Categories
نقطۂ نظر

ترکی کے نقش قدم پر

[blockquote style=”3″]

کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون نیوز لائن پر شائع ہو چکا ہے جسے لالٹین کے قارئین کے لیے ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پندرہ جولائی کی شب ترکی میں شروع ہونے والی فوجی بغاوت میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 2100 سے زائد زخمی ہوئے، یہ فوجی بغاوت سولہ جولائی کی صبح تک جاری رہی۔ اس بغاوت میں خود کو ‘دی پیس ایٹ ہوم کونسل’ کہنے والے فوجی دھڑے نے اقتدار پر قبضے کی ناکام کوشش کی۔ ترک پارلیمان پر بمباری کی گئی، انقرہ میں قائم صدارتی محل پر گولہ باری ہوئی اور بحریہ کے درجن بھر جہاز اس عرصے میں لاپتہ رہے۔ باسفورس پل پر چند گھنٹے تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد عوام اور پولیس نے بغاوت ناکام بنا دی۔ پلوں کے اوپر فوجی طیاروں کو پہلی مرتبہ رات گیارہ بجے پرواز کرتے دیکھا گیا صبح ساڑھے چھ بجے صدر رجب طیب اردگان نے شہریوں سے خطاب کیا اور فیس ٹائم کے ذریعے اپنے حامیوں کو جوش دلاتے رہے۔

 

ترکی میں فوجی بغاوت پاکستان میں ‘موو آن پاکستان’ نامی جماعت کی طرف سے لگائے گئے بینرز کے تین روز بعد ہوئی۔
ترکی میں فوجی بغاوت پاکستان میں ‘موو آن پاکستان’ نامی جماعت کی طرف سے لگائے گئے بینرز کے تین روز بعد ہوئی۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں لگائے گئے ان بینرز میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی۔ ایک جانب جہاں فیصل آباد کی یہ غیر معروف سیاسی جماعت طنزومزاح کا نشانہ بنی رہی وہیں ان کے اس اقدام پر سامنے آنے والا ردعمل صرف پریشانی کے اظہار تک ہی محدود نہیں تھا۔

 

موو آن پاکستان نامی پارٹی نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی تھی
موو آن پاکستان نامی پارٹی نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی تھی
اگرچہ حکومت اور حزبِ اختلاف کی بیشتر جماعتوں کی جانب سے ترک فوجی بغاوت کی مذمت کی گئی لیکن پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک انتخابی جلسے میں کہا، “اگر فوج نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا توپاکستانی عوام مٹھائیاں بانٹیں گے”۔ پاکستان میں ترکی جیسے فوجی انقلاب کے متصورین کا یہ فوری ردعمل پاکستان اور ترکی کی ریاستوں (درحقیقت پاک ترک افواج) کے مابین پائے جانے والے تاریخی تضادات کے برخلاف ہے۔

 

ایک ایسی ریاست جو دو متواتر جمہوری ادوار مکمل کرنے کے قریب ہے، وہاں سیاسی جماعتوں کا فوجی بغاوتوں سے متعلق چوکنے رہنا فطری امر ہے۔سیاسی حلقوں کی اس فکرمندی کا ایک ایسے وقت میں دوچند ہوجانا فطری ہے جب فوجی بغاوتوں کو بار بار قصہ پارینہ قرار دیا جا رہا ہو۔ سیاسی جماعتوں میں ایسی ہی تشویش تب بھی دیکھنے کو ملی تھی جب مصر میں محمد مرسی کی حکومت گرا کر جنرل عبدالفتح السیسی نے اقتدار سنبھالا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موجودہ وزیراعظم نوز شریف کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائے ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا۔

 

سیکولر اور اسلام پسند مناقشے کے تناظر میں بظاہر 2013 کی مصری فوجی بغاوت اور حال ہی میں ترک فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کی ناکام کوشش میں مماثلت نظر آتی ہے۔ لیکن ترک فوج کے باغی دھڑے کی فتح اللہ گولن سے وابستگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ‘کمال ازم کے رکھوالوں’ کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش نہیں تھی۔ ترک فوج سیکولر اقدار کے تحفظ کے لیے 1960، 1971 اور 1980 میں اقتدار پر قبضہ کر چکی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہےکہ1997 میں اسلام پسند ویلفیئر پارٹی کو سیکولرازم کے تحفط کے لیے ہی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ طیب اردگان ویلفیئر پارٹی کی باقیات سے ہی ابھرے اور اب ان کی جماعت اے کے پارٹی نو گیارہ کے بعد کے ترکی میں حکمران ہے۔

 

مذہب پرست ضیاء الحق اور روشن خیال پرویز مشرف دونوں نے پاکستان بھر میں قائم مدارس کے ذریعے جہاد پسندی کے نظریے کو پھیلانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم پاکستان میں اسلام پسندی کی سب سے بڑی داعی خود افواجِ پاکستان رہی ہیں اور پاکستانی فوج اسلام پسندی کو خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کے لیے استعمال بھی کرتی رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران فوجی افسران اور عام فوجیوں میں جہاد پسندی کے جزبے کو ہوا دی گئی۔ مذہب پرست ضیاء الحق اور روشن خیال پرویز مشرف دونوں نے پاکستان بھر میں قائم مدارس کے ذریعے جہاد پسندی کے نظریے کو پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ دونوں فوجی آمروں کی اس حکمت عملی کا مقصد عسکریت پسندوں کے ذریعے ہندوستان کے زیرِ انتظاام کشمیر میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا اور افغانستان کی سرزمین کو تزویراتی گہرائی کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش پید کرنا تھا۔

 

یوں پاک ترک سول عسکری حرکیات کا موازنہ ایک ایسے دلچسپ ملغوبے کی شکل میں سامنے آتا ہے جو بظاہر مماثلتوں پر مشتمل ہے مگر جس کی ترکیب تضادات کا مجموعہ ہے۔

 

پاکستان کے برعکس ترک فوج کو اقتدار کے حصول یا کسی بھی قسم کی مداخلت کے لیے کسی غیر آئینی جواز کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ترک فوج ملکی آئین کے تحت “جمہوریت کی پاسبان” ہے۔ کمال اتاترک نے آئین کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی تھی ان کے تحت فوج ملک کے وحدانی اور سیکولر طرزِ ریاست کی محافظ ہے۔ ترکی میں خارجہ حکمت عملی کے تحت بھی حکومت کو معزول کیا جا چکا ہے، جیسا کہ 1997 میں ویلفیئر پارٹی کو مغرب کے ساتھ روایتی صف بندی سے نکلنے کی پاداش میں اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔ ترکی کے مغرب سے قریبی روابط کی پالیسی مصطفی کمال اتاترک نے وضع کی تھی۔

 

سول عسکری تعلقات کے ضمن میں ترکی اور پاکستان کے مابین ایک اور فرق وہ اتحاد بھی ہے جو ترک سیاستدانوں کے مابین موجود ہے ترک سیاستدان پکستانی سیاست دانوں کے برعکس فوجی نرسریوں میں کاشت نہیں کیے گئے۔ تاریخی اعتبار سے پاکستانی سیاست دان خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں، نواز شریف یا عمران خان سبھی فوجی آمروں کے زیر سایہ پرورش پاتے رہے ہیں۔ ان سب سیاست دانوں میں فوج کے تانگے پر سوار ہونے کا رحجان رہا ہے، خواہ وہ 1971 سے قبل بنگالی اکثریت کی عددی برتری کا اثر کم کرنے کے لیے ہو یا خود کو سیاسی طور پر اہم اور بارسوخ ثابت کرنے کے لیے۔

 

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور مولانا طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں سے متعلق یہ افواہ گرم رہی کہ ان کے پیچھے سابق فوجی سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے وفادار فوجی افسران کا ہاتھ ہے۔ یہ افواہ ملک بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے کا باعث بنی، یوں محسوس ہوتا تھا گویا فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضہ ہوا ہی چاہتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بظاہر جنرل راحیل شریف کی قیادت میں فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کی خواہاں نہیں تھی۔ تاہم خارجہ حکمتِ عملی کے معاملے میں فوج معاملات میں پس پردہ رہ کر دخل اندازی کرتی رہی ہے۔

 

فوجی دائرہ اختیار میں ‘غیر ضروری مداخلت’ اور سول حکومتوں کی ‘نااہلی’ کو دنیا بھر میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان اور ترکی دونوں ممالک میں سول عسکری تعلقات کی صورت حال مختلف ہونے کے باوجود خواہ معاملہ ‘سیکولرازم کے تحفظ’ کا ہو یا ‘قومی مفادات کے تحفظ’ کا دونوں ملکوں کی افواج میں بغاوتوں کے سہولت کار افسران موجود ہیں۔

 

بالکل ویسے ہی جیسے مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے نتیجے میں 2014 کے لانگ مارچ برپا ہوئے، اسی طرح ارگینیکون مقدمات نے بھی ترک اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کیا ہے۔ ارگینیکون مقدمے میں سینیر فوجی افسران سمیت 275 افراد کو حکومت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔ جس طرح پاکستان میں حکمران جماعت ملم لیگ نواز کے خلاف 2014 کے دھرنے انتخابی دھاندلی اور مالی بدعنوانی کے الزامات کے تحت شروع کیے گئے اسی طرح ترکی میں اے کے پی پارٹی 2013 میں سامنے آنے والے مالی بدعنوانیوں کے سکینڈل کی زد میں ہے۔

 

فوجی دائرہ اختیار میں ‘غیر ضروری مداخلت’ اور سول حکومتوں کی ‘نااہلی’ کو دنیا بھر میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کو ترکی میں برپا ہونے والی حالیہ بغاوت سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سول حکومت کو اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور خاص کر سول حکومت کی عوام میں پذیرائی کے معاملات پر ترک حکومت سے سبق سیکھنا چاہیئے، کیوں کہ یہی عوامی پذیرائی طیب اردگان کو بچانے کا باعث بنی۔

 

معاشی ترقی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے باعث طیب اردگان کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے
معاشی ترقی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے باعث طیب اردگان کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے
ترک صدر کے نو عثمانی عزائم اور اسلام پسند رحجانات کے باوجود فوجی بغاوت کی راہ میں مزاحم ہونے والے عوام مذہبی جتھے نہیں تھے۔ طیب اردگان نے اپنی معاشی حکمت عملی اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچا کر عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کی تعریف عالمی بنک اور ایشیائی ترقیتی بنک کی جانبس ے کی جا رہی ہے مگر اس ترقی کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے۔

 

سول عسکری تعلقات کے لیے مثالی نمونہ وہی ہو گا جس میں فوج طاقتور ہو مگر سول حکومت کے تابع ہو، اور اس مثالی صورت حال کے لیے ایک اہم عامل سول حکومت کے لیے عوامی حمایت کا ہونا ہے۔ سو یہ ممکن ہے کہ مجودہ صورت حال میں عمران خان کا یہ کہنا درست ہو کہ “فوج کے آنے پر عوام مٹھائیاں بانٹیں گے” لیکن اس کا مطلب یہ نہیں عمرن خان یا کوئی بھی اور اس مسئلے کے ایک اہم پہلو کو نظر انداز کر دے۔ معاشی ترقی کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے اور سول بالادستی کے قیام کے لیے سول اداروں کو مستحکم اور مجبوط ہونے کے لیے وقت درکار ہے اور ایک اور فوجی مداخلت اس مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔
Categories
نقطۂ نظر

ترکی میں فوجی بغاوت ناکام کیوں ہوئی؟

[blockquote style=”3″]

ترکی میں حالیہ فوجی بغاوت ناکام ہو چکی ہے۔ ذیل میں فارن پالیسی پر چھپنے والے ایڈورڈ لٹواک کے مضمون اور بی بی سی پر شائع ہونے والے پال کربے کے مضمون کے منتخب حصوں کا ترجمہ دیا جا رہا ہے تاکہ اس بغاوت کی ناکامی کے اسباب کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

[/blockquote]

فارن پالیسی
ایک کامیاب فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا دوسرا اصول یہ ہے کہ ایسے تمام متحرک فوجی دستے خاص کر جنگجو طیاروں کے سکواڈز کو جو اس بغاوت کا حصہ نہیں، ان کی نقل و حرکت یا تو محدود کر دی جائے یا پھر وہ اس قدر دوردراز علاقوں میں تعینات ہوں کہ مداخلت نہ کر سکیں ( مثال کے طور پریہی وجہ ہے کہ سعودی فوجی دستے دارالحکومت سے اس قدر دوردراز علاقوں میں تعینات ہیں)۔ لیکن ترک فوجی بغاوت کے منصوبہ ساز (ریاست کے) وفادار ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں کو غیر فعال کرنے میں ناکام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں واقعات رونما ہوئے یہ فوجی سازوسامان اقتدار کے خواہش مند باغیوں کے کام آنے کی بجائے ان کے خلاف مزاحمت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ لیکن باغیوں کی جانب سے کچھ بھی کرنے سے پہلے حکومتی سربراہ کو گرفتار کرنے یا کم سے کم قتل کرنے کے پہلے اصول پر عمل نہ کرنے سے دوسرے اصول کی خلاف ورزی کی اہمیت ویسے ہی کم ہو جاتی ہے۔

 

ملکی صدر طیب اردگان پہلے آئی فون کے ذریعے اور بعدازاں استنبول ائرپورٹ پر ایک ٹی وی پریس کانفرنس کی صورت میں اپنے حامیوں کو فوجی بغاوت کے خلاف نکلنے کی تلقین کرنے میں کامیاب رہے۔
ملکی صدر طیب اردگان پہلے آئی فون کے ذریعے اور بعدازاں استنبول ائرپورٹ پر ایک ٹی وی پریس کانفرنس کی صورت میں اپنے حامیوں کو فوجی بغاوت کے خلاف نکلنے کی تلقین کرنے میں کامیاب رہے۔ ستم ظریفی یہ کہ وہ جدید سیکولر ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصویر کے نیچے کھڑے ہو کر بات کر رہے تھے۔ سیاست میں شمولیت کے بعد سے طیب اردگان کا مقصد سیکولرازم کی بجائے اسلامی جمہوریت کی ترویج رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر سطح پر طلبہ کو اسلامی سکولوں میں داخلہ لینے پر مجبور کرنے کے لیے سیکولر ہائی سکولوں کی بندش، شراب پر پابندی اور جگہ جگہ مساجد کی تعمیر جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔ مساجد کی تعمیر کا یہ عمل سابق گرجا گھروں میں قائم عجائب گھروں اور یونیورسٹیوں میں بھی جاری ہے جہاں اس سے پہلے سر پر سکارف باندھنے کی بھی ممانعت تھی۔

 

فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کرنے والے عوامی جتھوں کے ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر نہایت چشم کشا تھے: ان جتھوں میں سب کے سب مونچھوں والے مرد تھے (سیکولر ترک مونچھیں رکھنے سے سخت پرہیز کرتے ہیں) اور کہیں کوئی عورت دکھائی نہیں دی۔ علاوہ ازیں ان کے نعرے حب الوطنی پر مبنی نہیں تھے بلکہ اسلامی نوعیت کے تھے۔ مزاحمت کرنے والے “اللہ ایکبر” (اللہ اکبر کا ترک تلفظ) اور ایمان کی گواہی دینے کے لیے کلمہ شہادت دہرا رہے تھے۔

 

جب تک تعاون نہ کرنے والے فوجی سربراہان زیرِ حراست رہیں، بغاوت کے منصوبہ سازوں کو بہت سے سپاہیوں یا ہوابازوں کو بغاوت کا حصہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور باغیوں کی ابتدائی کامیابیاں خودبخود مزید فوجیوں کو اپنی جانب راغب کر لیتی ہیں۔ لیکن ترکی کے اعلیٰ فوجی عہدیداران نہ تو اس بغاوت کی منصوبہ بندی میں شامل تھے اور نہ ہی اس کا حصہ بنے۔ اور ان میں سے محض چند ایک ہی (بشمول چیف آف سٹاف جنرل ہولوسی آکار) حراست میں لیے گئے۔درحقیقت مسلح افواج کے تمام اہم کماندار اس بغاوت سے علیحدہ رہے، یہی وجہ ہے کہ اردگان کے ہزاروں لاکھوں پیروکاروں کے سامنے یہ باغی (جن کی تعداد دوہزار سے بھی کم معلوم ہوتی ہے اور) جن میں چند لڑاکا ہواباز بھی شامل تھے تعداد میں ناکافی ثابت ہوئے۔

 

حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بڑی شدومد سے اس بغاوت کی مخالفت کی، لیکن ان جماعتوں کو اردگان کی احسان مندی پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے۔
حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بڑی شدومد سے اس بغاوت کی مخالفت کی، لیکن ان جماعتوں کو اردگان کی احسان مندی پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے۔ آمرانہ طرزِ حکومت کی جانب سفر جاری رہنے اور اس کی رفتار میں اضافے کا قوی امکان ہے کیوں کہ زیادہ تر مسلمان ملکوں میں انتخابات کی اہمیت اور سوجھ بوجھ تو موجود ہے مگر جمہوریت کی نہیں۔

 

بی بی سی
جب باغیوں نے مختلف عمارتوں اور میڈیا دفاتر پر قبضے ک عمل شروع کیا تو اس وقت طیب اردگان سے متعلق کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہیں۔ باغیوں کو عوام اور فوج کی اکثریت کی حمایت درکار تھی۔ اگرچہ بظاہر وزیراعظم بن علی یلدرم فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آ رہے تھے لیکن زیادہ تر ترک یہ جانتے ہیں کہ درحقیقت طاقت کا سرچشمہ طیب اردگان ہیں اور وہ اس میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ فوجی بغاوت کی کامیابی کے لیے لازمی تھا کہ بغاوت کے منصوبہ ساز انہیں منظرنامے سے باہر رکھتے، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ “میں سالارِ اعظم ہوں” انہوں نے بعد میں کہا۔

 

پانسہ کب پلٹا؟
چار گھنٹوں تک اس حوال سے مستند اطلاعات موجود نہیں تھیں کہ صدر اردگان کہاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ترکی کے جنوب مغربی علاقے مرمارس کی تفریح گاہ ایگان میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ حالات کا پانسہ تب پلٹا جب وہ استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر اترے اور ایک دھواں دار کانفرنس کی۔ جیسے ہی وہ استنبول ہوائی اڈے پر اترے یہ امر واضح ہو گیا کہ حکومت دوبارہ نظم و نسق سنبھال رہی ہے اور اسے اعلیٰ عسکری قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ انقرہ جہاں طیب اردگان کا محل اور حکومتی دفاتر ہیں تاحال باغیوں کے قبضے میں تھا، لیکن استنبول میں وہ ترک عوام سے براہ راست خطاب میں کامیاب رہے۔

 

کامیابی کے لیے اس بغاوت کو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت درکار تھی۔ اس کے لیے ضروری کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کئی ترک شہروں میںنکل کر اس بغاو ت میں شامل ہوت
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے “غداری اور بغاوت” قرار دیا۔ ایک سینئر صدارتی مشیر النور جیوک نے اس کے فوراً بعد بی بی سی کو بتایا کہ فوجی بغاوت کو ترک عوام کے عزم و ارادے نے شکست دی۔ “یہ بات بالکل واضح ہے کہ بغاوت کی گئی لیکن حالات جلد ہی حکومت کے حق میں ہو گئے اور اردگان نے لوگوں کو انقرہ اور استنبول کی سڑکوں پر نکلنے کو کہا اور لوگوں نے ایسا ہی کیا”۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترک عوام ہی تھے جنہوں نے انقرہ ہوائی اڈے اور ریاستی ٹی وی اور ریڈیو پر سے فوج کا قبضہ ختم کرایا۔

 

اطلاعات پر گرفت
درحقیقت ٹی آرٹی کے سٹوڈیوز پر قبضہ کرنے والے فوجی شہریوں کی جانب سے اسٹیشن خالی کرانے کی ایک کوشش ناکام بنانے میں کامیاب رہے تھے اور بغاوت کے کرتا دھرتا اپنا پیغام عوام تک پہنچا رہے تھے۔ باغیوں کی جانب سے پیغام نشر کیا گیا کہ ایک “امن کونسل” نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایک اور نشریاتی ادارے سی این این ترک میں بھی فوجی اہلکار داخل ہوئے اور اس کی نشریات اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تک رسائی معطل کر دی گئی۔ لیکن نشریاتی اداروں پر باغیوں کا قبضہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا، ان کی گرفت اردگان کی اتاترک ائرپورٹ آمد سے پہلے ہی کمزور پڑ چکی تھی۔ صدر اردگان نے سی این این ترک سے رابطہ کیا اور ترکوں کو سڑکوں پر نکلنے کی تلقین کرنے کے لیے ایک ویڈیو کال کی۔شاید صدر خوش قسمت رہے، ان کا کہنا تھا کہ اس ہوٹل پر جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے ان کے روانہ ہو جانے کے بعد بمباری کی گئی اور ان کے سیکرٹری جنرل کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

کیا بغاوت کو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت حاصل تھی؟
کامیابی کے لیے اس بغاوت کو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت درکار تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کئی ترک شہروں میں نکل کر اس بغاوت میں شامل ہوتی۔ ٹینک سڑکوں پر نکل آئے اوراستنبول میں باسفورس کے پل پر قبضہ کر لیا گیا۔ لیکن چیف آف سٹاف جنرل ہولوسی آکار اس بغاوت کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی استنبول میں فوج کے سربراہ جنہوں نے باغیوں کے ہاتھوں جنرل آکار کی گرفتاری کے بعد ان کی جگہ لی۔

 

بحریہ کے سربراہ اور خصوصی افواج کے کماندار نے بھی بغاوت کی مخالفت کی اور ایف سولہ طیاروں نے باغیوں کے ٹینکوں پر حملہ بھی کیا۔
بحریہ کے سربراہ اور خصوصی افواج کے کماندار نے بھی بغاوت کی مخالفت کی اور ایف سولہ طیاروں نے باغیوں کے ٹینکوں پر حملہ بھی کیا۔ برطانیہ میں قائم تھنک ٹینک کیتھم ہاوس کے فادی ہاکورا نے اس بغاوت کو بچگانہ قرار دیا جو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا، “بغاوت کی یہ کوشش اپنے آغاز سے قبل ہی ناکام ہو گئی تھی۔”

 

اس بغاوت کو سیاسی یا عوامی حمایت بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ حزب مخالف کی سیکولر جماعت سی ایچ پی نے کہا کہ ترکی کئی فوجی انقلاب دیکھ چکا ہے اور اب ان “مشکلات کو دہرانا” نہیں چاہتا۔ قوم پرست جماعت ایم ایچ پی بھی حکومت کی حمایت میں میدان میں اتر آئی۔

 

باغی کون تھے؟
یہ فوج کا ہی ایک دھڑا تھا، فوجی ذرائع کے مطابق یہ فرسٹ آرمی کا ایک چھوٹا سا گروہ تھا جس کا صدر دفتر استنبول میں ہے۔ فادی ہاکورا کا کہنا ہے کہ “یہ دھڑا فوج کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا۔” ہاکورا کا ماننا ہے کہ فوجی بغاوتیں اب ترکی میں ماضی کی طرح وسیع تر (عوامی و عسکری) حمایت کی حامل نہیں رہیں ۔

 

رجب طیب اردگان عرصہ دراز سے ممکنہ فوجی بغاوتوں کا خدشہ ظاہر کرتے آئے ہیں اور حالیہ برسوں میں ان کی حکومت فوج اور پولیس میں سے ایسے افراد کی چھانٹی کرتی رہی ہے جن کے بارے میں اسے شبہ تھے کہ وہ اسلام پسند اے کے پارٹی کے خلاف ہیں۔

 

کیا اس سب کی منصوبہ بندی امریکہ میں کی گئی؟
صدر اردگان کئی برس سے اپنے سابق اتحادی فتح اللہ گولن پر اپنے خلاف سازشوں کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ صدر اردگان اور فتح اللہ گولن کی رفاقت کے خاتمے کے بعد سے فتح اللہ گولن امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بغاوت کے بعد طیب اردگان کو اپنے “ایک متوازی ریاست” (جو ان کے مخالف کی جانب ایک واضح اشارہ تھا) پر الزام عائد کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ فتح اللہ گولن کی تحریک نے اس بغاوت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ فتح اللہ گولن کے حامیوں کا کہنا تھا کہ انہیں بغاوت کی یہ کوشش “عجیب اور دلچسپ” معلوم ہوئی تاہم انہوں نے تحریک کے خلاف مزید حملوں کے خوف سے اسے مسترد کیا۔ تاہم ترک خبررساں ادارے انادولو کے مطابق حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے “متوازی ریاست” سے روابط کے الزام میں پانچ جرنیلوں اور انتیس کرنیلوں کو یہ کہہ کر برطرف کر دیا۔
Categories
نقطۂ نظر

استنبول کے رنگروٹ و کپتان

سلمان حیدر نے کیا پھبتی کسی ہے کہ
؎ اخوت اس کو کہتے ہیں لگے بینر جو پنڈی میں
تو ترکی میں اٹینشن فوج کا لفٹین ہو جائے

 

ذرا چشمِ تخیّل وا کرتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ٹینک انقرہ کی بجائے اسلام آباد پر چڑھ دوڑے ہوتے، آتشیں گولوں کا ہدف ترکش گرینڈ نیشنل اسمبلی کی بجائے پاکستان کی پارلیمان ہوتی، ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کی بجائے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور اے پی پی میں فوجی گھس آئے ہوتے اور محاصرہ اتاترک انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی بجائے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ہوا ہوتا جہاں لندن سے واپس آتے وزیرِاعظم کا طیارہ اترنے والا ہوتا تو اس وقت کیا صورتحال ہوتی؟

 

کیا وزیرِ اعظم بھی مارشل لا کی اس جاری کوشش کے دوران ترک صدر کی طرح پرسکون رہ پاتے؟ کیا دو بار کے ڈسے وزیرِ اعظم خبر ملنے کے بعد پاکستان میں اترنے کا رسک لیتے؟
کیا وزیرِ اعظم بھی مارشل لا کی اس جاری کوشش کے دوران ترک صدر کی طرح پرسکون رہ پاتے؟ کیا دو بار کے ڈسے وزیرِ اعظم خبر ملنے کے بعد پاکستان میں اترنے کا رسک لیتے؟ عوام کا ردِّعمل کیسا ہوتا؟ کیا لوگ ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے ہوتے؟ سیاسی جماعتوں کیا بیانات دے رہی ہوتیں؟ حکومتی رہنما کیا کررہے ہوتے؟ الزام کس پر دھرا جارہا ہوتا؟ پولیس کیا کرتی؟ اور عالمی سطح پر کیا ہلچل مچی ہوتی؟ کیا پاک فضائیہ برّی فوج کے ٹینکوں پر طیّاروں سے بمباری کرتی؟ کیا اس مہم جوئی کے پیچھے فوج کا کوئی ایک گروہ ہوتا یا پوری فوج؟ کیا فوج اپنے ہی چیف کو یرغمال بناتی؟ ایسے اور اس جیسے دیگر کئی سوالات کا جواب اپنے تخّیل اور تجربے کی مدد سے لینا پڑے گا۔
ہمارا ذہن تو یہ کہتا ہے کہ یار لوگ اسے اسلام آباد کے سیاسی حبس سے پھوٹنے والا طوفان ہی سمجھتے اور کسی اجتماعی ردِّعمل کی بجائے اپنے اپنے بچاؤ کی فکر میں ہوتے۔ یوں بھی تو آج ساون کی پہلی تاریخ ہے، ہاڑھ کے حبس سے گھبرائے لوگ ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہو کر ہر بگولے اور بارش کو خوش آمدید کہنے کو بے تاب ہیں۔ اسلام آباد کی سیاسی فضا میں ایک عرصے سے جمود چھایا ہے۔ اکّادکّا بیان کی بدلی کبھی کبھار آتو جاتی ہے لیکن ماحول نہیں بدلتا۔ ایسے میں طوفان آئے تو لوگ گھروں سے باہر تو نکلیں گے لیکن محض تماشا دیکھنے۔ چند شہروں سے یہ توقع بھی رکھی جاسکتی ہےکہ ایسی ہنگامہ خیز رات کے بعدصبح سویرے مٹھائیوں کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا اور دکانوں کی دکانیں خالی ہوجاتیں۔ ہمارے ہاں تو اس طوفان کو دعوت نامے بھی پہلے ہی شہروں شہروں آویزاں کر کے قوم کو ذہنی طور پر تیار کرلیا گیا تھا کہ ایسا بھی ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

