مجھے اک خواب لکھنا ہے
مجھے اک خواب لکھنا ہے
کہیں اسکول سے بھاگے
کسی بچے کی تختی پر
مجھے اک چاند لکھنا ہے
سوادِ شام سے گہری
سیہ عورت کے ماتھے پر
مجھے اک گیت لکھنا ہے
گھنے بانسوں کے جنگل میں
ہوا کے سرد ہونٹوں پر
مجھے اک نام لکھنا ہے
پرانی یادگاروں میں
کسی بے نام کتبے پر!
کہیں اسکول سے بھاگے
کسی بچے کی تختی پر
مجھے اک چاند لکھنا ہے
سوادِ شام سے گہری
سیہ عورت کے ماتھے پر
مجھے اک گیت لکھنا ہے
گھنے بانسوں کے جنگل میں
ہوا کے سرد ہونٹوں پر
مجھے اک نام لکھنا ہے
پرانی یادگاروں میں
کسی بے نام کتبے پر!
