Categories
فکشن

بِلّیوں کا ماہر (تحریر: مو یان، ترجمہ: نجم الدین احمد)

[divider]تعارف[/divider]

نوبیل انعام برائے ادب۔۲۰۱۲ء سے چینی النسل ناول نگار اور افسانہ نگار مَویان کو نوازا گیا کہ “وہ اپنی تحریروں میںتخیّلاتی حقائق نگاری کا ادغام فوک داستانوں، تاریخ اور عصرِ حاضر سے کرتے ہیں۔” سویڈش اکیڈمی کے سربراہ پیٹر این گلنڈ کے مطابق: “اُن کا اسلوب اِس قدر لاثانی ہے کہ آدھا صفحہ پڑھتے ہی آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ مَویان ہیں۔” ۱۱؍اَکتوبر ۲۰۱۲ء کو سویڈش اکیڈمی کے اعلان کے بعد مَویان یہ انعام جیتنے والے دُنیا کے یک صد نویں اور چین کے دُوسرے ادیب لیکن چین ہی میں قیام پذیر پہلے ادیب ہیں۔ مَویان سے قبل ۲۰۰۰ء میں ایک چینی ادیب گاؤ ژِنگ جیان کو یہ انعام مل چکا ہے لیکن وہ فرانس کے شہری تھے۔

مَو یان کا اصل نام گُوآن مَوئے (Guan Moye) ہے۔ گُوآن اُن کا خاندانی نام ہے جب کہ گھر میں اُنھیں صرف مَو کہہ کر پُکارا جاتا ہے لیکن دُنیا بھر میں اُن کی شہرت اُن کے قلمی نام مَویان سے ہے۔ مَویان کا چینی زبان میں مطلب ہے: “چُپ یا خاموش رہو۔” نیشنل انڈوومنٹ فار ہیومینیٹیز کے چیئرمین جِم لِیچ کو انٹرویو دیتے ہُوئے گُوان مَوئے نے بتایا کہ یہ نام اُن کے ذہن میں اپنے ماں باپ کی تنبیہہ سے آیا تھا کہ گھر سے باہر اپنے دِل کی بات زبان پر مت لاؤ کیوں کہ اُن کے لڑکپن میں ۱۹۵۰ء سے چین میں سیاسی انقلاب کی صُورتِ حال تھی۔ اُن کے قلمی نام مَویان کا اُن کی تحریروں سے گہرا تعلّق ہے جو چین کی سیاسی اور جنسی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ گُوان مَوئے ۱۷؍ فروری ۱۹۵۵ء کو مَویان شندونگ (Shandong)صوبے کے گاؤمی (Gaomi)ضلع کے دیہی علاقے دالان )جسے اُنھوں نے اپنے ناولوں میں گاؤمی ضلع کے”شمال مشرقی قصبہ” کا نام دیا ہے) میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہُوئے۔ ثقافتی انقلاب کے دوران وہ سکول چھوڑ کر پٹرولیم مصنوعات کی ایک فیکٹری میں کام کرنے لگے۔ انقلاب کے بعد وہ پیپلز لِبریشن آرمی میں بھرتی ہُوئے اور فوج کی ملازمت کے دوران ہی اُنھوں نے لکھنا شروع کر دیا۔ تین سال بعد اُنھیں پیپلز لِبریشن آرمی کی اکادمی برائے فن و ادب کے شعبۂِ ادب میں استاذ کی نشست مل گئی جہاں سے ۱۹۸۴ء میں اُنھوں نے اپنا ناولچہ A Transparent Radish شائع کیا۔ اُنھوں نے ادب میں ماسٹر ڈگری بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے حاصل کی۔

مَویان نے بطور مصنف اپنے کیریئر کا آغاز چینی زبان میں اصلاح اور ایک نئے عہد کا آغاز کرنے والی ہزاروں کہانیاں اور ناول لکھ کر کیا۔ اُن کا پہلا ناول Falling Rain on a Spring Night۱۹۸۱ء میں اشاعت پذیر ہُوا۔ اُن کے لاتعداد ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اُن کا ناول Red Sorghum Clanشندوگ خاندان کی ۱۹۲۳ء تا ۱۹۷۶ء تک بکھری ہوئی داستانی تاریخ ہے۔ مصنف نے اِس ناول میں چینی تاریخ کے نشیب و فراز کو غیر روایتی انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ ناول مختلف ناموں کی پانچ جِلدوں پر مشتمل ہے :i) Sorghum Wine ii) Sorghum Funeral iii) Dog Road iv) The Odd Dead v) Red Sorghum۔ مغربی قارئین اُن کے ۱۹۸۷ء کے ناولRed Sorghum Clanکی وجہ سے اُن سے خُوب آشنا ہیں۔ اِس ناول کی دو جِلدوںRed Sorghum اور orghum Wine  پربعد میں Red Sorghum کے نام سے فلم بنائی گئی۔ اُن کا اگلا ناول The Garlic Ballad ایک سچی کہانی پر لکھا گیا ہے کہ گاؤمی قصبے کے لوگ اِس بِناء پر حکومت کے خلاف شورش برپا کردیتے ہیں کہ وہ اُن کی فصلیں نہیں خریدتی۔           The Republic of Wine شراب اور لذیذ پکوانوں پر ایک طنزیہ تحریر ہے جس میں شراب اور لذیذ پکوانوں کو چینیوں کی اپنی تباہی آپ کرنے کی علامتوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ Big Breasts and Wide Hips ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کرتا ہے جس کے پستان جاپانیوں کی گولیوں سے چیتھڑوں میں بدل گئے تھے۔ یہ ناول چین میں متنازعہ رہا کیوں کہ کچھ بائیں بازو کے نقادوں کا خیال تھا کہ Big Breasts اشتراکی فوجیوں کی منفی کردارنگاری کے طور پر سامنے آتا ہے۔ لکھنے کی توانائی سے بھرپُور مَویان نے اپنا تازہ ترین ناول Life and Death Are Wearing Me Out صرف ۴۲ دِنوں میں ہاتھ سے لکھ کر مکمل کیا ۔ وہ اپنے ناولوں کو ٹائپ کرنے کی بجائے ہاتھ ہی سے لکھنے پر ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ اُن کا خیال ہے کہ ٹائپ ” ذخیرۂِ الفاظ کو محدود کردیتی ہے۔” اِس ناول کی کہانی ایک ایسے جاگیردار کی کہانی ہے جو زرعی اصلاحات کی تحریک کے دوران مختلف جانوروں کے رُوپ میں بار بار زندہ ہوتا ہے۔ جاگیردار اشتراکی معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہُوئے اُس پر طنز کرتا ہے مثلاً جب وہ (گدھے کے رُوپ میں) دو خچروں کو اپنی خوراک میں سے اُسے حِصّہ دینے پر مجبور کرتا ہے کیوں کہ “اشتراکی دور میں… میری چیز تمھاری، تمھاری چیز میری۔”

مَویان کے دیگر اہم ناولوں میں

1۔ Sandalwood Death

2۔ Change

3۔  Pow!

شامل ہیں۔ جب کہ مختصر افسانوں کے مجموعوں میں

1۔ Shifu: You’ll Do Anything for a Laugh

2۔ White Dog and the Swings

3۔  Explosion and Other Stories

اور دیگر تصانیف میں

1۔ Man and Beast

2۔ Soaring

3۔ Iron Child

4۔ The Cure

5۔ Love Story

6۔ Shen Garden and Abandoned Child

مَویان کا کام اغلب طور پر معاشرتی تنقید پر محیط ہے۔ وہ لُو چن(Lu Xun) کی معاشرتی اور گیبریل گارشیا مارکیز کی ساحرانہ حقائق نگاری سے لیکن روایتی چینی ادب میں وہ فوک داستان پر لکھے جانے والے کلاسیکی رزمیہ ناول  Water Margin سے بہت متأ ثر ہیں۔ مَویان بین الاقوامی ادب کے تراجم کا مطالعہ کرتے ہیں (کیوں کہ مَویان کی تصانیف کو انگریزی میں ترجمہ کرنے والے ہاورڈ گولڈ بلیٹ کے بقول اُنھیں چینی کے علاوہ کوئی اَور زبان نہیں آتی)اور دُنیا بھر کے ادب کے مطالعے کے بہت بڑے حامی ہیں۔ اُنھوں نے فرینکفرٹ بُک فیئر ۲۰۰۹ء کی افتتاحی تقریر میں گوئٹے کے نظریے کو یہ کہتے ہُوئے بیان کیا: “ادب ملکوں اور قوموں کے درمیان موجود سرحدوں پر غلبہ پا سکتا ہے۔”

مَویان کی تحریریں رزمیہ تاریخی اُسلُوب رکھتی ہیں جس میں تخیّلاتی حقائق نگاری اورمزاح کی پُرکاری کی آمیزش موجود ہے۔ اُنھوں نے انسانی حرص و طمع اور بدعنوانی کو اپنا مستقل موضوع بنایا ہے۔ اُنھوںنے خِیرہ کُن، پیچیدہ اور اکثر پُرتشدّد کرداروں کو استعمال کرتے ہُوئے بہت سی کہانیاں اپنے آبائی گاؤں، شندوگ صوبے کے شمال مشرقی قصبے گاؤمی کے پس منظر میں لکھی ہیں۔ اِس بارے میں مَویان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے محسوس کیا کہ ولیم فاکنر کے The Sound and the Fury کے مطالعے کے بعد وہ اپنے خاندان، شناسا لوگوں ، دیہاتیوں ہی کو… اپنے کردار بنا سکتے ہیں ۔ مَویان کا اُسلُوب “ماضی اور حال، مردہ اور زندہ، اچھے اور بُرے” میں فرق کو دھندلانے کی خُوبی رکھتا ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں نیم خود نوشتی کردار کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں جومصنف کی دِیگر کہانیوں کو ترمیم کر کے دوبارہ سُناتاہے۔ اُن کے نسوانی کردار اکثر اپنا روایتی نسوانی کردار نبھانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ امریکا ٹائم میگزین میں ڈونلڈ موریسن اُن کے بارے میں لکھتا ہے: “وہ تمام چینی ادیبوں سے زیادہ معروف، اکثر پابندیوں کا شکار رہنے والے اور سرقہ ہونے والے ادیب ہیں۔”اور جِم لِیچ اُنھیں فرانز کافکا اور جوزف ہیلر کا جواب قرار دیتا ہے۔

مَویان کو ملنے والے انعامات و اعزازت کی طویل فہرست ہے ۔ جن میں کِری یاما۔۲۰۰۵ئ، ڈاکٹر آف لیٹرز۔۲۰۰۵ئ، فیوکوکا ایشین کلچر پرائز۔XVII، نیومین پرائز برائے چینی ادب۔۲۰۰۹، آنریری فیلو ماڈرن لینگوایج ایسوسی ایشن۔۲۰۱۰ئ، ماؤ ڈن لٹریچر پرائز۔۲۰۱۱ء اور نوبیل انعام برائے ادب۔۲۰۱۲ء شامل ہیں۔

قِصّہ گو” کے عنوان سے اپنے نوبیل خطبے میں مَویان نے اپنے خاندان کے شدّید معاشی بدحالی ومالی تنگ دستی کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی ادبی و غیر ادبی زندگی، تخلیقات، کردار نگاری اور موضوعات پر بھرپُور اظہارِ خیال کیا۔ جس میں سے چند ایک چیدہ چیدہ باتیں یہ ہیں:

“میں امریکی ناول نگار ولیم فاکنر اور کولمبیا کے ناول نگار گابرئیل گارشیا مارکیز سے بے حد متأثر تھا …میں نے اُن سے سیکھا کہ ایک لکھاری کی اپنی ایک سرزمین ہونا چاہیے جو صرف اُسی کی ذاتی ملکیت ہو۔۔۔ دو برس تک میں اُن کے نقشِ قدم پر چلا پھر مجھے احساس ہُوا کہ مجھے اُن کے اثر سے نکلنا ہو گا۔۔۔میں اپنی کہانیاں اپنے انداز میں لکھتا ہوں۔ میرا طور ایک بازاری قِصّہ گو جیسا ہے جس سے میری خُوب آشنائی ہے، وہی طور جو میرے والد، والدہ اور پُرانے زمانے کے قِصّہ گوؤں کا تھا… میری اِبتدائی کہانیاں میرے ذاتی تجربات کے بیانیے تھے… قدرتی طور پر اپنے ذاتی تجربات فکشن میں من و عن منتقل نہیں کیے جا سکتے خواہ وہ کتنے ہی لاثانی کیوں نہ ہوں۔ افسانے کو افسانہ اور تخیلاتی ہی ہونا چاہیے… تخلیقی عمل ہر مصنف کے لیے لاثانی ہوتا ہے… خواہ اُس کی تخلیق تخیلاتی ہو یا حقیقی۔۔۔میرے اِبتدائی کام کو خُود کلامیاں کہا جا سکتا ہے کہ مجھے کسی قاری کا تصوّر تک نہیں تھا۔ لیکن ناول Sandalwood Death کے لکھنے کے آغاز کے ساتھ ہی میری چشمِ تصوّر نے مجھے دِکھایا کہ میں چوک میں کھڑا سامعین کی بڑی تعداد کو اپنی کہانی سُنا رہا ہوں۔۔۔۔ میں نے ہمہ قسم کی اُسلُوبیات کا تجربہ کیا لیکن انجام کار میں اپنی روایات کی طرف پلٹ آیا لیکن یہ پلٹنا تبدیلی کے بغیر نہیں تھا۔ میں نے اِس ناول اور بعد میں آنے والے ناولوں میں چینی کلاسیکی روایت کو مغربی ادبی تیکنیکوں کے ساتھ آگے بڑھایا ہے… میں نے اپنے ناول The Garlic Ballads میں زندگی کے ایک حقیقی کردار کو لیا ہے جو ناول میں ایک قِصّہ گو اور گویّا کا اہم کردار ہے۔ گو اُس کے مکالمے اور افعال افسانوی ہیں لیکن کاش میں اُس کا نام استعمال نہ کرتا۔ یہ فعل مجھ سے ہر بار سرزد ہو جاتا ہے۔ میں حقیقی ناموں سے آغاز کرتا ہوں تاکہ مانوسیت کا احساس قائم رہے اور جب کام ختم ہو جاتا ہے تو لگتا ہے کہ اُن کے نام تبدیل کرنے کا مرحلہ کبھی کا گذر چکا۔ لوگ ناولوں میں اپنے نام دیکھ کر ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے میرے والد کے پاس جاتے۔ وہ ہمیشہ اُن سے میری جگہ معذرت کرتے اور اُنھیں کہتے کہ وہ اِس چیز کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ میری ایک سگی خالہ میرے تازہ ترین ناول “مینڈک” کا مرکزی کردار ہیں… مجھے اِس سے مفر نہیں کہ “مینڈک‘‘ میں وہ میرا ماڈل ہیں لیکن اُن میں اور افسانوی خالہ میں وسیع تفاوت ہے۔ افسانوی خالہ غصّیلی اور حاوی شخصیت کی حامل ہے اور بعض اوقات تو جھگڑالو بھی۔ لیکن میری سگی خالہ مہربان اور نرم خُو، خیال رکھنے والی روایتی بیوی اور شفیق والدہ ہیں… میرے لیے بڑا مرحلہ ناولوں میں سماجی حقائق سے نپٹنا رہا ہے۔ اِس لیے نہیں کہ میں معاشرے کے تاریک پہلوؤں کا کُھلا ناقد بننے سے ڈرتا ہوں  اِس لیے کہ تند و تیز جذبات اور طیش سیاست کو ادب پر غلبے کا موقع فراہم کردیتے ہیں۔ معاشرے کا رُکن ہونے کے ناطے ناول نگار کو اپنے مؤقف کو بیان کرنے کا پُورا حق حاصل ہے لیکن لکھتے ہُوئے اُسے انسانیت کے مؤقف کو مدِّنظر رکھنا چاہیے۔ایک لکھاری کے لیے بہترین طریقۂِ اظہار اُس کی تحریریں ہیں۔”

[divider]بلیوں کا ماہر[/divider]

خالہ نے بتایا کہ اُس   کا باپ ایک کاہل شخص تھا جس نے کبھی ایک دِن بھی ٹِک کر کام نہیں کیا۔ سرما کے سرد دِنوں میں جب لوگ پیسے کمانے کے لیے اپنے گھروں میں بند ہو کر تنکوں کی چپلیں بُن رہے ہوتے، اُس کا باپ اپنے ہاتھوں میں دو بِلّیاں لیے اِدھر اُدھر مٹرگشت کرتا پھرتا تھا۔ خالہ نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہُوا تھا تو پی ایل اے کا دستہ بستی کے عقب میں واقع الکلی کے میدان میں فائرنگ کی فوجی مشقیں کر رہا تھا۔ میدان سے سفید اور کالے دُھویں کے مرغولے اُٹھتے تھے۔ خوف ناک دھماکے کاغذی کھڑکیوں کو جھنجھنا ڈالتے تھے۔

جب وہ سات برس کا تھا تو مجھ سے جھگڑ پڑا، اپنے ہاتھ سے میرے گال پر کھرونچ ڈالی اور میرے کان پر مارا۔ بہت سا خُون بہا۔ خالہ نے اُسے دیکھ لیا اور اُس پر چِلّائیں: “بُومر، چھوٹے جنگلی بِلّے، تم کیا کر رہے ہو؟ لوگوں کو کاٹ رہے ہو؟”

وہ اپنی زبان کی نوک سے اپنے ہونٹ چاٹتا رہا جیسے جنگلی بِلّی ندیدے پن سے چُوہے کے قتلوں سے لہو چاٹتی ہے۔ خالہ کی بات اور ڈانٹ ڈپٹ پر اُس نے اپنی آنکھیں سُکیڑ لیں لیکن اپنی جگہ سے ہلنا تو درکنار اُف تک نہیں کی۔ ایک کالی بِلّی اپنے مُنھ میں ایک چُوہے کو دبوچے ہمارے کارخانے کے چھپرسے چھوٹے چھوٹے سریع قدموں سے نکلی۔ وہ ایک موٹا تازہ چُوہا تھا جس کے وزن سے بِلّی کا سر اُٹھ نہیں پا رہا تھا۔ اُس کی سبز لشکارے والی چُندھی آنکھیں پھٹی ہُوئی تھیں۔ اپنے ہاتھ کو سینے کی طرف اُٹھاتے ہُوئے وہ تنا اور اُس نے پلک جھپکنے میں بِلّی کے روبرو پہنچ کر اُس سے چُوہا چھین لیا۔ کالی بِلّی نے اُس کے سامنے مُنھ کھول کر چند عجیب و غریب چیخیں نکالتے ہُوئے شور کیا؛ پھر، جب اُس نے دیکھا کہ اُس کی ایک نہیں چلے گی تو وہ فوں فاں کرتی ہُوئی وہاں سے چلی گئی۔ خالہ کا ہاتھ، جو جئی کی بھُوسی سے میرا کان جوڑ رہی تھیں، لحظہ بھر کے لیے تھما لیکن اُن کے سختی سے اَدھ کھلے مُنھ سے کوئی آواز برآمد نہ ہُوئی۔ میری اور خالہ دونوں کی نگاہیں بُومر اور اُس کے ہاتھ میں تھامے ہُوئے چُوہے سے چپکی ہُوئی تھیں۔ اُس کے چہرے پر عسیرالفہم مُسکراہٹ تھی اور ایک ایسا تأثر جو یا تو احمقانہ ہو سکتا تھا یا پھر بے رحمانہ۔

بعد میں، بُومر اپنے باپ کے ساتھ شمال مشرق میں چلا گیا اور اپنے جانے کے بعد اُس نے کبھی اپنے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔ دو سال قبل میں نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ ایک قدرے سٹھیایا ہُوا بُڈّھا، جو کسی زمانے میں سکونت اختیار کرنے کے لیے شمال مشرق میں چلا گیا تھا، ہمارے گاؤں میں لوٹ آیا تھا۔ میں نے اُس کے پاس بیٹھ کر پیداواری ٹیم کے لیے چٹائیاں بُنتے ہُوئے بُومر اور اُس کے خاندان کے متعلّق دریافت کیا۔ اُس نے بجھی ہُوئی آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ بُومر کا باپ مر گیا ہے اور بُومر کو تیندوا  بِلّی نے کھا لیا ہے۔ جب میں نے اُس سے پُوچھا کہ تیندوا بِلّی کیسی ہوتی ہے تو میں اُس کی بات سمجھ نہیں پایا۔ اُس نے محض اِتنا کہا کہ بس یہ سمجھ لو کہ وہ ایک خشم ناک جنگلی جانور ہے؛ ایک عام بِلّی سے کچھ بڑا لیکن کُتّے سے چھوٹا، جس سے لومڑیاں اور سیاہ ریچھ تک خوف کھاتے ہیں۔

پس بُومر کو تیندوا بِلّی نے کھا لیا تھا۔ مجھے اُس کے لیے کوئی افسوس محسوس نہیں ہُوا، مجھے بس اُس کی چیستاں مُسکراہٹ یاد آئی—- ظالم، یا شاید محض حماقت بھری۔

بُڈّھے کو آئے ہُوئے ابھی ایک سال ہی ہُوا تھا کہ وہ چل بسا اور بستی کے مشرقی حِصّے والے پُرانے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ بستی والے اُس کے معاملے میں کہتے تھے کہ ہر چیز اپنے اصل کی جانب لوٹتی ہے—- وہ یہ بات تب کہتے جب کوئی شخص مرنے کے لیے اپنے گھر پلٹتا۔ اپنے آبائی مقام کو چھوڑنا دشوار ہوتا ہے۔ چاہے وہ مقام کتنا ہی پسماندہ ہو اُسے بُھلایا نہیں جا سکتا اور بالآخر حالات ایک روز آدمی کو وہاں واپس لے ہی آتے ہیں۔

اگلے برس، موسمِ سرما کی ابتداء ہی میں، فوج گاؤں میں بھرتی کے لیے آئی۔ بھرتی کرنے والے تمام افسران چرمی بُوٹ اور بھیڑ کی پوستینیں پہنے ہُوئے تھے۔ لوگوں کے استفسارات کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ وہ ہیلونگ جیانگ سے آئے ہیں۔ اُسی لمحے مجھے پُراَسرار کہانیاں اور اساطیر یاد آئیں جو بُوڑھے شخص نے سنائی تھیں اور بُومر کی کہانی بھی، جسے خشم ناک اور عفریت جیسی تیندوا بِلّی نے اپنی ریگمال زبان سے اُس کی ہڈّیاں چاٹتے ہُوئے کھا لیا تھا؛ ایک افسردہ تِیکھی چیخ۔۔۔ اور جنگل کی زلزلہ زدگی۔۔۔اُس زمانے میں گاؤں کی زندگی سخت تھی۔ تمام نوجوان فوج میں شمولیت چاہتے تھے اور اِس کے لیے بے حد جدّوجہد بھی کرتے تھے۔ چُوں کہ میری خالہ نے ژائی نامی ایک چیچک زدہ شخص سے، جو پیپلز ملیشیا میں ایک کمپنی کمانڈر تھا، چند برس قبل شادی کی تھی، پس میں ایک چقماق کے مانند تھا اور مجھے بِلا مقابلہ ہی پروانہ مل گیا۔ رنگروٹوں سے ٹھونس ٹھونس کر لدی پھندی ٹرین میں سفر کرتے ہُوئے دِن رات میں بدل گیا اور مجھے قطعاً اندازہ نہیں کہ جب ہم ایک وسیع و عریض جنگل کے کنارے پر پہنچے تو کتنا وقت بِیت گیا تھا۔ پیڑ اور برف ہماری آنکھوں اور ناکوں پر حملہ آور ہُوئی، ہَوا نوحہ کناں تھی اور رَات کے وقت جنگل بھیڑیوں کی عَو عَو سے بھرا ہُوا تھا۔ جب افسروں کو پتا چلا کہ میں گھر میں سؤر پالتا تھا تو اُنھوں نے مجھے بگھیاڑی کُتّوں کا انچارج بنا دیا۔ اپنے کُتّے پالنے کے زمانے میں، مَیں روزانہ باقاعدگی سے کُتّوں کا سُرخ لنبوترا (red  sausage) چپکے سے چُرا لیا کرتا تھا۔ مجھے تنقید کا نشانہ بنایا یا گیا لیکن میں اپنی عادت نہ بدل سکا۔ اُن سُرخ لنبوتروں پر نگاہ پڑتے ہی میری اندر اِتنی ترغیب بھرتی کہ میں اپنے حواس کھو بیٹھتا۔ یا تو میں اُن میں سے کچھ نہ کچھ لیتا یا پھر دِیوانہ ہو جاتا۔ حد یہ کہ اب بھی میں اُن لنبوتروں کو دیکھنے یا سُونگھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا… جب میں اُنھیں کھا رہا ہوتا تو میری نگاہوں کے سامنے دو تصوّر ہوتے: بُومر کا ناگہانی آفت کے مانند اُس بِلّی کے سامنے نمودار ہونا، چُوہے کو چھیننا، اُس کے چہرے کی مُسکراہٹ—- فضول؟ بے رحم؟— اور یہ کہ تیندوا بِلّی کا بُومر کی ہڈّیوں کا اپنی ریگمال زبان سے چاٹنا، اُس مُسکراہٹ کو چاٹنا، ایک ربڑ کی طرح جو کاغذ پر سے تحریر مٹاتا چلا جاتا ہے۔

تیندوا بِلّی کا چوکس، وحشی چہرہ میری نگاہوں کے سامنے یُوں تیرتا گویا میں نے واقعی کسی تیندوا بِلّی کو دیکھا ہُوا ہو۔

چُوں کہ میری وہ گھناؤنی حرکت اِتنی پکّی تھی کہ ختم نہیں ہو سکتی تھی، پس میرا تبادلہ کر کے مجھے فرائض سرانجام دینے کے لیے مطبخ میں بھیج دیا گیا جہاں میرے ذمے پینے کے لیے پانی اُبالنے اور سؤروں کو خوراک ڈالنے کا کام لگایا گیا۔ سیاسی تنظیمی افسر اور مطبخ کے سکواڈ کا لیڈر ایک روز مذاکرات کے لیے پہاڑوں میں گئے اور تین تیندوا بلونگڑے پکڑ لائے۔ تیندوا بلونگڑے! خاکستری اور سیاہ چھینٹوں والی چمک دار سمور—- خاص طور پر سیاہ سمور بے حد لشکتی ہُوئی، کان ایستادہ اور گھریلو بِلّیوں کے کانوں سے زیادہ نوک دار۔ لیکن باقی لوگوں کے لیے وہ عام بلونگڑے تھے۔ میرے لیے بُومر کو تیندوا بِلّی کے کھا جانے کی داستان پاس آگئی تھی۔

تیندوا بلونگڑوں کو آئے ہُوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ طویل عرصے سے ملازمت کرنے والے کچھ فوجی سبکدوش کر دیے گئے۔ مطبخ کے سکواڈ لیڈر کا نام سرِفہرست اور میرا سب سے نیچے تھا۔ سکواڈ لیڈر پانچ برسوں سے فوج میں تھا؛ افواہ تھی کہ اُسے کوارٹر ماسٹر کے طور پر ترقی دی جارہی ہے۔ وہ نہایت سرگرم کارکن تھا اور اکثروبیشتر میری نظریاتی تعلیم و تربیت کرتا رہتا تھا۔ میں فوج میں دو سال سے تھے اور اغلب تھا کہ مجھے لنبوتروں کی چوری کے الزام میں برخاست کر دیا جاتا! بجا، ایسا ہو بھی جاتا تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔ میں نے دو برسوں کے دوران میں خُوب پیٹ بھر کر کھایا تھا اور مجھے کافی تعداد میں کوٹ، ہَیٹ، بُوٹ اور کپڑے—- زیرِ جامے اور لباس—- جاری کیے گئے تھے جو مجھے زندگی بھر کے لیے بہت تھے! فوج میں دو سال بِتانے کے بعد میری زندگی مکمل طور پر ضیاع نہیں تھی۔ میں اِسے اِس طور پر دیکھتا تھا۔ لیکن مطبخ کا سکواڈ لیڈر اِسے اِس طور پر نہیں دیکھتا تھا۔ جُوں ہی فہرست سے اُس کا نام پُکارا گیا وہ موقع ہی پر ڈھے گیا۔ اُسے ہوش دِلانے کے لیے معالج نے اُس کے بدن میں سُوئیوں پر سُوئیاں گھسیڑیں اور وہ ہوش میں آتے ہی ہذیان بکنے لگا۔ اور پھر اُس نے گوشت کاٹنے والی لمبی چھری لی اور دو تیندوا بلونگڑوں کے سر تن سے جُدا کر دیے۔

اُس نے ایک بلونگڑے کو گوشت بنانے والی چوبی مُڈھی پر رکھا (بلونگڑا اَب تک اُسے کھیل سمجھ رہا تھا، میاؤں میاؤں میاؤں کرتے ہُوئے اُس نے اُس کے ہاتھ کھرونچ ڈالا)، چھری بلند کی، نیچے لایا۔ “کمپنی کمانڈر، تمھارے نام!” اُس کے چِلّانے کے دوران میں چھری نیچے جاتے ہُوئے چمکی، بلونگڑے کے دھڑ سے سیاہ خُون بہنے لگا۔ اُس کے ڈیلے باہر کی طرف اُبلنے لگے، دُم چند بار چوب سے ٹکرائی، ایک لمحے کے لیے سختی سے تنی اور پھر آہستہ آہستہ نیچے گِر گئی۔ دُوسرے بلونگڑے کو پہلے بلونگڑے کے خُون سے لت پت مُڈھی پر دھرا گیا۔ اپنے ہم جنس کے لاشے کے ساتھ پڑے ہُوئے وہ بلونگڑا جنونی انداز میں چِلّایا۔ بھنچے ہُوئے ہونٹ اور لال آنکھیں لیے سکواڈ لیڈر نے تختے پر سے چھری جھٹکے سے اُٹھا کر بلند کی اور کوسا۔ “کمپنی کمانڈر، تمھارے نام!” اُس کی آواز کے فلک شگاف ہوتے ہی، چھری نیچے گِر گئی اور بلونگڑے کا سر لڑھکنے لگا۔ اُس کی چھاتی بلونگڑوں کے خُون سے بھر گئی تھی۔

شوروغوغا بلند ہُوا اَور لوگ دوڑے، کمپنی کمانڈر اور  سیاسی تنظیمی افسر بھی اُن میں شامل تھے۔ مطبخ کا سکواڈ لیڈر زمین پر گھٹنوں کے بَل بیٹھ گیا۔ اُس کے ہونٹ بھنچے ہُوئے اور دونوں آنکھوں میں ایک ایک آنسو تھا۔ وہ بولا۔ ” سیاسی تنظیمی افسر۔۔ کمپنی کمانڈر… مجھے رکھ لو… میں گھر نہیں جانا چاہتا—”

جس تیندوا بلونگڑے کا سر مطبخ کے سکواڈ لیڈر کے ہاتھوں قلم نہیں ہُوا تھا اُسے میں نے ایک بکسے میں ڈالا اور اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ دو بلونگڑوں کے سروں کو تن سے جُدا کرنا سکواڈ لیڈر کے کام آیا نہ اُس کا رونا پیٹنا اور نہ ہی مِنّت سماجت۔ میں اور وہ ایک ہی گاڑی میں سٹیشن تک آئے اور اُس نے گھر جانے کے لیے ایک دُخانی گاڑی پکڑ لی۔ لوگ کہتے تھے کہ اُس کا گاؤں میرے گاؤں سے زیادہ عسرت زدہ تھا۔

کمپنی ڈپٹی کمانڈر نے، اِس خدشے کے پیشِ نظر کہ ٹرین میں بلونگڑا نالہ و بکا کرے گا جس سے خدمت گارکو پتا چل جائے گا اور مجھے جرمانہ ہو گا، مچھلی ڈبویا ہُوا اَ لکلوحلی محلول دیا جسے پلا کر ہم نے بلونگڑے کو سلا دیا۔ ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ اگر وہ جاگ جائے تو اُسے اَور مچھلی کھلا دوں۔ وہ اور میں ایک ہی جگہ کے تھے؛ وہاں چُوہے طاعون ہیں، اُس نے کہا، بِلّیوں کی ضرورت ہے۔

اگرچہ میں نے یہ بتایا تھا لیکن تیندوا بِلّی کو دیکھنے کے بعد مجھے بُومر کی طویل کہانی پر اعتبار نہیں رہا کہ اُسے کسی ایسی بِلّی نے کھا لیا تھا۔ جب اُس سے میرا ٹاکرا سڑک پر ہُوا تو میرا دِل سینے سے ٹکرانے لگا۔ ہم دونوں نے ایک دُوسرے کو اُوپر سے نیچے تک دیکھا۔ پہلے ایک دُوسرے کے مُنھوں کو تکتے رہے، پھر سرتاپا نظریں ڈالیں اور پھر ایک دُوسرے کو نام سے پُکارا۔

وہ کافی بڑا ہو گیا تھا، لیکن اُس کے چہرے کے تاثرات عشروں پہلے والے ہی تھے۔ جب وہ باتیں نہ کر ہوتا تو اُس کے چہرے پر وہی پُراَسرار مُسکراہٹ ہوتی، بہ یک وقت احمقانہ اور ظالمانہ۔

“سٹُوٹرر نے بتایا تھا کہ تمھیں تیندوا بِلّی نے کھا گئی ہے!” میں نے کہا۔ “سٹُوٹرر” اُس بُوڑھے شخص کی عرفیت تھی۔

اُس نے دانت نکوسے: “تیندوا بِلّی؟”

حد یہ کہ کھیتوں میں بسنے والے چُوہے بھی گاؤں کی گلیوں میں دوڑتے رہتے تھے، اُن کے مُنھ پھلیوں اور مکئی سے پھُولے ہُوئے اور گال باہر کو نکلے ہوتے تھے۔ وہ گلیوں میں پوئیا چال میں چلتے ہُوئے وقت لگاتے اور جب کوئی مُرغا ٹھونگ مارنے کے لیے اپنا سر بڑھاتا تو چُوہا دوڑ کر دِیوار کے کسی رخنے میں، بھُوسے کے ڈھیر میں یا گلی میں جگہ جگہ دِکھائی دینے والے چُوہوں کے بِلوں میں سے کسی بِل میں جا گھستا۔

“کیا تم نے کبھی تیندوا بِلّی دیکھی ہے؟” اُس نے مجھ سے استفسار کیا۔

میں نے اُسے بتایا کہ میں ایک بلونگڑا شمال مشرق سے لایا تھا اور وہ اب بھی میری خالہ کے ہاں موجود ہے!

وہ کھِل اُٹھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں اُسے اُسی وقت وہ بلونگڑا دِکھانے کے لیے لے جاؤں۔

لیکن میں پہلے اُس کا گھر دیکھنے کا تمنّائی تھا۔

اس کا گھر پیداواری ٹیم کا کام کرنے کا پُرانا، ریکارڈ رکھنے کا مقام ہُوا کرتا تھا۔ اُس میں چار کمرے تھے، دِیواریں گارے کی اور شیشے جڑی ہُوئی کھڑکیاں تھیں۔ دِیواروں کے اُوپری سِرے پر ٹائیلوں کی تین قطاریں تھیں: دو نیلی اور ایک سُرخ۔ کارنس پر دو موٹی تازہ بِلّیاں سوئی ہُوئی تھیں جب کہ تین بلونگڑے اُن کے پاس کھیل رہے تھے۔ چُوہوں کی درجنوں کھالیں میخوں سے گارے کی دِیواروں کے ساتھ ٹھونکی ہُوئی تھیں۔ اُس کے تکیے کے ساتھ ایک کتاب دھری تھی جس کا مٹیالا پیلا گردپوش سیاہ دھاگے سے سیا گیا تھا۔ گرد پوش پر شکستہ خط میں کئی الفاظ سیاہ روشنائی میں لکھے ہُوئے تھے: چُوہوں کی تلفی، بِلّیوں کی حوصلہ افزائی۔ میں نے متجسس ہو کر اُس کا ورق پلٹا۔ اندر ایک لفظ بھی نہیں تھا، محض عجیب و غریب نمونے بنے ہُوئے تھے۔ شاید دُوسرے اوراق پر کچھ لکھا ہو لیکن مجھے نہیں پتا کیوں کہ میں صرف نمونوں ہی پر نظر ڈال سکا تھا کہ اُس نے سخت لہجے میں چِلّاتے ہُوئے مجھ سے کتاب چھین لی: “تم اِسے نہیں دیکھ سکتے!”

میرا چہرہ تھوڑا سا لال پڑ گیا۔ مجھے محسوس ہُوا جیسے وہ میرے حرکت سے سراسیمہ ہو گیا ہو۔ میں نے دریافت کیا۔ “یہ محض ایک بدوضع قدیم کتاب ہے، کیا نہیں ہے؟ اِتنے اُکھڑو مت۔”

وہ کچھ شرمندہ ہوکر کتاب کو ایک طرف پھینکتے ہُوئے بولا۔ “یہ میرے ابّا کی ہے۔”

“کیا اُنھوں نے لکھی ہے؟”

“نہیں، ابّا کو یہ داؤ(Daoist) پروہت سے ملی تھی، وُو۔”

“وہ جو پگوڈا کی دیکھ بھال پر معمور ہوتا ہے۔”

“پتا نہیں۔”

مجھے اُس پگوڈا کا پتا تھا۔ جس کی اِینٹوں کے بیچ کی درزیں سُوکھی گھاس سے بھری ہُوئی تھیں اور یہ اِسی حالت میں برس ہا برس سے تھا۔ داؤ پروہت پگوڈا کے سامنے ایک کُٹیا میں رہتا تھا۔ وہ ایک سیاہ عبا پہنتا تھا اور اکثر بغیر ہَیٹ کے دِکھائی دیتا تھا۔ اُس کی عبا کے کنارے حفاظتی بند میں اُڑسے ہوتے تھے۔ اُس کا کام بس اِتنا سا تھا کہ پگوڈا کے سامنے والی زمین کی کھدائی کرتا رہے۔

“بُری رُوحوں سے مت اُلجھو!”

اُس نے اپنے چہرے پر دِکھائی دینے والی اُسی احمقانہ، ظالم تأثرات  والی مسکراہٹ کے ساتھ دانت نکوسے، کتاب کو ایک آہنی ڈبّے میں رکھا اور تانبے کا تالا جڑ دیا۔ اُس نے زیرِ لب کچھ الفاظ بُڑبُڑائے۔ پانچوں بِلّیوں نے اپنی سرینیں اُٹھائیں، اپنی کمریں کمان کیں اور گیند جیسی گول گول آنکھوں سے اُسے تکنے لگیں۔

میری ریڑھ کی ہڈّی میں ٹھنڈک کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی اور مجھے اپنے کانوں میں بعید جنگل سے چیخنے کی آواز آنے لگی۔ میں اپنا مُنھ کھول کر کچھ کہنے کے مرحلے پر ہی تھا کہ ایک چُوہا، بے رنگ کھال اور لال آنکھوں والا—- اپنے ہوش و حواس بے گانہ، حتّٰی کہ کانپتا ہُوا بھی نہیں—- ڈگمگاتا ہُوا چھت کی اُریبی کڑیوں سے بِلّیوں کے عین سامنے گِرا۔ یُوں لگ رہا تھا جیسے چُوہے کے چہرے پر بھی وہی احمقانہ، ظالم مُسکراہٹ ہو۔ بُومر نے چُوہے کو جھپٹا، ایک بار اُسے اُوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا: “میں اِس بار تمھیں چھوڑ رہا ہوں!” اِس کے ساتھ ہی اُس نے مُنھ ہی مُنھ میں کچھ پڑھا تو بِلّیاں پُرسکون ہو گئیں اور اُنھیں نے چند ایک بار بیگانگی سے میاؤں میاؤں کی۔ پھر بڑی بِلّیاں دوبارہ سو گئیں اور بلونگڑے دوبارہ اپنی دُم پکڑنے کا کھیل کھیلنے لگے۔ بے رنگ جِلد والا چُوہا آناًفاناً اپنے حواس میں لوٹ آیا اور اُچھل کر بُومر کے ہاتھ سے نکلا، دِیوار کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہُوئے دوبارہ اُوپر چڑھ کر اُریبی کڑیوں گھس گیا۔ زمانوں سے چمنی میں جمی ہُوئی کالک کے گِرنے سے میرے ناک میں کھجلی ہونے لگی۔

میرے اندر تحیّر بھر گیا۔ جُوں جُوں میں بُومر کے چہرے کی معمائی مُسکراہٹ دیکھتا گیا تُوں تُوں محسوس کرتا گیا کہ وہ کتنا اَتھاہ ہے۔ یکایک مجھے لگا گویا بِلّیاں اور وہ قدیم، لِیر لِیر اور دُھول کی موٹی تَہ میں اَٹی ہُوئی ‘نئے سال’ کی تمام تصاویر میں مافوق العادہ طاقتیں آگئی ہوں۔ وہ میری طرف بدمزاجی سے دیکھ رہی ہیں اور اُن کی آنکھیں کسی اَور ہی دُنیا کی دانش سے لبریز ہیں۔

“تم نے کیا شعبدے سیکھ لیے ہیں؟”

بُومر کی مُسکراہٹ غائب ہو گئی اور وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔ “سنو دوست، نجی کاموں سے سب ہی دولت کما رہے ہیں۔ آؤ، ہم بھی یہی کام کریں۔ ہم بِلّیاں پالیں گے۔”

بِلّیوں کا ماہر! یہ نہایت عجیب، دِلچسپ اور غیر معمولی طور پُرکشش پیشکش تھی۔

“مجھے پتا ہے کہ تم واپسی پر شمال مشرق سے اپنے ساتھ تیندوا بلونگڑا لائے ہو۔”

اُسی شام میں نے تیندوا بلونگڑا بُومر کو دیا تو اُس نے اپنے دونوں ہاتھ مسرت سے مَلے۔

میں مشروب کے لیے اپنی خالہ کے ہاں گیا۔

اپنے کمر بند کے نیچے تین پوّے دبائے ہُوئے میرے خالو کا مُنھ لشکارے مار رہا تھا اور سر پر لگے واحد بلب کے سایوں میں وہ روشنی کے ہزاروں موتیوں کے مانند چمک رہا تھا۔ اُنھوں نے میرا جام بھرا، پھر اپنا اور گرم رکھنے کے لیے شراب کے برتن کو انگیٹھی پر رکھا، اپنا گلا صاف کیا اور بولے۔ “بھانجے، لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو لیکن تم ایک مہینا پہلے لوٹ آئے ہو۔ تم سارا دِن آوارہ گردی کرتے پھرتے ہو، تمھارے پاس کوئی باقاعدہ ملازمت نہیں ہے۔ میں اور تمھاری خالہ یہ سب دیکھ رہے ہیں لیکن ہم تم پر تنقید نہیں کرنا چاہتے—- تم بچّے نہیں ہو۔ تم روز یہاں کھانا کھاتے ہو، اور میں نے اور تمھاری خالہ نے کبھی کچھ نہیں کہا لیکن ہمیں ڈر ہے کہ ہمسائے تمھارا مذاق اُڑائیں گے! اب دو سال پہلے والی بات نہیں رہی۔ اُس وقت لوگ کاہلوں کی خبرگیری کِیا کرتے تھے اور کوئی شخص بغیر کام کے بھی اپنی اہمیت نہیں کھوتا تھا۔ لیکن اب گاؤں والے ایسے لوگوں کو نہیں رکھتے۔ جو کام نہیں کرتے اُنھیں کھانے کو بھی نہیں ملتا۔ تمھاری خالہ کو اور مجھے نہیں پتا کہ تمھارے ذہن میں کیا ہے، کیا تمھیں کاشت کاری کے لیے چند بیگھے چاہئیں، یا پھر تم کوئی ملازمت کرو گے؟”

میں نے جھرجھری لی اور شراب کا گھونٹ نگلا۔ “خالو، خالہ۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں۔ بے شک، میں آپ لوگوں کی مفت کی روٹیاں نہیں توڑنا چاہتا! آپ لوگ میرے قریبی عزیز تو ہیں لیکن والدین نہیں اور اگر ہوتے تو بھی یہ میرے ٹھیک نہ ہوتا کہ میں ہڈّحرامی کرتے ہُوئے آپ کے آسرے پر زندگی بسر کروں۔ میں نے جو کچھ کھایا ہے وہ میں آپ کو لوٹا دوں گا۔”

خالہ بولیں: “تمھارے خالو تم سے چھٹکارا پانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، ہمیں تمھارے چند لقموں سے حسد نہیں ہے۔”

“مجھے پتا ہے۔‘‘

میرے خالو نے کہا: “تب تو ٹھیک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تمھیں غلط تأثر جائے۔ تمھارا کیا کرنے کا ارادہ ہے؟”

میں نے کہا “بُومر اور میں نے اِس پر سوچ بچار کی ہے۔ ہم دونوں بِلّیاں پالنے کا کاروبار کرنے لگے ہیں”

سر پر موجود کاغذی چھت پر چُوہا سٹرپٹر کرتے ہُوئے دوڑا۔

خالو مستفسار ہُوئے۔ “کس لیے؟”

میں بولا۔ “گاؤں میں چُوہوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بُومر اور میں اپنے آپ کو بِلّیوں کے ماہر کے طور پر قائم کرنے جا رہے ہیں۔ ہم بلونگڑے بیچیں گے اور بڑی بِلّیاں کرائے پر دیں گے۔”

میں ابھی ہمارے عظیم الشان منصوبے کے بارے میں بتانے ہی والا تھا کہ میرے خالو تمسخرانہ ہنسی ہنسنے لگے۔

میری خالہ بولیں۔ “اوہ میرے خُدا! تم اُس پاگل شخص کے ساتھ مل کر کیا کرنے جا رہے ہو؟ بُومر اپنے ناکارہ باپ کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ لیکن تم، تمھارا تعلّق ایک اعلیٰ خاندان سے ہے۔”

خالو نے طنز کے نشتر چلائے: “ہر طرح کے نجی کاروبار موجود ہیں، لیکن میں نے کبھی بِلّیوں کے ماہرین کا نہیں سنا! تم روبوٹ بنانے والی ایک ٹیم بنا لو!”

خالہ نے کہا۔ “میں اور تمھارے خالو تمھارے بارے میں کچھ سوچ رہے ہیں۔ تمھیں سیدھا کھیتوں میں کام کرنے کے لیے بھیجنا تو مناسب نہیں ہو گا۔ جو لوگ فوج میں رہ چکے ہوں وہ یہ پیشہ نہیں اختیار نہیں کرتے۔ گذشتہ چند روز سے لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہو رہا ہے کہ ضلعی تعمیراتی کمپنی کو کچھ کارکنوں کی ضرورت ہے۔ وہ غیرتربیت یافتہ مزدوروں کو سات یُوآن یومیہ دے رہے ہیں۔ کھانے پینے کے اخراجات کے بعد تین سے پانچ یُوآن تک بچ جاتے ہیں۔ پس تم دو تین برس کام کر لو، تو چند ہزار جمع کر لو گے جو تمھارے بیاہ اور قدم جمانے کے لیے کافی ہوں گے اور میں تمھارے ماں باپ کا فرض ادا کر لوں گی۔”

میں بُومر سے دوبارہ ملا اور میں نے اُسے بتایا کہ میں تعمیراتی کمپنی کے لیے کام کرنے لگا ہوں اور اُس کے ساتھ بِلّیوں کے پالنے پوسنے کا کام نہیں کر سکتا۔ اُس نے سرمہری سے کہا: “تمھاری مرضی۔”

اُس کے بعد میرے لیے بُومر سے میل ملاقات رکھنا بے حد دشوار ہو گیا۔ جس روز مجھے تعمیراتی کمپنی سے چھٹی ملی، میں اُس کے گھر گیا۔ اُس کا خستہ حال دروازہ سختی سے بند تھا؛ دروازے کے اُوپر چاک سے جلی حروف میں لکھا ہُوا تھا: بِلّیاں پالنے اور چُوہے پکڑنے کا ماہر۔ اِس کے ساتھ ہی چھوٹے حروف میں لکھا تھا: فی چُوہا پکڑائی صرف ۰۰:۱ یُوآن۔ دروازہ کُنڈی لگا کر بند کیا گیا تھا اور وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی میں نے پُکارا: “بُومر! بُومر!” صحن سے ایک ایسی گُونج پلٹ کر آئی گویا میں کسی وادی میں چِلّا رہا تھا۔ میں نے دروازے کی ایک درز سے آنکھ لگا کر صحن میں دیکھا۔ وہ مکمل طور پر خالی پڑا تھا۔ بارش کا پانی چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں کھڑا تھا، بے رنگ چُوہا دوڑتا پھر رہا تھا اور ایک چُوہے کی کھال دِیوار سے ٹنگی ہُوئی تھی۔

بُومر کی پڑوسی، بُوڑھی بیگم سَن، میرے پاس آئی۔ سفید بالوں والے سر کے نیچے اُس کی آنکھیں اَگیا بیتال کے مانند چمک رہی تھیں۔ اُس کے ہاتھ دیودار کے خاردار بِروا کی دستی چھڑی تھی اور اُس کے مُرجھائے ہُوئے ٹخنوں کی کھال پر سفید لکیریں پڑی تھیں۔ اُس نے پُوچھا: “کیا چُوہے پکڑنے کے لیے بُومر کی ضرورت ہے؟ وہ یہاں نہیں ہے۔”

“سَن دادی، میں تو صرف اُسے ملنے آیا ہوں۔ میں زہاؤ خاندان کا لڑکا ہوں، کیا آپ مجھے نہیں جانتیں؟”

بُوڑھی خاتون نے چھڑی پر اپنے ایک ہاتھ سے گرفت مضبوط کی۔ دُوسرے ہاتھ سے اپنی آنکھوں پر چھجا بناتے ہُوئے مجھے اُوپر سے نیچے تک دیکھا اور کہنے لگی: “سب ہی زہاؤ ہیں، سارے یہی کہتے ہیں کہ وہ زہاؤ خاندان کے لڑکے ہیں۔ اُنھیں اِس سے کیا ملتا ہے؟ شہد؟ تِلوں کا تیل؟”

مجھے فورا ہی پتا چل گیا۔ بُڑھیا بھی سٹھیائی ہُوئی تھی۔

وہ مستعدی سے، جو اُس کی عمر کو جھٹلاتی تھی، مُڑی اور جاتے جاتے بولی۔ “بُومر ایک اچھا لڑکا ہے۔ اُس کے ہاتھ کامیابی کا وسیلہ لگ گیا ہے۔ وہ میرے کھانے کے لیے شہد خریدتا ہے، تم میرے لیے زہر خریدتے ہو۔ لیکن میں تمھاری چیز نہیں لوں گی، میں یہ نہیں کھاؤں گی! کچھ سالوں پہلے، تم سب نے بِلّیوں کو مارنے کے لیے چُوہوں پر زہر لگا دیا تھا، لیکن یہ نہیں ہو سکتا، نہیں ہو سکتا۔”

میں گھر گیا اور میں نے خالہ کو بُومر کے متعلّق بتایا۔ خالہ نے کہا۔ “وہ پاگل! اور اگر وہ پاگل نہیں تو خبیث ضرور ہے۔”

خالو نے مداخلت کی: “ایسی باتیں مت کرو۔ بُومر کی شخصیت کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ موہے دریا کے جنوبی دیہاتوں کی بڑی تعداد میں اُس کے ہاتھ کامیابی کا نسخہ لگ گیا ہے۔”

۱۹۸۵ء میں بُومر کے بارے میں بہت زیادہ افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ میری قسمت بدل چکی تھی۔ مجھے ضلعی سطح پر جماعت کی قیام گاہ کے مطبخ میں پینے کا پانی اُبالنے کے لیے لے جایا جا چکا تھا۔ میں نے گانٹھ باندھ لی تھی اور میری بیوی کا پیٹ پُھول رہا تھا۔ میری دِلی تمنّا تھی کہ بیٹا ہو، لیکن اُس نے ہزیمت سے دوچار کیا اور لڑکی کو جنم دیا۔