 

ترکی کے وزیر برائے افرادی قوّت سلیمان سوئلو تو حامیوں سمیت ٹی آر ٹی کا قبضہ چھڑانے پہنچ گئے تھے لیکن ہمارے وزیر برائے افرادی قوّت صدرالدین شاہ راشدی صاحب شاید اگلے وزیرِِاعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہوتے۔ دیگر حکومتی اتحادیوں اور حکومتی جماعت کے اپنے اراکین کی اکثریت بھی نئے سیٹ اپ میں اپنی جگہ بنانے پر غور کر رہی ہوتی۔ صدرِ مملکت ایوانِ صدر میں اپنا سامان باندھ رہے ہوتے اور پریشان ہوتے کہ کراچی کی اگلی پرواز کب ملے گی اور مل بھی سکے گی یا نہیں۔ادھر فضا میں محوِ پرواز وزیرِاعظم کے سرخ و سپید چہرے کی لالی مزید واضح ہوچکی ہوتی، عین ممکن ہے عرقِ انفعال ٹپکنے لگتا کہ آخر تیسری بار کسی اور کو وزیرِاعظم کیوں نہ بنا دیا۔ جناب تو پانامہ لیکس پر قوم سے خطاب کے دوران اس قدر گھبرائے تھے، فوجیں چڑھ دوڑتیں توان کے تازہ جراحت کیے گئے قلب پرجانے کیا بیتتی۔ ترک صدر نے تو بغاوت کی خبر سنتے ہی سواحلِ بحیرہ روم جہاں وہ چھٹیاں گزارنے گئے تھے سے واپس استنبول کو پروان بھر لی اور ابھی غدر مچے چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے کہ ترک پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں تو اگر ایسی نوبت آن پڑتی اور پارلیمان کا اجلاس طے ہوتا تو اسے معطّل کر دیا جاتا۔

 

تیسری بڑی سیاسی جماعت کے نوعمر قائد کے میڈیا دفتر سے کچھ اس قسم کا بیان جاری ہوتا کہ نہ پتہ چلتا حکومت کی حمایت کی ہے یا باغیوں کی۔
چند ایک حکومتی وفادار (جن کی اکثریت وزیرِاعظم کے اپنے خاندان سے ہی تعلق رکھتی ہے) اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کو اس سازش کا حصّہ بتا رہے ہوتے۔ کسی محفوظ مقام سے نجی ٹیلیویژن کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ خاندانِ اوّل کے خلاف حکومت کے پہلے دن سے ہی سازشیں شروع تھیں۔ حکومت اور فوج کے ایک صفحے پر ہونے کے سب دعوے دباؤ میں کیے گئے تھے۔ ہم احتساب کے لیے مکمّل طور پر تیّار تھے لیکن اپوزیشن جماعتوں کی نیّت پہلے دن سے ہی صاف نہیں تھی۔ جیسے ترک حکمرانوں نے اس سازش کا سِرا پنسلوینیا (جہاں فتح اللّٰہ گیولن جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں) میں ڈھونڈ نکالا ہے ویسے ہی ہمارے وزیرِِاعظم کے اعزّا بھی اس بغاوت کے پیچھے ایک ’غیر ذمہ دار سیاسی جماعت‘ کے سربراہ کو بتاتے وغیرہ وغیرہ۔

 

اور اس ‘غیرذمہ دار سیاسی جماعت’ کے سربراہ جو خود بھی چھٹیاں گزارنے لندن گئے ہیں نے بنا اس بات کا انتظار کیے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کامیاب بھی ہوتی ہے یا نہیں بیان داغ دینا تھا کہ ہم احتساب کی اس فوجی کوشش کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ جبکہ تیسری بڑی سیاسی جماعت کے نوعمر قائد کے میڈیا دفتر سے کچھ اس قسم کا بیان جاری ہوتا کہ نہ پتہ چلتا حکومت کی حمایت کی ہے یا باغیوں کی۔ یہ قائد ابھی زیرِ تربیت ہیں اس لیے براہِ راست بیان دینے کے قابل ابھی نہیں ہوئے ہیں سو ان کے بیانات بذریعہ ٹوئٹر یا میڈیا دفتر سے ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

 

ترک عوام تو اپنے صدر کی پکار پر لبیک کہتے سڑکوں پر نکل آئے لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر چند لبرل مجاہد فیس بک پر ضرور نکلتے سڑکوں پر شریف حکمرانوں کی تصویر اٹھائے کسی کا نظر آنا محال ہے کہ حکمران جماعت انتخابات میں بھلے کامیاب ہو لیکن جلسوں میں اپوزیشن کی چھوٹی موٹی جماعت بھی ان سے زیادہ کامیاب رہتی ہے۔ فیس بک پر بھی اس لیے ایسی آوازیں سنائی دے جاتیں کہ فوجی باغیوں نے اپنے ترک ہم منصبوں کی طرح ٹیلیویژن سکرینوں کو تو قابو میں لے لیا ہوتا لیکن سوشل میڈیا پر قابو پانا ان کے بس سے باہر ہے۔ پورے ملک میں برقی مواصلات کے تمام ذرائع بند کر کے وہ خود کو بھی مفلوج نہیں کرسکتے۔

 

ترک عوام تو اپنے صدر کی پکار پر لبیک کہتے سڑکوں پر نکل آئے لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر چند لبرل مجاہد فیس بک پر ضرور نکلتے سڑکوں پر شریف حکمرانوں کی تصویر اٹھائے کسی کا نظر آنا محال ہے
ترک فوج کے برعکس ہماری فوج کی کوشش یہ رہی ہے کہ کم از کم اپنی کمان کی حد تک مکمّل اتحاد نظر آئے۔ ماضی قریب میں حزب التحریراور اس سے پہلے چند تنظیموں نے فوج میں نفوذ کر کے حکومت پر قبضے کے منصوبے ضرور بنائے لیکن ان کی یہ کوششیں ابتدائی مراحل پر ہی ہائی کمان کی نظر میں آتی رہیں اور ایسے عناصر کی بروقت سرکوبی کردی جاتی رہی۔ فوجی حکومتیں صرف تبھی قائم ہوئیں جب سپہ سالار نے خود یہ طے کرلیا ہو کہ اب حکومت کو نہیں چلنے دینا۔ ترکی کے فوجیوں نے بھی اگر تربیت کاکول سے پائی ہوتی یا چند افسران کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے کچھ کورسز کر گئے ہوتے تو شاید وہ ایسے مضحکہ خیز مارشل لا کی کوشش سے باز ہی رہتے جس میں فوجیوں کو عوام نے پکڑ کر جوتے مارے۔ہماری پرزور سفارش ہے کہ ہمارے ہاں کے حربی تربیتی اداروں میں بیرونِ ممالک کے فوجیوں کے لیے کامیاب مارشل لا کے کورسز کا انتظام کیا جائے تا کہ کل کو پھر کسی فوج کو یوں عزیمت نہ اٹھانی پڑے۔اللّٰہ کے بندو، یہ ساڑھے سات بجے شام کون سا وقت ہے مارشل لا لگانے کا۔ اور سیدھا پارلیمان پر بمباری کر دی۔ کچھ ہماری تاریخ ہی پڑھ لی ہوتی۔

 

بہت ہوگئی تخیّل کی سیر اب اس آنکھ کو بند کرتے ہیں اور اپنے جمہوری دور کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ ارے یہ کیا۔ جنابِ وزیر اعظم نے ترکی کی صورتحال پر غور کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلا لیا۔ کیا اجلاس میں صرف ترکی کی بغاوت پر ہی غور ہو گا یا ہمارے ہاں اس کی نقالی کے امکانات بھی گفتگو کے دائرے میں آئیں گے۔ یہ جاننے کے لیے دیکھتے رہیے ٹیلیویژن سکرینز تاوقتیکہ وہ تاریک پڑ جائیں۔