Categories
شاعری

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔

حسین عابد: رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔
رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
ضربوں میں پڑا چھوڑ آئے
وقت کو خواب پہ تقسیم کریں
خواب کو موت سے تفریق کریں
کانپتے ہاتھوں سے گر جائے کہیں
حاصلِ کارِ مسلسل
کہیں افسوس کی شمعیں
نہ صدائے ماتم
بے حسی بڑھتی چلی جاتی ہے
زندگی گھٹتی چلی جاتی ہے
رات بیدار تھی، بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا

Image: Anselm Kiefer

By حسین عابد

شاعر اور موسیقار حسین عابد، لاہور میں پیدا ہوئے اور اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ، "اتری کونجیں"، "دھندلائے دن کی حدت" اور "بہتے عکس کا بلاوا" عام قارئین اور ناقدین سے یکساں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ حسین عابد نے "کاغذ پہ بنی دھوپ" اور "قہقہہ انسان نے ایجاد کیا" کی پیشکش میں مسعود قمر سے اشتراک کیا۔ عابد کا موسیقی کا گروپ "سارنگا" پہلا انسیمبل ہے جو اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *