Categories
شاعری

مرگِ شب و روز اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

مرگِ شب و روز

ایک سیاہ رنگ کی بارش ہے
جو روز ہمارے گھر کے صحن میں برستی ہے
جو روز ہمارے بچوں کو نہلاتی ہے

ایک گمبھیر دھواں ہے
جو ہمارے کمرے سے باہر نہیں نکلتا
اور ہمارے پھیپھڑوں میں جگہ بناتا ہے

ایک ٹھنڈک
جو ہماری ہڈیوں میں اترتی ہے
اور ہمارے جوڑوں کا اعتماد کُھرچتی ہے

گھر سے باہر نکلتا ہوں
اور کچھ دور جا کر لوٹ آتا ہوں
کوئی فرق نہیں

مکھیاں بہت ہیں
میری بیوی کہاں ہے
پنکھا کیوں نہیں چلتا

آسمان مخدوش چھت کی طرح رُکا ہوا ہے
دن کب آتا ہے
رات کب جاتی ہے
اور یہ رات اور دن کی تصدیق کرنے والے
کہاں بیٹھتے ہیں

موسم کی تبدیلی کی خبر ہمیں اخبار سے ملتی ہے

سب کچھ ٹھیک ہے

وہ کہتے ہیں: “سب کچھ ٹھیک ہے”
چلو مان لیا، سب کچھ ٹھیک ہے
وہ سوتے میں چیخ مار کر جاگ اُٹھتے ہیں
“سب کچھ ٹھیک ہے”

وہ رات کے پچھلے پہر ہمارے دروازے پیٹ ڈالتے ہیں:
“سب کچھ ٹھیک ہے”

وہ ڈرتے ہیں پناہ گاہیں بدلتے ہوئے
اپنی گنتی گنتے ہوئے
اور اس سمت دیکھتے ہوئے
جدھر سب ٹھیک ہے

نظم

میرا بچہ ایسے سوتا ہے
(ہاتھ بلند کیے)
جیسے خواب میں احتجاج کر رہا ہو
یا کسی جلوس کے آگے نعرے بلند کر رہا ہو
اور میں
کبھی کبھی جاگنے کی حالت میں
ایسے چلتا ہوں
جیسے میرے پیروں تلے زمین نہ ہو
یا جیسے جلوس کے ساتھ نہ چل سکنے والا آدمی
گہرائی کی طرف لڑھکتا ہے
میری تمنا ہے
کہ میں کبھی
اپنے بچے کی طرح سووں
(ہاتھ بلند کیے)
جیسے خواب میں احتجاج کر رہا ہوں
یا کسی جلوس کے آگے نعرے بلند کر رہا ہوں
جب میرا بچہ جاگے گا
تو کیا اس کے پاوں کے نیچے زمین ہو گی؟
کیا جلوس ہو گا؟کیا میرے بچے کے ہاتھ بلند ہوں گے؟

گالی

سادہ کاغذ مجھ سے کہتا ہے
مجھ پر لکھو
اور میں اس پر ایک موٹی سی گالی لکھ دیتا ہوں
یہ گالی کسی سے منسوب نہیں
مگر ہر ایک سے منسوب ہے
خصوصاً اس سے
جسے یہ اعتراض ہے
کہ یہ گالی اسے دی گئی ہے

مجھ پر مقدمہ چلتا ہے
ایک فقیہ اور ایک اعلیٰ سرکاری افسر
یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گالی ان کو دی گئی ہے
استغاثہ کا وکیل کہتا ہے
یہ گالی مجھے دی گئی ہے
وکیلِ صفائی کہتا ہے
عدالت میں گالی پڑھ کر سنائی جائے

عدالت کہتی ہے، یہ گالی مجھے دی گئی ہے
جج گالی پڑھ کر سناتا ہے
اور سیڑھیوں سے اُتر کر
مجرموں کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے

رات

رات کیا ہوتی ہے؟
رات کیوں ہوتی ہے؟
رات کس پر آتی ہے اور کس پر نہیں آتی؟

تمہیں حراست میں لیا جاتا ہے
تم نے یہ سوال کیسے اُٹھائے
تم پر ایک رات طویل کی جاتی ہے
ایک مختصر

رات کے بارے میں تو ہم خود کچھ نہیں جانتے
بس کسی ملزم کو
سزا دینے کے لیے
ہمیں زندگی دی جاتی ہے
صرف ایک رات کی
جو کسی اور کی ہوتی ہے
کل شاید ہمارے پاس
تمہاری رات ہو

Categories
شاعری

چرواہے کا خواب اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

چرواہے کا خواب

چرواہا خواب دیکھتا ہے
اس کی ایک بھیڑ گم ہو گئی
صرف انچاس بھیڑیں باقی ہیں
چرواہا خواب دیکھتا ہے
اس کی تین بھیڑیں زخمی ہیں
صرف چھیالس باقی ہیں
چرواہا خواب دیکھتا ہے
بھیڑیے نے اس کے گلے پر حملہ کر دیا
بھاگتی منتشر ہوتی بھیڑوں میں سے پیچھے رہ جانے والی ایک بھیڑ اور کم ہو گئی
پچاس خوف زدہ بھیڑیں دیکھتی ہیں
سوئے ہوئے چرواہے کو بھیڑیا گھسیٹ کر لے جا رہا ہے

محبت کرنے کے لیے

محبت کرنے کے لیے
عشق پیچاں
مہرباں دن
یا داستانوی پرندے کی ضرورت نہیں ہوتی
محبت کرنے کے لیے تو
محبت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی

محبت کسی کی بھی مقروض نہیں
یہ کاغذ پر بنی آنکھوں میں سو سکتی ہے
ستاروں کی دوریوں پر
انتظار کر سکتی ہے
سمندر کے بلاوے میں
گھر بنا سکتی ہے

محبت آدمی کی ہینڈ رائٹنگ ہے
سفر اور کتاب کا چناؤ
اور ہوا میں پھینکا ہوا بوسہ ہے
محبت فراموشی میں زندہ رہتی ہے
اور احساس کے کسی دام میں نہیں آتی
یہ وہ محل ہے
جس کا ہر دروازہ باہر کھلتا ہے
لیکن ہر راستا اندر ہی بھٹکاتا ہے

جسم محبت کا پیرہن ہوتا ہے
بعض لوگ صرف جسم چھُوتے ہیں
اور برہنہ ہو جاتے ہیں
ایک دن محبت
آدمی کو مکمل کرے گی
آدمی کی تکمیل
شاعری کی آخری لائن ہو گی
اس دن کے بعد
آدمی اور محبت دونوں نہیں ہوں گے

نظم

پہلے ایک روٹی تھی
جو ہمیں تھامے رکھتی تھی
جس کے لیے ہم پیٹ کے بل چلتے تھے
اب روٹی کہیں غائب ہو گئی ہے
اور روٹی کی بھوک بھی
پہلے مجھے معلوم تھا
روٹی کہاں اگتی ہے
کس ارے سے کاٹی جاتی ہے
اب وہ کھیت صفحہء ہستی سے مٹ گئے
اور وہ آری بھی ناپید ہو گئی
اب لوگ فاقہ نہیں کرتے
اب لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں
ہمارے کھیت کیا ہوئے
ہماری روٹی اور فاقہ کہاں گئے
پہلے جب ہم سے روٹی چھینی جاتی تھی
تو ہم سراپا احتجاج بن جاتے تھے
شاید ہمارے شکم چرا لیے گئے ہیں
ہم احتجاج کرنا تک بھول گئے ہیں
ہمیں ہمارے حصے کی روٹی چاہیے
یا کم ازکم
ہمیں ہمارا فاقہ لوٹا دو
روٹی
ہم خود تلاش کرلیں گے

درخت کی دہشت

مَیں کلہاڑے سے نہیں ڈرا
نہ کبھی آرے سے
مَیں تو خود کلہاڑے کے پھل اور آرے کے دستے سے جُڑا ہوں
میں چاہتا ہوں
کوئی آنکھ میرے بدن میں اُترے
میرے دل تک پہنچے
کوئی محتاط آری
کوئی مشتاق ہاتھ مجھے تراش کر
ملاحوں کے لیے کشتیاں
اور مکتب کے بچوں کے لیے تختیاں بنائیں
اس سے پہلے کہ میری جڑیں
بوڑھی داڑھ کی طرح ہلنے لگیں
یا میری خشک ٹہنیاں آپس میں رگڑ کھا کر جنگل کی آگ بن جائیں

رسی

میں نے ساری کمائی سے
روٹی خریدی
ایک اور شخص نے
اپنی سب کمائی سے
اپنی محبوبہ کے لیے انگوٹھی خریدی
کسی اور نے
اپنی ساری پونجی
جوۓ میں ہار دی
ایک اور آدمی نے
رسی خریدی
اور گلا گھونٹ کر مر گیا

اب ہم
اپنی روٹی، انگوٹھی
اور ہاری ہوئی رقم یک جا بھی کرلیں
تو بھی وہ رسی نہیں خرید سکتے