گردشِ پا؛ ایک داستان ایک کہانی

تالیف حیدر: گردش پا ایک ایسی کتاب ہے جس کو اردو زبان کی خود نوشت سوانحی کتب میں بالیقین شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ یہ خود نوشت سوانح کے اجزائے ترکیبی کو ترتیب وار انداز میں پرو کر تحریر کی گئی ہے، بلکہ اس لئے کیوں کہ اس میں زندگی کے ان معاملات کو بیان کیا گیا ہے جو ایک پژ مردہ اور افسردہ انسان کو زندہ رہنے کا حوصلہ بخشنے اور اس کو زندگی کرنے کا عمل سکھاتی ہے۔
دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10

تصنیف حیدر: جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں
دس برسوں کی دلی — قسط نمبر 9

تصنیف حیدر: سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔
دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 6

اصولوں کی اس منڈی میں جس بری طرح اس کی خواہش کو رگیدا اور بے عزت کیا گیا ہے، وہاں اگر اس نے چاند چھونے کا کوئی چور راستہ دریافت کربھی لیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔
دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 3

دنیا کی شاید سب سے گہری جدائی میاں بیوی کے درمیان واقع ہونے والا فاصلہ ہی ہوسکتی ہے، دو کھری روحوں کے درمیان، جن میں اکثر مرد کی جانب سے کھوٹے پن کا اظہار زیادہ ہوتا ہے، بار بار ہوتا ہے، مگر اس وقت میرے والد کی بے وفائی مسئلہ نہیں تھی، ان کی جدائی مسئلہ تھی