Categories
نقطۂ نظر

دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں

پشاور سے 6 کلو میٹر دور بڈھ بیر میں واقع ائر بیس کیمپ صرف ملازمین کی رہائش کےلیے استعمال ہوتاہے اور غیر فعال ہے۔ اس کیمپ میں کسی قسم کے تزویراتی اثاثے بھی موجود نہیں ہیں ۔ قبائلی علاقوں سے متصل یہ کیمپ 17 جنوری 1959ء کو قائم کیا گیا تھا اور افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد 1979ء کو اسے باضابطہ طور پر پاک فضائیہ کے حوالے کیا گیا۔ یہ کیمپ ایوب خان کے دور حکومت میں خاص طور پر اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب سوویت رہنما خروشیف نے اقوام متحدہ میں بتایا تھا کہ انہوں نےاس ہوائی اڈے سے اڑنے والا امریکی طیارہ مار گرایا ہے اور روس نے پشاور کے گرد سرخ لکیر لگا دی ہے ۔ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق 18 ستمبر 2015ء جمعہ کی صبح نماز فجرسے تھوڑی دیرقبل بڈھ بیر میں واقع ہوائی آڈے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ دہشت گرد فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس تھے اور دو مقامات سے کیمپ میں داخل ہوئے، ترجمان کے مطابق شہید ہونے والوں میں 26 سکیورٹی اہلکار اور چار عام شہری تھے ۔ حملہ آور جن کی تعداد 13 تھی سب کے سب مارے گئے۔عام طور پر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک سکول کی طرح ایک اور حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن شاید پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے کیا ہے۔
بڈھ بیر حملے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ شہروں میں شدت پسندوں کے’خوابیدہ گروہ’ بدستور فعال ہیں اوران گروہوں کی مدد کےلیے ملک کے تمام بڑے شہروں میں وہ سہولت کاربھی موجود ہیں جو دہشت گردوں کی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں ہر طرح کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں۔
کارروائی کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد جمعہ کی شام ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران خفیہ اداروں نے حملہ آوروں کی جو گفتگو سنی اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروہ سے تھا اور یہ تمام افغانستان سے آئے تھے۔ ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کو افغانستان سے ہدایات دی جارہی تھیں جب کہ افغان حکومت نے پاکستانی حکام کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے۔ بڈھ بیر حملے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ شہروں میں شدت پسندوں کے’خوابیدہ گروہ’ بدستور فعال ہیں اور ان گروہوں کی مدد کےلیے ملک کے تمام بڑے شہروں میں وہ سہولت کار بھی موجود ہیں جودہشت گردوں کی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں ہر طرح کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک سہولت کار شیبہ احمد چند دن قبل محکمہ انسداددہشت گردی نے کراچی کے علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا تھا۔ شیبہ احمدالقاعدہ برصغیرکی مالی معاونت کرتا تھا۔ اُس نے 13 مئی کو کراچی میں ہونے والے سانحہ صفوراکےملزمان کی ناصرف ذہنی تربیت کی بلکہ ان کی مالی معاونت بھی کی۔ ملزم شیبہ احمد ڈیفنس کی ایک مسجد میں درس دیتا تھا، بینکر اور بزنس مین بھی ہے، اپنی ایک خفیہ تنظیم بھی چلاتا ہے اور القاعدہ کی برصغیر شاخ کا سرگرم رُکن بھی ہے۔ اس سے پہلے سہولت کار کا کردار ادا کرنے والےچیئرمین فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی سلطان قمر صدیقی سمیت 3 ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہیں۔
شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں آپریشن ضرب عضب انتہائی کامیابی سے چل رہا ہے اورمسلح افواج نے تقریبا 95 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے خالی کرا لیاہے۔ جنرل راحیل شریف اس تمام آپریشن کی خود نگرانی کررہے ہیں۔ چھ ستمبرکوشہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط اور قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔ دہشت گردوں کو شکست ہو چکی ہے اور ریاست کی بالادستی قائم ہوگئی ہے۔ دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ ابھی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یہ پیغام گونج ہی رہا تھا کہ اتوار 13 ستمبر کی شب ملتان کے سب سے بڑے بس اسٹینڈپر دہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آیا۔ عینی شاہد کے مطابق ایک رکشہ بس اسٹینڈ کے نزدیک کھڑا تھا کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوگیا دھواں پھیلا اور افراتفری مچ گئی۔ اس دھماکہ میں دس افراد جاں بحق اور 45زخمی ہوئے۔پولیس اور سیکیورٹی ذرائع اس دھماکہ کے سلسلے میں اختلاف رائے کا شکار ہیں۔ پولیس اسے بم دھماکہ جبکہ دیگر سیکیورٹی ادارےاسے خود کش حملہ کہہ رہے ہیں۔
ملتان دھماکہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو یہاں خود کش بمباربھی دستیاب ہیں۔
ملتان دھماکہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو یہاں خود کش بمباربھی دستیاب ہیں۔ قبائلی علاقہ میں تو اب یہ سہولت موجود نہیں ہے لیکن جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے ایسے مراکز موجود ہیں جہاں خود کش بمبار تیار کیے جاتے ہیں، ان ہی علاقوں میں نمایاں تعداد میں دہشت گردوں کے سہولت کار اور معاونین بھی موجود ہیں جن کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے واقعات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ چند دہشت گردوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ فرض کرنا حماقت ہوگی کہ پنجاب میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ عمومی رائے یہی ہے کہ پنجاب میں دہشت گردوں کے گروہ بہت مضبوط اور موثر ہیں، لہٰذا مخصوص حکمت عملی کے تحت ہی ان دہشت گردوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ملتان کے واقعہ کے فوراً بعد 18 ستمبر کو بڈھ بیر میں واقع ائر بیس کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ یہ بات ثابت کرتا ہے کہ فوجی آپریشن کی وجہ سےدہشت گرد کمزور ضرور ہوئے ہیں لیکن ابھی اُن کی حملہ کرنے کی صلاحیت باقی ہے اور وہ بدستور ملک کے حساس مقامات پر دہشت گردی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کو مکمل طور پر کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے؟ اس کےلیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنے پڑوسی ملک افغانستان کی طرف دیکھنا ہوگا اوردہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔عسکریت پسندی اور خانہ جنگی کی وجہ سے افغانستان ایک تباہ حال ملک بن چکا ہے ۔ افغانستان میں امن اس وقت افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی ضرورت ہے، جب تک افغانستان میں استحکام نہیں آتا، پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان میں ہونے والے ہر بڑے حملے کا الزام دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے پر لگاتے رہے ہیں جس سے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ افغان حکومت کی جو بھی پالیسی ہو لیکن ہمیں اپنی پالیسی اس طرح بنانی ہوگی جس کی وجہ سے افغانستان امن اور استحکام آسکے، یہ ہی دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابی ہوگی کیونکہ ایک پرامن افغانستان پاکستان کے تحفط اور دہشت گردی سے نجات کی ضمانت ہوگا۔
دوسری طرف ملک میں موجود دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کا خاتمہ لازمی ہے۔ اس کے لیےانٹیلی جنس ایجنسیوں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ وہ دہشت گردوں اور ان کےسہولت کاروں کے بارے میں ضروری اطلاعات جمع کرسکیں ۔ ایجنسیوں کو ان علاقوں پر خصوصی نظر رکھنی ہوگی جو شدت پسندوں کے مخصوص علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد اب شمالی وزیرستان یا دیگر قبائلی علاقوں سے دھماکہ خیز مواد یا خود کش بمبار تیار کرنے کے سارے مراکز تباہ کیے جا چکے ہیں لیکن پنجاب، سندھ اور دوسرے علاقوں کے اندر اس قسم کے مراکز کی موجودگی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردوں کے مقامی ٹھکانوں اور اُن کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پنجاب ، سندھ اور کراچی کے بارے میں عام خیال یہ ہی ہے کہ یہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اُن کے سہولت کار موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اہم کر دار ادا کیا ہے، اُن کی معلومات کی روشنی میں ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ہماری ایجنسیاں بہت جلد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نیست و نابود کر دیں گی۔دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اس لیےضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک سے دہشت گردوں کو ختم کرنے کےلیے عام عوام، ملکی سیاستدان اور سکیورٹی ادارے مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

جنتی وصال

youth-yell-featured

لیفٹننٹ جنرل (بظاہر ریٹائرڈ) حمید گل سے شاید اپنے شاگرد مُلا محمد عمر مجاہد کی ناگہانی موت (کے انکشاف) کا صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور انہیں اپنے ہم خیال دوستوں سے ملنے کے لیے اس دنیا سے کوچ کرنا پڑا۔ مرحوم کی وفات سے جہاں اُن کے دو بچے یتیم ہوئے، وہیں مولانا سمیع الحق (المعروف مولانا سینڈویچ)، مولانا فضل الرحمان( عرف مولانا ڈیزل)، مولانا منور حسن (قتال فی سبیل اللہ والے)، گلبدین حکمت یاراور سراج الحق کے ساتھ ساتھ ہزاروں معلوم اور نامعلوم مجاہدین، اچھے اور بُرے طالبان اور درجنوں خُودکُش حملہ آور یتیم ہوگئے ہیں ( اگرچہ حقیقت میں ان کے سرپرست اب بھی وطن عزیز میں موجود ہیں)۔ خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں “جنرل صاحب” کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی۔
خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں “جنرل صاحب” کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی
حمید گل کی اس ‘خبرناک’ موت پر کچھ سیاست دانوں کو دلی صدمہ پہنچا اسی لیے تو جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے حمید گُل کے موت کو قومی سانحہ قرار دیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں جناب عمران خان صاحب تو دکھ میں یہاں تک کہہ گئے کہ “حمید گل سب سے عظیم محب وطن تھے”۔ لیکن افغانستان اور پاکستان کے ‘نادان’ پشتونوں کے پاس اس ‘مرد مجاہد’ کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ حمید گل کی قدر اور اہمیت سے بے خبر کچھ نوجوان قندھار، کوئٹہ، کابل اور پشاور میں سڑکوں پر نکل آئے اور جنرل صاحب کی موت کی خوشی میں ڈھول کی تاپ پر اتن ا ور دیگر رقص کرتے رہے۔
روس کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑنے والے جنرل حمید گل کا سفر آخرت بھی دیدنی تھا۔ قبر میں اترتے ہی منکر نکیرموصوف کو جنت کی طرف لے گئے جہاں کئی جواں سال حوریں اسی کی دہائی سے اپنے محبوب جرنیل کی منتظر تھیں۔ جنت کے دروازے پر کئی حوروں نے اُن پر پھول نچھاور کیے ۔ مرحبا مرحبا کہتے کئی غلمان ان کی خاطر داری کو لپکے اور اپنے نرم و ملائم ہونٹوں سے جنرل صاحب کی پیشانی مبارک اورجہادی گالوں پر بوسے ثبت کیے۔
اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں یہاں تو وہی سماں تھا جس کا نقشہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اپنے خطبات میں بیان کرتے رہے تھے۔ جنت میں شراب اور شہد کی نہروں کے آس پاس مسندوں پر مجاہدین جلوہ افروزتھے جن کے ارد گرد بھرپور جسموں والی حوریں ان کے لبوں سے شراب کے جام مس کرتی نظر آئیں۔ جنرل صاحب قدرے آگے بڑھےتو ایک شخص کو چندغلمان کے پیچھے بھاگتے دیکھا۔ اس شخص کا سانس پھولا ہوا تھا، سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، سینے سے بارودی جیکٹ بندھی تھی اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتا اِدھر اُدھر دوڑ رہا تھا۔ اس بھاگ دوڑ میں جناب کی پگڑی کا ایک سرا گلے میں جبکہ دوسرا زمیں پر کھنچا جارہا تھا۔ جنرل صاحب کے استفسار پر فرشتوں نے بتایا کہ یہ کابل میں خودکُش حملہ کرنے والا طالب ہے جس نے حال ہی میں کابل میں خود کُش حملہ کرکے کئی افغانوں کو ‘جہنم واصل’ کیا تھا۔ اس لیے جنت میں آتے ہی یہ موج مستی میں مگن ہو گیا ہے۔
اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی
جناب ابھی اس منظر کو دیکھ ہی رہے تھے کہ جنت کے ایک کونے سے قہقوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ استفسار کرنے پر جنرل صاحب کو بتایا گیا کہ یہ اسامہ بن لادن ہیں جنہوں نے ایبٹ آباد کے قریب امریکیوں کے ہاتھوں زندگی کی قید سے آزادی حاصل کی تھی۔ جب سے آئے ہیں اپنی حوروں کے درمیان بیٹھے جام لنڈھاتے رہتے ہیں۔
جنت کی بالائی منزل سے بھی حوروں کے ہنسنے اور گنگنانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جنرل حمید گل کو یہ منظر دیکھنے کا تجسس ہوا۔ جونہی جنرل صاحب نے ارادہ کیا فرشتے آپ کو اپنے نرم و نازک ہاتھوں میں اٹھا کر اوپر کی منزل پر لے گئے۔ سبحان اللہ! یہاں افغان جہاد کی سرخیل ہستیاں جنرل نصیر اللہ بابر، کرنل امام، بیت اللہ محسود اور کرنل امام اونچے اونچے تختوں پر بیٹھے اپنی اپنی حوروں کے ساتھ مگن نظر آئے۔ ان کے ارد گرد کچھ حوریں ناچ رہی تھیں کچھ شراب کی بڑی بڑی صراحیاں ہاتھوں میں لیے جام بھر بھر کے اپنے آقاوں اورعظیم جہادیوں کو پلارہی تھیں۔ کچھ حوریں کرنل امام اور بیت اللہ محسود کی گود میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی۔ مولانا کا بیان اس قدر پراثر تھا کہ سننے والےاس ماحول تک پہنچنے کےلیے خودکُش حملے سےبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔
کچھ آگے بڑھے تو جنرل ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمان شراب کے ایک حوض کے کنارے نشے میں لت پت اوندھے منہ پڑے نظر آئے۔ فرشتوں نے بڑےادب کےساتھ جنرل ضیا کو گود میں پکڑ کر اٹھایا ۔ حمید گل کو اپنے سامنے پا کر اُن کے چہرے پر مایوسی اور غصے کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ قاہرانہ انداز میں جنرل حمید گل سے مخاطب ہوئے،” مجھے پتہ تھا کہ تم آج آنے والے ہو”۔انہوں نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا،”میں نے جو ذمہ داریاں اپنے ‘فوجی اور سول شاگردوں’ کو سونپی تھیں اُن میں سے کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوسکا۔ جب میں زندہ تھا تو پوری دنیا بشمول امریکہ اور اسرائیل میرے ساتھ تھی اور ہم نے نہ صرف روس کی اینٹ سے اینٹ بجاڈالی بلکہ افغانستان میں بھی اپنے پاوں گاڑ لیے تھے۔ ہم نے جہاد کی برآمد شروع کر ی تھی۔ لیکن تم اور میرے دوسرے شاگرد نکمے نکلے۔”
ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے
اسی اثنا میں امیر المومنین مُلا محمد عمر اپنی حوروں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے سلام دعا کیے بغیروہاں سے گزرے۔ جنرل صاحب نے پیچھے سے آواز دی مگر مُلا نے مڑ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اتنے میں جنرل ضیاالحق نے اپنے مصاحبین سے پوچھا،” کیا تمہیں معلوم ہے مُلا عمر نے تم سے سلام دعا کیوں نہیں کی؟ جنرل صاحب حیران رہ گئے اور سر انکار میں ہلا دیا۔ جس پر ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے۔ کچھ پاکستانی جرنیل طالبان کو اپنے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کررہے ہیں۔ جنرل حمید گل نے جواب دینے کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ جنرل صاحب نے مزید کہا ویسے بھی پاکستان میں میرے تمام جہادی شاگرد نالائق نکلے ہیں۔ نہ تو وہ افغانستان میں تزویراتی موجودگی برقرار رکھ سکے اور نہ ہی وہ پاکستان میں میرا جہادی کاروبار چلا سکے۔ اپنے مربی کی ناراضی اور مایوسی کو جان کر حمید گل صاحب کو نہایت افسوس ہوا۔ ادب سے اپنے آقا کے سامنے کھڑے رہے اور جب ضیا الحق نے اپنی بات ختم کی تو حمید گل اجازت مانگ کر کہنے لگے،”سر! شاید یہاں آنے کے بعد آپ کو ہمارے کارناموں کاعلم نہیں ہے”۔ پھر اُس نے جنرل ضیا کی موت کے بعد اپنے جہادی ساتھیوں کے اسلام آباد کی سر بلندی کےلیے اپنے اور اپنے شاگردوں کے کارناموں پر ایک لمبی چوڑی تقریر کی ۔ جنرل حمید گل نے کہا ہم نے تو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اپنے جہادی بھائیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جنرل صاحب آپ نے کہا ‘کابل کو جلنا ہوگا’ اور ہم نے یہ کر کے دکھایا۔ آپ نے کابل فتح کرنے کے بعد وہاں شکرانے کی نماز ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، یہ خواہش آپ کے سیاسی شاگرد وزیراعظم میاں نواز شریف نے اُس وقت پوری کی جب ڈاکٹر نجیب اللہ کو حکومت سے ہٹانے کے بعد مجاہدین کو کابل کی تخت پر بٹھایاگیا تھا۔ آپ کی جگہ نواز شریف نے کابل جاکر شکرانے کے دو رکعت نفل ادا کیے۔
افغانستان میں مجاہدین کی پہلی حکومت ہماری مرضی سے بنی اور جب مجاہدین نے ہیرا پھیری شروع کی تو ہم نے طالبان کے نام سے وہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ڈاکٹر نجیب کوکابل میں سرعام لٹکایا۔ آپ نے ماضی میں شعیہ سنی کی جس تقسیم کا بیج بویا تھا ہماری وجہ سے آج اس کی فصل جنوبی پنجاب سے لے کر کوئٹہ تک ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی ہے۔
جنرل حمید گل کی کارگزاری سن کر جنرل ضیا الحق کی مینڈک جیسی انکھوں میں چمک آگئی اور حمید گل کو گلے لگا کر کہنے لگا،” مجھےتم پر فخر ہے،شاگرد ہو تو تم جیسا، آج میں اپنی حوروں کے درمیان سرخرو ہوکر بیٹھ سکوں گا۔ تم نے جو کیا وہ میری توقعات سے بڑھ کر ہے”۔ پھر اچانک ان کے چہرے پر غم اور مایوسی کے سائے لہرانے لگےوہ حمید گل سے کہنے لگے،” مگر اب تم وہاں نہیں ہو تو کہیں ہماری پچاس سالہ محنت ضائع نہ ہوجاے؟” اس پر حمید گل نے ایک معنی خیز قہقہہ لگاکر کہا،”جنرل صاحب ! رائیونڈ کی تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے ہوتے ہوئے آنے والی کئی نسلوں تک طالبان کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ ہزاروں کی تعداد میں کھولے گئے مدرسے جہاد کی نرسریاں ہیں۔ ہمارا بنایا ہوا نصاب اس قوم کو تاقیامت پسماندہ، جاہل اورشدت پسند بنائے رکھے گی۔ اور ان میں کبھی بھی امان اللہ خان، باچا خان اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے قوم پرست رہنما پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ ان مدرسوں کے طالب علم ہمارے دست راست اور اثاثہ ہیں۔ اب چاہے ہم انہیں امریکہ کے لیے یا امریکہ کے خلاف استعمال کریں ،یا پھر ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کو ان کے ذریعے ڈراتے رہیں کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
( دونوں کے زوردار قہقہوں شے جنت کی فضاگونج اٹھی۔ خوشی مناتے ہوئےانہوں نے جام ٹکرائے اور لبوں سے لگا لیے)۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیم پر حملے کا جواب تعلیم سے

پشاور میں سکول پر حملہ صرف ایک حملہ یا بچوں کی ہلاکت نہیں بلکہ ہمارے مستقبل پر حملہ ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران سکولوں پر ایک ہزار سے حملے کر کے طالبان نے واضح کردیاہے کہ ان کا پشت پناہ کوئی بھی ہو ان کا ہدف ایک ہی ہے؛ ہماری آنے والی نسلوں کو تعلیم سے محروم رکھنا۔ طالبان کے خلاف رائے عامہ ہموار ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس شدت پسندی سے تنگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی آنے والی نسلوں کو تحفظ ملے۔ عمران خان اور نواز شریف جیسے دائیں بازو کے طالبان کی جانب جھکاو رکھنے والے رہنماوں کا طالبان کے خلاف کارروائی پر متفق ہوجانا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت کو خطرے کا ادراک ہے لیکن کیا شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات واقعی کافی ہیں؟
اگر طالبان بندوق کے زور پر ہمارے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب بندوق سے دینے کے ساتھ ساتھ کتاب اور قلم سے دینا بھی ضروری ہے۔
پاکستانیوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ شدت پسندی کا واحد جواب تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ اب وقت ہے کہ ہر بچے کو سکول جانے، پڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ اگر طالبان بندوق کے زور پر ہمارے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب بندوق سے دینے کے ساتھ ساتھ کتاب اور قلم سے دینا بھی ضروری ہے۔ اگر وہ سکول دھماکے سے اڑانا چاہتے ہیں تو ہمیں سکول تعمیر کرنے ہوں گے۔ اگرجنگجو لڑکیوں کو سکول جانے سے روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر بچی کو بستہ اور یونیفارم پہنا کر سکول کا راستہ دکھانا ہوگا۔ اگر وہ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں اپنے مدارس اور پراپیگنڈا سے فرقہ واریت اور شدت پسندی کا زہر انڈیلنا چاہتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھمانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہرشدت پسند فکر کا جواب دینا ہوگا، اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کو پروان چڑھانا ہوگا۔
ہمارے دشمن اپنا حوصلہ تب ہی ہار جائیں گے جب ہر بچہ سکول جائے گا ، آج ہمیں نہ مزید چھاونیوں کی ضرورت ہے نہ ایف سولہ کی ،اب ہمیں سکولوں ، قلم اور کتابوں کی ضروت ہے۔
یہ وقت ہے کہ اب ہم اپنے مدارس کے نصاب پر غور کریں، جمعہ کے خطبہ کے متن کا جائزہ لیں اور فرقہ وارانہ تکفیری لٹریچر کی نگرانی کریں۔ریاست کو محض دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گرد تیار کرنے والے مدارس اور نظریات کو ختم کرنے پر اہنے وسائل صرف کرنا ہوں گے۔ لوگوں کو دہشت گردوں کے ساتھ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی مسترد کرنا ہوگا۔ یہی موقع ہے کہ سازشی مفروضوں کی بجائے تحقیق کے چلن کو عام کیا جائے، مذہبی علماء کی اندھی تقلید کی بجائے سوال کرنے کی روش پروان چڑھائی جائے اور جہادی جماعتوں کو دیے جانے والے چندے کا رخ فلاح کی طرف موڑا جائے۔ اب ضروری ہے کہ اوریا مقبول جان اور زید حامد جیسے طالبان پسند “مبلغین” کی جگہ روشن خیال اور ترقی پسند دانشوروں کی بات سنی جائے۔
پاکستانی ریاست کواندرونی اور بیرونی خطرات سے دفاع کے لیے نہ ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے نہ لاکھوں فوجیوں کی بلکہ پڑھے لکھے، ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ہمارے دشمن اپنا حوصلہ تب ہی ہار جائیں گے جب ہر بچہ سکول جائے گا ، آج ہمیں نہ مزید چھاونیوں کی ضرورت ہے نہ ایف سولہ کی ،اب ہمیں سکولوں ، قلم اور کتابوں کی ضروت ہے۔ ہمیں جس جہاد کی ضرورت ہے وہ بندوقوں اور تلواروں کا جہاد نہیں بلکہ ا-ب-پ کا جہاد ہے، ہمیں جس جنگ کو لڑنا ہے وہ طالبان کے خلاف نہیں بلکہ ان مدارس اور ان مذہبی تشریحات کے خلاف جنگ ہے جو طالبان پیدا کرتے ہیں۔
Categories
اداریہ

کیا یہ جنگ اب ہماری ہو گئی ہے؟ – اداریہ

عمران خان، نواز شریف، منورحسن، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور تمام مذہبی جماعتوں کو اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ جنگ اب ہماری ہوگئی ہے؟ طالبان سے مذاکرات کی حامی اور دہشت گرد مذہبی گروپوں کو اپنا اثاثہ قرار دینے والی جماعتوں اور رہنماوں کو جو اب بھی طالبان کو دہشت گرد قرار دینے اور مسلح جہاد کی مذمت کرنے کو تیار نہیں، انہیں پشاور حملے سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ قرارنہ دینے پراس حملہ کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے۔ڈرون حملوں، فوجی کارروائیوں اور امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں کو دہشت گردی کی وجہ قرار دینے والے دانشوروں اور سیاستدانوں کو اب یہ سوچنا ہو گا کہ مذہبی دہشت گردی محض معاشی، سماجی اور سیاسی محرومیوں کا ردعمل نہیں بلکہ شدت پسند جہادی فکر کا بھی نتیجہ ہے۔ ماضی میں جن بندوقوں کا رخ ہمارے “دشمنوں” کی جانب تھا ان کے دہانے ہم پر کھلنے سے ہمیں اب یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بلکہ صرف ہماری ہے۔ اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تکفیری فکر کی بنیاد پر انسانی جان لینے کےانتہا پسندانہ مذہبی جواز کو رد نہ کرنے کے باعث ہی آج پاکستانیوں کی جان لینے کو مذہبی فریضہ قرار دیا جارہا ہے۔ پشاور حملہ یقینی طور پر امریکہ، ہندوستان اور روس کے خلاف جہاد کو جائز قرار دینے والے فتاویٰ کا تکلیف دہ تسلسل ہے،پشاور آرمی پبلک سکول کے 132معصوم شہیدوں کو ان ساٹھ ہزار پاکستانیوں کے لاشوں سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا جن کی موت پر خاموشی روا رکھی گئی۔
پشاور سانحہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ محض عسکری نہیں بلکہ نظریاتی ہےاور مسلح جہادی نظریات کا رد کیا جانا حملے یا حملہ آور طالبان کی مذمت سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
