Categories
شاعری

تم نہیں دیکھتے

ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں

دلوں سے دہلیزوں اور
خوابوں سے تعبیروں تک کا سفر
طے کرتی ہیں آنکھیں
یا قسمت
یا پھر طے ہو جاتا ہے یہ سفر
محض اتفاق سے
اور ہر سفر کی اپنی منزل ہوتی ہے اور صعوبت
اور آدمی کے پاس ہوتی ہیں
صرف آنکھیں

آنکھیں دیکھتی ہیں
دور کے راستوں کو
اور رگوں کو بھر دیتی ہیں
موسموں اور منظروں کی آگ سے
اتار دیتی ہیں تھکن اور دیکھتی رہتی ہیں
رات دن ، چمکتے جگنوؤں کی طرح
تھوڑا زاد سفر باندھ دیتی ہیں
یاد داشت کی گٹھری میں ——–
ہنستی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
کھلتے ہوے پھول ، بارش میں بھیگتے ہوے درخت اور آدمی
دریاؤں کے کنارے ، آبادیوں میں اترنے والی شام ،مسکراتی ہوئی دھوپ
اور مکتب سے نکلتے بچوں کی اجلی وردیاں ———
روتی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
ایڑی میں چبھ جانے والی کیل ، اڑتے ہوے بادل ،معدوم ہوتے ہوے ماہ و سال
ابدیت کے جنگل میں بھٹکتی ہوئی چاندنی
اور ہاتھوں سے گرتی ہوئی مٹی

آنکھیں نکل جاتی ہیں قدموں سے آگے
اور مکمل کر دیتی ہیں سفر
بھر جاتی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
گزری ہوئی بستیاں ،اور ان میں ایستادہ گھر
اور دہلیز پر کھلا ہوا پھول
اور آغاز کی سر خوشی اور ملال کے سائے

آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں !!
Image: Duy Huynh

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *