Categories
شاعری

بھینسے کا خدا

حسین عابد: حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل
بھینسے کا خدا
حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل
قوی سُموں کی دھمک سے
پھاڑ دیتا ہے رقیب کی پیشانی
اپنی عظیم ٹکر سے
جس کے سینگ شش جہت میں پھیلے ہیں
چمکیلی انیوں میں
ایسے رحمِ مادر پروئے
جن میں رقیب کا جنین پل سکتا
آفاق کی سرخی سے لبریز
اس کی آنکھ
ماداوٗں کی پُشتیں گھیرے رہتی ہے
مکھیاں گھس آتی ہیں
ہر سوراخ میں
ان کا کاٹا اپنی موٹی کھال پہ لکھتا ہوں
مگر خداوند
ان کی بھن بھن میری حمد کو چھلنی کر دیتی ہے

Image: Vasko Taškovski

By حسین عابد

شاعر اور موسیقار حسین عابد، لاہور میں پیدا ہوئے اور اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ، "اتری کونجیں"، "دھندلائے دن کی حدت" اور "بہتے عکس کا بلاوا" عام قارئین اور ناقدین سے یکساں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ حسین عابد نے "کاغذ پہ بنی دھوپ" اور "قہقہہ انسان نے ایجاد کیا" کی پیشکش میں مسعود قمر سے اشتراک کیا۔ عابد کا موسیقی کا گروپ "سارنگا" پہلا انسیمبل ہے جو اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *