Categories
نقطۂ نظر

مشرقی وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

دو جنوری 2016ء کو سعودی عرب نے ایک شیعہ عالم شیخ نیمر باقر النمر سمیت 34 افراد کا سر قلم کیا، جن پر دہشتگردی اور ریاست کے خلاف بغاوت کا الزام تھا۔ شیخ نمر کی سزائے موت کے بعد نہ صرف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھر پور احتجاج کیا بلکہ اس فیصلے کے بعد مشرقی وسطیٰ سمیت ساری دنیا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ غم و غصے کی یہ لہر عوامی اور سماجی حلقوں سے نکل کر حکومتی ایوانوں
تک پہنچ گئی۔ احتجاج کی اس لہر نے ایران اور سعودی چپقلش کو ایک پہلے سے زیادہ ناقابلِ عبور خلیج میں بدل دیا۔

 

گو مشرق وسطیٰ سے باہر مسلم معاشروں میں شیعہ سنی تقسیم اتنی واضح اور متشدد نہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان جیسے ممالک میں لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد مذہبی، معاشرتی اور سیاسی طور پر سعودی عرب یا پھر ایران کے ساتھ وفاداری اور وابستگی استوار کیے ہو ئے ہے۔
سعودی عرب کے اس غلط فیصلے نے نہ صرف مشرقی وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔ عرب دنیا کی موجودہ صورتحال اور شیخ نمر کی پھانسی کو بہت سے لوگ شیعہ سنی تاریخی دشمنی کے پسِ منظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، یوں ایران کو شیعہ اثنا عشریت جبکہ سعودی عرب کو سخت گیر سنی اسلام کا نمائندہ خیال کر کے مسلمان اکثریتی معاشرے دو باہم منقسم گروہوں میں منقسم ہیں۔ گو مشرق وسطیٰ سے باہر مسلم معاشروں میں شیعہ سنی تقسیم اتنی واضح اور متشدد نہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان جیسے ممالک میں لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد مذہبی، معاشرتی اور سیاسی طور پر سعودی عرب یا پھر ایران کے ساتھ وفاداری اور وابستگی استوار کیے ہو ئے ہے۔

 

ایران سعودی تنازعے کو مذہبی ومسلکی نقطہء نگاہ سے دیکھنے والے افراد شاید مشرقی وسطیٰ میں آنے والی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تبدیلیوں سے ناواقف ہیں۔ پاکستان میں بعض تجزیہ نگار ایران اور سعودی عرب کے تنازے کی بنیاد پر عوام کو مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف ابھار رہے ہیں۔ اس گروہ کو حالاتِ حاضرہ، تاریخ اور اقتصادی و سیاسی تبدیلیوں کا علم نہیں یا دانستہ ان سے اغماض کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ یہ گروہ ہر تبدیلی کو اپنی مسلکی تعصب کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ ایران سعودی تنازعے کو مسلکی رنگ دینے والے افراد اسی طرز سیاست کے ترجمان ہیں جو ماضی میں سلطنتِ عثمانیہ کو بچانے کے لئے ’تحریک خلافت‘ چلانے کا باعث بنی۔ تاریخی حقائق کے مطابق ترک عوام کی اکثریت اس ضیعف العمر عثمانی سلطنت کے جلدازجلد خاتمے کے لئے کوشاں تھی مگر ہماری سیاست میں ایک غیر ملک کی بادشاہت کے خاتمے کو مذہبی فریضہ قرار دیا گیا اور اس کے بچاو کے لیے مذہب کی بنیاد پر سیاسی مفادات حاصل کیے گئے۔ یہ درست ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کئی زاویوں سے پاکستان پر اثرانداز ہو رہی ہے لیکن ہمیں چاہیئے کہ ہم مسلکی اور ثقافتی تعصبات اور وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مشرقی وسطیٰ میں تبدیل ہوتی صورتحال کا مطالعہ کر کے اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ایران سعودی تنازعے میں بلاشبہ تاریخ اور عرب و عجم کا تہذیبی تصادم بھی ایک عامل ہے لیکن اصل جھگڑا بہرحال اقتصادی وعسکری مفادات ہی کا ہے۔

 

جب سے ایران میں حسن روحانی برسرِ اقتدار آئے ہیں، محموداحمدی نژاد کے برعکس ایران نے خارجہ امور میں بڑی حد تک سخت گیریت کی بجائے اعتدال کا راستہ اپنایا ہے۔ اسی مصلحت آمیز طرز عمل کے باعث ایران چار دہائیوں پر محیط عالمی تنہائی کو خیر باد کہتے ہوئے پھر سے عالمی برادری کی صفوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

 

جب سے ایران میں حسن روحانی برسرِ اقتدار آئے ہیں، محموداحمدی نژاد کے برعکس ایران نے خارجہ امور میں بڑی حد تک سخت گیریت کی بجائے اعتدال کا راستہ اپنایا ہے۔
ایران کے امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے کے باعث مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں ہونے لگا ہے۔ ایران پر 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے بین الاقوامی پابندیاں عائد تھیں جن میں حالیہ چند برسوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ایران نے متنازعہ جوہری پروگرام شروع کیا۔ ان عالمی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو مخصوص مقدار سے زیادہ تیل بیچنے کی اجازت نہیں تھی اور تجارتی اور کاروباری ادارے بھی بے تحاشا پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ عالمی تنہائی اور اقتصادی ناکہ بندیوں کی وجہ سے ایران معیشت کسادبازاری کا شکار ہو گئی، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر ساٹھ فیصد تک کھو بیٹھا۔ افراطِ زر ،مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوش ربااضافہ ہوا۔ معروف کالم نگار محترم وسعت اللہ خان اپنے ایک مضمون “ایران کھل گیا” میں لکھتے ہیں “نتیجہ یہ نکلا کہ پندرہ سے پچیس برس تک کی نوجوان آبادی میں بے روزگاری کی شرح انتیس فیصد تک جاپہنچی، ایران ایسے ملک کے لئے یہ بری خبر تھی، جہاں خواندگی کا تناسب نوے فیصد سے زائد ہے۔ دوہزار بارہ میں قومی معیشت کا حجم چھ اعشاریہ چھ فیصد اور دوہزار تیرہ میں لگ بھگ دوفیصد سکڑ گیا”۔ اس ساری صورتحال میں ایران کی سخت گیر علماء کونسل کو بھی مجبوراً حسن روحانی کی اصلاحات کے سامنے جھکنا پڑا۔

 

جوہری مسئلے پر یورپ وامریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کا معاہدہ طے پا چکا ہے اور عالمی برادری بھی ایران پر عائد پابندیاں بتدریج اٹھانے پر رضامند ہو گئی ہے۔ ان پابندیوں کے اٹھنے سے امریکی بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے اور منقولہ وغیر منقولہ جائیداد تک ایران کی رسائی ممکن ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ایران طویل عرصہ بعد بیرونی دنیا کے ساتھ آزاد تجارت اور تیل وگیس کی برآمدات میں اضافہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے، جس سے مشرقی وسطیٰ میں ایران کی عسکری صلاحیت اور سیاسی اثرورسوخ میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ محترم وسعت اللہ خان کے مطابق “یہ تاریخ کا عجیب موڑ ہے جہاں پہلی بار عالمی منڈی میں تیل کا اسٹاک عالمی طلب سے سترہ فیصد زائد ہے۔ چین اور امریکا سمیت تیل درآمدکرنے والے ممالک کے پاس ہنگامی ذخائز کی گنجائش تہتر ملین بیرل ہے اس وقت ان ذخائز میں چونسٹھ ملین بیرل تیل بھرا ہوا ہے۔ خریدار کم اور پیدوار اضافی ہونے کے نتیجے میں پچھلے دو برس کے دوران تیل کی قیمت میں ستر فیصد تک کمی ہوئی اور اس وقت تیل کی عالمی قیمت اٹھائیس ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جو پچھلے تیرہ برس میں سب سے کم قیمت ہے”۔

 

اگلے چند دنوں میں ایران کا کم ازکم پانچ لاکھ بیرل اضافی تیل بھی مارکیٹ میں پہنچنے والا ہے اندازہ ہے کہ فروری تک عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی رسد موجودہ ساڑھے تین ملین بیرل سے بڑھ کے سات ملین بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمت بیس ڈالر سے بھی نیچے جانے کا قوی امکان ہے۔ چونکہ سعودی عرب اور ایران میں جاری چپقلش ختم ہونے کا بظاہر فوری امکان نہیں لہٰذا دونوں ممالک تیل کی پیداوار میں کمی کر کے قیمتوں کو مستحکم کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو پیداوار کی مار ماریں گے اور اس پیداواری جنگ کے نتیجے میں یہ بھی ممکن ہے کہ تیل کی قیمت دس ڈالر فی بیرل تک گرجائے۔ اس جنگ سے ایران اور سعودی عرب فتح مند نکلیں نہ نکلیں مگر تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کی معیشت ضرور لڑکھڑا سکتی ہے۔جس کے مثبت و منفی اثرات باقی دنیا پر بھی لامحالہ پڑیں گے۔

 

جوہری مسئلے پر یورپ وامریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے اور عالمی برادری بھی ایران پر عائد پابندیاں بتدریج اٹھانے پر رضامند ہو گئی ہے۔
جب عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مزاکرات کامیابی کے قریب تھے اور ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھائے جانے کا قوی امکان تھا، تب اسرائیل اور سعودی عرب اس کی پرزور مخالفت کی۔ اسرائیل اورایران کے درمیان تاریخی دشمنی چل رہی ہے ابھی تک ایران نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے، دوسری جانب ایران حزب اللہ جیسے گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔ اس معاہدے اور ایران کو ملنے والی اقتصادی مراعات سے خطے میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھے گا اور یوں اس کا براہ راست فائدہ حزب اللہ کو ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی ایران مخالف سفارتی حکمت عملی کی وجہ بھی سیاسی، اقتصادی اور عسکری ہے۔ ایران کے مستحکم ہونے کی صورت میں خطے میں سعودی اثرورسوخ کو شدید نقصان پہنچنے کے علاوہ یمن میں مصروف حوثی باغیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی اس کے علاوہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں موجود شیعہ آبادی بھی سیاسی طور پر متحد اور مزاحمت کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ اس طرح بڑی مقدار میں ایرانی تیل عالمی منڈی پہنچنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید گراوٹ کا امکان ہے جس سے سعودی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتاہے کیونکہ سعودی معیشت کا انحصار تیل پر بہت زیادہ ہے۔ جبکہ دوسری جانب تیل، گیس اور زرعی اجناس کی برآمدات سے ایرانی معیشت مزید مستحکم ہوسکتی ہے۔ ایران اپنے تہذیبی و ثقافتی مقامات کی وجہ سے بیرونی دنیا کی توجہ حاصل کرسکتا ہے، صدر حسن روحانی کے حالیہ دورۂ فرانس میں اس کی جھلک نظر آئی جب فرانسیسی وزیراعظم نے حسن روحانی کے سامنے اعتراف کیا کہ “فرانسیسی عوام پر ایران کی عظیم تہذیب اور تاریخ کا سحر طاری ہو چکا ہے”۔ یوں ایران سیاحوں کے لئے اپنا دروازہ کھول کر اپنی معیشت میں مزید استحکام لا سکتاہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اگرچہ براہ راست تصادم کا کوئی امکان نہیں لیکن دنوں ممالک مشرق وسطیٰ میں اثرورسوخ حاصل کرنے کے لئے سردجنگ اور پراکسی جنگ جاری رکھیں گے۔

 

اس ساری صورتحال میں حقیقت کچھ یوں ہے کہ مشرقی وسطیٰ کی چوہدراہٹ میں ایران کا پلڑا سعودی عرب پربھاری ہے اور اس امر سے سعودی عرب کے عدم تحفظ میں اضافہ ہو گا اور یوں مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی تصادم کی کیفیت مزید تلخ ہونے کا امکان ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کیا امریکہ ویورپ سعودی عرب کی حمایت کی اپنی سفارتی پالیسی جاری رکھتے ہیں یا نہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان پر شامی جنگ کے خون آشام سائے

ہفتہ بھر پہلے آدھی رات کے لگ بھگ جرمن خبر رساں ادارے کی جانب سے ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا جس میں ایرانی پاسداران کی جانب سے شام کی لڑائی میں پاکستان سے اہل تشیع کو بھیجے جانے کی تفصیلات درج تھیں۔ امتیاز احمد صاحب نے اس تحریر کو بہت تلاش و تحقیق کے ذریعے مکمل کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس سارے معاملے کو ایرانی پشت پناہی حاصل ہے اور جو افراد پاکستان سے گئے ہیں ان میں پاراچنار کے رہائشیو ں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی وقت یہ اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ اس خبرکا ردعمل پاراچنار پر حملے کی صورت میں ظاہر ہو گا اور حالیہ دھماکہ اندیشہ درست کرگیا۔

 

پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔
پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔ فروری 1979 کا شیعہ اسلامی انقلاب خطے میں موجود دیگر بااثر سنی ریاستوں کے لیے تب شدید خطرے کی شکل اختیار کر گیا جب ایرانی حکومت نے نظریہ ولائت فقیہ کی پیروی کو تمام شیعہ مسلمانوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ ایک سیاسی نظریہ ضرورت کو جب مذہب و مسلک کا تحفظ میسر آیا اور اسے حکومتی آشیرباد ملی تو عوام کی کثیر تعداد اسے اذن الٰہی سمجھنے لگی۔ رفتہ رفتہ ایران کے بااثر مذہبی دانشور مرتضیٰ مطہری کی تحریریں اثر کرتی گئیں اور انقلاب کے لیے فکری بنیادیں طے کرنے والے ڈاکٹر علی شریعتی کی علمی فکر پس منظر میں چلی گئی۔ خوش قسمتی یا شومئی قسمت آٹھ سال تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کے خاتمے پر ایرانی حکومت کی انقلابی شکل برقرار رہنے سے مشرقِ وسطیٰ کے عام شیعہ مسلمان پر بہت گہرا اثر ہوا اور ایران سے باہر رہنے والے شیعہ مسلمانوں نے اپنے شناختی تحفظ کے لیے ایران سے ایک خاص طرح کی روحانی وابستگی جوڑ لی۔ ایرانی حکومت نے بھی بانہیں پھیلا کر ان توقعات کا خیرمقدم کیا۔ سوویت افغان جنگ کے نتیجے میں پر پھیلائے ہوئے سعودی عرب کے لیے خطے میں بدلتی ہوئی یہ صورت حال کسی طرح قابل قبول نہیں تھی اور یوں خطے میں باقاعدہ سنی شیعہ سیاسی تنازع سر اٹھانے لگا جوپہلے صرف عربوں اور ایرانیوں کے روایتی نسلی اور مسلکی اختلاف تک محدود تھا۔

 

لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں لبنان پر اسرائیلی قبضے کے خلاف حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں نے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی تصویر اس وقت واضح کرنی شروع کردی جب امریکی قیادت میں عالمی اتحاد نے کویت کو آزاد کروانے کے لیے ایران کے مضبوط مخالف صدام حسین کے پر کاٹ دیئے تھے۔ یہ منظر تو واضح ہو چلا تھا کہ جلد یا بدیر صدام کی رخصتی کے بعد ایران عراق اور شام کے رستے لبنان میں ایک مضبوط تزویزاتی گڑھ قائم کر لے گا اور اس طرح اسرائیل کو واضح طور پر دھمکانے سے وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کا سپہ سالار بن بیٹھے گا۔ ایران کی مذہبی حکومت کے لیے یہ سارا راستہ سیدھا تھا اور اس سیدھے رستے میں رکاوٹیں ڈالنا ان تمام ممالک کے لیے لازم تھا جنہیں خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرورسوخ سے براہ راست خطرات لاحق تھے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد فلوجہ کی پہلی بغاوت، انصار السنہ کا قیام، عراق میں منظم فرقہ واریت کے پانچ سال، عراق میں امریکہ کا کیمپ بوکا، شام کی عوامی بغاوت میں القاعدہ کی شمولیت اور اب داعش ۔

 

ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے بین الریاستی تعلقات کسی سماج میں قائم انفرادی یا اجتماعی تعلقات کی طرح تو ہوتے نہیں ہیں کہ اخلاقی پابندیوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ محدود وسائل پر ریاستوں کے باہم دست وگریباں تعلق میں حق پر وہی ہے جو آخرش کار فاتح ہو۔ اس طرح مشرق وسطی کے مائی باپ بننے کی لڑائی نے پچھلے تیس سالوں میں پاکستان کے علاوہ بھی جس جس میدان کو رنگین کیا ہے اس کے دھبے پاکستان تک پہنچےہیں۔ حالیہ قصہ شام کا ہے۔ نوے کی دہائی کے اواخر جب موجودہ چہرے ہی حکمران تھے پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی ایک مخصوص فرقے کے نمایا ں افراد آئے روز قتل ہورہے تھے اور یہ واضح تھا کہ اس ٹارگٹ کلنگ کا ردعمل ہوگا اور اسی انداز میں ہوگا۔ اور وہ ہوا ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ پارا چنار میں نوے کی دہائی میں ہی جب فرقہ وارانہ قتل و غارت عروج پہ تھا تو ایرانی اور سعودی مہربانیوں کی بنا پر ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں جنگ کی صورت اختیار کر گئیں۔ اور بظاہر امن کے زمانے میں بھی مسجد و منبر انہی علماء کے تسلط میں رہا جومذہبی عبادت گاہوں سے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔
ہمارے مغرب میں موجود برادر ہمسایہ اسلامی جمہوریہ سے فارغ التحصیل علمائے کرام نے اسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ کے سیاسی مقاصد کو مقاصدِ امام کا نام دیتے ہوئے اپنے ہم مسلک نوجوانوں کو ہتھیار وں کا رستہ دکھایا اور جس کا جہاں داؤ چلا، کی کہانی شروع ہوئی۔ اب جو مظلومیت کے پیرو تھے وہ بھی ظالم بننے لگے اور جو ظالم کہلاتے تھے وہ بھی مظلوم ہوگئے۔

 

ریاض اور جدہ سے نوجوان بھرتی ہو کر شام لڑنے جارہے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا سے بھی شام میں جہاد کا شوق بلانے والوں کو بلائے جاتا ہے وسط ایشیائی بھی پیچھے نہیں، لبنانی اور عراقی بھی وہاں ہیں۔ ایران ایک گروہ کا سرخیل ہےتو سعودی عرب دوسرے کا۔ پڑھتے دونوں کلمہ ہیں ذرا گہری نظر سے جھانکو تو علم ہوتا ہے کہ اگر ایک گھر دو لاکھ روپے پاکستانی تنخواہ دیتا ہے تو دوسرا ایک لاکھ بیس ہزار۔ اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ بھوکے کا دین روٹی ہے۔

 

کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت ‘ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ ۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت’ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ زیارات مقامات مقدسہ کروائی جائے گی اور دوسرا انعام آخرت ہے۔
بلانے کا نعرہ صدائے استغاثہ ہے جو امام عالی مقام کی بہن کا ہے یہاں کے لوگ ان کے بھائی علمدار کی نسبت سے ان کے مزار کی حفاظت کو جارہے ہیں۔ ایک ہزار پہنچے ہوئے ہیں کچھ مارے گئے کچھ لڑ رہے ہیں۔ اس سے قبل داعش کے ساتھ لڑنے کے شوقین بھی پاکستان سے بھرتی کیے جاتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے جہادیوں کے لیے زرخیر خطہ رہا ہے۔

 

اگر نیشنل ایکشن پلان والے یہ پڑھ رہے ہیں تو عرض ہے کہ فیس بک پہ ‘لواء زینبیون‘ کا صفحہ ہے جہاں سے یہ بھرتی جاری ہے قم میں کس کو ملنا ہے ؟ اس کا رابطہ نمبر اس صفحے پر درج ہے۔ چار دن پہلے کے اعلان پر کوئی بیس کے لگ بھگ افراد نے جانے کی حامی بھری ہے جانے والے ایک نوجوان کا فیس بک پروفائل دیکھا تو ایک سیلفی اپ لوڈ تھی اس تبصرے کے ہمراہ ‘جہاد مقدس پہ جانے سے پہلے، ممکن ہے یہ میری آخری سیلفی ہو’۔

 

قانون نافذ کرنے والے اگر ابھی یہ سلسلہ روک لیں تو بھلائی ہے ورنہ جو شام کے ان مزارات )ان مزارات کی تاریخی حیثیت سے قطع نظر( کی حفاظت کے لیے مرنے جارہے ہیں وہ اگر جنت البقیع کے مزارات کو سنبھالنے پہنچ گئے تو کیا ہوگا؟ نہ وہاں موجود مزارات کی صحت پہ کسی کو کوئی شک ہے اور نہ ہی برادر اسلامی ممالک کی ترجیحات پوشیدہ ہیں!!