Categories
شاعری

مرے کچی رہ کے مسافرا

مرے کچی رہ کے مسافرا
تری خورجیں میں بھری ہوئی ہیں حیاتِ سُرخ کی نیکیاں
ترے بازوؤں سے بندھی ہوئی ہیں ستونِ عرش کی ڈروریاں
رگِ پا کے زخم سنوارتی ہیں جہانِ قاف کی باندیاں
کسی بے نشان سرائے پر تجھے عیب وقفہ قیام کا
مرے کچی رہ کے مسافرا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مرے کچی رہ کے مسافرا

[/vc_column_text][vc_column_text]

مرے کچی رہ کے مسافرا
ترے دست و پا کو سلامتی
ترے جان و دل کو امان ہو
تری چرمِ نرم کی چھاگلیں ہرے پانیوں سے بھری رہیں
ترے راستوں کا غبار اَوس کی بارشوں سے جما رہے
ترے اُونٹ کے کھرے پیتلوں کی وہ گھنٹیاں
جنہیں گیت گانے سے کام ہے
جنہیں ہر قدم پہ سماعتوں سے کلام ہے
وہ صدائے نغمہ سے پُر رہیں

 

سرِ شام زردِ غروب میں چھُپے پنچھیوں کے نظارا بیں
بھرے بادلوں میں لہو پھری گھنی سُرخیوں کے مزاج داں
شفق آئینوں کی حجابیوں کے طلسم کھولتے سامری
تُو سرائے ابر عبور کر، پرِ نیلگوں سے خراج لے
تجھے منزلوں کی ہوا لگے
تجھے پربتوں کا خدا ملے
وہ خدا کہ جس کا نزول ہے بُتِ جاں کے حرف و کلام میں
وہ کلام ضامنِ رہروی جو سنائے نغمہء سرمدی
جو بجائے باجہء دلبری

 

مرے کچی رہ کے مسافرا
تری خورجیں میں بھری ہوئی ہیں حیاتِ سُرخ کی نیکیاں
ترے بازوؤں سے بندھی ہوئی ہیں ستونِ عرش کی ڈروریاں
رگِ پا کے زخم سنوارتی ہیں جہانِ قاف کی باندیاں
کسی بے نشان سرائے پر تجھے عیب وقفہ قیام کا
مرے کچی رہ کے مسافرا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By علی اکبر ناطق

علی اکبر ناطق ایک نامور شاعر، افسانہ و ناول نگار اور لکھاری ہیں۔ اس وقت وہ اوکاڑہ، پنجاب کی ایک نجی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کی کتابیں "یاقوت کے ورق"، "بے یقین بستیوں میں" اور "نولکھی کوٹھی" نقادوں اور قارئین سے پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *