Categories
نقطۂ نظر

نواب زہری کے لئے مشکل فیصلے

[blockquote style=”3″]

عدنان عامر کی یہ تحریر اس سے قبل انگریزی روزنامے دی نیوز میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ مصنف کی اجازت سے اس کا اردو ترجمہ لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

مترجم
ظاہر کریم

 

مری معاہدے کے تحت اقتدار کی ہموار منتقلی کے بعد گزشتہ ماہ نواب ثناء اللہ خان زہری نے بائیسویں وزیرِاعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھایا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ادھورے وعدوں کی ایک طویل فہرست وزیر اعلیٰ دفتر میں چھوڑ آئے۔ نواب زہری نے تقریباً ایک ماہ کی تاخیر سے کابینہ تشکیل دی ہے۔ گزشتہ ہفتے تمام وزراء اور مشیران کو یہ اطلاع دی گئی کہ نئے وزیرِاعلیٰ صاحب کی حکومت کام کرنے کےلیے تیار ہے۔ تاہم انہیں کامیابی سے حکومت چلانے کے لیے بہت سے سخت فیصلے کرنا ہیں۔

 

سیاسی عزم کے فقدان اور استعداد کار کے مسائل کے علاوہ نیشنل پارٹی حکومت کی ناکامی کی اہم وجوہ میں سے ایک اتحادی جماعتوں (پختونخوامیپ اور مسلم لیگ ن) کی طرف سے بلیک میل کیا جانا بھی ہے۔
اس سے قبل کے پیش آمدہ مشکل فیصلوں کاذکر کیا جائے، یہ ضروری ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بطور وزیر اعلیٰ ناکامیوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کے لوگوں کی بہت سے توقعات کے ساتھ وزارتِ اعلیٰ کا قلم دان سنبھالا تھا۔ لیکن وہ چند محاذوں پر ناکام رہے۔ سیاسی عزم کے فقدان اور استعداد کار کے مسائل کے علاوہ نیشنل پارٹی حکومت کی ناکامی کی اہم وجوہ میں سے ایک اتحادی جماعتوں (پختونخوامیپ اور مسلم لیگ ن) کی طرف سے بلیک میل کیا جانا بھی ہے۔ نتیجتاً، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مشکل مگر اہم فیصلے نہیں لے سکے جو ایک کامیاب حکومت کے لیے لازم تھے۔ تمام تر مشکلات اور روکاوٹوں کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ کامیابی کے لیے مشکل فیصلوں کا متقاضی ہے۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دورِاقتدار میں ایک متوازی حکومت قائم تھی، وہ وزیر اعلیٰ تھے مگرطاقت تین جماعتوں کے پاس تھی۔ پختونخوامیپ اور مسلم لیگ ن کے وزراء ڈاکٹر عبدلمالک کے زیر اثر نہ تھے اور بسا اوقات کئی امور پر ڈاکٹر مالک بے بس دکھائی دیے۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ایک اقلیتی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ تھے لیکن نواب ثناءاللہ زہری کا معاملہ کچھ الگ ہے، انہیں تمام وزارتوں بشمول نیشنل پارٹی اور پختونخوامیپ کے وزراء پر مضبوط گرفت قائم رکھنی ہو گی۔ انہیں صوبائی وزراءکے ایسے فیصلوں کو ضرور ردّ کرنا چاہیئے جو بڑے پیمانے پر حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہوں۔

 

بلوچستان کے اہم مسائل میں سے ایک پسماندگی ہے۔ سالانہ میزانیے میں منظور کی جانے والی ترقیاتی اسکیمیں اس صوبے کی زبوں حالی اور پسماندگی میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ صوبائی وزراء دیر پا سماجی و معاشی ترقی کی بجائے سیای مفادات کے حصول کے لیے ترقیاتی منصوبے تجویز کرتے ہیں۔ نتیجتاً، ہر سال صوبے کے ترقیاتی بجٹ میں سے اربوں روپے ضائع ہو جاتےہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے 30ماہ کے دورِاقتدار میں یہی روش عام رہی۔

 

صوبائی وزراء دیر پا سماجی و معاشی ترقی کی بجائے سیای مفادات کے حصول کے لیے ترقیاتی منصوبے تجویز کرتے ہیں۔
اس چلن کو روکنے کے لیے نواب زہری کو مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ سابقہ طرز عمل کی بجائے صوبے کے لیے ایک جامع مرکزی ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، جس کے تحت ہر منظور شدہ ترقیاتی سکیم کو اسی منصوبے کا حصہ قرار دے دیا جائے تو معاملات بہتر انداز میں چلائے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام یقیناً ترقیاتی بجٹ کو ضائع ہونے سے بچائے گا لیکن اس کے نتیجے میں نواب زہری کو اراکین صوبائی اسمبلی کی ناراضی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

 

صوبائی محکمہ ترقی و منصوبہ بندی صوبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ محکمہ تمام ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ کو منظور اور جاری کرتا ہے۔ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کے دورِ اقتدار میں یہ محکمہ پختونخوا میپ کے تابع تھااور سیای بنیادوں پر چلایا جاتا تھا۔ پختونخوا میپ کے رہنماؤں کی کوشش رہی کہ ایسے ترقیاتی منصوبے منظور ہوں جن سے ان کے آبائی ضلع ”قلعہ سیف اللہ“ کو فائدہ پہنچے۔ اس طرز انتظام سے بلوچستان کی ترقی کا عمل حقیقتاً بے جان ہو کر رہ گیا۔ موجودہ وزیر اوعلیٰ کو محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کو مکمل طور پر اپنے زیرِاثر لاکر اسے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہو گا۔

 

نواب زہری کے لیے ایک اور مشکل ہدف صوبائی افسر شاہی کو نظم و ضبط میں رکھنا ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ سیاست دانوں کی طرح افسرشاہی میں بھی ماسوائے چند ایک کے، سب بری طرح بدعنوان ہیں۔ نااہل افسر شاہی کی وجہ سے تقریباً 60ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ 30ماہ کے دوران محض اس لیے مرکز کو لوٹا دیا گیا کیونکہ افسر شاہی معینہ مدت میں مذکورہ بجٹ استعمال کرنے میں ناکام رہی۔ افسر شاہی کو لگام دینے کی اشد ضرورت ہے، حالات کا تقاضا بھی یہی ہے تا کہ صوبے میں جمود کا شکار معاملات رواں کیے جا سکیں۔

 

ان کے دورِاقتدار میں ضلع کیچ کو ترقیاتی منصوبوں سے بے دریغ نوازا گیا اوربلوچستان کے بیشتر اضلاع کو نظر انداز کیا گیا، بلکہ ان پر نصیر آباد ڈویژن کے ترقیاتی فنڈز مکران ڈویژن کو دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی سابق حکمرانوں کی طرح اپنے آبائی ضلعے کو باقی بلوچستان پر ترجیع دیتے رہے۔ ان کے دورِاقتدار میں ضلع کیچ کو ترقیاتی منصوبوں سے بے دریغ نوازا گیا اوربلوچستان کے بیشتر اضلاع کو نظر انداز کیا گیا، بلکہ ان پر نصیر آباد ڈویژن کے ترقیاتی فنڈز مکران ڈویژن کو دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔ نواب زہری کو اس سابقہ روش سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے آبائی علاقے خضدار کو اس طرح نوازنے سے گریز کرنا چاہیئے جس طرح ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دورِاقتدار میں ضلع کیچ کو نوازا۔ اگر چہ نواب زہری کو 2018 کا انتخاب خضدار سے لڑنا ہوگا جس کے پیشِ نظریہ فیصلے انتہائی مشکل ہوں گے، لیکن اس کے باوجود یہ فیصلے انہیں کرنے ہوں گے۔

 

نیشنل پارٹی کے دورِاقتدار میں روا رکھے جانے والی اقرباء پروری اور منظور نظر افراد کو نوازنے کے عمل سے بھی اجتناب ضروری ہے۔ نیشنل پارٹی کے وہ رہنما جو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے قربت رکھتے تھے، ان کے دور اقتدار سے فوائد حاصل کرتے رہے۔ نیشنل پارٹی کے ایک رہنما کو چیف منسٹرز پالیسی ریفارم یونٹ CMPRUکا کوآرڈینیٹر بنایا گیا، ایک اور صاحب کو کیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کا چیئر مین لگایا گیا اور یوں یہ فہرست لمبی ہوتی گئی۔ مسلم لیگ ن میں بھی بہت سے ایسے رہنما ہیں جو نواب زہری سے حسب سابق عنایات کے طلب گار ہیں۔ اہم عہدوں پر نااہل افراد کی تعیناتی سے گریز ان کے لیے ایک کٹھن امتحان ثابت ہو گا۔

 

نواب ثناءاللہ زہری کے لیے 30 ماہ کا دورِاقتدار یقیناً پھولوں کی سیج نہیں ہوگا۔ نواب زہری کی کامیابی کے لئے ایک زود اثر آسان نسخہ یہ ہے کہ انہیں گزشتہ حکومت کی کوتاہیوں سے اجتناب کرنا ہو گا۔ دوسرا یہ کہ وہ سخت فیصلے کریں تاکہ تبدیلی لاسکیں۔ یقیناً یہ تمام فیصلے جنابِ وزیر اعلیٰ کے لئے بہت سے مسائل بھی کھڑے کریں گے تاہم تاریخ میں ایک کامیاب وزیراعلیٰ اور بلوچستان میں تبدیلی کا موجب کہلانے لئے انہیں یہ سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

Image: Pakistan Today

Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی

بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی جگہ نواب ثناءاللہ زہری کا وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنا چہروں کی تبدیلی کا وہ تسلسل ہے جسے صوبے کے عوام عرصے سے دیکھتے آئے ہیں اس لیے اس تبدیلی کو مخصوص سیاسی حلقوں کے سوا عوامی سطح پر کوئی خاص توجہ نہیں مل سکی۔ صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہو گئی ہے جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارے جانے والے چھاپوں اور خانہ تلاشیوں کے دوران مکران ڈویژن کے کچھ علاقوں میں گھروں کو بھی جلایا گیاجس کا اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑا ہے۔ ایسی کارروائیوں کے ردعمل میں علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کی جانب سے کرائی جانے والی شٹرڈاﺅن ہڑتالوں کے بعد سیکیورٹی ادارے کھل کر میدان میں آگے ہیں۔ اخبارات میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہڑتالوں کے اعلانات کی اشاعت کے خلاف سیکیورٹی اینجسیاں بھی بیان بازی کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں صوبے کے تاجر مقامی صحافیوں کی طرح سیکیورٹی اداروں اور علیحدگی پسندوں کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں کیونکہ اگر وہ ہڑتال کی اپیل پر دکانیں بند نہ کریں تو علیحدگی پسند تنظیمیوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر دکانیں بند رکھیں تو سیکیورٹی اداروں کے غیض و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے صوبے کے حالات کو عام لوگوں کے لیے سازگار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بلوچستان میں اب بھی کسی نہ کسی سطح پر سیکیورٹی ایجنسیوں اور مسلح علیحدگی پسندوں میں کشمکش جار ی ہے۔

 

صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری کے آثار ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہوگئے ہیں جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
مئی 2013 میں الیکشن مہم کے دوران نومنتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے قافلے پر خضدار کے علاقے زہری میں ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے بیٹے سکندر زہری، بھائی مہراللہ زہری اور بھتیجے میر زیب زہری سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری 2002 میں بننے والی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ بلوچ لبریشن آرمی کے متعلق نواب ثناءاللہ زہری کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کو مرحوم نواب خیر بخش مری کے لندن میں مقیم صاحبزادے نوابزادہ حیر بیار مری چلا رہے ہیں۔ زہری واقعے کے بعد نواب ثناءاللہ زہری نے بظاہر جذبات میں آکر بلوچستان کے اہم قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادے حیر بیار مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور اس کے صاحبزادوں اختر مینگل اور جا وید مینگل، اور مکران میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ حال ہی میں نواب ثناءاللہ زہری نے یہ کہہ کر وہ ایف آئی آر خود ہی واپس لے لی کہ ان کی جانب سے قبائلی سطح پر کی جانے والی تحقیقات میں ان افراد کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں آسکے۔

 

11 مئی 2013 کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان حکومت کی تشکیل کا مرحلہ آیا توصوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر کی حیثیت سے نواب ثناءاللہ زہری ہی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے، لیکن 2 جون کو سیاحتی مقام مری میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت صوبائی اسمبلی کی65 میں صرف 8 نشستیں حاصل کرنے والی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو اڑھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے مخلوط حکومت بنائی۔ صوبے کے اکثر سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اس فیصلے کو صوبے کی حالات سے ہم آہنگ قرار دیا۔ نواب ثناءاللہ زہری کے دل میں اس وقت انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے قتل کی ایف آئی آر صوبے کے اہم قوم پرست رہنماﺅں کے خلاف درج کرا رکھی تھی جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان تھا۔ اس وقت اگر نواب ثناءاللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا جاتا تو یہ کشیدگی خون خرابے میں بدل سکتی تھی ۔

 

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کرنا مذکورہ کشیدہ صورتحال میں کمی کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے اپنے دور میں نواب ثناءاللہ زہری کی مرضی کے خلاف بہت سے فیصلے کیے جس کی شکایت وہ اکثر کرتے رہے۔ ان فیصلوں کی بناء پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نےنہ صرف بلوچستان اسمبلی کی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا بلکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تک شکایت بھی پہنچائی گئی۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین اڑھائی برس یہ شکوہ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نواز لیگ کے وزراء کو نظر انداز کرکے انہیں بے اختیار بنا رہے ہیں لیکن نواز شریف کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے سبب وہ چپ کرکے بیٹھ گئے۔

 

مری معاہدے کے بعد فوری طور پر تو اس کی تشہیر نہیں کی گئی لیکن رواں سال ڈاکٹر مالک بلوچ سے نالاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین صوبائی اسمبلی یہ معاہدہ منظر عام پر لے آئے جس کے بعد اس معاہدے کا پول میڈیا کے ذریعے کھلا۔ قوم پرست سیاسی حلقوں نے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور اسے اسلام آباد کی جانب سے صوبے کی قسمت کا فیصلہ قرار دے کر بلوچستان کی سیاسی قیادت کی توہین بھی قرار دیا۔ مری معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت 4 دسمبر کو ختم ہونی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) قیادت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کرنے پر ان چہ مگوئیوں کو تقویت ملنے لگی کہ شاید ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملے گی۔ بی بی سی جیسے معتبر ادارے نے نہ بھی اپنے تجزیے میں اس توسیع کا امکان ظاہر کیا۔ 7 دسمبر کو صوبے کے ایک مقامی روزنامے نے تو مری معاہدے کی معطلی اور میاں نواز شریف کی جانب سے ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے فیصلے کا دعویٰ اپنی شہ سرخی کے طور پر شائع کیا۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صوبے میں امن و مان کی صورتحال بہتر بنانے اور مفاہمت کی فضاء تشکیل دے کر جلا وطن بلوچ رہنماﺅں خان قلات اور براہمدغ بگٹی کو مذاکرات پر راضی کرنے کے سبب فوجی اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر مالک بلوچ سے مطمئن ہے۔ اس لیے صوبے میں فعال کردار ادا کرنے والے سابق کورکمانڈر اور موجودہ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ خبر میں سبکدوشی کے موقع پر کی گئی ناصر جنجوعہ کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ سابق کور کمانڈر نے دس منٹ تک ڈاکٹر مالک کی صلاحیتوں اور کاکردگی کی تعریف کی۔ لیکن غیر متوقع طور پر دس دسمبرکو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام میں صوبے کے متعلق ہونے والی اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد مری معاہدے پر عمل کرتے ہوئے نواب ثناءاللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا۔ نواب صاحب نے 24 دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا جس سے ایک روز قبل ڈاکٹر مالک بلوچ مستعفی ہوگئے۔

 

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے مشیروں اور قریبی ساتھیوں نے اس خدشے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر مری معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں ان کی پارٹی کا صفایا ہو سکتا ہے۔ پنجاب کے بعد مسلم لیگ نواز کی سب سے زیادہ نمائندگی (بلحاظ تناسب) بلوچستان اسمبلی میں ہی ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مقبولیت کے باعث بلوچستان میں مسلم لیگ کی موجودگی نواز شریف کے لیے بے حد اہم ہے اس لیے میاں نواز شریف نے بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

 

بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی صوبے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہوگی؟ بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ یہ حلقے عام انتخابات کے غیر فطری اور تیز رفتار عمل کی مثال بھی دیتے ہیں جس کے تحت جیت کا اعلان ہونے کے باوجود بہت سے امیدواروں کو ہار کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور ہارنے والوں کے سر جیت کا سہرا باندھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی پاک چین اقتصادی راہداری اور صوبے کی معدنی وسائل نے اس کی سیاسی و اقتصادی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ کا صوبے کے معاملات میں عمل دخل بھی زیادہ ہوا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اثرورسوخ میں اضافے کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی حکومتیں محض انتظامی امور تک محدود ہوکر اہم فیصلے کرنے کے اختیار سے محروم تر ہو گئی ہیں۔ صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر مالک چاغی میں چینی کمپنی کے زیر انتظام چلنے والے سونے اور تانبے کی پیداوار کے منصوبے سینڈک سے صوبے کو کوئی خاص فائدہ نہ ملنے کی شکایت کھلے عام کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی ثابت ہوگی جس سے صوبے کی عوام کی زندگیوں پر کسی بھی قسم کے دیرپا اثرات کی توقع خام خیالی ہے۔ پارلیمانی نظام سے بلوچوں کی بیزاری کی ایک اہم وجہ اختیارات کا سیاسی حکومتوں کی بجائے عسکری اداروں کے ہاتھوں میں سمٹ آنا ہے۔ سیاسی نظام پر سے اکثریت کا اعتماد کو ختم ہو گیا ہے جو انہیں علیحدگی پسندوں کی باتوں پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کے نزدیک پارلیمنٹ محض ربڑ اسٹیمپ ہے اور صوبے کے مسائل کا واحد حل مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی ہے۔ اب فیصلہ حکمران اشرافیہ کو کرنا ہے کہ وہ بلوچستان کو معاشی اور سیکیورٹی تناظر میں ہی دیکھتے رہیں گے یا سیاسی کھڑکی کھولنے کی کوشش بھی کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

رحم کیجیئے عالیجاہ

اسے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ انہوں نے ایک ایسی اتحادی حکومت کی سربراہی کا راستہ چنا جس کے پاس نہ اختیارات تھے نہ پوری مدت۔ نواب ثناء اللہ زہری جیسا قد آور قبائلی سردار اگر امیدوار ہو تو ڈاکٹر عبدالمالک جیسوں کی کون سنتا ہے۔
2013ء میں بلوچستان میں برائے نام انتخابات ہوئے اور ایک ایسی کمزور حکومت سامنے آئی جس کے پاس اختیارات کم اور مسائل زیادہ تھے۔ اڑھائی سال بلوچستان اسمبلی محاز آرائی کا شکار رہی۔ زیادہ تر وقت رسہ کشی میں گزر گیا۔ حکومت کے اندر بھی اور باہر بھی اقتدار کی کھچڑی پکتی رہی۔ موجودہ بندوبست کبھی ڈانواڈول ہوا تو کبھی مالک صاحب نے اپنی حیثیت منوائی۔ مسلم لیگ نواز کے پاس ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے بہتر انتخاب شاید ہی کوئی اور ہو سکتا تھا۔ لیکن مالک صاحب کی بدقسمتی کہ مسلم لیگ نواز کے پاس اکثریت تھی اور مالک صاحب ایک معاہدے کے تحت وزیراعلیٰ بنے تھے۔ شروع میں مری معاہدے کو صیغہ راز میں رکھا گیا لیکن کسی نہ کسی طرح بند کمروں کی گفتگو باہر آ ہی جاتی ہے، اڑھائی برس تک میڈیا پر مری معاہدے کا راگ الاپا گیا۔ نواب ثناء اللہ زہری کبھی اپنے حواریوں کے پہلو میں بیٹھے نظر آئے تو کبھی غصے کا اظہار کرکے پارٹی کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کے منصوبے بناتے رہے۔ اسے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ انہوں نے ایک ایسی اتحادی حکومت کی سربراہی کا راستہ چنا جس کے پاس نہ اختیارات تھے نہ پوری مدت۔ نواب ثناء اللہ زہری جیسا قد آور قبائلی سردار اگر امیدوار ہو تو ڈاکٹر عبدالمالک جیسوں کی کون سنتا ہے۔

 

جیسے تیسے کرکے ڈاکٹر مالک نے اڑھائی سال گزارے اور پھر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ کسی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو اگلے انتخابات تک وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رکھا جائے گاتو کسی نے پیش گوئی کہ مری معاہدے پر عمل ہو گا۔ یہ قیاس آرائیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب میاں نواز شریف نے نواب ثناء اللہ زہری کو اسلام آباد بلا کر ان سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا کہ نواب ثناء اللہ زہری بقیہ مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ اس سے نہ صرف مسلم لیگ نواز کی بلوچ قیادت میں خوشی کی لہڑ دوڑ گئی بلکہ ایک نیا سیاسی تنازعہ سر اٹھانے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔

 

اگرچہ ہر جگہ میاں نواز شریف کے گن گائے جا رہے ہیں اور بروقت اور ‘درست’ فیصلہ کرنے پر انہیں سراہا جا رہا ہے لیکن یہ سوال کوئی نہیں اٹھا رہا کہ بلوچوں کے حقوق کے فیصلے ہمیشہ وفاق ہی سے کیوں کرائے جاتے ہیں؟ جب بلوچستان کی اپنی اسمبلی موجود ہے تو پھر اختیارات وفاق کے پاس کیوں ہیں؟ اگر یہ اسمبلی بااختیار ہوتی تو اپنے فیصلے خود کرتی لیکن ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی جھولی وفاق کے سامنے پھیلائی گئی اور ہر جماعت نے اپنی بات منوانے کی کوشش کی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک بلوچستان کے لیے ڈاکٹر مالک ہی بہترین انتخاب تھے لیکن شاید نواب ثناءااللہ زہری بلوچستان کی سیاست میں اتنے بااثر ہیں کہ ان کی ناراضی نوازشریف مول لینا نہیں چاہتے۔ ایک بار پھر بلوچوں کے مفاد پر سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔

 

گوادر بندرگاہ کب فعال ہوگی، قتصادی راہداری کس چڑیا کا نام ہے، گوادر کی مقامی آبادی کا کیا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بلوچوں کو اس سب بکھیڑے سے کیا ملے گا ان میں سے کسی معاملے پر بلوچستان اسمبلی کو فیصلہ سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔
سبھی جانتے ہیں کہ بلوچستان میں آزادازنہ اور شفاف انتخابات نہیں ہوئے بلکہ خوف کے ماحول میں انتخابات کرائے گئے۔ بلوچستان میں ہونے والے انتخابات میں وہ بھی الیکشن جیت گئے جنہوں نے پانچ سو ووٹ حاصل کیے۔ ستم ظریفی یہ کہ ان اصحاب نے اپنی کامیابی کو فخریہ انداز میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا۔ بلوچوں کی اکثریت مختلف وجوہ کی بناء پر ا س انتخابی عمل سے دور رہی سو جب کامیاب امیدوار بھی عوامی مینڈیٹ کے حامل نہیں تو پھر بھلا ان پر مشتمل اسمبلی کی کیا وقعت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سے متعلق آج تک جتنے فیصلے کیے گئے وہ بلوچستان اسمبلی سے پوچھے بغیر کیے گئے۔ گوادر بندرگاہ اور اس سے وابستہ بڑے منصوبوں کی تعمیر کے تمام فیصلے اسمبلی اور وزیراعلیٰ سے پوچھے بغیر کیے گئے۔ موجودہ اسمبلی وفاق کے “احسانات” اور مری معاہدے تلے دبی اپنی وزارتوں کا راگ الاپتی رہی اور فیصلے اوپر ہی اوپر ہوتے رہے۔ گوادر بندرگاہ کب فعال ہوگی، قتصادی راہداری کس چڑیا کا نام ہے، گوادر کی مقامی آبادی کا کیا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بلوچوں کو اس سب بکھیڑے سے کیا ملے گا ان میں سے کسی معاملے پر بلوچستان اسمبلی کو فیصلہ سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اہم امور پر “منتخب” نمائندوں کے ذریعے عوامی تائید حاصل نہ کرنا اور بلوچوں کو اعتماد میں نہ لینا اس بات کی واضح دلیل تھی کہ موجودہ صوبائی اسمبلی ایک ربر اسٹیمپ کے سوا کچھ نہیں۔

 

کیا ہی اچھا ہوتا کہ بلوچوں کی زندگی کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہاں کے باسیوں کی رائے کا بھی احترام کیا جاتا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ اسلام آباد کی بجائے یہاں کے مقتدر حلقے اور نمائندے خود کرتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کے اصل وارثوں سے پوچھ کر وسائل کی تقسیم کی جاتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر بلوچستان کا احساسِ محرومی دور کرنے کی کوشش کی جاتی اور یہاں کا بسنے والا ہر گھرانہ خوشحال ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود اپنی سرزمین اور وسائل پر بلوچوں کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔ جب بھی بلوچستان کا معاملہ زیر بحث آتا ہے بلوچوں کے احساس محرومی کا ذکر کیا جاتا ہے، مقتدر حلقوں کی جانب سے سابقہ غلطیوں پر شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے، وعدے وعیدیں ہوتی ہیں لیکن یہاں کی تقدیر کبھی نہیں بدلتی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک غیر سردار سیاستدان اقتدار میں آیا تھا لیکن جو امیدیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے وابستہ کی گئی تھیں بدقسمتی سے ڈاکٹر صاحب اور ان کی حکومت ان پر پورے نہیں اترے۔ انتخابات سے پہلے ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ان کی جماعت کو اقتدار نصیب ہوگا اس لیے بھی وہ پورے اعتماد کے ساتھ حکومت نہیں کر سکے۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اس منصب کے لیے منتخب نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ کسی اور کی خواہش پر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور جب بھی ‘وہ’ چاہیں وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
ان اڑھائی سالوں کے دوران بلوچستان اسمبلی میں جاری رہنے والے جوڑ توڑ سے یہ بات عیاں تھی کہ یہاں کی اسمبلی کے پاس بلوچستان کی تقدیر بدلنے کا کوئی چھو منتر موجود نہیں، فیصلے کہیں اور ہوتےرہے اور یہ اسمبلی محض ان کی “توثیق” کرتی رہی۔ وزیراعظم میاں نوازشریف صاحب کے حالیہ فیصلے نے نہ صرف سیاسی ناقدین کو حیران کیا بلکہ صحافی حلقوں میں جاری قیاس آرائیاں بھی مری معاہدے پر عملدرآمد کے اعلان کے ساتھ دم توڑ گئیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اس منصب کے لیے منتخب نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ کسی اور کی خواہش پر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور جب بھی ‘وہ’ چاہیں وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

 

اسے بلوچستان والوں کی بدقسمتی کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کا متوسط طبقہ یہاں کے عوام کی ترجمانی نہیں کر سکا اور اسمبلی میں موجود نمائندوں کا واحد مقصد وزارت عظمیٰ کا حصول رہا۔ بلوچستان کے عوام کی خواہشات کیا ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اس جانب توجہ دینے کی کسی کو فرصت ہی نہیں ملی جیسے یہ ان کے حصے کا کام ہی نہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے بیشتر اراکین عوامی ووٹوں سے منتخب ہی نہیں ہوئے تو پھر بھلا وہ عوام کی ترجمانی کیا کرتے۔ عوام جھوٹے خداؤں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اختیار کسی کے پاس ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ ہم سب بس ایک ہی فریاد کر سکتے ہیں رحم کیجیئے عالیجاہ، رحم۔