Categories
نقطۂ نظر

لفڑا۔۔۔الیکشن کمیشن کا

انتخابات ہو گئے، حکومتیں بھی بن گئیں، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود الیکشن کمیشن کا لفڑا جوں کا توں ہے۔ بلکہ اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جلسوں میں الیکشن کمیشن کی شفافیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور نئے آزادانہ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ بھی داغ دیا، اس سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین سر کردہ نظر آئے۔ یقینا جمہوریت کی بقا اور دوام کے لیے ایک بااختیار، آزاد، شفاف اور موثر الیکشن کمیشن بے حد ضروری ہے، اور اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے اب سبھی جماعتیں اس اہم نقطے پر متفق نظر آرہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟!
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟
طالب علم خان صاحب کی سیاسی بصیرت کا کوئی زیادہ مداح تو ہر گز نہیں، لیکن دن کو دن اور رات کو رات کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کی۔ یہ اور بات ہے کہ کئی سیزنل سیاستدان سوشل میڈیا پر مزاح سے لپٹی گفتگو پڑھ کر سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ خیربات ہورہی ہے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کی ۔تو اس بارے عرض ہے کہ اب پیپلز پارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے خان صاحب کے موقف کی تائید کر دی ہے، بھلے اسے سیاسی پلٹا سمجھیں یا بصیرت، لیکن بات اصولی ہے اور جمہوریت کے لیے بے پناہ اہمیت کی حامل بھی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینٹر اعتزاز احسن نے عمران خان کے مطالبات کی تائید کی اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا پرزور مطالبہ کیا۔ چوہدری پرویز الہی کے بقول غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر صاف شفاف الیکشن کا خواب ممکن نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھانے کے لیے جلدپارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی محترمہ ثمن جعفری نے پارٹی پوزیشن واضح انداز میں بیان کردی کہ متحدہ ہمیشہ سے ہی آزاد ، شفاف اور بااختیار الیکشن کمیشن کی حامی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے بھی بااختیار الیکشن کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے پر پہلے سے سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ درست، لیکن سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟؟
خان صاحب نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر بھی تنقید کی، جس کی تائید سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم چند روز پہلے ہی کر چکے ہیں، اس بارے ناچیز کو سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے خیالات جاننے کا موقع ملا، دلشاد صاحب نے پہلی بار برملا اظہار کیا کہ جی ہاں، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے کہ جناب سابق چیف جسٹس کو طلب کیا جائے اور اس اہم مدعے پر فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر قصہ ہی تمام کیا جائے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف میڈیا یا جلسے جلوسوں کو انٹرٹین کرنے کی حد تک ہی ہے تو پھر لفڑا کیا ہے۔
جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔
چلیے یہ بھی سنتے جائیے کہ موجودہ قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر مشاورت سے کرتے ہیں، لیکن اس تقرری میں عمران خان اور پارلیمنٹ میں موجود دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، تو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تمام بڑے رہنماؤں کی رضا مندی سے کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا؟ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور بالخصوص خان صاحب اتفاق رائے کرلیں؟ اگر نہیں تو پھر سوال وہی ہے۔ آخر لفڑا کیا ہے۔
مدعا جس قدر مشکل دکھائی دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ آسان بھی ہے۔ جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔ اس بل کے لیے تمام جماعتوں کو آن بورڈ لیں، سیر حاصل بحث کروائیں، آئینی ماہرین کی سفارشات شامل کریں اور دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد اسے آئین کا حصہ بنا ڈالیں (سبھی جماعتیں متفق ہیں تو پھر دو تہائی اکثریت سے منظوری یقینا بآسانی ہو جاوے گی)۔
اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن یہاں سوال لفڑے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مکھن سے بال نکالے گا کون؟! ہیں جی۔۔۔
قصہ مختصر، جمہوریت کے عدم تسلسل کے باعث جمہوریت کی اقدار کی پاسداری بھی تسلسل کے ساتھ نہ ہوسکی، یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی الیکشن کمیشن جیسے اہم مدعے پر شش و پنج میں مبتلا ہیں، راہ نما وہ ہوتا ہے جورہ نمائی کرے، اور ساتھ ساتھ مستقبل کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس اقدام اٹھائے۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، رہ نما آتے ہیں، ایوانوں میں دھمال ڈالتے ہیں اور اگلے آنے والوں کے لیے مسائل کو کئی گنا بڑھا کر جنگلوں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اس مدعے پر تو اب سبھی راضی ہیں۔ تو پھر اصل لفڑا کیا ہے؟؟
منیر نیازی نے کہا تھا؛
خیال جس کا تھا مجھے ، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
نوٹ: اتوار کے روز برپا کیے گئے جلوسوں کے بعد طالب علم مسلسل عالم استغراق میں ہے۔نہیں معلوم کہ اس روز جگہ جگہ بکھرے انقلاب کو قوم اب مزید کتنے دن سمیٹتی رہے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

“آپ کریں تو ڈانس، ہم کریں تو۔۔۔”

ajmal-jami
ہائے ہائے! قربان جائیے مولانا کی ادا کے،ان کے پاس ہر بار بجانے کو نئی ڈفلی اور نیا راگ ہوتا ہے؛ کبھی اپوزیشن کی بھیرویں تو کبھی اقتدار کا درباری، دکھانے کو اور بیچنے کو ان کے پاس ہر بازار کا سودا ہے۔عورت کی حکمرانی کے خلاف رہتے ہوئے بھی کشمیر کمیٹی کی چیئر پرسن شپ پانی ہو یا امریکہ مخالفت کے نعروں کے شور میں امریکہ کی مدد سے وزارت ِ عظمیٰ پانے کی خواہش کرنا ہو، سرکار دربار میں پذیرائی کا کون سا ہنر ہے جو مولانا کو نہیں آتا۔اوراب کی بار پختونخواہ کی حکومت پر اعتراض کرتے کرتے مغرب کے ایجنڈے کی بھی خبر دے گئے۔ قبلہ مولانا نے فرمایا،”اسلام آباد سے جینز پہنے ہوئے این جی اوز کی خواتین، نوجوان خواتین آپ کے صوبے میں آکر آپ کی فائلیں تیار کرتی ہیں۔” فقیر مسلسل عالم استغراق میں ہے، جب سے مولانا کے لبوں سے پھول کھِلے، سمجھ بوجھ جواب دے گئی، وارفتگی ہے کہ دیوانگی کی حد تک، بس اتنی سی سمجھ باقی ہے کہ جس سے مولانا کے بیان کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے؛ تو پھر آئیے کارِ خیر میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے جائیے:
نہیں معلوم کہ آپ جناب کو شکایت کس سے تھی اسلام آباد سےیااین جی اوز سے؟ خواتین سے ، نوجوان خواتین سے یا پھر این جی اوز کی نوجوان خواتین سے ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اعتراض خواتین کے خصوصاً این جی اوز کی خواتین کے جینز پہننے پر ہو۔

ویسے حضرت آپ کب تک ‘اسلام’ کے نام پر ایسے اوچھے بیانات اُچھال کر معاشرتی انتشار پیدا کرتے رہیں گے؟ میں نے آج تک آپ جناب کے منہ سے کسی جلسے میں اخلاقیات، سماجیات یا اسلام کی رو سے اقلیتی اور بالخصوص انسانی حقو ق کی بات نہیں سنی۔ حتٰی کہ ‘شانِ اسلام’ جیسی کانفرنسز میں بھی آپ جناب ہمیشہ ‘سیاسیات’ کے موضوع پر ہی بات کرتے پائے گئے ہیں، یعنی حد ہے۔

ویسے حضرت آپ کب تک ‘اسلام’ کے نام پر ایسے اوچھے بیانات اُچھال کر معاشرتی انتشار پیدا کرتے رہیں گے؟ میں نے آج تک آپ جناب کے منہ سے کسی جلسے میں اخلاقیات، سماجیات یا اسلام کی رو سے اقلیتی اور بالخصوص انسانی حقو ق کی بات نہیں سنی۔ حتٰی کہ ‘شانِ اسلام’ جیسی کانفرنسز میں بھی آپ جناب ہمیشہ ‘سیاسیات’ کے موضوع پر ہی بات کرتے پائے گئے ہیں، یعنی حد ہے۔
آپ جناب کی کرشماتی شخصیت کے تقریبا ًتمام پہلو اہل وطن پر ‘روزِ روشن ‘ کی طرح خوب عیاں ہیں، لیکن بادشاہ گری کے کھیل سے واقفیت کا یہ عالم ہے کہ آپ اور آپ کی سیاسی جماعت بھلے اپوزیشن میں ہوں یا حکومتی اتحاد کا دم چھلا ہوں، کمال یہ ہے کہ ہر حیثیت میں کچھ ایسے ‘چھو منتر ‘ پھونکتے ہیں کہ جس سے ہزاروں کنال اراضی، پرمٹ اور وزارتیں آپ کے ‘عقد’ میں ‘انتقال’ کر جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 2006 میں جب سید پرویز مشرف مسند اقتدار پر براجمان تھے تو مولانا اور ان کے رفقا چھ ہزار کنال زمین اپنے نام کروا بیٹھے نہیں معلوم کیسے اور کیونکر! مزید تفصیل کے لیے لنک دستیاب ہے:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=18207&Cat=13&dt=11/7/2008
اس سے پہلے 2004 میں سید پرویز مشرف ، مولانا اور ان کی جماعت کے اس وقت کے وزیر اعلی اکرم خان درانی کو بارہ سو کنال ‘فوجی ‘ اراضی بھی ‘ہدیہ’ کے طور پر پیش کر چکے تھے، اب ہماری ناقص عقل بھلا کیسے یہ گتھی سلجھا سکتی ہے کہ ‘ملٹری لینڈ’ مولانا کی خدمت اقدس میں تہتر کے آئین کے کس تناظر میں پیش کی گئی حالانکہ مولانا تو تب بھی ‘اپوزیشن’ میں ہی تھے، لیجیے !مذکورہ خبر لنک کی صورت میں پیش کیے دیتے ہیں ملاحظہ ہو:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=18118&Cat=13&dt=11/2/2008
اور ابھی موجودہ حکومت سے آٹھ ماہ کی دوری کے بعد تین وزارتیں پا گئے۔
اور رہی بات ‘جینز’ اور’جینز پہننے والیوں’ کی تو نہ جانے بعد مدت مولانا کو جینز پہننے والیوں سے اس قدر ‘خفگی’ کیوں ہوئی، حالانکہ این پیٹرسن (پاکستان میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں) بھی کسی زمانے میں جینز پہنا کرتی تھیں، بطور سفارتکار عموما ًپتلون پہنتی تھیں، جو بظاہر جینز سے زیادہ مختلف لباس نہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نا چیز نے این پیٹرسن کا تذکرہ کس کارن چھیڑ دیا؟تو جناب گذارش ہے کہ حضرت مولانا بڑے مان اور خلوص سے محترمہ این پیٹرسن اور دیگر تمام امریکی سفارتکاروں سے ملا کرتے تھے اور آج کل بھی ملتے ہیں یہی نہیں بلکہ یہ حضرت تو وزیر اعظم بننے کے لیے سر کے بل چلنے کوبھی تیار تھے اور یہی وجہ ہے کہ ‘جینز’ اور پتلون پہننے والی امریکی سفیر سے مولانا نے ‘وزیر اعظم’ بننے کی معصوم سی خواہش کا اظہار بھی کر دیا تھا وکی لیکس کے انکشافات اس رام کہانی سے کچھ یوں پردہ اٹھاتے ہیں:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=2507&Cat=13
نمونے کے طور پر یہ لنک بھی اوپن کرنے کی زحمت ضرور کیجیے گا:-
http://www.theguardian.com/world/us-embassy-cables-documents/148390?guni=Article%3Ain+body+link–

بی بی شہید کے دوسرے دور حکومت کے دوران حضرت مولانا فضل الرحمان ذاتی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ‘ڈیزل کوٹہ’ کے حصول میں بھی سب سے نمایاں رہے، ، یہ اور بات ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب آپ جناب نے ‘خاتون’ وزیر اعظم کی حکومت میں ‘وزارت’ کو ٹھکرا دیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کے ‘جینز’ پر حالیہ بیان سے یوں لگا جیسے مولانا مغربی لباس سے خاصے نالاں ہیں، لیکن دوسری جانب جے یو آئی کے ‘ترجمان’ جون اچکزئی، معاف کیجیے گا جان اچکزئی اکثر و بیشتر مکمل مغربی لباس زیب تن کیے ٹی وی سکرینوں پر جلوہ گر ہوتے ہیں تو مولاناکیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
مولانا کے تھیلے میں شعبدوں کو کوئی کمی نہیں ۔ابھی چند ہفتے پہلے کی ہی تو بات ہے کہ حضرت مولانا نے بابنگ ِ دہل فرمایا کہ “امریکا اگر کسی کتے کو بھی مارے گا تو اسے شہید کہوں گا”۔ حضرت کی اس انوکھی منطق پر ناچیز نے ‘مولانا کے نام ایک پریم پتر’ لکھا ، ، جسے پڑھنے کے بعد آپ جناب کے چاہنے والوں نے ‘فقیر’ کو خوب لتاڑا ۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس تحریر کو ‘پریم پتر’ کے ساتھ ملا کر پڑھا جاوےتاکہ حضرت کے’سنہرےاقوال’ سمجھنے میں آسانی رہے۔ لنک پیش خدمت ہے۔۔
https://laaltain.pk/مولانا کے نام ایک پریم پتر
مزید بھی سن لیجیے! بی بی شہید کے دوسرے دور حکومت کے دوران حضرت مولانا فضل الرحمان ذاتی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ‘ڈیزل کوٹہ’ کے حصول میں بھی سب سے نمایاں رہے، ، یہ اور بات ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب آپ جناب نے ‘خاتون’ وزیر اعظم کی حکومت میں ‘وزارت’ کو ٹھکرا دیا تھا، ڈیزل کوٹہ اور کشمیر کمیٹی کے معاملات کی کہانی خاصی طویل ہےلہذا یہ کہانی پھر سہی!
فی الحال تو ایک جملے نے جینا حرام کر رکھا ہےیعنی؛
“آپ کریں تو ڈانس ،ہم کریں تو۔۔۔”