Categories
شاعری

دائرہ اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

[divider]کتنے بااختیار ہو تم[/divider]کتنے بااختیار ہو تم

یہ کہتا ہے تمہارا چہرہ
تمہارا ڈھب
تمہارا فیصلہ

کتنے باحیثیت ہو تم
یہ کہتا ہے تمہارا جوتا
تمہارے کپڑے
تمہاری فور وھیل

پر میلی ہیں تمہاری آنکھیں
جو گھورتی ہیں
میرے ننگے پیروں کو
میرے ننگے کپڑوں کو
میرے ننگے دن اور مٹی کو

میں اپنی آنکھیں جمائے ہوئے ہوں
صاف اور نیلے آسمان پر
جہاں دھول نہیں پہنچتی

[divider]دائرہ[/divider]

کسی خواب میں اتر جاؤ
اسے مزید گہرا کرو
اور گہرے اترتے چلے جاؤ
زمین سے بیج کی طرح پھوٹو
کونپل کی طرح آن کی آن میں
کسی اجنبی ریت پر آنکھیں کھولو
اور دوسرے خواب کے انتظار میں
مر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔

[divider]عکس سے خالی آئینہ[/divider]

ایک ایسا آدمی
جس کے ہاتھ کی کسی انگلی میں
معتبر انگوٹھی نہیں
جس کی چائے کی پیالی
اس الجھن میں ٹھنڈی پڑ گئی
کہ وہ چائے میں کتنی شکر پیتا ہے
جو نہیں جانتا
مانوس دستک کیا ہوتی ہے
اس کی عقبی دیوار کا کلاک
اس کی توجہ سے محروم ہے
وہ اپنے آپ سے ہم کلام بھی نہیں
کمرے میں در آنے والی ہوا کے لیے
اس کے پاس کوئی سوال نہیں
نہ پرندوں کے شور کو
کاغذ پر چپکانے کی امنگ
نہ کسی خامشی سے سخن
اور نہ ہی وہ سامنے رکھی ہوئی خالی کرسی پر
کسی وجود کے احساس سے تقویت پا رہا ہے
ایک ایسا آدمی
ایک بے رنگ آدمی

[divider]دستانے[/divider]

میں چیختا ہوں
میں نے آج تک کسی چیز کو نہیں چھوا
نہ کسی آواز کو
نہ دیوار کو
نہ تمہارے بدن کو

میں تو زندگی بھر
اپنے دستانے نہیں اتار سکا

[divider]تابوت[/divider]

تنہائی کے اس تابوت سے
مجھے کون نکالے گا؟
کیا وہ
جس کے شور سے
میں تابوت میں بند ہو گیا ہوں

Categories
شاعری

مرگِ شب و روز اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

مرگِ شب و روز

ایک سیاہ رنگ کی بارش ہے
جو روز ہمارے گھر کے صحن میں برستی ہے
جو روز ہمارے بچوں کو نہلاتی ہے

ایک گمبھیر دھواں ہے
جو ہمارے کمرے سے باہر نہیں نکلتا
اور ہمارے پھیپھڑوں میں جگہ بناتا ہے

ایک ٹھنڈک
جو ہماری ہڈیوں میں اترتی ہے
اور ہمارے جوڑوں کا اعتماد کُھرچتی ہے

گھر سے باہر نکلتا ہوں
اور کچھ دور جا کر لوٹ آتا ہوں
کوئی فرق نہیں

مکھیاں بہت ہیں
میری بیوی کہاں ہے
پنکھا کیوں نہیں چلتا

آسمان مخدوش چھت کی طرح رُکا ہوا ہے
دن کب آتا ہے
رات کب جاتی ہے
اور یہ رات اور دن کی تصدیق کرنے والے
کہاں بیٹھتے ہیں

موسم کی تبدیلی کی خبر ہمیں اخبار سے ملتی ہے

سب کچھ ٹھیک ہے

وہ کہتے ہیں: “سب کچھ ٹھیک ہے”
چلو مان لیا، سب کچھ ٹھیک ہے
وہ سوتے میں چیخ مار کر جاگ اُٹھتے ہیں
“سب کچھ ٹھیک ہے”

وہ رات کے پچھلے پہر ہمارے دروازے پیٹ ڈالتے ہیں:
“سب کچھ ٹھیک ہے”

وہ ڈرتے ہیں پناہ گاہیں بدلتے ہوئے
اپنی گنتی گنتے ہوئے
اور اس سمت دیکھتے ہوئے
جدھر سب ٹھیک ہے

نظم

میرا بچہ ایسے سوتا ہے
(ہاتھ بلند کیے)
جیسے خواب میں احتجاج کر رہا ہو
یا کسی جلوس کے آگے نعرے بلند کر رہا ہو
اور میں
کبھی کبھی جاگنے کی حالت میں
ایسے چلتا ہوں
جیسے میرے پیروں تلے زمین نہ ہو
یا جیسے جلوس کے ساتھ نہ چل سکنے والا آدمی
گہرائی کی طرف لڑھکتا ہے
میری تمنا ہے
کہ میں کبھی
اپنے بچے کی طرح سووں
(ہاتھ بلند کیے)
جیسے خواب میں احتجاج کر رہا ہوں
یا کسی جلوس کے آگے نعرے بلند کر رہا ہوں
جب میرا بچہ جاگے گا
تو کیا اس کے پاوں کے نیچے زمین ہو گی؟
کیا جلوس ہو گا؟کیا میرے بچے کے ہاتھ بلند ہوں گے؟

گالی

سادہ کاغذ مجھ سے کہتا ہے
مجھ پر لکھو
اور میں اس پر ایک موٹی سی گالی لکھ دیتا ہوں
یہ گالی کسی سے منسوب نہیں
مگر ہر ایک سے منسوب ہے
خصوصاً اس سے
جسے یہ اعتراض ہے
کہ یہ گالی اسے دی گئی ہے

مجھ پر مقدمہ چلتا ہے
ایک فقیہ اور ایک اعلیٰ سرکاری افسر
یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گالی ان کو دی گئی ہے
استغاثہ کا وکیل کہتا ہے
یہ گالی مجھے دی گئی ہے
وکیلِ صفائی کہتا ہے
عدالت میں گالی پڑھ کر سنائی جائے

عدالت کہتی ہے، یہ گالی مجھے دی گئی ہے
جج گالی پڑھ کر سناتا ہے
اور سیڑھیوں سے اُتر کر
مجرموں کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے

رات

رات کیا ہوتی ہے؟
رات کیوں ہوتی ہے؟
رات کس پر آتی ہے اور کس پر نہیں آتی؟

تمہیں حراست میں لیا جاتا ہے
تم نے یہ سوال کیسے اُٹھائے
تم پر ایک رات طویل کی جاتی ہے
ایک مختصر

رات کے بارے میں تو ہم خود کچھ نہیں جانتے
بس کسی ملزم کو
سزا دینے کے لیے
ہمیں زندگی دی جاتی ہے
صرف ایک رات کی
جو کسی اور کی ہوتی ہے
کل شاید ہمارے پاس
تمہاری رات ہو