہی۔ بڑی بڑی جاگیروں پراپنےنام کی تختیاں لگواتی رہی۔ قربانیاں کسی اور نے دیں۔ فائدہ آقاؤں نےاٹھایا۔ ملک کسی اور نے بنایا حکمران بننے آقا آگئے۔ اور پھر ایسے آئے کہ آج تک گردن پر سوار ہیں۔ ہماری ہر نسل غلام ابنِ غلام ابن ِغلام ہے۔اور ان کی ہر نسل ابنِ نجیف ابنِ نجیف ابنِ نجیف۔

 

ہمارے اجداد اس ملک کے حکمرانوں کے غلام تھے۔ ان کے حرص اور ظلم کی چکی میں پستی رہے۔ہر جشن آزادی کو یہ خواب دیکھتی رہے کہ حالات اچھے ہوجائیں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پھرہمارے ماں باپ نے اس ملک میں جنم لیا اور انہوں نے بھی غربت اور افلاس دیکھی۔ ہر جشن آزادی کو انہیں خبر نہیں ہوتی تھی کہ آزادی کا جشن منایا جارہا ہے۔وہ تو بس دو وقت کی روٹی کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔

 

پھر ہماری نسل کے لوگ پیدا ہوئے۔ جشن آزادی آتی تو ہم پیسوں کی کمی کی وجہ سے بڑے جھنڈے کی بجائے پچاس روپے والا چھوٹا جھنڈا اپنے گھروں پر لہراتے رہے ۔ کاغذی جھنڈوں کی پوری گڈی لینے کی بجائے آدھی لے کر اس کو دھاگوں میں لگا کر اپنے دروازوں کی چوکھٹوں اور صحنوں کے درمیان لگاتے رہے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے ۔ملی نغموں پر جھومتے رہے ۔لیکن ہمارے حالات نہیں بدلے۔ ہمارے حکمران ہم سے جھوٹ بولتے رہے اورہم یہ جھوٹ سنتے رہے۔ہمارے تنوں پر کپڑا، پیٹ میں روٹی اور سر پر چھت کا خواب ٹکڑے ٹکڑے ہوتا رہا۔ ٹکر کی جگہ ٹھوکر ملی، کپڑے کے نام پر کفن دیا، چھت کے نام پر کال کوٹھڑی میں دھکیلا ۔ہمارے لئے تو آزادی ایک آقا سے دوسرے آقا کی غلامی تک کا سفر ثابت ہوا۔ اور ایک ایسا بھیانک سفر جس میں ہم نے تو فقط کھویا اور آقاؤں نے کئی گنازیادہ پایا۔

 

جشن آزادی کے موقع پر جوش وخروش سے بھرے اپنے بچوں کو غور سے دیکھنا چاہیے۔ ہمیں ان کے گالوں پرپھیلی شفق کو دیکھنا چاہیے۔ اور ہمیں ان کے اندر موجود آزاد انسانوں کو بچانا چاہیے۔
آج جب میں اپنی بیٹی کو دیکھتا ہوں تو میرے دل پر ایک زور کا گھونسا پڑتا ہے۔ مجھ سمیت میرے خاندان کی تین نسلیں اس ملک میں برباد ہوگئی ہیں۔ وہ حکمرانوں کی غلام تھی۔ میری بیٹی بھی مجھے ایک غلام لگتی ہے۔ میں آپ سے گذارش کرتاہوں کہ اپنے بچوں کو غور سے دیکھیں۔ ان کا مستقبل سوچیں۔ شاید پہلے بھی سوچا ہو لیکن آج ایک بار پھر غور سے سوچیں۔ وقت بڑی عجیب چیز ہے یہ دکھ اور درد کے احساس کو دھندلاتارہتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ہم نے جو دکھ اور درد سہے کیا وہ ہماری یہ نسل بھی سہے گی۔ سوچیں اور بار بار سوچیں۔ کیونکہ ہمارے آباؤاجداد نے اس پر کچھ زیادہ غور وفکر نہیں کیا۔

 

دنیا میں بس دو ہی طبقے ہیں۔ ظالم طبقہ اور مظلوم کا طبقہ۔ ہم مظلوموں کا طبقہ ہے۔ یہ ہوٹروں کے ساتھ دندناتا ہوا ظالموں کا طبقہ ہے۔ جو سڑکوں پر ڈنڈے اور مکے کھا رہا ہے یہ ہم مظلوں کا طبقہ ہے۔ جو فائیو اسٹار ہوٹلوں میں دعوتیں اڑا رہا ہے اور ہمارے پیسے پر بیرون ملک جاکر گلچھڑے اڑا رہا ہے یہ ظالموں کا طبقہ ہے۔اب ہمیں سوچنا چاہیے۔ جشن آزادی کے موقع پر جوش وخروش سے بھرے اپنے بچوں کو غور سے دیکھنا چاہیے۔ ہمیں ان کے گالوں پرپھیلی شفق کو دیکھنا چاہیے۔ اور ہمیں ان کے اندر موجود آزاد انسانوں کو بچانا چاہیے۔ اس ملک کے لالچی، کریہہ اور بدشکل حکمرانوں اور آقاؤں سے بچاناچاہیے۔ ہماری تین پیڑھیاں ان کی حرص کی بھینٹ چڑھ چکیں اور یہ ہمیں برباد کررہے ہیں۔لیکن ہماری چوتھی نسل کے ساتھ یہ سب نہیں ہونا چاہیے، یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔اب یہ سلسلہ تھمنا چاہیے، حقیقی آزادی کے حصول تک، یکسان مواقع کی فراہمی تک اور انسانی مساوات کے قیام تک۔ بہت ہوگیا یہ تماشا، بہت ہوگیا جشن آزادی کا ڈرامہ۔

Image: Zahoor

Categories
شاعری

ہم نے فرض کر لیا ہم آزاد ہوگئے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہم نے فرض کر لیا ہم آزاد ہوگئے

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم نے فرض کر لیا ہم آزاد ہوگئے
ہم نے فرض کرلیا ہم ایک ایسی زندگی جیئں گے
جس میں زندہ رہنے کی آزادی ہو گی
ہم کبھی بھوکے نہیں مریں گے
ہمارے بچے بڑے لوگوں کے بچوں کے ساتھ
اپنےقیمتی بستوں کے ساتھ بڑے اسکولوں میں جائیں گے
بڑےلوگ جو کبھی ہمیں دھتکاریں گے نہیں
بڑے لوگ ؟ ہاں بڑے لوگ
جن میں لوٹ کھسوٹ کی شکتی ہے
آزادی اب صرف کتابوں میں نہیں پڑھی جائے گی
آزادی ہمارے ساتھ پٹھو کھیلے گی آزادی ہمارے ساتھ
کبھی کبھی کبڈی بھی کھیلے گی
صرف فلموںمیں ،صرف سٹیج پر نہیں
وہ سڑکوں اور گلیوں میں
ہمارے گھروں میں ہمارے ساتھ کودتی پررے گی
وہ قہقہے لگائے گی
جب ہم پیٹ بھر کھانا کھا رہے ہوں گے
جب ہم آرام دہ چارپائیوں پر لمبی تان کر سو رہے ہوں گے
وہ ہمارے سرہانے
اپنے گیتوں سے ہمارے سوئے ہوئے خواب جگائے گی
چلو ہم فرض کر لیتے ہیں
ہم آزاد ہیں
نہیں نہیں ہم فرض نہیں کرتے
ہم ڈھونڈتے ہیں آزادی
اپنے پرانے صندوقوں میں
کیا ایسا نہیں ہوسکتا ہم اپنے بستر بند کھول کر دیکھیں
وہ کہیں کسی تکیے میں کسی لحاف میں آنکیں موندے پڑی ہو
ہم اسے ضرور ڈھونڈھ نکالیں گے
اور جو ایسا ناہوا تو ؟تو
ہم نہیں چاہتے
یہ مادر پدر آزاد
آزادی

Image: Sabir Zafar
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

آزاد ہو کر بھی ہم آزاد نہیں

گلگت بلتستان کے عوام پچھلے اڑسٹھ سالوں سے یکم نومبر کو یوم آزادی بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ مناتے آرہے ہیں۔ یقیناًیہ دن بزرگوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے ۔ آج ہی کے روز 1947 میں گلگت بلتستان کے عظیم سپوتوں نے ڈوگرہ فوج کو شکست دے کر اٹھایئس ہزار مربع میل خطے کو قلیل وقت میں فتح کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ میں اُن تمام جانبازوں خاص طور پر فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرخطہ قراقرم کو ڈوگروں کی غلامی سے نجات دلا کر ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔مگر افسوس کہ قوموں کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال موجود ہو کہ جب کوئی ریاست آزادی کے بعد صرف چودہ دن تک دنیا کے نقشے پر اپنی خود مختاری کو برقرار رکھ سکی ہو۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ جس طرح آزای ایک حقیقت تھی بالکل اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس انقلاب کو ناکام بنانے کے لیے میجر براون اور ان کے حواریوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔ ان اصحاب نے الحاق کے نام پر ہمارے قومی ہیروز کو دیوار سے لگا کر بغیر کسی معاہدے کے ایک تحصیلدار کے ہاتھ میں خطہ قراقرم کا نظم و نسق تھما دیا تھا۔کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ حصے ایک عرصے تک مہاراجہ کشمیر کے زیر نگیں رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہاراجہ سے پہلے جموں و کشمیر پر لداخی بلتی اور گلگتی بادشاہوں نے طویل حکمرانی کی ہے۔ لیکن جب تاریخ اپنا رخ بدلتی ہے تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ قوموں کو اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے دوسروں کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ایسا ہی کچھ گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ہوا۔
اگر ہم سولہ نومبر سے لیکر اٹھائیس اپریل تک کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے کے باوجود اپنی جدوجہد کے ثمر ات حاصل نہیں کر سکے

 

جنگ آزادی کے وقت گلگت بلتستان کا علاقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور یہ علاقے کشمیر کے دوسرے علاقوں کی نسبت سیاسی طور پر کمزور تھے جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس وقت کے کشمیری حکمرانوں نے نہ صرف ہماری آزاد ی پر شب خون مارا بلکہ ہماری شناخت کو بھی متازعہ بنایا۔ اگر ہم سولہ نومبر سے لیکر اٹھائیس اپریل تک کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے کے باوجود اپنی جدوجہد کے ثمر ات حاصل نہیں کر سکے۔

 

سردار ابراہیم اور دیگر کشمیری رہنماوں کی آمد، گلگتی عوام سے پوچھے بغیر 28 اپریل 1949 میں معاہدہ کراچی کیا جانا اور اُنیس سو اکہتر میں ون یونٹ کے خاتمے تک اس خطے کو بالکل نظرانداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری آزادی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان تاریخی زیادتیوں کا تمام تر ذمہ دار غیروں کو قرار نہیں دیا جاسکتا ہماری اپنی کوتاہیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ آزاد قوموں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آنا اور عوام کی جانب سےحقائق سے نظریں چراتے ہوئے یوم آزادی پر تالیاں بجانا یقیناًہماری کوتاہیوں کی ناقابل معافی داستان ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے رہنما اس علاقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر ہمیشہ خاموش رہے ہیں۔ ہمارے رہنما تب بھی خاموش رہے جب آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں ایف۔سی۔آر کا نفاذ کیا گیا۔ اگرچہ بھٹو صاحب نے گلگت بلتستان کا دورہ کرتے ہوئے ایف۔سی۔آر کے ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی ختم کیا لیکن ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ بعدازاں ضیاالحق نے یہاں مارشل لاء نافذ کیا اور گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی بنیاد رکھی لیکن تب بھی مقامی رہنماوں نے مخالفت نہیں کی۔ ریاستی مشینری کے ذریعے یہاں لشکر کشی کی گئی لیکن کہیں سے کوئی مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی جس کا خمیازہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی بھگت رہے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ آج بھی مقامی لوگوں کے حقوق اور سیاسی شناخت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہم گلگت بلتستان والے سال میں کئی بار یوم آزادی مناتے ہیں یہ ماجرا بھی شائد ہی دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہ ملے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب کو بھی مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے پر فخر محسوس ہونے لگا ہے حالانکہ تاریخی طور پر مقامی آبادی گلگت بلتستان کو کشمیر سے علیحدہ علاقہ تسلیم کرانے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ہمارے موجودہ وزیراعلیٰ دربار اسلام آباد سے اس علاقے کو خصوصی (یعنی معذور) صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ ایک اور پروگرام میں موصوف مسلک کی بنیاد پر ریاست کا سودا کرنے اورعوام کو تقسیم کرنے کی طرف اشارہ کر رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا بس چلے تو ریاست کو اپنے عہدے کے عوض فروخت کردیں۔
گلگت بلتستان کی محرومیوں پر خاموشی کی ایک بڑی وجہ ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیاں ہیں۔ محدود تعداد میں مقامی سطح پر چھپنے والے اخبارات میں سچ بولنے اور لکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ان اخبارات میں قومی خبریں بھی چھان بین کے بعد ہی شائع ہوتی ہیں۔

 

گلگت بلتستان کی محرومیوں پر خاموشی کی ایک بڑی وجہ ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیاں ہیں۔ محدود تعداد میں مقامی سطح پر چھپنے والے اخبارات میں سچ بولنے اور لکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ان اخبارات میں قومی خبریں بھی چھان بین کے بعد ہی شائع ہوتی ہیں۔ وزیر اعظم صاحب نے امریکہ یاترا کے دوران ایک انٹرویو میں فرمایا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی سیاسی قیدی نہیں، شاید گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کی جبری حراست انہیں سیاسی قید نہیں لگتی۔ سچ تو یہ ہے کہ آج بھی یہاں ریاستی حقوق کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سرکاری طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس وقت کئی مقامی رہنما گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کی جیلوں میں غداری کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، ان کا جرم صرف یہ ہے کہ یہ ریاست سے اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے شناخت اور حقوق مانگتے ہیں۔ ہمارے سابق وزیراعلیٰ سے لےکر موجودہ حکمرانوں تک کو کسی کومعلوم ہی نہیں کہ ہمارے اصل مسائل کیا ہیں۔ مقامی رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم نے پاکستان کے ساتھ (جبراً یا رضامندی کے ساتھ) الحاق کیا تھا تو اب ہمیں قبول کیجئے مگر وفاق ہمیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق گلگت بلتستان ‘آئینی طور پر’ پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان کے عوام کو آئین پاکستان کے تحت پاکستانی شہریوں کو حاصل حقوق میسر نہیں۔ لیکن کیا کریں ہمارے سیاست دان اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ ہماری محدود حیثیت کی وجہ سے ہمارے مسائل بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن عام ہو چُکی ہے، جدید تعلیم کا فقدان ہے، زراعت، معدنیات اور سیاحت کے حوالے سے تمام تر قدرتی وسائل موجود ہونے کے باوجود ہم آج بھی اسلام آباد سے گندم کی بھیگ مانگ رہے ہیں کیا آذادی کا مطلب یہی ہے ؟کیا یہی ہماری قربانیوں کا صلہ ہے؟

 

ہمیں یکم نومبر کوآزادی کا دن منا کر اپنے اوپر ماتم کرنے کے بجائے آزادی کی روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حق خود ارادیت حاصل کرنے کےلیے کوشش کرنی ہوگی۔ وفاق پاکستان کو بھی چاہیئے کہ اس مسئلے پراب تسلیوں سے کام چلانے کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت جو نظام یہاں رائج ہے اس نظام سے یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ یہاں کے عوام آج بھی صحت،تعلیم، خوراک، روزگار اور بہتر سہولیات کےلیے ترس رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اب ‘متازعہ’ نہیں رہنا چاہتے انہیں اپنی شناخت اور پہچان چاہیئے۔ اس مقصد کے لیے فوری قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ مقامی آبادی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
Categories
فکشن

قید سے آزادی تک

میرے پیارے مگر بزدل انسان! تم گھٹن زدہ معاشرے کی زنجیروں میں خود جکڑے قصے کہانیوں سے خوفزدہ ہوکر دن کو خاموش رہتے ہواور خواب میں وہ سب کر گزرتے ہو جو دن کی روشنی میں کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے
میں خوابوں پہ یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی کواب دیکھتی ہوں ۔خواب تو بس خواب ہی ہوتے ہیں ۔وہ خواہشیں اور چاہتیں جو انسان زندگی میں دبا کر رکھتا ہے ،وہ خوبصورتیاں اور دلکشیاں جو معاشرے کی بندشوں اور مذاہب کی وجہ سے انسان اپنے اندر سنبھال کر رکھتا ہے ، جنہیں پورا کرنے کی انسان میں جرات نہیں ہوتی انہیں پورا کرنے کو ہی تو و وہ خوابوں کا سہارا لیتا ہے ۔انسان خوابوں کا سہارا لے کر اپنے آپ کو بے وقوف بناتا ہے۔اے! قیدی انسان جاگتے لمحوں ،منٹوں اور گھنٹوں میں تم جو خواہشیں پوری نہیں کرسکتے انہیں پورا کرنے کے لیے سپنوں اور خوابوں کے پیچھے کیوں دوڑتے بھاگتے پھرتے ہو۔
میرے پیارے مگر بزدل انسان! تم گھٹن زدہ معاشرے کی زنجیروں میں خود جکڑے قصے کہانیوں سے خوفزدہ ہوکر دن کو خاموش رہتے ہواور خواب میں وہ سب کر گزرتے ہو جو دن کی روشنی میں کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ بزدل اور قیدی انسان جو زندہ لمحوں میں منافقت کرتے ہیں وہ سب کچھ خواب میں کرتے ہیں ۔ دن کی خوبصورت خواہشیں ،رات کے اندھیروں میں مکمل کرنے والے بناوٹی انسان تم زیادہ سے زیادہ فطرت کے قریب ہو جاؤ۔۔۔۔اس طرح تم آزاد ہو جاؤ گے۔شیطان اور رحمان کے کھیل نے انسان کو قیدی بنایا ہوا ہے ۔میرے لالچی انسان !مذاہب کے نام پر اپنے جذبات مت چھپاؤ۔اپنے آپ کے خلاف قید کے اصول مت بناؤ۔جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔۔۔جو کچھ بولنا چاہتے ہو کہہ ڈالو ۔کسی کی پروا مت کرو ۔کسی کی خیالی نعمتوں پر مت قربان ہو جاؤ۔معصوم،سادہ اور فطری زندگی کی طرف پلٹ آؤ۔۔۔۔۔جو انسان فطری زندگی گزارتے ہیں انہیں خواب نہیں آتے۔
خالی الذہن ہو کر کائنات کی آوارہ گردی کرو ۔کائنات میں اور کائنات کے باہر کوئی ازلی اور ابدی نہیں ۔کسی حقیقت اور حقیقی صورتھال کا کوئی وجود نہیں ۔تمام الوہی سوالات غیر حقیقی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔زندگی راز ہے
یہ تمام خیالات وہ بیان کرتی جارہی تھی ۔چاروں طرف اندھیر نگری تھی ۔اندھیر نگری کے اس پار روشنی ہی روشنی تھی ۔۔۔۔۔۔اندھیرے کے اس پار کروڑوں موم بتیاں روشنی بکھیرتی نظر آرہی تھی ۔اس روشنی میں رنگ برنگی تتلیاں رقص کرتی نظر آرہی تھیں ۔میں اس کے سامنے دوزانو بیٹھا اس کی باتیں یوں سنے چلا جارہا تھا کہ جیسے وحی اترتی ہے۔۔۔۔پسینے سے شرابور ،خیالات کے انتشار سے آزاد ۔۔۔۔۔میں اس حسن کی مجسم شکل کے ساتھ کہاں تھا ۔۔۔اور کیوں تھا ،سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ مجھے حیران و ششدر دیکھ کر وہ پھربولی پریشان مت ہو۔غصہ مت کرو ۔جو تمہارے اندر غصہ پیدا کرنے کی کوشش کرے اسے جواب مت دو۔چوبیس گھنٹے بعد اسے جواب ضرور دو۔۔۔۔جو ذہن میں آتا ہے اسے جواب دو۔یہ سب تمہارے لیے عجیب و غریب ہے لیکن ڈرو مت۔اسی طرح تم کو آزادی ملے گی ۔
