Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی

بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی جگہ نواب ثناءاللہ زہری کا وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنا چہروں کی تبدیلی کا وہ تسلسل ہے جسے صوبے کے عوام عرصے سے دیکھتے آئے ہیں اس لیے اس تبدیلی کو مخصوص سیاسی حلقوں کے سوا عوامی سطح پر کوئی خاص توجہ نہیں مل سکی۔ صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہو گئی ہے جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارے جانے والے چھاپوں اور خانہ تلاشیوں کے دوران مکران ڈویژن کے کچھ علاقوں میں گھروں کو بھی جلایا گیاجس کا اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑا ہے۔ ایسی کارروائیوں کے ردعمل میں علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کی جانب سے کرائی جانے والی شٹرڈاﺅن ہڑتالوں کے بعد سیکیورٹی ادارے کھل کر میدان میں آگے ہیں۔ اخبارات میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہڑتالوں کے اعلانات کی اشاعت کے خلاف سیکیورٹی اینجسیاں بھی بیان بازی کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں صوبے کے تاجر مقامی صحافیوں کی طرح سیکیورٹی اداروں اور علیحدگی پسندوں کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں کیونکہ اگر وہ ہڑتال کی اپیل پر دکانیں بند نہ کریں تو علیحدگی پسند تنظیمیوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر دکانیں بند رکھیں تو سیکیورٹی اداروں کے غیض و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے صوبے کے حالات کو عام لوگوں کے لیے سازگار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بلوچستان میں اب بھی کسی نہ کسی سطح پر سیکیورٹی ایجنسیوں اور مسلح علیحدگی پسندوں میں کشمکش جار ی ہے۔

 

صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری کے آثار ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہوگئے ہیں جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
مئی 2013 میں الیکشن مہم کے دوران نومنتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے قافلے پر خضدار کے علاقے زہری میں ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے بیٹے سکندر زہری، بھائی مہراللہ زہری اور بھتیجے میر زیب زہری سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری 2002 میں بننے والی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ بلوچ لبریشن آرمی کے متعلق نواب ثناءاللہ زہری کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کو مرحوم نواب خیر بخش مری کے لندن میں مقیم صاحبزادے نوابزادہ حیر بیار مری چلا رہے ہیں۔ زہری واقعے کے بعد نواب ثناءاللہ زہری نے بظاہر جذبات میں آکر بلوچستان کے اہم قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادے حیر بیار مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور اس کے صاحبزادوں اختر مینگل اور جا وید مینگل، اور مکران میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ حال ہی میں نواب ثناءاللہ زہری نے یہ کہہ کر وہ ایف آئی آر خود ہی واپس لے لی کہ ان کی جانب سے قبائلی سطح پر کی جانے والی تحقیقات میں ان افراد کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں آسکے۔

 

11 مئی 2013 کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان حکومت کی تشکیل کا مرحلہ آیا توصوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر کی حیثیت سے نواب ثناءاللہ زہری ہی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے، لیکن 2 جون کو سیاحتی مقام مری میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت صوبائی اسمبلی کی65 میں صرف 8 نشستیں حاصل کرنے والی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو اڑھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے مخلوط حکومت بنائی۔ صوبے کے اکثر سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اس فیصلے کو صوبے کی حالات سے ہم آہنگ قرار دیا۔ نواب ثناءاللہ زہری کے دل میں اس وقت انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے قتل کی ایف آئی آر صوبے کے اہم قوم پرست رہنماﺅں کے خلاف درج کرا رکھی تھی جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان تھا۔ اس وقت اگر نواب ثناءاللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا جاتا تو یہ کشیدگی خون خرابے میں بدل سکتی تھی ۔

 

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کرنا مذکورہ کشیدہ صورتحال میں کمی کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے اپنے دور میں نواب ثناءاللہ زہری کی مرضی کے خلاف بہت سے فیصلے کیے جس کی شکایت وہ اکثر کرتے رہے۔ ان فیصلوں کی بناء پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نےنہ صرف بلوچستان اسمبلی کی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا بلکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تک شکایت بھی پہنچائی گئی۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین اڑھائی برس یہ شکوہ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نواز لیگ کے وزراء کو نظر انداز کرکے انہیں بے اختیار بنا رہے ہیں لیکن نواز شریف کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے سبب وہ چپ کرکے بیٹھ گئے۔

 

مری معاہدے کے بعد فوری طور پر تو اس کی تشہیر نہیں کی گئی لیکن رواں سال ڈاکٹر مالک بلوچ سے نالاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین صوبائی اسمبلی یہ معاہدہ منظر عام پر لے آئے جس کے بعد اس معاہدے کا پول میڈیا کے ذریعے کھلا۔ قوم پرست سیاسی حلقوں نے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور اسے اسلام آباد کی جانب سے صوبے کی قسمت کا فیصلہ قرار دے کر بلوچستان کی سیاسی قیادت کی توہین بھی قرار دیا۔ مری معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت 4 دسمبر کو ختم ہونی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) قیادت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کرنے پر ان چہ مگوئیوں کو تقویت ملنے لگی کہ شاید ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملے گی۔ بی بی سی جیسے معتبر ادارے نے نہ بھی اپنے تجزیے میں اس توسیع کا امکان ظاہر کیا۔ 7 دسمبر کو صوبے کے ایک مقامی روزنامے نے تو مری معاہدے کی معطلی اور میاں نواز شریف کی جانب سے ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے فیصلے کا دعویٰ اپنی شہ سرخی کے طور پر شائع کیا۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صوبے میں امن و مان کی صورتحال بہتر بنانے اور مفاہمت کی فضاء تشکیل دے کر جلا وطن بلوچ رہنماﺅں خان قلات اور براہمدغ بگٹی کو مذاکرات پر راضی کرنے کے سبب فوجی اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر مالک بلوچ سے مطمئن ہے۔ اس لیے صوبے میں فعال کردار ادا کرنے والے سابق کورکمانڈر اور موجودہ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ خبر میں سبکدوشی کے موقع پر کی گئی ناصر جنجوعہ کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ سابق کور کمانڈر نے دس منٹ تک ڈاکٹر مالک کی صلاحیتوں اور کاکردگی کی تعریف کی۔ لیکن غیر متوقع طور پر دس دسمبرکو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام میں صوبے کے متعلق ہونے والی اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد مری معاہدے پر عمل کرتے ہوئے نواب ثناءاللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا۔ نواب صاحب نے 24 دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا جس سے ایک روز قبل ڈاکٹر مالک بلوچ مستعفی ہوگئے۔

 

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے مشیروں اور قریبی ساتھیوں نے اس خدشے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر مری معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں ان کی پارٹی کا صفایا ہو سکتا ہے۔ پنجاب کے بعد مسلم لیگ نواز کی سب سے زیادہ نمائندگی (بلحاظ تناسب) بلوچستان اسمبلی میں ہی ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مقبولیت کے باعث بلوچستان میں مسلم لیگ کی موجودگی نواز شریف کے لیے بے حد اہم ہے اس لیے میاں نواز شریف نے بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

 

بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی صوبے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہوگی؟ بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ یہ حلقے عام انتخابات کے غیر فطری اور تیز رفتار عمل کی مثال بھی دیتے ہیں جس کے تحت جیت کا اعلان ہونے کے باوجود بہت سے امیدواروں کو ہار کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور ہارنے والوں کے سر جیت کا سہرا باندھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی پاک چین اقتصادی راہداری اور صوبے کی معدنی وسائل نے اس کی سیاسی و اقتصادی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ کا صوبے کے معاملات میں عمل دخل بھی زیادہ ہوا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اثرورسوخ میں اضافے کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی حکومتیں محض انتظامی امور تک محدود ہوکر اہم فیصلے کرنے کے اختیار سے محروم تر ہو گئی ہیں۔ صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر مالک چاغی میں چینی کمپنی کے زیر انتظام چلنے والے سونے اور تانبے کی پیداوار کے منصوبے سینڈک سے صوبے کو کوئی خاص فائدہ نہ ملنے کی شکایت کھلے عام کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی ثابت ہوگی جس سے صوبے کی عوام کی زندگیوں پر کسی بھی قسم کے دیرپا اثرات کی توقع خام خیالی ہے۔ پارلیمانی نظام سے بلوچوں کی بیزاری کی ایک اہم وجہ اختیارات کا سیاسی حکومتوں کی بجائے عسکری اداروں کے ہاتھوں میں سمٹ آنا ہے۔ سیاسی نظام پر سے اکثریت کا اعتماد کو ختم ہو گیا ہے جو انہیں علیحدگی پسندوں کی باتوں پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کے نزدیک پارلیمنٹ محض ربڑ اسٹیمپ ہے اور صوبے کے مسائل کا واحد حل مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی ہے۔ اب فیصلہ حکمران اشرافیہ کو کرنا ہے کہ وہ بلوچستان کو معاشی اور سیکیورٹی تناظر میں ہی دیکھتے رہیں گے یا سیاسی کھڑکی کھولنے کی کوشش بھی کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

رحم کیجیئے عالیجاہ

اسے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ انہوں نے ایک ایسی اتحادی حکومت کی سربراہی کا راستہ چنا جس کے پاس نہ اختیارات تھے نہ پوری مدت۔ نواب ثناء اللہ زہری جیسا قد آور قبائلی سردار اگر امیدوار ہو تو ڈاکٹر عبدالمالک جیسوں کی کون سنتا ہے۔
2013ء میں بلوچستان میں برائے نام انتخابات ہوئے اور ایک ایسی کمزور حکومت سامنے آئی جس کے پاس اختیارات کم اور مسائل زیادہ تھے۔ اڑھائی سال بلوچستان اسمبلی محاز آرائی کا شکار رہی۔ زیادہ تر وقت رسہ کشی میں گزر گیا۔ حکومت کے اندر بھی اور باہر بھی اقتدار کی کھچڑی پکتی رہی۔ موجودہ بندوبست کبھی ڈانواڈول ہوا تو کبھی مالک صاحب نے اپنی حیثیت منوائی۔ مسلم لیگ نواز کے پاس ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے بہتر انتخاب شاید ہی کوئی اور ہو سکتا تھا۔ لیکن مالک صاحب کی بدقسمتی کہ مسلم لیگ نواز کے پاس اکثریت تھی اور مالک صاحب ایک معاہدے کے تحت وزیراعلیٰ بنے تھے۔ شروع میں مری معاہدے کو صیغہ راز میں رکھا گیا لیکن کسی نہ کسی طرح بند کمروں کی گفتگو باہر آ ہی جاتی ہے، اڑھائی برس تک میڈیا پر مری معاہدے کا راگ الاپا گیا۔ نواب ثناء اللہ زہری کبھی اپنے حواریوں کے پہلو میں بیٹھے نظر آئے تو کبھی غصے کا اظہار کرکے پارٹی کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کے منصوبے بناتے رہے۔ اسے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ انہوں نے ایک ایسی اتحادی حکومت کی سربراہی کا راستہ چنا جس کے پاس نہ اختیارات تھے نہ پوری مدت۔ نواب ثناء اللہ زہری جیسا قد آور قبائلی سردار اگر امیدوار ہو تو ڈاکٹر عبدالمالک جیسوں کی کون سنتا ہے۔

 

جیسے تیسے کرکے ڈاکٹر مالک نے اڑھائی سال گزارے اور پھر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ کسی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو اگلے انتخابات تک وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رکھا جائے گاتو کسی نے پیش گوئی کہ مری معاہدے پر عمل ہو گا۔ یہ قیاس آرائیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب میاں نواز شریف نے نواب ثناء اللہ زہری کو اسلام آباد بلا کر ان سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا کہ نواب ثناء اللہ زہری بقیہ مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ اس سے نہ صرف مسلم لیگ نواز کی بلوچ قیادت میں خوشی کی لہڑ دوڑ گئی بلکہ ایک نیا سیاسی تنازعہ سر اٹھانے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔

 

اگرچہ ہر جگہ میاں نواز شریف کے گن گائے جا رہے ہیں اور بروقت اور ‘درست’ فیصلہ کرنے پر انہیں سراہا جا رہا ہے لیکن یہ سوال کوئی نہیں اٹھا رہا کہ بلوچوں کے حقوق کے فیصلے ہمیشہ وفاق ہی سے کیوں کرائے جاتے ہیں؟ جب بلوچستان کی اپنی اسمبلی موجود ہے تو پھر اختیارات وفاق کے پاس کیوں ہیں؟ اگر یہ اسمبلی بااختیار ہوتی تو اپنے فیصلے خود کرتی لیکن ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی جھولی وفاق کے سامنے پھیلائی گئی اور ہر جماعت نے اپنی بات منوانے کی کوشش کی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک بلوچستان کے لیے ڈاکٹر مالک ہی بہترین انتخاب تھے لیکن شاید نواب ثناءااللہ زہری بلوچستان کی سیاست میں اتنے بااثر ہیں کہ ان کی ناراضی نوازشریف مول لینا نہیں چاہتے۔ ایک بار پھر بلوچوں کے مفاد پر سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔

 

گوادر بندرگاہ کب فعال ہوگی، قتصادی راہداری کس چڑیا کا نام ہے، گوادر کی مقامی آبادی کا کیا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بلوچوں کو اس سب بکھیڑے سے کیا ملے گا ان میں سے کسی معاملے پر بلوچستان اسمبلی کو فیصلہ سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔
سبھی جانتے ہیں کہ بلوچستان میں آزادازنہ اور شفاف انتخابات نہیں ہوئے بلکہ خوف کے ماحول میں انتخابات کرائے گئے۔ بلوچستان میں ہونے والے انتخابات میں وہ بھی الیکشن جیت گئے جنہوں نے پانچ سو ووٹ حاصل کیے۔ ستم ظریفی یہ کہ ان اصحاب نے اپنی کامیابی کو فخریہ انداز میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا۔ بلوچوں کی اکثریت مختلف وجوہ کی بناء پر ا س انتخابی عمل سے دور رہی سو جب کامیاب امیدوار بھی عوامی مینڈیٹ کے حامل نہیں تو پھر بھلا ان پر مشتمل اسمبلی کی کیا وقعت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سے متعلق آج تک جتنے فیصلے کیے گئے وہ بلوچستان اسمبلی سے پوچھے بغیر کیے گئے۔ گوادر بندرگاہ اور اس سے وابستہ بڑے منصوبوں کی تعمیر کے تمام فیصلے اسمبلی اور وزیراعلیٰ سے پوچھے بغیر کیے گئے۔ موجودہ اسمبلی وفاق کے “احسانات” اور مری معاہدے تلے دبی اپنی وزارتوں کا راگ الاپتی رہی اور فیصلے اوپر ہی اوپر ہوتے رہے۔ گوادر بندرگاہ کب فعال ہوگی، قتصادی راہداری کس چڑیا کا نام ہے، گوادر کی مقامی آبادی کا کیا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بلوچوں کو اس سب بکھیڑے سے کیا ملے گا ان میں سے کسی معاملے پر بلوچستان اسمبلی کو فیصلہ سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اہم امور پر “منتخب” نمائندوں کے ذریعے عوامی تائید حاصل نہ کرنا اور بلوچوں کو اعتماد میں نہ لینا اس بات کی واضح دلیل تھی کہ موجودہ صوبائی اسمبلی ایک ربر اسٹیمپ کے سوا کچھ نہیں۔

 

کیا ہی اچھا ہوتا کہ بلوچوں کی زندگی کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہاں کے باسیوں کی رائے کا بھی احترام کیا جاتا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ اسلام آباد کی بجائے یہاں کے مقتدر حلقے اور نمائندے خود کرتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کے اصل وارثوں سے پوچھ کر وسائل کی تقسیم کی جاتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر بلوچستان کا احساسِ محرومی دور کرنے کی کوشش کی جاتی اور یہاں کا بسنے والا ہر گھرانہ خوشحال ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود اپنی سرزمین اور وسائل پر بلوچوں کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔ جب بھی بلوچستان کا معاملہ زیر بحث آتا ہے بلوچوں کے احساس محرومی کا ذکر کیا جاتا ہے، مقتدر حلقوں کی جانب سے سابقہ غلطیوں پر شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے، وعدے وعیدیں ہوتی ہیں لیکن یہاں کی تقدیر کبھی نہیں بدلتی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک غیر سردار سیاستدان اقتدار میں آیا تھا لیکن جو امیدیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے وابستہ کی گئی تھیں بدقسمتی سے ڈاکٹر صاحب اور ان کی حکومت ان پر پورے نہیں اترے۔ انتخابات سے پہلے ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ان کی جماعت کو اقتدار نصیب ہوگا اس لیے بھی وہ پورے اعتماد کے ساتھ حکومت نہیں کر سکے۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اس منصب کے لیے منتخب نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ کسی اور کی خواہش پر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور جب بھی ‘وہ’ چاہیں وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
ان اڑھائی سالوں کے دوران بلوچستان اسمبلی میں جاری رہنے والے جوڑ توڑ سے یہ بات عیاں تھی کہ یہاں کی اسمبلی کے پاس بلوچستان کی تقدیر بدلنے کا کوئی چھو منتر موجود نہیں، فیصلے کہیں اور ہوتےرہے اور یہ اسمبلی محض ان کی “توثیق” کرتی رہی۔ وزیراعظم میاں نوازشریف صاحب کے حالیہ فیصلے نے نہ صرف سیاسی ناقدین کو حیران کیا بلکہ صحافی حلقوں میں جاری قیاس آرائیاں بھی مری معاہدے پر عملدرآمد کے اعلان کے ساتھ دم توڑ گئیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اس منصب کے لیے منتخب نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ کسی اور کی خواہش پر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور جب بھی ‘وہ’ چاہیں وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

 

اسے بلوچستان والوں کی بدقسمتی کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کا متوسط طبقہ یہاں کے عوام کی ترجمانی نہیں کر سکا اور اسمبلی میں موجود نمائندوں کا واحد مقصد وزارت عظمیٰ کا حصول رہا۔ بلوچستان کے عوام کی خواہشات کیا ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اس جانب توجہ دینے کی کسی کو فرصت ہی نہیں ملی جیسے یہ ان کے حصے کا کام ہی نہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے بیشتر اراکین عوامی ووٹوں سے منتخب ہی نہیں ہوئے تو پھر بھلا وہ عوام کی ترجمانی کیا کرتے۔ عوام جھوٹے خداؤں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اختیار کسی کے پاس ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ ہم سب بس ایک ہی فریاد کر سکتے ہیں رحم کیجیئے عالیجاہ، رحم۔
Categories
نقطۂ نظر

خوش قسمت کابینہ، بدقسمت بلوچستان

[blockquote style=”3″]

یہ تحریر لالٹین کے ای میل پتہ contribute@laaltain.com پر موصول ہوئی تھی، تاہم اس تحریر پر اس کے مصنف کا نام موجود نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ اسے مصنف کے نام کے بغیر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم اس گم نام مصنف کے شکر گزار ہیں۔

[/blockquote]

بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد 65 ہے۔ یہ سب 2013ء کے انتخابات سے پہلے خود کو وزیر کے روپ میں دیکھتے ہوں گے کیوں کہ اُس وقت نواب رئیسانی حکومت میں ہررکن وزیر تھا، صرف ایک رکن حزبِ اختلاف میں تھا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے ہوا کا ایک جھونکا آیا، کسی شاطر دماغ نے یہ سُجھایا کہ وزرا کی تعداد کم کر دی جا ئے۔ اٹھارہویں ترمیم آئی جس کے تحت صرف چودہ وزرا پراتفاق ہوا اس طرح ڈاکٹر مالک کی حکومت میں اُن کے خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ جن کی قسمت اچھی تھی وہ کابینہ کا حصہ بن گئے اور باقی سب فقیر۔۔۔مطلب پورٹ فولیو کے بغیر وزیر۔

 

جان محمد جمالی صاحب کے استعفے کے بعد اس اسمبلی کا کوئی مستقل سپیکر نہیں۔ ڈپٹی سپیکراور قائم مقام سپیکر جناب عبدالقدوس بزنجو صاحب کے حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے اور وزیراعلیٰ صاحب الیکشن ہار چکے تھے۔ چند حلقے اور ہیں جن کا نتیجہ متنازع رہا۔ اب کس سے گلہ کریں یہاں کوئی عمران خان نہیں اگر ہوتے بھی تو ایک حلقہ تک نہیں کھلوا سکتے تھے۔ جہاں من و سلویٰ اترتے ہوں وہاں عمران خان کی کیا اوقات۔ یہ وہ اسمبلی ہے جس کاقائم مقام سپیکر اور ڈپٹی سپیکر، وزیر اعلیٰ اور گورنر بیک وقت ملک سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اسمبلی 34 اراکین کو ایک تقریب میں حصہ لینے کے لیے ملک سے باہر بھیجتی ہے جس کا بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ یہ وہ اسمبلی ہے جس کے ارکان طلبہ دورے کے لیے مستحق طلباء کی بجائے اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں اور یہ وہ اسمبلی ہے جس کی کابینہ میں کوئی عورت ہے نہ کسی اقلیت کو جگہ دی گئی ہے۔

 

اسمبلی میں 51 نشستیں عمومی نشستیں ہیں، 11 خواتین کے لیے اور 3 اقلیتوں کے لیے مختص ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 33نشستیں درکار ہیں۔ اس وقت اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے 22، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے14، نیشنل پارٹی کے 11، جمعیت علمائے اسلام(ف) کے8، پی یم ایل ق کے 4، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2، اے این پی کا 1، مجلس وحدت المسلمین کا 1، بی این پی (عوامی)کا 1 اور ایک آزاد حیثیت سے ایم پی اے ہے۔

 

یہ اسمبلی 34 اراکین کو ایک تقریب میں حصہ لینے کے لیے ملک سے باہر بھیجتی ہے جس کا بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ یہ وہ اسمبلی ہے جس کے ارکان طلبہ دورے کے لیے مستحق طلباء کی بجائے اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں اور یہ وہ اسمبلی ہے جس کی کابینہ میں کوئی عورت ہے نہ کسی اقلیت کو جگہ دی گئی ہے۔
جب ڈاکٹر عبد المالک صاحب وزیرِ اعلیٰ بنے تو ہم نے بھی لکھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیر سردار، غیر نواب وزیر اعلیٰ بنے ہیں، لیکن متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سے عوام کو جتنی امیدیں و ابستہ تھیں سب خاک میں مل گئی ہیں۔ کیو ں کہ تعلیمی ایمرجنسی، صحت اور پر امن بلوچستان وغیرہ کا نعرہ بلند کر کے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برا جمان ہوئے تھے یا کر دیئے گئے تھے وہ خود کہتے ہیں میرے پاس اختیار نہیں۔۔۔ آج تعلیم ہے تو ایمرجنسی میں، ڈاکٹر اور مریض برابر بڑھ رہے ہیں، امن ہے توبندوق کی نوک پر۔

 

موجودہ کابینہ ماشاء اللہ سے ایک سینئر وزیر سمیت چودہ وزرا اور پانچ مشیران پر مشتمل ہے جس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے:

 

مسلم لیگ نواز کے وزرا
جناب ثناء اللہ زہری صاحب واحد سینیئر وزیر ہیں۔ ن لیگ کے صوبائی وزیر ہیں۔ حلقہ PB-33 خضدار سے منتخب ہوئے ہیں۔ نواب آف جھالاوان ہیں۔ آپ کے پاس C&W، کان کنی اور صنعت کے محکمے ہیں۔ مری معاہدے کے تحت مبینہ طور پر آپ نے اڑھائی سال بعد وزیر اعلیٰ بننا ہے وہ بھی اگلے ماہ یعنی دسمبر میں۔ ا ب دیکھنا یہ ہے کہ اس وعدے کا پاس رکھا جائے گا یا پھر بلوچستان کی تاریخ میں ایک اور’وعدہ‘ وفا نہیں ہو گا۔ کیونکہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو کافی تحفظات ہیں۔ زہری صاحب نے اپنے علاقے میں سڑکیں اور سکول بنوائے ہیں۔ جہاں تک محکموں کی بات ہے تو ان میں کوئی خاص ترقی نہیں ہو سکی ہے البتہ حال ہی میں سی اینڈ ڈبلیو میں اکیس سول انجینئر بذریعہ پبلک سروس کمیشن بھرتی ہو چکے ہیں لیکن صوبے میں کوئی اچھی سڑک نہیں بن پائی۔ اگر مائنز اور انڈسٹریز میں بھی بلوچستان کے انجینئرز کو موقع دیا جائے تو کیا ہی بات ہے۔

 

بلوچستان کو فروٹ گارڈن آف پاکستان کہا جاتاہے لیکن اہل بلوچستان اس باغ کے پھل سے آج تک مستفید نہیں ہوسکے۔
آب پاشی اور توانائی کے وزیر چنگیز مری صاحب ہیں۔ آپ PB-23کوہلو سے منتخب ہوئے۔ مری صاحب فراریوں سے ہتھیار ڈلوانے کے علاوہ کبھی نظر نہیں آتے۔ موصوف بھی وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں اسی لیے اتنے فراری ان کے گھر آکر ہتھیا ڈال رہے ہیں۔ یہ سلسلہ شاید ایک ماہ اور چلے گا۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف ملم لیگ نواز کی کوشش ہے کہ ناراض بلوچ قومی دھارے میں شامل ہوں دوسری طرف مری صاحب ہیں جو اس بات کے حق میں نہیں۔ اگر کسی نے ان کو اپنے دفتر میں کبھی دیکھا ہو تو ہمیں بھی کوئی تصویر بھیج دے شکر گزار ہوں گا۔

 

سرفراز بگٹی صاحب کے پاس داخلہ، قبائلی امور، جیل خانہ جات اور پی ڈی ایم اے کے محکمے ہیں۔ حلقہ PB-24 ڈیرہ بگٹی سے منتخب ہوئے۔ ہوم منسٹر ہیں۔ ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔ دہشت گردی ختم کرنے کے دعویدار ہیں۔ یہ بھی مری صاحب کی طرح فراریوں سے ہتھیار ڈلواتے رہتے ہیں اور ذرائع کے مطابق یہ بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ‘بہترین’ امیدوار ہیں۔ اس سے آپ بلوچستان میں مسلم لیگ نواز کے نظم و ضبط کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ رواں سال جنوری میں پی ڈی ایم اے میں آٹھ سو امیدواروں کا امتحان ہوا۔ تین سو سے زائد پاس ہوئے۔ کمال تو یہ ہے کہ سب امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا آرہا ہے ’چند نا گزیر وجوہ کی بنا پر انٹرویو منسوخ ہوگئے ہیں اور نئی تاریخ بذریعہ اشتہار دی جائے گی’۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آج تک اطلاع نہیں دی گئی اور لوگ نوکری کر رہے ہیں ۔ آواران میں زلزلہ زدگان کے لیے گھروں کا تعمیراتی کا کام جاری تھا۔ کافی گھر بن چکے تھے لیکن پھرعزیز جمالی صاحب کو بلا کسی وجہ کے اوایس ڈی بنا دیا گیا، یہ تھا ایمانداری کا صلہ ۔

 

میر سرفراز ڈومکی کے پاس لیبراینڈ پاور، سماجی بہبود اورغیر رسمی تعلیم کے محکمے ہیں۔ PB-21 سبی سے منتخب ہوئے ہیں۔ مزدوروں کی حالت سب پر عیاں ہے اوریہ غیر رسمی تعلیم کس بھلا کا نام ہے یہ راز موصوفکی ذات تک محدود ہیں۔ تھوڑے کو بہت سمجھیں۔

 

PB-27جعفر آباد 3سے جناب میر اظہار کھوسو صاحب خوراک اور بہبود نسواں کے وزیر ہیں۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

 

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے وزرا
صحت عامہ کے وز نواب ایاز جوگیزئی ہیں۔ PB-3کوئٹہ 3 سے منتخب ہوئے۔ حلقے کے عوام آپ کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں صحت عامہ کے مختلف منصوبے چل رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کو صاف پانی میسر نہیں۔

 

PB-10 پشین 3سے سردار غلام مصطفی خان ترین مقامی حکومتوں، دیہی ترقی اور شہری منصوبہ بندی کے وزیر ہیں۔ میٹرک تک تعلیم پائی ہے۔ ان کی وزارت کے تحت دیہی علاقے تو ایک طرف شہری علاقے بھی ترقی اور منصوبہ بندی سے محروم ہیں۔

 

جناب ڈاکٹر حامد خان اچکزئی PB-11قلعہ عبداللہ 1سے منتخب ہوئے۔ پاکستان سے دو ماہ اور ایک دن بڑے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بھائی ہیں۔ ترقی و منصوبہ بندی،کیو ڈی اے، بی ڈی اے، جی ڈی اے اور بی سی ڈی اے کے وزیرہیں۔ یعنی کوئٹہ اتھارٹی سے گوادر اتھارٹی تک آپ کی اتھارٹی ہے۔ کوئٹہ کی ترقی کا پول بارش کی ایک بوندکے ساتھ ہی کھل جاتا ہے۔ گوادر کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگرکہیں سے کوئی فتویٰ جاری نہ ہو تو کہا جا سکتا ہے گوادر کی حافظ افواج پاکستان ہیں۔ موصوف کی کارکردگی سے پردہ اٹھانے کے لیے اُن کا یہ بیان کافی ہے ’وقت نہ ملنے کی وجہ سے پندرہ ارب خرچ نہ ہو سکے‘۔ اس کے علاوہ محکمہ زراعت کے فنڈز بی ڈی اے کو منتقل کیے جاتے رہے ہیں۔

 

وزارتِ اطلاعات، قانون، آئی ٹی کے وزیر جناب عبد الرحیم خان ترین المشہور رحیم زیارتوال ہیں۔ PB-22ہرنائی سبی سے منتخب ہوئے۔ اطلاع کس بات کی دیں جب میڈیا بلوچستان کو کور ہی نہیں کرتا۔ قانون ہوتا تو حالات اچھے ہوتے۔ ہاں ایک آئی ٹی یونیورسٹی ہے کوئٹہ میں۔۔۔

 

نیشنل پارٹی کے وزرا
PB-2 خضدار 2سے منتخب ہونے والے سردار محمد اسلم بزنجو صاحب زراعت اور کوآپریٹو کے وزیر ہیں۔ خود بھی زمیندار ہیں پر یہ کوآپریٹو کس بھلا کا نام ہے؟ اس محکمے کا مقصد نئی ٹیکنالوجی کا استعمال اور سبزیوں اور پھلوں کی نمائش ہے۔ نئی ٹیکنالوجی اب تک ٹریکٹر ہے اور نمائش کی جہاں تک بات ہے تو بلوچستان میں کوئی بڑی مارکیٹ ہی نہیں۔ اگر بنائی جائے تو اس میں پورے ملک کا فائدہ ہے۔ بلوچستان کو ‘فروٹ گارڈن آف پاکستان’ کہا جاتاہے لیکن اہل بلوچستان اس باغ کے پھل سے آج تک بہرہ مند نہیں ہوسکے۔

 

میر خالد سیاست کا فن جانتے ہیں۔ جہاں جاتے ہیں، جو بھی حالات ہوں ان کی تصویر اخبار کی زینت بنی رہتی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ان کا عکس کسی اخبار میں نہ چھپے۔ باقی وزرا ایک طرف، میر خالد ایک طرف۔
نواب محمد خان شاہوانی صاحب ایس اینڈ جی اے ڈی کے وزیر ہیں۔ PB-38کوئٹہ، مستونگ سے ایم پی اے بنے۔ حال ہی میں اسسٹنٹ کمشنر اور سیکشن آفیسر کی اسامیاں مشتہر ہو چکی ہیں۔ دعا ہے انتخاب میرٹ پر ہو۔ وزارت سے پہلے پیدل چلتے پھرتے تھے مگر اب پیدل نظر ہی نہیں آتے۔ جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا تھا وہ اپنی غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں۔
میر مجیب الرحمان محمد حسنی PB-47واشک سے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ آپ کے پاس اقلیت، انسانی حقوق، کھیل،

 

ثقافت، آرکائیوز، ویلفیئر، نوجوانوں کے امور اور سیاحت کی وزارتیں ہیں۔ کھیل پر زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے بطور وزیر کھیل ہی جانے جاتے ہیں۔ سخت سیکیورٹی میں بگٹی اسٹیڈیم میں سپورٹس فیسٹیول منعقد کرا چکے ہیں۔ کھیلوں کی ہر تقریب کے مہمان خاص اس وقت کے کمانڈر سدرن کمانڈ المشہور ناصر جنجوعہ صاحب ہوا کرتے تھے جو کہ آج کل قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ انسانی حقوق اور وہ بھی بلوچستان میں ۔۔۔حکومت کو اقلیتوں کے لیے کوئی ایسا وزیر نہ مل سکا جس کا تعلق کسی اقلیتی فرقے سے ہو۔ حکومت کی بھی مجبوری ہے کیونکہ کابینہ کی حد چودہ وزراء ہیں۔ جب حالات ٹھیک نہیں تو سیاح کیسے آئیں گے۔ محکمہ امور نوجوانان میں سوائے ایک سیکرٹری کے کوئی اور ملازم ہی نہیں اور ماشاء اللہ سے کوئٹہ میں یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر ابھی زیرِ تعمیر ہے۔

 

وزیر صحت رحمت علی بلوچ المشہور رحمت صالح بلوچ ہیں۔ PB-42پنجگور 1سے انتخاب لڑا۔ وزارت کے ابتدائی دنوں میں کافی چست تھے۔ عارضی عہدوں پر کام کرنے والوں کو مستقل کیا۔ ہسپتالوں میں صفائی کا نظام بہتربنوایا، ڈاکٹرز بھی ڈیوٹی دینے لگے تھے۔ مگراب وہ بات نہیں رہی۔ ڈاکٹر بھی بڑھ رہے ہیں اور مریض بھی۔۔۔کاش رحمت صاحب پرائیویٹ ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کریں۔

 

ق لیگ کے وزیر
ریوینیو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ کے وزیر PB-19ژوب سے جعفر مندوخیل ہیں۔ جب بھی اسمبلی میں آئے وزیر بنے۔ سابقہ حکومتوں میں خزانہ، تعلیم اور ترقی و منصوبہ بندی کے وزیر رہے ہیں۔ تجربہ کار ہیں۔ حال ہی میں ایکسائیز آفیسر کی صرف چار اسامیاں چار ڈویژنزکے لیے مشتہر ہو گئی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ناکام تجربہ کر چکے۔ کراچی بس اڈہ کو شہر سے دورہزار گنجی منتقل کرنا چاہتے تھے پر کچھ نہ ہوا لوگ ذلیل ہوگئے۔ اگرمندوخیل صاحب صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک سگنلز کی مرمت اور بحالی پہ توجہ دیں تو قوم ان کا احسان مند رہے گی اور یہ جو کوئٹہ میں Paid Parking شروع کروائی ہے میئر جناب ڈاکٹر کلیم صاحب نے۔ حضور اس طرف بھی دھیان دیں۔

 

مشیرانِ وزیر اعلیٰ
ڈاکٹر مالک صاحب نے کئی محکمے اپنے پاس بھی رکھے ہیں اور ظاہر ہے ان محکموں کے لیے مشیران کا تقرر بھی کیا گیا ہے۔

 

تعلیم کے مشیر سردار رضا محمد بڑیچ ہیں۔ PB-4کوئٹہ 4 سے پشتونخو ا ملی عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ یہ نشست بی این پی جیت چکی تھی پھر رات گئی اور بات گئی اور نتیجہ تبدیل ہوا۔ بڑیچ صاحب پاکستان سے بڑے ہیں اور معمر رکن اسمبلی ہیں لیکن تعلیم کی حالت بہتر نہیں کر سکے۔ اداروں کی ابتر حالت کو بہتر بناتے تو اچھا تھا مگر یہ صاحب بضد ہیں کہ نقل کا خاتمہ ہوگا تو تعلیم بہتر ہوگی۔ سو فیصد اتفاق آپ کی بات سے لیکن جناب یہ تو بتائیں دس بارہ دن کے امتحانوں کے علاوہ آپ کہاں ہوتے ہیں۔ بے شک سکول اپ گریڈ کرتے رہیں۔قابل رشک بات ہے کہ اڑھائی سال بعد آپ کو 900 گھوسٹ سکولوں کا علم ہوا۔ کیا آپ ان سب کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ اورغم بھی ہیں زمانے میں۔۔۔این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے تحت اساتذہ کی بھرتی خوش آئند اقدام ہے لیکن این ٹی ایس کے حوالے سے لوگوں کو اب تک تحفظات ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ این ٹی ایس ٹسٹ یونین کونسل سطح پر ہوا۔ یعنی نچلی سطح سے آپ نے کام کا آغاز کیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ یونین کونسلز کو نمائندگی مل گئی۔ لیکن ساتھ ساتھ آپ سے تاریخ کی سب سے بری غلطی یہ ہوئی کہ جس کونسل میں کوئی نشست خالی نہ تھی وہاں کے امیدواروں سے درخواستیں کیوں وصول کی گئیں؟ اب وہ میرٹ پر ہیں چونکہ ان کے کونسل میں کوئی اسامی خالی نہیں لہٰذا انہیں نوکری نہیں مل سکتی۔ فیس وٖغیرہ کی بات نہیں کرتے۔ ویسے ایک غریب کے لیے ہزار روپے تو بہت ہوتے ہیں۔

 

میر خالد خان لانگو صاحب مشیر خزانہ ہیں۔ نیشنل پارٹی سے تعلق ہے۔ PB-36قلات 1سے جیتے ہیں۔ بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ یہ واحد وزیر ہیں جو اپنے حلقے کے لیے کام کر رہے ہیں اور بھر پور کر رہے ہیں۔ بنیادی ضروریات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈسپنسری بنوا چکے ہیں، انٹر اور ریزیڈنشل کالج کے قیام کا اعلان ہو چکا ہے، گیس پائپ لائن بھی بچھ چکی ہے، حال ہی میں ایک فیسٹول بھی منعقد کرایاہے۔ اور کیا چاہیے۔ اپنے آبائی علاقے کے بعد اب امید ہے وہ اپنے حلقے کے دوسرے حصے قلات پربھی توجہ دیں گے۔ سیاست کا فن جانتے ہیں۔ جہاں جاتے ہیں، جو بھی حالات ہوں ان کی تصویر اخبار کی زینت بنی رہتی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ان کا عکس کسی اخبار میں نہ چھپے۔ باقی وزرا ایک طرف میر خالد ایک طرف۔

 

ن لیگ کے جناب محمد خان لہڑی کے پاس زکوٰۃ ، حج، عشر اور اوقاف ہیں۔ PB-29 نصیر آباد2سے جیتے۔ ان سے پہلے اس عہدے پر ماجد ابڑو صاحب تھے۔ زکوٰۃ کا نظام بہتر کریں اور غریبوں کی دعائیں لیں۔ سرکاری مساجد میں چراغاں توچلتارہے گا۔

 

یہ بلوچستان کے وزرا کی ایک مختصر سی جھلک ہے۔ کوئی سردارہے،کوئی نواب ہے، کوئی اپنے قبیلے کا سربراہ ۔۔۔۔ اور تجربہ کار سیاستدان تو سب ہی ہیں۔ لیکن مجموعی طوریہ بلوچستان کو گزشتہ اڑھائی برس میں کچھ نہیں دے سکے۔
ن لیگ کے میر اکبر آسکانی صاحب PB-50کیچ 3سے جیتے۔ فشریز اور پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے وزیر ہیں۔ میٹرک پاس ہیں۔ صرف یہ بتائیں لسبیلہ یونیورسٹی آف اینیمل اینڈ میرین سائنسز کو کوئی فائدہ پہنچا ان سے؟
عبید اللہ جان بابت صاحب اپنی شائستہ گفتگو بلکہ اردو کی وجہ سے بہت مقبول ہیں۔ ان کے حصے میں جنگلات اور لائیوسٹاک کے محکمے آئے۔ PB-16لورالائی2سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر انٹخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے۔لائیو سٹاک میں کافی ڈاکٹرز بپلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے گئے ہیں۔ عرب شیوخ آئے اور چلے بھی گئے ملے بھی نہیں۔ کیا بابت صاحب نے کوئی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ وفاق نے کب ان کی مانی ہے۔ سو جو ہوا اچھا ہوا۔ جہاں گیس نہیں وہاں جنگلات کٹتے جائیں گے۔

 

یہ بلوچستان کی کابینہ کی ایک مختصر سی جھلک ہے۔ کوئی سردارہے،کوئی نواب ہے، کوئی اپنے قبیلے کا سربراہ ۔۔۔۔ اور تجربہ کار سیاستدان تو سب ہی ہیں۔ لیکن مجموعی طوریہ بلوچستان کو گزشتہ اڑھائی برس میں کچھ نہیں دے سکے۔ یقیناًترقی کا تعلق امن سے ہے اورآپ امن قائم کرنے میں ناکام رہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ خودمختار نہ ہونے کے باعث امن و امان کی صورت حال بہتر نہ کر سکے لیکن جہاں حالات بہتر ہیں وہاں آپ نے کون سے ایسے کام کیے جن کی تعریف کی جا سکے؟ آپ کے پاس تھوڑے بہت اختیارات تو ہوں گے جنہیں عوام کی فلاح کے لیے بروئے کار لایا جاسکے۔ کوئی تبدیلی و ترقی نظر آئے تو سہی۔ ہر بات میں سازش ڈھونڈنے کا رویہ مناسب نہیں۔ آپ ایک اچھی سڑک توبنوا سکتے ہیں، ایک اچھا ہسپتال بنوا سکتے ہیں، سکول اور کالج تعمیر کرا سکتے ہیں، سیوریج اور پانی کا نظام بہتر بنا سکتے ہیں اس سب سےتو پنجاب توآپ کو نہیں روک رہا۔ میرٹ کو یقینی بنانا آپ کا کام ہے پنجاب کا نہیں۔اڑھائی سال میں آپ کوئٹہ کی نکاسی آب کے نظام کو بہتر نہ کر سکے باقی بلوچستان کا کیا کریں گے۔ اگر ٹیوب ویل لگوا نا اور محلے کی گلی کے داخلی و خارجی راستوں پرگیٹ نصب کرنے کا نام ترقی ہے تو بلوچستان سب سے ترقی یافتہ صوبہ ہے۔