Categories
شاعری

شکست کس کی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شکست کس کی

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: شہزاد نیر

 

عجیب منظر ہے
دشت ِ کرب و بلا میں خیموں کی ایک بستی نے
کاخِ شاھی گرا دیا ہے
زمانہ دیکھےکہ بے ردائی نے
سچ کے نیزے سے جھوٹ کا پردہ نوچ ڈالا ہے
پیاس کے بے کراں سمندر سے
صبر کی ایک موج آ کر فرات سارا نگل گئی ہے

 

یہ کیسا منظر ھے
مشک بردار بازوؤں سے کسی نے تلوار کاٹ دی ھے
گلوئے اصغر نے نوک ِناوک کو مات دی ھے
عجیب منظر ھے
ایک شہہ رگ نےدھار خنجر کی کند کر دی ھے
ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے
مرا نہیں ھے
مقابلے میں وہ کتنے سر تھے
جو زندہ بچنے پہ ناز کرتے تھے
اب شہیدوں کی زندگی سےشکست کھا کر مرے پڑے ھیں

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہم خدا کا اگلا سوال سننا چاہتے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہم خدا کا اگلا سوال سننا چاہتے ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

نہیں ۔۔۔وہ شام ختم ہونے میں نہیں آئے گی
جس کی افتتاحی تقریب عزاخانو ں کی بھینٹ چڑھ گئی
نہ اس کی مٹی کا رنگت بدل سکتی ہے
ان زخموں کے سانولے پن سے
جو تلوار کے سائے میں اپنی شکلو ں کی وضاحت کرتے رہے
آخری دن کا سورج آنے میں
کوئی دو چار صدیاں باقی ہیں
یا۔۔۔۔ اندھیرے جیسے لباس کا خاتمہ ممکن نہیں؟؟

 

جب آسمان سرخ بادلوں کے دل سے
ایک نہر نکالے گا
وہ آنسو پھر سے کربلائی نظموں کا حصہ بن جائیں گے
جنہیں دسویں رات کے کنارے
موت کی نیند سلا دیا گیا تھا !!
(حساب گیارہویں سورج سے شروع ہو گا؟)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پیمبران سحر کا نوحہ

غمزدہ قوم کا اُن ننھے شہیدوں کو سلام
جن شہیدوں نے رہِ علم سجانے کےلیے
راہ کے سارے چراغوں میں لہو بھر ڈالا
اپنے شفاف دلوں، لالہ بے داغ کا خوں
جو حقیقت میں تھا سارے چمن و باغ کا خوں
کتنی کلیوں کا تبسم کئی غنچوں کا لہو
کتنے رُخساروں کا غازہ کئی سینوں کا لہو
کوہِ خاران کا، پنجاب کے کھیتوں کا لہو
یہ لہو خیبر و مہران کے پیکر کا لہو
“تُجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارضِ وطن”
اب تو حاضر ہے ہر اک اکبر واصغر کا لہو
 
اے فلک دیکھ مرا حوصلہ رشکِ خلیل
دیکھ اس قوم کا نذرانہ یک ذبحِ عظیم
میرے بچوں میں بھی وہ اُسوہ مردانہ ہے،
وقت کی آنکھ نے جو کرب و بلا میں دیکھا
ظُلم کے ہاتھ میں سہ شاخہ سناں دیکھ کے جو
اتنا بے باک تبسم دمِ آخر دکھلائے
میرے بچوں نے وہی عزم دکھایا جس سے،
نامِ ہر شمر و یزید آن میں گالی بن جائے
عِلم کا، حق کا عَلم تھامے یہ کمسن جانباز،
تاابد مُلکِ خُداداد کا لشکر ٹھہرے
لے کے اندھیرے یہاں آئے جو گُرگِ ظالم،
میرے بچے بھی اُجالے کے پیمبر ٹھہرے
عہدِ رفتہ سے جو اک علم کی شمع لے کر
عہدِ حاضر کے ابو جُہل سے ٹکرائے ہیں
سامنے عالمِ تہذیب کے ان بچوں نے
خونچکاں ہاتھ سے پلٹا ہے منافق کا نقاب
اُس کی ناپاک شقی شکل کو اب دیکھ کے ہم،
آدمیت کے عدوُ کی ابھی پہچان کریں
قرض ہے ہم پہ خروج اپنے شہیدوں کا ابھی
آو ہر کوچہ و بازار میں اعلان کریں
آو ہر گام پہ اک حشر بپا کرڈالیں
جس سے ہر دُشمنِ انسان کو محشور کریں
اشکِ غم موجہ سیلاب بنالیں ہم لوگ
آہ کو سیلیء گردابِ بلا کرڈالیں
جس میں ہم دُشمنِِ ہر نوع کو فنا کرڈالیں
خوں بہا اپنے شہیدوں کا ذرا لیں ہم لوگ
آو تاریکی کی پیشانی پہ اک وار کریں
مشعلِ علم لیے بڑھ کے بنامِ شُہَدا
آشیاں پھُونکیں غُلامانِ جہالت کا ابھی
ظُلم کو اپنے ہی پاوں پہ نگُوں سار کریں
اے فلک! ہم تری آنکھوں کو دکھائیں گے وہ دن
خونِ ناحق سے کہ جب حق کی منادی ہو گی
ہم جہاں بھر میں محبت کے امیں ٹھہریں گے
امنِ عالم، ہُنرو علم، وقارِ انساں
یہ صدی ہم سے ہی پائے گی یہ سارے جوہر
فلکِ پیر، مری قوم کے کمسن غازی
دیکھ لینا ابدیت کے امیں ٹھہریں گے