بیٹی کے جنم کے بعد میں نے ایک ماہ کی رخصت لی اور زچگی کے دوران میں اپنی بیوی کی نگہداشت کے لیے میں گھر میں ہی رہا۔ اُس دوران میں بُومر صرف ایک دفعہ ہمیں ملنے کے لیے آیا۔ وہ گھر کے اندر نہیں گیا، صحن ہی میں بیٹھا رہا۔ وہ پہلے سے کچھ کم زور ہو گیا تھا، لیکن اُس کی آنکھیں چمکتی تھیں اور باتیں پہلے سے زیادہ مبہم تھیں لیکن اُن پر غور کیا جاتا تو مفہوم نکل آتا تھا۔ اُس نے کہا۔ “بھائی، مبارک ہو۔ تم پر رحمت نازل ہُوئی ہے؛ ہاں، تم پر رحمت نازل ہُوئی ہے۔ ستارے اپنے اپنے مدار میں ہیں، دُنیا میں سب ٹھیک ہے۔ اُس کے لیے کچھ مُرغی کا گوشت پکانے کا وقت نہیں ہے؛ جنوب میں چُوہے کھانے میں مصروف ہے۔ اِدھر اُدھر پھرتے رہنے سے آدمی تندرست رہتا ہے، مگر زندگی بہت مختصر ہے اور کام ابھی آدھا بھی نہیں ہُوا! یہ لو دو صد یُوآن، میری بہن اور بھتیجی کے لیے کپڑے خرید لینا!” اُس نے میرے ہاتھ میں ایک سُرخ لفافہ تھمایا اور چلا گیا۔ اِس سے پہلے کہ میں کوئی شائستہ سا انکار کر سکتا، میں نے دُور چاندنی میں اُس کا سایہ دیکھا،بانسری پر پُرسوز لے بجاتا ہُوا۔ مجھے یقین نہیں کہ وہ بُومر ہی تھا یا نہیں۔

چند روز کے بعد، میں کسی دیسی دوا کی تلاش میں سائیکل پر ساتھ والے ضلع میں مَا نام کے گاؤں میں گیا جہاں تین ضلعوں کی معروف دیسی ادویات کی دُکان تھی۔ جب میں ایک چھوٹی سی بستی میں پہنچا جو اُس گاؤں سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھی تو میں نے گاؤں والوں کو دیکھا۔مرد وزن، پیر و جواں ایک دُوسرے کے اُوپر گِرتے پڑتے ہُوئے گاؤں کی سمت دوڑ رہے تھے۔ اپنی بائیسیکل سے اُتر کر میں نے پُوچھا تو مجھے پتا چلا کہ ایک شامان۱؎ فنا کا مظاہرہ کرنے لگا ہے۔ وہ گاؤں کے تمام چُوہوں کو جمع کر کے تالاب میں ڈبوئے گا۔ میرے تحیّر کی انتہا نہ رہی، مجھے پہلا خیال یہی آیا کہ وہ بُومر ہی ہو گا۔ پس میں بھی اپنی بائیسیکل پر باقی لوگوں کے ہم راہ ہو گیا۔ جُوں ہی ہم تالاب کے قریب پہنچے ہمیں ایک رنگارنگ ہجوم دِکھائی دیا جو ایک بڑے دائرے کی صُورت میں اکٹھّا ہو گیا تھا۔ بیدِ مجنوں کے درخت تلے ایک دُبلا پتلا اور لمبا آدمی اپنے کاندھوں پر بے آستین لبادہ ڈالے کھڑا تھا، اُس کے بال دُھوئیں کی لاٹوں کی طرح باہر نکلے ہُوئے تھے۔ میں نے اپنا تنکوں کا ہَیٹ ماتھے پر جھکایا، اپنی بائیسیکل کو اُٹھایا اور انبوہ میں گھس گیا۔ میں نے اِس ڈر سے کہ کہیں بُومر کی مجھ پر نظر نہ پڑ جائے اپنا چہرہ ایک لمبے تڑنگے شخص کی اَوٹ میں چھپا لیا۔

پہلے میں نے سوچا کہ ضروری نہیں وہ بُومر ہی ہو۔ اُس آدمی کی نگاہیں لمحہ بہ لمحہ کسی جگہ ٹکتیں اور پھر ہَٹ جاتیں۔ جب ہٹتیں تو ستاروں کی روشنی کے میناروں کے مانند چمکتیں۔ جب ٹکتیں تو سیاہ بھاپ کی دو ڈھیریوں کی طرح ہو جاتیں؛ بالکل یُوں گویا وہ تماش بینوں کے دِلوں کو چھید رہی ہوں۔ صرف تب ہی مجھے لگا کہ وہ یقینا بُومر ہی ہے کیوں کہ خواہ اُس کی نظریں ٹکی ہوتیں یا ہِل رہی ہوتیں اِس سے فرق نہیں پڑتا تھا، میں اُس کی چیستاں مُسکراہٹ سے آگاہ تھا—- گاؤدی، شاید ظالم—- جو سدا اُس کے چہرے پر ہوتی تھی۔ اُس کے عقب میں آٹھ بِلّیاں بیٹھی تھیں۔

ایک آدمی جو گاؤں کا سربراہ لگ رہا تھا—- اَبلق داڑھی والا ایک بُوڑھا—- بُومر کے پاس گیا اور ناگوار لہجے میں بولا۔ “تمھارے لیے بہتر کے کہ اپنی تمام توانائی صرف کر دو۔ تمھیں ہر چُوہا پکڑنے کے بدلے ایک یُوآن ملے گا۔ عمدہ تمباکو اور کھانے کے لیے عمدہ کھانا بھی ملے گا۔ اگر تم کوئی چُوہا نہیں پکڑ پاتے تو۔۔۔ خُوب، پولیس سٹیشن یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے اور دو دِن پہلے ایک بُڑھیا، عاملِ ارواح، کو گرفتار کر کے لے جایا جا چکا ہے!”

بُومر نے کوئی جواب نہیں دیا البتّہ اُس کے چہرے پر ناقابلِ فراموش مُسکراہٹ گہری ہو گئی۔ اَبلق داڑھی والا ہجوم میں پلٹ آیا۔ بُومر نے بِلّیوں کے عقب سے پیتل کا ایک ٹَل نکالا اور اُس پر تین زوردار چوٹیں لگائیں۔ جس سے دِل دہلا دینے والی آواز پیدا ہُوئی۔ میں کسی شخص کو نہیں جانتا تھا لیکن میرا دِل اُن کا شریک ہو گیا تھا اور میں بُومر پر نظر ڈالنے کے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ وہ ننگے پاؤں تھا۔ کالے کمبل پر عجیب و غریب نقش و نگار بنے ہُوئے تھے اور وہ چُوہوں کی سینکڑوں دُموں سے سجا تھا۔ جب اُس کی آستینیں حرکت میں آتیں تو دُمیں ایک دُوسرے سے ٹکرا کر دِھیمی دِھیمی سرسراہٹ پیدا کرتیں۔ اُس نے ٹَل کو زور زور سے بجاتے ہُوئے بلند کیا اور یہ کام کرتے ہُوئے اُس نے کمبل کو ہِلانا اور گھمانا شروع کیا جس سے کمبل کھل کر چمگادڑ کے جسیم پروں جیسا ہو گیا۔ بِلّیاں بھی اُس کے اشاروں پر رقص کناں ہو گئیں، کبھی اپنے پیر اندر اور کبھی باہر کی طرف مارتے ہُوئے لیکن اُس غیرمتنازعہ رہنما تیندوا بِلّی کی پیچھے پیچھے جسے میں شمال مشرق سے لایا تھا۔ میں نے اُسے سابقہ دو برسوں سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کچھ بڑی ہو گئی تھی اور اُس کے کان نمایاں طور پر نوکیلے اور چھینٹ دار سیاہ جِلد غیرمعمولی چمک دار تھی جس سے میں پہلے ہی آگاہ تھا۔ وہ جسمانی لحاظ سے دُوسری ساتوں بِلّیوں سے کافی بڑی تھی، اُس بُوڑھے شخص کے الفاظ کی جیتی جاگتی مثال: “ایک عام بِلّی سے کچھ بڑی لیکن کُتّے سے چھوٹی۔” میرا تأثر یہ تھا کہ بِلّیوں کے چہروں پر جو تأثرات ہیں، بالخصوص تیندوا بِلّی کے چہرے پر، وہ بعینہ بُومر کے چہرے کے تأثرات جیسے ہیں کہ وہ جبلّی طور پر یکساں اور باہم وابستہ ہیں؛ کہ وہ سب ایک ہی بے ہیئت نوع سے تعلّق رکھتے ہیں جسے اب تک فانی سمجھ نہیں پائے اور جو اِسی لیے ایک پُراسرار رُوحانی مظہر ہے۔

جب بِلّیاں یک آہنگی میں رقص کرنے لگیں تو وہ  بُومر کا طواف کرنے والے سات ستاروں کے مانند بن گئیں۔ لشکارے مارتا ہُوا سُورج اُن کی دمکتی ہُوئی جِلدوں کو منوّر کر رہا تھا۔ آنسو بہاتے ہُوئے بیدِ مجنوں نے آبی نرائی سے اَٹے ہُوئے تالاب کا بوسہ لیا، بھنبھیریاں بے آواز اُڑنے لگیں۔ بِلّیوں کے بدن کھنچ کر لمبے اور پتلے ہو گئے۔ وہ سر تا دُم ایک دُوسرے سے جُڑ کر حرکت کرتی ہُوئیں ساٹن کے لشکتے ہُوئے کپڑے کا تھان لگ رہی تھیں۔

بُومر اور بِلّیاں اپنے رقص کے دوران میں اِتنی دیر تک گھومتی رہیں جتنی دیر میں تمباکو کی دو بھری ہُوئی نلیوں کو پینے میں لگتی ہے۔ جیسے ہی لوگوں کے سر بھی اُس سب کے ساتھ ہِلنا شروع ہُوئے ٹَل بجنا بند ہو گیا، بُومر اور بِلّیاں لحظہ بھر کے لیے یُوں تھمیں، بالکل ساکت، جیسے اداکار سٹیج پر جسم کا کوئی خاص بناوٹی انداز اپناتے ہیں۔ گرمی شدّید تھی… بُومر کا مُنھ چِکنے پسینے سے چمک رہا تھا۔ تمام آنکھیں، پلکیں جھپکائے بغیر، اُس سے چپکی ہُوئی تھیں۔ اُس کے مُنھ سے چند جملے نکلے، مبہم الفاظ جو صاف طور پر سنائی بھی نہیں دیے اور کف کے دو سفید نقطے اُس مُنھ کے کناروں پر چمکے۔ اُس کے “سحر پُھونکنے” کے دوران میں خوابیدہ بِلّیاں زندہ ہو گئیں، اُن کے مُنھوں سے خوف ناک چیخیں برآمد ہُوئیں۔ وہ اِس طرح پوئیا چال چلنے لگیں جیسے آٹھ دغاباز شاہی اہلکار اپنے موٹے تلووں والے بُوٹوں میں اوپیرا کے سٹیج پر چلتے ہیں۔

ہجوم مضطرب ہو رہا تھا۔ حدّت بھری دُھوپ نیلگوں سیاہ سروں کے سمندر پر پڑ رہی تھی۔ ہاں مضطرب، لیکن کسی نے چیں کرنے کی بھی جرأت نہیں کی۔ میں دِل ہی دِل میں بُومر کے لیے پریشان ونے لگا تھا۔ کیا گاؤں کے چُوہے واقعی ہی اِتنے احمق ہوں گے کہ وہ آکر تالاب میں کُود جائیں گے۔

یکایک، بِلّیوں کا چِلّانا تھم گیا۔ وہ آٹھوں ایک قطار میں بُومر کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ تیندوا بِلّی سب سے آگے تھی۔ وہ کمان کمروں، سیدھی تنی ہُوئی دُموں کے ساتھ شمال کی جانب مُنھ کیے ہُوئے تھیں۔ گل مچھے اکڑے ہُوئے اور مُنھوں سے تیز سانس نکل رہی تھی۔ اُن کی آنکھیں سبز روشنی کا لشکارا چھوڑ رہی تھیں اور پُتلیاں محض سونے کی تار جتنی درزیں بن گئی تھیں۔ میرا پسینہ سرد اور چپچپا ہو گیا تھا۔ میری نگاہوں کے سامنے گڈمڈ شبیہیں تیر رہی تھیں۔ میرے کانوں میں ڈھولوں اور گھنٹیوں کا غل غپاڑہ مچ گیا تھا۔ عالم سحر میں، مَیں نے دیکھا کہ گھوڑوں کا ایک غول قطب شمالی منجمد کے چٹیل میدان کے کنارے پر دوڑ رہا ہے اور زردرُو بھیڑیں خشک گھاس میں بھاگ رہی ہیں۔ میں نے سرعت سے اپنے حواس سنبھالے تو وہاں صرف آٹھ قوّی بِلّیاں تھیں۔ بُومر نے اپنی کمر سے ایک بانسری نکالی اور بِلاتکان اُس پر ایک لے بجانے لگا؛ دہشت ناک حد تک ماتمی اور بین کرتی ہُوئی لے۔ آس پاس چھچھلتی ہُوئی نظر نے مجھ پر آشکار کیا کہ مدّور انبوہ کے لوگ سکڑے سمٹے بیٹھے تھے اور اُن کے چہروں پر پسینے کے شفاف موتی ٹھیرے ہُوئے تھے۔ جب ہجوم کی پشت پر اودھم برپا ہُوا تو مجھے نہیں پتا کتنا وقت گذر گیا تھا۔ بانسری کی لے ہنس راجوں کی پُکار کی طرح زیادہ گُونج دار ہو گئی اور تمام بِلّیاں ڈراؤنی آوازیں نکالنے لگیں۔ کوئی دیکھنے کے مُڑا اَور چِلّایا۔ “وہ آرہے ہیں!”ہجوم نے پیچھے ہٹ کر راستہ دیا جس سے ناگوار چیخ وپُکار کرتے، ہر رنگ اور جسامت کے ہزاروں چُوہوں کا ایک جمِ غفیر دوڑتا ہُوا آیا۔ لوگ سانس تک لینا بُھول گئے۔ اُن کے جسم سمٹ اور سر گُدّیوں میں دھنس گئے… بُومر کی آنکھیں بند تھیں اور اُس کا سارا دھیان صرف بانسری بجانے پر تھا۔ بِلّیوں کے بال کھڑے ہو گئے۔ چُوہوں پر جمی ہُوئی اُن کی بے جھپک آنکھوں میں دھمکی تھی۔ لیکن چُوہے مکمل طور بے خطر نمودار ہُوئے گویا وہ غائب دماغی کی حالت میں ایک دُوسرے کے حوصلے پر تالاب میں کُود کر آبی نرائی کھانے آرہے ہوں۔ وہ نیلے پانی کی نرائی میں لکیریں چھوڑتے ہُوئے اپنے پُورے زور سے تالاب میں کُود گئے۔ اور پھر وہ سب ہاتھ پاؤں مارتے اور سانس لینے کے لیے اپنے لال لال نتھنے پانی سے باہر رکھنے کی سعی کرتے ہُوئے ڈُوب گئے۔ اور پھر اُس کے بعد، نتھنے بھی غائب ہو گئے۔

بانسری بجنا بند ہو گئی۔ مجتمع بِلّیاں بِکھر کر اُوپر نیچے اُچھلنے لگیں۔ بُومر ہَیٹ کو جھکائے تپتی ہُوئی دُھوپ میں مُرجھائے ہُوئے درخت کی طرح کھڑا تھا۔

پانی پُرسکون ہُوا تو ہجوم میں زندگی کی لہر دوڑ گئی لیکن کسی میں بولنے کی ہمّت نہیں تھی۔ اَبلق داڑھی والا سربراہ لڑکھڑاتے ہُوئے بُومر کے پاس جا کر بولا: “جناب۔” اور بُومر آنکھیں کھول کر مُسکرایا، ایک خُوب صُورت مُسکراہٹ، ایک ایسی مُسکراہٹ جس نے کم و بیش میرا دِل دہلا کر رکھ دیا۔

میں اپنی بائیسیکل پر دیوانہ وار پیڈل مارتے ہُوئے بھاگ نکلا۔ میرے سارے بدن کی تمام طاقت نچڑ گئی تھی۔ ایسی ناتوانی مجھے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ مُونگ پھلی کے ایک کھیت میں پہنچ کر میں نے، تالا لگانے کی زحمت کیے بغیر، اپنی بائیسیکل ایک طرف پھینکی اور جیسے ہی میرا سر زمین سے ٹِکا میں گہری نیند سو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو سُورج مغرب میں غروب ہو رہا تھا اور قرب وجوار اور بعید کے پہاڑ دونوں ہی خُون میں لیپے ہُوئے تھے۔ اناج کے پودوں کی ترش ہری مہک میرے ناک پر حملہ آور ہُوئی۔ جیسے ہی میں نے گھر جانے کے لیے اپنی بائیسیکل کو دھکیلا صبح کے وقت ہونے والے واقعات خواب کی طرح لوٹ آئے۔

جب میں اپنے ضلع میں پہنچا تو میں نے سب کو بتایا کہ میں نے بُومر کی مافوق الفطرت قوّتیں دیکھی ہیں۔ پہلے پہل کسی نے میرا اعتبار نہیں کیا لیکن جب اُنھوں نے دیکھا کہ میں اپنی بات پر ڈٹا ہُوا ہوں تو وہ میری بات کو نیم اعتباری دینے لگے۔

موسمِ سرما کے آغاز میں، پڑوسی ضلع کے حکام نے بُومر کے بارے میں پُوچھ گچھ کی۔ صوبائی پارٹی کا سیکریٹری، مَو، مکاری سے گریز پا تھا۔

وہ بُومر کے بارے میں جاننے کے لیے میری تلاش میں چائے خانے تک جا پہنچا اور میں نے اُسے وہ سب کچھ بتا دیا جس سے میں آگاہ تھا۔

بُومر معروف ہو گیا تھا۔ متعلّقہ بلدیاتی محکمے نے کسی کو تفتیش کے لیے بھیجا۔ چھے ماہ گذرنے کے بعد، بُومر کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی۔

گندم کی کٹائی پر، ضلع کا غلّہ گودام نمبر ۱ چُوہوں سے اَٹ گیا۔ وہ اُنھیں پکڑنے کے لیے بُومر کو مدعو کر رہے تھے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بلدیاتی ٹی وی چینل نے ایک خبررساں کو ویڈیو کیمرے کے ساتھ بھیجا۔ صوبائی اخبار نے بھی اپنا نمائندہ کیمرے اور قلم کے ساتھ بھیج دیا اور کہا جا رہا تھا کہ بہت سے اہم رہنما بھی نظارہ کرنے کے لیے آرہے تھے۔

جب وہ دِن آیا تو گودام نمبر۱کی آگ بجھانے والی پانی کی ٹینکی کو لبالب بھرا گیا اور اُس کے کناروں کے ساتھ ساتھ میزوں کی قطار لگا دی گئی۔ اُن پر سفید میز پوش بچھا کر سگریٹ اور چائے رکھ دی گئی۔ ضلعی اہلکار بیٹھ کر طرح طرح کے رعب دار اطوار میں تمباکو نوشی کرنے اور چائے پینے لگے۔

صبح کا آدھا وقت گذرنے کے بعد، احاطے میں ایک سیاہ کار داخل ہُوئی جس میں سے بُومر باہر نکلا۔ وہ چرمی جوتے اور مغربی طرز کا گہرے نیلے رنگ کا سُوٹ زیب تن کیے ہُوئے تھا اور بے حد بیمار دِکھائی دے رہا تھا۔ میں نے وہی عسیرالفہم مُسکراہٹ تلاش کی۔

بِلّیوں کو کار میں سے نکالنے میں دس مِنّٹ لگے۔ وہ بے حد متوحش دِکھائی دے رہی تھیں، خاص طور پر تیندوا بِلّی۔

بالآخر ہر چیز ترتیب پا گئی۔ خبررساں نے اپنی طاقت ور رَوشنیوں کا رُخ بُومر کے چہرے کی جانب کیا اور اُس مُسکراہٹ نے جلتے ہُوئے کاغذ کے مانند اپنی چھب دِکھائی۔

جب روشنیاں بِلّیوں کے مُنھوں پر پڑیں تو وحشت ناک انداز میں چِلّائیں۔

کارگذاری کامل ناکامی ٹھیری۔ میں نے لعن طعن کا طومار سنا۔

تالاب کے پاس سے چشمہ لگائے ایک شخص اُٹھا اور سرد لہجے میں بولا: “شروع سے آخر تک فریب!” پھر وہ اکڑتا ہُوا چلنے لگا۔

مسٹر مَو، پارٹی سیکریٹری، اُس کے پیچھے لپکا۔ اُس کا چہرہ پسینے سے تربتر تھا۔

لیکن میرے چہرے کی حالت زیادہ خراب تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎شامان یا شمان (Shaman)۔رُوحوں سے رابطہ رکھنے کا مدعی۔ کاہن۔ عامل۔

 

Categories
فکشن

حادثہ (تحریر: گاؤ ژِنگ جیان، ترجمہ: نجم الدین احمد)

Gao Xinjian by Carlo Chiavacci

۲۰۰۰ء کے نوبیل انعام سے چینی زبان کے معروف ناول نگار، افسانہ نویس، ڈراما نگار، مضمون نگار، نقاد، ماہرِ لسانیات، مترجم اور شاعر گاؤژِنگ جیان کو نوازا گیا۔ لیکن اُن کی اصل وجۂِ شہرت ڈراما ہے—- ایک ایکٹ کا مختصر اور مہمل ڈراما—- جس کے اپنے آبائی وطن چین میں بانی گردانے جاتے ہیں۔ اُن کے نثری کام کو چین میں کم ہی اہمیت دی گئی جب کہ یورپ اور مغرب میں بے حد عزّت ملی ہے۔ جس کی بیّن وجہ اُن کی تخلیقات کا ریاست مخالف ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ۱۹۸۷ء میں اُنہیں چین چھوڑ کر فرانس کے شہر بیگنولیٹ(Bagnolet) میں، جو پیرس کا ملحقہ شہر ہے، سکونت اختیار کرنا پڑی۔ ایک سال بعد اُنہوں نے فرانس میں سیاسی پناہ لی اور بالآخر اُنہیں ۱۹۹۸ء میں فرانس کی شہریت دی گئی۔

گاؤژِنگ جیان کے لیے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہُوئے نوبیل اکادمی نے مؤقف اختیار کیا: “آفاقی سطح پر معقولیت بھرے کارناموں، تلخ بصیرت اور ارفع لسانی صلاحیتوں کے نام جنہوں نے چینی ناول اور ڈرامے کے لیے نئی شاہراہیں کھولیں۔”

جب اُس وقت کے چینی وزیرِ اعظم زُہو رونگی (Zhu Rongii) سے ہانگ کانگ کے اخبار “ایسٹ ڈیلی” کے رپورٹر نے پُوچھا: گاؤ ژِنگ جیان کے نوبیل انعام جیتنے پر آپ کے کیا تأثرات ہیں؟ تو اُنہوں نے مبارک باد دیتے ہُوئے کہا: میں بہت خُوش ہوں کہ چینی زبان میں لکھے ہُوئے ادب میں نوبیل انعام جیتنے کی اہلیت ہے۔ چینی کرداروں کی ہزار ہا سالوں کی تاریخ ہے اور چینی زبان میں لامحدود سحرانگیزی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ بھی چینی تخلیقات نوبیل انعام جیتیں گی۔ اگرچہ یہ قابلِ افسوس بات ہے کہ اِس مرتبہ چینی کے بجائے ایک فرانسیسی شہری نے یہ انعام جیتا ہے۔ لیکن میں پھر بھی جیتنے والے فرنچ ڈیپارٹمنٹ آف کلچر دونوں کو مبارک باد دینا چاہوں گا۔

گاؤ ژِنگ جیان ۰۴- جنوری ۱۹۴۰ء کو صوبہ جیانگ ژِی (Jiangxi) کے شہر گان زہو(Ganzhou) میں دُوسری جنگِ عظیم کے دوران پیدا ہُوئے۔ گاؤ اُن کا خاندانی نام ہے۔ اُن کا دُدھیالی قصبہ تائی زہو(Taizhou) صوبہ جیانگ سُو (Jiansu) اور ننھیالی جڑیں زہے جیانگ (Zhejiang) میں ہیں۔ اُن کے خاندان نے جنگِ عظیم دوم کی تباہ کاریوں کے بعد ۱۹۵۰ء میں نان جِنگ (Nanjing) میں آکر بودوباش اختیار کی۔ گاؤ کے والد بینک آف چائنا میں کلرک تھے اور اُن کی والدہ عیسائی نوجوانوں کی تنظیم(Young Men’s Christian Association) کی رُکن تھیں۔ اُن کی والدہ دُوسری چینی جاپانی جنگ (Sino-Japanese War) کے دوران میں جاپان مخالف تھیٹر میں بطور اداکارہ بھی کام کرتی رہی تھیں۔چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے زیرِ اثر اُنہوں نے مصوّری، لِکھتوں اور تھیٹر سے خُوب استفادہ کیا۔ ۱۹۵۲ء میں مڈل سکول میں داخل ہُوئے اور مڈل سکول کی متعلّمی کے دوران میں اُنہوں نے بے شمار ترجمہ شدہ مغربی ادب کا مطالعہ کیا، خاکہ نگاری، واٹر اور آئل پینٹنگ اور مٹّی کی مجسمہ سازی یُون زونگ یِنگ (Yun Zongying) سے سیکھی۔ ۱۹۵۷ء میں گریجویشن کرنے کے بعد اپنی ماں کی ہدایت کے مطابق سینٹرل اکیڈمی آف فائن آرٹس کے بجائے بیجنگ فارن سٹڈیز یُونیورسٹی(BFSU) میں داخلہ لیا اگرچہ اُنھیں فنون لطیفہ میں زیادہ باصلاحیت سمجھا جاتا تھا۔ ۱۹۶۲ء میں بی ایف ایس یُو کے شعبہ فرانسیسی سے ڈگری لینے کے بعد چائینیز انٹرنیشنل بُک سٹور پر کام کیا لیکن ۱۹۷۰ء میں “دیہی علاقے سے رجوع کی مہم” کے دوران میں اُنہیں صوبہ اَین ہُوئی (Anhui) کے دیہی علاقے میں جا کر کچھ عرصے کے لیے ایک کسان کی حیثیت سے کاشت کاری کرنا پڑی—- ثقافتی انقلاب کے تحت ‘تعلیم’ کی ایک شکل—- اِس دوران میں گاؤ ژِنگ جیان نے بے شمار ڈرامے، کہانیاں، نظمیں اور تنقیدی مضامین لکھے جو ماحول کے عدم توافق ادب ہونے کی وجہ سے بالآخر خطرناک نتائج کے ڈر سے جلا دیے۔ اپنی ڈراما نگار، افسانہ نویس اورمضمون نگار کی عالمی شہرت کے پیشِ نظر اگرچہ بعد میں اُنھوں نے اپنی نظموں کا کوئی مجموعہ شائع نہیں کروایا تاہم ایک مختصر نظم کا وجود باقی رہا جس کا اُسلوب اور طرز اُن کی باقی تحریروں کے مانند جدید ہے۔

کچھ وقت کے لیے گاؤ ژِنگ جیان نے اَین ہُوئی صوبہ کے ضلع نِنگو(Ningguo) کے مڈل سکول میں چینی زبان کے معلّم کے طور پر بھی کام کیا۔ ۱۹۷۵ء میں اُنھیں واپس بیجنگ جانے کی اجازت ملی جہاں وہ جریدے ‘چائنا ری سٹرکشن’ کے لیے فرانسیسی ترجمہ نگاری کے گروپ کے لیڈر بن گئے۔ ۱۹۷۷ء میں گاؤ نے چائینیز ایسوسی ایشن آف رائٹرز کی کمیٹی برائے فارن ریلیشن شپ کے لیے کام کیا۔ مئی ۱۹۷۹ء میں با جان (Ba Jan) سمیت دیگر چینی ادیبوں کی ایک جماعت کے ہم رَاہ پیرس کا دورہ کیا۔ بعد میں اُنہوں نے اٹلی کا بھی دورہ کیا۔ ۱۹۸۰ء میں وہ بیجنگ پیپلز آرٹ تھیٹر کے سکرین رائٹر اور پلے رائٹ بن گئے۔ اُن کے سیاسی ڈرامے ‘مہاجرین’ (Fugitives) کے نتیجے میں اُن کی تمام تخلیقات اور ڈراموں پر چین میں پابندی عاید کر دی گئی اور “دُوسرا کنارہ” (The Other Shore) کے بعد اُن کا کوئی ڈراما چین میں سٹیج نہیں ہُوا۔ ہراس زدگی سے بچنے کے لیے گاؤ ژِنگ جیان دس ماہ کی سیاحت کے لیے سِچؤان صوبے کے جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف نکل گئے جہاں وہ دریائے یانگزی (Yangzi or Yangtze) کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہُوئے اُس کے منبع تک گئے۔ اُن کا یہ سفر ناول Soul Mountain کا سبب بنا ،جس پر اُنھیں نوبیل انعام برائے ادب، 2000ء ملا۔

گاؤ ژِنگ جیان کی نُمایاں کتب میں افسانوں کا مجموعہ: Buying a Fishing Rod for My Grand Father، دو ناول: Soul Mountain اور One Man’s Bible، ناولچوں کا مجموعہ: Such Pigeon Called Red Lips (or Beak) ، ڈراموں کے مجموعے: The Bus Stop and Other Plays اور The Other Shore and Other Plays کے علاوہ غیر افسانوی نثر میں Discussion of the Art of Modern Fiction اور In Search Of Modern Form of Dramatic Representation شامل ہیں۔

اپنے نوبیل خطبے “ادب کا مقدمہ” (The Case for Literature) میں اُنھوں نے ادب کا مقدمہ کچھ اِن دلائل کے ساتھ لڑا: ۔۔ادیب ایک عام شخص ہوتا ہے، شاید وہ زیادہ حساس ہوتا ہے اور جو لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں وہ زیادہ کم زور ہوتے ہیں۔ ادیب لوگوں کے ترجمان یا مجسم راست بازی کے رُکن کی حیثیت سے بات نہیں کرتا۔ اُس کی آواز ناتواں ضرور ہوتی ہے لیکن درست طور پر یہی آواز زیادہ معتبر ہوتی ہے۔۔۔صرف ادب ہی فرد کی آواز بن سکتا ہے اور ہمیشہ بنتا آیا ہے۔… کیوں کہ ادب بنیادی طور پر فرد کے احساسات سے اخذ کیا جاتا ہے اور فرد کے احساسات کا نتیجہ ہوتا ہے… اگر آئیڈیالوجی طاقت کے ساتھ الحاق کر کے ایک حقیقی قوّت میں بدل جائے تو ادب اور فرد دونوں تباہ و برباد ہو جائیں گے… اگر ادیب شعور کی آزادی کی فتح چاہتا ہے تو اُس کا انتخاب خاموشی یا فرار ہے۔ تاہم ادیب زبان پر انحصار کرتا ہے اور اگر وہ طویل عرصے تک بولتا نہیں تو یہ خُودکُشی کے مترادف ہے… یہ کہا جا سکتا ہے کہ خُودکلامی ادب کے نقطۂِ آغاز ہے اور ابلاغ کے لیے زبان کا استعمال دُوسرا قدم ہے۔ جب کوئی شخص اپنے احساسات اور خیالات کو زبان دیتا ہے تو اُس کی وہ تحریریں ادب بن جاتی ہیں۔ باایں ہمہ، اُن کی افادیت کاگُمان بھی نہیں ہوتا یا یہ کہ کسی روز یہ شائع بھی ہو سکتی ہیں لیکن پھر بھی لکھنے کی تحریک رہتی ہے کیوں کہ لکھنے کے عمل کی مسرت میں تلافی اور تسکین ہے۔ میں اپنے لکھنے کے تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ ادب فطری طور پر آدمی کی اپنی اقدار کی توثیق ہوتا ہے اور اِس کا جواز لکھنے کے دوران میں ملتا ہے، بنیادی طور پر ادیب کی اپنی ذات کی تکمیل کی ضرورت سے ادب جنم لیتا ہے۔ اِس کا معاشرے پر اثر کام کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ وہ اثر ادیب کی خواہشات کے مطابق ہو… لِکھتیں اِس لیے بھی طلسمی ہیں کہ جُدا افراد میں ابلاغ کا باعث بنتی ہیں خواہ اُن کا تعلّق مختلف اقوام اور زمانوں سے ہو۔… ادب قومی سرحدوں سے ماورا ہو کر—- تراجم کے راستے یہ زبانوں، خاص سماجی رسوم ورواج اور جغرافیائی حدود کے قائم کیے ہُوئے بین الانسانی مراسم اور تاریخ سے بالاتر ہو کر—- انسانی فطرت کی آفاقیت کے گہرے بھید کھولتا ہے۔ مزید، آج کا ادیب اپنی قوم سے ہٹ کر متنوع کثیرالقومی ثقافتوں کو بھی اپنے اندر جذب کرتا ہے۔۔۔ ادب انسانی وجود کے معمے کا آفاقی مشاہدہ ہے اور اِس کام میں کوئی چیز شجرِ ممنوعہ نہیں… اِس کا میرٹ جانچنے کا اپنا معیار، اپنا جمالیاتی ذوق ہے۔… انسانی جذبات پر مبنی جمالیات کبھی پُرانی نہیں ہوتیں خواہ فن و ادب میں کتنی ہی پائیدار تبدیلیاں رُونما ہو چکی ہوں۔… درحقیقت ادیب اور قاری کے مابین رُوحانی ابلاغ کا رشتہ ہوتا ہے جس کے لیے آپسی ملاقات یا سماجی رابطے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ رابطہ تحریر کے راستے ہوتا ہے۔ ادب انسانی سرگرمی کے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے جس میں ادیب اور قاری بہ رضا و رغبت مشغول رہتے ہیں۔ اِس نوع کے ادب کو، جس نے اپنا خلقی کردار بحال رکھا ہے، سرد ادب کہا جا سکتا ہے۔ اِس کا وجود صرف اِس لیے ہے کہ انسانیت مادی خواہشات کی تکمیل کے بجائے رُوحانی تسکین ڈھونڈتی ہے۔… ادیب خُدا کا کردار نہیں ادا کر سکتا، پس اُسے اپنی اَنا کے غبارے کو اِتنا پُھلانے کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خُدا سمجھنے لگے۔… ادیب کوئی پیغمبر بھی نہیں ہے۔ ادب کی قدر اِس میں ہے کہ جو شاذ و نادر علم میں ہے، جو بہت تھوڑا علم میں ہے یا جو علم میں ہے لیکن دراصل انسانی دُنیا کی معروف سچائی نہیں ہے، کو دریافت اور نُمایاں کرنے میں ہے۔ گویا سچائی ہی ادب کی ناقابلِ تاخت و تاراج اور بُنیادی خُوبی ہے۔ نئی صدی آچکی ہے۔ لگتا ہے کہ ادب میں انقلاب یا انقلابی ادب، اور آئیڈیالوجی بھی، اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ یوٹوپیا کا وہم، جو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے نظروں سے اوجھل ہے، اب ختم ہو چکا ہے۔… تاہم انسانی وجود کا چیستان بہت کم بدلا ہے اور یہ ادب کا دائمی موضوع رہے گا۔… ادب محض حقیقت کی نقل نہیں بناتا بَل کہ یہ حقیقت کی اندرونی تہوں میں گھس کر غلط اوہام کو رفع کرتا ہے،پستی میں والے عام واقعات کو بلندی سے دیکھتاہے اور وسیع تناظر میں اکملیت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ بِلاشبہ، ادب تخیل پر بھی انحصار کرتا ہے لیکن اِس ذہنی سفر کا کام صرف اور صرف کاٹھ کباڑ پیش کرنا نہیں ہوتا۔… فکشن یا ڈراما ختم ہُوا ہے نہ ہو گا اِس لیے کسی کو ادب یا فن کی کسی صنف کی موت کا غیرسنجیدہ اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی، زندگی کی طرح، جنم لینے والی زبان تحیّرات سے بھری پڑی ہے اور اِس اظہار کی صلاحیت لامحدود ہے۔ لکھاری کا کام ہے کہ وہ زبان کی ودیعتی طاقت کو دریافت کرے اور فروغ دے۔… ادب مرا ہے نہ ادیبوں کی موت ہُوئی ہے۔ کتابوں کی الماری میں ہر ادیب کی اپنی جگہ ہے اور وہ تب تک زندہ ہے جب تک اُس کا قاری موجود ہے۔ ادیب کو اِس سے زیادہ تشفی نہیں دی جا سکتی کہ وہ انسانوں کے ادب کے وسیع خزانے میں ایک کتاب چھوڑ جائے جسے رہتی دُنیا تک پڑھا جائے۔ ادب صرف اُس وقت زندگی پاتا ہے اور باعثِ دِلچسپی بنتا ہے جس لمحے لکھاری لکھ رہا ہوتا ہے اور قاری اُس کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ … جب ادب نان نفقہ نہیں یا جب کوئی لکھنے میں منہمک ہو تو وہ بُھول جاتا ہے کہ وہ کیوں اور کس کے لیے لکھ رہا ہے تو یہ فعل ضرورت اور اضطراری عمل سے ادب تخلیق کرتا ہے۔ یہی ادب کا غیرافادی اور بنیادی پہلو ہے۔… ادب تاریخ کے خلا بھی پُر کرتا ہے۔ انسان صرف تاریخ ہی نہیں رکھتا بَل کہ ادب کی میراث بھی موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حادثہ

ہَوا کا ایک بگولہ چِن ہُؤا بُک شاپ کے باہر سڑک پر ہونے والے کام سے دُھول اُٹھا کر قوس میں نفت کے گِرد گُھماتا اور پھر اُسے ہر طرف پھیلا دیتا ہے۔ یہ گرد کے طوفان کا موسم نہیں ہے—- ابھی تو محض موسم کے گرم ہونے کا آغاز ہُوا ہے۔ کچھ سائیکل سوار تو اب بھی خاکستری رنگ کے سُوتی لمبے کوٹ پہنے ہُوئے ہیں۔ شاہراہِ ڈیشینگ پر ریڈیو مرمت کرنے والی دُکان پر ریڈیو کی ٹُوں کی ٹھیک چوتھی آواز کے بعدیہ واقعہ سہ پہر پانچ بجے ہوتا ہے۔ یہ ایسا وقت نہیں ہے جب سب ہی اپنے کام ختم کر لیتے ہیں اور سڑک پر ٹریفک کا اژدھام ہوتا ہے۔ تاہم، کچھ لوگ لازماً اپنا کام جلد نپٹا لیتے ہیں۔ لازماً یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ قطعاً کوئی کام نہیں کرتے۔ پس مصروف اور کاہل لوگ سائیکلوں اور پیدل افراد کے کبھی ختم نہ ہونے والے ہجوم کی صُورت میں آجا رہے ہیں۔ دِن کے اِس حِصّے میں ہمیشہ اِسی طرح ہوتا ہے۔ بسوں پر تمام نشستیں پُر ہیں اور کچھ مسافر کھڑکیوں میں سے باہر تکتے ہُوئے سُلاخیں تھامے کھڑے ہیں۔

ایک آدمی ایک ایسی بائیسیکل چلاتا ہُوا آڑے رُخ سڑک پار کر رہا ہے جس کے سامنے والے حِصّے پر بچّے کو بِٹھانے کے لیے سُرخ اور نیلے رنگ کے چھاتے والا ایک فالتو پہیہ نصب کیا گیا ہے۔ اُس کی متضاد سمت سے سواریوں والی ایک دو منزلہ بس آرہی ہے جس کی رفتار تیز ہے لیکن بے حد تیز نہیں ہے۔ وہ اُس چھوٹی پیلگوں سبز کار سے سست چل رہی ہے جو بائیسیکل کو پار کرنے والی ہے لیکن دونوں گاڑیاں ہی شہر کی حدود کے اندر کے لیے مقرر حد رفتار کو پارکیے ہُوئے نہیں ہیں۔ جب ایک جانب سے پیلگوں سبز کار اُسے پار کرتی ہے تو بائیسیکل سوار شخص اپنی کمر کو کمان بنا کر زور زور سے پیڈل مارتا ہے۔ دُوسری جانب اب بھی بس اُس کی سمت بڑھ رہی ہے۔ آدمی ہچکچاتا ہے لیکن وہ بریک نہیں لگاتا اور بچّہ کی ٹوکری والی بائیسیکل اب بھی سڑک پار کرنا جاری رکھتی ہے۔ بس قرنا پُھونکتی ہے لیکن اپنی رفتار کم نہیں کرتی۔ اُس وقت تک جب وہ شخص سڑک کے وسطی سفید لکیر پار کرتا ہے تو ہَوا کے بگولے کی اُڑائی ہُوئی دُھول بیٹھ چکی ہوتی ہے، پس اُس کی نظر بھی دُھندلی نہیں ہوتی۔

وہ پلکیں جھپکائے بغیر اُوپر دیکھتا ہے۔ وہ کوئی نوجوان نہیں ہے بَل کہ چالیس کے لگ بھگ ہے اور اُس کا ہَیٹ تھوڑا سا پیچھے کی طرف جھک کر اُس کا گنجا ماتھا نمایاں کر رہا ہوتا ہے۔ بچّے والی ٹوکری میں چھاتے کے نیچے تین—- یا چار—- سال کا ایک گلابی گالوں والا بچّہ بیٹھا ہے۔ آدمی نے یقینا بس کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ اور اُس کے تُرم کو سُن لیا ہو گا جو اَب مسلسل بج رہا ہے۔ وہ ایک بار پھر ٹھٹکتا ہے اور لگتا ہے جیسے ہَولے سے بریک لگائی ہو لیکن پھر وہ اپنے وَتر رُخ والے راستے پر بے ڈھب انداز میں رَواں رہتا ہے۔ جُوں جُوں بس قریب سے قریب تر آتی ہے، اُس کاقرنا زیادہ بلند آواز میں بجتا چلا جاتا ہے اور پھر بریک کی کانوں کے پردے پھاڑنے والی آواز آتی ہے۔ بائیسیکل اب آگے کی سمت بڑھ رہی ہے۔ بس تھمنے کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن اُس کی خُونی حرکت اُوپر ڈھینے والی دِیوار کے مانند جاری رہتی ہے۔ عین اُسی لمحے جب بس اور بائیسیکل آپس میں ٹکرانے والی ہوتی ہیں، اُسی سمت والے کنارے کے راستے سے ایک عورت چیخنے چِلّانے لگتی ہے۔ پیدل اور سائیکل سوار ٹھیر کر دیکھنے لگتے ہیں مگر کوئی بھی حرکت کرنے کے قابل دِکھائی نہیں دیتا۔ بائیسیکل کا اگلا پہیہ بس کے عین سامنے آچکا ہوتا ہے اور آدمی زور زور سے پیڈل مار رہا ہوتا ہے—- شاید وہ کامیاب ہو ہی جائے۔ ٹھیک اُسی وقت، وہ سُرخ اور نیلے چھاتے کو پکڑنے کے لیے آگے جھکتا ہے، ٹوکری اُڑ کر اپنے واحد پہیے پر اُچھلتی ہُوئی دُور جا گِرتی ہے۔ جب آدمی اپنے بازو اُوپر اُچھال رہا ہوتا ہے تو اُس کی ٹانگیں لپیٹ میں آجاتی ہیں اور وہ اُلٹ کر بائیسیکل کے پیچھے کی طرف گِرتا ہے۔ نرسنگے اور بریک کے شوروغل اور عورت کی چیخ و پُکار میں، اِس سے قبل کے تماشائی آہ بھی بھر پاتے، وہ آدمی بس کے پہیوں کے نیچے آکر کچلا جاتا ہے۔ وہ بائیسیکل، جسے وہ شخص چلا رہا تھا، مُڑ تُڑی حالت میں دس فٹ دُور جا کر گِرتی ہے۔

سڑک کے دونوں طرف پیدل چلنے والے سکتے میں آجاتے ہیں اور سائیکل سوار اپنی بائسیکلوں سے اُتر پڑتے ہیں۔ یکایک سکوت طاری ہو جاتا ہے، صرف ریڈیو مرمت کرنے والی دُکان سے گِیت کی آواز آرہی ہوتی ہے۔

شاید تمہیں یاد ہو
دُھندلکے میں،شکستہ پُل تلے
ہمارا وہ ملن—-

غالباً یہ موسیقی گلوکار ڈَینگ لی جُن ہانگ کانگ کے بعد کی ہے۔ بس کے اگلے پہیے لہو کے ایک تالاب میں تھم چکے ہیں، اور بس کے عقبی حِصّے تلے پڑے اُس شخص کےجسم سے لہو بہہ رہا ہے۔ سب سے پہلے بس کا ڈرائیور اُس جسم کے پاس جاتا ہے۔ پھر سڑک کے دونوں اطراف سے لوگ بھاگتے ہُوئے آتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ گند میں اُلٹی پڑی ہُوئی بچّے کی ٹوکری کے گِرد گھیرا ڈال لیتے ہیں۔ وسطی عمر کی ایک عورت بچّے کو ٹوکری میں سے نکالتی، اُسے ہِلاتی جھلاتی، اور اُس کا اچھی طرح معائنہ کرتی ہے۔

“کیا یہ مر گیا؟”

“مر گیا ہے!”

“یا یہ مر گیا ہے؟”

چوگرد سے لوگ متجسس لہجے میں بولتے ہیں۔ بچّے کی آنکھیں سختی سے بند ہیں اور اُس کی نرم جِلد یُوں نُچڑ گئی ہے کہ نیلی رَگیں نمایاں طور پر دِکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن بیرونی چوٹ کا کوئی نشان نہیں ہے۔

“ڈرائیور کو بھاگنے مت دینا!”

“جلدی کرو، پولیس کو بلاؤ۔”

ایک تَہ در تَہ ہجوم بس کے سامنے جمع ہو چکا ہے۔ صرف ایک آدمی اتنا متجسس ہے کہ وہ ٹُوٹی پُھوٹی اور مُڑی تُڑی بائیسیکل کو اُٹھاتا ہے۔ جب وہ اُسے دوبارہ زمین پر رکھتا ہے تو اُس کی گھنٹی بج اُٹھتی ہے۔

“کسی شے کو مت چھوؤ! ہر چیز کو جُوں کا تُوں رہنے دو!”

“میں نے واضح طور پر بھونپُو بجایا اور بریک لگائی تھی! سب نے دیکھا ہے—- یہ بس کے سامنے جان بُوجھ کر آ کے اپنے آپ کو مارنے پر تُلا ہُوا تھا! تم لوگ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میرا قصور ہے؟” ڈرائیور بھِنچی ہُوئی آواز میں وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اُس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔

“تم سب گواہ ہو—- تم سب نے یہ دیکھا ہے!”

“ایک طرف ہو جاؤ! سب ایک طرف ہو جاؤ!”

انبوہ میں سے بڑا سا ہَیٹ پہنے ایک پولیس والا نکلتا ہے۔

“بچّے کو مدد کی ضرورت ہے! جلدی کرو! کوئی کار رَوکو اور اُسے ہسپتال لے کر جاؤ!”

کوفی کے رنگ کی جیکٹ والا ایک نوجوان سڑک کے وسط میں اپنے ہاتھ ہِلاتا ہُوا دوڑتا ہے۔جب وہ سڑک پر اُبل پڑنے والے پیدل لوگوں کے بیچ سے اپنا راستہ بناتا ہے تو ایک چھوٹی ٹویوٹا سیڈان اپنی نفیری بجاتی ہے۔ پھر، ایک 130 لائٹ ٹرک گھسٹتا ہے اور ٹھیر جاتا ہے۔ بس کے اندر سواریاں ٹکٹیں بیچنے والی عورت سے جھگڑ رہے ہیں۔ پیچھے ایک اَور بس آجاتی ہے۔ پہلی بس کے دروازے کھلتے ہیں اور سواریاں دھکم پیل کرتی ہُوئی باہر نکل کر آنے والی دُوسری بس کا راستہ روک لیتی ہیں۔ غل غپاڑا برپا ہے۔

میں کبھی نہیں
کبھی نہیں بھُول پاؤں گا…

ریڈیو کے گِیت کو شور دبا دیتا ہے۔ خُون اب بھی بہہ رہا ہے اور اُس کی مہک فضا میں پھیل گئی ہے۔

“وااا…” آخر بچّہ صدمے سے ہَونک اُٹھتا ہے۔

“یہ اچھی علامت ہے۔”

“ابھی زندہ ہے!”

مسرور آہیں برآمد ہوتی ہیں۔ جُوں جُوں اُس کے ہَونکنے کی آواز زیادہ بلند ہوتی جاتی ہے تُوں تُوں اِردگِرد کے لوگوں میں بھی زندگی آتی جاتی ہے؛ گویا اُنھیں آزادی مل گئی ہو۔ وہ دھڑ کے گِرد کے مجمعے میں شامل ہونے کے لیے دوڑتے ہیں۔

سائرن کی ماتمی آواز۔ پولیس کی روشن نیلی بتّی والی ایک کار آکر ٹھیرتی ہے۔ چار پولیس والے باہر نکلتے ہیں اور اُنھیں راستہ دینے کے لیے ہجوم دو حِصّوں میں بٹ جاتا ہے۔ اُن میں سے دو چرمی چھڑی تھامے ہُوئے ہیں۔

اب ٹریفک تھم چکی ہے اور سڑک کی دونوں سمتوں میں انتظار کرتی ہُوئی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ بُھونپو غوغے سے بلند آواز میں چیختے ہیں۔ ایک پولیس والا سڑک کے عین وسط میں کھڑا ہو کر اپنے سفید دستانوں والے ہاتھ ہِلا ہِلا کر ٹریفک کو ہدایات دینا شروع کر دیتا ہے۔

باقی پولیس والے دُوسری بس سے ٹکٹیں بیچنے والی کو بُلاتے ہیں۔ وہ معذرت کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن پھر جھجکتے ہُوئے وسط عمر کی خاتون سے بچّے کو لے لیتی ہے جو اُسے تھامے ہُوئے تھی اور 130 لائٹ ٹرک میں سوار ہو جاتی ہے۔ سفید دستانہ اشارہ دیتا ہے اور ٹرک اپنے ساتھ اُونچی آواز میں سبکیاں بھرتے ہُوئے بچّے کو لے کر روانہ ہو جاتا ہے۔

ایک پولیس والا ڈرائیور سے سوال کر رہا ہے، جو اپنی سوتی ٹوپی سے اپنے چہرے کا پسینا پُونچھ رہا ہے۔ وہ ڈرائیور کا سُرخ پلاسٹک میں رکھا ہُوا لائسنس لے کر اُسے ضبط کر لیتا ہے۔ وہ شکایت کرنے لگتا ہے۔

“تم انکار کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہو؟ اگر تم نے ایک آدمی کو کچل ڈالا ہے تو تم نے اُسے کچل ڈالا ہے!” بائیسیکل گھسیٹتا ہُوا اَیک آدمی بلند آواز میں کہتا ہے۔

“وہ خُود کشی کرنے پر تُلا ہُوا تھا۔ ڈرائیور نے بار بار بُھونپو بجایا اور بریک لگائی لیکن وہ سامنے سے نہیں ہٹا۔ وہ خُود بس تلے آیا ہے۔” نوجوان کو کوسنے کے لیے ٹکٹیں بیچنے والی لمبی آستینوں والی عبا پہنے پہلی بس سے باہر نکلتی ہے۔

“آدمی سڑک کے عین وسط میں تھا اور اُس کے ساتھ ایک بچّہ بھی تھا۔ دِن کی اچھی خاصی روشنی تھی۔ ڈرائیور کو اُسے یقینی طور پر دیکھ لینا چاہیے تھا!”ہجوم میں سے کوئی غصّیلے انداز میں مداخلت کرتا ہے۔ “اِس قسم کے ڈرائیوروں کو کسی کو کچل ڈالنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ ہونا چاہیے کہ لوگوں کی زندگی کے بدلے یہ اپنی زندگی دیں۔” یہ بات طنزیہ انداز میں کہی گئی۔

“کتنا بڑا اَلمیہ ہے! اگر اُس کے ساتھ بچّہ نہ ہوتا تو وہ بروقت سڑک پار کر جاتا!”

“کیا اِس کے بچنے کی کوئی اُمید ہے؟”

“اِس کا دماغ باہر آگیا ہے۔”

“میں نے ابھی اِس کا غوطہ سنا ہے—-”

“تم نے سنا ہے؟”

“ہاں، ابھی غوطہ لیا ہے۔”

“بس! میں اِس بارے میں نہیں جاننا چاہتا!”

“اے، یہی زندگی کا طور ہے—- کوئی بھی شخص اِس طرح مر سکتا ہے۔”

“وہ رو رہا ہے۔”

“کون؟”

“ڈرائیور۔”

سر جھکا کر اپنی رانوں کے بَل اُکڑوں بیٹھا ہُوا ڈرائیور اپنی آنکھیں ٹوپی سے ڈھانپ لیتا ہے۔

“یہ ایک حادثہ تھا۔”

“آدمی کے ساتھ ایک بچہّ بھی تھا؟ بچّے کا کیا بنا؟” ایک نووارد دَریافت کرتا ہے۔

“بچّہ زخمی نہیں ہُوا۔ وہ بے حد خُوش قسمت تھا۔”

“بچّہ بچا لیا گیا۔”

“آدمی مر گیا!”

“کیا وہ بچّے کا باپ تھا؟”

“اُس نے بچّے کی ٹوکری اپنی بائیسیکل کے ساتھ کیوں باندھی ہُوئی تھی؟ اکیلی بائیسیکل کے ساتھ حادثہ ہونا کافی مشکل ہے۔”

“اُس نے تھوڑی دیر پہلے ہی بچّے کو نرسری سکول سے لیا تھا۔”

“نرسری سکولوں کا حال پتلا ہے—- وہاں بچّوں کو دِن بھر کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا۔”

“تم خُوش نصیب ہو اگر تمہیں اپنے بچّے کے لیے ایک ہی سکول مل جائے۔”

“تم کیا دیکھ رہے ہو؟ اب اگر تم نے بِلا اِدھر اُدھر دیکھے سڑک پار کی تو—-” تماشائیوں کے بیچ میں گھسنے والے ایک بچّے کو ایک بڑا سا ہاتھ کھینچتا ہے۔

ہانگ کانگ کے ستارے نے گانا بند کر دیا ہے۔ ریڈیو مرمت کرنے والی دکان کے سامنے والا حِصّہ لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔

ایک ایمبولینس آگئی ہے، اُس کی سُرخ بتّی روشن ہے۔ سفید وردی میں ملبوس طبّی عملے والے لاش کو ایمبولینس کی طرف لے کر جاتے ہیں اور دُکانوں کے دروازوں میں کھڑے لوگ ایڑیاں اُٹھا اُٹھا کر دیکھتے ہیں۔ ایک نزدیکی ریستوران سے ایک موٹا سا باورچی اپنے ایپرن ہی میں یہ دیکھنے باہر نکل آتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔

“کیا ہُوا ہے؟ کیا کوئی حادثہ ہو گیا ہے؟ کوئی زخمی ہُوا ہے؟”

“ایک باپ اور بیٹا۔ اُن میں سے ایک دم توڑ گیا۔”

“کون؟”

“بُوڑھا شخص۔”

“بیٹے کا کیا ہُوا؟”

“زخمی تک نہیں ہُوا۔”

“خوف ناک بات ہے! اُس نے اپنے باپ کو کھینچا کیوں نہیں؟”

“باپ نے اپنے بیٹے کو کھینچ لیا تھا۔”

“یہ ہر آنے والی نسل کے ساتھ بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ وہ آدمی اپنے بیٹے پر اپنا وقت ضائع کر رہا تھا!”

“اگر تمہیں نہیں پتا کہ کیا ہُوا ہے تو بونگیاں مت مارو۔”

“کون بونگیاں مار رہا ہے؟”

“میں تمہارے ساتھ بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔”

“بچّے کو لے جایا گیا ہے۔”

“کیا کوئی چھوٹا بچّہ بھی تھا؟”

کچھ لوگ ابھی آئے ہیں۔

“کیا تم دھکّے دینا بند کرو گے؟”

“کیا میں نے تمہیں دھکا دیا ہے؟”

“چلو۔ تم سب یہاں سے جاؤ۔”

ہجوم کے بیرونی کنارے سے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ بازو کے گِرد سُرخ پٹّی والا ٹریفک سیکیورٹی کے عملے کا فرد اب منظر پر نمودار ہو گیا ہے جو پولیس والوں سے زیادہ بُرے لوگ ہیں۔

ڈرائیور، جسے پولیس کی کار میں دھکیلا جا رہا ہے، مڑتا اور مزاحمت کرنے کا جتن کرتا ہے لیکن پولیس والے دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ لوگ پیدل اور سوار ہو کر جانے لگتے ہیں، ہجوم گھٹنے لگتا ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگ آتے ہیں، اپنی بائسیکلیں روکتے ہیں یا کنارے پر چلنے والے راستے سے سڑک پر اُترتے ہیں۔ سڑک کی اِس جانب دُوسری بس کی رہنمائی میں کاروں، وینوں، جیپوں اور لیموزینوں کی ایک لمبی قطار دِھیرے دِھیرے سُرخ اور نیلے رنگ کے چھاتے والی بچّے کی ٹُوٹی پُھوٹی ٹوکری کے پاس سے، جو اَب بھی غلاظت میں پڑی ہے، گذرنے لگتی ہے۔ بیشتر ہجوم جا چکا ہے۔

دو پولیس والے سڑک کے وسط میں پیمائش لیتے ہیں اور ایک اپنی چھوٹی سی کتاب میں کچھ تحریر کرتا ہے۔ بس کے پہیوں کے نیچے والا لہو کا تالاب گاڑھا ہونے اور سیاہ پڑنے لگا ہے۔ ٹکٹیں فروخت کرنے والی کھڑکی کے ساتھ لگ کر بیٹھی ہُوئی خالی خالی نظروں سے سڑک کے ایک طرف تک رہی ہے۔ دُوسری جانب ایک اَور بس آرہی ہے۔ کھڑکیوں میں سے کچھ چہرے گُھورتے ہیں، حتّٰی کہ کچھ اپنے سر بھی باہر نکالتے ہیں۔ اب کام کا وقت ختم ہو گیا ہے اور ٹریفک اپنے عروج پر ہے۔ حدیہ کہ سڑک کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں اور بائیسیکل سواروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ لیکن پولیس اور ٹریفک سیکورٹی کے عملے والا اُنہیں سڑک سے دُور رکھتے ہیں۔

“کیا یہاں حادثہ ہُوا تھا؟”

“کیا کوئی مرا ہے؟”

“یقینا ًہُوا ہے—- اُس خُون کو دیکھو۔”

“کل جیان کانگ روڈ پر ایک حادثہ ہُوا تھا۔ ایک سولہ سالہ لڑکے کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ دم توڑ گیا۔ ذکر ہو رہا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کا ایک ہی بیٹا تھا۔”

“آج کل تمام خاندانوں کے ایک ایک ہی بیٹا ہے۔”

“اے، والدین کس طرح برداشت کریں گے؟”

“اگر ٹریفک کو بہتر کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا تو روز بروز حادثات بڑھیں گے!”

“بجا، حادثے کسی بھی طور کم نہیں ہوں گے، یہ یقینی بات ہے۔”

“بیٹے کے معاملے میں تو پھر بھی سہولت ہے—- بیٹیاں والدین کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث ہیں۔”

“دیکھو! دیکھو! وہ فوٹو کھینچ رہے ہیں۔”

“اِس کا بے حد فائدہ ہو گا! اب بہت دیر ہو گئی ہے۔”

“کیا اُسے بس نے جان بُوجھ ٹکّر ماری ہے؟”

“کسے پتا؟”

“ٹوکری ساتھ نتھی نہیں تھی ورنہ اُسے بھی ٹکّر لگتی۔”

“میں پاس سے گذر رہا تھا۔”

“کچھ لوگ تو بالکل جنونیوں کے مانند گاڑی چلاتے ہیں۔ وہ اِس چیز پر کبھی گاڑی نہیں روکتے کہ کوئی شخص راستے سے نہیں ہٹ رہا!‘”

“ایسے لوگ بھی ہیں جو دُوسرے لوگوں کو مار کر اپنی مایوسیاں رفع کرتے ہیں۔ کوئی بھی شکار ہو سکتا ہے۔”

“اِس قسم کی کسی چیز سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا بے حد دُشوار ہے—- یہ سب نصیب کا لکھا ہوتا ہے۔ ہمارے پُرانے گاؤں میں، ایک ماہر بڑھئی تھا لیکن وہ پینے کا بے حد شوقین تھا۔ ایک مرتبہ وہ کسی کا مکان بنا رہا تھا اور جب وہ رات کو اپنے گھر نشے کی حالت میں لوٹ رہا تھا تو اُسے ٹھوکر لگی اور ایک پتھّر سے اُس کا سر ٹکرا کر پارہ پارہ ہو گیا۔”

“پچھلے کچھ دِنوں سے، کسی وجہ سے میری آنکھ پھڑک رہی ہے۔”

“کون سی آنکھ؟”

“تم ہر وقت اپنے ہی خیالوں میں رہ کر سڑک پر مت چلا کرو۔ میں نے تمھیں کئی بار دیکھا ہے—-”

“مجھے کبھی کچھ نہیں ہُوا۔”

“لیکن اگر کچھ ہو گیا تو میں کبھی نہیں سہہ پاؤں گی۔”

“اِسے ختم کرو! لوگ گُھور رہے ہیں۔”

پولیس حادثے کی جائے وقوع کے فوٹوگراف لے چکی ہے اور پولیس والا پیمائش کے بعد پھاوڑا بھر مٹی خُون پر پھیلا دیتا ہے۔ ہَوا تھم چکی ہے اور تاریکی پھیل رہی ہے۔ کھڑکی سے لگ کر بیٹھی ہُوئی ٹکٹیں بیچنے والی نے بتّیاں روشن کر دی ہیں اور دِن بھر کی آمدنی گِن رہی ہے۔ ایک پولیس والا مُڑی تُڑی بائیسیکل کو اپنے کندھے پر اُٹھا کر کار میں لے جاتا ہے۔ بازوؤں پر لپٹی ہُوئی لال پٹّی والے دو آدمی گندگی سے بچّہ ٹوکری اُٹھا کر کار میں لادتے اور پولیس کے ساتھ ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔

رات کے کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔ ٹکٹیں بیچنے والی بس کے دروازے میں کھڑی بے صبری سے منتظر ہے کہ اُسے لے جانے کے لیے نیا ڈرائیور بھیجا جائے۔ راہ گیر اب سڑک کے وسط میں نامعلوم سبب کے باعث کھڑی خالی بس پر چھچھلتی ہُوئی نگاہ ڈالتے ہیں۔ کوئی بھی اندھیرے میں خُون پر دھیان نہیں دیتا، جو مٹّی سے ڈھنپا ہُوا ہے اور بمشکل دِکھائی دیتا ہے۔

ایک لمحہ آتا ہے، جب سڑک کی بتّیاں روشن ہو جاتی ہیں اور خالی بس لے جائی جاتی ہے۔ سڑک پر دوبارہ کاریں فراٹے بھرنے لگتی ہیں اور یُوں لگتا ہے جیسے کچھ بھی نہ ہُوا ہے۔ نصف شب تک سڑک کم و بیش خالی ہو جاتی ہے۔ سڑک کی صفائی کرنے والا ایک ٹرک بعید کے ایک ایسے چوراہے سے آتا ہے جہاں آہنی جنگلے پر لگے نیلے پوسٹر سے آگے ٹریفک کی بتّیاں وقفے وقفے سے جلتی بجھتی ہیں۔ سفید رنگ سے یہ حروف چھپے ہیں: “اپنی اور دُوسروں کی بھلائی کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔” جس مقام پر حادثہ ہُوا تھا وہاں ٹرک سست پڑتا ہے اور پانی کی تیز پھوار سے خُون کے بچے کھچے نشانات دھو ڈالتا ہے۔

خاکروبوں کو پتا تک نہیں چلتا کہ وہاں چند گھنٹے پہلے کوئی حادثہ ہُوا تھا اور ایک بدقسمت اُس حادثے کا شکار ہو کر موت سے ہم کنار ہُوا ہے۔ لیکن شکار کون تھا؟ لاکھوں لوگوں کے اِس شہر میں اُسے محض اُس کے عزیز و اقارب ہی جانتے ہوں گے۔ اور اگر شناختی کاغذات اُس کے ہمراہ نہ ہُوئے تو اُنہیں اب تک اُسے پیش آنے والے حادثے کے بارے میں پتا بھی نہیں ہو گا۔ وہ آدمی اغلب طور پر بچّے کا باپ تھا اور اِس کا امکان ہے کہ بچّہ حکام کو اُس کے نام کے بارے میں بتانے کا اہل ہو گا۔ اگر وہ شخص باپ تھا تو یقیناً اُس کی ایک بیوی بھی ہونا چاہیے۔ اور چُوں کہ وہ بچّے کو سکول سے لے کر جا رہا تھا تو ایک اچھا باپ اور ایک اچھا شوہر تھا۔ چُوں کہ اُسے اپنے بچّے سے محبت تھی تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اُسے اپنی بیوی سے بھی محبت تھی، لیکن کیا اُس کی بیوی بھی اُس سے محبت کرتی تھی؟ اگر وہ اُس سے محبت کرتی تھی تو اُس نے ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریاں پُوری کیوں نہیں کیں اور بچّے کو سکول سے لینے خُود کیوں نہیں آئی؟

شاید اُس آدمی کی زندگی اذیت ناک ہو اور اِسی لیے وہ اِس قدر منتشرالخیال تھا۔ شاید یہ اُس کی شخصیت کی خامی ہو اور وہ ہمیشہ ہی بروقت فیصلہ نہ کرتا ہو۔ شاید اُسے کوئی مسئلہ دِق کر رہا ہو، کوئی ایسا مسئلہ جسے وہ حل نہ کر پایا ہو اور سادہ سی بات کہ اِس بڑی بدقسمتی کا شکار ہونا ہی اُس کے نصیب میں ہو۔ تاہم، اگر وہ ذرا سا بعد میں یا تھوڑا سا پہلے وہاں سے گذرتا تو شاید حادثے سے بچ جاتا۔ یا اگر وہ بچّے کو اُٹھانے کے بعد وہ تیز یا سست روی سے پیڈل چلاتا، یا پھر وہ نرسری سکول کی ماسی سے دیر تک باتیں کرتا رہتا، یا راستے میں اُسے اُس کا کوئی دوست مل جاتا اور وہ اُس سے کلام کرنے کے لیے ٹھیر جاتا…

لیکن یہ ناگزیر تھا۔ اُسے کوئی ناقابلِ علاج مرض نہیں تھا، لیکن پھر بھی جیسے وہ بس موت کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ موت سے کسے رَست گاری ہے۔ اور کوئی شہر ٹریفک حادثوں سے مبرا نہیں۔ ہر شہر میں موت کا امکان موجود ہے—- خواہ کسی خاص دِن میں یہ موقع دس لاکھ میں محض ایک ہی ہو—- اور اِس جیسے بڑے شہر میں کسی نہ کسی نوع کی بدقسمتی سے سدا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ مرحوم بھی اِسی قسم کا شخص تھا۔ کیا اُسے اِس کے وقوع پذیر ہونے سے قبل پیش آگاہی ہو گئی تھی؟ جب یہ واقعہ پیش آرہا تھا تو کیا سوچ رہا تھا؟ غالباً، اُس کے پاس اپنے اُوپر وارد ہونے والی ناگہانی کے بارے میں سوچنے، اُسے سمجھنے کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔ اُس کے لیے اِس سے بڑی کوئی ناگہانی نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ ریت کے لاکھوں ذروں میں سے ایک تھا۔ لیکن مرنے سے قبل، اُس نے واضح طور پر بچّے کے متعلّق سوچا ہو گا۔ کیا اُس نے اپنی ارفع قربانی دی تھی؟ یا شاید یہ قربانی خالصتاً ارفع نہیں تھی—- شاید یہ کسی حد تک جبلّی تھی، ایک باپ کی جبلّت والی۔ لوگ ماں کی جبلّت کی قوّت کے بارے میں باتیں کرتے ہیں، لیکن ایسی مائیں بھی ہیں جو اپنی اولاد کو چھوڑ دیتی ہیں۔ آدمی کا اپنے بچّے کے لیے قربانی دینا بِلا شک و شبہ ارفع کام تھا، لیکن درحقیقت قربانی سے کاملاً بچا جا سکتا تھا۔ اگر وہ تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد میں نکلا ہوتا، جیسا کہ میں نے کہا ہے، اگر وہ ذہنی طور پر اُلجھا ہُوا نہ ہوتا، اگر وہ قدرتی طور پر فوری فیصلے کی قوّت کا حامل ہوتا، اگر وہ اپنی حرکات میں چاق و چوبند ہوتا… اِن تمام خامیوں کے مجموعے نے اُس کی جلد موت واقع کی ہے۔

میں یہاں فلسفہ بیان کر رہا ہوں، لیکن زندگی کوئی فلسفہ نہیں ہے گو زندگی کے علم سے ہی فلسفہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اور ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم ٹریفک کے حادثات کی شماریات کریں—- یہ ٹریفک سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے۔ بے شک، ٹریفک حادثہ اخبار کا ایک جزو بن سکتا ہے۔ اور اگر تخیل کا تڑکا لگا کر اِسے متحرک بیانیے میں بیان کر دیا جائے تو یہ ادب کے لیے خام مواد بھی میسر کر سکتا ہے۔ لیکن میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ محض ایک حادثہ ہے جو شام پانچ بجے ڈیشینگ ایونیو پر ریڈیو مرمت کرنے والی دُکان کے سامنے پیش آیا۔

Categories
فکشن

آخری غروب آفتاب (نجم الدین احمد)

“ڈاکٹر،… میں… اپنی زندگی کا… آخری… غروبِ آفتاب… دیکھنا… چاہتا ہُوں۔”

ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اِس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ اُنھیں پُورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی خواہش بھی تھی جسے اُنہوں نے پُورا کرنے کے لیے اپنی بھرپُور کوشش کی لیکن اُن کی تمام تر سعی رائیگاں گئی۔ وہ اپنے بیٹی اور بیٹے سے ملنے کا متمنّی تھا۔ اُنہوں نے اجازت کے باقاعدہ حصول کے بعد لڑکی اور لڑکے کی حفاظت کے لیے تمام انتظامات کیے، لیکن اُنہوں نے، ہسپتال انتظامیہ کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود، اپنے باپ سے ملنے سے صاف انکار کر دیا کیوں کہ وہ کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن کھانستے اور اُکھڑی ہُوئی سانسوں والے اِس مریض کی ٹکڑوں میں اظہار کی گئی یہ خواہش— اور مسلمہ طور پر آخری خواہش— اِتنی بڑی، پیچیدہ اور ناممکن نہیں جسے پُورا نہ کیا جا سکے، ڈاکٹر نے سوچا۔

اُس نے ہونٹ سُکیڑتے ہُوئے وینٹی لیٹر کے شیشے میں مقید مریض کے کھلے مُنھ کو دیکھا۔ وہ خُود بھی سرتاپا ڈھنپا ہُوا تھا— خلابازوں جیسا نیلی پٹّیوں والا سفید لباس، ہاتھوں پر سفید دستانے، سر پر کنٹوپ جس کے سامنے والا حِصّہ کھلا مگر آنکھوں پر شفاف شیشے کے گوگلز اور ناک مُنھ پر اَین۔۹۵ ماسک۔ اُس کی نگاہوں نے مریض کے مُنھ سے آنکھوں تک کا سفر کیا، جن میں رچی موت کی پیش آگاہی کی سپیدی میں شدّید یاس اور حسرت پھیلی ہُوئی تھی۔ ڈاکٹر نے سر جھٹک کر نظریں چُراتے ہُوئے بستر کے ساتھ پڑی درازوں والی آہنی تپائی سے مریض کی کیس ہسٹری کی فائل نسخے میں ردّوبدل کی غرض سے اُٹھا لی۔

مریض کا نام آفتاب احمد تھا،جو ایک پاکستانی طالب علم تھا اور وُوہان یُونیورسٹی کی شاخ چائینیز اکیڈمی آف انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے چین میں آیا تھا۔ وہ اپنے آخری تعلیمی سال میں تھا اور جُون ۲۰۲۰ء میں امتحانات سے فراغت کے بعد اُس کی اپنے وطن پاکستان واپسی متوقع تھی کہ یکایک دسمبر ۲۰۱۹ء میں وُوہان میں کورونا وائرس کی وبا پُھوٹ پڑی— جس نے آناًفاناً عالمی وبا کی صُورت اختیار کر کے پُوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس کا شکار ہو کر وہ بھی دُوسروں کے ساتھ دو منزلہ ہؤشین شان (Huoshenshan) ہسپتال میں پہنچ گیا۔ کچھ دِن قرنطینہ اور آئیسولیشن میں گزارنے کے بعد اب وہ ہسپتال کے تیس آئی سی یُوز میں سے ایک میںتھا جہاں ڈاکٹر لیو (Liu) کے ساتھ ساتھ دِیگر ڈاکٹر اور طبّی عملہ مریضوں کے علاج میں دِن رات ایک کیے ہُوئے تھا لیکن اُس نے اُن دونوں نرسوں کے ہم رَاہ ڈاکٹر لیو کو متواتر اپنا خاص معالج پایا تھا۔ پس، اُس نے اُن ہی کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر لیو نے فائل کی ورق گردانی کے بعد کچھ نئی ادویات تجویز کیں اور ایک دوا کو نشان زد کرتے ہُوئے ہٹ کر ایک دُوسرے سے مقررہ فاصلہ رکھ کر کھڑی ہُوئی دو نرسوں میں سے ایک سے مخاطب ہو کر بولا۔ “سسٹر چَینگ یِنگ (Changying)، یہ انجکشن مریض کو ابھی دے دیں۔ باقی ادویات معمول کے مطابق جاری رکھنا ہیں۔”

اُس نے روانگی سے قبل مریض کی طرف کن اَکھیوں سے دیکھا، جسے مریض نے فوراً تاڑ لیا کیوں کہ وہ پہلے ہی ڈاکٹر کی طرف ملتمس اور آس بھری نگاہیں جمائے ہُوئے تھا۔

“ڈاکٹر، پلیز۔ یہ… میری آخری… خواہش… ہے۔” وہ گڑگڑایا۔ “دُنیا بھر میں… کہیں بھی… مرتے ہُوئے… شخص کی… آخری… خواہش… کبھی ردّ… نہیں کی… جاتی۔”

ڈاکٹر مُڑا اَور گہری نگاہوں سے اُسے تکنے لگا۔ پھر اُس کی آنکھیں یُوں پُرخیال ہو گئیں جیسے وہ اُس کی استدعا پر غوروخوض کر رہا ہو۔ وہ تھوڑی دیر تک اُسی حالت میں کھڑا اُسے تکتا رہا لیکن اُس کی آنکھیں غمازی تھیں کہ وہ اُسے دیکھنے کے بجائے کسی گہری سوچ بچار میں کھویا ہُوا ہے۔

“ڈاکٹر،… خُدا کے… لیے!”مریض نے دوبارہ سماجت کی۔

“ہم م م م…!” ڈاکٹر چونکتے ہُوئے اپنی غائب دماغی کی کیفیت سے نکلا۔

“ڈاکٹر…؟”

ڈاکٹر لیو نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے کچھ اَور کہنے سے منع کیا اور پھر بولا۔ “مجھے تمھاری خواہش کا احترام ہے لیکن میں اپنے طور پر اِسے پُورا نہیں کر سکتا۔ اِس کے لیے مجھے اپنے اعلیٰ حکام سے باقاعدہ اجازت لینا ہو گی۔” اُس نے سوچنے کے لیے ذرا سا تؤقف کیا تو مریض متواتر ٹکٹکی باندھے اشتیاق سے اُس کے مزید بولنے کا منتظر رہا۔ تاہم اُس کی آنکھوں میں نااُمیدی کے سائے گہرے ہو گئے تھے کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ہؤشین شان ہسپتال ۴۰۰ افراد کے طبّی عملے کے ساتھ پیپلز لبریشن آرمی اپنے سخت نظم و نسق کے ساتھ چلا رہی ہے۔ نرس نے، جو اِس دوران میں انجکشن تیار کر چکی تھی، انگوٹھے کی داب سے چھوٹا سا پہیہ گھما کر ڈِرپ بند کر کے سُوئی اُس کی ہتھیلی کے پشت پر لگے برونولا میں داخل کی تو مریض کا دھیان ڈاکٹر کی طرف سے لمحہ بھر کے لیے بٹا۔

نرس کے سُوئی نکالنے کے بعد ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لیتے ہُوئے اپنی بات کا سلسلہ جوڑا۔ “میں معاملے کو اُن کے علم میں لاؤں گا۔ مجھے قوّی توقع ہے کہ تمہاری خواہش ردّ نہیں کی جائے گی۔”

یہ سنتے ہی مریض کی بجھی ہُوئی آنکھوں میں آس کی ہلکی سی دمک موجزن ہو گئی اور نراس دَم توڑتی دِکھائی دینے لگی۔ اُس کے چہرے پر اظہارِ تشکر کے جذبات کی لالی کے اثرات نمایاں تھے۔

“شکریہ… ڈاکٹر،… بے حد… شکریہ۔” مسرت کی شدّت سے اُس کی رُندھی ہُوئی آواز حسبِ سابق اٹکتی ہُوئی نکلی۔

ڈاکٹر نے اُس کی ڈبڈبائی ہُوئی آنکھوں کی طرف آخری نگاہ ڈالی اور دروازے کا رُخ کیا۔ پھر وہ رُکا اور ماسک کے نیچے سے مُڑ کر پھیکی مُسکراہٹ کے ساتھ لیکن حوصلہ افزا لہجے میں بولا۔ “میں تمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ یہ تمہاری آخری خواہش نہیں ہے۔”

لیکن اُس کے لہجے میں یقین کا فقدان تھا کیوں کہ مریض کی حالت خاصی تشویش ناک تھی۔ البتّہ، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ اپنی فرض بخوبی نبھا رہا تھا کہ آخری دَم تک آس نہ ٹُوٹنے دے۔

اُسی شام جب ڈاکٹر اپنے معمول کے دورے پر معائنے کے لیے آیا تو وہ ڈاکٹر سے مستفسار ہُوا۔ “ڈاکٹر،… آج سُورج… ڈوب گیا۔ کیا میں کل… سہ پہر کا سُورج… دیکھنے کی اُمید رکھوں؟”

“ہاں، ضرور۔ کیوں نہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ میں کل تک منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا اور تم کل ڈُوبتا ہُوا سُورج ضرور دیکھو گے۔”
“شکریہ… ڈاکٹر۔” مریض نے اِس بار بے حد مطمئن لہجے میں اُس کا شکریہ ادا کیا اور آنکھیں موند لیں، جن میں ٹھیرے آنسو پلکوں کے دباؤ سے گالوں پر پھسل آئے۔

چُوں کہ ڈِرپ ختم ہونے میں ابھی وقت تھا اور مریض کو مزید کوئی دوا بھی نہیں دی جانا تھا، پس دونوں نرسیں بھی ڈاکٹر لیو کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئیں۔
چند مِنّٹ کے بعد، اُس نے اپنے بستر کے پاس قدموں کی مدہم آواز سُن کرآنکھیں کھولیں تو اُن دونوں نرسوں میں سے ایک—جس کا نام شیاؤہُوئی (Shiaohui) تھا— ساتھ والی آہنی تپائی سے اُس کی کیس ہسٹری والی فائل اُٹھا رہی تھی۔ وہ اُسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ماسک کے اندر مُسکرائی تو اُس کے گال چڑھ گئے اور آنکھوں کے کونوں پر گِرد کوّے کے پنجے بن گئے۔ اُس نے رَسانیت سے دریافت کیا۔ “کیا تمہیں غروبِ آفتاب دیکھنا بہت زیادہ پسند ہے؟”

“ہاں۔” وہ مدہم آواز میں گویا ہُوا۔ “مجھ سے کبھی— سوائے اِن چند ایّام کے— یہ منظر نہیں چُھوٹا۔ پتا نہیں کیوں، ڈُوبتا ہُوا سُورج، اُس کی سنہری سے لال پڑتی کِرنیں اور اُن کِرنوں میں اپنا رنگ اور رُوپ بدلتی اشیاء— درخت، پودے، پُھول، پہاڑ، زمین، حتّٰی کہ خُود سُورج تک— مجھ پر سحر طاری کرتی ہیں اور مجھ میں اگلے روز کے غروبِ آفتاب کا انتظار کرنے کی توانائی کو جنم دیتی ہیں۔” اُس نے پُرخیال انداز میں ٹھیر ٹھیر کر بولتے ہُوئے اپنی بات مکمل کی تاکہ کھانسی چھڑے نہ ہی سانسوں کی مالا ٹُوٹے اور بات کا تواتر قائم رہے۔
اُس نے اثبات میں سر ہِلایا اور مُسکراتی ہُوئی چلی گئی۔

بعض اوقات— کم از کم ایک مرتبہ لازماً— زندگی میں نگاہوں کا پالا کسی ایسے مسحور کُن اور تحیّرزا منظر سے یا کسی ایسی مغلوب کر ڈالنے والی ہستی سے ضرور پڑتا ہے، جس کے طلسم اور حیرانی سے تم زندگی بھر نہیں نکل پاتے اور نہ نکلنا چاہتے ہو بَل کہ اُس سے عشق ہی زندگی بن جاتا ہے۔ بعد میں جب کبھی اُس کی یاد آتی ہے تو— اور یہ یاد اکثر آتی ہے— جیسے سارا منظر اپنی مکمل جزئیات سمیت ایک بار پھر نظروں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے، وہ شخصیت مجسم ہو کر آنکھوں میں آبستی ہے۔ سو، یہی آفتاب احمد کے ساتھ ہُوا تھا۔ اُس کی عمر بمشکل سات آٹھ برس رہی ہو گی کہ جب اُس نے پہلی مرتبہ غروبِ آفتاب کا نظارہ کیا تھا۔ وہ مارچ کے وسط کے خُوش گوار موسم میں گاؤں کے دُوسرے بچّوں کے ہم رَاہ آبادی سے باہر کپاس کی پچھیتی فصل کی چُنائی اور ڈنٹھلوں کے اُکھاڑ لیے جانے کے بعد خالی چھوڑ دینے والے ایک قطعۂِ اراضی میں کھیل میں مگن تھا کہ یکایک اُس کی نظر مغرب میں ڈُوبنے سے پہلے کے سُورج پر پڑی اور وہ سُورج کا دمکتا ہُوا سنہرا پن دیکھ کر جہاں کا تہاں مبہوت کھڑا رہ گیا۔ اُس نے گیند وہیں چھوڑی اور تنویم زدہ ہو کر سُورج کو تکنے لگا، اُسے اپنے ہم جولیوں کی چِلّاچِلّا کر اُسے پُکارنے کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں نہ ہی مخالف کھلاڑیوں کا اُودھم۔ وہ اُسی حیرت زدگی اور محویت کے عالم میں سُورج کی طرف بڑھا گویا وہ اُس نظارے کے طلسمی جال میں پھنس کر دُنیاومافیہا سے یکسر بے خبر ہو چکا ہو اور اُس کی طرف یُوں کھنچا چلا جا رہا تھا جیسے اُس تک پہنچ کر اُسے اپنی ہتھیلی پر رکھ لے گا۔ چلتے چلتے جب اُس نے آگے آجانے والے کھیت کی منڈیر سے ٹھوکر کھائی تو وہ چونکا۔ اُس نے پہلے خفگی سے نیچے دیکھا کہ سدِّراہ کیا شے بنی ہے، اور پھر آس پاس نظریں دوڑائیں۔ ہر سُو، سنہرا پن چھایا ہُوا تھا جیسے ہر چیز پر کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر سونے کا سفوف چھڑک دیا ہو۔ گندم کے پودوں کی خیرگی بڑھ گئی تھی اور وہ کاملاً سونے سے تراشے ہُوئے لگ رہے تھے۔ زمین اور کھیتوں کی منڈیروں کے کنارے ایستادہ درختوں کے پتّوں پر اَٹی دُھول میں سونے کے ذرّات ستاروں کے مانند چمک رہے تھے۔ ہر شے کا اپنا اصل رنگ کہیں بہت نیچے چھپ گیا تھا۔ پھر جب دِھیرے دِھیرے سُورج کچھ نیچے اُترا تو اُس کی سنہری دُھوپ میں نارنجی رنگ کی آمیزش نے ماحول کو ایک اَور مسحور کُن نیا رنگ دے دیا۔ اور پھر جب کچھ ہی دیر میں سُورج جب کچھ اَور نیچے ہُوا تو اُس کا چہرہ گویا طبیعت کے خلاف بات پر طیش میں آجانے والے کی طرح لال پڑنے لگا جیسے وہ اپنی فنا سامنے دیکھ کر جلال میں آگیا ہو۔ اُس لالگی کو اُس نے اپنی سنگتری مائل سنہری کِرنوں میں شامل کر کے دھرتی پر پھینکا تو آسمان اور فضاء کے ساتھ ساتھ زمین کی ہر شے میں بھی لال جھلک دِکھائی دینے لگی۔ اور جب سنہرے، نارنجی اور ہلکی جھلک والے دُوسرے رنگوں پر رِفتہ رِفتہ سُرخی نے غالب آکر اُنھیں ماند کیا تو گویا کائنات پر لالی کی تَہ یُوں گہری ہو گئی جیسے کسی حسینہ نے اپنے ہونٹوں پر لال رنگ کی سُرخی کی تازہ تازہ تَہ جمائی ہو۔ اور پھر آہستہ آہستہ تاریکی کی پرت نے تمام منظر پر چھا کر حسن کے زوال پذیر ہونے پر مہر ثبت کرتے ہُوئے تکمیل کر دی۔ قلیل وقت کے ایک ہی منظر کے بہ یک وقت مختلف رنگوں کے امتزاج سے لمحہ بہ لمحہ بدلتے اَن گِنت طلسماتی رُوپ— جنھیں وہ الفاظ میں بیان کرنے سے قطعی قاصر تھا لیکن اُس کی رُوح اُنھیں اپنی گہرائی میں محسوس کرتی تھی— اور بظاہر اُس ایک منظر نے اُس پر ایسا سحر طاری کیا جس سے وہ کبھی نہیں نکل پایا۔

جب تک آفتاب احمد گاؤں میں رہا— اپنی نوجوانی تک— وہ اُس منظر کو ہر روز اپنی آنکھوں کے راستے اپنی رُوح میں سمانے کے لیے بستی باہر آبیٹھتا اور جھٹپٹا چھانے تک اپنے اطراف و اکناف سے کاملاً بے خبر رہ کر بیٹھا رہتا۔ جس روز اِکادُکا بادلوں کی ٹکڑیاں ایک دُوسرے سے فاصلے پر ہوتیں تو اُن سے چھنتی ہُوئی سُورج کی سنہری، زرد، سُرخ کرنیں ایک نیا طلسم جنم دیتیں۔ البتّہ کبھی کبھار گھِر آنے والے بادل— اکثر ساون بھادوں کے بادل— آفتاب احمد کو اپنے من پسند منظر کے چھِن جانے پر مایُوسی اور افسردگی سے دوچار کر دیتے۔ تاہم منظر اُس سے کبھی نہیں چُھوٹا کہ وہ بادلوں سے بھرے آسمان والے ایسے دِن میں بھی نظارے کے لیے نکلتا البتّہ منظر خُود اُسے چھوڑ جاتا، جس کا اُسے بے حد قلق ہوتا۔ وہ دو دفعہ سیاحت کی غرض سے شمالی علاقہ جات میں گیا— پہلی مرتبہ کالج کے ساتھی طلباء کے ساتھ اور دُوسری بار اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ— لیکن وہاں غروبِ آفتاب کے منظر کی عدم موجودگی نے اُسے ایک بے طرح کی مایُوسی بخشی۔ میدانی علاقوں کی نسبت وہاں سُورج پہاڑ کے پیچھے یکلخت ہی غائب ہو جاتا اور تاریکی اُترنے لگتی جب کہ ابھی دِن کھڑا ہوتا۔ وہ پہاڑ کی چوٹی کے عقب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتی روشنی سے دِل بہلانے کی سعی کرتا لیکن تشفی نہ ہوتی بَل کہ بے کلی فزوں ہو جاتی۔ وُوہان آنے سے قبل ہی اُس نے غروبِ آفتاب کے نظارے کی منصوبہ بندی کر لی تھی کہ وہ بھی چینیوں کے مانند ایک بائیسیکل رکھے گا اور رَوزانہ سہ پہر کو اُس پر سوار ہو کر آبادی سے باہر نکل جایا کرے گا۔ لیکن اُسے اِس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کئی منزلہ ہاسٹل کی آخری منزل نے اُس کا مسئلہ حل کر دیا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو اُسے زیادہ پاپڑ بیلنا پڑتے کیوں کہ وسطی چین کے صوبہ ہُوبے (Hubei) کا دارلخلافہ وُوہان، جو دریائے یانگسے (Yangtze) اور دریائے ہان (Han) کی وجہ سے منقسم تھا، قریب قریب واقع تین شہروں کے— وُوچانگ (Wuchang)، ہان کو (Hankou) اور ہان یانگ (Hanyang)، جن کے ناموں کے اِبتدائی حروف لے کر اِن شہروں کو مشترکہ نام وُوہان دیا گیا تھا— آپس میں جُڑ جانے کی وجہ سے ایک نہایت گنجان آباد اور مِیلوں پر پھیلا ہُوا ایک ایسا شہر تھا جس کی عمارتیں فلک بوس تھیں اور پہاڑوں ہی کی طرح غروب ہونے سے بہت پہلے سُورج کو اپنی اَوٹ میں لے لیتی تھیں۔ البتّہ جلد ہی آفتاب احمد کو ایک ایسا مقام مل گیا جہاں سے وہ ڈُوبتے سُورج کا بھرپُور نظارہ کر سکتا تھا— وُوہان کی تمام جھیلوں میں سب سے خُوب صُورت اور قابلِ دِید مناظر والی ’شرقی جھیل ‘کا کنارہ، جس کے پانی میں کِرنوں کا عکس جھیل کے آرپار لحظہ بہ لحظہ بدلتے اور مختلف رنگوں کے امتزاج والا ایک ایسا راستہ تشکیل دیتا تھا جو بالآخر دِھیرے دِھیرے سُرخ پڑ جاتا تھا۔ ہَوا سے بننے والی لہریں اُس بے مثل راستے میں ایسا تموّج پیدا کرتیں کہ یُوں لگتا جیسے وہ سنہری، نارنجی اور سُرخ سنگریزوں سے بنی ہُوئی فن کارانہ مہارت کی عکاس ایک عمدہ روش ہو— ایک اَور بے حد مسحور کُن منظر، جس سے شاید وہ پاکستان میں رہتے ہُوئے محروم رہتا تاآنکہ کسی جھیل یا تالاب کے کنارے اُس کا اتفاقاً واسطہ نہ پڑ جاتا۔

آفتاب احمد کی تمام رات غروبِ آفتاب کے تصوّر سے ہوتی ہُوئی خوابوں کو دیکھتے ہُوئے تمام ہُوئی اور اُسے پتا بھی نہیں چلا کہ کس نرس نے کب آکر اُس کی ڈِرپ بند کی یا معمول کے انجکشن دیے؟ کب اُس کی کیس ہسٹری والی فائل لا کر واپس رکھی گئی؟ اُسے تو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ حسبِ معمول رات کے نو بجے اُس کا پیمپر تبدیل گیا تھا یا نہیں؟ البتّہ اب اُس نے اپنا پائجامہ نیچے سرکتا محسوس کیا تو آنکھیں کھول کر صفائی والے عملے کو ایک ریڑھی پر نئے پیمپروں کے ڈھیر، بھیگے ہُوئے ٹشو پیپروں (wipes)، ڈیٹول، سینی ٹائزر اور دُوسری پر اُتارے ہُوئے غلیظ پیمپر ڈالنے کے لیے ڈھکن والی پلاسٹک کی جسیم ٹوکری وغیرہم کے ساتھ دیکھا تو بے اختیار بول اُٹھا۔ “میں صاف ہُوں۔” لیکن اُنہوں نے سنی اَن سنی کرتے ہُوئے اپنی معمول کی کاررَوائی جاری رکھی اور ایک کارکن اپنا کام ختم کرنے کے بعد اُس کا پائجامہ واپس اُوپر چڑھاتے ہُوئے بولا۔ “خارش سے بچاؤ کے لیے یہ ضروری ہے۔ لیکن اب تمہارا پیمپر دوبارہ رات کے نو بجے ہی بدلا جائے گا۔”

اُس نے اثبات میں سر ہِلا دیا۔

ڈاکٹر اپنے مقررہ وقت پر دونوں نرسوں کے ساتھ آیا اور اُس نے بتایا کہ اُس کی خواہش سے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر مطلع کر کے اُن سے انسانی ہم دردی اور مریض کی بہتری کو سبب بنا کر منظوری عطا کرنے کی استدعا کی گئی ہے؛ اُس نے اُس کے معالج کی حیثیت سے ذاتی طور پر اُنہیں ٹیلی فون پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور توقع ظاہر کی کہ بہت جلد مثبت ردِّعمل ملے گا۔ ڈاکٹر کے لہجے میں وثوق نے آفتاب احمد کو اطمینان بھرا حوصلہ اور ہمّت بخشی۔ اُسے ڈاکٹر لیو ایک ہم درد اور شفیق انسان لگا، جو اُس کی ایک خواہش پُوری کرنے کے لیے بے حد تگ ودَو کر رہا تھا۔ اُس کا اندر ڈاکٹر کے لیے شدّید احساسِ تشکر کے جذبات سے بھر گیا اور اُس کی آنکھیں اُمڈ آئیں۔ ڈاکٹر نے اُسے تسلّی دینے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور ایک بار پھر یقین دِلایا کہ وہ بہت جلد غروبِ آفتاب کا نظارہ کر رہا ہو گا۔

اگرچہ اُس روز اجازت نامہ موصول نہیں ہُوا تاہم ڈاکٹر نے اپنے رات کے دورے کے دوران میں اُسے تیقّن بھرے لہجے میں تشفی دی۔ “بے فکر رہو۔ مجھے یقین ہے کہ کل ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب کا نظارہ کریں گے۔”

“ڈاکٹر، کیا کل دوپہر تک اجازت مل جائے گی؟” اُس کے لہجے میں تشکیک تھی۔

“ہاں، کیوں نہیں۔ شاید آج رات ہی یا کل صبح تک۔ مجھے اِس کا یقین ہے کیوں کہ مجھے یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ تم ایک کام کیوں نہیں کرتے؟”

آفتاب احمد نے استفسار بھری نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔

“تمہاری اِس خواہش کے اظہار سے لگتا ہے کہ تمہیں اِتنا پسند ہے کہ تم نے اکثر اِس کا نظارہ کیا ہے۔ پس، تم اپنی بیماری کو بُھول جاؤ اور جب تک ہم واقعی اِس منظر کو نہیں دیکھتے، اِس دوران میں تم ماضی کے مناظر سے تصوّر کشید کرو کہ وہ نظارہ کیسا دِل فریب ہو گا۔”

ڈاکٹر کی تجویز معقول تھی، لیکن اجازت نامہ ملنے اور نہ ملنے کے اندیشے کی درمیانی کیفیت زیادہ غالب قوّت رکھتی تھی، جس کی وجہ سے رات یُوں بسر ہُوئی کہ جب بھی تصوّر قائم ہُوا خدشے کے ناگ نے اپنا پھن اُٹھا کر اُسے زمیں بوس کر دیا۔ البتّہ اِس کشمکش نے اُسے بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے دِلی اور مایوسی سے دُور کر دیا تھا۔

اگلے روز نرسیں اپنے معمول کے وقت پر دِن گیارہ بجے آئیں لیکن اُن کے ہم رَاہ کوئی ڈاکٹر نہیں تھا— ڈاکٹر لیو بھی نہیں۔ اُس نے بے صبری سے ڈاکٹر لیو کے بارے میں استفسار کیا تو سسٹر چَینگ یِنگ کی جانب سے پیشہ ورانہ لہجے میں جواب ملا۔ “اچانک ہی مریضوں کی ایک بڑی کھیپ آگئی ہے اور اُنھیں فوری توّجہ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر لیو دِیگر ڈاکٹروں کے ہم رَاہ اُن کے علاج میں دُوسرے آئی سی یُوز میں مصروف ہیں۔ جُوں ہی فارغ ہَوں گے، آجائیں گے۔”

“— بس تھوڑی دیر میں،تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔” سسٹر شیاؤہُوئی نے تھرما گن اُس کی پیشانی کے سامنے تانتے ہُوئے اضافہ کیا۔

“میں بس اِتنا دریافت کرنا چاہتا ہُوں کہ میری درخواست پر اُنھوں نے کچھ کیا؟” وہ مستفسار ہُوا۔

دونوں نرسوں نے اپنے اپنے کام سے دھیان ہٹا کر ایک دُوسرے کی طرف دیکھا۔

“یہ تمہیں وہی بتا سکیں گے۔” سسٹر شیاؤہُوئی نے جواب دیا۔

اُن دونوں نے اپنا کام نپٹایا اور اُسے مضطرب چھوڑ کر نکل گئیں۔ وہ ایک ایک لمحہ شمار کرتے ہُوئے لگ بھگ دو گھنٹے تک انتظار کے کرب سے گزرتا رہا۔

جب ڈاکٹر لیو کی آمد ہُوئی تو اُس کے ساتھ صرف سسٹر چَینگ یِنگ تھی۔ اُس نے آتے ہی شگفتگی سے دریافت کیا۔ “ہیلو نوجوان، کیسے ہو؟”

“ڈاکٹر بہت مضطرب ہُوں۔” اُس نے دیانت داری سے جواب دیا۔

“ہَم۔” ڈاکٹر نے پُوچھا۔ “مضطرب کیوں ہو؟” اور اُس کا بلڈ پریشر، نبض، دِل کی دھڑکن، سینے میں کھڑکھڑاہٹ ماپنے لگا۔ اُس نے جواب دینے کے لیے مُنھ کھولا لیکن ڈاکٹر کو مصروف دیکھ کر دوبارہ سختی سے بند کر لیا البتّہ اُس آنکھیں مجسم سوال بنی ہُوئی تھیں۔

“سسٹر۔” ڈاکٹر نرس سے مخاطب ہُوا۔ “پہلے یہ سب آپ نے چیک کیا تھا؟”

“سسٹر شیاؤ ہُوئی نے، ڈاکٹر۔”

“اُنہیں بُلائیں۔”

“جی بہتر، ڈاکٹر۔” کہتے ہُوئے نرس چَینگ یِنگ چلی گئی۔

ڈاکٹر نے اُسے کروٹ لینے کے لیے کہا اور اُس کی پشت پر سٹیتھوسکوپ رکھ کر گہرے گہرے سانس لینے کی ہدایت کر کے پھیپھڑوں میں سانس کی رَوانی کا معائنہ کرنے کے بعد فائل میں اندراج کرنے لگا۔ اِسی اثنا میں دونوں نرسیں آگئیں۔

“سسٹر، ہم دونوں کی رِیڈنگز میں یہ فرق کیوں ہے؟” ڈاکٹر نے فائل شیاؤ ہُوئی کی طرف بڑھائی۔

“ڈاکٹر، اُس وقت یہی رِیڈنگز آرہی تھی۔” نرس نے جواب دیا۔

“ہُونہہ۔” ڈاکٹر ہنکارا بھر کر آفتاب سے مخاطب ہُوا۔ “تم غروبِ آفتاب دیکھنے کے اِتنے شائق کیوں ہو؟ کسی سے ملنا نہیں چاہتے؟” پھر یاد آنے پر بولا۔ “اوہ، تم تو پاکستانی ہو۔ ماں، باپ، بہن، بھائی یا کسی اَور سے سکائپ پر تمہاری بات کروا دیں تو کیسا رہے گا؟”

“ڈاکٹر، میں اُنہیں بہت یاد کرتا ہُوں۔ لیکن مجھے اِس حال میں دیکھ کر وہ بے حد دُکھی ہَوں گے۔ یہاں پھیلنے والی اِس وبا کی خبریں یقینا اُن تک پہنچ گئی ہَوں گی اور وہ میرے لیے خاصے پریشان ہَوں گے۔ میں اُنہیں مزید دُکھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔”

“تو اِس لیے تم صرف اِس منظر پر اکتفا کرنا چاہتے ہو؟”

“نہیں، ڈاکٹر۔ میرا نام آفتاب ہے— سُورج۔ شاید اِسی لیے میں بچپن سے ہی اِس منظر کے سحر کا اسیر ہُوں۔ میں نے سسٹر شیاؤ ہُوئی کو بھی بتایا ہے۔”

“آفتاب… سُورج… شیاؤ ہُوئی۔” ڈاکٹر نے پُرخیال انداز میں دُہرایا۔ “تمھیں شیاؤ ہُوئی کا معنی معلوم ہے؟”

“جی، ڈاکٹر۔” اُس نے جواب دیا۔ “صبح سویرے کی نرم دُھوپ۔” وہ چین میں پچھلے چار برسوں کے قیام کے دوران میں چینی زبان پر خاصا عبور حاصل کر چکا تھا۔

“اگر تم طلوعِ آفتاب دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو میں بِلاتاخیر، بِلاجھجک کہتا سسٹر شیاؤہُوئی کو دیکھ لو۔” ڈاکٹر لیو ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہُوئے بولا تو دونوں نرسیں بھی ہنس پڑیں۔

“ڈاکٹر، طلوعِ آفتاب میں وہ نیرنگی نہیں جو غروبِ آفتاب میں ہے۔ آپ چاہیں تو خُود دونوں کا نظارہ کر کے دیکھ لیں۔”

“اَوہو، بہت خُوب۔ گویا تم نے دونوں کا نہایت ڈُوب کر نظارہ کیا ہے۔”

“جی، ڈاکٹر۔ طلوع بہت جلد ہو جاتا ہے، رنگوں کے ناپائیدار سحر کے ساتھ جب کہ غروبِ آفتاب میں…”

“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔” ڈاکٹر نے قطع کلامی کی۔ “بہرحال، تمھارے لیے خُوش خبری ہے کہ حفاظتی نقطۂِ نظر کی کچھ شرائط کی پابندی کے ساتھ اُصولی طور پر تمھاری خواہش پُوری کرنے کے لیے منظوری ہو چکی ہے۔ ہمیں بس تحریری حکم نامے کا انتظار ہے۔ جیسے ہی ہمیں وہ موصول ہُوا، ہم تمہیں آج ہی نظارہ کروا دیں گے۔ ٹھیک ہے؟”

“جی، ڈاکٹر۔ بے حد شکریہ۔”

جواباً ڈاکٹر مُسکرایا اور رُخصت ہو گیا۔ اور وہ دِل ہی دِل میں اجازت نامہ جلد ملنے کی دُعائیں کرتے ہُوئے شدّت سے انتظار کرنے لگا۔

شام پڑ گئی تھی۔ اِس دوران میں وقفے وقفے سے طبّی عملے کا معمول کے مطابق آنا جانا لگا رہا، لیکن ڈاکٹر لیو اور وہ دونوں خاص نرسیں غائب تھیں۔ شاید ڈاکٹر کثیر تعداد میں نئے آنے والے مریضوں کے فوری علاج معالجے میں اُلجھا ہُوا ہو لیکن نرسیں؟ نرسیں بھی تو خاص معاون ہوتی ہیں جن کے بغیر ڈاکٹر ادھورے ہوتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے کوئی ایک تو آکر اُسے اجازت نامہ ملنے کی نوید سنا سکتا تھا۔ شاید ابھی اجازت نامہ موصول ہی نہ ہُوا ہو؟ یا شاید ہو گیا ہو؟ لیکن باقی انتظامات نہ ہو سکے ہَوں؟ یا کسی غیر متعلّقہ فرد کے ہاتھوں میں پہنچ گیا ہو، جسے اُس کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو اور اُس نے اُسے عملے کی ہنگامی مصروفیات کے پیشِ نظر معاملے کو بعد پر ٹالتے ہُوئے اِدھر اُدھر رکھ دیا ہو؟ یا فوری توّجہ کے متقاضی مریضوں کی بڑی تعداد کی اچانک آمد کی وجہ سے دانستہ معاملہ کل پر ٹال دیا گیا ہو؟ اور یہ قیاس اُسے زیادہ غالب لگا، تاہم کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ اُس تمام وقت میں ایسی ادھیڑبن میں اپنے اندر اضطراب کی بڑی بڑی لہریں اُٹھتی محسوس کر تا رہا۔ وہ ڈاکٹر کے وعدے کو یاد کر کے اپنی بے قراری کو تھپکیاں دے کر سلانے کی سعی کرتا رہا۔

