Categories
شاعری

خاموش۔۔۔۔خبردار

[blockquote style=”3″]

نور الہدیٰ شاہ کی یہ نظم اس سے قبل معروف اردو ویب سائٹ “ہم سب” پر بھی شائع ہو چکی ہے۔

[/blockquote]

خاموش۔۔۔۔خبردار!
یہ کون ہے جو کہہ رہا ہے دربارِ شاہ میں کہ شاہ کانوں سے بہرہ ہے!
یہ کس نے کہا کہ شاہ کی نظر کمزور ہے اور اسے دھندلا دکھتا ہے!
یہ کون ہے جو مسندِ شاہ کو کھینچ رہا ہے اپنی زباں کی جکڑ سے؟
گستاخ بھرے دربار میں رقصِ جنوں کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے
کہ مجھے اطلس و کمخواب کے اندر شاہ ننگا دکھ رہا ہے!
یہ کون ہے جو سر نگوں درباریوں کی جیبوں سے اشرفیاں نکال رہا ہے
اور خدا کو دکھا رہا ہے کہ دیکھ
تیرے اشرف المخلوقات لہو سے مایا بناتے ہیں
اور وضو شاہ کی تھوک سے کرتے ہیں
اور تجھے کہتے ہیں کہ تیرے سجدہ گزار ہیں!

نہیں نہیں!
یہ مشرک و کافر ہیں، انہیں معاف مت کر، یہ تیرے نہیں شاہ کے وفادار ہیں
ان کے سجدے و تسبیح، وضو و فتوے، سب کاروبارِ دربار ہیں

یہ کون گستاخ و کافر ہے جو یہ سب کہتا جاتا ہے اور ہاتھوں سے پھسلا جاتا ہے؟

عالی جاہ!
یہ غدّار ہے ۔۔۔۔۔ غدّار ہے ۔۔۔۔ غدّار ہے

سب درباری و مداری اٹھو اور اسے پھانسی چڑھا دو

ممکن نہیں ہے عالی جاہ!
یہ جسم نہیں روح ہے
اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے
مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے
Categories
شاعری

حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے

جاں نچوڑتے دردِ زہ سے گزر کر جس لمحے جنما تھا میں نے تجھے
اور لیبر روم کی سرکاری ڈاکٹرنی نے ہاتھوں میں لیا ہی تھا ابھی تجھے
اور میرے کان تیری آواز سننے کے ابھی منتظر ہی تھے
کہ سرکاری ڈاکٹرنی نے نرس سے کہا
بچے کو رونے مت دینا
سرکار نے رونے پر پابندی لگا دی ہے
اور حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ رونے والے بچوں کو دریا بُرد کر دیا جائے
آتشِ نمرود میں بٹھا دیا جائے
تب سے میرا ہاتھ تیرے منہ پے دھرا ہے
اور تب سے اس دیس کی کئی نسلیں دریا برد ہو چکی ہیں
آتشِ نمرود میں خاکستر ہو چکی ہیں
تب سے اس دیس میں نہ موسیٰ ہے، نہ عصا ہے
مگر آج تیرے منہ پر رکھا اپنا ہاتھ ہٹاتی ہوں میں
ماں بن کے تجھے اجازت دیتی ہوں میں
تو آج رو دے
حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے
حمل میں ٹھہری نسلوں کی خاطر رو دے
آنسو بہا
اس بانجھ ہو چکی دھرتی کو ہرا کر دے
سوکھ چکے دریا بھر دے
بھرے دریاؤں پر چپّوُ چلا
نیّا بن جا
دریا کاٹ اور دوسرے کنارے اتر
اور کہہ دے کہ فرعون مردہ باد
کہہ دے کہ موسیٰ زندہ باد

Image: Naji Al Ali

Categories
شاعری

تم نے جس مٹی سے قلعہ بنایا ہے

تم نے جس مٹی سے قلعہ بنایا ہے
تم نے جس مٹی سے قلعہ بنایا ہے
وہ آدمی کی تھی
آدھی گُندھی تھی
آدھی ابھی باقی تھی
کہ تم نے وہ مٹی چُرا لی
اور قلعہ بنا دیا
فتح کا پرچم بھی لہرا دیا
آدمی بے چارہ
بنتے بنتے رہ گیا
اب مٹھی بھر مٹی بس اتنی سی باقی ہے
یا قلعے کا بُرج بن جائے
یا آدمی کا دل بن جائے

Image: Mitchell Grafton