ابدی اور لازوال خوبصورت زندگی !اپنی حفاظت کرنے کا فن سیکھو ۔میں بھی ایک دن مر جاؤں گی، میری آوز بھی خاموش ہو جائے گی ۔خالی الذہن ہو کر کائنات کی آوارہ گردی کرو ۔کائنات میں اور کائنات کے باہر کوئی ازلی اور ابدی نہیں ۔کسی حقیقت اور حقیقی صورتھال کا کوئی وجود نہیں ۔تمام الوہی سوالات غیر حقیقی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔زندگی راز ہے ۔اسے بے خوف ہو کر جیو ۔محبت گناہ نہیں ۔محبت مقدس تجربہ ہے ۔یہ مذاہب ہیں جن کی وجہ سے محبت گناہ بن چکی ہے ۔محبت کو مذاہب نے برباد کردیا ہے ۔محبت کو گناہ کی طرح مت کرو ۔یہ گناہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔گناہ و ثواب کے کھیل سے باہر نکلو گے تو آزاد ہو گے ۔محبت بدصورتی نہیں ۔محبت فطرت کا انمول ،دلکش اور خوبصورت تحفہ ہے۔
وہ بولتی چلی جارہی تھی اور میں سحرزدہ حالت میں اسے تکتا جارہا تھا ، اسے جسے تکنا ممکن نہیں تھا، جسے جاننا بس میں نہیں تھامگر وہ تھی اور مجھے قید سے آزادی دلانی پر تلی ہوئی تھی۔
یہ سب خالص ہے جس کا تمہیں مزہ لینا ہے ۔جسمانی ملاپ سے تم نہیں تمہارا جسم بنتا ہے ۔موت سے تم نہیں ۔تمہارا جسم مرتا ہے ۔اپنے اندر نئے انسان کو جگہ دو
وہ بولی۔قیدی انسان محبت میں جھگڑا اور دلیل نہیں ہوتی ۔کمرے کے اندر داخل ہو جاؤ،نہاؤ،پھر محبت کی دنیا میں اس طرح داخل ہو جاؤ جس طرح تم مندر ،گرجے اور مسجد میں داخل ہوتے ہو ۔محبت میں جلدی مت کرو ۔محبت شعور ہے آگاہی ہے اور آزادی ہے ۔محبت قید سے آزادی کا شعور ہے ۔محبت تخلیق ہے اور تخلیق کو خوف کی بھینٹ مت چڑھاؤ۔ملاپ اور محبت سے ہی تمہارے اندر کا غصہ اور نفرت مرے گا ۔اور پھر تم شاندار تبدیلیاں محسوس کرو گے ۔یہ سب فطری ہے ۔پریشان مت ہو میرے پیارے انسان ۔۔۔۔۔ جوجسمانی ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اسے مرنا ہے ۔ملاپ کرنے والا جسم لازوال اور لافانی نہیں ہوتا ۔ملاپ اور موت سے آزاد ہو جاؤ۔ملاپ اور موت سے کہیں آگے جاکر تم کو ابھرنا ہے ۔تمہاریروح جنس اور موت سے اوپر اٹھے گی تو تب ہی اے انسان تمہیں آزادی نصیب ہوگی ۔تم آزاد ہو گے ۔۔۔
اے میرے انسان !جانور اپنے اپنے علاقوں پر قبضے کرتے ہیں اور سرحدیں بناتے ہیں اور پھر قیدی انسان ان سرحدوں پر بیٹھ کر اپنے جیسے قیدی انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں
یہ سب خالص ہے جس کا تمہیں مزہ لینا ہے ۔جسمانی ملاپ سے تم نہیں تمہارا جسم بنتا ہے ۔موت سے تم نہیں ۔تمہارا جسم مرتا ہے ۔اپنے اندر نئے انسان کو جگہ دو ۔ ہر حرف نگل جاوشعور بڑھاتے جاؤاور پھر دنیا کے انسانی شعور میں حصہ ڈالتے جاؤ۔جو کہو اندر سے کہو۔ یہ دین دھرم مذہب تو صرف حیلے ہیں ۔شراب کو تبدیل کرتے جاؤ۔بوتل وہی پرانی رہنے دو ۔رازوں سے بھرپور زندگی ہی سچائی تلاش کرتی ہے ۔ماضی کے تمام پہاڑ ڈھا دو۔اعتماد اور بہادری کے ساتھ تمام جھوٹی کہانیوں سے رشتہ توڑ دو ۔حال کے لیے زندہ رہنا سیکھو ۔ان کی تعلیمات انسان اور انسانیت کے خلاف ہیں جس کے پیچھے تم زندگی کو جہالت میں پھینک دیتے ہو ۔