جس وقت سسٹر چَینگ یِنگ اپنے ہاتھ میں ایک فائل لیے آئی تو آفتاب احمد کے قیاس کے مطابق سُورج ڈُوب چکا تھا یا ڈُوب رہا ہو گا۔ اُس نے فائل میں رکھا ہُوا کاغذ اُس کے سامنے کیا جو اُسے ہسپتال کے سامنے والے حِصّے کے علاوہ موزونیت کو مدِّنظر رکھتے ہُوئے دونوں ا طراف یا عقبی سمت میں سے کسی ایک مقام سے غروبِ آفتاب کا نظارہ کرانے کا اجازت نامہ تھا، جس میں معیاری طریقہ کار (SOPs) درج کر کے اُن پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اُس نے بتایا کہ یکایک مریضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ اجازت نامے کی تیاری میں تاخیر کا باعث بنا کیوں کہ اِس سے اُوپر تک ہلچل مچ گئی ہے اور ڈاکٹر لیو سمیت تمام ڈاکٹر اِس ہنگامی صُورتِ حال سے نپٹ رہے ہیں؛ ہسپتال ہی کے ایک حِصّے میں سستانے کے لیے جانے والے ڈاکٹروں اور دُوسرے طبّی عملے کو بھی بُلا لیا گیا ہے؛ تاہم اب حالات خاصے قابو میں ہیں اور وہ اگلے روز ہی اپنے مطلوبہ منظر کا نظارہ کر سکے گا کیوں کہ احتیاطی تدابیر کا بھی انتظام کرنا ہے۔ اِس تمام تفصیل کو بیان کرنے کے بعد اُس نے اجازت نامے کو آفتاب احمد کی کیس ہسٹری کے کاغذگیر کے آخری مومی لفافے میں رکھا اور رَوانہ ہو گئی۔

باقاعدہ اجازت ملنے کی خبر نے اُسے نچنت کر دیا۔ اُس کے اندر اضطراب کا موجزن جواربھاٹا بڑی حد تک پُرسکون ہو گیا۔ اُسے اب ڈاکٹر لیو کی آمد کا انتظار تھا تاکہ وہ اُس کی کاوشوں کا شکریہ ادا کر سکے، لیکن اُس شب ڈاکٹر لیو کے بجائے دِیگر دو نوجوان ڈاکٹروں کی جماعت نے اُس کا اور اُس جیسے دُوسرے مستقل کیفیت کے حامل مریضوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ فائل پر اپنے مشاہدات کا اندراج کیا اور شریکِ کار نرسوں کو کچھ ضروری ہدایات دیں۔ اُن نرسوں میں سسٹرز چانگ یِنگ اور شیاؤہُوئی شامل نہیں تھیں۔

آفتاب احمد نے وہ رات بھی گذشتہ دونوں راتوں ہی کے مانند غروبِ آفتاب کے مختلف مناظر کے تصوّرات اور خوابوں میں بسر کی۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ اگلے نظارے کے مناظر میں بھی کھویا رہا۔ کبھی اُسے صاف شفاف آسمان پر ڈھلتا ہُوا سُورج اپنی بوقلمونی بکھیرتا ہُوا دِکھائی دیا جس میں ہسپتال کے گِردونواح میں پھیلی وُوہان کی فلک بوس عمارتوں میں سے کسی کا وجود نہیں تھا۔ تو کبھی اُس نے اُسے جھیل کے پانی میں— جسے وہ اپنے تخیّل یا خواب میں یا دونوں کی وسطی کیفیت میں ہسپتال کے پہلو میں واقع جھیل زِہی یِن (Zhiyin) سمجھتا رہا تھا— اُترے اور پھر کچھ نیچا ہونے پر ترچھی کرنوں سے ہفت رنگ سنگریزوں راستہ تشکیل دیتے دیکھا۔ اِسی طرح کبھی وہ کسی میدانی علاقے میں نظارہ کر رہا تھا تو کبھی کسی پہاڑی علاقے میں تو کبھی کسی اَور جگہ۔ حد یہ کہ ایک بار تو اُس کا تخیّل اُسے صحرا میں لے گیا، غالباً جس کا سبب اُس کا تجسس تھا کہ صحرا میں غروبِ آفتاب کا منظر کیا بہار دِکھاتا ہو گا کیوں کہ اُس نے وہاں کا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یقینا ریت کے ذرّات ستارے بن کر دمکتے ہَوں گے! ہر منظر اپنی جگہ مکمل اور اِتنے طویل دورانیے کا تھا کہ اُسے صبح ہونے کا پتا تک نہیں چلا۔ اور اب وہ ڈاکٹر لیو کو سوالیہ نظروں سے لگاتار تکے جا رہا تھا، جس کی آنکھیں یُوں متورم اور لال تھیں جیسے اُس نے رات بھر پلک تک نہ جھپکی ہو اور اُس کی ڈھلمل بدنی حرکات اُس کے خاصا مضمحل ہونے کی غماز تھیں۔ ڈاکٹر نے پہلے اپنے فرائض نبھائے اور پھر اُس کی آنکھوں کے سوال کی طرف متوجہ ہُوا۔

“ہسپتال کی سطح پر ہونے والے انتظامات— مثلاً تمہیں باہر لے جانے سے پہلے اور واپس لانے کے بعد ہائیڈروکسی کلورو کوِین و دِیگر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ، غیر متعلّقہ افراد سے خالی راہداری وغیرہ— زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ آکسیجن کے سلنڈر کا ہے کیوں کہ ہسپتال میں تمام وینٹی لیٹر مستقلاً نصب شدہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ حرکت ہیں۔ ہم نے دُوسرے ہسپتالوں سے رابطہ کیا ہے۔ ایک ہسپتال میں چھوٹا سلنڈر دستیاب ہے، جسے وہ بھجوا رہے ہیں۔ اِس لیے، تم یقین رکھو کہ آج تم اپنے سب سے پسندیدہ منظر کے نظارے سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہو۔” ڈاکٹر نے اپنی بات مکمل کی تو اُس نے آفتاب احمد کے چہرے پر گہرے سکون کے تأثرات کو پھیلتے دیکھا۔ وہ روانہ ہُوا، لیکن پھر مُڑا اَور بولا۔ “تب تک میں تھوڑی سی نیند لے کر اپنی تھکن اُتار لوں اور یہ دونوں سسٹرز بھی۔ پچھلے چھتیس گھنٹے سے ہمیں آرام کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آیا۔ لیکن تم بے فکر رہو، تمام معاملہ طے پا چکا ہے۔ ہمیں بروقت جگا دیا جائے گا۔”

“شکریہ، ڈاکٹر۔”

ڈاکٹر لیو مزید کچھ کہے بغیر دونوں نرسوں کے ہم رَاہ روانہ ہو گیا۔

من پسند شے یا شخصیت سے ملن کے لمحات جُوں جُوں شمار میں کم ہوتے جائیںانتظار کے لمحات کی کربناکی مسرت بھری سنسنی کے پہلو کے غالب آنے پر دب جاتی ہے، جس کا اپنا ہی ایک لطف اور سرخوشی ہوتی ہے۔ آفتاب احمد کے بھی کچھ ایسے ہی احساسات و جذبات تھے۔ لیکن جب انتظار کے لمحات طویل ہو کر آس ختم کرنے لگیں اور دِل بہلانے کو مناسب جواز نہ ملے تو تو نراس غالب آنے لگتی ہے۔ سامنے لگے دِیوارگیر گھڑیال پر شام کا دھندلکا پھیلنے کا وقت دیکھ کر اُس کی کیفیت میں تبدیلی کا اگلا دور شروع ہُوا جس میں نااُمیدی اور مایوسی کا عنصر غالب ہوتا جا رہا تھا، جسے مدہم کرنے کے لیے: سلنڈر نہیں پہنچا ہو گا، یا کسی نے ڈاکٹر لیو کو نیند سے نہیں اُٹھایا ہو گا، یا مزید ایسے مریض آگئے ہَوں گے جنھیں فوری توّجہ کی ترجیحی بنیادوں پر زیادہ ضرورت ہو گی، جیسی طفل تسلیاں بھی ناکام ٹھیر رہی تھیں۔ اگر اُس روز ڈاکٹر لیو اپنے معمول سے ہٹ کر جلد نہ آتا تو شاید آفتاب احمد کو اپنے آپ کو سہارنا مشکل ہو جاتا، جو اُس کے لیے ازحد نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ غالباً ڈاکٹر کو اِس صُورتِ حال کا بخوبی اندازہ تھا۔

“مجھے افسوس ہے کہ ہم آج غروبِ آفتاب کا نظارہ نہیں کر سکے، شاید کل بھی نہ کر سکیں۔ اُمید ہے کہ پرسوں ممکن ہو گا۔” ڈاکٹر نے اُسے سوال کا موقع دیے بغیر چھوٹتے ہی کہا۔

“کیوں، ڈاکٹر؟ کیا مزید مریض آگئے ہیں؟”

“مزید مریض تو ہر روز آرہے ہیں۔ لیکن شاید قدرت ابھی تمہاری مزید آزمائش چاہتی ہے۔ شاید یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ تمہاری خواہش کی شدّت کتنی ہے۔” ڈاکٹر لحظہ بھر کے تؤقف کے بعد دوبارہ گویا ہُوا۔ “آسمان پر گہرے بادل چھائے ہیں اور پھوہار پڑ رہی ہے۔”

“واقعی؟ اِس موسم میں؟” اُس کے مُنھ سے بے اختیار نکلا۔ اُس کی حیرانی بجا تھی کیوں کہ اوّل تو وُوہان میں سال بھر میں بارش اور برف باری کا تناسب کم تھا اور ثانیاً اُس نے اپنے اب تک کے قیام کے دوران میں مارچ کے مہینے میں بارش پڑتی نہیں دیکھی تھی۔ ہمیشہ مطلع صاف اور خُوش گوار، اور سُورج خُوب روشن ہوتا تھا۔

“یہ دیکھو۔” ڈاکٹر نے سٹول کھینچ کر بیٹھتے ہُوئے اپنے سیلولر فون کی سکرین اُس کے سامنے کی، جہاں موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ سارے وُوہان میں گھنے بادلوں اور بارش کا پتا دے رہی تھی۔ اُس نے اپنے انگوٹھے کی سِرے سے چُھو کر سکرین کو حرکت دی اور بولا۔ “یہ موسم کل تک برقرار رہے گا۔ البتّہ پرسوں سُورج معمول کے مطابق اپنی رُونُمائی کرے گا۔”

ڈاکٹر نے اُس کا مُنھ اُترتے دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں جھانکا اور بولا۔ “دِل چھوٹا مت کرو۔ سلنڈر آچکا ہے۔ باقی انتظامات بھی مکمل ہیں۔ آج کا دِن کم و بیش گزر ہی چکا ہے۔ کل کا بھی گذر جائے گا۔ اِس وقت کو سہل طریقے سے کاٹنے کے لیے ہم ایک کام کرتے ہیں۔” ڈاکٹر نے رسان لہجے میں بات کرتے ہُوئے تجویز دی۔ “خُوش گوار یادیں اچھی چیز ہوتی ہیں۔ میرے پاس تمھارے لیے تھوڑا سا وقت ہے۔ اپنی کچھ یادیں میرے ساتھ بٹاؤ۔ تم نے یقینا آج تک بے شمار مرتبہ سُورج ڈوبتے دیکھا ہے، کیا نہیں دیکھا؟ کیا ہر روز، ہر موسم میں یکساں منظر ہوتا ہے؟ یا ہر بار ایک نیا اور مختلف؟”

آفتاب احمد کچھ دیر پُرخیال نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھتا رہا، پھر بولا۔ “نہیں، ہر روز ایک اَور ہی سُورج ڈُوب رہا ہوتا ہے، جس کا نظارہ بھی اَور ہی ہوتا ہے۔ یقینا روزانہ ایک نیا سُورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، اِس طرح روزانہ نظارہ بھی گذشتہ روز سے کچھ ہٹ کے، کچھ مختلف، کچھ نیا ہوتا ہے۔” اُس کی آنکھیں خوابیدہ ہو گئیں۔ “یہ سب محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن اِسے لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے بہت دُشوار ہے۔ بس یُوں سمجھ لیں، آج کا سُورج پچھلے روز کے سُورج کی تقلید تو کرتا ہے لیکن مکمل نہیں، معمولی سے نئے پن کے ساتھ۔ آہستہ آہستہ موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ یہ نیا پن بڑھتا جاتا ہے اور منظر بدلتے بدلتے یکسر بدل جاتا ہے۔ سرما میں وہ منظر نہیں رہتا جو گرما میں تھا، جو موسمِ بہار میں تھا وہ خزاں میں نہیں رہتا۔ اور جب دو موسم ہم آغوش ہو رہے ہَوں— جیسے ابھی سرما گیا ہے، بہار آئی ہے تو اِن دونوں کے عین درمیان بھی ایک موسم تھا— تو نظارہ کچھ اَور ہوتا ہے، چاروں باقاعدہ موسموں سے بے حد مختلف۔ یہ چاروں واضح موسم اور اِن کے نظارے بھی سال میں چار مرتبہ آتے ہیں، لیکن ہم نے اِن موسموں کو کوئی نام ہی نہیں دیا۔ نہیں دیا نا؟” ڈاکٹر نے جواب دے کر اُس کی محویت کو توڑنا مناسب نہیں سمجھا اور اُس نے اپنی بات جاری رکھی۔ “اِس کے علاوہ زمینی مناظر بھی غروبِ آفتاب کا نظارہ بدلتے ہیں، طلوعِ آفتاب کو بدلتے ہَوں گے۔ میدان، پہاڑ، ریگستان، جھیل یا دریا کنارے: ہر جگہ کا منظر دُوسرے مقام کے نظارے سے بالکل مختلف ہوتا ہے، ہر نظارے کا اپنا طلسم ہوتا ہے۔” وہ بولتے بولتے رُکا۔ بہت دِنوں کے بعد طویل بات کرنے کے باعث اُس کا سانس پُھولنے لگا تھا۔ اِس سے بھی بڑھ کر وہ کورونا وائرس سے متأثرہ ایسا مریض تھا، جس کی سانسیں قابُو سے باہر ہو چکی تھیں۔ اگر وہ وینٹی لیٹر پر نہ ہوتا تو شاید اُس کے پھیپھڑے اب تک جواب دے چکے ہوتے۔

ڈاکٹر لیو نے اپنا دستانہ پہنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اُس کا کندھا نرمی سے تھپتھپا کر اُسے پُرسکون ہونے میں مدد دی۔ وہ اپنی سانسیں درست کرتا رہا اور ڈاکٹر بدستور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھے صبرو تحمل سے چُپ چاپ منتظر رہا۔

“سردیوں کے موسم میں جب آسمان پر کُہر چھائی ہوتی ہے— دبیز پرت والی نہیں بَل کہ بُوندوں والا کُہرا— وہ بُوندیں یُوں دِکھائی دیتی ہیں جیسے آسمان پر سنہرے رنگ کے موتی ٹانک دیے گئے ہَوں۔ سُورج کے بہت قریب کی بُوندیں کبھی انگوروں کے بڑے بڑے خوشے دِکھائی دیتی ہیں تو کبھی منشور بن کر ساتوں رنگ منعکس کرتی ہیں۔ جب سُورج نیچے ہونے لگتا ہے تو اُن کا رنگ بھی بدلتا ہے، زرد اور سُرخ میں اور وہ لٹکے ہُوئے پکھراج اور لعل دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ آہستہ آہستہ— سُورج کے زمین کی مزید اَوٹ میں آنے پر— اُن کے ایک طرف کا حِصّہ سیاہ پڑنے لگتا ہے اور پھر دِھیرے دِھیرے تمام بُوندیں چُھپ جاتی ہیں، بس اُن کے ایک رُخ کی کمان بہت تھوڑی دیر کے لیے یُوں زردی مائل سُرخ رہتی ہے جیسے پہلی کے بے شمار چھوٹے چھوٹے چاند طلوع ہو گئے ہَوں۔ واہ، کیا خُوب نظارہ ہوتا ہے! قطعی ناقابلِ بیان! پھر وہ چاند بھی سُورج کے ساتھ غروب ہو جاتے ہیں۔” وہ گہرے گہرے سانس بھرتے ہُوئے قلیل وقفے کے لیے چُپ ہُوا تو ڈاکٹر نے اُس کی خوابیدہ آنکھوں میں اُس منظر کا نظارہ کرنے کی کوشش کی۔ “اور برف باری کے بعد— جب ابھی ہَوا چلنے کے بعد برف مکمل طور پر شیشہ نہ بنی ہو بَل کہ کچھ کچھ دُھندلی ہو تو— یہی رنگ ایک مختلف بہار دِکھاتے ہیں۔ مدہم مدہم جھلمل میں کہیں کہیں دمکتے برف کے ذرّات یُوں لگتے ہیں جیسے زمین ستاروں سے سج گئی ہو۔ لیکن سخت اور چمک دار برف پر کِرنیں اِس قدر زیادہ تیکھی اور چبھنے والی ہوتی ہیں کہ انعکاس کی سیدھ سے نظارہ کرنے سے بینائی متأثر ہو سکتی ہے۔ میں ہلکی سی چمک پڑتے ہی یہ خطرہ بھانپ کر ایک طرف ہو گیا تھا۔”

“ہُونہہ۔” ڈاکٹر نے ہنکارا بھرتے ہُوئے اُسے متوجّہ کرنے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور دِیوار گیر گھڑیال کی طرف دیکھا۔

“ڈاکٹر۔” وہ یُوںچونکتے ہُوئے بولا جیسے کسی اَور دُنیا سے ابھی ابھی پلٹا ہو۔ “جھیل کے پانی پر رنگ برنگے سنگریزوں کا لہراتا ہُوا راستہ اپنے اُوپر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ کبھی دیکھا ہے، ڈاکٹر؟”

“اُمید ہے کسی روز تمہارے ساتھ یہ تمام مناظر دیکھوں گا۔” ڈاکٹر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھتے ہُوئے بولا۔ “تم نے صاف آسمان پر بدلتے رنگوں اور مناظر کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں؟”

“اوہ ہاں، ڈاکٹر۔ آسمان پر رنگ…”

“معاف کرنا۔” ڈاکٹر نے قطع کلامی کی۔ “باقی کل سنوں گا۔ اب مجھے بہت سے دُوسرے مریضوں کا معائنہ کرنا ہے۔ شام کو ملاقات ہو گی۔”

لیکن اُس شام اور اگلے روز ڈاکٹر لیو کا دورہ، محض معائنے کی حد تک، بے حد سنجیدہ اور مختصر رہا۔ لگتا تھا جیسے وہ خاصا مصروف ہو۔ آفتاب احمد آگاہ تھا کہ کہ وہ دِن بھی بے موسمی بادوباراں کا ہے لیکن پھر بھی اُس نے بے چین ہو کر نرسوں سے دریافت کیا اور تصدیق ہونے پر اپنی بے کلی کو تھپک تھپک کر سلایا۔ اُس کا وہ دِن اور آنے والی تمام رات اگلے روز کے غروبِ آفتاب کے منظر کے مختلف تصوّرات اور خوابوں میں بیتی۔

اپنے معمول کے دورے پر ڈاکٹر لیو اور نرسوں نے اُسے خُوش خبری سنائی کہ وہ نظارے کے لیے تیار رہے۔ وہ نہ صرف پہلے ہی سے تیار بَل کہ اپنی خواہش کی تکمیل کا منتظر تھا۔

سہ پہر ہوتے ہی ڈاکٹر لیو دونوں نرسوں چَینگ یِنگ اور شیاؤہُوئی کے ہم راہ آیا۔ اُس نے کچھ وقت اُس کا دوبارہ معائنہ کرنے میں صرف کیا۔ آفتاب احمد بے قراری سے معائنے کے ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ معائنہ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر نے گذشتہ روز ہی کے مانند سٹول کھینچا اور بیٹھ کر بولا۔ “نوجوان، تم اِن مناظر کو اِتنا خُوب صُورتی سے بیان کرتے ہو، اِس موضوع پر کچھ لکھتے کیوں نہیں؟ کوئی مضمون؟ کوئی کہانی؟ کوئی کتاب؟”

“ڈاکٹر، کیا ہمیں کسی کا انتظار ہے؟” اُس نے اپنے اندر مچی کلبلی کو دباتے ہُوئے استفسار کیا۔

“ہاں۔” ڈاکٹر لیو نے گہری سانس لیتے ہُوئے جواب دیا۔ “ہمیں ایک اَور دِن انتظار کرنا پڑے گا۔”

اور اُس نے اپنا سیل فون نکال کر اُس کی سکرین کو شہادت کی اُنگلی کی پَور سے مَس کر کے اُس کے سامنے کر دیا۔ روشن پردے پر موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ گھنگور گھٹا دِکھا رہی تھی۔

“کچھ ہی دیر پہلے میں نے بیرونی انتظامات کے جائزے کے لیے ہسپتال سے باہر کا چکّر لگایا تو آسمان بالکل صاف تھا۔ اچانک شمال سے گھٹا اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئی۔ خیر، آج رات تک بادل مکمل طور پر چھٹ جائیں گے اور کل سارا دِن مطلع صاف رہے گا۔ یہ بتاؤ، تمہیں میری تجویز کیسی لگی؟”

“کون سی تجویز؟” اُس نے غائب دماغی سے پُوچھا۔

“اِن مناظر کو قلم بند کرنے والی۔ تم سُورج کی کِرنوں کے ساتھ زمین و آسمان کے بدلتے رنگوں کو کھول کر لکھو۔ میرا خیال ہے، تم اپنا گہرا مشاہدہ عمدگی کے ساتھ بیان کرنے کی اہلیت رکھتے ہو۔”

“ڈاکٹر، آسمان کے رنگ…”

ابھی وہ اِتنا ہی کہہ پایا تھا کہ ایک نرس تِیر کی سی تیزی کے ساتھ آئی اور ڈاکٹر لیو سے مخاطب ہُوئی۔ “ڈاکٹر، آپ کی وہاں فوراً ضرورت ہے۔”

“معاف کرنا۔” ڈاکٹر ترنت اُٹھتے ہُوئے اُتنی ہی سریع آواز میں بولا۔ “میری تجویز پر غور کرو۔ کل ہم ضرور نظارہ کریں گے۔”

اگلے روز، معمول کے معائنے کے بعد، ڈاکٹر لیو کی دوبارہ آمد سہ پہر کو ہُوئی۔”یومِ تکمیل!” اُس نے آتے ہی قدرے اُونچی آواز میں نعرہ بلند کرنے کے اندز میں کہا۔ “تم خواہ مخواہ پریشان تھے۔”

اپنے ہم راہ آنے والے عملے کو کچھ ضروری ہدایات دینے کے بعد، ڈاکٹر اُس کا معائنہ کرنے لگا— تنفس کی رفتار، دِل کی دھڑکن، نبض، فشارِ خُون، انفراریڈ تھرما میٹر سے جسم کا درجۂِ حرارت۔ “پُرسکون رہو۔ ہیجان میں مبتلا ہونے سے گُریز کرو۔ تم پہلی مرتبہ یہ نظارہ کرنے نہیں جا رہے… نہ ہی آخری بار۔ بس، یہ سمجھو کہ تم اپنا ٹُوٹا ہُوا معمول دوبارہ بحال کرنے جا رہے ہو۔” پھر اُس کے مُنھ سے وینٹی لیٹر کا ماسک ہٹاتے ہُوئے کہا۔ “کچھ گہرے سانس لو۔ اِس سے تمھیں اپنی کیفیت پُرسکون رکھنے میں مدد ملے گی۔”

چند مِنّٹ تک اُس کی حالت کے متوازن ہونے کا انتظار کرتے ہُوئے وہ مختلف مشینوں پر نظریں دوڑاتا رہا۔ پھر بولا۔ “ایک بات اچھی طرح جان لو کہ تم نے اپنے آپ کو قائم نہ رکھا تو تمھیں دوبارہ کبھی یہ موقع نہیں ملے گا۔”

“جی، ڈاکٹر۔” آفتاب احمد نے یقین دہانی کروائی۔ “میں اپنے آپ پر مکمل قابُو رکھنے کی کوشش کروں گا۔”

“خُوب۔” اور پھر وہ دوبارہ عملے سے مخاطب ہُوا۔ “جلدی کرو۔ ماسک کا پائپ وینٹی لیٹر سے ہٹا کر سلنڈر کے ساتھ لگا کے سلنڈر کو پلنگ کے سرہانے ایک طرف رکھ دو۔”

راہداری میں پہیوں والے پلنگ کے برابر چلتے ہُوئے ڈاکٹر لیو بولا۔ “سُورج غروب ہونے میں لگ بھگ ایک گھنٹا باقی ہے۔ اِس تمام وقت میں تم اچھی طرح نظارہ کر لو گے۔”

آفتاب احمد نے خاموشی سے سر ہِلا دیا۔

“ارے، ہاں۔” وہ یکایک یُوں چونکتے ہُوئے بولا جیسے اُسے کچھ یاد آگیا ہو۔ “تم نے میری تجویز پر غور کیا؟”

“جی، ڈاکٹر۔ گذشتہ ساری رات میں اِسی ادھیڑبن میں رہا۔ اپنے دیکھے ہُوئے تمام مناظر یاد کر کے اُنھیں لکھنے کے لیے بہترین الفاظ سوچتا رہا۔”

“عمدہ۔ کیا لکھو گے؟ مضمون؟ مختصر کہانی؟ یا ناول؟ یا کوئی اَور کتاب؟”

“آپ کے خیال میں کیا مناسب رہے گا؟”

“میرے خیال میں… ہَم…” ڈاکٹر سوچنے لگا۔ “میرے خیال میں…”

اور یُوں ہسپتال سے باہر نکلنے تک ڈاکٹر نے اُسے باتوں میں اُلجھائے رکھا تاکہ وہ کسی ہیجانی کیفیت کا شکار نہ ہو۔

جب وہ اُسے لے کر ہسپتال کا بغلی دروازہ عبور کر کے باہر نکلے تو ایک فلک بوس عمارت کی داہنی جانب ڈھلتا ہُوا سُورج اپنی پُوری آب و تاب کے ساتھ عین سامنے موجود تھا۔ فلک بوس عمارت کے سُورج والی طرف زمین تک کوئی عمارت، کوئی رُکاوٹ نہ ہونے کے سبب اُفق تک نظر جاتی تھی۔ ڈاکٹر نے منظر دِکھانے کے لیے عمدہ مقام کا انتخاب کیا تھا۔ پہیوں والا پلنگ دھکیلنے والے دونوں افراد اُلٹے چلتے ہُوئے پیچھے ہٹ کر دروازے ہی پر ٹھیر جانے والے بقیہ عملے کے ساتھ جا ملے۔ آفتاب احمد نے تحیّر بھری مسرت سے سُورج کو دیکھا اور پھر ڈاکٹر لیو کی طرف آنکھیں گھمائیں۔

“ہاں۔” ڈاکٹر لیو، جو پہلے ہی ٹکٹکی لگائے اُسے دیکھ رہا تھا، تھوڑا سا نیچے جھکا۔ اُس نے اپنا ایک ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور دُوسرا سُورج کی طرف بڑھایا۔ “وہ دیکھو۔”

آفتاب احمد نے سر موڑ کر نگاہیں دوبارہ سُورج کی سمت سیدھی کیں۔ سُورج سے ذرا اُوپر گذشتہ دو روز کی گھٹاؤں کے پیچھے رہ جانے والے سفید بادلوں کی نچلے سنہرے کنارے والی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں تھیں۔ اُس کی نگاہوں نے سُورج کے اِردگِرد کا سفر کیا کیوں کہ ابھی اُس کی کِرنوں میں اِتنی خیرگی تھی جو آنکھوں کو چبھتی اور دیر تک دیکھتے رہنے پر نگاہوں میں سُورج کا چمک دار پرتو جنم دے کر وقتی طور پر نابینائی کا سبب بن سکتی تھیں جس سے وہ خاصی دیر تک منظر سے محروم ہو جاتا۔ فلک بوس عمارت کی سُورج والی سمت بے حد روشن لیکن سامنے والا حِصّہ نیم تاریک تھا۔ نگاہیں عمارت کے ساتھ ساتھ پھسلتی ہُوئی نیچے زمین کی طرف آئیں۔ وہ ہسپتال کے دروازے کے بیرون تک آنے والی سڑک پر بستر میں لیٹا تھا، جو سیدھی جا کر بڑی شاہراہ سے ملتی تھی۔ بڑی شاہراہ، جس پر شب و روز کثرت سے کاریں، بسیں اور دُوسری گاڑیاں دوڑتی دِکھائی دیتی تھیں، آج سنسان نظر آرہی تھی۔ اُس نے مستعجب ہو کر دِھیرے دِھیرے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں۔ پچھلے دو دِنوں کی بارش سے ماحول نکھرا نکھرا اَور درختوں کے گہرے سبز پتّے دُھل کر سہ پہر کی دُھوپ میں چمک رہے تھے، لیکن ہر جانب ہُو کا عالم تھا۔ چہار سُو سنّاٹے اور ویرانی کا راج تھا۔ حد یہ کہ کوئی پرندہ تک پر مارتا دِکھائی نہیں دیا، شاید وہ بھی خوف زدہ ہو کر انسانوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے لاک ڈاؤن ہو گئے تھے۔ آج ویسا سنّاٹا طاری تھا جس کا وہ ہمیشہ متمنّی رہا تھا تاکہ دُنیاومافیہا سے بے خبر ہو کر اپنے پسندیدہ منظر میں محو ہو سکے، لیکن آج وہی سنّاٹا اُس کے اندر تیزدھار نشتر کے مانند کچوکے لگا رہا تھا۔

جب سُورج مکمل طور پر غروب ہو گیا اور اُس کی بچی کھچی لالی پر بھی تاریکی غالب آنے لگی تو اُس نے ڈاکٹر لیو کے عملے کو پُکارنے کی آواز پر پلکیں جھپکیں۔

“زندگی سے محبت کے لیے اُمنگ بہت ضروری ہے، چاہے وہ کسی خاص منظر سے عشق ہی ہو۔” ڈاکٹر راہداری میں اُس سے مخاطب ہُوا۔ “اُس اُمنگ سے تم موت کو بھی شکست دے سکتے ہو، جیسا کہ تم نے کیا ہے۔”
اُس نے چونکتے ہُوئے نظریں اُٹھا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔

“ہاں۔” ڈاکٹر نے توثیقی انداز میں اپنی پلکیں جھپکائیں۔ “ ہم تمہاری زندگی کی طرف سے مایوس ہو گئے تھے۔ لیکن پھر غروبِ آفتاب کا نظارہ کرنے کی اُمنگ نے تمھیں اپنی بیماری اور موت کی پیش آگاہی بُھلا دی۔ اِس چاہ میں تم کھانسنا اور ہونکنا بُھولتے چلے گئے، جس سے تمہارے پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے زخم مندمل ہونے لگے؛ دوائیں مؤثر ہو گئیں۔ پچھلے تین دِن میں تمھارے بدن کا درجہ حرارت گِرتے گِرتے آج بالکل نارمل ہو گیا۔ اِن دِنوں میں ہم نے کئی مرتبہ تمھارے وینٹی لیٹر کی آکسیجن پہلے مختصر اور پھر طویل وقفوں کے لیے بند کر کے تمھارے تنفس کی بحالی کی استعدادِ کار کو جانچا۔ اور آج تم بغیر وینٹی لیٹر کے سانس لے رہے ہو۔ اِسی لیے میں نے تمھیں باربار یقین دِلایا اور اب ایک بار پھر یقین دِلاتا ہُوں کہ یہ تمھارا آخری غروبِ آفتاب نہیں تھا۔”

ڈاکٹر لیو کی اِس تمام گفتگو کے دوران میں— جسے آفتاب احمد مُنھ کھولے ہکابکا ہو کر سُنتے ہُوئے سوچ رہا تھا کہ وہ جب سے اِس مرض کا شکار ہُوا تھا کھانس کھانس کر اُس کی اگلی پچھلی پسلیاں اور پھیپھڑے بُری طرح درد کرنے لگے تھے، یہاں تک کہ ہلکا سا کھانسنا بھی بے حد تکلیف دِہ ہوتا اور شدّید بخار سے اُسے خُود بھی اپنا جسم پُھنکتا ہُوا محسوس ہوتا۔ لیکن پچھلے چند روز کے دوران میں اُسے کھانسی نے کم تنگ کیا اور سانس لینے میں بھی کم دُشواری کا سامنا ہُوا۔ بدن کی حرارت بھی پہلے جیسی محسوس نہیں ہُوئی تھی۔ شاید اِس سب کا سبب اُس کے دھیان کا بیماری سے ہٹنا اور غروبِ آفتاب کے نظارے کی آس پر مرتکز ہونا تھا— اُس کا پلنگ اپنے مخصوص مقام پر پہنچ گیا۔ “آج کی شب تم آنے والے ایّام میں اپنے پسندیدہ منظر کو دیکھنے کے تصوّر، یا آج کے منظر کے بارے میں سوچتے ہُوئے، یا ماضی کے مناظر کی یادوں میں بسر کر سکتے ہو۔ کل تمھارا نمونہ ٹیسٹ کے لیے بھجوایا جائے گا۔ علامات کی بنیاد پر میں یقینی قیاس کر سکتا ہُوں کہ نتیجہ منفی آئے گا۔”

“ڈاکٹر، آج کا منظر بہت اُداس کر دینے والا تھا۔ زندگی سے عاری یا غالباً زندگی کی محبوسیت کے گہرے تأثر کا حامل۔ ڈُوبتے ہُوئے سُورج کے سامنے پرندہ تک نہیں اُڑ رہا تھا۔” آفتاب احمد کے لہجے میں افسردگی اور تأسف تھا۔

“مجھے توقع ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا— بہت جلد۔” ڈاکٹر نے اُس کے کندھے پر تسلّی بھری تھپکی دی۔ “مایُوس سوچوں سے اجتناب بہتر ہے۔”

“شکریہ، ڈاکٹر۔” اُس نے واپسی کے لیے جاتے ہُوئے ڈاکٹر کو مخاطب کیا۔ “آپ کا یہ احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔”

ڈاکٹر سر ہِلاتے ہُوئے جواب دیے بغیر روانہ ہو گیا۔

ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کی خُوش خبری اُسے نرس شیاؤہُوئی نے آکر چہکتے ہُوئے لہجے میں سنائی۔ “مبارک ہو۔ اگرچہ تمھیں شیاؤہُوئی— صبح سویرے کی نرم دُھوپ— پسند نہیں لیکن میں تمھیں زندگی کی صبحِ نو کی مبارک باد دیتی ہُوں۔ تمھیں فوراً آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔”

“کیا جانے سے پہلے میری ملاقات ڈاکٹر لیو سے ہو سکے گی؟”

“نہیں، وہ بہت مصروف ہیں۔”

آفتاب احمد کو آئیسولیشن وارڈ میں دو دِن رکھنے کے بعد قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔ جہاں سے چند روز کے بعد ایک بار پھر ٹیسٹ کے لیے اُس کا نمونہ لیا گیا۔ دُوسری مرتبہ بھی نتیجہ منفی آنے پر اُسے ہسپتال میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

“ڈاکٹر۔” اُس نے ہسپتال سے فارغ کرنے کی نوید سنانے والے قرنطینہ کے ڈاکٹر سے دریافت کیا۔ “میں ڈاکٹر لیو سے کہاں مل سکتا ہُوں؟”

چُوں کہ ہسپتال بھر کے تمام عملے میں اُس کے غروبِ آفتاب کے منظر دیکھنے کی خواہش کا چرچا رہا تھا اور بعد کے دِنوں میں اُس کے سامنے اِس کا متعدّد بار تذکرہ دِلچسپی بھرے انداز میں ہُوا تھا، اِس لیے عملے کے کسی رُکن کے لیے اُس کا ڈاکٹر لیو سے ملنے کی خواہش کا اظہار اچنبھے کی بات نہیں تھی۔

“تم اُن سے نہیں مل سکتے۔ COVID-19 کا نتیجہ مثبت آنے پر وہ پچھلے چند روز سے آئیسولیشن میں ہیں۔” ڈاکٹر نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

جب ضروری کاغذات کی تکمیل کے بعد ایمبولینس اُسے لے کر ہسپتال سے نکلی تو اُس نے اُس بغلی سمت میں الوداعی نگاہ ڈالنے کی نیت سے کھڑکی کے شیشے میں سے جھانکا، جہاں سے اُس نے نظارہ کیا تھا، وہاں ہسپتال کے تمام عملے کو پیپلز لبریشن آرمی کا چاک و چوبند دستہ سلامی دے رہا تھا، جن میں یقینا ڈاکٹر لیو شامل نہیں تھا۔ اُس کے دُکھ میں اضافہ ہو گیا۔

Categories
فکشن

بھیڑیا (تحریر: ہرمن ہیسے – تعارف و ترجمہ: نجم الدین احمد)

بھیڑیا (The Wolf )
تحریر: ہرمن ہِیسے (جرمنی)
انگریزی سے ترجمہ: نجم الدّین احمد

نوبل انعام یافتہ جرمن ادیب ہرمن ہِیسے (Hermann Hesse) کی تحریروں کے بیسویں صدی میں انگریزی میں تراجم ہونا شروع ہوئے تو ادب کے رَسیلے امریکی اُس کی تحریروں سے مسحور ہو کر رہ گئے اور وہ اُن کا پسندیدہ ترین مصنف بن گیا۔ اُردو میں بھی اُس کی معتد بہ تحریروں کے تراجم ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اُردو ادب کے لیے بھی اب ہرمن ہِیسے کا نام اجنبی نہیں رہا ہے۔ ہرمن ہِیسے کی تحریروں کی سب سے بڑی خُوبی سادگی، سلاست اور رَوانی ہے۔ زیرِ نظر افسانے میں ہرمن ہِیسے نے بھیڑیے اور انسان کی فطرت میں وحشت اور خُوں ریزی کے عناصر کے مشترکہ پہلو کو نہایت خُوب صُورتی سے نمایاں کیا ہے۔ (نجم الدّین احمد )

* * * * * * *

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔

اُس سے پہلے کبھی فرانسیسی پہاڑوں پر اِتنی شدّید سردی نہیں پڑی تھی اورموسمِ سرما بھی اِتنا طویل نہیں ہؤا تھا۔ ہفتوں تک ہَوا صاف ، تِیکھی اور سرد رہی تھی۔ دِن کے وقت عظیم الشّان ڈھلوانی برفانی میدان مٹیالے سفید اور تا حدِّ نگاہ پھیلے نظر آتے تھے۔ رات کو اُن پر سے چھوٹا، شفاف، ناراض اور سرد مہر چاند گزرتا تھا۔ برف پر اُس کی پِیلگوں روشنی مدہم نیلی ہو کر چمکتی تھی جو بذاتِ خُود سردی کا جوہر لیے ہوتی تھی۔ خاص طور پر پہاڑوں کو جانے والی اُونچی سڑکیں اور پگڈنڈیاں سُنسان ہو گئی تھیں۔ لوگ بستیوں میں اپنے اپنے گھروں میں کاہلی سے پڑے بُڑبُڑاتے رہتے تھے۔ رات کو کھڑکیاں نیلی چاندنی میں دُھواں نُما سُرخ ہو کر چمکتیں اور جلد ہی اندھیرے میں ڈُوب جاتیں۔

علاقے کے جانوروں کے لیے کڑا وقت تھا۔ بہت سے چھوٹے جانور اور پرندے ٹھٹھر کر مر چکے تھے اور اُن کی نحیف و نزار لاشیں عقابوں اور بھیڑیوں کی خوراک بن چکی تھیں۔ لیکن وہ بھی بُری طرح ٹھنڈ اور بھُوک کے مارے ہوئے تھے۔ اُس علاقے میں بھیڑیوں کے صرف چند خاندان بستے تھے اور مصیبت نے اُنہیں اِکٹھّا رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دِن میں اُن میں سے کوئی ایک باہر نکلتا۔ وہ برف میں مارا مارا پھِرتا۔ وہ کمزور، بھُوکا، چوکنّا اور کسی بھُوت کی طرح غصّیلا ہو رہا ہوتا۔ اُس کا سایہ اُس کے قریب ہی برف کی سفیدی میں چمکتا ہوتا۔ وہ اپنی نوکیلی تھوتھنی ہَوا میں گھُماتا اور سُونگھتا ۔ وہ وقتاً فوقتاً خشک اور زخمی انداز میں کراہتا۔ لیکن رات کو وہ سب اِکٹھّے باہر نکلتے اور بستیاں اُن کی دردناک غرّاہٹوں میں گھِر جاتیں۔

مویشیوں اور مُرغیوں کو احتیاط سے بند کیا ہوتا تھا اور قوی ہیکل کندھوں پر بندوقیں تیار ہوتی تھیں۔ شاذونادر ہی بھیڑیے کُتّے یا کسی دُوسرے چھوٹے جانور کا شکار کر پاتے جب کہ بھیڑیوں میں سے دو کو پہلے ہی گولی سے مارا جا چکا تھا۔

سردی کا موسم جاری رہا۔ اکثر بھیڑیے گرمی حاصل کرنے کے لیے ایک دُوسرے میں گھُسڑ جاتے اور انڈے سِینے والی مُرغی کی طرح پڑے اپنے اردگرد پھیلے مُردہ علاقے کے سنّاٹے کو خوف میں ڈُوبے اُس وقت تک سُنتے رہتے جب تک کہ اُن میں سے کوئی بھُوک سے بِلبِلا کر اچانک ہی اُوپر کونہ اُچھلتا اور دہشت ناک انداز میں دہاڑنے لگتا۔ تب وہ سارے اپنی تھوتھنیاں اُس کی طرف موڑتے ، خوف سے کانپنے لگتے اور پھر سب مل کر وحشت ناک، ڈرا دینے والی اور اُداسی بھری چیخیں مارنے لگتے۔

بالآخر اُن میں سے ایک چھوٹے گروہ نے وہاں سے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی الصبح اُنھوں نے اپنے بھَٹ چھوڑ دیے اور جمع ہو کرتشویش اور بَرانگیختگی سے منجمد ہَوا میں سُونگھنے لگے۔ پھر وہ تیز تیز اورقدرے اُچھلتے ہوے چلنے لگے۔ پیچھے رہ جانے والوں نے اُن کو عقب سے اپنی چمکتی ہوئی کھُلی آنکھوں سے دیکھا۔ اُن کے پیچھے چند قدم چلے، رُکے اور کچھ دیر ہچکچاہٹ کے عالم میں کھڑے رہے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوے اپنے خالی بھَٹّوں میں چلے گئے۔

دوپہر کے وقت مسافروں کا گروہ دو میں تقسیم ہو گیا۔ تین بھیڑیوں نے سوِس جیورا کی طرف جانے والی مشرقی سمت پکڑ لی جب کہ دُوسروں نے جنوبی سمت میں سفر جاری رکھا۔ وہ تینوں مضبوط کاٹھی کے لیکن خوفناک حد تک لاغر تھے۔ اُن کے ہلکے رنگ کے اندر کو دھنسے ہوے پیٹ فِیتوں کی طرح کم چوڑے تھے۔ اُن کی پسلیاں ترّحم کی حد تک اُن کے سِینوں پر نُمایاں تھیں۔ اُن کے مُنہ خشک اور آنکھیں باہر کو اُبلی ہوئیں اور مایوسی کا مظہر تھیں۔ وہ جیورا میں دُور تک چلے گئے۔ اگلے روز اُنھوں نے ایک بھیڑ اور اُس سے اگلے روز ایک کُتّے اور پھر اگلے روز ایک بچھیری کو مار ڈالا۔ اشتعال میں آئے ہوے دیہاتیوں نے اُن کا شکار شُرُوع کر دیا۔ علاقے کے دیہاتوں اور قصبوں میں نامعلوم مداخلت کاروں کا خوف پھیل گیا۔ برف گاڑیاں مسلّح ہو کر چلنے لگیں۔ ایک گاؤں سے دُوسرے کو جانے والے اپنے ساتھ بندوقیں رکھنے لگے۔ ایسی احتیاطوں کے بعد تینوں بھیڑیوں نے فوراً ہی اُس اجنبی علاقے میں مقابلے اور غیر یقینی کے ماحول کو محسوس کر لیا۔ جتنی اپنے علاقے میں وہ جان خطرے میں ڈالتے تھے اُنہوں نے اُس سے زیادہ خطرہ مول لیتے ہوے مویشیوں کے ایک باڑے کو دِن دیہاڑے توڑ ڈالا۔ چھوٹی سی گرم عمارت گائیوں کے ڈکرانے، لکڑی کی پھٹّیوں کے ٹُوٹنے، پیروں کے پٹخے جانے اور بھیڑیوں کی گرم اور بھُوکی سانسوں کی آوازوں سے بھر گئی تھی۔ لیکن اِس بار لوگ پہنچ گئے۔ بھیڑیوں کو مزہ چکھایا گیا جس سے کسانوں کے حوصلے دو گنے ہو گئے۔ اُنھوں نے ایک کو گردن میں گولی مار کر ہلاک کیا اور دُوسرے کو کلہاڑے سے ذبح کردیا۔ تیسرا بھاگ نکلا اور اُس وقت تک دوڑتا رہا جب تک کہ اَدھ مؤا ہو کر برف پرنہ گر پڑا۔ وہ بھیڑیوں میں نوجوان اور سب سے زیادہ خُوب صُورت تھا۔ اُس کا سِینہ قابلِ فخر، مضبوط اور دِیدہ زیب تھا۔ وہ بہت دیر پڑا ہانپتا رہا۔ خُون جیسے سُرخ دائرے اُس کی نظروں کے سامنے چکرا رہے تھے۔ کبھی کبھار اُس کے مُنہ سے دردناک اور تکلیف بھری کراہ نکل جاتی تھی۔ تاک کر زور سے نشانہ لگایا ہؤا ایک کلہاڑا اُس کی کمر سے ٹکرایا تھا۔ لیکن وہ اپنے آپ کو سنبھال کر اُٹھ کھڑا ہؤا تھا۔ صرف اُسی وقت اُس نے دیکھا کہ وہ کتنی دُور تک دوڑا تھا۔ بہت دُور تک کہ جہاں بندہ نہ بندے کی ذات تھی۔ اُس کے سامنے برف سے ڈھکا ہؤا عظیم الشّان چیسرل کا پہاڑ تھا۔ اُس نے اُس کے گرد سے گھُوم کر جانے کا فیصلہ کیا۔ سخت پیاس کے عالم میں اُس نے سخت جمی ہوئی برف کی سطح پر چند مُنہ مارے۔

پہاڑ کی دُوسری طرف اُس نے ایک گاؤں دیکھا۔ رات ہو رہی تھی۔ وہ انتظار کرنے کے لیے صنوبر کے درختوں کے جھُنڈ میں ٹھیر گیا۔ پھر اُس نے چوکنّے پن سے باغ کے جنگلوں کے پاس سے ہوتے ہوے مویشیوں کے گرم باڑوں کی بُو کا تعاقب کیا۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے خوفزدہ انداز میں ندیدے پن سے گھروں کے بیچ جھانکا۔ گولی داغی گئی۔ اُس نے اپنا سر واپس کھینچا اور بھاگنے کو ہی تھا کہ دُوسری گولی چلائی گئی جو اُسے لگ گئی۔ اُس کے سفید پیٹ کی ایک سمت خُون سے لت پت ہو گئی۔ خُون بڑے قطروں کی صُورت میں نیچے گرنے لگا۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ جیسے اُڑتا ہؤا جنگل سے بھرے پہاڑ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہاں ٹھیر کر وہ ایک لمحے کے لیے سماعت بر گوش ہؤا۔ اُس نے دُور سے آتی ہوئی آوازیں اور قدموں کی چاپیں سُنیں۔ اُس کے اندر خوف بھر گیا۔ اُس نے پہاڑ کے اُوپر کی جانب دیکھا۔ راستہ ڈھلوانی، درختوں سے اَٹا ہؤا اور چڑھائی مشکل تھی۔ لیکن اُس کے پاس کوئی دُوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ ہانپتے ہوے اُس نے ڈھلوان سطح پر چڑھنا شُرُوع کیا۔ اُس کے پیچھے نیچے سے آتا ہؤا لعن طعن کا طوفان، احکامات اور لالٹینوں کی روشنیاں پہاڑ سے ٹکرا رہی تھیں۔ خوف سے کانپتے ہوے زخمی بھیڑیا نیم روشنی میں درختوں میں سے ہوتا ہؤا اُوپر چڑھتا گیا اور کتھئی خُون اُس کے پہلو سے آہستہ آہستہ ٹپکتا رہا۔سردی بڑھ گئی تھی۔ مغرب میں آسمان کُہر آلود ہو کر برف گرنے کا اشارہ دے رہا تھا۔

آخر کار نکلتی ہوئی جان کے ساتھ وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ ہی گیا۔ وہ بڑے اور قدرے نیچے کی طرف ترچھے برف کے میدان کے کنارے پر تھا جو مونٹ کروسِن سے زیادہ دُور نہیں تھا اور اُس گاؤں سے بہت اُونچا تھا جہاں سے وہ جان بچا کر بھاگا تھا۔ اُسے بھُوک محسوس نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کے زخم میں مسلسل تکلیف دہ درد ہو رہا تھا۔ اُس کے مضمحل جبڑوں سے کمزور اور بیمار کراہ نکلی۔ اُس کے دِل کی دھڑکن بھاری اور درد انگیز ہو رہی تھی اور دِل پر موت کا ہاتھ وزنی شے کی طرح رکھا ہؤا تھا۔ شاخیں پھیلائے ہوے صنوبر کے ایک تنہا درخت نے اُسے پناہ دی۔ وہ اُس کے نیچے بیٹھ گیا اور لاچاری سے برفیلی اندھیری رات میں گھُورنے لگا۔ یُونہی آدھ گھنٹا گزر گیا۔ پھر سُرخ رنگ کی عجیب سی مدہم روشنی برف پر گری۔ کراہتے ہوے وہ کھڑا ہؤا اور اُس نے اپنا خُوب صُورت سر روشنی کی طرف گھُمایا۔ بڑا اور لہو جیسا سُرخ چاند جنوب مشرق سے طلوع ہو کر آہستہ آہستہ کُہر زدہ آسمان پر اُوپر کی سمت سفر کر رہا تھا۔ بہت سے ہفتوں سے تو چاند اتنا بڑا اور سُرخ نہیں تھا۔ مرتے ہوے بھیڑیے کی آنکھیں افسوس ناک انداز میں دُھندلی ٹِکیا سے چمٹ کر رہ گئیں۔ ایک بار پھر ہلکی سی غرّاہٹ دردناکی لیے رات کے سنّاٹے میں گُونجی۔

تب وہاں قدموں کی آوازیں اور روشنیاں آنے لگیں۔ موٹے کوٹوں میں کسان، فر کی ٹوپیوں اور بے ڈول پاجاموں میں شکاری اور لڑکے برف پر گھِسٹتے ہوے پہنچ گئے۔ فاتحانہ چیخ اُبھری۔ اُنھوں نے مرتے ہوے بھیڑیے کو دیکھ لیا تھا۔ فوراً ہی دو گولیاں چلیں۔ دونوں نشانے پر نہ بیٹھیں۔ اُنھوں نے دیکھا کہ وہ تو پہلے ہی سے مر رہا تھا۔ وہ اُس پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے جُت گئے۔ اُس کے بعد وہ احساس سے ماورا ہو گیا۔

اُس کی ہڈّیاں توڑ کر وہ اُسے گھسیٹتے ہوے سینٹ اِمّر (Saint Immer) لے گئے۔ اُنھوں نے قہقہے لگائے، شیخیاں بگھاریں، گیت گائے، لعنتیں برسائیں اور برانڈی اور کافی کے حقدار ٹھہرے۔ اُن میں سے کسی نے بھی جنگل کو ڈھانپنے والی برف کے حسن کو یا بلند سطح مرتفع کی تابانی کو یا چیسرل پر لٹکے سُرخ چاند کو نہیں دیکھا جس کی مدہم چاندنی اُن کی بندوقوں کی نالیوں پر، شفاف برف میں اور مردہ بھیڑیے کی دُھندلائی ہوئی آنکھوں میں ٹمٹا رہی تھی۔