Categories
شاعری

عریاں بدن کا مستور چہرہ

حسین عابد: وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
عریاں بدن کا مستور چہرہ
وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
تم جس چہرے کے ساتھ مجامعت کرتے ہو
وہ اسے تھوڑی دیر بعد نالی میں بہا دیتی ہے
تم اسے
کبھی بھی پہچان سکتے ہو
بو سونگھ کر
مگر تم ایسا نہیں کروگے
تم اسے جعلی پرفیوم تحفہ میں دوگے
تاکہ وہ اپنا چہرہ کبھی نہ ڈھونڈ سکے

By حسین عابد

شاعر اور موسیقار حسین عابد، لاہور میں پیدا ہوئے اور اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ، "اتری کونجیں"، "دھندلائے دن کی حدت" اور "بہتے عکس کا بلاوا" عام قارئین اور ناقدین سے یکساں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ حسین عابد نے "کاغذ پہ بنی دھوپ" اور "قہقہہ انسان نے ایجاد کیا" کی پیشکش میں مسعود قمر سے اشتراک کیا۔ عابد کا موسیقی کا گروپ "سارنگا" پہلا انسیمبل ہے جو اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *