Categories
شاعری

خوشی/ اداسی

جیون ایسی کتھا جس میں
خوشی اور اداسی کے سائے
ہمہ وقت گڈمڈ
رہتے ھیں
پل دو پل کو خوشی کا سورج
افق کے پار ابھرے تو
اداسی اپنے طویل پنکھ
پھیلاتی ھے اور
دل پر اندھیرے کا کبھی نہ
ختم ھونے والا راج پاوں پسار
لیتا ھے
مگر پھر کوئی ننھی کرن
مسکراتی ھے جسے امید کہتے ھیں
بالکل ایسے ہی جیسے
بھوک سے بلکتے بچے کو
ماں کی سوکھی چھاتیوں سے
ٹپکتے دودھ کا خواب آ جائے
اور
پل بھر کے لئے سیراب ہو جائے
مگر آنکھ کھلے تو
پھر وہی بھوک کی چلچلاتی دھوپ
خوشی اور اداسی کی یہ آنکھ مچولی
مرتے دم تک جاری رہتی ھے

By سلمیٰ جیلانی

سلمیٰ جیلانی کا تعلق کراچی سے ہے، انہوں نے گورنمنٹ کامرس کالج کراچی میں بطور لکچرار آٹھ سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 2001ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیوزی‌لینڈ مقیم ہو گئیں اور وہاں آک‌لینڈ یونیورسٹی سے ایم۔بزنس مکمل کیا۔ وہ وقتا فوقتا مختلف بین‌الاقوامی ثلاثی سطح کے تعلیمی اداروں میں پڑھاتی رہتی ہیں۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شوق ہے اور ان کے افسانے معروف ادبی جرائد جیسا کہ فنون، شاعر، ادب لطیف، ثالث، سنگت اور پین‌سلپس میگزین اور بچوں کے میگزینز میں شائع ہوتے رہے ہیں، کیونکہ وہ بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھتی ہیں۔ وہ دنیا بھر سے شعراء کے کلام کو اردو میں ترجمہ کر چکی ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ترجمہ مختلف ثقافتوں کے درمیان پل ہوتا ہے اور انہیں قریب لے آتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *