Categories
نقطۂ نظر

سعودیہ ایران کشیدگی ہمارا مسئلہ نہیں

سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ کے آغاز کو اب دہائیاں بیت چکی ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ نے جہاں مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ابتری اور افراتفری پھیلائی وہیں پاکستان میں بھی ان ممالک کی اس سرد جنگ نے فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی فسادات اور انتہا پسندی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں موجود سنی انتہا پسند تنظیمیں ہوں یا شیعہ انتہا پسند تنظیمیں ان کی مالی سرپرستی یہی دونوں ممالک کرتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی اس پراکسی جنگ میں ہم لوگ تجربہ گاہ کے جانوروں کی طرح مارے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے اپنے فرقے کے تعصب کا شکار ہونے کی وجہ سے پاکستان سے زیادہ سعودی عرب یا ایران کے وفادار بنے رہتے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں مزاحمت کرنے والے شیعہ مفکر شیخ النمر کا سرقلم کیے جانے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سزا پر عملدرآمد کے بعد تہران میں سعودی سفارت خانے پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کیا اور آگ لگا دی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے سفارتی تعلقات بھی منقطع کر لیے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے ایران سے سفارتی تعلقات توڑے جانے کے بعد پہلے بحرین، سوڈان اور کویت اور اب قطر نے بھی ایران سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ ایران نے سعودی عرب پر یمن میں ایرانی سفارت خانے پر میزائل حملے کا بھی الزام عائد کیا ہے جس کی سعودی عرب نے تردید کی ہے۔

 

پاکستان میں موجود سنی انتہا پسند تنظیمیں ہوں یا شیعہ انتہا پسند تنظیمیں ان کی مالی سرپرستی یہی دونوں ممالک کرتے ہیں۔
ان دونوں ممالک کی اس کشیدگی کا اثر ایک مرتبہ پھر ہمارے ملک اور معاشرے پر پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اس وقت حکومت پاکستان ایک مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ سعودی عرب سے دیرینہ تعلقات اور ایران کے ساتھ امریکہ ایران مصالحتی عمل کے بعد مفاہمتی خارجہ پالیسی اپنانے کی وجہ سے پاکستان نہ تو کھل کر سعودی عرب کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ ایران کی۔ بی بی سی اردو پر گزشتہ دنوں معروف کالم نگار وسعت اللہ خان کے ایک تجزیے میں پاکستان کی اس مشکل کا ذکر کیا گیا ہے اور ماضی میں جاری رہنے والی ایران سعودی کشیدگی میں پاکستان کے سفارتی کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان کا سرکاری موقف کچھ بھی ہو البتہ معاشرے میں شیعہ سنی تفریق میں شدت آنے لگی ہے۔ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے حضرات ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ان دونوں ممالک کے خلاف اپنی اپنی فرقہ وارانہ وابستگی کے تحت نعرے مارنے میں حسب عادت مصروف ہیں۔ محمد احمد لدھیانوی کی جانب سے سعودی سرزمین کا تحفظ جبکہ شیعہ تنظیموں کے سعودی سفارت خانے کے باہر مظاہرے سے اس محاذ آرائی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

 

سنی مذہبی تنظیموں کا ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
سنی مذہبی تنظیموں کا ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
سنی اور شیعہ مسلک کے لوگ اپنے اپنے فرقے، مقدس مقامات اور سرپرست ممالک کی بڑائی ثابت کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں۔ حیران کن طور پر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پیش پیش ہے۔ ایک سیاسی مسئلے کو مذہبی اور مسلکی رنگ دیا جا رہا ہے جو پاکستان کے لیے کسی طرح مناسب نہیں۔ ایک جانب جہاں پوپ فرانسس بھی مذہب کی پرستش سے زیادہ انسانوں کے ایک دوسرے کو سمجھنے اور امن سے رہنے کا درس رہے ہیں وہیں ہمارے ہاں مذہب کی بنیاد پر جان لینے اور دینے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ہم لوگ غالباً ابھی تک زمانہ قدیم کے جہلاء کی طرح اپنے اپنے فرقے اور مقدس مقامات کو بلندتر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ زندہ انسان کی جان کسی بھی مقدس مقام سے زیادہ معتبر ہے۔ جو لوگ قبروں میں دفن لوگوں کو زندہ انسانوں پر فوقیت دیتے ہیں وہ جلد یا بدیر خود تاریخ کے قبرستانوں میں دفن ہو جایا کرتے ہیں۔

 

شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف شیعہ تنظیموں کا مظاہرہ
شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف شیعہ تنظیموں کا مظاہرہ
مذہبی اور مسلکی اختلافات سے قطع نظر حیران کن امر یہ ہے کہ سعودی ایران جنگ میں ہم لوگ اپنے وطن کو میدان جنگ بنانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں۔
مذہبی اور مسلکی اختلافات سے قطع نظر حیران کن امر یہ ہے کہ سعودی ایران جنگ میں ہم لوگ اپنے وطن کو میدان جنگ بنانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں۔ سعودیہ کے آمر بادشاہ اچھے ہیں یا ایرانی ملائیت یہ ہمارے مسائل حل کرنے میں کیسے معاون ہے یہ اپنی جگہ ایک تحقیق طلب امر ہے۔ پاکستان کو سعودی شاہی خاندان کا ساتھ دینا چاہیے یا ایران کے حکمرانوں کا ہم اس سوال کو لیے یوں بحث مباحثہ کر رہے ہیں گویا ہم نے اپنے ملک میں موجود قومیتوں کے مابین افہام و تفہیم پیدا کر لیا ہے۔ ٹی وی چینلز کی سکرینوں پر نام نہاد مذہبی علماء اور دفاعی تجزیہ نگار کمال مہارت سے ایک منظم پراپیگینڈے کے تحت عوام کو اس فرقہ وارانہ کشیدگی کی بحث میں الجھائے ہوئے ہیں۔ کون مسلمان ہے کون کافر ہے اس بات سے آگے ہماری سوچ شاید ختم ہو جاتی ہے۔ مزاروں میں جانے سے زیادہ ثواب ملتا ہے یا مساجد میں، یہ سوال ہمارے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے نا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور عدم برداشت۔ انسانی حقوق اور ان کی ادائیگی میں ناکام لوگ عقیدتوں اور تقلید کی اندھی روش میں انسانیت کو پیروں تلے کچلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

 

ہمیں اس بات کے ادراک کی ضرورت ہے کہ سعودی یا ایرانی حکمرانوں کی پالیسیوں، آمرانہ رویوں اور ان ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید ہرگز مقدس ہستیوں پر تنقید کے مترادف نہیں۔ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی جنگ کو مذہب اور عقیدت کے نام پر غریب مسلمان ملکوں پر تھوپتے ہیں۔ روپے پیسے کی چمک سے یہ دونوں ممالک اپنے سیاسی مفادات کے حصول کو مذہبی رنگ دے کر مولویوں، ذاکروں، سیاستدانوں اور فوجوں کی ہمدردیاں بھی خریدتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے حکمرانوں نے آپس کی رنجشوں کے باعث پراکسی جنگوں کے ذریعے مسلمان ممالک میں بے بہا خون بہایا ہے، اپنی نااہلیوں کو چھپانے کے لیے دونوں ممالک کے حکمران مذہب کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے آمرانہ طرز حکومت کو استحکام بھی پہنچاتے ہیں۔ اور ان کی محبت میں ایک دوسرے کو کاٹنے والے ہم لوگ ان کی جنگ میں ایک چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اپنی آنکھوں سے تعصب اور اندھی تقلید کی پٹی اتار کر ان دونوں ممالک میں انسانی حقوق کی پاسداری کی صورت حال کا جائزہ لیجیے۔ کیا ان دونوں ممالک میں دونوں مسالک کی مقدس ہستیوں کی بتائی گئی اعلیٰ انسانی اقدار کی ذرا سی بھی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو جو لاکھوں روپے خرچ کر کے حج و عمرہ یا دیگر مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں انہیں ذرا بھی عزت و تکریم دی جاتی ہے؟ کیا یورپی ممالک کی طرح آپ کو ان ممالک کی شہریت ملتی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں آزادی رائے کا احترام ہوتا ہے؟ ان دونوں ممالک نے خود اپنا قبلہ عالمی طاقتوں سے درست رکھا ہوا ہے لیکن دیگر مسلم ممالک کے علماء، سیاستدانوں، افواج اور عوام کو یہ دونوں ممالک کبھی عقیدے اور کبھی عالمی طاقتوں کے ان دیکھے ایجنڈے کے نام پر لڑواتے ہیں۔ دیگر ممالک کی عوام

 

ہمیں اس بات کے ادراک کی ضرورت ہے کہ سعودی یا ایرانی حکمرانوں کی پالیسیوں، آمرانہ رویوں اور ان ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید ہرگز مقدس ہستیوں پر تنقید کے مترادف نہیں۔
میں دیگر اقوام عالم سے نفرتوں کے بیج بوتے ہیں اور خود ان ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم کا باعث بننتے ہیں۔ پاکستان میں 70 کی دہائی تک فرقہ وارانہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ایران میں انقلاب کے بعد دونوں ممالک نے اپنے اثرورسوخ میں اضافے کے لیے دیگر مسلم ممالک میں بسنے والے اپنے اپنے مسلک کے مسلمانوں کو متاثر کرنا اور ان کے ذریعے اپنی عالمی حیثیت مضبوط کرنا شروع کردی۔ سعودی اور خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کے کام کرنے کی غرض سے آنے جانے کے بعد فرقہ واریت اور شدت پسندی کا ناسور تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ لشکر جھنگوی ہو یا تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ایسی لاتعداد شدت پسند تنظیمیں سعودی عرب اور ایران کی ہی پشت پناہی اور پیسے کے بل پر وجود میں آئیں۔ لیکن ہم اپنے مسائل حل کرنے کی بجائے ان حقائق سے منہ موڑ کر انہی ممالک کی محبت میں ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

 

بطور قوم اپنی ایک ثقافت اور تاریخ رکھتے ہیں جو کہ صدیوں پر محیط ہے ہم نہ تو عربی بن سکتے ہیں اور نہ ایرانی۔ اگر ان ممالک کی پراکسی جنگوں میں ہم یوں ہی عربوں سے زیادہ عرب اور ایرانیوں سے زیادہ ایرانی بن کر شریک ہوتے رہے تو ہم اپنی اصل شناخت اور تشخص کھو دیں گے۔ مسخ شدہ لاشوں کی طرح مسخ شدہ قوموں اور معاشروں کی شناخت بھی آہستہ آہستہ ناممکن ہو جاتی ہے۔ جن معاشروں اور قوموں کی اپنی شناخت باقی نہ رہے تو وہ تاریخ کے قبرستان میں لاوارث لاشوں کی مانند دفنا دی جاتی ہیں۔ اس لیے بدلیں اپنے آپ کو اور اپنے خیالات کو کم سے کم آنے والی نسلوں کو مسلکی شناخت، تعصب و نفرت سے پاک معاشرہ دے کر جائیں۔ سعودیہ میں شیعہ مذہبی عالم کا سر قلم کیا جانا بلا شبہ اندوہناک تھا اور انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی پراحتجاج ہونا بھی چاہیئے لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہمیں اپنی اپنی فرقہ وارانہ وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایسے سانحات پر رد عمل دینا چاہیئے اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو ان حادثات کے ذریعے تعصب اور فرقہ پرستی کا زہر معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان پر شامی جنگ کے خون آشام سائے

ہفتہ بھر پہلے آدھی رات کے لگ بھگ جرمن خبر رساں ادارے کی جانب سے ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا جس میں ایرانی پاسداران کی جانب سے شام کی لڑائی میں پاکستان سے اہل تشیع کو بھیجے جانے کی تفصیلات درج تھیں۔ امتیاز احمد صاحب نے اس تحریر کو بہت تلاش و تحقیق کے ذریعے مکمل کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس سارے معاملے کو ایرانی پشت پناہی حاصل ہے اور جو افراد پاکستان سے گئے ہیں ان میں پاراچنار کے رہائشیو ں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی وقت یہ اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ اس خبرکا ردعمل پاراچنار پر حملے کی صورت میں ظاہر ہو گا اور حالیہ دھماکہ اندیشہ درست کرگیا۔

 

پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔
پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔ فروری 1979 کا شیعہ اسلامی انقلاب خطے میں موجود دیگر بااثر سنی ریاستوں کے لیے تب شدید خطرے کی شکل اختیار کر گیا جب ایرانی حکومت نے نظریہ ولائت فقیہ کی پیروی کو تمام شیعہ مسلمانوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ ایک سیاسی نظریہ ضرورت کو جب مذہب و مسلک کا تحفظ میسر آیا اور اسے حکومتی آشیرباد ملی تو عوام کی کثیر تعداد اسے اذن الٰہی سمجھنے لگی۔ رفتہ رفتہ ایران کے بااثر مذہبی دانشور مرتضیٰ مطہری کی تحریریں اثر کرتی گئیں اور انقلاب کے لیے فکری بنیادیں طے کرنے والے ڈاکٹر علی شریعتی کی علمی فکر پس منظر میں چلی گئی۔ خوش قسمتی یا شومئی قسمت آٹھ سال تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کے خاتمے پر ایرانی حکومت کی انقلابی شکل برقرار رہنے سے مشرقِ وسطیٰ کے عام شیعہ مسلمان پر بہت گہرا اثر ہوا اور ایران سے باہر رہنے والے شیعہ مسلمانوں نے اپنے شناختی تحفظ کے لیے ایران سے ایک خاص طرح کی روحانی وابستگی جوڑ لی۔ ایرانی حکومت نے بھی بانہیں پھیلا کر ان توقعات کا خیرمقدم کیا۔ سوویت افغان جنگ کے نتیجے میں پر پھیلائے ہوئے سعودی عرب کے لیے خطے میں بدلتی ہوئی یہ صورت حال کسی طرح قابل قبول نہیں تھی اور یوں خطے میں باقاعدہ سنی شیعہ سیاسی تنازع سر اٹھانے لگا جوپہلے صرف عربوں اور ایرانیوں کے روایتی نسلی اور مسلکی اختلاف تک محدود تھا۔

 

لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں لبنان پر اسرائیلی قبضے کے خلاف حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں نے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی تصویر اس وقت واضح کرنی شروع کردی جب امریکی قیادت میں عالمی اتحاد نے کویت کو آزاد کروانے کے لیے ایران کے مضبوط مخالف صدام حسین کے پر کاٹ دیئے تھے۔ یہ منظر تو واضح ہو چلا تھا کہ جلد یا بدیر صدام کی رخصتی کے بعد ایران عراق اور شام کے رستے لبنان میں ایک مضبوط تزویزاتی گڑھ قائم کر لے گا اور اس طرح اسرائیل کو واضح طور پر دھمکانے سے وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کا سپہ سالار بن بیٹھے گا۔ ایران کی مذہبی حکومت کے لیے یہ سارا راستہ سیدھا تھا اور اس سیدھے رستے میں رکاوٹیں ڈالنا ان تمام ممالک کے لیے لازم تھا جنہیں خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرورسوخ سے براہ راست خطرات لاحق تھے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد فلوجہ کی پہلی بغاوت، انصار السنہ کا قیام، عراق میں منظم فرقہ واریت کے پانچ سال، عراق میں امریکہ کا کیمپ بوکا، شام کی عوامی بغاوت میں القاعدہ کی شمولیت اور اب داعش ۔

 

ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے بین الریاستی تعلقات کسی سماج میں قائم انفرادی یا اجتماعی تعلقات کی طرح تو ہوتے نہیں ہیں کہ اخلاقی پابندیوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ محدود وسائل پر ریاستوں کے باہم دست وگریباں تعلق میں حق پر وہی ہے جو آخرش کار فاتح ہو۔ اس طرح مشرق وسطی کے مائی باپ بننے کی لڑائی نے پچھلے تیس سالوں میں پاکستان کے علاوہ بھی جس جس میدان کو رنگین کیا ہے اس کے دھبے پاکستان تک پہنچےہیں۔ حالیہ قصہ شام کا ہے۔ نوے کی دہائی کے اواخر جب موجودہ چہرے ہی حکمران تھے پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی ایک مخصوص فرقے کے نمایا ں افراد آئے روز قتل ہورہے تھے اور یہ واضح تھا کہ اس ٹارگٹ کلنگ کا ردعمل ہوگا اور اسی انداز میں ہوگا۔ اور وہ ہوا ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ پارا چنار میں نوے کی دہائی میں ہی جب فرقہ وارانہ قتل و غارت عروج پہ تھا تو ایرانی اور سعودی مہربانیوں کی بنا پر ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں جنگ کی صورت اختیار کر گئیں۔ اور بظاہر امن کے زمانے میں بھی مسجد و منبر انہی علماء کے تسلط میں رہا جومذہبی عبادت گاہوں سے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔
ہمارے مغرب میں موجود برادر ہمسایہ اسلامی جمہوریہ سے فارغ التحصیل علمائے کرام نے اسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ کے سیاسی مقاصد کو مقاصدِ امام کا نام دیتے ہوئے اپنے ہم مسلک نوجوانوں کو ہتھیار وں کا رستہ دکھایا اور جس کا جہاں داؤ چلا، کی کہانی شروع ہوئی۔ اب جو مظلومیت کے پیرو تھے وہ بھی ظالم بننے لگے اور جو ظالم کہلاتے تھے وہ بھی مظلوم ہوگئے۔

 

ریاض اور جدہ سے نوجوان بھرتی ہو کر شام لڑنے جارہے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا سے بھی شام میں جہاد کا شوق بلانے والوں کو بلائے جاتا ہے وسط ایشیائی بھی پیچھے نہیں، لبنانی اور عراقی بھی وہاں ہیں۔ ایران ایک گروہ کا سرخیل ہےتو سعودی عرب دوسرے کا۔ پڑھتے دونوں کلمہ ہیں ذرا گہری نظر سے جھانکو تو علم ہوتا ہے کہ اگر ایک گھر دو لاکھ روپے پاکستانی تنخواہ دیتا ہے تو دوسرا ایک لاکھ بیس ہزار۔ اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ بھوکے کا دین روٹی ہے۔

 

کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت ‘ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ ۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت’ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ زیارات مقامات مقدسہ کروائی جائے گی اور دوسرا انعام آخرت ہے۔
بلانے کا نعرہ صدائے استغاثہ ہے جو امام عالی مقام کی بہن کا ہے یہاں کے لوگ ان کے بھائی علمدار کی نسبت سے ان کے مزار کی حفاظت کو جارہے ہیں۔ ایک ہزار پہنچے ہوئے ہیں کچھ مارے گئے کچھ لڑ رہے ہیں۔ اس سے قبل داعش کے ساتھ لڑنے کے شوقین بھی پاکستان سے بھرتی کیے جاتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے جہادیوں کے لیے زرخیر خطہ رہا ہے۔

 

اگر نیشنل ایکشن پلان والے یہ پڑھ رہے ہیں تو عرض ہے کہ فیس بک پہ ‘لواء زینبیون‘ کا صفحہ ہے جہاں سے یہ بھرتی جاری ہے قم میں کس کو ملنا ہے ؟ اس کا رابطہ نمبر اس صفحے پر درج ہے۔ چار دن پہلے کے اعلان پر کوئی بیس کے لگ بھگ افراد نے جانے کی حامی بھری ہے جانے والے ایک نوجوان کا فیس بک پروفائل دیکھا تو ایک سیلفی اپ لوڈ تھی اس تبصرے کے ہمراہ ‘جہاد مقدس پہ جانے سے پہلے، ممکن ہے یہ میری آخری سیلفی ہو’۔

 

قانون نافذ کرنے والے اگر ابھی یہ سلسلہ روک لیں تو بھلائی ہے ورنہ جو شام کے ان مزارات )ان مزارات کی تاریخی حیثیت سے قطع نظر( کی حفاظت کے لیے مرنے جارہے ہیں وہ اگر جنت البقیع کے مزارات کو سنبھالنے پہنچ گئے تو کیا ہوگا؟ نہ وہاں موجود مزارات کی صحت پہ کسی کو کوئی شک ہے اور نہ ہی برادر اسلامی ممالک کی ترجیحات پوشیدہ ہیں!!