یہی تو ہیں جو غربت اور جہالت کے ذمہ دار ہیں ۔یہی تو ہیں جن کی وجہ سے تم قید میں ہوان کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔مذاہب کے تمام ماضی کو انسانی تاریخ سے بھگا دو۔مذاہب کی تاریخ سے رشتہ ٹوٹے گا تو پھر ہی نئی دنیا وجود میں آئے گی ۔دیکھتے رہو حقیقت تک پہنچ جاؤ گے ۔تمام پتے میز پر چھوڑ دو پھر ہی تم پر حقیقتیں کھلیں گی ۔پھر ایسی ذہانت اور دانائی تمہارا مقدر بنے گی جو تمہیں آزادی دلوا دے گی ۔
مذاہب نعمت نہیں خوبصورت الفاظ کا مجموعہ ہیں اورانسانوں کو قیدی بنا ڈالا ہے ان خوبصورت الفاط نے ۔ان کے چکر میں مت پڑو ۔یہ امارت اور تخلیق کے دشمن ہیں ۔او میرے انسان میرے پیارے انسان ۔یہ اصول ،نظریات اور نظام جو ان بطاہر خوبصورت الفاظ سے بنتے ہیں ان سے نجات سے ہی آزادی ملے گی ۔ذہنی خیالات اور تجربات میں مداخلت مت کرو صرف ان کو دیکھو ۔زندگی عظیم حیرت ہے اسی حیرت ایک ایسا لمحہ آئے گا جب تم ان خوبصورت الفاظ سے نجات پاجاؤ گے ۔جب تم آزاد ہو گے تو ہر طرف تمہیں خوبصورتی ہی خوبصورتی ناچتی نظر آئے گی ۔تمام نفرتیں ایک طرف رکھ دو ۔صرف اس لمحے کا خاموشی سے انتطارکرو ۔سوچو تم عیسائی ہو ،نہ ہندو ہو، نہ یہودی نہ مسلم۔۔۔اس کے بعد پھر تم ہمیشہ اسی لمحے میں رہو گے ۔ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاؤ گے ۔پھر تمہیں مندر جانے، سر جھکانے، گریہ کرنے اور صلیبوں کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔۔۔تمہارا وجود ہی مسجد، مندر اور چرچ بن جائے گا ۔سنو پرندوں کے نغمے ،سونگھو پھولوں کی خوشبو ۔سمندروں ،دریاؤں اورجھرنوں میں بہتے پانی سے تمہیں وہ کچھ ملے گا جس سے تم قید سے نجات پا جاؤ گے ۔جب تمہارا دل ان کے ساتھ ناچاکرے گا تو سمجھ لو تم نے سچائی پالی ۔تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئے ۔
تم سوئے ہوئے ہو ۔تم نے فطرت کو فراموش کردیاہے ۔تم خود ایک جیل ہو ۔خوبصورت الفاظ سے تیارکردہ کھلونے انسان کو بڑا نہیں ہونے دے رہے ۔جاگو! جاگو! جاگو!تمہارا احساس کمتری اس طرح تباہ ہو گا ،تمہاری انا اسی طرح ختم ہوگی ،اے میرے انسان !جانور اپنے اپنے علاقوں پر قبضے کرتے ہیں اور سرحدیں بناتے ہیں اور پھر قیدی انسان ان سرحدوں پر بیٹھ کر اپنے جیسے قیدی انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں ۔ یہ امریکہ روس بھارت جرمنی جاپان پاکسان برطانیہ کچھ نہیں ،یہ ملک نہیں قید خانے ہیں ۔پاسپورٹوں اور ویزوں کی بندشوں سے آگے نکلو ۔ہم سب انسان ہیں اور انسانیت اہنی آزاد شکل نمودار ہو گی تو ہی آزادی ملے گی۔جاگو! جاگو! جاگنے سے ہی تمہارے دماغوں اور ذہنوں کی زینت ہو گی۔ اس آزادی کو پانے کے لیے جرات اور بہادری کی ضرورت ہے جو تمارے پاس نہیں ۔انسان قید میں ہے ۔اسے اس شعور سے آگاہی چاہیئے کہ وہ قید میں ہے ۔ وہ شعور کہیں سے ڈھونڈ لاؤ۔قید سے نکلنا ہے تو اس شعور کو پانا ہوگا۔انسان قید میں ہے قید میں ہے اور یہی سچ ہے ۔۔۔۔ پہلے خود تسلیم کرو کہ تم قید میں ہو ۔ پہلا اصول یہ تسلیم کرنا ہے کہ میں قید میں ہوں ۔پھر آزادی ہی آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

