Categories
نقطۂ نظر

احتجاج کا حق اور سڑکوں کی سیاست

یورپ میں شخصی حکم رانی کے تحت قائم سلطنتوں میں بادشاہ اوراس کے حواری جاگیرداروں کی اقتدار پر قائم اجارہ داری کے خلاف ابھرتے ہوئے تاجر ، صنعت کار اور دانشور طبقہ کی جانب سے پر ہجوم عوامی تحریکوں کے ذریعہ انقلاب برپا کرنےکی کوششوں کے باعث جس جمہوری طریقہ انتخاب و انتقال اقتدار کا آغاز ہوا ،وہ نوآبادیاتی دور میں مقبوضہ علاقوں تک بھی پہنچا ۔ یورپ میں تشکیل پانے والے جمہوری نظام کی بنیاد انقلاب فرانس اور اشتمالی تحریکوں کی عوامی طاقت کے اس خوف پربھی رکھی گئی ہے جو کسی بھی ریاست کو انتشار کا شکار کرتے ہوئے مختلف طبقات کے مفادات اور ریاستی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا نے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جمہوری اداروں کے قیام کی اساس عوامی اقتداراعلیٰ، بنیادی حقوق اور آزادیوں تک یکساں رسائی اور ریاست، حکومت، معاشرے اور فرد کے مابین طاقت اور اقتدار کی شراکت کے عمرانی معاہدوں پر رکھی گئی تھی تاکہ متشدد انقلابات اور ہجوم کے ہاتھوں تبدیلی کا راستہ روکا جا سکے ۔ ریاست کی سطح پر تشکیل پانے والے عمرانی معاہدے جہاں حکومت کو ریاستی طاقت استعمال کرنے کا محدود حق دیتے ہیں وہیں عوام یا مختلف طبقات کو احتجاج کا جمہوری حق بھی دیتے ہیں۔ یورپی جمہوری نظام کا ارتقاء بتدریج ریاست میں بسنے والے مختلف گروہوں کو سیاسی نظام اور ریاستی اداروں میں نمائندگی اور شراکت دینے کا بتدریج عمل تھا جس کے تحت اقلیت اور اکثریت کے مابین منصفانہ توازن کے قیام کی مختلف جمہوری صورتیں رائج ہوئیں۔
سڑکوں کی سیاست کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ نقطہ ہمیشہ فراموش کیا گیا ہے کہ احتجاج کرتے ہجوم سے تمام تر ہمدردی کے باوجود مظاہرین کے مطالبات صرف احتجاج کی شدت ، مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد اور عوامی حمایت کی بنیاد پر جائز، آئینی اور قانونی تسلیم نہیں کئے جا سکتے ۔
نوآبادیاتی مقبوضہ جات خصوصاً ہندوستان میں یورپی اقوام کے ہاتھوں پہنچنے والے جمہوری نظام کے تحت شروع ہونے والے محدود سیاسی عمل نے جلد ہی عوامی سطح پراقتدار میں شمولیت اور بعد ازاں مکمل آزادی کے مطالبے کی شکل اختیار کر لی۔ ہندوستانیوں نے ریاست پر قابض استعماری ممالک کے قبضہ کے خلاف بیسویں صدی میں اقتدار کی مقامی افراد کو منتقلی اور خودمختار آزاد ریاستوں کے قیام کے لئے جو تحریکیں چلائیں ان میں ریاست استعماری قوتوں کی نمائندہ تصور کی گئی اور ریاستی اداروں کے خلاف سول نافرمانی سمیت احتجاج کرنے کے تمام جمہوری اور غیر جمہوری طریقےاستعمال کئے گئے۔ آزادی کی ان تحریکوں میں ریاست اور اس کے اداروں کو دشمن سمجھنے کی سوچ کسی حد تک آج کے پاکستانی انقلابیوں اور علیحدگی پسندوں میں بھی نظر آتی ہے، جو ریاست یا کم سے کم حکومت کو جبر اور استحصال کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں احتجاج کے بنیادی انسانی حق کو ریاست کے اداروں کے خلاف من پسند نتائج کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی بیسیوں مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آج بھی بیشتر سیاسی جماعتیں اور فشاری گروہ ریاستی اداروں جیسےپارلیمان، پولیس اورعدالتوں کو ظلم، جبر اور استحصال کا نمائندہ سمجھتے ہوئےان کے خلاف متشدد احتجاج کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ اسے اپنا جمہوری حق تصور کرتے ہیں۔ اس تاثر کی ایک اہم وجہ فوجی آمریتوں اور نوے کی دہائی کی جمہوری حکومتوں کے خلاف چلنے والی تحریکوں کے دوران فوجی اور سول حکمرانوں کی طرف سے پولیس اور عدالتوں کو اپنے اقتدار کے تحفظ اور احتجاج کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا نا ہے۔ایک اور اہم وجہ ریاست اور حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والوں سے معاملات طے کرنے کی اہلیت کا نہ ہونا ہے۔ ریاستی سطح پر بھی احتجاجی اور مزاحمتی تحریکوں کو نوآبادیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف طاقت کے استعمال کو ریاستی سلامتی کے لئے جائز سمجھا جاتا ہے؛جیسےایم آرڈی کی تحریک ، بلوچ مزاحمتی تحریک اور عدلیہ بحالی کی وکلاء تحریک،جن کے دوران حکومتوں کی جانب سے احتجاج اور مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ معاملات کو جمہوری طریقوں سے حل کرنے کی صلاحیت اور اہلیت نہ ہونے کے باعث ریاستی طاقت کے استعمال کو جائز سمجھ کر کارکنوں کی گرفتاری سمیت ہر قسم کے سیاسی و غیر سیاسی حربے جائز سمجھے گئے ہیں ۔ ریاست کی جانب سے جمہوری اور آئینی احتجاج کو طاقت کے استعمال سے روکنے کی وجہ سے ریاست ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متشدد عوامی تحریکوں کے جواز کے لئے وہی دلائل استعمال کئے گئے ہیں جو نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے وقت برطانوی تسلط سے آزادی کے لئے برتے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہروں کو پر تشدد بنانے کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقات کے مسائل کے حل کے لئے ریاستی وسائل کو استعمال کرنے میں مسلسل ناکامی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تشدد اور توڑ پھوڑ کو نمایاں کوریج دینا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں احتجاج کو ریاستی طاقت سے دبانے کی کوشش کرتی ہیں جس سے مظاہرین مشتعل ہوتے ہیں اور اس اشتعال کی ترویج براہ راست کوریج کے ذریعہ گھر گھر کی جاتی ہے۔
حکومت یا ریاست سے ناراض گروہوں کا مطالبات کی عدم تکمیل پر حکومت کو دباو میں لانے کے لئے تشدد اور توڑ پھوڑ کرنا اس بنیادی جمہوری فلسفہ کے ہی خلاف ہے جس کے تحت سیاسی گروہوں اور جماعتوں کو احتجاج اور اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔ منتخب حکومتوں کی تبدیلی کے لئےمسلح بغاوتیں، انقلابی تحریکیں ،سڑکوں کی سیاست اور دھرنے انتقال اقتدار کے اس پورے نظام فکرکی نفی کرتے ہیں جس کے تحت پرامن اور جمہوری طریقوں سے عوامی نمائندگی اور رائے دہندگی کے تحت حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔ پرامن احتجاج کے حق کا غلط استعمال نہ صرف ریاست کے لئے طاقت کے استعمال کاجواز بنتا ہے بلکہ دیگر شہریوں، گروہوں اور جماعتوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کا بھی باعث ہے۔
حکومت گرانے اور بنانے کے لئے سڑکوں کی سیاست پاکستان کے لئے نئی نہیں،نوے کی دہائی میں مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے کی منتخب حکومتوں کے خلاف سڑکوں کی سیاست کرتی رہی ہیں۔ سڑکوں کی سیاست اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کے پیچھے نہ صرف غیر جمہوری سیاسی اقدار تھیں بلکہ پس پردہ وردی اور بوٹوں کی دھمک بھی تھی ۔ منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہٹانے کی غیر جمہوری کوشش کے تحت ایسے حالات کا قیام جس میں فوج کو مداخلت کا موقع ملے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سیاسی جماعتوں اور موجودہ قیادت کے دامن کا سب سے بدنما داغ ہے۔ سڑکوں کی سیاست کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ نقطہ ہمیشہ فراموش کیا گیا ہے کہ احتجاج کرتے ہجوم سے تمام تر ہمدردی کے باوجود مظاہرین کے مطالبات صرف احتجاج کی شدت ، مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد اور عوامی حمایت کی بنیاد پر جائز، آئینی اور قانونی تسلیم نہیں کئے جا سکتے ۔ مظاہرین کی جانب سے پیش کئے مطالبات بیشتر صورتوں میں نہ تو پوری قوم کی اور نہ ہی اس کی اکثریت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، بلکہ عوامی طاقت کی حامل جماعتوں، طبقات اور گروہوں سے مخصوص ہوتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے خلاف جاری تحریک انصاف کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والے ایک اور میثاق جمہوریت کا متقاضی ہے ، تاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا جا سکے۔
مظاہرین کی جانب سے اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے درمیان حد فاصل کہاں کھینچی جائے گی اس کا دارومدار ہمیشہ کسی ریاست میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور تسلسل پر ہے۔جمہوری اقدار اور اداروں کی موجودگی میں سیاسی نوعیت کے مسائل تشدد اور توڑ پھوڑ کے بغیر بھی حل کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ تاہم انتخابات 2013کے دوران مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے مستند ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باوجود سیاسی نظام میں انتخابی شکایات نپٹانے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو پورے نظام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کے جواز ملا ہے۔ تحریک انصاف کا آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب مارچ احتجاج کے جمہوری حق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی نمائندہ مثال بن چکے ہیں۔
موجودہ سیاسی بحران کے دوران پارلیمان کا غیر موثر ہونا اور نظام میں احتجاج کرنے والوں کو انصاف فراہم کرنے میں حکومت اور حزب مخالف دونوں کی سیاسی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔ آئینی مسائل کا پارلیمان کی بجائے سڑکوں پر عوامی طاقت کے مظاہروں سے حل کیا جانا 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک کے دوران کئے جانے والے احتجاجی مظاہروں کی طرح، پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے جمہوری فراخدلی ظاہر نہ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت تبدیل کرنے، انتخابی اصلاحات کرنے، نظام بدلنے سمیت تمام مسائل پارلیمان میں حل کئے جانے چاہئیں تاہم ان مسائل کو ذرائع ابلاغ اور عوامی طاقت کے مظاہروں سے حل کیا جانا اس وقت جمہوری نظام کے مستقبل کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔2006 میں سابق آمر پرویز مشرف کے دور حکومت میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کیا جانے والا میثاق جمہوریت پاکستانی سیاست کا درخشاں باب ہے جس کے تحت نہ صرف ایک فوجی آمر سے اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل ہوا بلکہ پہلی بار ایک جماعت اپنی حکومت کی مدت مکمل کرنے میں کامیاب ہوئی۔2013 کے انتخابات کے بعد جہاں یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جمہوریت مستحکم ہو چکی ہے اور سول ملٹری تعلقات میں سول برتری بھی قائم ہونے کو ہے، تب صرف ایک برس تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لامگ مارچ کے باعث جمہوری اداروں کی کمزور بنیادیں مزید کم زور ہو گئی ہیں۔موجودہ حکومت کے خلاف جاری تحریک انصاف کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والے ایک اور میثاق جمہوریت کا متقاضی ہے ، تاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

عمران خان، میرے محبوب ترین راہ نما، کیوں؟

Nara-e-Mastana-ajmal-jami

کیونکہ آپ نے ہتھیلی پر سرسوں جماتے ہوئے مارچ ۱۹۹۲ میں پاکستان کو پہلا (اوراب تک کا آخری) کرکٹ ورلڈ کپ جتوایا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ نے شوکت خانم اسپتال جیسا بیمار پرور شفاخانہ کھڑا کیا؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ آپ دنیا بھر میں ایک کرشماتی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کو دنیا بھر میں شادی کے لیے ایک سے ایک آفرز موصول ہوئیں؟ اجی نہیں۔ کیونکہ آپ پندرہ فٹ اونچے سٹیج سے گردن کے بل گرے، لیکن گردن میں خم نہیں آیا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ زمین پر ورکرز کے ہمراہ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر سوکھا باسی کھانا کھاتے ہیں اور وہیں سو جاتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ آپ نے چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، اور یہی مطالبہ چالیس حلقوں۔۔اور پھر۔۔۔؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ نے آزادی مارچ جیسا انقلابی قد م اٹھایا؟ ہرگز نہیں۔کیونکہ آپ نے پنتیس پنکچرز والی بلاک بسٹر ٹیپ ریلیز کی اور ایک بریگیڈئر کا نام عوامی اجتماعات میں بہ بانگ دہل پکارا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کی جماعت میں محترمہ شیریں مزاری جیسی قدآور سیاستدان بطور ترجمان پائی جاتی ہیں؟ جی نہیں، ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کی سیاست کو ٹریفک کے ایک سگنل سے منسوب کیا جاتا ہے؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ جہانگیر ترین، خورشید قصوری، عبدالعلیم خان، شاہ محمود قریشی اور لاتعداد کھرانٹ انقلابیے آپ کے دست راست ہیں؟ناں، ہرگز نہیں۔ تو پھر شاید اس لیے کہ آپ کے ہم قدم ان دنوں پنڈی والے شیخ صاحب آپ کے مصاحب ہیں؟ جی نہیں۔ ہر گز نہیں۔ تو پھر آخر ایسی کون سی خوبی باقی رہی جس کی بدولت آپ ہمارے محبوب ترین رہنما ہوئے ہیں۔
لیجیے، ہم بیان کیے دیتے ہیں ۔ تو صاحب ایسا یوں ہوا ہے کیونکہ حکومتی نااہلی اور عوام کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے خان صاحب نے ایک قومی لیڈر کا روپ دھارا،کراچی سے خیبر تک اور گوادر سے قراقرم تک تمام ملکی مسائل کے حل کے لیے انتہائی جاں فشانی سے دن رات ایک کیا، نان ایشوز کو چھوا تک نہیں، اور ہمارے حقیقی مسئلوں پر کیا کیا نہ کر دکھایا۔ مثال کے طور پر یہ خان صاحب ہی تھے جنہوں نے گزرے ڈیڑھ برس کا نصف یعنی پورے نو ماہ بلوچستان میں گزارا۔ پارٹی تنظیم سازی تو ثانوی معاملہ رہا، اصل میں اس عرصے کے دوران آپ نے تمام ناراض بلوچ قبائل سے لاتعداد ملاقاتیں کیں۔ یہ آپ ہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ آج حکومت اور ناراض بلوچ رہنما ایک میز پر اکٹھے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناصرف وفاقی اور صوبائی حکومت بلکہ پورا بلوچستان آپ کو سفیر امن کے نام سے یاد کرتا ہے۔
ٓآپ کی جماعت نے خیبرپختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔
اندرون سندھ ہو، کراچی کی بد امنی ہو یا جنوبی پنجاب کی دہائیوں سے جاری محرومی ہو۔ خان صاحب نے نہ صرف ان اہم معاملات کی وکالت ایوان میں کی بلکہ ایوان سے باہر بھی آپ کی آواز سب سے موثر ثابت ہوئی۔ ان مدعوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کو خان صاحب نے آن بورڈ کیا، اور آپ کی یہی وہ کاوشیں ہیں جنہوں نے آپ کو ملک کا مقبول ترین راہ نما بنا دیا۔
آپ نے ناصرف دھاندلی زدہ انتخابات کو قبول کیا بلکہ جمہوریت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنے کا وقت دیتے ہوئے چار سال کا کڑوا کسیلا گھونٹ بھرنے کو ترجیح دی۔ لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے نکلا،عوام بلبلا اٹھے۔اور مجبوراً سڑکوں پر آٓگئے، تو حکومتی بے حسی اورنا اہلی کھل کر سامنے آگئی۔ ایسے میں خان صاحب آگے بڑھے، تحریک انصاف کے تھینک ٹینک کے سرکردہ ماہرین کو بلایا۔ ہفتوں سر جوڑے بیٹھے رہے۔اور بالآخر حکومت کو لوڈشیڈنگ سے جلد چھٹکارا اپانے کا تیر بہدف نسخہ عطا کرتے ہوئے ایک اور شرمندگی سے دو چار کیا۔
خدا خوش رکھے، خان صاحب ملکی تاریخ کے وہ واحد اپوزیشن رہنما ہیں جنہوں نے ایوان میں عددی اکثریت کم ہونے کے باوجود انتہائی موثر اندا ز میں ملکی داخلی اور خارجی مسائل پر پالیسی ساز اقدامت تجویز کیے جن کو قبول کرنے کے سوا حکومت کے پاس کوئی اور چارہ نہ رہا۔ میرے محبوب رہنما نے انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کے تدارک کے لیے سیاسی اور آئینی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے جامع اور مفصل تجاویز پیش کیں جنہیں ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بالآخر حکومت نے یہ اصلاحات من و عن تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئین کا حصہ بنا دیا ۔
آپ کی جماعت نے خیبر پختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ دو چار نہیں بلکہ تین سو پچاس ڈیمز بنا ڈالے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کے کسی بزنس مین سے یہ پوچھا جائے کہ صاحب، آپ کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تو وہ عجز و انکساری سے شرماتے ہوئے یہ جواب دیتا ہے؛ “کچھ خاص نہیں جی، بس ایک چھوٹا سا ڈیم ہے”
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عجیب پاگل لکھاری ہے۔بھئی، یہ سب کام تو حکومت کے کرنے کے تھے۔ یہ سب بھلا خان صاحب کے گلے کیوں ڈالے گئے۔تو صاحب، گزارش فقط اتنی سی ہے کہ جب حکومت ہی نا اہل ہو تو پھر ملکی سیاسی منظرنامے میں خان صاحب کے کردار کو بھلا کیونکر جھٹلایا جا سکتا ہے؟ اور حکومت اپنی ساکھ ویسے ہی مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ عوام الناس عام انتخابات کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ پذیرائی کا عالم یہ ہے کہ اب تو وولف بلٹزر اور کرسٹینا آمنپور کو بھی خان صاحب کا انٹرویو لینے کے لیے چھ ماہ کی ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی ہے، رہی بات ملکی میڈیا کی تو ابھی چند روز پہلے آپ نے ملک کے دو جیدصحافیوں جناب طلعت حسین صاحب اور محترمہ نسیم زہر ہ صاحبہ کو انٹرویوز کے دوران ا انتہائی تحمل اور مدلل گفتگوسے لاجواب کر دیا۔اور پھر پورے پاکستان نے دیکھا کہ کیسے یہ صحافی لاجواب ہو کر رہ گئے۔ ہیں جی!
صاحب، اندر کی اطلاع یہ ہے کہ بے پناہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب محترمہ شیریں مزاری اور دیگر سینئر رہنما رات دن ایک ہی مدعے پر دماغ کھپا رہے ہیں۔ اور وہ مدعا یہ ہے کہ کس طرح پاکستان کی وزارت عظمی تاحیات خان صاحب کے نام کر دی جائے۔امید ہے کہ اس گھمبیر سمَسیا کا حل جلد تلاش کر لیا جاوے گا۔
آپ کے کرشماتی حسن پر مولانا حسرت موہانی کا وہ شعر ہی پیش کر سکتا ہوں؛
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

 

نوٹ:( قارئین کے بے پناہ اصرار کے باوجود ناچیز مرشد پاک، اعلیٰ حضرت قبلہ شیخ السلام پروفیسر ڈاکٹر حضرت علامہ طاہرالقادری مدظلہ العالی المعروف عالم رویا والے کے جملہ اوصاف پر مزید روشنی ڈالنے سے قاصر ہے۔کیونکہ اس حقیر نے بالآخر قبلہ کی مریدی کا فیصلہ کر لیا ہے۔وجوہات کا ذکر پھر سہی)