پشاور سانحہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ محض عسکری نہیں بلکہ نظریاتی ہےاور مسلح جہادی نظریات کا رد کیا جانا حملے یا حملہ آور طالبان کی مذمت سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔طالبان جس شدت پسند اسلامی عسکری فکر کی بنیاد پرانسانوں پر حملہ کرنا درست سمجھتے ہیں اس نظریاتی بنیاد کی نفی کیے بغیر پشاور سانحہ کے مقتولین کا کفارہ ادا نہیں کیا جاسکے گا۔ اسی کی دہائی کے دوران جس شدت پسند مذہبی اور فرقہ وارانہ جہادی فکر کی ترویج کی گئی تھی وہ محض مدارس تک محدود نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی جماعتوں اور تبلیغی اجتماعات کے ذریعہ ہر مسلمان میں پیدا کیا جانے والا مذہبی برتری کا کھوکھلا اور اندھا احساس برتری بھی اس حملے کے پس پردہ کارفرما نظریاتی بنیاد کے فروغ کا باعث بنا ہے۔پشاور میں سو سے زائد بچوں کا قتل محض مجرمانہ اقدام نہیں بلکہ سیاسی اسلام اور شدت پسندجہادی فکر پر پختہ اور غیر متزلزل ایمان کا اظہار ہے جس کے تحت کسی کی جان لینا یا اپنی جان قربان کرنا مذہبی فریضہ تصور کیا جاتا ہے۔
مذہبی مدارس کا نصاب، کالعدم تنظیموں کا لٹریچر اور اور شدت پسند جہادی رہنماوں کے مذہبی خطبے پشاور میں بچوں کے قتل عام جیسے واقعات کو نہ صرف جواز فراہم کرتے ہیں بلکہ ایک مستحسن قدم کے طور یاد کرتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ماضی قریب میں ڈرون حملوں کی بنیاد پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں معصوم انسانوں کے قتل کا جواز فراہم کیا جاتا رہا ہے، ریاست کے لیے خطرہ بننے تک تحریک طالبان کو اپنا اثاثہ ظاہر کا چلن پرانی بات نہیں ، ہندوستان، اسرائیل امریکہ اور یورپ کی فتح کے لیے جنگی جہادی ترانے گلی محلوں میں گونجتے رہے ہیں اور کشمیر اور افغان جہاد کے لیے پاکستانی نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور تربیت دینے کے مراکز ہر مسجد میں فعال رہے ہیں۔ افغان جہاد اور کشمیر جہاد کو پاکستان کے خلاف جہاد کی طرح دہشت گردی قرار دینا ہوگا ورنہ پشاور سانحہ جیسے سانحات روکے نہیں جا سکیں گے۔
افغان جہاد اور کشمیر جہاد کو پاکستان کے خلاف جہاد کی طرح دہشت گردی قرار دینا ہوگا ورنہ پشاور سانحہ جیسے سانحات روکے نہیں جا سکیں گے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مغرب اور امریکہ کی جنگ قرار دینے والی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں، اعتدال پسند مذہبی رہنماوں اور مسلم مفکرین کو جہادی دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور جہادی فکر کو حق بجانب ثابت کرنے پر آرمی پبلک سکول پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیئے۔ بلکہ ہر اس فرد کو ماضی میں افغان جہاد، کشمیر جہاد، نائن الیون اور ممبئی حملوں کو جہادی کامیابی قرار دینے والے سبھی پاکستانیوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہزارہ ٹاون، مینا بازار پشاور، مون مارکیٹ لاہور، پشاور چرچ، میریٹ ہوٹل، جی ایچ کیو، مہران ائیر بیس اور ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملوں میں سازش اور بیرونی ہاتھ تلاش کرنے والوں کو اب سنجیدگی سے اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں کی تلاش کرنا ہوگی کیوں کہ یہ محض ریاست یا حکومت کی ناکامی نہیں مذہبی فکر کی ناکامی ہے جو مسلح عسکری جہاد کو رد کرنے میں ناکام رہی ہے۔سیاسی اسلام اور مذہبی غلبہ کے تصورات کی موجودگی میں ہمیشہ عسکری جدوجہد کی گنجائش باقی رہنے کا اندیشہ ہے۔مذہبی سیاسی فکر کے عسکری پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے محض عسکری کاروائیوں، جہادی تنظیموں پر پابندیوں یا سکیورٹی میں اضافہ سے دہشت گردی کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا، ریاستی اور عالمی سطح پرشدت پسند تصورِ جہاد کا سختی سے رد کیا جانا کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