میری مرضی

ووگ نامی جریدے نے بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم، تشدد کے واقعات اور امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے بامعنی اشتہارات بنانا شروع کیے ہیں۔ اس سلسلے کے اب تک دو اشتہارات نشر ہوچکے ہیں، پہلے کا عنوان لڑکے رلاتے نہیں ہیں تھااور دوسرے کا عنوان ہے مائی چوائس۔ پہلی ویڈیو میں مادھوری ڈکشٹ نے بڑے مامتا بھرے انداز میں قوم کی اصلاح کی تھی جب کہ دوسرے اشتہار میں دپیکا پڈوکون نے عورت کی آزادی اور خودمختاری پر لباس، جنسی اخلاقیات اور پدرسری روایات کے اثرات کے تناظر میں بات کی ہے۔ ووگ کی اس مہم کا مقصد خواتین کو با اختیار بنانا ہے۔
اشتہار میں دپیکا کے ذریعے معاشرے میں عورت کے اپنی جنسی شناخت پر قادر ہونے کی راہ میں موجود روکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی اور عورت کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ بھی مردوں کے مساوی جنسی آزادی کا حق رکھتی ہے۔
بھارت پچھلے کئی برسوں سے بہترین فلمیں اور اشتہارات بنا کر پورے خطے بلکہ تمام دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردینے والی تخلیقات ان کا طرہِ امتیاز رہی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال موقع موقع اشتہار تھا،لوگوں نے میچ کم اور یہ اشتہار زیادہ دیکھا تھا، اس اشتہاری مہم کا پہلا شکار پاکستان اور پھر پوری دنیا بنی۔ جس کسی کو اردو یا ہندی سمجھ آتی تھی اس نے اس اشتہاری مہم کا ویڈیو جواب دینے کی بھی کوشش کی لیکن دھماکہ اس دن ہوا جس روز بھارت سیمی فائنل ہار کر عالمی کپ سے باہر ہوگیا۔ اس دن اس اشتہاری مہم کو کرارا جواب ملا اور وہ تھا” پونکا پونکا” پاکستان اور بنگلہ دیش سے لوگوں نے بھارت فون کر کر کے بھارتی کرکٹ کونسل کو تنگ کیا اور اپنی بھڑاس نکالی۔اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک دفعہ جب کوئی چیز مشہور ہوجاتی ہے تو اس کا ردعمل بھی سامنے آنے لگتا ہے۔ عوام جواب دیتے ہیں اور خوب دیتے ہیں، پرانے زمانے میں عوام صرف خطوط لکھا کرتے تھے، مراسلے اور تار بھجتے تھے لیکن آج کے جدید دور میں ویڈیو بنا کر جواب دیتے ہیں۔
ووگ کے اشتہارات پر بھی لوگوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔پہلے انہوں نے” لڑکے روتے نہیں بلکہ لڑکے رلاتے نہیں “کا موضوع چنا اور ایک جاندار اشتہارتخلیق کیاجس میں مردوں کو ملنے والی اس غلط تربیت کی نشاندہی کی گئی جو مرد کو عورت پر تشدد کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ دوسرے اشتہار میں دپیکا کے ذریعے معاشرے میں عورت کے اپنی جنسی شناخت پر قادر ہونے کی راہ میں موجود روکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی اور عورت کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ بھی مردوں کے مساوی جنسی آزادی کا حق رکھتی ہے۔ اس اشتہار پر متوقع ردعمل کے پیش نظراسے صرف انٹرنیٹ پر نشر کیا گیا ٹی وی پر نہیں۔ یہ اشتہار عورت کو زندگی کے ہر مرحلے پر اپنی نجی زندگی کے معاملات پر بااختیار بنانے کی کوشش ہے ۔
جس کسی کی رسائی انٹرنیٹ تک اس کی جانب سے دپیکا کی کردار کشی اور ہجو گوئی کا سلسلہ شروع ہوگیا، ہر جانب سے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پر لعن طعن کی جانے لگی اوراس اشتہار کا اصل مقصد فوت ہوگیا جو عورتوں کو جنسی انتخاب اور جنسی ترجیحات کے تعین کی آزادی دینا تھا۔
اگرچہ اشتہار کا بیشتر حصہ عورت کی ذات ، شناخت اور انتخاب کی راہ میں موجود روکاوٹوں سے آزادی حاصل کرنے کے پیغام پر مبنی تھااور عورت کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ وہ کائنات کی طرح ہر سمت میں لا متناہی ہے، وہ ایک جنگل (معاشرے) کا محض جزو نہیں بلکہ ایک درخت(فرد) بھی ہے لیکن عوام کی سوئی صرف ایک جگہ آ کر اٹک گئی ہے؛ بقول دپیکا کہ ’میری مرضی شادی کروں یا نہ کروں، جنسی تعلقات شادی سے پہلے استوار کروں یا بعد میں یا شریکِ حیات کے علاوہ بھی کسی کے ساتھ تعلقات رکھوں،میری مرضی کہ میں ایک مرد سے محبت کروں، عورت سے یا دونوں سے، میں چاہوں تو عارضی محبت کروں یا ہمیشگی کی ہوس رکھوں۔”اس نکتے پر بہت سے لوگ معترض ہیں اور یہ جانے سمجھے بغیر کے ان باتوں کا مطلب کیا ہےمحض اعتراض کررہے ہیں۔ جس کسی کی رسائی انٹرنیٹ تک اس کی جانب سے دپیکا کی کردار کشی اور ہجو گوئی کا سلسلہ شروع ہوگیا، ہر جانب سے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پر لعن طعن کی جانے لگی اوراس اشتہار کا اصل مقصد فوت ہوگیا جو عورتوں کو جنسی انتخاب اور جنسی ترجیحات کے تعین کی آزادی دینا تھا۔ یہ اشتہار انتخاب کے حق کو عورت کی پہچان بنانے سے متعلق ہے جسے بہت سے لوگ غلطی سے جنسی “بے راہ روی”کی تبلیغ سمجھ بیٹھے ہیں۔
غالباً یہ اشتہار بنانے کی جو وجہ ووگ والوں کے پاس تھی وہ کچھ یوں تھی کہ مردوں کو ان کا ہی مکروہ چہرہ دکھا کر جتایا جائے کہ جو آزادی ایک مرد چاہتا ہے وہی ایک عورت کی بھی خواہش ہے۔ یہ اشتہار بھی مردوں اور پدرسری معاشروں کے منہ پر تھپڑ ہے۔کیوں کہ مرد یہ سب کچھ کرتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں ہوتی لیکن چونکہ ایک عورت نے یہ سب کہا ہے تو لوگوں کو آگ لگ گئی ہے۔ چوں کہ اس خطے میں عورتوں کا ایک “خاص “مرتبہ ہے اوریہ اشتہار سیتا، درگا اور ساوتری جیسے طاقتور مشرقی استعاروں کی نفی کرتا ہے اس لیے بہت سے لوگوں کے خیال میں اب عورت بھی اتنی ہی گندی اور گری ہوئی ٹھہری ہے جتنی کہ مرد۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ روایتی پدرسری معاشرتی تصورات ہی نہیں ہیں جو عورت کی آزادی اور خودمختاری کی راہ میں روکاوٹ ہیں؟
یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ بااختیاری کے اس منجن نے عالمی منشور برائے انسانی حقوق کی شق نمبر ۱۹ کا استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے کا بھرپور استعمال تو کرلیا ہے لیکن کیامشرقی معاشرہ ایک آزاد اور خود مختار عورت کو قبول کرنے کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔ اور کیا بااختیار ہونے کا مطلب محض جنسی آزادی ہے یا خاندان کے آغاز اوربقا کی کوئی صورت بھی اس تصور کے ساتھ وابستہ ہے؟